Ayah 5:117313 حضرت عیسیٰ کا اعلان بندگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ کہیں گے کہ میں نے تو ان لوگوں سے وہی کچھ کہا جس کا آپ نے مجھے حکم وارشاد فرمایا تھا کہ تم سب لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو جو کہ سب کا رب ہے۔ سو اس کے بندے ہونے میں ہم سب ایک برابر ہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ مجھے اس نے نبوت و رسالت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ شرف وحی سے نوازا ہے اور منصب نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور بس۔ ورنہ اس کی خدائی کے کسی شائبے کا بھی مجھ میں پائے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ہمارے حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ارشاد فرمایا گیا کہ یوں کہو ۔ { قُلْ اِنّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰیٓ اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌٌ وَّاحِدٌٌ } ۔ (الکہف : 110) " ان سے کہو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں ایک بشر ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے " ۔ اس مرکزی مضمون کے ساتھ۔ کہ معبود حقیقی تم سب کا اے لوگو ! ایک ہی معبود ہے ۔ یعنی اللہ و حدہ لا شریک۔ سو اپنے اس صاف وصریح اعلان وبیان سے جہاں حضرت عیسیٰ سب دنیا کے سامنے اپنی براءت واضح فرما دیں گے وہاں وہ اپنے ان غالی پیروکاروں کو بھی سب کے سامنے رسوا کریں گے جنہوں نے اپنے غلو سے حضرت عیسیٰ کو خدا اور خدائی میں شریک بنا رکھا تھا اور حضرت عیسیٰ کے پیش فرمودہ دین توحید کو بدل کر انہوں نے دین شرک بنادیا تھا جسکے نتیجے میں ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے عذاب بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
314 مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو حضرت عیسیٰ اپنی جوابدہی میں عرض کریں گے کہ میں زندگی بھر ان کی نگرانی کرتا اور ان کو روکتا رہا ہر برے عقیدے اور غلط عمل سے جہاں تک میرا بس چل سکتا تھا۔ اور جتنا میری قدرت و استطاعت میں تھا۔ اور میں زندگی بھر ان کی نگرانی کرتا رہا اس کے بعد کا نہ مجھے کچھ پتہ ہے اور نہ ہی میرے بس اور اختیار میں کہ مختار کل تو آپ ہی ہیں۔ سب کچھ آپ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور ہر جگہ موجود ہونا اور ہر حال میں موجود ہونا اور ہر چیز کی اطلاع و آگہی رکھنا بھی آپ ہی کی شان ہے۔ میرا کام تو صرف یہ تھا کہ میں زندگی بھر ان کی نگرانی کرتا رہا اور ان کو آپ کی عبادت و بندگی کی دعوت دیتا اور تعلیم و تلقین کرتا رہا۔ اس سے آگے میرا کوئی زور نہیں تھا۔ سو پیغمبر نہ مختار کل ہوتا ہے اور نہ ہر جگہ حاضر و ناظر۔
315 دنیا سے اٹھنے کے بعد پھر کوئی کچھ نہیں کرسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ مزید عرض کریں گے کہ مالک جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران و نگہبان تھا۔ یعنی آپ نے جب مجھے اٹھا لیا دنیا سے آسمان کی طرف اپنی قدرت و عنایت سے یہود بےبہبود کے شر و فساد سے بچاتے ہوئے تو اس کے بعد میری نگرانی بھی ختم ہوگئی اور میرا ان سے تعلق اور ذمہ داری بھی کہ دنیا سے اٹھنے کے بعد کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اسی لئے موت کے بعد کوئی کسی عمل یا ذمہ داری کا مکلف اور پابند نہیں ہوتا کہ وہ اس کا اہل ہی نہیں ہوتا۔ اور جب حضرت عیسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کا بھی یہ حال ہے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو مرنے کے بعد کسی کی حاجت روائی یا مشکل کشائی کرسکے ؟۔ سو کس قدر گمراہ اور اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کو پوجتے پکارتے اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے بلاتے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
