18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 18:32–34

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کیے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (انکی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جبکہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

آیت نمبر 32 تا 34 قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثلا رجلین یہ مثال ہے اس آدمی کیلئے جو دنیا کے ساتھ عزت حاصل کرتا ہے اور مومنین کے ساتھ بیٹھنا ناپسند کرتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واصبر نفسک کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان دونوں آدمیوں کے نام اور ان کی تعیین میں اختلاف ہے، پس کلبی (رح) نے کہا ہے : یہ اہل مکہ میں سے دو مخزومی بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان میں سے ایک مومن تھا اور وہ حضرت ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھے۔ ام سلمہ کے خاوند نے حضور نبی مکرم ﷺ کی رسالت کو قبول کرلیا تھا۔ اور دوسرا کافر تھا اور وہ اسود بن عبد الاسد تھا، ان دونوں بھائیوں کا ذکر سورة الصافات میں اس قول باری تعالیٰ قال قائل منھم انی کان لی قرین۔ (الصافات) کے تحت کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک کو چار ہزار دینار وارثت میں ملے تھے، پس ان میں سے ایک نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردیا اور اس نے اپنے بھائی سے کسی شے کا مطالبہ کیا تو پھر اس نے کہا جو کہا۔۔۔۔ ؟ اسے ثعلبی اور قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضور نبی مکرم ﷺ اور اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے والے تمام لوگوں اور کفر کرنے والے تمام لوگوں کی مثال ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ عینیہ بن حصن اور اس کے ساتھیوں کی حضرت سلمان، حضرت صہیب اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مثال کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے وہ دونوں بھائی تھے ان میں سے ایک مومن تھا اور اس کا نام یہوذا تھا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ہے۔ اور حضرت مقاتل نے کہا ہے : اس کا نام تملیخا تھا، اور دوسرا کافر تھا اور اس کا نام طوش تھا۔ اور یہی وہ دونوں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورة الصافات میں بیان کیا ہے۔ اور اسی طرح محمد بن حسن مقری نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے : ان دونوں میں سے جو نیک اور اچھا تھا اس کا نام تملیخا، اور دوسرے کا نام قرطوش تھا، اور یہ دونوں شریک تھے پھر انہوں نے مال تقسیم کرلیا تو ہر ایک حصہ میں تین ہزار دینا آئے، پس ان میں سے مومن نے ایک ہزار کے غلام خریدے اور انہیں آزاد کردیا، اور دوسرے ہزار کے عوض کپڑے خریدے اور ننگوں کو پہنا دئیے۔ اور تیسرے ہزار کے عوض طعام خریدا اور بھوکوں کو کھلا دیا، اور مساجد بھی بنائیں اور نیکی اور خیر کا عمل کیا۔ اور رہا دوسرا تو اس نے اپنے مال کے عوض خوشحال اور مالدار عورتوں سے نکاح کیا اور چوپائے اور گائیں وغیرہ خیریدیں اور ان سے ان کے بچے حاصل کئے تو اس طرح ان میں اس کے لئے خوب اضافہ ہوگیا، اور باقی ماندہ مال کے ساتھ اس نے تجارت کی اور اس سے نفع حاصل کیا یہاں تک کہ مال و دولت میں اپنے ہمعصروں سے سبقت لے گیا۔ اور پہلے آدمی کو کوئی حاجت پیش آگئی، تو اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو کسی باغ میں خدمت کیلئے خدمت پر دے دے کہ وہ اس کی خدمت کرتا رہے گا۔ تو اس نے کہا : اگر میں اپنے شریک اور اپنے ساتھی کے پاس جاؤں اور اس سے پوچھوں کہ وہ مجھے اپنے کسی باغ میں خدمت کیلئے اجرت پر رکھ لے تو مجھے امید ہے کہ وہ میرے لئے زیادہ نفع بخش اور مفید ہوگا، چناچہ وہ اس کے پاس آیا تو موٹے پردوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے وہ اس تک نہ پہنچ سکا، لیکن جب وہ اس پر داخل ہوا اور اسے پہچانا اور اپنی حاجت اور ضرورت کا اس کے سامنے ذکر کیا تو اس نے اسے کہا : کیا میں نے تجھے مال نصف نصف کرکے دے نہیں دیا تھا، تو تو نے اپنے مال کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا : میں نے اس کے عوض اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ خرید لیا ہے جو اس سے بہتر اور اچھا ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ تو اس نے کہا : کیا تو یقینی تصدیق کرنے والوں میں سے ہے، میں خیال نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور میں تجھے تو فقط احمق اور بیوقوف دیکھ رہا ہوں، اور میرے پاس تیری سفاہت اور بےوقوفی کی جزا سوائے محرومی اور پشیمانی کے اور کچھ نہیں، کیا تو دیکھتا نہیں جو کام میں نے اپنے مال کے ساتھ کیا یہاں تک کہ میں اس خوشحالی اور دولتمندی تک پہنچ گیا ہوں جو تو دیکھ رہا ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ میں نے کمایا اور تو نے بےوقوفی کی تو میرے پاس سے نکل جا۔ پھر اس غنا اور دولتمندی کے قصہ میں سے وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے کہ پھل کا احاطہ کیا اور اسے بالکل تباہ کردیا اس عذاب کے ساتھ جو آسمان سے اس پر بھیجا گیا۔ اور ثعلبی نے یہ قصہ دوسرے لفظوں میں ذکر کیا ہے، اور معنوی اعتبار سے یہ دونوں قریب قریب ہیں۔ حضرت عطا نے بیان کیا ہے : وہ دونوں شریک تھے اور ان کے آٹھ ہزار دینار تھے۔ اور کہا گیا ہے : وہ دونوں اپنے باپ کی طرف سے اس کے وارث بنے تھے اور وہ دونوں بھائی تھے اور انہوں نے اسے تقسیم کرلیا، تو ان میں سے ایک نے ایک ہزار کے بدلے زمین خریدلی، تو اس کے ساتھ نے کہا : اے اللہ ! بیشک فلاں نے ایک ہزار دینار کے عوض زمین خریدی ہے اور میں تجھ سے ایک ہزار دینار کے عوض جنت میں زمین خریدتا ہوں پس اس نے وہ صدقہ کر دئیے، پھر اس نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی اور اس پر ایک ہزار دینار خرچ کئے، تو اسنے کہا : اے اللہ ! بیشک فلاں نے ایک ہزار دینار کے عوض ایک عورت سے شادی کی ہے اور میں تجھ سے ایک ہزار کے عوض جنت کی عورتوں کا رشتہ طلب کرت اہوں، اور پھر ایک ہزار دینار صدقہ کر دئیے، پھر اس نے ایک ہزار دینار کے بدلے خدام اور سازو سامان خریدا ہے، اور میں تجھ سے ایک ہزار دینار کے عوض جنت کا سازوسامان اور خادم خریدتا ہوں، چناچہ ایک ہزار دینار صدقہ کر دئیے۔ پھر اسے کوئی شدید حاجت پیش آگئی تو اس نے اسے سارے واقعہ کی خبر دی تو اس نے کہا : بلاشبہ تو تصدیق کرنے والوں میں سے ہے اس بات کے بارے، قسم بخداً میں تجھے کوئی شے نہ دوں گا۔ پھر اس نے اسے کہا : تو آسمان والے خدا کی عبادت کرتا ہے، اور میں صرف بت کی پرستش کرتا ہوں، تو اس کے ساتھ نے کہا : قسم بخدا ! میں یقیناً اسے نصیحت کروں گا، پس اس نے وعظ و نصیحت کی، اور اسے یاد دلایا اور اسے خوفزدہ کیا۔ تو اس نے کہا : ہمارے ساتھ چل ہم مچھلی کا شکار کریں گے۔ پس جس نے زیادہ پکڑ لیں تو وہ حق پر ہوگا، تو اس نے اسے کہا : اے میرے بھائی ! بیشک دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت حقیر ہے اس سے کہ وہ اسے نیکی اور احسان کرنے والے کے لئے اجر وثواب بنائے یا کافر کے لئے سزا۔ اس نے کہا : تو میں اس کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ابتلا میں ڈال دیا، پس کافر اپنا جال پھینکتا ہے اور ساتھ اپنے بت کا نام لیتا ہے۔ تو اس میں اچھلتی کودتی مچھلیاں آجاتی ہیں، اور مومن اپنا جال پھینکتا ہے اور اس پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو اس کیلئے اس میں کوئی شے نہیں آتی، تو اس نے اس کو کہا : تو دیکھ رہا ہے ! میں دنیا میں اپنے حصہ، مرتبہ اور افرادی قوت کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ ہوں، اسی طرح میں آخرت میں بھی تجھ سے افضل ہوں گا۔ اگر جو تو کہہ رہا ہے تیرے خیال کے مطابق وہ حق ہے، پس وہ فرشتہ جو ان دونوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا اس نے شور مچایا، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اسے پکڑ لے اور اسے جنتوں کی طرف لے جائے اور اس میں اسے مومن کے مراتب اور گھر دکھائے پس جب اس نے دیکھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار کیا ہے تو اس نے کہا : تیری عزت کی قسم ! اسے کوئی نقصان نہیں دے گا جو کچھ اس نے دنیا میں پالیا ہے اس کے بعد کہ اس کا انجام اور ٹھکانہ یہ ہے، اور اس نے اسے جہنم میں کافر کی منازل بھی دکھائیں تو اس نے کہا : تیری عزت کی قسم ! اسے کوئی نفع نہیں دے گا جو کچھ دنیا میں اسے حاصل ہوا ہے اس کے بعد کہ اس کا ٹھکانہ یہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومن کو موت دے دی اور کافر کو اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا، پس جب مومن نے جنت میں اقامت اور ٹھکانا حاصل کرلیا اور وہ کچھ دیکھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے تیار کیا تھا تو وہ اس کے ساتھی ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔ بس فرمایا : ان کان لی قرین۔ یقول ائنک لمن المصدقین۔ الآیہ۔ (الصافات) (کہ میرا ایک جگری دوست ہوا کرتا تھا وہ (مجھے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت پر) ایمان لانے والوں سے ہے) ۔ تو ایک ندادینے والے نے ندادی : اے اہل جنت ! کیا تم جھانک رہے ہو پس وہ جہنم کی طرف جھانکا اور اسے سواء الجحیم میں دیکھ لیا، پس یہ آیت نازل ہوئی : واضرب لھم مثلا الآیہ (اور بیان فرمائیے ان کے لئے مثال) ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو بھائیوں کا حال اس سورت میں بیان کیا، اور آخرت میں دو کا حال سورة الصافات میں اپنے اس قول میں بیان کیا : انی کان لی۔۔۔۔۔۔ المصدقین۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔ فلیعمل العملون۔ (الصافات) ابن عطیہ نے کہا ہے : اور ابراہیم بن قاسم الکاتب نے اپنی کتاب فی عجائب البلاد میں ذکر کیا ہے کہ بحیرہ تنیس یہ دو باغ تھے، اور یہ دو بھائیوں کے تھے تو ان میں سے ایک نے اپنا حصہ دوسرے کو بیچ دیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اسے خرچ کردیا یہاں تک کہ دوسرے نے اسے عار دلائی، اور ان دونوں کے درمیان گفتگو چلتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں اسے غرق اور تباہ کردیا، اور وہی اس آیت سے مراد لیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے : بیشک یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے بیان فرمائی ہے، یہ کسی سابقہ حالت کی خبر نہیں ہے، اور اسے زجرو توبیخ اور ڈراوا بنایا ہے ؛ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے، لیکن سیاق آیت اس کے خلاف پر دلالت کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : وحفضھما بنخل یعنی ہم نے ان دونوں کو اطراف سے کھجور کے درختوں کے ساتھ گھیر دیا ہے اور الحفاف کا معنی طرف اور جانب ہے۔ اور اس کی جمع أحفۃ ہے ؛ اور کہا جاتا ہے : حف القوم بفلان یحفون حفا، یعنی انہوں نے اسے گھیر لیا۔ اور اسی سے حآفین من حول العرش (الزمر : 75) (حلقہ باندھے کھڑے ہوں گے عرش کے اردگرد) ہے۔ وجعلنا بینھما زرعا یعنی ہم نے انگوروں کے اردگرد کھجور کے درخت اگا دئیے، اور انگوروں کے درمیان میں کھیتی اگادی۔ کلما الجنتین یعنی دونوں باغوں میں سے ہر ایک اتت اکلھا مکمل پھل لایا، اسی لئے آتتا نہیں کہا۔ اور لفظ کلتا اور کلا میں اختلاف ہے کیا یہ مفرد ہیں یا تثنیہ ؟ پس اہل بصرہ نے کہا ہے : یہ مفرد ہیں، کیونکہ کلا اور کلتا دونوں تثنیہ کی تاکید کے لئے ہیں جیسا کہ جمع میں تاکید کے لئے کل ہے اور یہ اسم مفرد ہے تثنیہ نہیں ہے، پس جب اس کے بعد اسم ظاہر ہو تو حالت رفعی، نصبی اور جری میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے۔ تو کہتا ہے : رأیت کلا الرجلین وجاء فی کلا الرجلین اور مررت بکلا الرجلین اور جب اس کے ساتح ضمیر متصل ہو تو حالت نصبی اور جری میں الف کو یا سے بدل دیا جاتا ہے، جیسے تو کہتا ہے : رأیت کلیھما اور مررت بکلیھما، جیسے تو علیھما کہتا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : یہ اسم تثنیہ ہے، اور یہ کل سے ماخوذ ہے پس لام کو مخفف کیا گیا اور الف تثنیہ کا اضافہ کردیا گیا۔ اور اسی طرح کلتا مونث کیلئے آتا ہے، اور یہ دونوں استعمال نہیں ہوتے مگر مضاف کر اور واحد کے ساتھ کلام نہیں کی جاتی، اور اگر اس کے ساتھ کلام کی جائے تو کہا جائے گا : کل وکلت اور کلان وکلتان۔ اور شاعر کے اس قول سے استدلال کیا گیا ہے : فی کلت رجلیھا سلامی واحدہ کلتاھما مقرونۃ بزائدہ اس میں شاعر نے اس کے دو پاؤں میں سے ایک کا ارادہ کیا ہے پس اسے مفرد ذکر کیا ہے۔ اور اہل بصرہ کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے، کیونکہ اگر یہ تثنیہ ہوتا تو پھر یہ واجب تھا کہ اس کا الف حالت نصبی اور جری میں اسم ظاہر کے ساتھ یا ہوجاتا، اور اس لئے بھی کہ کلا کا معنی کل کے معنی کے خلاف ہے کیونکہ کل احاطہ کے لئے آتا ہے اور کلا مخصوص شے پر دلالت کرت ا ہے، اور رہا یہ شاعر تو اس نے ضرورت شعری کے تحت الف کا حذف کردیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ زائدہ ہے، اور جو چیز ضرورت کے تحت ہوتی ہے اس کو حجت بنانا جائز نہیں ہوتا، پس یہ ثابت ہوگیا کہ یہ اسم مفرد ہے جیسا کہ کمعی مگر اسے وضع کیا گیا ہے کہ یہ تثنیہ پر دلالت کرے، جیسا کہ ان کا قول نحن اسم مفرد ہے لیکن دو اور اس سے زیادہ پر دلالت کرتا ہے۔ اس پر جریر کا قول دلالت کرتا ہے کلا یومی أمامۃ یوم صد وإن لم نأتھا إلا لماھا پس کلا سے مفرد یوم کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول : آتت کے ساتھ مفرد کی خبر دی ہے اور اگر تثنیہ ہوتا تو کہتا آتتا، ویوما اور کلتا کے الف کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ پس سیبویہ نے کہا ہے : کلتا کا الف تانیث کے لئے ہے اور تافعل کے لام کلمہ کا بدل ہے اور وہ واو ہے اور یہ اصل میں کلوا ہے، بیشک واؤ کو تا سے بدل دیا گیا ہے کیونکہ تا میں تانیث کی علامت ہے، اور کلتا میں الف مضمر کے ساتھ ملنے سے یا ہوجاتا ہے پس وہ تانیث کی علامت سے نکل جاتا ہے، پس واؤ کو تا سے بدلنے میں تانیث کے لئے تاکید ہوگئی، اور ابو عمرو الجرمی نے کہا ہے : اس میں تا ملحق ہے اور الف لام الفعل ہے، اور ان کے نزدیک اس کی تقدیر فعتل ہے، اگر معاملہ اس طرح ہو جیسے انہوں نے گمان کیا ہے تو پھر وہ اس کی نسبت میں کلتوی کہتے، اور جب انہوں نے کلوی کہا اور تا کو ساقط کردیا تو یہ اس پر دلیل ہے کہ انہوں نے اسے اس تا کے قائم معام قرار دیا ہے جو أخت میں ہے جب تو اس کی طرف نسبت کرتا ہے تو کہتا ہے أخوی، اسے جوہری نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا ہے : اور نحویوں نے قرآن کے علاوہ میں معنی پر محمول کرتے ہوئے اس کی اجازت دی ہے کہ تو کہے : کلتا الجنتین آتتا اکلھما، کیونکہ معنی مختار کلتا ھما آتتا ہے۔ اور فراء نے کلتا الجنتین آتی اکلہ کہنا بھی جائز قرار دیا ہے، انہوں نے کہا ہے : کیونکہ اس کا معنی کل الجنتین (دو باغوں میں سے ہر ایک) ہے۔ اور کہا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرأت میں کل الجنتین آتی أکلہ ہے۔ (دو باغوں میں سے ہر ایک اپنا پھل لایا) اس بنا پر فراء کے نزدیک اس کا معنی ہے : کل شئ من الجنتین آتی أکلہ۔ (دو باغوں میں سے ہر شے اپنا پھل لائی) اور الأکل (ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ) سے مراد کھجور کے درخت اور دیگر درختوں کا پھل ہے۔ اور ہر وہ شے جو کھائی جاتی ہے وہی أکل ہے، اور اسی معنی میں یہ قول باری تعالیٰ ہے : أکلھا دائم (جنت کے پھل دائمی ہیں) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ولم تظلم منہ شیئا یعنی اس سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی۔ قولہ تعالیٰ : وفجرنا خللہا نھرا یعنی ہم نے دونوں باغوں کے درمیان کو شق کیا اور نہر جاری کردی وکان لہ ثمر ابو جعفر، شیبہ، عاصم، یعقوب اور ابن ابی اسحاق نے ثمرثا اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : واحیط بثمرہ یہ ثمرۃ کی جمع ہے۔ جوہری نے کہا ہے : الثمرۃ، الثمر اور الثمرات کی واحد ہے، اور الثمر کی جمع ثمار ہے جیسا کہ جبل کی جمع جبال ہے۔ فراء نے کہا ہے : ثمار کی جمع ثمر ہے ؛ جیسا کہ کتاب کی جمع کتب ہے، اور الثمر کی جمع أثمار ہے مثلاً عنق کی جمع اعناق ہے۔ اور الثمر سے مراد المال الثمر (نفع بخش مال) بھی ہے اس میں میم مخفف اور مستقل دونوں طرح ہے۔ اور ابو عمر و نے کان لہ ثمرثا کو ضمہ اور میم کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس کی تفسیر انواع المال (طرح طرح کا مال) کی ہے۔ اور باقیوں نے دونوں حرفوں کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : مراد سونا، چاندی اور دیگر اموال ہیں، سورة الانعام میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اور بحاس نے ذکر کیا ہے : احمد بن شعیب نے ہمیں بیان کیا ہے انہوں نے کہا ہمیں عمران بن بکار نے خبر دیا ہے انہوں نے کہا ہمیں ابراہیم بن علاء زبیری نے بیان کیا ہے انہوں نے کہا ہمیں شعیب بن اسحاق نے بیان کیا ہے انہوں نے کہا (ہمیں خبر دی ہے) ہارون نے انہوں نے کہا مجھے أبان نے ثعلب سے انہوں نے اعمش سے بیان کیا ہے کہ حجاج نے کہا ہے : اگر تو کسی کو وکان لہ ثمر پڑھتے ہوئے سنے تو تو اس کی زبان کاٹ دے، تو میں اعمش کو کہا : کیا تو اسے پکڑ سکتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ولا نعمۃ عین (اور آنکھ جیسی کوئی نعمت نہیں ہے) اور وہ ثمر پڑھتے تھے اور اسے الثمر کی جمع بناتے تھے۔ نحاس نے کہا ہے : پس اس قول کی بنا پر تقدیر یہ ہے کہ یہ ثمرۃ کی جمع ثمار ہے، اور پھر ثمار کی جمع ثمر ہے اور عربی میں یہی احسن ہے مگر پہلا قول زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ واللہ اعلم کیونکہ قول باری تعالیٰ : کلتا الجنتین اتت اکلھا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اس کا پھل ہے۔ قولہ تعالیٰ : فقال لصاحبہ وھو یجاورہ یعنی وہ اس کے ساتھ کلام میں سوال و جواب کرنے لگا۔ (بحث و مباحثہ کرنے لگا) اور المحاورۃ بمعنی المجاوبۃ (ایک دوسرے کو جواب دینا) ہے اور التحاور بمعنی التجاوب (باہم گفتگو کرنا) ہے، اور کہا جاتا ہے : کلمتہ فما أحار إلی جوابا، وما زجع ألی حویرا ولا حویرۃ ولا محورۃ ولا حوارا ؛ یعنی میں نے اس کے ساتھ کلام کی اور اس نے کوئی جواب نہ لوٹایا۔ ان اکثر منک مالا واعذ نفرا، المنفر سے مراد وہ جماعت ہے جو دس سے کم ہو۔ اور یہاں اس سے مراد اتباع کرنے والے خفام اور بچے ہیں، جیسا کہ اس کا بیان پہلے گزفر چکا ہے۔
Ayahs 18:35–36

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایسی شیخیوں سے) اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

