Ayah 5:74189 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے۔ سو اس میں سرکشوں اور نافرمانوں کیلئے بخشش و مہربانی کا مژدئہ جانفزا ہے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور انتہائی مہربان ہے۔ اور اتنا بڑا مہربان اور اس قدر بخشنہار کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کی کوئی حد و انتہا۔ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کی تمام خطاؤں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس باغی و سرکش اور اس کے نافرمان بندوں کے لئے موقع ہے کہ وہ اس کے حضور رجوع ہو کر اور سچے دل سے توبہ و استغفار کر کے اپنے گناہوں کو معاف کرا لیں۔ قبل اس سے کہ فرصت عمر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر ان کو ہمیشہ کے خسارہ میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور سچی توبہ پر نہ صرف یہ کہ انسان کے تمام گناہوں کی بخشش اور صفائی ہوجاتی ہے بلکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کا پیارا اور اس کا محبوب بن جاتا ہے۔ تو پھر ایسے خدائے مہربان سے منہ موڑنا اور اعراض و لاپرواہی برتنا کتنے بڑے خسارے کا باعث ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ اسی لئے اس بارے اس طرح ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کیوں نہیں کرتے اور اس کی طرف رجوع کیوں نہیں ہوتے ۔ فَاغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی یا رَبِیّ فَانِّیْ اَتُوْبُ اِلِیْکَ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی طرف رجوع رہنے کی توفیق و عنایت سے نوازے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 5:75–76190 حضرت عیسیٰ صرف اللہ کے رسول تھے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ نہیں تھے مگر ایک رسول۔ یعنی خدائی کی ان میں نہ کوئی صفت تھی نہ شائبہ۔ یعنی یہ حصر اضافی ہے۔ اس لئے اس سے آنجناب کی باقی صفات کی نفی لازم نہیں آتی۔ سو قرآن حکیم کے اسی ایک مختصر سے ارشاد سے کہ مسیح بن مریم صرف ایک رسول تھے آنجناب کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے دونوں گروہوں کے ان تمام کفریہ عقائد و نظریات کی جڑ نکل جاتی ہے جو ان لوگوں نے ازخود گھڑ رکھے تھے۔ اور جو افراط وتفریط کی انتہاؤں پر مبنی تھے۔ کیونکہ اس ارشاد عالی سے یہ امر واضح ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ کے بارے میں یہود بےبہبود کی ان تمام بیہودہ گوئیوں کی جڑ کٹ جاتی ہے جو آپ کے نسب شریف کے بارے میں وہ لوگ کرتے تھے۔ دوسری طرف جب اس ارشاد عالی سے یہ واضح ہوگیا کہ آپ صرف اللہ کے رسول ہیں اور بس تو عیسائیوں کے ان تمام شرکیہ عقیدوں کی جڑ کٹ گئی جو انہوں نے آنجناب کے بارے میں گھڑ رکھے ہیں کہ آپ اللہ کے بیٹے اور تین خداؤں میں سے ایک ہیں وغیرہ کہ اس ارشاد سے واضح ہوگیا کہ آپ نہ خدا اور نہ خدا کے بیٹے ہیں بلکہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں بس۔ اور جن لوگوں نے آنجناب کے بارے میں اس طرح کی باتیں کیں انہوں نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ -
191 حضرت عیسیٰ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں : ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے خصوصی معجزات اور عنایات سے نوازا تھا۔ اور ان میں سے کسی کی بھی خدائی کے قائل خود نصاریٰ بھی نہیں ہیں۔ تو پھر حضرت عیسیٰ کے بارے میں خدائی کا دعویٰ کیونکر درست قرار دیا جاسکتا ہے ؟۔ سو حضرت عیسیٰ خدا یا خدائی میں شریک نہیں تھے بلکہ وہ خداوند قدوس کے برگزیدہ انسان اور چنے ہوئے بندے تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے خاص انعامات سے نوازا تھا۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ ھُوَ الِا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہُ مثلاً لِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ } ۔ (الزخرف : 59) ۔ سو محض معجزات کی بنا پر حضرت عیسیٰ کی الوہیت کا دعویٰ کرنا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ (محاسن التاویل اور مراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ صرف اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ جن سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اور وہ سب ہی مرد اور انسان تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ مِنْ اَھْلِ القُریٰ } ۔ (یوسف : 109) ۔ سو جب ان میں سے کسی میں بھی کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ نہیں تھا تو پھر حضرت عیسیٰ میں ایسی کوئی بات آخر کس طرح اور کیونکر ہوسکتی ہے ؟۔ پس نصاریٰ کا ایسا کہنا اور ماننا عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ اور اس طرح ان لوگوں نے بڑے ظلم اور افترا کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ -
192 صرف دو لفظوں میں عیسیٰ سے متعلق تمام مزاعم باطلہ کی تردید : سو یہاں پر اعجاز و ایجاز کلام کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ صرف دو لفظوں سے اہل کتاب کے تمام مزاعم باطلہ کی تردید و بیخکنی فرما دی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ ایک راستباز خاتون تھیں۔ سو یہاں پر صرف دو لفظوں سے یہود و نصاریٰ کے تمام مزاعم باطلہ اور ان کی جملہ شرکیات و کفریات کی تردید کردی گئی۔ پس نہ تو حضرت مریم بدکار تھیں، جیسا کہ یہود بےبہبود نے ان پر بہتان طرازی کی تھی۔ اور نہ ہی وہ خدا تھیں، جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی سچی اور حق و صداقت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں قرآن حکیم کی یہ مقدس تعلیمات جو کہ افراط وتفریط کے ہر شائبہ سے پاک اور بری ہیں۔ اور کیسی اعجاز بیانی ہے اس فرقان حمید کی کہ صرف مبتدا و خبر سے بننے والے اس چھوٹے سے جملے ۔ { وَاُمُّہُ صِدِّیْقَۃ } ۔ نے یہود و نصاریٰ دونوں کے تمام مزعومات باطلہ اور ان کی جملہ شرکیات و کفریات اور گمراہیوں کی جڑ نکال دی۔ اور اصل حقیقت کو نکھار کر ایسا واضح فرما دیا گیا کہ کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ جاتا ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ-
