18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

آیت نمبر 46 قولہ تعالیٰ : المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا اس میں رینتا بھی جائز ہے اور یہ تثنیہ اور مفرد (دونوں حالتوں) میں مبتدا کی خبر ہے۔ اور بلاشبہ مال اور فرزند دنیوی زندگی کی زینت ہیں، کیونکہ مال میں حسن و خوبصورتی اور منافع ہیں، اور بیٹوں میں قوت اور دفاع ہے، تو اس طرح یہ دونوں دنیوی زندگی کے لئے زیب وزینت ہیں، لیکن اس کے ساتھ صفت کا قرینہ مال اور فرزندوں کیلئے ہے، کیونکہ اسکا معنی ہے : المال والبنون زینۃ ھذہ الحیاۃ المحتقرۃ فلا تتبعوھا نفوسکم (یعنی مال اور فرزند اس حقیر زندگی کیلئے زیب وزینت ہیں پس تم اپنے آپ کو اس کا تبع نہ بناؤ) ۔ اور یہ عینیہ بن حصن اور اس جیسے دیگر لوگوں کا رد ہے جب انہوں نے دولت اور ظاہری شرف پر فخر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ یہ جو دنیوی زندگی کے لئے زینت ہے تو یہ ایسا غرور (اور فخر) ہے جو گزر جائے گا، ختم ہوجائے گا اور باقی نہیں رہے گا، جیسا کہ خشک ٹوٹی ہوئی گھاس ہوتی ہے کہ ہوا اسے اڑالے جاتی ہے، بلاشبہ جو شے باقی رہتی ہے وہ زاد قبر اور آخرت کی تیاری ہے۔ اور کہا جاتا ہے : مال کے ساتھ اپنا دل نہ لگاکیون کہ یہ ختم ہوجانے والے سائے (کی طرح) ہے، اور نہ عورتوں کے ساتھ دل لگا، کیونکہ یہ آج تیرے ساتھ ہیں اور کل کسی دوسرے کے ساتھ ہیں، اور نہ سلطان کے ساتھ کیونکہ وہ آج تیرا ہے اور کل کسی اور کا۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول کافی ہے : الما اموالکم۔۔۔ فتنۃ (الانفال : 28) (بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد بڑی آزمائش ہیں) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان من ازواجکم۔۔۔۔ فاحذروھم (التغابن : 14) (بےشک تمہاری کچھ بیبیاں اور تمہارے بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ہوشیار رہو ان سے) ۔ قولہ تعالیٰ : والبقیت الصلحت مراد طاعات کا وہ عمل ہے جو حضرت سلمان، حضرت صہیب اور دیگر مسلمان فقراء ؓ کر رہے ہیں۔ خیر عند ربک ثوابا تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے افضل ہے۔ وخیر املا یعنی ازروئے امید کے صاحب مال اور فرزندوں سے افضل ہیں نہ کہ عمل صالح سے، اور دنیوی زیب وزینت میں خیر اور بھلائی نہیں ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے محل میں ہے : اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا (الفرقان : 24) (اہل جنت کا اس دن اچھا ٹھکانا ہوگا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ فی الحقیقت اس سے بہتر ہیں جسے جاہل لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ ان کے گمان میں بہتر ہے۔ اور والبقیت الصلحت کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے ؛ پس حضرت ابن عباس ؓ، ابن جبیر، ابو میسرہ، اور عمرو بن شرحبیل نے کہا ہے : ان سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ آدمی کے قول و فعل میں سے ہر عمل صالح ہے جو آخرت کے لئے باقی رہے گا۔ اور یہ ابن زید نے بھی کہا ہے اور علامہ طبری نے اسے ترجیح دی ہے۔ اور یہی صحیح ہے ان شاء اللہ، کیونکہ ہر وہ عمل جس کا ثواب باقی رہے جائز ہے کہ اس کے لئے یہ کہا جائے۔ اور حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا ہے : کھیتی دو قسم کی ہے پس دنیا کی کھیتی مال اور فرزند ہیں اور آخرت کی کھیتی باقیات صالحات (باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں، تحقیق اللہ تعالیٰ انہیں اقوام کے لئے جمع فرما دے گا۔ اور جمہور نے کہا ہے : ان سے مراد وہ کلمات ہیں جن کی فضیلت حدیث طیبہ میں مروی ہے : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اسے امام مالک نے اپنی موطا میں عمارہ بن صیاد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ان کو البقیت الصلحت کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا : بیشک ان سے مراد بندے کا یہ کہنا ہے : اللہ اکبر وسبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، اسے نسائی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مسند بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : البقیت الصلحت کی کثرت کرو۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیا ہیں۔ فرمایا : ” تکبیر کہنا، لا الہ الا اللہ کہنا، سبحان اللہ کہنا اور الحمد للہ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ، اسے ابو محمد عبد الحق (رح) تعالیٰ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ٹہنی پکڑی اور اسے جھنجھوڑا یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے اور فرمایا : ” بیشک جب مسلمان یہ کہتا ہے سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر تو اس کے گناہ گر جاتے ہیں جیسا کہ یہ پتے گر گئے ہیں اے ابا الدرداء ! انہیں اپنے پاس محفوظ کرلو۔ اس سے پہلے کہ تیرے اور ان کے درمیان کوئی حائل ہو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں اور عمدہ اور خالص کلام میں سے ہیں اور یہ المقیت الصلحت (باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں “۔ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے، اور اسے ابن ماجہ نے اسی معنی میں حضرت ابو الدرداء ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تجھ پر سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھنا لازم ہے کیونکہ یہ گناہوں کو اس طرح گرا دیتے ہیں جس طرح درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔ اور ترمذی نے اسے اعمش کی حدیث سے حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خشک پتوں والے درخت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اسے چھڑی ماری تو پتے گرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک سبحان اللہ والحمد للہ ولا اللہ الا اللہ واللہ اکبر آدمی کے گناہوں کو اس طرح گرادیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے گر رہے ہیں “۔ فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اعمش کا سماع حضرت انس ؓ سے نہیں جانتے، مگر یہ کہ انہوں نے انہیں دیکھا ہے اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں شب معراج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا تو انہوں نے کہا : اے محمد ! ﷺ اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں یہ خبر دینا کہ جنت کی مٹی بڑی پاکیزہ اور زرخیز ہے، پانی بڑا عمدہ اور میٹھا ہے اور یہ کہ وہ بڑی ہموار اور نرم ہے اور اس کے پودے اور درخت سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہیں “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ماوردی نے اسی معنی میں بیان کیا ہے۔ اور اسمیں ہے۔۔۔ تو میں نے کہا : جنت کے درخت اور پودے کیا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : لا حوال ولا قوۃ الا باللہ۔ ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ پودے لگا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے ابا ہریرہ ! ؓ تم کیا لگا رہے ہو ؟ “ تو میں نے کہا : پودے لگا رہا ہوں، فرمایا : کیا میں تمہاری راہنمائی ایسے پودوں پر نہ کروں جو ان سے بہتر ہیں، سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہر ایک کے بدلے تیرے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے “۔ تحقیق کہا گیا ہے : بیشک باقیات صالحات ہی نیتیں اور عزم و ارادے ہیں، کیونکہ انہیں کے ساتھ اعمال قبول کئے جاتے ہیں اور بلند ہوتے ہیں ؛ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور عبید بن عمیر نے کہا ہے : کہ ان سے مراد بیٹیاں ہیں، آیت کا اول حصہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : المال والمنون زینۃ الحیوۃ الدنیا پھر فرمایا : والبقیت الصلحت یعنی صالح اور نیک بیٹیاں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے آباء کیلئے اجر وثواب ہیں، اور بہتر ہیں آخرت میں جن سے امید وابستہ کی جاتی ہے اس آدمی کے لئے جس نے ان کے ساتھ احسان اور نیکی کی، اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جسے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے روایت کیا ہے انہوں نے بیان فرمایا : میرے پاس ایک مسکین عورت آئی۔ الحدیث، تحقیق ہم نے اسے سورة النحل میں قول باری تعالیٰ : یتواری من القوم الآیہ (النحل : 59) میں بیان کیا ہے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” تحقیق میں نے اپنی امت سے ایک آدمی دیکھا اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا تو اس کی بیٹیاں اس کے ساتھ چمٹ گئیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں اور کہنے لگیں : اے ہمارے رب ! بلاشبہ یہ دنیا میں ہمارے ساتھ احسان اور نیکی کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے وسیلہ سے اس پر رحم فرما دیا “۔ اور حضرت قتادہ نے قول باری تعالیٰ : فاردنا ان یبدلھما۔۔۔۔۔ اقرب رحما۔ (کہف) (پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے انہیں ان کا رب (ایسا بیٹا) جو بہتر ہو اس سے پاکیزگی میں اور (ان پر) زیادہ مہربان ہو) کے تحت کہا ہے : ان کو اس کے بدلے بیٹی عطا فرمائی اور اس سے نبی (علیہ السلام) نے شادی کی اور اس نے بارہ بچوں کو جہنم دیا اور وہ تمام انبیاء ہوئے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

آیت نمبر 47 قولہ تعالیٰ : ویوم نسیر الجبال وتری الارض بارزۃ بعض نحویوں نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے والباقیات الصالحات خیر عند ربک یوم نسیر الجبال۔ نحاس نے کہا ہے : یہ واؤ کی وجہ سے غلط ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : اور اس دن کو یاد کرو جب ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے، یعنی ہم انہیں سطح زمین سے اپنی جگہوں سے زائل کردیں گے، اور ہم انہیں چلائیں گے جیسا کہ ہم بادلوں کو چلاتے ہیں، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : وھی تمر مر السحاب (النمل :88) (حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے بادل کی سی چال) پھر وہ ٹوٹ جائیں گے اور زمین کی طرف لوٹ آئیں گے، جیسا کہ فرمایا : وبست الجبال بسا۔ فکانت ھبآء منبثا۔ (الواقعہ) (اور ٹوٹ پھوٹ کر پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر غبار بن کر بکھر جائیں گے) ابن کثیر، حسن، ابوعمرو اور ابن عامر نے ویوم تسیرتا کو ضمہ اور یا کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور الجبال کو فعل مجہول کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے۔ ابن محیصن اور مجاہد نے یوم تسیر الجبال تا کو فتحہ کے ساتھ مخفف پڑھا ہے اور یہ سار سے ہے۔ اور الجبال مرفوع ہے۔ ابو عمرو کی قرأت کی دلیل واذا الجبال سیرت۔ (التکویر) ہے۔ اور ابن محیصن کی قرأت کی دلیل وتسیر الجبال سیرا۔ (الطور) ہے۔ اور ابو عبید نے پہلی قرأت کو نسیر یعنی نون کے ساتھ کو اختیار کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحشرنھم اور بارزۃ کا معنی ظاھرۃ ہے، (یعنی) اس پر پہاڑوں، درختوں اور عمارتوں میں سے ایسی کوئی شے نہ ہوگی جو اسے ڈھانپے ہوئے ہو، یعنی اس کے درخت جڑ سے اکھیڑ دئیے جائیں گے، اس کے پہاڑ بھی اکھیڑ دئیے جائیں گے، اور اس کی عمارتیں گرا دی جائیں گی، پس یہی اس کا ظاہر ہونا اور کھلا میدان بننا ہے۔ اہل تفسیر نے یہی قول کہا ہے۔ اور کہا گیا ہے : وتری الارض بارزۃ یعنی زمین میں جو مخفی خزانے اور مردے ہیں وہ سب ظاہر ہوجائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : والقت ما فیھا وتخلت۔ (الانشقاق) (اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اسکے اندر ہے اور خالی ہوجائے گی) ۔ اور فرمایا : واخرجت الارض اثقالھا۔ (الزلزال) (اور باہر پھینک سے گی زمین اپنے بوجھوں (یعنی دفینوں کو) اور یہ قول حضرت عطا (رح) کا ہے۔ وحشرنھم اور ہم انہیں موقف کی طرف جمع کرکے لے جائیں گے۔ فلم نغادر منھم احدا یعنی ہم ان میں سے کسی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔ کہا جاتا ہے : غادرت کذا یعنی میں نے اسے چھوڑ دیا۔ عشرہ نے کہا ہے : غادرتہ متعفرا اوصالہ والقوم بین مجرح ومجدل یعنی میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اور المغادرۃ کا معنی ترک کرنا اور چھوڑنا ہے، اور اسی سے الغدر ہے، کیونکہ اس کا معنی وفا کو ترک کرنا ہے۔ اور پانی کے تالاب کو غدیر کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ پانی اس میں جاتا ہے اور وہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اور اسی سے غدائر المرأۃ (عورتوں کی گندھی ہوئی چوٹی) ہے کیونکہ وہ اسے پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ فرمارہا ہے : ہم ان کے نیکوں، فاجروں، جنوں اور انسانوں سبھی کو جمع کریں گے۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر نہیں کیا