آیت نمبر 35 تا 36 قولہ تعالیٰ : ودخل جنتہ کہا گیا ہے : اس نے اپنے مومن بھائی کا ہاتھ پکڑا اور اسے باغ میں گھمانے لگا اور اسے وہ دکھانے لگا۔ وھو ظالم لنفسہ درآنحالیکہ وہ اپنے کفر کے سبب اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، اور یہ جملہ حال کے محل میں ہے۔ اور جس نے اپنے آپ کو کفر کے سبب جہنم میں ڈال دیا تو وہ اپنے ساتھ ظلم کرنے وال ہی ہے۔ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا یعنی اس نے دار (باغ) کے فناہ ہونے کا انکار کیا : وما اظن الساعۃ قآئمۃ یعنی میں خیال نہیں کرتا کہ کبھی بعث یعنی دوبارہ زندہ کیا جانا بھی ہوگا۔ ولئن رددت الی ربی یعنی اگر دوبارہ زندہ کیا گیا تو جس طرح اس نے مجھے دنیا میں یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں تو وہ مجھے میری عزت افزائی کے لئے اس سے افضل اور بہتر نعمتیں عطا فرمائے گا ؛ اور قول باری تعالیٰ : لا جدن خیرا منھا منقلبا کا یہی معنی ہے۔ اس نے یہ اس وقت کہا جب اس کے بھائی نے اسے حشر و نشر پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ اور مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور شام کے مصاحف میں منھما ہے۔ اور اہل بصرہ و کوفہ کے مصاحف میں منھا واحد ہونے کی بنا پر ہے، لیکن تثنیہ اولیٰ اور بہتر ہے، کیونکہ ضمیر جنتین کے قریب تر ہے۔
Ayahs 18:37–38

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

آیت نمب 37 تا 38 قولہ تعالیٰ : قال لہ صاحبہ یعنی اس کے ساتھی یہوذا یا تملیخا نے کہا : یہ اس کے نام میں اختلاف ہونے کی وجہ سے ہے۔ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من لطفۃ ثم سوک رجلا یعنی اس نے اسے نصیحت کی اور اس کے لئے وضاحت کی کہ ان چیزوں میں سے جن کا اس نے اعتراف کیا ہوا ہے یہ وہ ہیں جن کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ یہ اعادہ کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ ہیں۔ اور سوک رجلا یعنی اس نے تجھے معتدل قدوقامت والا، معتدل مخلوق، اور صحیح الاعضاء مرد بنایا ہے۔ لکنا ھو اللہ ربی اسی طرح اسے ابو عبد الرحمن سلمی اور ابو العالیہ نے پڑھا ہے اور کسائی سے روایت کیا گیا ہے لکن ھو اللہ بمعنی لکن الامر ھو اللہ ربی (لیکن معاملہ یہ ہے وہ اللہ ہی میرا رب ہے) ۔ پس لکن کا اسم میں مضمر ہے۔ اور باقیوں نے لکنا الف کو ثابت رکھ کر پڑھا ہے۔ کسائی نے کہا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت ہے لکن اللہ ھو ربی انا، (لیکن اللہ وہی میرا رب ہے) تو اس میں أنا سے کثرت استعمال اور تخفیف کیلئے ہمزہ حذف کردیا گیا اور دو نونوں میں سے ایک کو دوسری میں ادغام کردیا۔ اور أنا کے الف کو حالت وصل میں حذف کردیا گیا اور حالت وقف میں ثابت رکھا گیا۔ اور نحاس نے کہا ہے : کسائی، فراء اور مازنی کا مذہب یہ ہے کہ یہ اصل میں لکن أنا ہے پس ہمزہ کی حرکت لکن کی نون کو دے دی گئی اور ہمزرہ کو حذف کردیا گیا اور نون کو نون میں ادغام کردیا گیا پس وقف اس پر ہے لکنا اور یہ الف حرکت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ اور ابو عبید نے کہا ہے : اصل میں لکن أنا ہے، پس الف کو حذف کردیا گیا اور دو نونیں مل گئیں اس لئے اسے تشدید کے ساتھ پڑھا گیا۔ اور کسائی نے ہمیں یہ شعر بھی بیان کیا ہے : لھنک من عبسیۃ لوسیۃ علی ھنوات کاذب من یقولھا ارادہ یہ کیا : للہ انک (لوسیمۃ) ، پس للہ سے دو لاموں میں سے ایک کو ساقط کردیا اور انک سے الف کو حذف کردیا۔ اور ایک دوسرے نے کہا ہے اور اس نے اسے اصل کے مطابق ذکر کیا ہے : وترمیننی بالطرف ای أنت مذنب وتقلیننی لکن ایاک لا اقلی ای لکن أنا۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے اور انہوں نے عاصم سے روایت کیا ہے : لکنا ھو اللہ ربی اور گمان کیا ہے کہ یہ لحن (غلطی) ہے، یعنی درج کلام میں الف کو ثابت رکھنا۔ زجاج نے کہا ہے : درج کلام میں لکنا ھو اللہ ربی میں الف کو ثابت رکھنا جید اور عمدہ ہے، کیونکہ کبھی انا سے الف کو حذف کردیا جاتا ہے پس وہ اسے بطور عوض لائے ہیں۔ فرمایا : اور حضرت ابی کی قرأت میں لکن أنا ھو اللہ ربی ہے۔ اور ابن عامر اور مسیلی نے نافع اور رویس سے اور انہوں نے یعقوب سے لکنا حالت وقف اور حالت وصل دونوں میں ثبات الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور شاعر کا قول ہے : أنا سیف العشیرۃ فاعرفونی حمیدا قد تذریت السناما اور اعشی نے کہا ہے : فکیف أنا و انتحال القوانی بعد المشیب کفی ذاک عارا اور حالت وقف میں الف کا ثابت رکھنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ھو اللہ ربی، ھو ضمیر قصہ اور شان اور امر ہے، جیسا کہ قول باری تعالیٰ ہے : فاذا ھی۔۔۔۔۔۔ کفروا (الانبیاء : 97) اور قول باری تعالیٰ ہے : قل ھو اللہ احد۔ (الاخلاص) (ان میں ھی اور ھو ضمیر قصہ و شان ہیں) ولا اشرک بربی احد اس کا مفہوم اس پر دلیل ہے کہ دوسرا بھائی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اشتراک کرتا تھا اور کسی اور کی عبادت کرتا تھا۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے اس سے یہ ارادہ کیا ہو کہ میں غن اور فقر کو نہیں دیکھتا مگر اسی کی طرف سے، اور میں یہ جانتا ہوں کہ اگر وہ کسی دنیا دار کی دنیا کو سلب کرنا چاہے تو وہ اس پر قادر ہے اور وہی ہے جس نے مجھے فقر و افلاس دیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ ارادہ کیا ہو کہ تیرے دوبارہ زندہ کئے جانے کے انکار کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قدرت نہیں رکھتا، اور یہ رب سبحانہ و تعالیٰ کو عاجز قرار دیتا ہے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کو عاجز قرار دیا تو اس نے اسے مخلوق کے مشابہ قرار دیا، تو یہی شرک کرنا ہے۔
Ayahs 18:39–41

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا ؟ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو

آیت نمبر 39 تا 41 قولہ تعالیٰ : ولولا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولو لا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ یعنی تو دل کے ساتھ (باغ میں داخل ہوتے وقت یہ الفاظ کہتا : ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ) ، اور یہ مومن کی جانب سے کافر کو جھڑک بھی ہے اور نصیحت بھی اور اس کے اس قول کا رد بھی ہے کہ جب اس نے کہا : ما اظن ان تبید ھذہ ابدا (میں یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد بھی ہوگا) اور ” ما “ محل رفع میں ہے۔ تقدیر کلام ہے : ھذہ الجنۃ فی ما شاء اللہ (یہ باغ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہے) اور زجاج اور فراء نے کہا ہے : الأمر ما شاء اللہ، یا ھو ما شاء اللہ، یعنی امر اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا جواب مضمر ہے، یعنی ما شاء اللہ کان، وما لا یشاء لایکون۔ (یعنی جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور وہ جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا) ۔ لا قوۃ الا باللہ یعنی تیرے پاس جو مال بھی جمع ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قوت سے ہے نہ کہ تیری قدرت اور تیری قوت سے، اور اگر وہ چاہے تو اس سے برکت کھینچ لے تو پھر یہ جمع نہ ہو۔ مسئلہ نمبر 2: اشہب نے بیان کیا ہے کہ امام مالک (رح) نے کہا : ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت یہ کہے۔۔۔ اور ابن وہب نے کہا ہے : مجھے حفص بن میسرہ نے کہا ہے : میں نے وہب بن منبہ کے دروازہ پر یہ لکھا ہوا دیکھا ماشآء اللہ لاقوۃ الا باللہ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو فرمایا : ” کیا میں تیری ایک ایسے کلمہ پر راہنمائی نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے ،۔۔۔ یا فرمایا : جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے “۔ میں نے عرض کی : کیوں نہیں ہاں یا رسول اللہ ! ﷺ ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : لاحول ولا قوۃ الا باللہ جب کوئی آدمی یہ کہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے میرے بندے نے اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرلی ہے اور وہ تابعدار ہوگیا ہے “۔ اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابو موسیٰ ؓ کی حدیث سے ذکر کیا ہے۔ اور اس میں ہے کہ فرمایا : ” اے ابا موسیٰ ! یا اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تیری راہنمائی ایسے کلمہ پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔۔۔ “ میں نے عرص کی : وہ کیا ہے یا رسول اللہ ! ﷺ ؟ تو آپ نے فرمایا : لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اور آپ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ” کیا میں تیری راہنمائی ایسے کلمہ پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے یا جنت کے خزانوں میں سے ایک ہے “۔ میں نے عرض کی : کیوں نہیں (ضرور بتائیے) تو آپ ﷺ نے فرمایا : لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم اور روایت ہے کہ جو کوئی اپنے گھر میں داخل ہوا یا اس سے باہر نکلا اور اس نے یہ کہا : بسم اللہ ما شاء اللہ لا قوۃ الا باللہ تو شاطین اس سے اس کے سامنے سے بھاگ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر برکتیں نازل فرماتا ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا : جب آدمی اپنے گھر سے باہر نکلے تو کہے باسم اللہ تو فرشتہ کہتا ہے تیری راہنمائی کردی گئی، اور جب کہے ما شاء اللہ، تو فرشتہ کہتا ہے تجھے بےنیاز کردیا گیا، اور وہ کہے : ولا قوۃ الا باللہ تو فرشتہ کہا ہے : تو بچا لیا گیا، اسے ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کہا جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلا۔ بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ تو اسے کہا جاتا ہے : تجھے بےنیاز کردیا گیا اور تجھے بچا لیا گیا اور اس سے شیطان دور ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث غریب ہے میں اسے اس سند کے سوا نہیں جانتا۔ اسے ابو داؤد نے بھی ذکر کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے۔ پس اس کے لئے فرمایا : ” تیری راہنمائی کردی گئی، تجھے بےنیاز کردیا گیا اور تجھے بچا لیا گیا “۔ اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے ذکر کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جب آدمی اپنے گھر کے دروازے سے یا اپنے دار (حویلی) کے دروازے سے باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ مقرر ہیں پس جب وہ کہے باسم اللہ وہ دونوں کہتے ہیں تیری راہنمائی کردی گئی اور جب وہ کہے : لاحول ولا قوۃ الا باللہ تو وہ کہتے ہیں تجھے بچا لیا گیا اور جب وہ کہے : توکلت علی اللہ تو وہ کہتے ہیں تجھے بےنیاز کردیا گیا فرمایا پس اس کے دو ساتھی اس سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : تم اس آدمی سے کیا ارادہ رکھتے ہو حالانکہ اسے ہدایت دے دی گئی ہے اور اسے بچا لیا گیا ہے اور اس کو بےنیازکر دیا گیا “۔ اور حاکم ابو عبد اللہ نے علوم الحدیث میں کہ ا ہے، محمد بن اسحاق بن خزیمہ سے حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کے بارے پوچھا گیا : ” جنت اور دوزخ نے باہم جھگڑا کیا تو اس یعنی جنت نے کہا مجھ میں ضعفاء داخل ہوں گے “ تو یہ ضعیف کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ ہے جو اپنے آپ کو دن میں بیس مرتبہ یا پچیس مرتبہ لاحول ولا قوۃ کے ساتھ بری کراتا ہے۔ اور حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جو کسی شے کو دیکھے اور وہ اسے بھلی اور خوبصورت لگے تو وہ کہے ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ تو اسے نظر نقصان نہیں پہنچائے گی “۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : کوئی نہیں ہے جس نے ماشاء اللہ کیا تو پھر کوئی شے بھی اسے پہنچی مگر وہ اس کے ساتھ راضی ہوگا۔ اور روایت ہے کہ جس نے چار (قول) کہے وہ چار سے محفوظ رہے گا : جس نے یہ کہا وہ نظر بد دے محفوظ ہوگیا۔ اور جس نے کہا حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ (آل عمران) وہ شیطان کے مکر سے محفوظ ہوگیا، اور جس نے کہا وافوض امری الی اللہ (غافر : 44) وہ لوگوں کے مکر سے محفوظ رہے گا اور جس نے کہا : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظمین۔ (الانبیاء) تو وہ غم سے محفوظ رہے گا قولہ تعالیٰ : ان ترن انا اقل منک ما لا وولدا، ان شرطیہ ہے ترن اسی کے سبب مجزوم ہے اور جواب شرط فعسی ربی ہے اور انا بطور فاصل ہے اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو اور نون اور یا کی تاکید کے لئے ہیں۔ اور عیسیٰ بن عمر نے : ان ترن انا اقل منک مرفع کے ساتھ پڑھا ہے ؛ وہ انا کو مبتدا بنا رہے ہیں اور اقل اسکی خبر ہے اور پھر مکمل جملہ دوسرے مفعول کے محل میں ہے، اور مفعول اول نون اور یا ہیں، مگر یہ کہ یا کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ کسرہ اس پر دلالت کرتا ہے، اور اس کو ثابت رکھنا جید اور بیلغ ہے اور یہی اصل ہے کیونکہ یہ فی الحقیقت اسم ہے۔ اور فعسی بمعنی لعل ہے۔ ای فلعل ربی۔ ان یؤتین۔۔۔ جنتک شاید میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے کوئی بہتر چیز آخرت میں عطا فرما دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں (اس سے بہتر عطا فرما دے) ۔ ویرسل علیھا اور وہ تیرے باغ پر بھیج دے حسبانا آسمان سے عذاب، اس کا واحد حسبانۃ ہے ؛ یہ اخفش، قتبی اور ابو عبیدہ نے کہا ہے۔ اور ابن اعرابی نے کہا ہے : الحسبانۃ کا معنی بادل ہے، اور الحسبانۃ کا معنی تکیہ ہے اور الحسبانۃ کا معنی صاعقہ (بجلی کی کڑک) ہے۔ اور جوہری نے کہا ہے : الحسبان (ضمہ کے ساتھ ہو) تو اس کا معنی عذاب ہے۔ اور ابو زیاد الکلابی نے کہا ہے : أصاب الارض حسبان یعنی زمین پر مکڑی غالب آگئی۔ اور الحسبان کا معنی حساب بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الشمس والقمر بحسبان۔ (رحمن) اور یہاں حسبان کی یہی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : الحسبان، الحساب سے ہے، یعنی وہ اس پر حساب کا عذاب بھیج دے، اور یہ اس کا حساب ہے جو کچھ تیرے ہاتھوں نے کمایا (اعمال کئے) ، پس یہ حذف مضاف کے باب سے ہے۔ اور الحسبان سے مراد چھوٹے تیر بھی ہیں جو ایک ہی بار میں پھینکے جاتے ہیں اور یہ اکاسرہ کے تیروں میں سے تھے۔ اور المرامی من السماء سے مرادعذاب ہے۔ فتصبح صعید ازلقا یعنی ایسی سفید زمین ہوجائے جس میں نہ کوئی سبزہ اگتا ہے اور نہ اس پر قدم ثابت رہتا ہے، اور یہ سب سے زیادہ نقصان دہ زمین ہوجائے اس کے بعد کہ یہ ایک باغ تھا اور نفع بخش زمین تھی ؛ اور زلقا، صعید کے وصف کی تاکید کیلئے ہے، یعنی اس کی چکناہٹ کی وجہ سے اس سے پاؤں پھسلتے ہوں۔ کہا جاتا ہے : مکان زلق یعنی پھسلنی جگہ، اور یہ اصل میں مصدر ہے تیرے اس قول کا زلقت رجلہ تزلق زلقا، وازلقھا غیرہ (کسی غیر نے اسے پھسلا دیا) اور الزلق کا معنی عجز الدابۃ (جانور کا پچھلا حصہ) بھی ہے۔ رؤبہ نے کہا ہے : کأنھا حقباء بلقاء الزلق اور المزلقۃ والمزلقۃ : مراد وہ جگہ ہے جس پر پاؤں ثابت نہ رہتے ہوں (یعنی نہ جمتے ہوں بلکہ پھسل جاتے ہوں) اور اسی طرح الزلاقۃ بھی ہے۔ اور الزلق کا معنی الحلق (مونڈنا) ہے، ذلق رأسہ یزلقہ زلقا اس نے اس کا سرمونڈ دیا ؛ یہ جوہری نے کہا ہے۔ اور الزلق کا معنی المحلوق (مونڈا ہوا) ہے، جیسا کہ النقص اور النقص ہے۔ اور مراد یہ نہیں ہے کہ مونڈی ہوئی ہوجائے گی، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس میں کوئی سبزہ باقی نہیں رہے گا جیسا کہ سر جب اسے مونڈ دیا جائے تو اس پر کوئی بال باقی نہیں رہتا، یہ قشیری نے کہا ہے : او یصبح مآءھا غورا یعنی یہ غائرا ذاھبا کے معنی میں ہے۔ یا اس کا پانی بہت نیچے چلا جائے، تو یہ پانی نہ دینے والی زمین ہوجائے گی اس کے بعد کہ یہ پانی دینے والی زمین تھی۔ اور الغور مصدر ہے اسے اسم کی جگہ رکھا گیا ہے جیسے کہا جاتا ہے : رجل صوم وفطر وعدل ورضا وفضل وزور ونساء نوح (یہ تمام مصدر اسم کی جگہ مذکور ہیں) اس میں مذکر و مونث اور تثنیہ و جمع سب برابر ہوتے ہیں۔ عمرو بن کلثوم نے کہا ہے : تظل جیادہ نوحا علیہ مقلدۃ أعن تھا صفونا اور ایک دوسرے نے کہا ہے : ھریقی من دموعھما سجاما ضباع و جاوبی نوحا قیاما یعنی اسمیں نوحا بمعنی نائحات ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : أویصبح ماؤھا ذاغور (اس کا پانی نیچے اترنے والا ہوجائے) پس اس سے مضاف محذوف ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے وسئل القریۃ (یوسف : 82) یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : ماء غور۔ وقد غار الماء یغور غورا وغرورا، یعنی پانی زمین میں نیچے چلا گیا، اور واؤ کے مضموم ہونے کی وجہ سے ہمزہ بھی جائز ہے۔ اور غارت عینہ تغور غورا وغرورا، یعنی اس کی آنکھیں سر میں دھنس گئیں۔ اور غارت تغار بھی اس میں لغت ہے۔ اور کسی شاعر کا قول ہے : أغارت عینہ ام لم تغارا (اس کی آنکھ دھنسے یا نہ دھنسے) اور غارت الشمس تغور غیارا، یعنی سورج غروب ہوگیا۔ ابو ذؤیب نے کہا ہے : ھل الدھر إلا لیلۃ ونھارھا وإلا طلوع الشمس ثم غیارھا فلن تستطیع لہ طلبا یعنی تو ہر گز نیچے اترے ہوئے پانی کو واپس لانے کی استطاعت نہیں رکھے گا اور کسی حیلہ کے ساتھ اس پر قادر نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پس تو ہرگز اس کے بدلے کسی اور کی طلب کی استطاعت نہیں رکھے گا۔ اور اس بات پر اس کے بھائی کا مناظرہ اور اس کا ڈرانا ختم ہوگیا۔
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے میوؤں کو (عذاب نے) آن گھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

آیت نمبر 42 قولہ تعالیٰ : واحیط بثمرہ اس میں اسم مالم یسم فاعلہ مضمر ہے، اور وہ مصدر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس میں اسم مجرور محل رفع میں ہو۔ اور احیط بثمرہ کا معنی ہے اسکا سارے کا سارا مال ہلاک کردیا گیا۔ اور یہ وہ پہلی چیز ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے بھائی کے ڈراوے کو ثابت کردیا اور حقیقت بنا دیا۔ فاصبح یقلب کفیہ یعنی کافر ندامت کے سبب اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارنے لگا کیونکہ یہ فعل نادم سے صادر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اپنی ملکیت الٹ پلٹ کرتا ہے اور جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس کا عوض اور بدلہ اس میں نہیں دیکھتا، اور یہ اس اعتبار سے ہے کیونکہ یہ فعل نادم سے صادر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اپنی ملکیت الٹ پلٹ کرتا ہے اور جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس کا عوض اور بدلہ اس میں نہیں دیکھتا، اور یہ اس اعتبار سے ہے کیونکہ ملک کو لفظ ید سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان کے قول میں سے ہے : فی یدہ مال، یعنی اس کی ملک میں مال ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول : فاصبح اس پر دلیل ہے کہ یہ ہلاک کرنے کا عمل رات کے وقت ہوا ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فطاف علیھا طآئف من۔۔۔۔۔ کالصریم۔ (القلم) (پس چکر لگا اس باغ پر ایک چکر لگانے والا آپ کے رب کی طرف سے درآنحالیکہ وہ سوئے ہوئے تھے چناچہ (لہلہاتا) باغ کٹے ہوئے کھیت کی مانند ہوگیا) ۔ اور کہا جاتا ہے : أنفقت فی ھذہ الدار کذا وأنفقت علیھا (میں نے اس گھر میں اتنا خرچ کیا اور میں نے اس پر اتنا خرچ کیا) وھی خاویۃ علیٰ عروشھا یعنی وہ خالی ہے تحقیق وہ بعض بعض پر گرگیا ہے) یہ خوت النجوم تخوی خیا امحلت سے ماخوذ ہے اور یہ تب ہوتا ہے جب وہ گر جائے اور کسی بھی سبزے پر بارش نہ بردائے۔ اور أخوت بھی اس کی مثل ہے۔ اور خوت الدار خواء أقوت (گھر گرگیا اور اپنے مکینوں سے خالی ہوگیا) ، اور اسی طرح ہے جب وہ گر جائے) اور اسی سے قول باری تعالیٰ ہے : فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا (النمل : 52) (پس یہ ان کے گھر ہیں جو اجڑے پڑے ہیں ان کے ظلم کے باعث) ۔ اور کہا جاتا ہے : ساقطۃ (گرنے والا) جیسا کہ کہا جاتا ہے : فھی خاویۃ علی عروشھا یعنی وہ اپنی چھت پر گرنے والا ہے، پس اسے پھل اور اصل کی تباہی اور بربادی کے درمیان جمع کیا گیا ہے، اور یہ بہت شدید اور بڑی آفتوں میں سے ہے، درآنحالیکہ یہ اس کے ظلم اور نافرمانی کے مقابلہ میں ہے۔ ویقول یلیتنی لم اشرک بربی احدا یعنی اے کاش ! میں نے ان نعمتوں کو پہچانا ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرمائی ہیں اور میں نے یہ پہچانا ہوتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہیں اور میں اس کے ساتھ کفر نہ کرتا۔ اور یہ اس کی طرف سے اس وقت ندامت کا اظہار ہے جس وقت ندامت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتی تھی۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

(اس وقت) خدا کے سواء کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

آیت نمبر 43 قولہ تعالیٰ : ولم تکن۔۔۔۔ من دون اللہ، فئۃ یہ تکن کا اسم ہے اور لہ اس کی خبر ہے۔ ینصرونہ یہ صفت کے محل میں ہے، ای فئۃ ناصرۃ (مدد کرنے والی جماعت) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ینصرونہ خبر ہو۔ اور پہلی وجہ سیبویہ کے نزدیک اولیٰ اور بہتر ہے کیونکہ لہ مقدم ہے۔ اور ابو العباس ان کی مخالفت کرتے ہیں، اور اللہ عزوجل کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں : ولم یکن لہ کفوا احد۔ (الاخلاص) اور سیبویہ نے دوسری وجہ کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اور ینصرونہ، فئۃ کے معنی کی وجہ سے (جمع کا صیغہ) ہے، کیونکہ اس کا معنی اقوام ہے، اور اگر لفظ کی بنا پر ہوتا تو فرماتا ولم تکن لہ فئۃ تنصرہ، یعنی ایسا گروہ اور ایسی جماعت جس کے پاس وہ پناہ لے سکتا ہو (وہ نہیں رہی) وما کان منتصرا یعنی اور نہ وہ روکنے والا تھا ؛ یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور نہ وہ اس کا بدل لوٹانے والا ہے جو اس سے ضائع ہوگیا ہے (جو اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے) اور الفئۃ کا مادہ اشتقاق سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اور اس میں ھا اس یا کے عوض ہے جو اس کے درمیان سے کم ہوئی، اس کی اصل فیئ ہے جیسا کہ فیع ہے کیونکہ یہ فا سے ہے، اور اس کی جمع فئون اور فئات آتی ہے، جیسے شیات، لذات اور مئات وغیرہ یعنی اس کے پاس کوئی ایسی جماعت نہیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کی حفاظت کرسکتی ہو، اور اس کے خدام اور اولاد میں سے وہ اس سے مفقود اور گم ہوگئے جن کے سبب وہ فخر کرتا تھا۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے .

آیت نمبر 44 قولہ تعالیٰ : ھنالک الولایۃ للہ الحق اس میں قول باری تعالیٰ ھنالک ظرف ہے اور اس کے عامل میں اختلاف ہے، پس کہا گیا ہے : اس میں عامل : ولم تکن لہ فئۃ ہے اور کان ھنا لک نہیں ہے ؛ ای ما نصر ولا أنتصر ھنالک یعنی جب اسے عذاب پہنچے گا تو نہ اس کی مدد کی جائے گی اور نہ وہ وہاں بدلہ لینے کے قابل ہوگا۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : قول باری تعالیٰ : منتصرا۔ پر کلام ہوگئی ہے اور ھنالک میں الولایۃ ہے، اور اس کی تقدیر تقدیم و تاخیر پر ہے : الولایۃ للہ الحق ھنالک، یعنی قیامت میں سارا اختیار اللہ سچے کیلئے ہے۔ ابو عمر و اور کسائی نے الحق رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ یہ الولایۃ کی صفت ہے۔ اہل مدینہ اور حمزہ نے الحق کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ یہ لفظ اللہ کی صفت ہے، اور تقدیر کلام ہے : للہ ذی الحق (اس اللہ کیلئے جو صاحب حق ہے) ۔ زجاج نے کہا ہے : الحق کو مصدر اور تاکید کی بنا پر نصب کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے : جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ھذا لک حقا۔ اور اعمش، حمزہ، اور الکسائی نے لولایۃ کو واؤ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور باقیوں نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں جیسا کہ رضاعۃ اور رضاعۃ۔ اور یہ کہا گیا ہے : الولایۃ فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ موالاۃ (محبت اور دوستی) سے ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے : اللہ ولی الذین امنوا (البقرہ : 257) (اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا) ۔ ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا (محمد : 11) (یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے) ۔ اور کسرہ کے ساتھ ہو تو پھر اس کا معنی سلطنت، قدرت اور امارت ہے، جیسے قول باری تعالیٰ ہے : والامر مر یومئذ للہ۔ (الانفطار) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ کی ہی بادشاہی اور حکم ہوگا، یعنی اس کا امر کسی اور کی طرف نہیں لوٹا یا جائے گا، ہر وقت میں بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن قیامت کے دن سارے دعوے اور توہمات ختم ہوجائیں گے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : بلاشبہ یہ لفظ خالق کے لئے واؤ کے فتحہ کیساتھ ہے۔ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ مخلوق کیلئے ہے۔ ھو خیر ثوابا یعنی دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی اسے بہترین اجر وثواب عطا فرمانے والا ہے جو اس کے ساتھ ایمان لایا، اور وہاں اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا جس سے امید رکھی جاسکتی ہو، لیکن اس انداز میں جاہلوں کے ظن کا ارادہ کیا ہے، یعنی ھو خیر من یرجی (وہی سب سے بہتر ہے جس سے امید رکھی جاسکتی ہے۔ وخیر عقبا عاصم، اعمش، حمزہ اور یحییٰ نے عقبا قاف کو ساکن پڑھا ہے، باقیوں نے اسے مضموم پڑھا ہے، اور دونوں صورتوں میں معنی ایک ہے، یعنی اس کے ہاتھ میں بہترین انجام ہے اس کیلئے جس نے اس سے امید رکھی اور اس کے ساتھ ایمان لایا۔ کہا جاتا ہے : عاقبۃ أمر فلان وعقباہ وعقبہ، یعنی یہ فلاں کے معاملے کا انجام اور آخر ہے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