193 الوہیت مسیح کی تردید کے لیے ایک سادہ اور موثر و وقیع دلیل کا ذکر : سو الوہیت مسیح کی تردید کے لیے ایک سادہ مگر موثر و وقیع دلیل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں یعنی حضرت عیسیٰ اور مریم کھانا کھایا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ جو کھانا کھائے وہ کبھی خدا نہیں بن سکتا۔ کیونکہ کھانا کھانے والا اس کائنات کی کتنی ہی چیزوں کا محتاج ہوتا ہے۔ اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ پس حضرت عیسیٰ اور ان کی والدئہ ماجدہ کی خدائی کا دعویٰ بدیہی طور پر باطل ہے۔ سو یہ جملہ بھی اپنے سابقہ جملے کی طرح اعجاز بیانی کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اور ایسا کہ ایک عامی اس کے سرسری مفہوم و مضمون سے مطمئن ہوجائے اور ایک عالم کو اس میں معانی و مطالب کی ایک دنیا مل جائے ۔ فلِلّٰہ الحمدُ رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی مقام سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ اور مریم دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور جو کھانا کھاتا ہو وہ کبھی خدا نہیں ہوسکتا کہ وہ خود سرتاپا محتاج ہے۔ اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ اور خدا وندقدوس جو کہ معبود برحق ہے اس کی صفت و شان ۔ { ہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ } ۔ (الانعام : 140) کی ہے۔ یعنی " جو سب کو کھلاتا ہے خود کھاتا نہیں "۔ اور یہ شان جب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو معبود برحق بھی اس کے سوا نہ کوئی ہے نہ ہوسکتا ہے۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
194 مت ماری کی سزا ایک ہولناک سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو مت ماری کی سزا ایک ہولناک سزا ہے جس سے ایسے لوگ اندھے اور اوندھے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی ایسے کھلے روشن اور واضح دلائل کے باوجود حضرت عیسیٰ کی الوہیت جیسے شرکیہ عقائد رکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جن لوگوں کی مت ان کے کفر و شرک کی بنا پر مار دی جاتی ہے ان کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ اور وہ ایسے اندھے اور اوندھے ہوجاتے ہیں کہ ان کو نہ سیدھی راہ دکھتی ہے اور نہ حق بات سمجھ آتی ہے۔ اور { یُؤْفَکُوَنِ } " اِفْکٌ " سے ماخوذ ہے۔ جسکے معنیٰ الٹا اور اوندھا کردینے کے آتے ہیں۔ سو اس لفظ سے یہی مضمون مفہوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے اور یہ اوندھے اور اندھے ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دیکھ لو ہم کس طرح کھلے اور صاف دلائل کو بیان کرتے ہیں جس سے حق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے مگر ان لوگوں کی مت ایسی مار دی گئی کہ اس کے باوجود ان کو حق بات سمجھنے کی توفیق نہیں ملتی۔ اور یہ لوگ اس سب کے باوجود حلول اور اتحاد جیسے کفریہ اور شرکیہ عقائد میں مبتلا ہیں اور طرح طرح کے اندھیروں میں ڈبکیاں کھا رہے ہیں۔ سو مت ماری کی سزا ایک بڑی ہولناک سزا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:77196 دین میں غلو اور حد سے بڑھنے کی ممانعت : سو اہل کتاب سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے دین کے بارے میں غلو مت کرو کہ یہ جڑ ہے فساد و انحراف کی۔ اور اسی کی بنا پر تم لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدئہ ماجدہ کو خدائی منصب پر بٹھا دیا۔ اور اس شرک کو تم نے اپنے دین میں داخل کردیا جس کو مٹانے ہی کے لئے یہ دین آیا تھا۔ اور جس فریضہ کی ادائیگی کیلئے حضرت عیسیٰ تشریف لائے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ افسوس کہ غلو اور افراط کا یہ مرض آج مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہے۔ اور اس سے جنم لینے والے فساد کے نت نئے مظاہر جگہ جگہ اور طرح طرح سے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حضرات اہل علم فرماتے ہیں کہ غلو افراط وتفریط دونوں طریقوں سے ہوتا ہے۔ تفریط یہ کہ کسی کو اس کے اصل مرتبہ و مقام سے گرا دیا جائے۔ یہود نے زیادہ تر اسی غلو کا ارتکاب کیا۔ اور اس بنا پر انہوں نے اللہ کے نبیوں کی توہین کا ارتکاب کیا۔ اور یہاں تک کہ انہوں نے حضرات انبیائے کرام کے قتل تک کا ارتکاب کیا۔ اور حضرت موسیٰ کی طرح طرح توہین اور ایذا رسانی کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ نصاریٰ نے اس کے برعکس افراط کے غلو سے کام لیا اور حضرت عیسیٰ اور ان کی والدئہ ماجدہ کو خداوند قدوس کی خدائی میں شریک کر ڈالا۔ اور ایک کی بجائے تین خداؤں کا وہ گورکھ دھندا گھڑ لیا جو ۔ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ افسوس کہ غلو فی الدین کا یہ جرم آج امت مسلمہ کے اندر بھی موجود ہے۔ اور طرح طرح سے اس کا ارتکاب کیا جا رہا ہے جس کے طرح طرح کے مظاہر اور نمونے جگہ جگہ پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
197 اتباع ہویٰ کا نتیجہ ہولناک محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی پیروی مت کرو جو خواہشات کے پیچھے لگ گئے جس کے نتیجے میں انہوں نے گمراہ کردیا بہت لوگوں کو اور وہ بھٹک گئے سیدھی راہ سے۔ اور سیدھی راہ سے محرومی دارین کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ بھٹک گئے افراط وتفریط سے پاک حق و صداقت کی اس شاہراہ عظیم سے جو کہ انسان کو دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے ہم کنار کرنے والی راہ ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ سو اس راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر یہ بدنصیب دارین کے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور راہ حق سے بھٹکنے کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب اتباع ہویٰ ہے کہ اس کی بنا پر انسان ھُدـیٰ کی بجائے ہویٰ کی راہ پر چل پڑتا ہے جس سے اس کی مت مار دی جاتی ہے اور اس کی کھوپڑی اوندھی، عقل اندھی ہوجاتی ہے۔ اور غلو فِی الدّین کا روگ اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ اسی لئے حضرت امام الانبیاء نے اپنی امت کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " تم لوگ میری اس طرح کی مبالغہ آمیز تعریف نہ کرنا جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ بیٹے مریم کے بارے میں کی "۔
