18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اوا مضی حقبا۔ ” اور یاد کرو جب کہا موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) کو کہ میں چلتا رہوں گا یہاں تک کہ پہنچوں جہاں دو دریا ملتے ہیں (چلتے چلتے) گزار دوں گا مدت دراز۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح۔ جمہورعلماء اور اہل تاریخ کا قول یہ ہے کہ اس موسیٰ سے حضرت موسیٰ بن عمران مراد ہیں جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ قرآن میں ان کے علاوہ کسی موسیٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ایک فرقہ نے کہا جن میں نوف بکالی بھی ہے کہ موسیٰ بن عمران نہیں ہے۔ یہ موسیٰ بن منشا بن یوسف بن یعقوب ہے۔ یہ موسیٰ بن عمران سے پہلے نبی تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے صحیح بخاری میں اس قول کا رد کیا ہے (1) فتاہ سے مراد حضرت یوشع ببن نون ہے۔ اس کا ذکر سورة المائدہ میں اور سورة یوسف کے آخر میں گزر چکا ہے اور جن علماء نے کہا یہ موسیٰ بن منشا ہے ان کے نزدیک فتاہ سے مراد یوشع بن نون نہیں ہے۔ لا ابرح ” میں ہمیشہ چلتا رہوں گا۔ “ شاعر نے کہا : وابرح ما ادام اللہ قومی بحمد اللہ منتطقا مجیدا بعض علماء نے فرمایا : لا ابرح کا معنی ہے میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا حتیٰ ابلغ مجمع البحرین دو دریائوں کے ملنے کی جگہ، قتادہ نے کہا : یہ فارس اور روم کے دریا ہیں (2) ، یہ مجاہد کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس سے مراد پانی کا وہ بازو ہے جو بحر محیط سے شمالی طرف سے جنوب کی طرف فارس کی زمین میں آذر بائیجان کے پیچھے سے نکلتا ہے (3) ۔ اس قول کی بناء پر وہ جگہ مجمع البحرین ہوگی جہاں دو دریا ملتے ہیں جو شام کی خشکی سے ملتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قلزم اور اردن کے دریا ہیں۔ بعض نے فرمایا : یہ طنجہ کے قریب مجمع البحرین ہے، یہ محمد بن کعب نے کہا ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے : یہ افریقہ میں ہے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد ارمینیہ میں الکر اور الرس دو نہریں ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا : یہ بحر اندلس اور ببحر محیط سے ہے، یہ نقاش نے حکایت کیا ہے۔ یہ زیادہ ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : دریائوں سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہم السللام ہیں۔ یہ ضعیف قول ہے، یہ حضرت اببن عبب اس ؓ سے حکایت کیا گیا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ احادیث سے بالکل واضح ثابت ہوتا ہے کہ وہ پانی کے دریا تھے۔ اس قصہ کا سبب وہ ہے جو امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں خطبہ دیا، تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں سے کون بڑا عالم ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کی نسببت اللہ تعالیٰ کی طرف نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ میرا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے جو تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : یا رب ! میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم ایک مچھلی لے لو اور اسے ایک ٹوکرے میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ وہاں ہوگا (4) یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت موسیٰ علیہ السللام اور آپ کی قوم مصر کی زمین پر غالب آئی تو آپ نے اپنی قوم کو مصر میں اتارا جب وہ پوری طرح وہاں گھروں میں آباد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایام اللہ یاد کرنے کا حکم دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے جوان پر نعمت و خیر فرمائی تھی وہ انہیں یاد دلائی کہ اس نے فرعونیوں سے انہیں نجات دلائی اور ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور انہیں مصر کی زمین میں خلیفہ بنایا پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی سے کلام فرمائی اور اسے اپنی ذات کے لیے منتخب فرمایا اور اس نے مجھ پر محبت ڈالی اور تمہیں وہ سب کچھ عطا فرمایا جو تم نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا، اور تمہیں اپنے زمانہ کی افضل قوم بنایا، اس نے تمہیں ذلت کے بعد عزت بخشی، فقر کے بعد غنا عطا فرمائی، تم جاہ ل تھے اس کے بعد تمہیں تورات بخشی، بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کہا : ہم جان چکے ہیں جو آپ کہہ رہے ہیں کیا سطح زمین پر تم سے زیادہ کوئی عالم ہے ؟ اے اللہ کے نبی ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : نہیں ! اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عتاب فرمایا جب انہوں نے علم کی نسببت اللہ کی طرف نہ کی پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جبرئیل امین کو بھیجا (اور یہ پیغام دیا) کہ اے موسیٰ ! تجھے کیا معلوم کہ میں کہاں علم رکھتا ہوں ؟ ہاں میرا ایک بندہ مجمع البحرین میں تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ آگے مکمل حدیث ذکر کی۔ ہمارے علماء نے فرمایا : حدیث میں ہے ھو اعلم منک وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ مفصل واقعات کے احکام اور معین حادثات کے حکم کے جاننے کے اعتبار سے تم سے زیادہ علم والا ہے نہ کہ مطلقاً ، اس کی دلیل حضرت خضر (علیہ السلام) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہنا ہے کہ تو ایسے علم پر ہے جو اللہ تعالیٰنے تجھے سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا اور میں ایسے علم پر ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا۔ اس بنا پر ہر ایک پر یہ صادق آتا ہے کہ وہ اپنے علم کے اعتبار سے دوسرے سے زیادہ علم والا تھا جو دوسرا نہیں جانتا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ ارشاد سنا تو ان کے فاضل نفس میں شوق پیدا ہوا اور ان کی بلند ہمت میں جذبہ ابھرا تاکہ وہ علم حاصل کریں جو وہ نہیں جانتے اور ان کی ملاقات کا شوق ہوا جس کے متعلق کہا گیا کہ وہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ ارشاد سنا تو ان کے فاضل نفس میں شوق پیدا ہوا اور ان کی بلند ہمت میں جذبہ ابھرا تاکہ وہ علم حاصل کریں جو وہ نہیں جانتے اور ان کی ملاقات کا شوق ہوا جس کے متعلق کہا گیا کہ وہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عزم کیا اور پوچھا کہ اس تک کیسے پہنچنا ہے تو انہیں ہر حال پر چلنے کا حکم ملا۔ انہیں کہا گیا کہ تم اپنے ساتھ ایک نمکین مچھلی ایک زنبیل میں اٹھا لو جہاں وہ زندہ ہوجائے اور تم سے گم ہوجائے وہاں اس کا راستہ ہے۔ آپ اپنے نوجوان کو ساتھ لے کر پوری کوشش سے یہ کہتے ہوئے نکلے کہ میں چلتا رہوں گا حتیٰ کہ میں مجمع البحرین تک پہنچ جائوں گا۔ اوامضی حقبا۔ حاء اور قاف کے ضمہ کے ساتھ۔ اس سے مراد زمانہ ہے اس کی جمع احقاب ہے۔ اور یہ اسی سال کا زمانہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ زمانہ ہے اور جمع احقاب ہے، اور الحقبۃ حاء کے کسرہ کے ساتھ الحقب کا واحد ہے، اس سے مراد سال ہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ عالم کو علم کی زیادتی کی خاطر سفر چاہیے اور اس پر خادم اور ساتھی سے مدد لینی چاہیے، فضلاء اور علماء کی ملاقات حاصل کرنی چاہیے اگرچہ اس کا سفر بہت دور بھی ہو، یہ سلف صالحین کی عادت تھی۔ اسی وجہ سے سفر کرنے والوں نے علم کا وافر حصہ پایا اور اس کوشش پر کامیابی حاصل کی ان کے قدم علوم میں راسخ ہوگئے، اور ان کے لیے اجر، فضل کی ساری اقسام صحیح ہیں۔ امام بخاری نے فرمایا : حضرت جابر بن عبداللہ نے عببداللہ بن انیس کی طرف ایک حدیث کی خاطر ایک مہینہ کا سفر کیا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واذ قال موسیٰ لفتہ اس کے بارے میں عللماء کے تین اقوال ہیں : -1 وہ نوجوان آپ کی خدمت کرتا تھا، عرب کلام میں الفتیٰ نوجوان کو کہتے ہیں، اکثر خدمت کرنے والے نوجوان ہوتے ہیں، اس لیے خادم کو حسن ادب کی جہت سے فتی کہا جاتا ہے۔ شریعت نے ایسے لفظ کو پسند فرمایا ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لا یقل احدکم عبدی ولا امتی ولیقل فتای وفتاتی (1) ” تم میں سے کوئی عبدی اور امتی نہ کہے بلکہ فتای اور فتاتی کہے “ یہ تواضع کے اعتبار سے بہتر ہے۔ اس بحث کا ذکر سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔ ایت میں الفتی سے مراد خادم ہے اور وہ یوشع بن نون ببن افرائیم بن یوسف (علیہ السلام) تھے۔ کہا جاتا ہے، وہ حضرت موسیٰ علیہ اللسلام کے بھانجے تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کو فتی موسیٰ اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ آپ سے چمٹے رہتے تھے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے علم حاصل کریں، اگرچہ وہ آزاد تھے، یہ پہلا معنی ہے۔ بعض علمائء نے فرمایا : کیونکہ وہ فتی (غلام) کے قائم مقام تھے اس لیے انہیں فتی موسیٰ کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقال لفتینہ اجعلوا بضاعتھم فی رحالھم (یوسف : 62) اور فرمایا تراودفتھا عن نفسہ (یوسف :30) ابن عربی نے کہا : قرآن کا ظہر اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ غلام تھے۔ اور حدیث میں ہے وہ یوشع بن نون تھا اور تفسیر میں ہے وہ آپ کا بھانجا تھا۔ ان اقوال میں کوئی بات قطعی نہیں اس لیے توقف میں سلامتی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او امضی حقبا حضرت عبداللہ بن عمرونے فرمایا : الحقب اسی سال ہیں۔ مجاہد نے کہا : ستر سال ہیں (2) ۔ قتادہ نے کہا : ایک زمانہ ہے۔ نحاس نے کہا : اہل لغت جس کو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ الحقب اور الحقبۃ غیر محدود و مبہم زمانہ ہے جیسا کہ رھطا اور قوما مبہم غیر محدود ہیں اور اس کی جمع احقاب ہے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب انکے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا

(تفسیر) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما بلغا مجمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا۔ بینھما کی ضمیر بحرین کے لیے ہے، یہ مجاہد نے کہا ہے۔ السراب کا معنی ہے گزرگاہ، سرنگ، یہ بھی مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : پانی تھم گیا اور وہ سرنگ کی طرح ہوگیا۔ جمہور مفسرین نے کہا : مچھلی اپنے چلنے کی جگہ میں پانی میں موجود تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی کے پیچھے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے ذریعے دریا میں ایک جزیرہ کے راستہ پر پہنچے۔ اس میں حضرت خضر (علیہ السلام) کو پایا۔ ظاہر روایات اور کتاب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی ملاقات دریا کے ساحل پر ہوئی تھی۔ نسیا حوتھما نسیان تو صرف نوجوان کو ہوا تھا لیکن یہاں دونوں کی طرف نسیان کی نسبت کی گئی ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ نوجوان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ منظر بتانا بھول گیا تھا جو اس نے مچھلی کی حالت سے دیکھا تھا تو صحبت کی وجہ سے ان دونوں کی طرف نسیان کو منسوب کیا گیا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یخرج منھما اللولو والمرجان (الرحمن :22) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم (انعام :130) حالانکہ رسل صرف انسانوں سے تھے جنوں سے نہیں تھے، مگر مصاحبت کی وجہ سے ان کو بھی خطاب میں جمع کیا گیا۔ بخاری میں ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نوجوان سے کہا : میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا مگر یہ کہ تو مجھے بتا جہاں تجھ سے مچھلی جدا ہوئی تھی، فرمایا : میں نے مجھے کوئی بڑی تکلیف نہیں دی (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واذ قال موسیٰ لفتہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فتا سے مراد یوشع بن نون ہی یہ سعد بن مسیب سے نام مروی نہیں ہے۔ فرمایا : جب وہ تر مٹی پر چٹان کے سایہ میں تھا تو مچھلی تڑپی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے، نوجوان نے کہا : میں آپ کو جگاتا نہیں ہوں حتیٰ کہ جب آپ بیدار ہوں گے تو بتا دوں گا، تو وہ جب بیدار ہوئے تو وہ بتانا بھول گیا مچھلی تٹڑی اور دریا میں داخل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پانی کا بہائو روک لیا حتیٰ کہ گویا اس کا نشان (سوراخ) پتھر میں ہے، مجھے عمرو نے کہا : اس طرح گویا اس کا اثر (سوراخ) پتھر میں ہے۔ انہوں نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی دو انگلیوں سے حلقہ بنایا۔ ایک روایت میں ہے : اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہائو روک لیا اور وہ اس پر طاق کی طرح ہوگیا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوئے تو ان کا ساتھی انہیں مچھلی کے متعلق بتانے کے بارے میں بھول گیا۔ وہ بقیہ دن اور رات چلتے رہے حتیٰ کہ جب دوسرا دن تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان سے کہا : ہمارا صبح کا کھانا لے آ ہمیں اس سفر میں مشقت برداشت کرنی پڑی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکن نہ ہوئی حتیٰ کہ اس مکان سے تجاوز کر گئے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے نوجوان نے کہا : کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم سستانے کے لیے چٹان کے پاس گئئے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ فراموش نہیں کرائی مگر شیطان نے کہ اس کا ذکر کروں۔ بعض علماء نے فرمایا : بھولنا دونوں کی طرف سے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نسیا۔ نسیان کی دونوں کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ ابتدا میں مچھلی کا اٹھانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے تھا کیونکہ انہیں مچھلی اٹھانے کا حکم دیا گیا تھا جب وہ دونوں چلے تو پھر مچھلی اٹھانے والا نوجوان تھا حتیٰ کہ چٹان کے پاس اترے۔ فلما جاوزا یعنی جب مچھلی چھوڑ کر آگے گزر گئے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صبح کے کھانے کا سوال کیا تو نوجوان نے نسیان کی نسبت اپنی طرف کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے مجمع البحرین کے پاس ان کے بھولنے کا ذکر کیا ہے، اس سے مراد چٹان ہے۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نسیان میں شریک تھے کیونکہ نسیان کا مطلب تاخیر ہے اسی وجہ سے عرب کسی دعا میں کہتے ہیں : انشاء اللہ فی اجلک۔ اللہ اللہ تعالیٰ تیری عمر لمبی کرے۔ جب وہ چٹان سے گزر گئے تو مچھلی اٹھانے میں تاخیر ہوگئی ان میں سے کسی نے وہ نہ اٹھائی، پس ان دونوں کی طرف نسبت جائز ہے کیونکہ وہ دونوں گزر گئے اور مچھلی چھوڑ گئے۔
Ayahs 18:62–65

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب آگے چلے تو (موسی نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا اور مجھے (آپ سے) اسکا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا راستہ لیا

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسی نے) کہا یہی تو وہ (مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتنا غدآء نا۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں زادراہ ساتھ لینا، یہ جاہل صوفیاء پر رد ہے جو بیابانوں اور میدان میں بغیر زاد راہ کے جاتے ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السللام کے نبی تھے اور اہل زمین میں سے اس کے کلیم تھے۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے باوجود زادراہ ساتھ لیا۔ صحیح بخاری میں ہے (1) یمن کے کچھ لوگ حج کرتے تھے اور زادراہ ساتھ نہیں لے جاتے تھے، اور کہتے تھے : ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر جب حرم میں پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ وتزودوا کا ارشاد نازل فرمایا، یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زادراہ میں اختلاف ہے کہ وہ کیا تھا ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ زنبیل میں نمکین مچھلی تھی، صبح و شام وہ اس سے کھاتے تھے جب وہ دریا کے ساحل پر چٹان تک پہنچ گئے تو نوجوان نے ٹوکری کو رکھ دیا، مچھلی پر دریا کے چھینٹے پڑے تو اس نے ٹوکری میں حرکت کی، ٹوکری الٹی ہوگئی اور مچھلی سرنگ بنا کر چلی گئی۔ نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السللام سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ مچھلی حضرت خضر علیہ اللسلام کی جگہ کی دلیل تھی کیونکہ حدیث میں ارشاد ہوا تھا : اپنے ساتھ ایک ٹوکری میں مچھلی اٹھائو جہاں وہ تم سے گم ہوجائے وہ وہاں ہوگا۔ اس بنا پر مچھلی کے علاوہ کوئی زادراہ ہوگا۔ یہ ہمارے شیخ ابوالعباس نے ذکر کیا ہے اور اس کو اختیار کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ( 2): میرے باپ نے کہا میں نے ابوالفضل جوہری کو اپنے وعظ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مناجات کے لیے گئئے تو وہ چالیس دن رہے اور انہیں کھانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی جب وہ انسانوں کی طرف چلے تو انہیں دن کے وقت بھوک محسوس ہوئی۔ نصباً کا معنی تھکن ہے۔ النصب کا معنی تھکن اور مشقت ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے یہاں مراد بھوک ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ جو انسان کو تکلیف اور مرض ہو تو اس کو بتانا جائز ہے، یہ مقام رضا کے منافی نہیں ہے اور نہ قضا کو تسلیم کرنے کے منافی ہے، لیکن یہ اس صورت میں جائز ہے جب اکتاہٹ اور ناراضگی کی بناء پر نہ ہو۔ وما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ ان اور فعل مصدر کی تاویل میں ہیں۔ یہ انسنیہ کی ضمیر سے بدل اشتمال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یہ اسم ضمیر سے ظاہر بدل ہے، یعنی ما انسانی ذکرہ الا الشیطان، اور حضرت عبداللہ کے مصحف میں وما انسانیہ أن اذکرہ الا الشیطان ہجے۔ یہ یوشع نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول پر عذر پیش کرنے کے لیے کہا جو انہوں نے کہا تھا کہ میں تجھ سے بات نہیں کروں گا مگر یہ کہ تم مجھے بتائو جہاں تجھ سے مچھلی جدا ہوگئی تھی میں نے تجھے کوئی بڑی تکلیف نہیں دی۔ اس قول کی وجہ سے یوشع نے معذرت خواہانہ کلام کی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا یہ بھی احتمال کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوشع نے کہا ہو یعنی مچھلی نے اپنا راستہ بنا لیا لوگوں کے لیے تعجب والی بات ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ خبر کی تکمیل سے ہے، پھر تعجب کو علیحدہ اپنی طرف سے بیان کیا ہو کہ اس امر پر تعجب ہے۔ تعجب اس لیے ہے کہ مچھلی مر چکی تھی اور اس کی بائیں جانب کھائی گئی تھی پھر اس کے بعد زندہ ہوگئی تھی۔ ابو الشجاع نے کہا : طبری کی کتاب میں، میں نے اس کو دیکھا اتیت بہ (اسے لایا ا گیا) ۔ وہ مچھلی کی ایک طرف تھی اور ایک آنکھ تھی اور دوسری طرف میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے اس کو دیکھا جس جانب کچھ نہیں تھا۔ اس پر باریک پردہ تھا جس کے نیچے کوئی کانٹا نہیں تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ واتخذ سبیلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں : اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق خبر دی کہ اس نے مچھلی کے دریا میں راستہ بنانے پر تعجب کیا یا مچھی کے متعلق خبر دی کہ اس نے لوگوں کے تعجب کے لیے راستہ بنایا۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے قصص میں مروی ہے کو وہ مچھلی زندہ ہوگئی تھی کیونکہ اسے چشمہ کا پانی لگا تھا جسے عین الحیاۃ کہا جاتا ہے، وہ قانی جس چیز کو لگتا ہے وہ زنجہ ہوجاتی ہے۔ ” التفسیر “ میں ہے کہ علا امت یہ تھی کہ مچھلی زندہ ہوگئی تھی۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سفر سے تھک کر چٹان کے پاس سستانے کے لیے گئے تو اس کے قریب آب حیات تھا وہ پانی مچھلی کو لگا تو وہ زندہ ہوگئی (1) ۔ ترمذی نے اپنی حدیث میں کہا سفیان نے کہا لوگوں کا خیال ہے کہ اس چٹان کے پاس آبِ حیات کا چشمہ تھا وہ کسی چیز کو نہیں لگتا مگر وہ زندہ ہوجاتی ہے۔ فرمایا : اس مچھلی سے کھایا گیا تھا، جب اس پر پانی کے قطرے پڑے تو زندہ ہوگئی۔ صاحب کتاب العروس نے ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آبِ حیات سے وضو کیا تو آپ کی داڑھی سے ایک قطرہ مچھلی پر گرا تو وہ زندہ ہوگئی۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشتا اد ہے : ذلک ما کنا نبع یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نوجوان کو مچھلی اور اس کے گم ہونے کے متعلق بتایا کہ وہ جگہ تو تھی جس کو طلب کر رہے تھے وہ شخص جس کے لیے ہم آئے ہیں وہ وہاں ہے۔ پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آئے تاکہ راستہ بھول نہ جائیں۔ بخاری میں ہے (2): ان دونوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو دریا کے درمیان سبز جائے نماز پر کپڑا لپیٹ کر سویا ہوا پایا انہوں نے چادر کی طرف قدموں کے نیچے اور ایک طرف سر کے نیچے کی ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر سلام کیا تو انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا : یہ تمہاری زمین کا اسلام ہے ؟ تو کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں موسیٰ ہوں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا : حضرت موسیٰ بنی اسرائیل ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہاں حضرت خضر (علیہ السلام) نے پوچھا : کیا کام ہے ؟ موسیٰ نے کہا : میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ ثعلبی نے کتاب (العرائس) میں کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نوجون نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پانی کی سطح پر سبز جائے نماز پر سویا ہوا پایا وہ سبز کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر سلام کیا تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا : یہ ہماری زمین کا سلام کہاں ہے ؟ پھر اپنا سر اٹھایا اور سیدھے بیٹھ گئے اور کہا : اے بنی اسرائیل کے نبی ! وعلیک السلام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضرعلیہ السلام سے کہا : تجھے میرے متعلق کیسے خبر ہوئی ؟ اور تجھے کس نے بتایا کہ ہے میں بننی اسرائیل کا نبی ہوں ؟ حضرت خضرعلیہ السلام نے کہا : جس نے آپ کو میرے متعلق بتیا ہے اور میری طرف جس نے تمہاری راہنمائی کی ہے۔ پھر کہا : اے موسیٰ تجھے تو ببنی اسرائیل میں مشغولیت تھی۔ حضرت موسیٰ نے کہا : مریے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں آپ کی پیروی کروں اور اور آپ سے وہ علمم سیکھوں جو آپ کو اس نے سکھایا ہے۔ پھر دونوں باتیں کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ ایک پرندہ آیا اس نے اپنی چونچ میں پانی اٹھایا۔ آگے حدیث ذکر کی جیسا ا کہ آگے آئے گی (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہیفوجدا عبداً من عبادنآ۔ العبد سے مراد جمہور کے قول پر حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں۔ اور احادیث کا مقتضا بھی یہی ہے۔ انہوں نے اس کی مخالفت کی ہے جن کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی حضرت خضر نہیں تھے بلکہ کوئی دوسرا عالم تھا، یہ قول قشیری نے حکایت کیا ہے۔ فرمایا : ایک قوم نے کہا : وہ عبد صالح تھا۔ صحیح یہ ہے کہ وہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے، اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے خبر مروی ہے۔ مجاہد نے کہا : حضرت خضر (علیہ السلام) کو خضر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جب نماز پڑھتے تھے تو ان کا ارد گرد کا علاقہ سر سبز ہوجاتا تھا۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے (2) فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : خضر (علیہ السلام) کو خضر اس لیے کہا جا اتا ہے کہ وہ سفیدزمین پر بیٹھتے تھے تو اس کے نیچے سبز ہو کر لہلہانے لگتی تھی “۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ حدیث میں الفروۃ کا لفظ آیا ا ہے جس کا معنی سطح زمین سے ہے، یہ خطابی وغیرہ کا قول ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) نبی ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ عبد صالح تھے، نبی نہیں تھے۔ آیت ان کی نبوت کی گواہی دیتی ہے کیونکہ ان کے افعال کے راز وحی سے معلوم ہو سکتے ہیں، کیونکہ انسان نہ سیکھتا ہے اور نہ ہی اتباع کرتا ہے مگر اس کی جو اس سے بلند مرتبہ ہوتا ہے۔ اور یہ جائز نہیں کہ نبی سے وہ بلند مرتبہ ہو جو نبی نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ فرشتہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیاوہ ان سے علم باطن حاصل کریں جو اسے حاصل ہے۔ پہلا قول صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتینۃ رحمۃ من عندنا اس آیت میں رحمت سے مراد نبوت ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد نعمت ہے۔ و علمنہ من لدنا علما۔ یعنی ہم نے اسے اپنی جناب سے علم غیب سکھایا۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت خضرعلیہ السلام کا علم، علم معرفت تھا جو ان کی طرف وحی کیا گیا تھا، ان کے افعال کو احکام کے ظواہر کا رنگ نہیں دیا جاتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا علم، علم احکام اور علم فتویٰ لوگوں کے ظاہر اقوال اور افعال کے متعلق تھا (3) ۔
Ayahs 18:66–68

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے (جس کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

(خضر نے کہا) کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیونکر سکتے ہو ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال لہ موسیٰ ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا اس میں دو مسئلے ہیں مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشا اد ہے : قال لہ موسیٰ ھل اتبعک یہ سوال ایک ملا اطف کا سوال ہے اور مخاطب حسن ادب میں مبالغہ کرتے ہوئئے اپنے مقام سے اتر کر سوال کر رہا ہے، مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ایسا اتفاق ہوگا اور آپ پر آسانی ہوگی ؟ یہ اس طرح ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :” کیا تو مجھے دکھا سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کیسے وضو کرتے تھے “ (1) ۔ بعض تاویلات پر یہ آئے گا اسی طرح یہ ارشاد ہے : ھل یستطیع رببک ان ینزل علینا مآئدۃ من السماء (المائدہ :112) اس کا بیان سورة مائدہ میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ شاگرد، استاد کے تابع ہوتا ہے اگرچہ مراتب مختلف ہوں، اس سے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت خضر (علیہ السلام) سے سیکھنے میں دلیل ہے کہ حضرت حضرت خضر (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل تھے، کبھی فاضل کو اس بات کا علم نہیں ہوتا جس کا مفضول کو علم ہوتا ا ہے، فضیلت اسے حاصل ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ فضیلت دیتا ہے۔ خضرت خضر (علیہ السلام) اگر ولی تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سے افضل ہوں گے، کیونکہ وہ نبی تھے اور نبی، ولی سے افضل ہوتا ہے۔ اور وہ نبی تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے ساتھ فضیلت دی گئی تھی۔ واللہ اعلم۔ رشداً یہ تعلمن کا دوسرا مفعول ہے۔ قال، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا : انک لن تستطیع معی صبراً یعنی اے موسیٰ ! آپ میرے علم کو دیکھ کر صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے کیونکہ ظواہر جو آپ کا علم ہے وہ اس علم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا (2) ۔ آپ جس کو خطا دیکھیں گے اس پر کیسے صبر کریں گے ؟ اور اس میں حکمت کی وجہ تم پر منکشف نہ ہوگی تو کیسے ضبط کرسکیں گے ؟ و کیف تصبر علی مالم تحط بہ خبراً کا یہی معنی ہے۔ انبیاء کرام کسی پر منکر خاموش نہیں رہتے اور ان کے لیے خاموش ہونا جائز ہوتا ہے، تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا : آپ اپنی عادت اور حکم کی بناء پر خاموش نہیں رہ سکیں گے۔ خبراً کی نصب تمیز کی بنا پر ہے جو فاعل سے منقول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : مصدر کی بنا پر ہے جو معنی میں متصل ہے۔ کیونکہ لم تحط کا معنی ہے لم تخبرہ گویا فرمایا : لم تخبرہ خبراً ، اسی کی طرف مجاہد نے اشارہ کیا ہے۔ خبیر بالأمور وہ ہوتا ہے جو امور کے بواطن کو جانتا ہو اور امور میں سے جن سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ستجدنی ان شآ اللہ صابراً یعنی اللہ تعالیٰ نے چاہا تو صبر کروں گا۔ ولا اعصی لک امرا میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ استشنا میں اختلاف ہے کیا ہے یہ ولا اعصی لک امرا کے قول کو شامل ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا : اس کو شامل ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذکرینن اللہ کثیراً ولذکرت (احزاب :35) بعض علماء نے فرمایا : صبر میں استشناء نہیں تھی کیونکہ صبر مستقل کا امر ہے۔ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں کیا حالت ہوگی اور معصیت کی نفی کا عزم کیا گیا تھا وہ فی الحال حاصل تھی، پس اس میں استشنا عزم کے منافی ہے۔ ان درمیان اس طرح فرق کرنا ممکن ہے کہ صبر ہمارے لیے مکتب نہیں ہے بخلاف معصیت کے کرنے اور اس کے ترک کرنے کے، کیونکہ یہ تمام ہمارے لیے مکتسب ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے کہ) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فا ان اتبعتی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدت لک منہ ذکرا یعنی حتی کہ میں خود تمہارے لیے اس کی تفسیر بیان کروں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے سنگت کے آداب سکھائے۔ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر کرتے تو عجیب چیزوں کو دیکھ لیتے، لیکن انہوں نے اعتراض کیا پس فراق اور اعراض متعین ہوگیا۔