316 مردوں کو دنیا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیا سے جانے کے بعد کسی کو پتہ نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ جب تو نے اے میرے مالک مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو اس کے بعد تو ہی ان کا نگران و نگہبان تھا کہ تو ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس کے بعد کا مجھے کچھ پتہ نہیں کہ انہوں نے کیا کیا بدعات اور خرافات ایجاد کیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے اتنے عظیم الشان پیغمبر کو بھی پتہ نہیں اور وہ بھی محض آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد، تو پھر کسی کو اور وہ بھی اس کی حقیقی موت کے بعد کیا پتہ ہوسکتا ہے۔ پس کس قدر بےہودہ بات اور غلط و گمراہ کن عقیدہ ہے ان لوگوں کا جو یہ کہتے ہیں کہ مردہ اپنی قبر پر بیٹھنے والے پرندے کے بارے میں بھی جانتا ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ۔ جیسا کہ اہل بد عت کے بہت سے ملاؤں اور پیشواؤں کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت عیسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کہتے ہیں کہ میرے اٹھائے جانے کے بعد تو ہی ان کا نگران تھا۔ تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اس کے بعد کچھ جان یا کرسکے ؟
Ayah 5:118317 اللہ مختار کل ہے جو چاہے کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ اب اگر آپ ان کو عذاب دیں تو بھی دے سکتے ہیں کہ یہ اس کے مستحق اور مجرم و قصور وار ہیں۔ اس لئے آپ اے ہمارے خالق ومالک ان کو سزا اور جو چاہیں سزا دے سکتے ہیں کہ آپ مالک و مختار بھی ہیں۔ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کو اس کا پورا حق بھی ہے اور کلی اختیار بھی کہ یہ بہرحال آپ کے بندے ہیں۔ سو اس سے حضرت عیسیٰ کی شان عبدیت کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بھی۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا کہ اس سے سرفرازی کے بعد انسان اس مالک الملک کے حضور سراپا عجز و انکسار بن جاتا ہے۔ اور یہی تقاضا ہے عبدیت و بندگی کا ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ ہی کی اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
318 اللہ تعالیٰ کی صفات عزت وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے حضور مزید عرض کریں گے کہ بیشک تو ہی ہے اے اللہ سب پر غالب اور نہایت حکمت والا۔ پس تو اے میرے مالک جو چاہے کرے کہ تو سب پر غالب ہے اور تجھ سے کوئی بالادست اور پوچھنے والا نہیں اے میرے خالق ومالک ۔ جل وعلا شانہ ۔ پس آپ جو چاہیں کریں کہ آپ سب پر غالب اور آپ کی ذات اقدس و اعلیٰ سب پر حاکم اور ہر لحاظ سے اعلیٰ وبالا ہے۔ سو اللہ سب پر غالب ہے۔ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اور ساتھ ہی چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 5:119319 سچائی کے نفع دینے کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی کام دے گی اور وہ اس کا پھل پائیں گے۔ اور ان کے لئے انکے صدق و صفا کے بدلے میں جنت کی ایسی بےمثال کامیابی اور دائمی نعمتوں سے سرفرازی ہوگی جس کا اس دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ پس جو لوگ زندگی بھر حق و صدق کی راہ پر رہے ہوں گے وہ اس روز اپنی اس سچائی کا پھل ابدی کامیابی کی صورت میں پائیں گے۔ سو حساب و کتاب اور عدل و انصاف کا وہ دن سچوں اور راست بازوں کے لئے کامیابیوں اور فائز المرامیوں کا دن ہوگا۔ اور اس روز کھرا کھوٹا نکھر کر سب کے سامنے آجائے کا ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الیٰ سواء السَّبِیْلِ-