Ayah 5:78198 بنی اسرائیل کے منکروں پر لعنت کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بنی اسرائیل میں کے منکروں پر چاروں آسمانی کتابوں میں لعنت کی گئی۔ سو ان پر زبور میں بھی لعنت کی گئی ہے اور انجیل میں بھی۔ اَصحاب السبت پر لعنت ہوئی تو وہ مسنح ہو کر بندر اور خنزیر بنا دیے گئے۔ اور اسی طرح اصحاب مائدہ پر بھی لعنت ہوئی تو وہ بھی اپنے اس برے انجام سے دوچار ہوئے جو ان کے لائق تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (صفوۃ التفاسیر، تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ سو بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت قدیم ہے۔ زبور، انجیل، تورات اور قرآن حکیم سب ہی میں ان پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ حضرات اہل علم سے مروی ہے کہ یہود نے فخر جتلاتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ نبیوں کی اولاد ہیں۔ تو اس پر اس ارشاد ربانی کے ذریعے بتلایا گیا کہ یہ لوگ فخر کے لائق نہیں بلکہ ملعون لوگ ہیں۔ (خازن، جامع البیان وغیرہ) ۔ اور ان پر یہ لعنت ان کے اپنے اختیار کردہ کفر و انحراف کی بنا پر ہوئی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:79199 بنی اسرائیل کے اس ہولناک انجام کے اسباب و وجوہ کا ذکر وبیان : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ان بدبختوں کا یہ ہولناک انجام اس لیے ہوا کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی ہی کرتے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے تھے۔ اور یہ لوگ رکتے تھے ان برائیوں سے جن کا ارتکاب یہ کر رہے تھے۔ اور بڑے ہی برے کام تھے وہ جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ سو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ مسلمان آج اس اہم فریضے سے غافل ہے ۔ اِلا ماشاء اللہ ۔ حالانکہ حضور نے فرمایا کہ " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تمہیں نیکی کی تعلیم بہرحال دینا ہوگی اور برائی سے روکنا ہوگا ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے کہ اس کے بعد تم اس کو پکارو بھی تو تمہاری شنوائی نہ ہو "۔ (ترمذی : کتاب الفتن، مسند امام احمد) ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر اس آیت کریمہ میں جو لفظ۔ { یَتَنَاہَوْنَ } ۔ اِرشاد ہوا ہے اس کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو طرفین سے متعلق قرار دیا جائے۔ یعنی وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھے۔ اور دوسرے یہ کہ اس کو " تَنَا ھیٰ " بمعنی لازم سے مانا جائے۔ یعنی یہ کہ وہ برائی سے خود رکتے نہیں تھے۔ حضرات اہل علم نے ان دونوں احتمالوں کی تصریح کی ہے۔ (جامع البیان، مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ اپنے ترجمہ میں ہم نے ان دونوں کو ذکر کردیا ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو مومن کی شان یہ ہے کہ وہ برائی سے خود بھی رکے اور دوسروں کو بھی روکے کہ اس سے صلاح بھی مطلوب ہے اور اصلاح بھی۔ اور انہی کے پاس اس وقت صلاح و اصلاح کرنے والا وحی خداوندی کا وہ نورمبین موجود ہے جو حضرت حق کی طرف سے اتارا گیا ہے جبکہ باقی تمام دنیا اندھیروں میں پڑی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 5:80200 دعویٰ ایمان کا اور کام کفر کا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آج بھی تم ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ یہ ایمان والوں کے مقابلے میں ان لوگوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر۔ اور ایسا یہ لوگ دراصل حسد اور اتباع ہویٰ کی بنا پر کرتے ہیں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حسد اور اتباع ہویٰ باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حسد و ہوائے نفس انسان کو ہلاکت کے گہرے کھڈے میں جاگراتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم آج بھی ان اہل کتاب میں سے بہت سے ایسوں کو دیکھوگے جو ایمان والوں کے مقابلے میں کھلے کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ یعنی مشرکین مکہ سے محض اسلام اور پیغمبر اسلام کی دشمنی کی وجہ سے۔ ورنہ یہ لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ مکہ کے یہ لوگ پکے مشرک اور بت پرست ہیں۔ کسی آسمانی دین اور کتاب کے قائل نہیں۔ جبکہ یہ لوگ خود آسمانی دین اور کتاب کے قائل ہیں۔ اور اس بنا پر یہ لوگ اس بات کو بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ حق وہی ہے جس کو محمد نے پیش کیا ہے ﷺ مگر اس کے باوجود اہل کتاب ہونے کے دعویدار یہ لوگ مشرکین مکہ سے دوستی کا دم بھرتے ہیں۔ حسد و ہٹ دھرمی اور اتباع ہوٰی اور ضد اور بغض و عنادنے ان کو اس حد تک ہاویے میں گرا دیا تھا۔ سو حسد اور ہوائے نفس کی پیروی ایسی بری خصلتیں ہیں جو انسان کو ہلاکت و تباہی کے ایسے گہرے کھڈے میں جاگراتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے ان لوگوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود اہل ایمان کے مقابلے میں کفار و مشرکین سے دوستی کی پینگیں بڑھائیں۔ اور کل کی طرح آج بھی یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار و مشرکین کا ساتھ دیتے اور ان کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اور ایمان کا دعویٰ کرنے اور اس کا زعم اور گھمنڈ رکھنے کے باوجود یہ لوگ کھلے کفر و شرک کا ساتھ دیتے ہیں۔ سو بڑا ہی برا ہے وہ سامان جو ان لوگوں کے لیے آگے بھیجا ان کے نفسوں نے۔ جس کی وجہ سے اللہ ان پر ناراض ہوا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو ہمیشہ عذاب میں رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
201 یہود کا اپنے پیغمبر پر بھی ایمان نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہوتے اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر یعنی اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ ۔ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ پر۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) تو ان کا یہ حال کبھی نہ ہوتا۔ سو ان لوگوں کا ایمانداری کے دعو وں کے باوجود اپنے پیغمبر پر ایمان نہیں ہے۔ ورنہ ان کا حال کبھی یہ نہ ہوتا۔ سو ان کا عمل و کردار ان کے دعوائے ایمان کی نفی کرتا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو یہ لوگ اللہ پر اور اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ پر ایمان کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن یہ ایماندار ہیں نہیں۔ ورنہ یہ اہل ایمان کے مقابلے میں کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی کا دم نہ بھرتے۔ بھلا اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ ایمان والوں کی دوستی آخر کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟۔ سو ایسے لوگ اپنے ایمان و یقین کے دعوے بیشک کریں لیکن یہ ایماندار ہیں نہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:81202 یہود کا اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہوتے اس کتاب پر جو ان لوگوں کی طرف اتاری گئی۔ یعنی تورات پر جو کہ ان کے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ پر اتاری گئی تھی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) تو یہ لوگ ایسا کبھی نہ کرتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان کا دراصل اپنے دین اور اپنی کتاب اور اپنے پیغمبر پر بھی ایمان نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایسے کافر لوگوں کو اپنا دوست کبھی نہ بناتے۔ سو اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر و باطل اور شرک و مشرکین سے محبت و دوستی رکھنے کا ان لوگوں کا یہ طرز عمل اس بات کا ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کا خود اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں۔ (المراغی، المحاسن، المدارک، الصفوۃ اور الفتح وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