Ayahs 18:71–72

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا (موسی نے) کہا کیا آپ نے اس کو اسلئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں ؟ یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانطلقا حتی اذ رکبا فی السفینۃ خرقھا اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ صحیح مسلم اور بخاری میں ہے (1) وہ دونوں دریا کے ساحل پر چلے ایک کشتی گزری تو انہوں نے سوار کرنے کے لیے ان سے بات کی تو کشتی والے حضرت خضر کو جان گئے تو انہوں نے بغیر کرائے کے سوار کر لیاجب کشتی میں دونوں سوار ہوتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اچانک دیکھا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ہتھوڑے کے ساتھ کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کو شگاف کردیا تاکہ اس کے سواروں کو ہلاک کردیں، آپ نے برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا : کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کرسکے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آپ مجھ پر گرفت نہ فرمائیں میری بھول کی وجہ سے اور نہ مجھ پر میرے اس معاملہ میں سختی کریں۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا سوال بھولنے کی وجہ سے تھا “ فرمایا : ایک چڑیا آئی وہ کشتی کے کنارے پر بیٹھی اور دریا سے ایک چونچ بھری، حضرت خضر نے کہا : میرا علم اور تیرا علم، علم الہی سے کمی نہیں کرتا مگر جتنا کہ اس دریا سے اس چڑیا نے کمی کی ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : حرف السفینۃ سے مراد اس کی طرف ہے ہر چیز کا حرف اس کا اطرفف ہوتا ہے (2) ، اسی سے حرف الجبل ہے پہاڑ کی چوٹی۔ اور یہاں علم بمعنی معلوم ہے جیسے فرمایا : ولا یحیطون بشیء من علمہ (بقرہ : 255) یعنی معلوماتہ۔ یہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے تمثیل بیان کی کہ میری معلومات اور تمہاری معلومات کا اللہ تعالیٰ کے علم پر کوئی اثر نہیں جیسا کہ چڑیا نے اس دریا سے جو پانی لیا اس کی اس دریا کے پانی سے کوئی نسبت نہیں۔ دریا سے مثال بیان فرمائی، کیونکہ یہ اکثر ہمارے مشاہدہ میں ہوتا ہے اور یہاں نقص (کمی) کے لفظ کا اطلاق مجازاً ہے اس سے تمثیل اور سمجھانا مقصود ہے کیونکہ اللہ کے علم میں کوئی نقص نہیں ہے اور اس کی معلومات کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس کا معنی امام بخاری نے واضح کیا ہے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرا علم اور تیرا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے نہیں ہے مگر جس طرح اس پرندے نے اپنی چونچ میں اس دریا سے پانی لیا ہے۔ تفسیر میں ابو العالیہ سے مروی ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی نے نہ دیکھا جب آپ نے کشتی کو شگاف کیا تھا تو وہ ایسے بندے تھے کہ اسے کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر جس کو اللہ دکھانا چاہتا تھا۔ اگر قوم انہیں دیکھتی تو وہ اسے شگاف کیا تھا وہ ایسے بندے تھے کہ اسے کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر جس کو اللہ دکھانا چاہتا تھا۔ اگر قوم انہیں دیکھتی تو وہ اسے کشتی کو شگاف لگانے سے منع کرتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اہل سفینہ جزیرہ کی طرف نکلے اور حضرت خضر (علیہ السلام) پیچھے موجود تھے تو انہوں نے کشتی کو شگاف کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو پھاڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) ایک طرف ہوگئے اور دل میں سوچا کہ میں اس شخص کی سنگت نہیں کروں گا، میں بنی اسرائیل میں کتاب اللہ کی صبح و شام تللاوت کرتا ہوں اور وہ میری اطاعت کرتے ہیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بتائوں جو تم دل میں سوچ رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہاں۔ حضرت خضر علیہ السللام نے کہا : تم ایسا ایسا خیالل کر رہے ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ہے، یہ ثعلبی نے کتاب (العرائس) میں ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ کشتی کے شگاف کرنے میں دلیل ہے کہ ولی کے لیے جائز ہے کہ وہ یتیم کے مال میں کمی کر دے جب وہ اس میں بھلائی اور اصلاح دیکھے مثلاً اس کے مکان پر کسی ظالم کا خوف دیکھے تو اس کے بعض حصہ کو خراب کر دے۔ امام ابو یوسف نے کہا : ولی کے لیے جائز ہے کہ وہ یتیم کے بعض مال کے عوض بعض مال کے لیے سلطان سے معاملات کرے۔ حمزہ اور کسائی نے (لیقرق) یاء کے ساتھ اور اھلھا کو یغرق کے فاعل کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے۔ اور جمہور کی قرأت پر لتغرق میں لام مآل کے لیے ہوگا جیسے لیکون لھم عدوا حزنا (القصص : 8) میں لام عاقبت و مآل کے لیے ہے اور حمزہ کی قرأت پر لام کی ہے، لتغرقنی نہیں فرمایا کیونکہ ان پر فی الحالل دوسرے لوگوں پر شفقت غالب تھی اور ان کے حق کی رعایت کا خیال تھا۔ امراً کا معنی عجیب ہے، یہ قتبی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی منکر ہے، مجاہد نے بھی یہی کہا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الامر سے مراد بہت بڑی مصیبت ہے اور دلیل کے طور پر یہ شعر پڑھا ہے : قد لقی الاقران منی نکرا دا اھیۃ دھیاء ادا امراً اخفش نے کہا : کہا جاتا ہے امرامرہ یا مراً مرا جب شدت پیدا ہو جئے اسم الامر ہے۔