آیت نمبر 45 قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثل الحیوۃ الدنیا یعنی آپ ان تکبر کرنے والوں کیلئے جو آپ سے فقراء مومنین کو اپنے آپ سے دور ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں دنیوی زندگی کی ایک مثال بیان فرمائیے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے تشبیہ دی ہے۔ کماء انزلنا من السمآء فاختلط بہ کہ یہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا ہے یعنی پانی کے ساتھ۔ نبات الارض یعنی اس پانی سے زمین کی انگوریاں گنجان ہو کر اگتی ہیں، یہاں تک کہ زمین ہموار ہوجاتی ہے، برابر ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ انگوریاں بعض بعض کے ساتھ مل جاتی ہیں جس وقت اس پر پانی برستا ہے، کیونکہ نباتات گنجان ہوجاتی ہیں اور بارش کے سبب بڑھ جاتی ہیں، زیادہ ہوجاتی ہیں۔ یہ معنی سورة یونس میں واضح طور پر گزر چکا ہے۔ اور حکماء نے کہا ہے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پانی کے ساتھ تشبیہ دی ہے کیونکہ پانی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا، اسی طرح دنیا بھی ایک کے پاس باقی نہیں رہتی، اور اسی لئے پانی ایک حالت پر قائم نہیں رہتا اسی طرح دنیا کی حالت بھی ہے، اور اس لئے بھی کہ یہ پانی باقی نہیں رہتا اور ختم ہوجاتا ہے اسی طرح دنیا بھی فناہ ہوجاتی ہے، اور اس لئے بھی کہ پانی کے بارے میں کوئی یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ اس میں داخل ہو اور وہ اس سے تر نہ ہو اسی طرح دنیا بھی ہے کہ جو بھی اس میں داخل ہوا وہ اس کے فتنہ و آزمائش اور اس کی آفت سے محفوظ نہیں رہ سکتا، اور اس لئے کہ پانی جب خاص مقدار میں ہو تو وہ نفع پہنچاتا ہے اور نباتات اگاتا ہے، اور جب اس حد سے تجاوز کر جائے تو وہ نقصان دہ اور مہلک ہوتا ہے، اسی طرح دنیا بھی ہے کہ اس کی کفایت بھر مقدار نفع بخش ہوتی ہے اور اس کی فالتو مقدار نقصان پہنچاتی ہے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ کی حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ میں چاہتا ہوں کہ میں کامیاب لوگوں میں سے ہوجاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” دنیا کو چھوڑ دے اور اسے ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح قرار دے (اور اس سے تھوڑی سی مقدار لے لے) کیونکہ اس کی قلیل مقدار کافی ہوتی ہے اور اس کی کثیر مقدار سرکش بنا دیتی ہے “۔ اور صحیح مسلم میں حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت ہے : ” تحقیق وہ کامیاب ہوگیا جس نے اسلام قبول کیا اور اسے کفایت بھر رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس پر قناعت عطا فرما دی جو اس نے اسے عطا فرمایا “۔ فاصبح یعنی وہ انگوریاں ہوجاتی ہیں ھثیما خشک ٹوٹی ہوئی اور بکھری ہوئی گھاس، یعنی اس سے پانی کٹ جانے کے سبب، پس اسے اختصار کے لئے حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کر رہی ہے، اور الھشم کا معنی ہے خشک چیز کا توڑ دینا۔ اور الھشیم سے مراد خشک ٹوٹی ہوئی گھاس ہے، اور وہ بوسیدہ درخت جسے ایندھن اکٹھا کرنے والا جیسے چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے۔ اور اس سے ان کا یہ قول بھی ہے : ما فلان ألا ھشیمۃ کرم، جبکہ وہ خوب فیاض اور سخی ہو۔ اور رجل ھشیم : کمزور بدن والا آدمی۔ اور تھشم علیہ فلان جب وہ اس پر مہربان ہو اور إھتشم ما فی ضرع الناقۃ آدمی ناقہ کو دور لے۔ اور کہا جاتا ہے : ھشم الثرید اس نے ثرید تیار کیا اور اسی سے ہاشم بن عبد مناف کا نام رکھا گیا اور ان کا نام عمرو تھا۔ اور اسی بارے میں عبد اللہ بن زبعری کہتا ہے : عمرو العلا ھشم الثرید لقدمہ ورجال مکۃ مسنتون عجاف اور اس کا سبب یہ ہوا کہ قریش کو قحط نے آلیا اور اس نے ان کے اموال ہلاک و برباد کر دئیے پس ہاشم شام کی طرف گئے اور وہاں بہت سی روٹیاں کا حکم دیا پس وہ آپ کیلئے پکا دی گئیں، تو انہوں نے انہیں بوروں میں بند کرکے اونٹوں پر لاد دیا یہاں تک کہ آپ مکہ پہنچ گئے، اور آپ نے ان روٹیوں کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے بنا دیا اور ثرید بنایا، آپ نے انہی اونٹوں کو ذبح کیا، پھر پکانے والوں کو حکم دیا اور انہوں نے وہ گوشت پکایا، پھر ہانڈیوں کو بڑے بڑے پیالوں میں انڈیل دیا اور اہل مکہ کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلایا، اور یہ اس قحط کے بعد ان پر مسلط ہوا پہلی بخشش اور عطا تھی، پس اسی وجہ سے آپ کے نام ہاشم پڑگیا۔ تذروہ الریاح یعنی ہوائیں اسے اڑالے جاتی ہیں، بکھیر دیتی ہیں ؛ یہ ابو عبیدہ نے کہا ہے۔ ابن قتیبہ نے کہا ہے : وہ اسے اڑالے جاتی ہیں۔ ابن کیسان نے کہا ہے : وہ اسے لے جاتی ہیں اور لے آتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : وہ اسے پھراتی اور گھماتی ہیں ؛ یہ تمام معانی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ اور طلحہ بن مصرف نے تذویۃ الریح پڑھا ہے۔ کسائی نے کہا ہے : حضرت عبد اللہ ؓ کی قرأت میں تذریہ یہ کہا جاتا ہے : ذرتہ الریح تذروہ ذروا اور تذریہ ذربا اور أذرتہ تذریہ اذراء، جب ہوا اسے اڑالے جائے۔ اور فراء نے بیان کیا ہے : أذریت الرجل عن فرسہ یعنی میں نے آدمی کو اس کے گھوڑے سے الٹ دیا۔ اور سیوبیہ اور فراء نے یہ شعر بھی بیان کیا ہے : فقلت لہ صوب ولا تجھدنہ فیذرک من أخری القطاۃ فتزلق قولہ تعالیٰ : وکان اللہ علی کل شیء مقتدرا۔ یعنی اللہ تعالیٰ پیدا کرنے، فناہ کرنے اور پھر زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے، اور اس کی ذات ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے۔