203 ایمان کا تقاضا کہ دوستی صرف ایمان والوں سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہوتے اللہ پر، اس کے پیغمبر پر اور اس کتاب پر جس کو اتارا گیا ان کی طرف تو یہ لوگ کبھی ان کفار و مشرکین کو اپنا دوست نہ بناتے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے ایمان والے کفر والوں سے کبھی دوستی نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ مومن صادق اور سچا خدا پرست انسان اہل ایمان کے مقابلے میں کسی کافر و مشرک کو کبھی اپنا دوست نہیں بنا سکتا۔ اور انہوں نے جب ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنا لیا تو اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ اپنے ایمان کے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ لوگ اپنے ان دعو وں میں سچے ہوتے تو اس طرح کبھی نہ کرتے کہ ایمان والوں کے مقابلے میں کفر و شرک والوں سے دوستی رکھتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی لحاظ سے اہل کفر و باطل کے ساتھ ظاہری میل ملاپ رکھنا اور خاطر مدارات کرنا الگ چیز ہے لیکن ان سے دلی تعلق اور دوستی رکھنا کسی مومن صادق کے لئے ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
204 اکثریت فاسقوں اور بدکاروں کی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق اور بدکار ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرنے والے ہیں۔ اور اسی لئے یہ لوگ کفار و مشرکین سے دوستی رکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ عوام کی اکثریت کی تائید و تردید کسی امر کے حق یا باطل ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی کہ عوام کی اکثریت فاسقوں اور بدکاروں ہی کی ہوتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے اکثر فاسق و بدکار ہیں اور کفار و مشرکین کے ساتھ ان کی دوستی اس بات کا کھلا ثبوت اور اس کی واضح علامت ہے کہ یہ لوگ اپنے ایمان و یقین کے دعو وں میں جھوٹے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 5:82–83205 مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمنوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمن یہود اور مشرکین ہیں ـ کہ مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد میں یہ دونوں گروہ باہم متفق ہیں۔ نیز یہ دونوں گروہ تکبر، ہٹ دھرمی، ظلم و زیادتی، ایذا رسانی، مادہ پرستی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے جیسے خصال بد میں باہم شریک اور ایک ہی جیسے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں کو دکھ دینے، انکو تکلیف پہنچانے اور ان کی ایذا رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے گھر سے بےگھر کردیا۔ ہجرت پر مجبور کیا۔ اور آپ ﷺ کے قتل تک کے منصوبے ان لوگوں نے بنائے وغیرہ۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس آیت کریمہ میں یہود کو اہل کتاب اور ایمان کے دعویدار ہونے کے باوجود مشرکین کے برابر اور ان کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ اور قرآن حکیم میں اس کے علاوہ بھی دوسرے مختلف مقامات پر اسلام دشمنی کے سلسلے میں ان دونوں گروہوں کے ہم مشرب اور ہم آہنگ ہونے کو واضح فرمایا گیا ہے۔ اور یہاں پر اس حقیقت کے اعلان و اظہار سے مقصود یہود کے دعوائے تقدس و برتری کی تردید کرنا ہے کہ یہ لوگ دعویٰ تو اپنی برتری کا کرتے ہیں لیکن اسلام دشمنی میں یہ ہلاکت و تباہی کے ایسے ہولناک گڑھے میں جا گرتے ہیں اور دوستی و یارانہ یہ لوگ کھلے مشرکوں سے رکھتے ہیں۔ اور حامل کتاب ہونے کے باوجود یہ لوگ بت پرستوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ وہ بھی اسلام دشمنی میں اور مسلمانوں کے خلاف۔ سو یہ دینی و ایمانی انحطاط اور اخلاقی بگاڑ کی انتہا ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ اور اس بری طرح سے مبتلا ہیں کہ ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں کہ اپنی اس روش سے ہم لوگ اپنا کس قدر نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اشرار کے ہر قسم کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
206 اہل ایمان سے نسبتا زیادہ قرب رکھنے والے لوگ ؟ : سو اس ارشاد سے نصاریٰ کی اہل ایمان سے نسبتا زیادہ قربت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہود اور مشرکین کے مقابلے میں نصاریٰ مسلمانوں کے زیادہ قریب اور ان سے دوستی رکھنے والے ہیں۔ اور یہود اور مشرکین کے مقابلے میں یہ لوگ مسلمانوں کے زیادہ قریب ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کے سچے دوست اور خیر خواہ یہ بھی نہیں ہیں۔ لیکن ان کے مقابلے میں یہ لوگ پھر بھی غنیمت ہیں اور نسبتہً یہ لوگ مسلمانوں کے زیادہ قریب ہیں۔ اور ان میں سے بھی وہ لوگ جو اس ارشاد ربانی کے اصل مخاطب اور اولین مصداق ہیں۔ یعنی حبشہ کے وہ نصاریٰ جنہوں نے نزول قرآن اور ابتدائے امر کے اس مشکل دور میں مسلمانوں کا ساتھ دیا جبکہ مسلمان ہجرت کرکے وہاں پہنچے تھے۔ اور انہی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (معارف، محاسن اور المراغی وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ میں یہود کے مقابلہ میں نصاریٰ کی تعریف فرمائی گئی ہے کہ وہ یہود کی نسبت مسلمانوں کے زیادہ قریب ہیں اور ان سے دوستی رکھنے والے ہیں۔ اور قرائن دلیل ہیں کہ اس سے مراد وہ عام مسیحی نہیں ہیں جو پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کے پیرو اور تثلیث و کفارہ جیسے شرکیہ عقائد کے قائل اور اسلام دشمنی میں اعدائے اسلام کے سرخیل ہیں۔ بلکہ اس سے مراد سیدنا مسیح کے خلیفہ راشد شمعون صفا کے پیرو اور حقیقی عیسائیت کے علمبردار ہیں۔ جو توحید اور دین حق کے بنیادی اصولوں پر قائم تھی۔