Ayah 18:73

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال لا تواخذنی بما نسیت اس کے معنی میں دو قول ہیں (i) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : یہ کلام کی معاریض سے ہے٭ (ii) دوسرا یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھول گئے تھے تو معذرت کی، اس میں دلیل ہے کہ نسیان مواخذہ کا مقتضی نہیں ہے، یہ تکلیف کے تحت داخل نہیں اس کے ساتھ طلاق وغیرہ کے احکام متعلق نہیں ہوتے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اگر دوسری مرتبہ بھی بھوء جائے تو معذرت کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانطلقا وقفہ حتی اذا لقیا علماً فقتلہ بخاری میں ہے یعلیٰ نے کہا سعید نے فرمایا : حضرت خضر (علیہ السلام) نے لڑکے پائے جو کھیل رہے تھے انہوں نے ایک کافر لڑکا پکڑا اور اسے لٹا دیا پھر اسے چھری سے ذبح کردیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : آپ نے ایک معصوم جان کو مار ڈالا ہے بغیر کسی نفس کے بدلے کے یعنی اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ بخاری و مسلم اور ترمذی ہے (1) پھر دونوں کشتی سے نکلے جب وہ ساحل پر چل رہے تھے تو اچانک حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکا دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے اس کے سر کو پکڑا اور تن سے جدا کردیا اور اسے قتل کردیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا : کیا آپ نے معصوم جان کو مار ڈالا ہے، بغیر کسی نفس کے بدلے کے، آپ نے بہت عجیب کام کیا ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا : کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھا تجھے کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟ فرمایا : یہ جملہ پہلے سے زیادہ سخت تھا، فرمایا : ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔ اگر میں آپ سے اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں آپ میری طرف سے معذور ہوں گے اور تفسیر میں ہے حضرت خضر (علیہ السلام) بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے، آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک لڑکے کو پکڑا ان لڑکوں میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہ تھا، پھر ایک پتھر لیا اور اس کے ساتھ اس کا سر کچل دیا اور اسے قتل کردیا۔ ابوالعالیہ نے کہا : اسے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا تھا اگر لوگ حضرت خضر (علیہ السلام) کو دیکھتے تو اس کے اور بچے کے درمیان حائل ہوجاتے۔ میں کہتا ہوں : ان تینوں احوال کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ یہ احتمال ہے کہ پہلے پتھر کے ساتھ سر کو کچلا ہو پھر اسے لٹا کر ذبح کیا ہو پھر اس کا سر تن سے جدا کردیا ہو۔ اللہ تعالیٰ حقیقت حال بہتر جانتا ہے۔ اور تیرے لیے وہ کافی ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔ جمہور علماء نے زاکیۃ الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ کو فیوں اور ابن عامر نے زکیۃ بغیر الف کے یاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : معنی ایک ہے، یہ کسائی نے کہا ہے، اور ثعلب نے کہا : الزکیۃ وہ ہوتا ہے جس نے گناہ کیا ہو اور پھر توبہ کی ہو۔
Ayahs 18:74–75

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ (راستہ میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اسے مار ڈالا (موسی نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا (یہ تو) آپ نے بری بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر) نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : غلما علماء کا غلام کے بارے میں اختلاف کیا ہے، کیا وہ بالغ تھا یا نہیں ؟ کلبی نے کہا : وہ بالغ تھا وہ دو شہروں کے درمیان ڈاکہ ڈالتا تھا اس کا باپ ان دو شہروں میں ایک شہر کے عظماء میں سے تھا اور اس کی ماں دوسرے شہر کے عظماء میں سے تھی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے پکڑا اور اسے گرا دیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ کلبی نے کہا : غلام کا نام شمعون تھا۔ ضحاک نے کہا : حیسون تھا۔ وہب نے کہا : اس کا باپ کا نام سل اس اور اس کی ماں کا نام رحمی تھا۔ سہیلی نے اس کے باپ کا نام زیر اور اس کی ماں کا نام سہوی حکایت کیا ہے۔ جمہور علماء نے کہا : وہ بالغ نہ تھا، اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : زاکۃ جس نے گناہ نہ کیا تھا، غلام کا لفظ بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ مردوں میں غلام اسے کہا جاتا ہے جو بالغ نہ ہو، اس کے مقابل عورتوں میں جاریۃ (لڑکی) ہوتی ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے قتل کیا کیونکہ آپ نے اپنے علم باطنی سے جان لیا تھا کہ وہ کافر ہے جیسا کہ حدیث صحیح ہے (2) ، اگر وہ بالغ ہوجاتا تو وہ اپنے والدین کو کفر پر مجببور کرتا، چھوٹے بچے کو قتل کرنا محال نہیں جب اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہو، اللہ تعالیٰ فعال بما یرید ہے۔ ہر چاہت پر قادر ہے اور کتاب (العرائس) میں ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا : اقتلت نفساً زکیۃ الایۃ تو حضرت خضر (علیہ السلام) غضبناک ہوگئے اور اس کے کندھے کو الگ کیا اس کا گوشت اس سے اتار دیا اس کے کندھے کی ہڈی پر لکھا ہوا تھا : کافر للا یومن من بب اللہ ابداً ۔ ” کافر ہے کبھی اللہ پر ایمان نہیں لائے گا “ پہلے قول والے علماء نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ عرب نوجوان پر غلام کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں۔ لیلی الاخلیلیۃ کا قول ہے : شفاھا من الداء العضا الذی بھا غلام اذا ھز القناۃ سقاھا صفوان نے حضرت حسان کو کہا تھا : تلق ذباب السیف عنی فاننی غلام اذا ھو جیت لست بشاعر خبر میں ہے : یہ غلام (لڑکا) زمین میں فساد پھیلاتا تھا اور اپنے والدین کے سامنے قسم اٹھاتا تھا کہ اس نے ایسا نہیں کیا ہے اور اس کے والدین اس قسم پر قسم اٹھاتے تھے اور اس کی اس شخص سے حفاظت کرتے تھے جو اسے پکڑنا چاہتا تھا۔ علماء نے کہا : بغیر نفس کا قول اس بات کا مقتضی ہے کہ اگر وہ کسی نفس کے بدلے میں قتل ہوتا تو کوئی حرج نہ ہوتی۔ یہ غلام کے بڑا ہونے پر دلیل ہے۔ اگر وہ بالغ نہ ہوتا تو اسے کسی نفس کے بدلے قتل کرنا بھی واجب نہ ہوتا، اس کا قتل کرنا جائز تھا کیونکہ بالغ اور گنہگار تھا۔ حضرت اببن عبب اس ؓ نے فرمایا : وہ نوجوان تھا ڈاکہ ڈالتا تھا۔ ابن جبیر کا خیال ہے کہ وہ مکلفین کی صفات سے ہیں غیر مکلف پر کفر کا اطلاق نہیں کیا جاتا مگر والدین کی تبع میں اور اس غلام کے والدین مومن تھے، جسکی دلیل نص قرانی ہے اور اس پر کافر کے اسم کا اطلاق بلوغت کی وجہ سے ہی تھا، پس اس کا کافر ہونا متعین ہوجاتا ہے۔ الغلام، الاغتلام سے ہے جس کا معنی بہت زیادہ شہوت والا ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نکراً علما کا اختلاف ہے کہ نراً ابلغ ہے یا امرا۔ ایک جماعت نے کہا : یہ قتل واضح ہے اور کشتی والوں کے ڈبونے کا انتظار تھا پس نکرا زیادہ بلیغ ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ ایک شخص کا قتل ہے اور وہ پوری جماعت کا قتل ہے۔ پس امراً زیادہ بلیغ ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک دونوں میں مختلف معانی ہیں۔ امراً… ایک بہت بڑی ہولناکی ظاہر کر رہا ہے جو متوقع ہے اور نکراً ۔ فساد میں واضح ہے کیونکہ ظاہراً ایک ناپسندیدہ کام واقع ہوچکا ہے۔ اور یہ واضح ہے۔
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر میں نے اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی یہ شرط ہے اور وہ لازم ہے۔ مسلمانوں کے معاملات ان کی شرائط کے مطابق ہوتے ہیں اور جو شرائط پوری کرنے کے زیادہ حقدار ہیں وہ وہ ہیں جن کو انباء لازم کرتے ہیں اور جو انبیاء کے لئے لازم کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد بلت من لدنی عذرا پہلی مرتبہ کچھ ہوجائے تو مطلقاً عذر خواہی کے قیام پر دلیل ہے اور دوسری مرتبہ قطعی طور پر حجت کے قیام پر دلیل ہے، یہ ابن عربی نے کہا : ابن عطیہ نے کہا ہو سکتا ہے (1) کہ قصہ احکام میں مدتوں کی اصل ہو اور وہ مدت تین دن ہے اور تین دن ہی سے احکام مختلف ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تصحبنی۔ جمہور نے اسی طرح پڑھا ہے، یعنی آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ اعرج نے تمحبنی تاء اور باء کے فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور تصحبنی بھی پڑھا گیا ہے۔ یعقوب نے تصحبنی تاء کے ضمہ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، سہل نے اس کو ابو عمرو سے روایت کیا ہے۔ کسائی نے کہا : اس کا معنی ہے تو مجھے نہ چھوڑ کہ میں تیری سنگت اختیار کروں۔ قد بلغت من لدنی عذرا تو میری سنگت چھوڑنے پر معذوری پر پہنچ جائے گا۔ جمہور علماء نے من لدنی وال کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، مگر نافع اور عاصم نے نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اصل میں لدن ہے اس کے ساتھ یاء متکلم متصل ہوئی جو غلامی اور فرسی میں ہوتی ہے یاء کے ماقبل کو کسرہ دیا گیا جس طرح غلامی اور فرسی میں دیا گیا۔ ابوبکر عاصم نے لدنی لام کے فتحہ اور دالل کے سکون اور نون کی تخفیف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ عاصم سے لدنی لام کے ضمہ اور دال کے سکون کے ساتھ مروی ہے۔ ابن مجاہد نے کہا : یہ غلط ہے۔ ابو علی نے کہا : یہ تغلیط روایت کی جہت سے ہونے کے مشابہ ہے رہا عربیت کے قیاس کی بنا پر تو یہ صحیح ہے۔ جمہور نے عذراً پڑھا ہے۔ عیسیٰ نے عذراً ذال کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دانی نے حکایت کیا ہے کہ حضرت ابی نے نبی کریم ﷺ سے ” عذری “ راء کے کسرہ اور اس کے بعد یائء کے ساتھ روایت کیا ہے۔ مسئلہ : طبری نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے (1) فرمایا : نبی پاک ﷺ جب کسی کے لیے دعا کرتے تو پہلے اپنا ذکر کرتے ایک روایت میں فرمایا : ” رحمۃ اللہ علینا وعلی موسیٰ “ اگر وہ اپنے ساتھی کے ساتھ صبر کرتے تو عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے کہا : ” فلا تصحبنی ج قد بلغت من لدنی عذرا۔ اور صحیح مسلم میں ہے (2) نبی پاک ﷺ نے فرمایا : رحمۃ اللہ علینا وعلی موسیٰ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جلدی نہ کرتے تو عجیب باتیں دیکھتے لیکن انہیں اپنے ساتھی کی طرف سے عار نے آلیا اگر وہ صبر کرتے تو عجیب چیزیں دیکھتے “ فرمایا : جب آپ کسی نبی کا ذکر کرتے تو پہلے اپنا ذکر کرتے، آپ فرماتے : ” رحمۃ اللہ علینا وعلی اخی کذا “۔ اور بخاری میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ( 3) فرمایا : ” یرحم اللہ موسیٰ لوددنا أنہ صبر حتی یقص علینا من امرھما “۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ہماری خواہش تھی کہ آپ صبر کرتے تاکہ ہم پر ان کے معاملات بیان کئے جاتے۔ مسلم کی حدیث میں ذمامۃ کا لفظ آیا ہے، یہ المذمۃ (ذال کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ) کے معنی میں ہے جس کا معنی ہے حرمت کے ترک پر عار اور رقت محسوس کرنا۔ کہا جاتا ہے : اخذتنی منک مذمۃ ومذمۃ وذمامۃ۔ گویا وہ مخالفت کے تکرار سے شرم محسوس کرنے لگے اور انکار کی تغلیظ کی جوان سے صادر ہوئی اس پر رقت محسوس کرنے لگے۔