320 اصل اور حقیقی کامیابی کی نشاندہی : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اصل اور حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے جو کہ حقیقی، ابدی اور دائمی کامیابی ہوگی جس جیسی اور کوئی کامیابی ممکن ہی نہیں ۔ اَللَّٰہُمَّ شرِّفْنَا بِہٖ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ اور جن کو یہ سب سے بڑی کامیابی نصیب ہوگی وہی ہیں اصل اور حقیقی معنوں میں کامیاب لوگ جو اس سدابہار کامیابی سے سرشار ہوں گے۔ اور یہی وہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے جس کو ہر وقت اور ہر حال میں پیش نظر رکھنا چاہئے اور اسی کے لئے کوشش اور محنت کرنی چاہئے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلَیَعْمِل الْعامِلُوْن } ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین۔ جبکہ دنیا کی وہ عارضی اور وقتی کامیابیاں جن کے لیے ابنائے دنیا مرتے اور جیتے ہیں وہ سب محض سراب اور دھوکے کا سامان ہیں۔ نہ وہ کامیابیاں اصل اور ابدی ہیں اور نہ ان کو حاصل کرنے والے لوگ۔ بلکہ یہ سب کچھ فانی اور وقتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:120321 کائنات پوری میں بادشاہی اللہ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ اور ان سب چیزوں کی جو ان دونوں کے درمیان پائی جاتی ہیں کہ اس کا اس میں نہ کوئی شریک ہے نہ سہیم۔ اور آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک بھی وہی ہے اور حاکم و متصرف بھی وہی۔ اس لیے معبود حق بھی وہی ہے۔ جب اس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اس لئے ہر قسم کی عبادت و بندگی اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور شکل اسی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی بھی اور چیز یا کسی ہستی کے آگے جھکنا اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانا شرک اور حرام ہے۔ پس اس کے سوا کسی اور کے لئے قیام یا رکوع کرنا، کسی کے آگے سرنگوں ہونا اور سجدہ کرنا یا کسی کے نام کی نذر و نیاز دینا یا کسی کے لئے طواف کرنا وغیرہ سب ممنوع اور حرام ہے کہ یہ سب کچھ شرک کے زمرے میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
322 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اس لئے وہ جو چاہے کرے۔ نہ اس کو کوئی روک سکتا ہے نہ ٹوک سکتا ہے اور نہ اس کی مشیت ومرضی میں کوئی حائل ہوسکتا ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلیٰ وبالا ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے معبود بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی لئے وہ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمام لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا۔ اور یہ سب کچھ وہ قادر مطلق محض اپنے ایک اشارے اور حکم و ارشاد سے کرے گا۔ اور ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ دے گا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکیں۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ مؤمنین صادقین کو ایسی ایسی نعمتوں اور عنایتوں سے نوازیگا جو کہ ان کے تصور سے بھی کہیں بڑھ کر ہونگی۔ جس کے نتیجے میں وہ اس سے راضی ہوجائیں گے۔ اور انہوں نے زندگی بھر اپنے صدق ایمان و یقین کے نتیجے میں جو کچھ کیا تھا اس کی بنا پر ان کا رب ان سے راضی ہوجائے گا۔ اور اس طرح ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہمُ وَ رَضُوْا عنْہٗ ۔ کا مصداق بدرجہ تمام و کمال متحقق ہوجائے گا۔ اور رضائے خداوندی کی اس نعمت سے سرفرازی وہ نعمت خداوندی ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت ممکن ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔ اللّٰھُمَّ اِنَّا رَضِیْنَا عَنْکَ فَارْضِ عَنَّا بِمَحضِ مَنِّکَ وَ کَرَمِکَ وَ اِحْسَانِکَ یا ذالجَلَال والاکرام -
تمت الحواشی التفسیریۃ لسورۃ المائدۃ بِتَوْفیْقِ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَ تَعَالیٰ و عِنَایِتہٖ فی السّاعۃ السّادسۃ والربع مَسَائً مِنْ یَوم الاربعاء (قُبْیل المغرب) و تاریخ 5 صفر المظفر 1410 مطابق 7 ستمبر 1989 ء بمنزلی الکائن بمنطقہ ام ھریر فی دبی، والحَمدُ للّٰہ ربِّ العلمین