207 نصاریٰ کے نسبتا زیادہ قریب ہونے کی وجہ : سو اس ارشاد سے نصاریٰ کے مسلمانوں سے نسبتاً زیادہ قریب ہونے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی کہ ان کے اندر یہ خاص صفات پائی جاتی تھیں۔ـ تو اس علم، درویشی اور تواضع کی بنا پر مسلمانوں سے ان کی دشمنی نسبتاً کم ہے۔ اور یہود و مشرکین کے مقابلے میں یہ لوگ فی الجملہ غنیمت ہیں۔ سو نور علم اور تواضع و انکساری ان خصال خیر میں سے ہیں جو کافر کے اندر بھی محمود ہیں۔ اور وہ اس کے لیے بھی خیر اور اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اور انسان کی اصل خوبی اس کے عمل و کردار ہی سے ہے۔ جتنا اس کا ایمان و یقین سچا اور عمل و کردار اونچا ہوگا اتنا ہی اس کا مرتبہ و مقام بلند ہوگا۔ محض زبانی کلامی دعو وں اور بڑوں کے ساتھ انتساب کے زعم و گھمنڈ سے کچھ نہیں بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ حق و ہدایت کی سمجھ اور راہ حق و ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے نصاری کے اس قرب کی وجہ کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ چونکہ ان لوگوں کے اندر علماء و زہاد اور ایسے تارک الدنیا لوگ موجود ہیں جو اپنی بڑائی کا گھمنڈ نہیں رکھتے۔ اس لیے یہ لوگ یہود کے کبر و غرور اور ان کی اکڑ سے محفوظ ہیں۔ سو اس بنا پر یہ لوگ یہود کی نسبت اہل ایمان کے زیادہ قریب ہیں۔ اور یہ چیز چونکہ دور حاضر کے عیسائیوں کے اندر نہیں پائی جاتی۔ اس لیے یہ لوگ اس ارشاد کا اصل مصداق نہیں بن سکتے۔
Ayah 5:84210 ِ صدق و اخلاص کا نتیجہ رجوع الی الحق : سو اس سے صحت باطن اور صدق دل کے آثار وثمرات کا ایک عمدہ نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ـسو ایسے لوگ اپنے باطن کے صدق و صفا کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک بخت لوگوں کے ساتھ اپنی رحمت میں داخل فرما دے۔ یعنی انبیاء و مومنین کے ساتھ جنت میں۔ (محاسن التاویل) ۔ یعنی ایسے میں جبکہ ہم یہ طمع بھی رکھتے ہیں اور حق بھی ہمارے پاس پہنچ گیا ہے ہمیں ضرور اس دین حق پر ایمان لے آنا چاہیئے کہ اس کے بعد اس ضمن میں ہمارے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔ پس جب انسان کی فطرت صحیح ہو تو وہ ندائے حق کے جواب میں ایسے ہی دل و جان سے لبیک کہتا ہے۔ اور حق کی اس دعوت وپکار کو وہ اپنے ضمیر و وجدان کی آواز پکار سمجھتا ہے۔ روایات میں وارد ہے کہ یہ بات ان حضرات نے ان یہود وغیرہ اعدائے اسلام کے جواب میں کہی جنہوں نے ان کو عار دلائی اور طعنہ دیا کہ تم کیسے لوگ ہو کہ فوراً اس دین پر ایمان لے آئے ہو۔ حالانکہ تم نے اس نئے پیغمبر کو دیکھا بھی نہیں وغیرہ۔
Ayah 5:85211 جنت کی نعمتوں کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں ایسے صاف ستھرے اور کیف آور پانی کی نہریں جس میں نہ کبھی کوئی سٹراند پیدا ہو اور نہ کسی طرح کی کوئی بدمزگی آئے۔ اور ایسے عمدہ اور مزیدار دودھ کی نہریں جو نہ کبھی بدلے نہ پھٹے۔ اور ایسی عمدہ و بےمثل شراب کی نہریں جو سراسر لذت ہونگی پینے والوں کے لئے۔ اور ایسے صاف و شفاف شہد کی جس میں کسی طرح کی کوئی آمیزش نہ ہو۔ جیسا کہ سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں اس بارے میں وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَہْلِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ انسان جنت کی ان عظیم الشان نعمتوں کے حصول اور ان سے سرفرازی ہی کو اپنی زندگی کا نصب العین اور اصل مقصود بنائے۔ یہ مقصد اگر حاصل ہوگیا اور اس سے سرفرازی نصیب ہوگئی تو سب کچھ مل گیا۔ نہیں تو کچھ بھی ملا نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وعَلا، فایاہ نسال سبحانہ وتعالیٰ التوفیق لما یُحِبُّ وَیَرْضٰی وعلی ما یُحِبُّ وَیَرْضٰی ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر استقامت بخشے ۔ آمین۔
Ayah 5:86212 منکروں کا انجام دوزخ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے رہے ہوں گے کفر و باطل پر ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ یار ہوں گے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے۔ " ـ جَحِیْم " دراصل اس آگ کو کہا جاتا ہے جس کو کسی گہرے گڑھے میں جلایا جائے تاکہ اس کی لہیب یعنی شعلہ زنی اور دہک میں کمی نہ آنے پائے۔ (تفسیر التحریر والتنویر للعلامۃ ابن عاشور ) ۔ پھر دوزخ کی وہ آگ ایسی سخت اور اس قدر ہولناک ہوگی کہ ان کو چھوڑے گی بھی نہیں کہ وہ اس سے کوئی راحت و سکون پاسکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ اس طرح چمٹی اور لپٹی رہے گی جس طرح کہ ایک دوست دوسرے دوست سے اور ایک ساتھی دوسرے ساتھی کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔ اسی لئے یہاں پر { اَصْحَابُ الْجَحِیْم } فرمایا گیا ہے جو کہ جمع ہے " صاحب " کی۔ جسکے معنیٰ ساتھی اور دوست کے آتے ہیں۔ یعنی ایسے لوگ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ کے ساتھی اور اس کے یار ہوں گے۔ نہ وہ آگ ان کو چھوڑے گی اور نہ یہ کبھی اس سے الگ ہو سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ عام طور پر اس کا ترجمہ " جہنمی " یا " دوزخی " وغیرہ جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے وہ پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا جو کہ { اَصْحَابُ الْجَحِیْم } کے الفاظ کے اندر پایا جاتا ہے۔ سو ہم نے اپنے ترجمے میں اسی کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ اور دوزخ کی وہ آگ چونکہ دنیاوی آگ کی طرح اندھی بہری آگ نہیں ہوگی کہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے، بلکہ وہ ایسی آگ ہوگی جو مجرم کو اور اس کے جرم کو پہچانتی ہوگی۔ اس لئے وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گی جس کا وہ اپنے کفر و باطل اور اپنے جرم و قصور کی بنا پر اہل اور مستحق ہوگا۔ کہ وہ دلوں تک جھانکنے والی آگ ہوگی۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا گیا ۔ { اَلَِّتی تَطَّلِعُ عَلَی اْلاَفْئِدَۃ } ۔ (الھمزۃ : 7) ۔ نیز فرمایا گیا کہ ۔ { تَدْعُوْ مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی } ۔ (المعارج : 17) یعنی وہ آگ بلاتی پکارتی ہوگی ان لوگوں کو جن کے دنیا میں یہ اور یہ کرتوت رہے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو جن لوگوں نے زندگی بھر اپنے کفر و باطل اور حق دشمنی کو سینے سے لگائے رکھا ہوگا وہ اسی لائق ہوں گے کہ وہ ایسی دہکتی بھڑکتی آگ کے ساتھی اور یار قرار پائیں جس سے وہ کبھی چھٹکارا نہ پاسکیں۔ اپنے خود کردہ جرم عظیم اور گناہ سنگین کے نتیجے میں تاکہ ان کو بھرپور بدلہ ۔ جزاء وفاق ۔ مل سکے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 5:87213 تحریم طیبات کی ممانعت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کہیں ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہیں ٹھہرادینا جو اللہ نے تمہارے لیے حلال فرمائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام کرنا تقویٰ کا تقاضا نہیں بلکہ کفران نعمت اور ناشکری کے زمرے میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ صحیحین ۔ صحیح بخاری و مسلم ۔ وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات نے غلبہ شہوت سے بچنے کے لئے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے اور قطع شہوت کے لئے دوسرے فلاں فلاں کام کریں گے۔ تو اس بارے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (بخاری : کتاب النکاح، مسلم : کتاب النکاح، ترمذی : کتاب التفسیر) جس کے ذریعے سے تحریم طیبات سے منع فرما دیا گیا۔ جس سے یہ عظیم الشان درس دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری کا مطلب اور تقاضا یہ نہیں کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی پیدا کردہ اور مرحمت فرمودہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دیا جائے بلکہ اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کے اس کرم و احسان کا تقاضا یہ ہے کہ اسکی بخشی ہوئی ان پاکیزہ چیزوں کو اسی کی تعلیمات کے مطابق اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر رہتے ہوئے صحیح طور پر استعمال میں لایا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اور اس کرم و احسان پر اس وحدہ لاشریک کا شکر بجا لایا جائے تاکہ اس طرح اس کی عطا فرمودہ یہ نعمتیں دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن جائیں۔ جیسا کہ ارشاد نبوی میں فرمایا گیا کہ " کھا کر شکر ادا کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ روزہ رکھ کر صبر کرنے والا " ۔ " الطَّاعِمُ الشّاکِرُ کَالصَّائِمِ الصَّابِرِ " ۔ وَ باللّٰہ التَّوْفِیْقِ-
214 حدود سے تجاوز کرنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم حدوں سے نہیں بڑھنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ حدوں سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی ان حدود سے جو کہ شریعت مقدسہ نے تمہارے لئے مقرر فرمائی ہیں کہ ان میں خود تمہارا ہی بھلا ہے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی۔ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے جن چیزوں کو حرام فرمایا ہے وہ گنتی کی اور چند ایک ہیں۔ اور ان کی حیثیت اللہ تعالیٰ کی حدود کی ہے۔ ان کو پھلانگنا اور تجاوز کرنا ممنوع و محظور ہے۔ اور جو کوئی اپنی حماقت اور سرکشی کی بنا پر ان کو پھلانگے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ معتدی اور ظالم ہوگا۔ جس کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اگر غور کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ دین و دنیا کے ہر معاملے میں اصل چیز حدود کی پابندی ہی ہے۔ اور حدود سے تجاوز میں خرابی و فساد۔ اس لیے قرآن حکیم میں جگہ جگہ حدود کی پابندی اور ان کے التزام کا درس دیا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:88215 نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر وسپاس خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کھاؤ [ پیو ] تم لوگ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم کو اللہ نے عطا فرمائی ہیں۔ اور اس نے تم کو وہ محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائیں ورنہ تمہارا نہ کوئی حق تھا نہ استحقاق۔ اور نہ ہی کوئی سوال و درخواست۔ سو کتنا کرم اور کس قدر فضل واحسان ہے اس وحدہ لاشریک کا تم پر۔ پس اس کے بدلے میں تم لوگ سراپا شکر وسپاس بن جاؤ اس واہب مطلق کیلئے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اس واہب مطلق کیلئے سراسر شکر وسپاس بن جائے تاکہ اس طرح اس کا حقِّ شکر بھی ادا ہو اور تاکہ اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بھی بن سکیں ۔ اللّٰھُم ارْزُقْنَا التََّوْفِیْقَ لِذَالِکَ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے دو بڑے عظیم الشان درس دیئے گئے۔ ایک یہ کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ۔ { وَمَا بِکُمْ مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضّرُّ فَاِلَیْہِ تَجَْرَأُٔوْنَ } ۔ (النحل :53) اور دوسرا اہم درس اس ارشاد سے یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کی بخشی ہوئی ان گوناگوں نعمتوں سے فائدہ اٹھائے اور ان پر دل و جان سے اس واہب مطلق کا شکر ادا کرے ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِید وعلی ما یحب ویرید -
216 اکل طیبات کیلئے دو شرطیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کھاؤ پیو پاکیزہ چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ۔ سو اکل طیبات کیلئے تو دو شرطیں ہوگئیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز حلال ہو حرام نہ ہو۔ اور دوسری یہ کہ حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پاکیزہ بھی ہو۔ اسمیں کوئی ناپاک چیز شامل نہ ہو۔ تو جب حلال و پاکیزہ چیزیں بیشمار ہیں اور ان کو کھانے اور استعمال کرنے کی تمہیں اجازت بھی ہے۔ اور حرام چیزیں اس کے مقابلے میں بہت تھوڑی اور گنی چنی تو پھر تم لوگوں کو ان حلال اور پاکیزہ چیزوں کو چھوڑ کر ناپاک اور ممنوع و محذور چیزوں کی طرف لپکنے اور ہاتھ بڑھانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟۔ پس تم لوگوں کیلئے صحت و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ تم اپنے خالق ومالک کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر حلال اور پاکیزہ چیزوں سے استفادہ کرو۔ اور اس پر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرو ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