آیت نمبر 48 قولہ تعالیٰ : وعرضوا علی ربک صفا، صفا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : وہ پیش کئے جائیں گے درآنحالیکہ وہ یکے بعد دیگرے صفیں باندھے ہوں گے جیسا کہ نماز میں صفیں باندھی جاتی ہیں، ہر امت اور ہر گروہ صف بنائے ہوئے ہوگا نہ کہ وہ سارے ایک صف میں ہوں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ تمام کے تمام (صف باندھے ہوئے) ہوں گے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ثم ائتوا صفا (طہٰ : 64) ای جمیعا (پھر آؤ پرے باندھے ہوئے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور وہ پیش کئے جائیں گے آپ کے رب کی بارگاہ میں اس حال میں کہ وہ کھڑے ہوں گے۔ اور حافظ ابو القاسم عبد الرحمن بن مندہ نے کتاب التوحید میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بیشک کوئی معبود نہیں میں ارحم الرحمین ہوں اور أحکم الحاکمین ہوں اور بہت تیزی سے حساب لینے والا ہوں۔ اے میرے بندو ! تم پر آج کے دن کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم اور حزن ہوگا اپنی دلیل اور حجت پیش کرو اور سہولت اور آسانی کے ساتھ جواب دو کیونکہ تم سے باز پرس کی جائے گی اور محاسبہ کیا جائے گا۔ اے میرے ملائکہ ! میرے بندوں کو حساب کے لئے ان کے پاؤں کے پوروں کی اطراف پر صفوں میں کھڑا کر دو “۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں انتہائی واضح اور بین ہے، اور مفسرین میں سے اکثر نے اس کا ذکر نہیں کیا، تحقیق ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں لکھا ہے، اور اسی سے ہم نے اسے نقل کیا ہے۔ والحمدللہ۔ لقد جئتمونا کما خلقکم اول مرۃ یعنی ان کو کہا جائے گا : آج تم ہمارے پاس ننگے پاؤں اور ننگے بدن آگئے ہو، نہ تمہارے پاس مال ہے اور نہ اولاد۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آج تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے ہو، اس کی ولیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ (اور بیشک آگئے ہو تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمہیں پہلی دفعہ) اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یعنی ہم تمہیں اسی طرح اٹھائیں گے جیسے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ بل زعمتم یہ خطاب منکرین بعث کو ہے، یعنی تم دنیا میں یہ خیال کئے ہوئے تھے کہ تم ہرگز نہیں اٹھائے جاؤ گے اور یہ کہ ہم تمہارے لئے دوبارہ اٹھائے جانے کے وعدہ کا وقت مقرر نہیں کریں گے۔ اور صحیح مسلم میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے “۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ ! اس دن امر اس سے کہیں زیادہ شدید اور سخت ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں “۔ غرلا کا معنی ہے غیر مختون۔ اس کا بیان سورة الانعام میں گزر چکا ہے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی بات کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

آیت نمبر 49 قولہ تعالیٰ : ووضع الکتب، الکتب یہ اسم جنس ہے، اور اس میں دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد نامہ اعمال ہیں جو بندوں کے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے ؛ یہ مقاتل نے کہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد حساب کو رکھنا ہے ؛ یہ کلبی (رح) نے کہا ہے، پس حساب کو کتاب سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ان کے لکھے ہوئے اعمال پر ان کا محاسبہ کیا جائے گا۔ اور پہلا قول اظہر ہے ؛ اسے ابن مبارک نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : ہمیں حکم یا ابو الحکم نے خبر دی ہے۔۔۔ یہ نعیم کو شک ہے۔۔۔ اسماعیل بن عبد الرحمن سے انہوں نے بنی اسد کے ایک آدمی سے اس نے کہا حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب کو کہا : تجھ پر افسوس ہے اے کعب ! آخرت کی حدیث میں سے کوئی ہمیں بیان کیجئے، انہوں نے کہا : ہاں یا امیر المومنین ! جب قیامت کا دن ہوگا لوح محفوظ کو بلند کیا جائے گا تو مخلوق میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ اپنے عمل کی طرف دیکھ لے گا۔۔ بیان فرمایا۔۔۔ پھر وہ صحائف لائے جائیں گے جن میں بندوں کے اعمال ہیں اور وہ عرش کے اردگرد بکھر جائیں گے، اور اسی کے بارے میں یہ قول باری تعالیٰ ہے : ووضع الکتب۔۔۔۔ الا احصھا۔ اسدی نے کہا ہے : صغیرہ سے مراد وہ ہیں جو شرک سے کم ہیں، اور کبیرہ سے مراد شرک ہے، مگر اس نے ان سب کا شمار کرلیا ہے۔ حضرت کعب نے بیان کیا : پھر مومن کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اس میں دیکھے گا پس ان کی نیکیاں تو لوگوں کے لئے ظاہر ہوں گی اور وہ اپنے گناہ پڑھنے لگے گا تاکہ وہ یہ نہ کہے کہ میری اتنی نیکیاں تھیں اور وہ ذکر نہیں کی گئیں سو اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ وہ اسے اس کے سارے اعمال دکھادے یہاں تک کہ جب وہ اسے ناقص اور کم سمجھنے لگے گا جو کتاب میں ہوگا تو اس تمام کے آخر میں وہ پائے گا کہ اس کی مغفرت کردی گئی ہے، اسے بخش دیا گیا ہے اور یہ کہ تو اہل جنت میں سے ہے، پس اس وقت وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آئے گا اور کہے گا : ھآؤم اقرء وا کتبیہ۔ انی ظننت انی ملق حسابیہ۔ (الحاقہ) (لو پڑھو میرا نامہ عمل مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا) پھر کافر کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ عمل اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پھر اسے لپیٹ دیا جائے گا اور اسے اس کی پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا اور اس کی گردن کو موڑ دیا جائے گا، پس اسی کے بارے یہ قول باری تعالیٰ ہے : واما من اوتی کتبہ ورآء ظھرہ۔ (الانشقاق) (اور جس (بدنصیب) کو اس کا نامہ عمل پس پشت دیا گیا) ۔ پس وہ اپنے نامہ عمل میں دیکھنے لگے پس اس کی برائیں اور گناہ تو لوگوں کے لئے ظاہر ہوں گے اور وہ اپنی نیکیوں میں دیکھے گا تاکہ وہ یہ نہ کہے کہ میں اسے گناہوں کا بدلہ دے رہا ہوں۔ حضرت فضیل بن عیاض (رح) تعالیٰ جب یہ آیت پڑھتے تو کہتے تھے : اے کاش ! تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کبائر سے پہلے صغائر کے بارے چیخ و پکار کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صغیرہ سے مراد تبسم کرنا ہے، اور کبیرہ سے مراد ہنسنا ہے، یعنی جب یہ اللہ عزوجل کی معصیت و نافرمانی کے عمل میں ہو ؛ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اور ماوردی نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ صغیرہ سے مراد ضحک (ہنسنا) ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پس یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ وہ (ہنسنا) صغیرہ ہو جب وہ معصیت میں نہ ہو، کیونکہ معصیت کے سبب ہنسنا اس کے ساتھ رضا کا اظہار کرنا ہے اور معصیت کے ساتھ راضی ہونا بھی معصیت ہے، اور اسی بنا پر وہ کبیرہ ہوجاتا ہے، پس ان میں جمع اور ے تطبیق کی وجہ یہی ہوسکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ یا پھر ضحک کو تبسم پر محمول کیا جائے گا اس روایت میں جسے ماوردی نے ذکر کیا ہے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :۔۔۔۔۔ من قولھا (النمل : 19) ( تو سلیمان ہنستے ہوئے مسکرا دئیے اس کی اس بات سے) اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے : بیشک صغائر سے مراد چھوٹے گناہ کرنا اور گناہ کے قریب ہونا ہے مثلاً چھونا اور بوسہ لینا وغیرہ، اور کبیرہ۔۔۔۔۔ گناہ میں واقع ہونا اور بدکاری کا ارتکاب کرنا ہے۔ اس کا بیان سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : قوم کے احصاء کی شکایت کی ہے، اور کسی نے ظلم کی شکایت نہیں کی، پس تم گناہوں کو حقیر سمجھنے سے بچو کیونکہ یہ اپنے کرنے والے پر جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے ہلاک کردیتے ہیں۔ اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ اور احصھا کا معنی ہے اس نے انہیں شمار کرلیا ہے اور ان کا احاطہ کرلیا ہے ؛ اور وسعت کے طور پر احصاء کی نسبت کتاب کی طرف کی گئی ہے۔ ووجدوا ما عملوا حاضرا یعنی اس دن وہ تمام اعمال کو اپنے سامنے حاضر پا لیں گے جو انہوں نے کئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ ان اعمال کی جزا کو اپنے سامنے پالیں گے جو انہوں نے کئے ولا یظلم ربک احدا یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے جرم کے بدلے نہیں پکڑے گا، اور نہ اس کے بدلے کسی کو پکڑے گا جو عمل اس نے نہیں کیا ؛ یہ ضحاک نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ کسی طاعت و فرمانبرداری کرنے والے کے ثواب میں کمی نہیں کرے گا اور نہ کسی گنہگار کی سزا میں اضافہ کرے گا۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سواء دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے

آیت نمبر 50 قولہ تعالیٰ : واذ قلنا۔۔۔۔ عن امر ربہ، اس پر مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا ہے : اس آیت میں ایک سوال ہے، کہا جاتا ہے : ففسق عن امر ربہ کا کیا معنی ہے ؟ تو اس میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے۔۔۔ اور یہ خلیل اور سیبویہ کا مذہب ہے کہ اس کا معنی ہے جس کے بارے اسے حکم دیا گیا اس کے بارے اس نے فسق کا ارتکاب کیا پس اس نے نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کیا، تو اس میں فسق کا سبب اس کے رب کا حکم ہوا، جیسے تو کہتا ہے : أطعمتہ عن جوع (میں نے بھوک کی وجہ سے اسے کھانا کھلایا) ۔ اور دوسرا قول ہے اور یہ محمد بن قطرب کا مذہب ہے کہ اس کا معنی ہے : پس وہ اپنے رب کے حکم کو رد کرنے کے سبب فاسق ہوگیا۔ افتتخذوانہ وذریتہ اولیآء من دونی اللہ تعالیٰ نے کافروں کو زجر و توبیخ کی طرز پر اپنے اس قول سے فرمایا : اے اولاد آدم ! کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے، یعنی وہ تمہارے دشمن ہیں۔ پس یہ (عدد) اسم جنس ہے۔ بئس للظلمین بدلا یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بدلے شیطان کی عبادت کرنا بہت برا ہے، یا اللہ تعالیٰ کے بدلے شیطان بہت برا ہے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ابلیس کی اولاد اس کی صلب سے ہے ؟ پس حضرت شعبی (رح) نے کہا ہے : مجھ سے کسی آدمی نے پوچھا : کیا ابلیس کی بیوی ہے ؟ تو میں نے کہا : بیشک وہ غرس (اگا ہوا) ہے میں نے دیکھا نہیں ہے، پھر مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد آگیا : افتتخذونہ وذریتہ اولیآء تو میں نے جان لیا کہ اولاد نہیں ہوتی مگر بیوی سے تب میں نے اسے کہہ دیا ہاں (اس کی بیوی ہے) اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بیشک ابلیس نے اپنی شرمگاہ اپنی اپنی شرمگاہ میں داخل کی تو اس نے پانچ انڈے دئیے، پس یہی اس کی اولاد کی اصل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اس کی دائیں ران میں ذکر پیدا کیا ہے اور بائیں ران میں فرج پیدا کی ہے، پس وہ اس کے ساتھ اس میں وطی کرتا ہے، اور ہر روز اس کے دس انڈے نکلتے ہیں، اور ہر انڈے سے ستر شیطان اور شیطانہ خارج ہوتے ہیں، پس وہ نکلتا ہے اور اڑ جاتا ہے، اور اپنے باپ کے نزدیک درجہ کے اعتبار سے عظیم اور بڑا وہ ہے جو اولاد آدم میں فتنہ برپا کرنے کے اعتبار سے بڑا اور عظیم ہو۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی ذریت، (بلکہ) اس کی ذریت شیاطین میں سے اس کے معاون و مددگار ہیں۔ قشیری ابو نصر نے کہا ہے : خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ابلیس کی اتباع کرنے والے اس کی ذریت ہے، اور یہ کہ وہ اولاد آدم میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور وہ اس کے دشمن ہیں، اور ہمارے نزدیک وہ کیفیت ثابت نہیں جس کیفیت میں اس سے تو الد کا سلسلہ ہوتا ہے اور ابلیس سے اس کی ذریت پیدا ہوتی ہے، پس صحیح روایت کے مطابق اس بارے میں حکم متوقف فیہ ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں جو صحیح روایت سے ثابت ہے وہ ہے جسے حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں امام ابوبکر رقانی سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں ابو محمد عبد الغنی بن سعید الحافظ سے عاصم کی روایت سے مسندا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سلیمان ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو بازار میں سب سے اول داخل ہونے والا نہ ہو اور نہ اس سے آخر میں نکلنے والا ہو وہیں شیطان انڈے اور بچے دیتا ہے “۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ شیطان کی ذریت اس کی اپنی صلب سے ہے، واللہ اعلم۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ وذریتہ میں ظاہر لفظ شیاطین میں سے وسوسہ اندازی کرنے والوں کا تقاضا کرتا ہے، جو برائی کا ارتکاب کرتے ہیں اور باطل پر ابھارتے اور برانگیختہ کرتے ہیں۔ اور طبری وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت مجاہد (رح) نے ذکر کیا ہے کہ ابلیس کی ذریت شیاطین ہیں، اور انہیں زلبنور بازاروں والا شمار کرتا ہے، وہ زمین و آسمان کے درمیان پر بازار میں اپنا جھنڈا گاڑھ دیتا ہے، اور وہ اس جھنڈا کو سب سے پہلے دکان کھولنے والے اور سب سے آخر بند کرنے والے کی دکان پر لگاتا ہے۔ اور ثبر صاحب المصائب ہے، وہ چہروں پر مارنے اور گریبان چاک کرنے کا، اور ہلاکت اور انہیں لوگوں کے مونہوں میں دال دیتا ہے اور وہ ان کی کوئی اصل نہیں پاتے۔ اور داسم وہ ہے کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو اور سلام نہ کہے اور اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر نہ کرے تو وہ اسے سامان میں سے وہ دکھا دیتا ہے جو اٹھایا نہیں گیا اور وہ جس کی جگہ صاف اور اچھی نہیں بنائی گئی، اور جب آدمی کھانا کھائے اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہ کرے تو وہ اس کے ساتھ کھانے میں شامل ہوجاتا ہے۔ اعمش نے کہا ہے : میں بسا اوقات گھر میں داخل ہوا اور میں نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا اور نہ میں نے سلام کیا، تو میں نے لوٹا دیکھا اور میں نے کہا : اسے اٹھا لو ! اور میں ان سے جھگڑ پڑا، پھر مجھے یاد آیا ہے تو میں کہتا ہوں : داسم داسم ! أعوذ باللہ منہ (یعنی میں اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں) ثعلبی وغیرہ نے حضرت مجاہد (رح) سے یہ زائد بھی ذکر کیا ہے : اور الابیض یہ وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے لئے وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اور صخر یہ وہ ہے جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی اچک لی تھی۔ اور الولھان یہ صاحب الطہارۃ ہے جو اس میں وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ اور اقیس وہ ہے جو صاحب صلاۃ ہے یہ اس (نماز) میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ اور مرہ یہ صاحب المز امیر ہے اور یہ اسی سے کنایہ ہوتا ہے۔ اور الھفاف یہ صحراؤں میں ہوتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور انہیں ضائع کردیتا ہے۔ اور ان میں سے الغیلان بھی ہے۔ ابو مطیع مکحول بن فضل نسفی نے کتاب اللولویات میں حضرت مجاہد (رح) سے بیان کیا ہے کہ الھفاف صاحب الشراب ہے، اور لقوس انگیخت دینے والا ہے۔ اور الاعور سلطان کے دروازوں والا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ دارانی نے کہا ہے : بیشک ابلیس کا ایک شیطان ہے اس کو متقاضی کہا جاتا ہے، وہ ابن آدم سے تقاضا کرتا ہے اور اسے عمل کے بارے خبر دیتا ہے جو اس کا عمل بیس برس سے مخفی تھا، پس وہ اسے اعلانیہ کرنے لگتا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ روایت اور جو اس کی ہم جنس روایات ہیں ان کے بارے کوئی صحیح سند نہیں آئی، نقاش نے اس بحث کو طویل کیا ہے اور ایسی حکایات بیان کی ہیں جو صحت سے بہت دور ہیں، اس بارے میں میری نظر سے کوئی صحیح روایت نہیں گزری سوائے اس کے جو مسلم میں ہے کہ نماز کے لئے ایک شیطان ہے وہ حنزب کہلاتا ہے۔ اور ترمذی نے ذکر کیا ہے کہ وضو کے لئے ایک شیطان ہے اس کا نام الولہان ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : رہی نام کے بارے میں وہ تعیین جو ذکر کی گئی ہے تو وہ صحیح ہے اور رہی یہ بات کہ اس کے متبعین، معاونین اور لشکر ہیں تو اس بارے یہ مقطوع ہے، حالانکہ ہم نے اس بارے میں صحیح حدیث ذکر کی ہے کہ اس کی اولاد اس کی صلب سے ہے، جیسا کہ حضرت مجاہد (رح) وغیرہ نے کہا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا : بیشک شیطان آدمی کی شکل بنا لیتا ہے اور قوم کے پاس آجاتا ہے اور ان سے جھوٹی گفتگو کرتا ہے پس وہ متفرق ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی کو بات کرتے ہوئے سنا میں اس کے چہرے کو تو پہچانتا ہوں اور میں یہ نہیں جانتا اس کا نام کیا ہے۔ مسند بزار میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اگر تو استطاعت رکھے تو سب سے پہلے بازار میں داخل ہونے والا نہ ہو اور نہ اس سے سب سے آخر میں نکلنے والا ہو کیونکہ وہ شیطان کا معرکہ ہے اور اس کے ساتھ وہ اپنا جھنڈا نصب کرتا ہے “۔ اور مسند امام احمد بن حنبل میں ہے انہوں نے کہا، ہمیں عبد اللہ بن مبارک نے خبر دی ہے انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے عطا بن سائب سے انہوں نے ابو عبد الرحمن سلمی سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب ابلیس صبح کرتا ہے وہ اپنا لشکر پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے : جس نے کسی مسلمان کو گمراہ کیا میں اسے تاج پہناؤں گا۔ راوی نے بیان کیا پس ایک کہنے والا اسے آکر کہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ لگا رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، وہ کہتا ہے : قریب ہے کہ وہ شادی کرلے۔ اور دوسرا کہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے نافرمانی کی، اس نے کہا : فریب ہے کہ وہ نیکی کرنے لگے۔ راوی کہتا ہے : پھر ایک کہنے والا کہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے شراب پی لی، وہ کہتا ہے : تو نے کام کیا ہے ! پھر ایک کہنے والا کہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے زنا کرلیا، وہ کہتا ہے : تو نے کام کیا ہے ! پھر ایک کہنے والا کہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کردیا، تو وہ کہتا ہے تو تو ہے ! اور صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے پس رتبہ کے اعتبار سے ان میں سے اس کے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو فتنے کے اعتبار سے بڑا اور عظیم ہو پس ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے اس اس طرح کیا، تو وہ کہتا ہے : تو نے کچھ نہیں کیا فرمایا : پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے اسے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے درمیان اور اس کے گھر والوں کے درمیان تفریق پیدا کردی، جدائی ڈال دی پس وہ اسے قریب کرتا ہے یا کہا : پس وہ اس سے چمٹ جاتا ہے اور کہتا ہے : تو بہت اچھا ہے “۔ اسکا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور میں نے اپنے شیخ امام ابو محمد عبد المعطی کو اسکندریہ کی سرحد کے پاس یہ کہتے ہوئے سنا : بیشک ایک شیطان ہے اس کو بیضاوی کہا جاتا ہے وہ لگاتار روزے رکھنے والے فقراء کے پاس مثالی شکل میں آتا ہے اور جب ان میں بھوک شدید ہوجائے اور ان کے دماغوں کو نقصان اور تکلیف دینے لگے تو ان کے لئے ایک روشنی اور نور ظاہر کردیتا ہے یہاں تک کہ ان کے گھروں کو بھر دیتا ہے تو وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ پہنچ گئے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اس طرح نہیں ہوتا جیسا وہ گمان کرتے ہیں۔ تمت بالخیر
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

تفسیر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما اشھدتھم خلق السموت والارض ولا خلق انفسہم بعض علماء نے فرمایا : ھم ضمیر کا مرجع ابلیس اور اس کی ذریت ہے یعنی میں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور خود ان کی تخلیق میں ان سے مشورہ نہیں لیا تھا بلکہ میں نے اپنے ارادہ کے مطابق انہیں تخلیق کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : میں نے ابلیس اور اس کی ذریت سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں مشورہ نہیں لیا اور نہ ان مشرکوں کی ذوات کی تخلیق میں ان سے مشورہ لیا تھا۔ تو پھر انہوں نے میرے سوا ان کو دوست کیسے بنا لیا ؟ بعض علماء نے فرمایا : ما اشھدتھم میں ضمیر کا مرجع مشرکین ہیں اور تمام لوگ ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے اپنے باپ کو سنا وہ کہتے تھے میں نے فقیہ ابو عبداللہ محمد بن معاذ مہدوی کو مہدیۃ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالحق صقلی کو یہ قول کرتے ہوئے سنا وہ اس آیت میں یہ تفسیر کرتے تھے کہ یہ آیت ان طوائف کا رد کرنے والی ہے (1 یہ بعض اصولیین نے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : میں کہتا ہوں : آیت سے اولاً مقصود ابلیس اور اس کی اولاد ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ طوائف کا رد ثابت ہوتا ہے اور ان لوگوں کا رد ثابت ہے جو کاہن اور جنوں کی تعظیم کرنے والے ہیں، جب وہ کہتے ہیں : اعوذ بعزیز ھذا الوادی میں اس وادی کے غالب کی پناہ چاہتا ہوں کیونکہ یہ تمام گروہ ابلیس اور اس کی ذریت سے متعلق ہیں۔ انہوں نے ان سب کو گمراہ کیا ہے۔ امضلین سے یہی مراد ہے۔ اور یہ تمام مذکورہ گروہ ان کے مفہوم میں داخل ہیں۔ ثعلبی نے کہا : بعض اہل علم نے کہا : ما اشھدتھم خلق السموت والارض نجومیوں کا رد ہے کیونکہ انہوں نے کہا : افلاک زمین میں پیدا کیے جاتے ہیں اور بعض میں بعض پیدا کیے جاتے ہیں اور الارض کا قول اصحالِ ہندسہ کا رد ہے۔ کیونکہ انہوں نے کہا : زمین کروی ہے اور افلاک اس کے نیچے چلتے ہیں، لوگ اس کے نیچے اور اس کے اوپر ہیں۔ ولا خلق انفسہم طباعین کا رد ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ طبائع نفوس میں اثر کرتی ہیں۔ ابو جعفر نے ” ما اشھدناھم “ پڑھا ہے یعنی تعظیم کے لیے نون اور الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کی دلیل وما کنت متخذ ہے یعنی میں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں نہ ان سے مدد لی ہے اور نہ میں نے ان سے مشورہ کیا : وما کنت متخذ المضلین یعنی شیاطین۔ بعض علماء نے فرمایا : المضلین سے مراد کفار ہیں۔ عضداً مددگار۔ کہا جاتا ہے اعتضدت فلانا تو اس سے مدد طلب کرے اور قوت حاصل کرے۔ اس میں اصل عضد الید ہے، یعنی باز، پھر یہ مدد کے لیے استعمال کیا گیا کیونکہ ہاتھ کا قوام عضد (کہنی سے اوپر والا حصہ) کہا جاتا ہے : عضدہ وعاضدہ علی کذا۔ جب کوئی کسی کی مدد کرے اور اسے تقویت دے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنشد عضدک باخیک (القصص : 35) یعنی ہم تیرے بھائی کے ذریعے تیری مدد کریں گے۔ لفظ عضد، المثل کی جہت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ مذمت اور توبیخ میں زیادتی کے لیے مضلین کا خاص ذکر کیا۔ ابوجعفر حجدری نے وما کنت تاء کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی اے محمد ! ﷺ تو گمراہوں کو اپنا دست وبازو بنانے والا نہیں۔ عضداً میں آٹھ وجوہ ہیں۔ عضد عین کے فتحہ اور ضاد کے ضمہ کے ساتھ، یہ جمہور کی قرأت ہے، اور یہ افصح وجہ ہے۔ عضداً عین کے فتحہ اور ضاد کے سکون کے ساتھ، یہ بنی تمیم کی لغت ہے، عضداً عین اور ضاد کے ضمہ کے ساتھ، یہ ابو عمرو اور حسن کی قرأت ہے۔ عضداً عین کے ضمہ اور ضاد کے فتح کے ساتھ، یہ عیسیٰ بن عمر کی قرأت ہے۔ ہارون القاری نے عضد عین کے فتح اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ حکایت کیا ہے اور آٹھویں لغت عضداً عین کے کسرہ اور ضاد کے سکون کے ساتھ، یہ ان کی لغت ہے جو کتف اور فخذ کہتے ہیں۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے مگر وہ انکو کچھ جواب نہ دینگے اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویوم یقول نادوا شرکآءی الذین زعمتم۔ سے پہلے اذکروا فعل مخدوف ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰٖ فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک، یعنی بلائو انہیں جنہیں تم میرا شریک ٹھہراتے تھے، تاکہ وہ تمہیں میرے عذاب سے بچائیں، یہ بت پرستوں کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ حمزہ، یحییٰ ، عیسیٰ بن عمر نے فنقول، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ آگے شرکآءی فرمایا ہے۔ شرکائنا نہیں فرمایا۔ فدعوھم پس مشرک اپنے بتوں کو پکاریں گے فلم یستجیبوا لھم تو وہ انہیں مدد کے لیے جواب نہیں دیں گے، اور نہ ان سے کسی عذاب کو روکیں گے۔ وجعلنا بینہم موبقا حضرت انس بن مالک نے فرمایا (1): موبق جہنم میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم مومنوں اور کفار کے درمیان آڑ بنائیں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : بتوں اور ان کے عبادت کرنے والوں کے درمیان آڑ بنائیں گے جیسے فرمایا : فزیلنا بینھم۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان آڑ ہو وہ موبق ہے۔ ابن وہب نے مجاہد سے موبقا کے تحت روایت کیا ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جسے موبق کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نوف الہکالی نے کہا، مگر اس نے کہا : اس روایت کیا ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جسے موبق کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نوف الہکالی نے کہا، مگر اس نے کہا : اس کا مطلب ہے ان کے اور مومنین کے درمیان آڑ بنا دی جائے گی۔ عکرمہ نے کہا : یہ جہنم میں ایک نہر ہے جو آگ کے ساتھ بہتی ہے اس کے کناروں پر کالے خچروں کی مانند سانپ ہیں۔ جب وہ سانپ انہیں ڈسنے کے لیے چھٹیں گے تو وہ آگ میں گھس کر پناہ لیں گے۔ زید بن درہم نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے فرمایا : موبقاً جہنم میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے (1) ضحاک اور عطا نے کہا : جہنم میں ایک ہلاکت کی جگہ ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : اوبقتہ ذنوبہ ایباقا۔ گناہوں نے اسے ہلاک کردیا۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہلاکت کی جگہ۔ جوہری نے کہا : وبق یبق وبوقا اس کا معنی ہے ہلاک ہونا۔ الموبق، الموعد کی مثل ہے۔ وعدیعد سے مفعل کے وزن پر ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وجعلنا بینھم موبقا اس میں ایک اور لغت بھی ہے : وبق یوبق وبقا اور اس میں ایک تیسری لغت بھی ہے : وبق یوبق وبقا اور اس میں ایک تیسری لغت بھی ہے : وبق یبق ماضی اور مضارع دونوں کا عین کلمہ مکسور ہے۔ او بقہ، اس نے اسے ہلاک کردیا۔ زہیر نے کہا : فراء نے کہا : ان کا باہم ملنا آخرت میں ان کے لیے ہلاکت بنایا۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ پائیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورا المجرمون النار اصل رأی ہے یا متحرک تھی جس کا ماقبل مفتوح تھا تو اسے الف سے بدلا، اسی وجہ سے کو فیوں کا خیال ہے کہ رأی کو یا کے ساتھ لکھا جائے۔ بعض بصریوں نے بھی ان کی متابعت کی ہے، لیکن ماہر بصری علماء نے جن میں محمد بن یزید بھی ہے وہ الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا، میں نے محمد بن یزید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مضیٰ ، رمیٰ اور تمام یائی حروف کو صرف الف کے ساتھ لکھنا جائز ہے۔ یاء والے اور خط میں واو والے حروف میں کوئی فرق نہیں جیسا کہ لفظ میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اگر یا والے حروف کو یاء کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا تو وائو والے حروف کو وائو کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا حالانکہ وہ خود ہی اپنے کلیہ کو توڑتے ہیں۔ رمی کو یاء کے ساتھ اور رماہ کو الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اگر علت یہ ہوتی کہ یہ یاء والے حروف سے ہے تو بھی رماء کو یاء کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا پھر وہ ضحاً لکھتے ہیں، جو ضحوۃ کی جمع ہے اور کساً لکھتے ہیں۔ جو کسوۃ کی جمع ہے یہ دونوں وادی سے ہیں یاء سے لکھے گئے ہیں یہ وہ چیز ہے جو اصل پر ثابت نہیں ہوتی۔ فظنوا انھم مواقعوھا۔ یہاں ظن بمعنیٰ یقین اور علم ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : فقلت لھم ظنوا بالفی مدجج یعنی انہوں نے یقین کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہوں نے یقین کیا کہ وہ گرنے والے ہیں اس میں۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ آگ کو دور سے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں۔ اور انہوں نے گمان کیا وہ بھی انہیں پکڑ لے گی۔ حدیث میں ہے ” کافر جہنم کو دیکھے گا اور کمان کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ چسپاں ہونے والی ہے، حالانکہ وہ چالیس سال کی مسافت پر ہوگی (1) مواقعہ کا معنی ہے کسی شے کے ساتھ سختی کے ساتھ وابستہ ہوجانا۔ علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فظنوا انھم ملافوھا پڑھا ہے یعنی وہ اس میں جمع ہونے والے ہیں۔ الف کا معنی جمع کرنا ہے۔ ولم یجدوا عنھا مصرفا یعنی وہ نجات کی کوئی جگہ نہ پائیں گے کیونکہ وہ ہر جانب سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہوگی۔ قتبیٰ نے کہا : کوئی پھرنے کی جگہ نہ پائیں گے جس کی طرف وہ پھرجائیں بعض نے فرمایا : کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے جس کی طرف پناہ لیں۔ ان تمام الفاظ کا مفہوم ایک ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے بت اور مورتیاں آگ کو مشرکوں سے پھیرنے کی جگہ نہ پائیں گی۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے کے) لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

تفسیر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد صرفنا فی ھذا الاقران للناس من کل مثل۔ یہ دو احتمال رکھتا ہے : ایک دو جوان کے لیے عبرت ناک واقعات اور گزشتہ اقوام کے تذکرے ذکر فرمائے۔ دوسرا احتمال یہ کہ اس نے ان کے لیے اپنی ربوبیت کے دلائل واضح فرمائے۔ یہ پہلے سورة سبحان میں گذر چکا ہے۔ پہلی صورت میں یہ زجر و تو بیخ ہوگا اور دوسری صورت میں بیان ہوگا۔ وکان الانسان اکثر شیء جدلا۔ جدلا سے مراد جھگڑنا ہے۔ اس سے مراد نضر بن حارث ہے اور اس کا قرآن کے بارے میں جھگڑنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی۔ زجاج نے کہا : اس کا مطلب ہے کافر ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ اس کی دلیل کہ انسان سے مراد کافر ہے، یہ ارشاد ہے : ویجادل الذین کفروا بالباطل۔ حضرت انس ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے روز کفار میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : جو میں نے تیری طرف بھیجا تھا تو نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ وہ کہے گا : یہ تیرا صحیفہ ہے اس میں تو اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ شخص کہے گا : یا رب ! جو کچھ اس صحیفہ میں ہے میں اسے قبول نہیں کرتا، اسے کہا جائے گا : یہ تیرے کندھوں پر بیٹھے ہوئے فرشتے تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ وہ کہے گا : میں انہیں بھی قبول نہیں کرتا، وہ کہے گا : یا رب ! میں انہیں کیسے قبول کروں یہ میرے پاس سے اور میری طرف سے نہیں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیوں نہیں۔ وہ عرض کرے گا : یا رب ! میں قبول نہیں کروں گا مگر جو مجھ پر میرے نفس سے گواہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیوں نہیں۔ وہ عرض کرے گا : یا رب ! میں قبول نہیں کروں گا مگر جو مجھ پر میرے نفس سے گواہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں ابھی تجھ پر تیرے نفس سے لاتا ہوں، وہ غور کرے گا : کون میرے نفس سے مجھ پر گواہی دے گا ؟ پس اسکے منہ پر مہر لگا دی جائے گی پھر اس کے اعضاء اس کے شرک کے متعلق بولیں گے پھر اس کے اور کلام کے درمیان کچھ حائل نہیں کیا جائے گا پس وہ آگ میں داخل ہوگا ؟ اس کا بعض بعض کو لعنت کرے گا۔ وہ اپنھے اعضاء کو کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے، میں تمہاری طرف سے جھگڑ رہا تھا۔ اس کے اعضاء اس سے کہیں گے : اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے، اللہ تعالیٰ سے بات چھپائی جاتی ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ایسی چیزوں کو بیان کر رہا ہے : وکان الانسان اکثر شیء جدلا۔ “ اس حدیث کے ہم معنی امام مسلم نے حضرت انس سے روایت کی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت ان کا اور سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا : کیا تم نماز (تہجد) نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہماری روحیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے تو ہم اٹھ جاتے ہیں (1) نبی پاک ﷺ واپس پلٹے جب میں نے یہ کہا۔ پھر میں نے آپ کو سنا جبکہ آپ واپس جا رہے تھے، تو اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : وکان الانسان اکثر شیء جدلا۔
Ayahs 18:55–56

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انھیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما منع الناس ان یومنوا اذا جآء ھم الھدی۔ الھدی سے مراد قرآن، اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ ویستغفروا ربھم الا ان تاتیھم سنۃ الاولین۔ یعنی ہماری انہیں ہلاک کرنے کی سنت ہے، یعنی انہیں ایمان لانے سے نہیں روکا مگر اس چیز کی طلب نے کہ ان پر بھی پہلے لوگوں کی سنت آئے پھر اس طلب کو حذف کیا گیا۔ سنۃ الاولین سے مراد عذاب کو دیکھنا ہے مشرکوں نے اسی چیز کو طلب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا : اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک۔ “ اویاتیھم العذاب قبلا۔ قبلا۔ پر نصب حال کی بنا پر ہے، اس کا معنی ہے عیانا یعنی سامنے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : اس سے مراد بدر کے دن کی تلوار ہے (2) ۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد فجاۃ، اچانک ہے۔ ابو جعفر، عاصم، اعمش، حمزہ، یحییٰ اور کسائی نے قبلاً دو ضموں کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور انہوں نے عذاب کی ساری اقسام مراد لی ہیں۔ یہ قبیل کی جمع ہے جیسے سبیل کی جمع سبل ہے۔ فراء کا مذہب یہ ہے کہ قبلا، قبیل کی جمع ہے اور اس سے مراد متفرق عذاب ہے جو یکے بعد دیگرے آتا ہے۔ اس کے نزدیک اس کا عیانا معنی بھی ہو سکتا ہے۔ اعرج نے کہا : اس کی قرأت قبلا ہے جس کا معنی جمیعاً ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس کی قرأت قبلا ہے جس کا معنی جمیعاً ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس کی قرأت قبلا ہے اس کا معنی عیناً ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما نرسل المرسلین الا مبشرین۔ یعنی ایمان والوں کو جنت کی بشارت دینے والے۔ ومنذرین۔ کافروں کو عذاب سے ڈرانے والے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ المقتسمین کے بارے نازل ہوئی جو نبی پاک ﷺ سے جھگڑتے تھے، وہ کہتے : جادوگر ہے، مجنون ہے، شاعر ہے۔ کبھی کہتے : کاہن ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ لیدحضوا۔ کا معنی ہے زائل کرنا، باطل کرنا، الدحض اصل معنی پھسلنا ہے۔ کہا جاتا ہے : دحضت رجلہ یعنی اس کا پائوں پھسل گیا۔ تدحض دحضاً ۔ دحضت الشمس عن کبدالسمائ، یعنی سورج ڈھل گیا۔ دحضت محبتہ دحوضا۔ یعنی اس کی محبت باطل ہوگئی۔ ادحضھا اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا۔ الادحاض کا معنی پھسلنا ہے۔ پل صراط کی تعریف میں ہے جہنم پر ایک پل بنایا جائے گا، شفاعت کا اذان دیا جائے گا۔ انبیاء کرام کہیں گے : سلم سلم اے اللہ سلامتی عطا فرما۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! وہ پل کیا ہے۔ فرمایا : دحض مزلقۃ۔ وہ پھسلن ہے جس میں پائوں پھسل جائیں گے۔ طرفۃ نے کہا : ایا منذر رمت الوفاء فھبتہ وحدت کما حاد البعیر عن الدحض واتخذوا ایتی آیات سے مراد قرآن ہے۔ وما انذروا یعنی جو انہیں وعید سنائی گئی۔ ھزوا مزاق۔ مامصدر یہ ہے یعنی الانذار۔ بعض نے فرمایا : ما موصولہ ہے، یعنی انہوں نے قرآن اور جس وعید سے انہیں ڈرایا گیا اے مزاق بنایا۔ اس کا بیان سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ مکھن اور کھجور کے بارے میں ابوجہل کا قول ہے، اس نے کہا تھا : یہ زقوم ہے۔ بعض نے فرمایا : ان کا قرآن کے متعلق یہ کہنا ہے کہ جادو ہے، خیالات ہیں اور پہلے لوگوں کے قصے ہیں۔ اور انہوں نے نبی پاک ﷺ کو کہا : ما ھذا الا بشر مثلکم۔ یہ نہیں مگر تمہاری ممثل بشر اور انہوں نے کہا : لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف) ماذا اراد اللہ بھذا مثلا۔ (البقرہ : 26)
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جس کو اسکے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اسکو بھول گیا ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو راستے کی طرف بلاؤ تو کبھی راستے پر نہ آئیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنھا یعنی کوئی اس سے اپنے نفس پر زیادہ ظلم کرنے والا نہیں جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے نصیحت حاصل کرنے میں کوتاہی کی اور ان کو قبول کرنے سے اعراض کیا۔ ونسی ما قدمت یدہ اپنے کفر اور گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس سے توبہ نہ کی، یہاں سیان کا معنی ترک کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اسے ببھول گیا جو اس نے اپنے لیے آگے بھیجا اور جو اس نے عذاب حاصل کیا۔ ان دونوں اقوال کا معنی قریب قریب ہے۔ انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً یعنی ان کے کفر کے سبب ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے اور کانوں میں گرانی پیدا کردی، یعنی ہم نے روک دیا ایمان کو کہ ان کے دلوں اور کانوں میں داخل ہو۔ وان تدعھم الی الھدی۔ ھدی سے مراد ایمان ہے، یعنی اگر آپ انہیں ایمان کی طرف بلائیں : فلن یھتدوا اذا ابداً وہ پھر بھی ہدایت نہ پائیں گے۔ یہ آیت معین لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ قدریہ کے قول کا اس سے رد ہوتا ہے۔ اس کا معنی سورة سبحان میں گزر چکا ہے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ سے عذاب بھیج دے مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا ہے) کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وربک الغفور ذوالرحمۃ یعنی وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے، یہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ کفار اس میں داخل نہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ (النسائ :48) ۔ ذوالرحمۃ۔ اس میں چار تاویلات ہیں۔ -1 ذوالعفو۔ معافی دینے والا۔ -2 ذوالثواب۔ ثواب دینے والا۔ ان دونوں تاویلات پر اہل ایمان کے ساتھ مختص ہوگا کفار داخل نہ ہوں گے۔ -3 ذوانعمۃ۔ نعمتیں عطا فرمانے والا۔ -4 ذوالھدی۔ ہدایت دینے والا۔ ان دونوں تاویلات کی ببناء پر یہ اہل ایمان اور کفار دونوں کو شامل ہوگا، کیونکہ وہ دنیا میں کافر پر بھی انعام فرماتا ہے جس طرح مومن پر انعام فرماتا ہے۔ اس نے اپنی ہدایت کو کافر کے لیے واضح کیا جس طرح اس نے اپنی ہدایت کو مومن کے لیے واضح کیا، مگر اس سے مومن نے ہدایت پائی اور کافر محروم رہا (1) ۔ لویواخذھم بما کسبوا۔ یعنی اگر کفر اور گناہوں کی وجہ سے مواخذہ کرتا تو انہیں جلدی عذاب دیتا لیکن وہ مہلت دیتا ہے۔ بل لھم موعد۔ یعنی مدت مقرر ہے اس تک انہیں ڈھیل دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لکل نبا مستقر (انعام : 67) لکل اجل کتاب۔ الخ (الرعد) جب وہ وقت آجائے گا تو عذاب ان سے موخر نہ ہوگا خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ لن یجدوا من دونہ۔ مویلا۔ مویلا۔ سے مراد پناہ گاہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن زید کا قول ہے، یہ جوہری نے ” الصحاح “ میں حکایت کیا ہے (1) ۔ وال یئل والادؤ ولا بروزن فعول، اس کا معنی ہے پناہ لینا۔ واء ل بروزن فاعل، اس کا معنی ہے نجات طلب کرنا۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے محرز اس۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے ونیا (دوست) ، ابو عبیدہ نے کہا : اس کا معنی ہے نجات کی جگہ۔ بعض نے فرمایا : محیضاً (پناہ گاہ) ، سب کا معنی ایک ہے۔ عرب کہتے ہیں : لا والت نفسہ۔ یعنی اس کا نفس نجات نہ پائے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے : لا والت نفسک خلی تھا لعامرین ولمتکلم اور الاعشیٰ نے کہا : وقد اخالس رب البیت غفلتہ وقد یحاذر منی ثم مائل (2) یعنی نجات نہیں پاتا۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے انکو تباہ کردیا اور انکی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتلک القری اھلکنھم۔ تلک محل رفع میں مبتدا ہے۔ القریٰ نعت یا بدل ہے۔ اھلنھم خبر کے مقام پر ہے، معنی پر محمول ہے کیونکہ القرٰ سے مراد اھل القریٰ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ تلک محل نصب میں ہو، ان علماء کے قول پر جو کہتے ہیں : زیداً صربتہ یعنی وہ بستیاں جن کی خبریں ہم نے آپ پر بیان کی ہیں جیسے قوم عاد، ثمود، مدین، لوط کی بستیاں ہم نے انہیں ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا اور کفر کیا۔ وجعلنا لمھلکھم موعداً یعنی ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے اس سے تجاوز نہیں ہوگا۔ مھلک، یہ اھلکوا سے مشتق ہے۔ عاصم نے مھلکھم میم اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ اس صورت میں ھلک کا مصدر ہوگا۔ کسائی اور فراء نے مھکھم لام کے کسرہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : کسائی نے کہا یہ میرے نزدیک بہتر ہے کیونکہ یہھللک سے ہے۔ زجاج نے کہا : مھلک اسم ظرف ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے لوقت مھلکھم جیسے کہا جاتا ہے : اتت الناقۃ علی مضربھا یعنی اونٹنی حاملہ ہونے کے وقت پر آئی۔