217 تقویٰ و پرہیزگاری ایمان کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اس اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم ہمیشہ اور ہر حال میں اس وحدہ لاشریک سے ڈرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ ورنہ ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ ہوگا جس سے اصل مقصد پورا نہیں ہوسکتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری ایمان کا لازمی تقاضا اور ثبوت ہے۔ اسی لیے یہاں پر اس کو ایمان کیلئے شرط قرار دیا گیا ۔ وباللّٰہِ التوفیق ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو اگر تم لوگ واقعی ایماندار ہو ۔ وباللّٰہِ التوفیق ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری سے محرومی کی صورت میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایمان و یقین کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ بن کر رہ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 5:89218 یمین لغو پر کوئی مواخذہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تمہاری لغو (اور بےمقصد) قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا۔ " یمین لغو " یہ کہ یونہی قسم کھالی جائے۔ جیسے عرب لوگ بلاقصد و ارادہ " لَا وَاللّٰہِ " اور " بَلٰی وَاللّٰہِ " کے الفاظ سے قسمیں کھالیا کرتے تھے اور آج بھی کھاتے ہیں۔ اسی طرح جو قسم بھولے سے کھائی جائے یا ظنِّ غالب کی بنا پر کھالی جائے وغیرہ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ البیان، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ کیونکہ ان میں سے کسی بھی قسم میں حالف کی طرف سے قسم کا قصد و ارادہ نہیں پایا جاتا۔ اور مو اخذہ و عدم مواخذہ کا مدارو انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ اور " یمین غموس " جو گزشتہ کسی کام کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھالی جائے۔ اس پر دنیاوی مواخذہ یعنی کفارہ اگرچہ نہیں ہوتا لیکن اخروی مواخذہ یعنی گناہ اور اس کا وبال تو بہرحال ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ کبیرہ گناہ ہے۔ اسی لئے اس کو غموس کہتے ہیں جس کے معنیٰ غوطہ لگانے کے آتے ہیں۔ کیونکہ ایسے شخص نے گویا گناہ کے اندر غوطہ لگا لیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے میں لغوکا ترجمہ " بیہودہ قسموں " سے کرنا صحیح نہیں لگتا، جیسا کہ اردو تراجم میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ کیونکہ بیہودہ کا لفظ اور معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہاں پر مقصد اور ہے ۔ والعلم عند اللّٰہ تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ حق سمجھنے اور کہنے کی توفیق دے ۔ آمین ثم آمین۔
219 مواخذہ یمین منعقدہ پر ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہاری ان قسموں پر تمہاری گرفت ضرور فرمائے گا جو تم لوگوں نے اپنے قصد (وارادہ) سے کھائی ہوں۔ یعنی ایسی قسم پر جو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کیلئے کھائی گئی ہو۔ ایسی قسم کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے۔ اور اس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ اس کے توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے جو کہ آگے بیان فرمایا جا رہا ہے۔ سو مواخذہ اور کفارہ ایسی ہی قسم پر ہوتا ہے جو کہ یمین منعقدہ کہلاتی ہے جس کو یہاں پر " عقد " کے لفظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہ قسمیں جو تم نے دل کے پختہ قصد و ارادے سے کھائی ہوں۔ اور ایسی ہی قسموں کے بارے میں سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلٰکِنْ یُؤْاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ } ۔ یعنی " وہ ان قسموں پر تمہاری گرفت فرمائے گا جو تم نے اپنے دل کے ارادے سے کھائی ہوں "۔ اور پھر ان کو توڑ دیا ہو ۔ والعیاذ باللہ -
220 یمین منعقدہ کے توڑنے پر کفارہ : یعنی یہاں پر عبارت میں حذف ہے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور یہ ایک ظاہر و باہر امر ہے۔ کیونکہ کفارہ محض قسم پر نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے توڑنے پر ہی ہوسکتا ہے یعنی " حِنْث " پر۔ اسی کی طرف ہم نے اپنے ترجمے میں اشارہ کیا ہے۔ یعنی بین القوسین کی عبارت بڑھا کر۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندوں کی غیر اختیاری قسموں پر تو کوئی گرفت و مواخذہ نہیں لیکن جو قسمیں دل کے کسب و ارادے سے کھائی گئی ہوں، جن کے ذریعے کوئی عہد و پیمان بندھتا ہو، جن سے حقوق و فرائض کے سلسلے میں کوئی اثر مرتب ہوتا ہو یا جو شریعت کی تحلیل و تحریم میں خلل انداز ہوں، ان پر اللہ تعالیٰ گرفت و مواخذہ فرمائیگا۔ اللہ تعالیٰ کے نام پاک کو جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، خلاف شرع یا جھوٹی قسموں کا ہدف بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پس اس طرح کی قسم کھانے کے بعد جب کوئی اس کے " حِنْث " یعنی توڑنے کا مرتکب ہوگا اس کو کفارہ دینا پڑیگا۔ جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
221 کفارئہ یمین کی تین صورتوں کا بیان : سو یمین منعقدہ کے کفارے میں حانث کو تین باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے۔ پس حانث کو ان تینوں باتوں میں اختیار ہے چاہے تو وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا ان کو کپڑا پہنائے یا کوئی گردن آزاد کرے۔ کہ حرف " اَو " یہاں پر تخییر کے لئے ہے۔ جمہور کا یہی کہنا ہے۔ (جامع، محاسن، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور اگر ان تینوں میں سے کوئی بھی نہ کرسکے تو پھر وہ تین دن کے روزے رکھے پے در پے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب کفارئہ یمین کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرت حذیفہ ؓ نے اللہ کے رسول کی خدمت میں غرض کیا کہ کیا ہمیں اس بارے اختیار دیا گیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ہاں تمہیں اس بارے اختیار ہے۔ اگر تم چاہو تو ایک غلام آزاد کرلو اور چاہو کپڑے پہنا دو اور چاہو تو کھانا کھلا دو ۔ اور جو کوئی ایسا نہ کرسکے وہ لگاتار تین دن روزے رکھے۔ (المراغی، المحاسن اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف یمین منعقدہ میں " حِنْث " کی صورت میں مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ کفارہ دینا ہوگا۔
222 قسموں کی حفاظت کی تلقین وتعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ حفاظت کیا کرو اپنی قسموں کی کہ اول تو قسم بلاوجہ اور فوری طور پر کھائی ہی نہ جائے۔ اسی لئے زیادہ قسمیں کھانا منافق کی خصلت بتائی گئی ہے۔ اور اگر کبھی قسم کھانا پڑجائے تو اسے توڑا نہ کرو۔ اور اگر کبھی توڑنا پڑجائے تو اس کا کفارہ ضرور ادا کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کے نام پاک کی تعظیم کے تقاضے پورے ہوسکیں اور دلوں میں اس کی عظمت شان اور جلالت قدر باقی رہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس میں یہ بھی داخل ہے کہ قسم صرف اللہ پاک کے نام ہی کی کھائی جائے کہ وہی ذات اقدس و اعلیٰ اس لائق ہے کہ اس کے نام پاک کی قسم کھائی جائے۔ اس کے سوا کسی اور کی نہ ایسی کوئی اہلیت اور صلاحیت ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے لئے کسی قسم کا کوئی جواز۔ اس لئے اس کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھانے کو کفر اور شرک قرار دیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ سب ہی صورتیں قسم کی حفاظت میں داخل ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ ویرِیْد وَعَلٰی ما یُحِبُ ویرید سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " حفاظت کیا کرو تم لوگ اپنی قسموں کی "۔
223 تبیین آیات ایک عظیم الشان نعمت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے تم لوگوں کے لیے اپنی آیتیں اور احکام۔ سو اللہ اسی طرح اپنے احکام بیان فرماتا ہے جس طرح یہاں پر قسم سے متعلق بیان فرمائے ہیں تاکہ تم لوگ ان کے مطابق عمل کرسکو۔ اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی روشنی میں اپنے مالوں اور اپنی زبانوں اور دوسرے اعضاء وجوارح کو صحیح طور پر استعمال کر کے اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کی نعمت سے سرفراز ہو سکو ورنہ تم اندھیروں میں غلطاں و پیچاں رہتے۔ سو تبیین آیات ایک عظیم الشان نعمت خداوندی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ ان کے ساتھ راہ حق اور اس کے تمام تقاضے پوری طرح واضح ہوجائیں۔
224 شکر نعمت ایک مطلب جلیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے تم لوگوں کے لیے اپنی آیات اور احکام تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو کہ شکر نعمت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی نعمت ہے۔ یعنی تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو اپنے اس ربِّ کریم کا جس نے تمہیں اپنی ان نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ اور اس کی نعمتوں کو بےجا صرف و استعمال نہ کرو جن میں سے ایک عظیم الشان نعمت زبان بھی ہے جو کہ دراصل اللہ پاک کے ذکر اور اس کی تقدیس و تعظیم ہی کے لئے پیدا فرمائی گئی ہے۔ پس اس واہب مطلق کا اس کی عطا فرمودہ نعمتوں پر شکر ادا کرکے تم لوگ اس کی رضا و خوشنودی سے سرفراز ہوسکو۔ اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن جائیں۔ شکر نعمت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی نعمت ہے۔ سو اس سب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اور دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے لئے سراپا شکر وسپاس بن جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرِیْدُ وَعَلٰی ما یُحِبُّ ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 5:90225 " نُصُب " کا معنیٰ و مفہوم : " نصب "، " نصاب " کی جمع ہے جیسے " کتب "، " کتاب " کی جمع ہے۔ اور " نصب " ان آستانوں اور خاص مقرر کردھ چیزوں کا نام جن کو مقرر اور نصب کرکے مشرکین ان کے پاس نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے اور نذرانے پیش کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی برصغیر کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں کھلے مشرکوں کے علاوہ بہت سے جاہل مسلمانوں نے بھی ایسے مختلف پتھر یا درخت وغیرہ مقرر کر رکھے ہیں جہاں ایسے جاہل لوگ جاکر جھنڈیاں باندھتے، نذر و نیاز پیش کرتے اور میلے ٹھیلے لگاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر " اَنصاب " اور " اَصنام " میں فرق یہ ہے کہ پتھر اگر صورت والا ہو تو وہ " صنم " ہوگا اور اگر اَن گھڑہو تو وہ " اَنصاب " ہے۔ (روح، بحر اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف جس کسی چیز کو بت وغیرہ کسی بھی شکل میں نذر و نیاز کے پیش کرنے کے لئے مقرر کیا جائے وہ " نصب " کہلائیگی۔ اور اس کے پاس پیش کی جانے والی نذر و نیاز حرام ہے کہ اس سے غیر اللہ کا تقرب مقصود ہوتا ہے جو کہ حرام ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
226 " اَزْلاَم " سے مقصود و مراد ؟ : " اَزْلَام " سے مراد جوئے کے وہ تیر ہیں جو ان لوگوں نے بیت اللہ کے مجاور کے پاس رکھے ہوتے تھے۔ اور پانسے کے یہ تیر دو قسم کے ہوتے تھے۔ ایک سے وہ لوگ جوا کھیلتے تھے اور ایک سے فال نکالتے تھے۔ (معارف ازکاندھلوی، المراغی اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یہ تمام امور چونکہ توہمات پر مبنی اور میسرۃ و قمار کے ذرائع میں سے تھے اس لیے اسلام نے ان کو حرام قرار دیا۔ اور جوئے کے ان تیروں سے وہ لوگ قسمت کا حال بھی معلوم کیا کرتے تھے۔ چناچہ کوئی غرض مند اپنے سفر تجارت یا شادی وغیرہ کسی چیز کے بارے میں حال معلوم کرنا چاہتا تو کسی کاہن کے پاس چلا جاتا جو تیر نکالتا۔ اور اس کے پاس تین قسم کے تیر ہوتے تھے۔ ایک پر لکھا ہوتا " نَعَم " یعنی " ہاں "۔ اور دوسرے پر " لا " یعنی " نہیں "۔ اور تیسرے پر کچھ بھی نہیں لکھا ہوتا تھا۔ پس اگر " نَعَم " یعنی " ہاں " والا تیر نکل آتا تو کاہن ان سے کہتا ہاں تم یہ کام کرلو۔ اور " لا " یعنی " نہیں " والا تیر نکلتا تو وہ ان سے کہتا نہیں تم یہ کام مت کرو۔ اور اگر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ ان سے کہتا کہ تم ابھی انتظار کرو۔ فی الحال کچھ بھی نہ کرو۔ پھر اس کے لئے آئندہ پھر اسی طرح سے فال گیری کی جاتی۔ اور وہ لوگ عوام الناس کو الو بناتے اور اپنا الو سیدھا کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حنیف نے ایسی تمام خرافات کو ممنوع قرار دیا۔
227 شراب اور جوا وغیرہ سب شیطانی کام : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ خمر وغیرہ سب شیطانی کام اور انسان کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہیں۔ پس تم لوگ اس سے بچو اے ایمان والو کہ یہ تمہاری تذلیل و تباہی کا باعث ہیں کہ خمر۔ شراب۔ سے عقل کا وہ جوہر زائل ہوجاتا ہے جو کہ قدرت کا ایک بےمثال اور عظیم الشان عطیہ ہے۔ اور جس کے بغیر بھلے برے کے درمیان کوئی تمیز نہیں کی جاسکتی۔ اور جوا مال کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی انسان اس کی بنا پر اپنی بیوی بچوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ نیز اس کے باعث انسان کمانے اور محنت کر کے روزی حاصل کرنے کے شرف واعزاز سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ایک عضو معطل اور بیکار انسان بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بت پرستی اور آستانہ پرستی انسان کی انتہائی تذلیل ہے کہ وہ انسان جیسی اشرف المخلوقات ہو کر جمادِ لاَ یَعَقِلُ کے آگے جھکتا ہے اور خود ساختہ اور من گھڑت چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے۔ اور اس طرح وہ اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان خود کرتا ہے اور ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں گرتا جاتا ہے۔ مگر اس کو اس کا احساس بھی نہیں ۔ والعیاذ باللہ -