5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول آپ کو غم میں نہ ڈالنے پائیں وہ لوگ، جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر (کی دلدل) میں خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو اپنے مونہوں سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، مگر ان کے دلوں میں ایمان نہیں، یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو یہودی بن گئے،1 (ان کا حال یہ ہے) یہ لوگ جھوٹ کے پکے رسیا، ٹوہ لگا لگا کر سننے والے ہیں، ان دوسروں کے لئے جو آپ کے پاس نہیں آئے،2 یہ بدل دیتے ہیں (اللہ کے) کلام کو اس کے ٹھکانا پکڑنے کے بعد، (اور یہ دوسروں سے) کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم ملے تو مان لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو اس سے بچ کر رہنا، اور (حقیقت یہ ہے کہ) جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے (اس کی بدنیتی اور سوء اختیار کی بناء پر) تو آپ اس کی ہدایت کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے،3 یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ کو منظور ہی نہیں، ان کے لئے بڑی رسوائی ہے (اس) دنیا میں بھی، اور آخرت میں تو ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے،

98 ادب رسالت سے متعلق ایک اہم ادب کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد ربانی میں ادب رسالت سے متعلق ایک اہم ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ حضرت رسالت ماب ﷺ کو نام لے کر پکارنے کی بجائے انکو کسی خاص وصف ہی سے پکارا جائے۔ اسی لئے پورے قرآن مجید میں کسی ایک مقام پر بھی پیغمبر کو نام کے ساتھ، یعنی " یا محمد " کہہ کر نہیں پکارا گیا کہ نام لے کر پکارنا تقاضائے ادب کے خلاف ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے پنجاب کا بدعتی دھڑلے سے کہتا اور نظم بنا کر کہتا ہے کہ ۔ اسیں یا محمد کہندے رہنا اے ۔ انہاں نجدیاں جلدے رہنا اے ۔ اور پھر بھی دعویٰ ہے عشق رسول کا ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ نیز اس ارشاد ربانی میں نئی تہذیب کے پروردہ ان لوگوں کے لئے بھی ایک درس عظیم ہے جو اپنے بڑوں اور علماء تک کو بھی نام لے کر پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں۔ سو یہ طریقہ بےادبی اور بد تمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے کو اس کے خاص وصف یا کنیت سے پکارا جائے۔ اور عربوں کے یہاں آج تک یہی طریقہ و دستور ہے کہ وہ دوسرے کو اس کے کسی خاص وصف یا کنیت ہی سے مخاطب کرتے اور پکارتے ہیں۔ اس بارے مزید یہ امر بھی واضح رہے کہ بڑا اپنے چھوٹے کو نام لے کر پکار سکتا ہے۔ مثلا باپ اپنے بیٹے کو، استاذ اپنے شاگرد کو اور شیخ اپنے مرید کو وغیرہ۔ اور اللہ پاک تو خالق ہیں اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہیں نام لے کر پکار سکتے ہیں اور دوسرے مختلف انبیائے کرام کو اس نے ان کے صریح ناموں سے پکارا بھی ہے۔ مثلا " یا آدم "، " یا نوح "، " یا ابراہیم "، " یا موسیٰ " اور " یا عیسیٰ " ٰوغیرہ وغیرہ۔ مگر اس سب کے باوجود ہمارے نبی کو اس نے اپنی پوری کتاب حکیم میں کسی ایک جگہ بھی صریح نام سے نہیں پکارا۔ یعنی " یا محمد " نہیں فرمایا۔ سو یہ آنحضرت ﷺ کی ایک امتیازی شان ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ملک کا بدعتی ملاں دھڑلے سے کہتا ہے کہ " اسیں یا محمد کہندے رہنا اے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 99 کافروں کے کفر پر غم اور افسوس نہ کرنے کی ہدایت : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو غم میں نہ ڈالنے پائیں وہ لوگ جو دوڑ دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں کہ آپ ﷺ کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے پیغام حق کا اور بس۔ اور وہ آپ ﷺ نے پوراکر دیا اور بطریق احسن پوراکر دیا۔ اس سے آگے لوگوں کو انکے کفر سے روکنا اور راہ حق پر ڈال دینا نہ تو آپ ﷺ کے اختیار میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ اور کفر میں دوڑ دوڑ کر جا گرنے سے یہ لوگ اپنا ہی نقصان کریں گے، آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑیں گے۔ تو پھر ان پر اس قدر غم و افسوس کیوں۔ کہ نہ دعوت حق کا کوئی قصور ہے اور نہ آپ کے انداز و تبلیغ میں کوئی کوتاہی ہے۔ بلکہ یہ سب قصور ان لوگوں کا اپنا ہے۔ اور یہ ان کے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ لہذا آپ ان پر نہ کوئی غم کریں نہ افسوس۔ بلکہ ان کا معاملہ ہمارے حوالے کردیں۔ ہم ان سے خود نمٹ لیں گے۔ آپ کا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اور وہ آپ کرچکے۔ آگے حساب لینا اور ان سے نمٹنا ہمارا کام ہے ۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔ 100 منکرین کے روگ کی نشاندہی : سو منکرین کے اصل روگ کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جھوٹ کے رسیا ہیں۔ جب جھوٹ کے ان رسیاؤں کا کام ہی جھوٹ سننا اور سنانا ہے تو پھر آپ ﷺ کا کلام حق و صدق ترجمان سنانا ان کو راس ہی کب آسکتا ہے۔ اور یہ اس کے سننے اور قبول کرنے کے لئے تیار ہی کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ۔ اِلَّا اَنْ یَّشَائَ اللّٰہ ۔ یعنی یہ نہیں کہ ان لوگوں کو اس کلام کے معنیٰ معلوم نہیں ہوتے یا ان کے معنیٰ متعین اور واضح نہیں ہوتے، بلکہ اس کے واضح ہونے کے باوجود یہ لوگ ان کے معنیٰ بدل دیتے ہیں اور کچھ کا کچھ کردیتے ہیں کہ ایسے لوگوں کا کام ہی اسی جھوٹ کو سننا اور ماننا ہے جو ان کے احبارو رہبان گھڑ گھڑ کر ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ (محاسن التاویل اور مراغی وغیرہ) ۔ تو پھر ایسوں سے حق کو سننے اور ماننے کی کیا توقع ہوسکتی ہے ؟ سو جھوٹ ہلاکت کی راہ پر ڈالتا اور بالآخر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ جو کہ ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے منکرین کے اس اصل روگ کی نشاندہی فرما دی گئی جو ان کے سبق الی الکفر کا اصل باعث ہے اور جس کی بنا پر یہ لوگ دوڑ دوڑ کر کفر میں گرتے ہیں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ جھوٹ کے رسیا اور اس کے عادی ہیں۔ یہ جھوٹی گواہی، جھوٹی عدالت اور جھوٹا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ پیغمبر کی عدالت سے گھبراتے اور کنی کتراتے ہیں اور اپنے ہم جنسوں کی تلاش میں یہود سے جا ملتے اور کفر میں جا گرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 101 مخبری اور جاسوسی یہود اور منافقین کی قدیم خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ٹوہ لگا کر سنتے ہیں ان دوسروں کے لیے جو آپ کے پاس نہیں آئے۔ تاکہ ان تک پہنچا کر یہ لوگ ان کے لئے مخبری کرسکیں۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ کی مجلس میں یہ لوگ سننے ماننے کے لئے سرے سے آتے ہی نہیں۔ یہ دراصل سنتے اور مانتے اپنے انہی سرداروں کی ہیں جو پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور ان کی نکیل انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ وہ ان کو جو کہیں گے یہ وہی مانیں گے۔ اور وہ جدھر انکو چلائیں گے یہ ادھر ہی چلیں گے۔ تو ایسوں کے دلوں میں حق کی بات اتر ہی کیسے سکتی ہے ؟۔ (جامع، محاسن وغیرہ) ۔ کیونکہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے صدق و اخلاص اور طلب صادق کا پایا جانا ضروری ہے۔ اور اس سے یہ محروم ہیں۔ سو جاسوسی، بدگوئی اور بدخوئی یہود بےبہبود کی ایک جبلی عادت اور قدیم خصلت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ایسے اشرار کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 102 تحریف کلام یہود کی ایک اور بری خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل دیتی ہیں اس کے ٹھکانا پکڑنے کے بعد۔ سو یہ لوگ جان بوجھ کر اور دیدہ دانستہ کلام الہٰی میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں۔ کبھی تحریف لفظی کہ ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دیا۔ اور کبھی تحریف معنوی کہ لفظ کو تو برقرار رکھا مگر اس کا معنیٰ بدل دیا۔ اور کبھی تحریف مرادی کہ لفظ کا معنیٰ بھی باقی رکھا لیکن اس کی مراد بدل دی۔ سو یہود کے یہاں یہ تینوں ہی قسم کی تحریفات پائی جاتی تھیں۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہود بےبہبود نے تحریف کے اپنے اس قومی جرم کی بنا پر اپنی کتاب کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ سو کسی حکم وارشاد کا موقع و محل متعین نہ ہونے کی صورت میں اس ضمن میں غلطی کر جانا پھر بھی کسی درجے میں عذر اور معذرت کے لائق ہوسکتا ہے لیکن موقع و محل اور اس کے مفہوم و مصداق کے متعین ہوجانے کے بعد کلام کو اس سے پھیرنا صریح طور پر تحریف دین ہے۔ سو اس طرح یہ لوگ لفظی معنوی اور مرادی و تطبیقی ہر قسم کی تحریف کے مرتکب ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 103 اتباع ہوی دین کے نام سے ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ خواہشات نفس کی پیروی دین کے لبادے میں کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان کا مقصد دراصل حق سننا اور ماننا سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ ان کا اصل مدعا اپنی خواہشات کی تکمیل و پیروی ہے۔ وہ جس طرح بھی ہو سکے۔ البتہ اس پر لیبل یہ لوگ دین کا لگا دینا چاہتے ہیں تاکہ اس کے پردے میں اپنی خواہشات کی تکمیل کا سامان کرسکیں۔ صحیحین وغیرہ میں مروی ہے کہ یہود میں سے ایک مرد اور عورت نے جب آپس میں زنا کا ارتکاب کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ان کو سزا کیا دی جائے۔ کیونکہ تورات میں مذکور رجم کی سزا کو انہوں نے بدل کر اپنے طور پر کچھ اور ہلکی سزائیں تجویز کر رکھی تھیں۔ تو اس موقع پر انہوں نے آنحضرت ﷺ سے فیصلہ کروانا چاہا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر انہوں نے رجم کے علاوہ کوئی اور سزا دے دی تو ہماری تصدیق ہوجائے گی اور ہمیں ایک سند مل جائے گی۔ اور اگر انہوں نے رجم ہی کی سزا دی تو پھر اس کو ہم نے ماننا نہیں بلکہ اپنی خود ساختہ سزا ہی جاری کریں گے جو کہ امیروں کے لئے الگ تھی اور غریبوں کے لئے الگ۔ اسی لئے انہوں نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اگر یہ سزا ملے تو تم مان لینا نہیں تو نہیں ماننا ۔ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا } ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے انہی کے ایک عالم کو بلا کر اس کو قسم دے کر پوچھا کہ جو تورات حضرت موسیٰ پر اتری تھی اس میں زنا کی کیا سزا تھی ؟ تو اس نے کہا رجم۔ تو آپ ﷺ نے یہی سزا ان پر جاری فرما دی۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ کتاب الحدود) ۔ سو دین کے نام پر خواہشات نفس کی تکمیل کی کوشش کرنا بھی ایک قدیم یہودی خصلت ہے۔ افسوس کہ یہ بیماری آج مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہے ۔ الا ما شاء اللہ - 104 ہدایت پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بنا پر تو آپ اس کے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی آپ ﷺ اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کہ اس کو گمراہی سے بچا سکیں کہ مختار کل تو بہرحال اللہ پاک کی ذات ہی ہے اور بس۔ ہدایت دینا یا گمراہی سے ہمکنار کرنا اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس کے یہاں ہدایت وغوایت کے فیصلے انسان کے اپنے ارادئہ واختیار اور حسن نیت اور خبث نیت کی بنیاد پر مبنی ہوتے ہیں۔ جس کی جیسی نیت ہوگی وہ ویسا ہی پھل پائے گا۔ سو ۔ { فَلَنْ تَمْلِکَ لَہ مِنَ اللّٰہِ شیًْٔا } ۔ " آپ اس کی ہدایت کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے " کے ارشاد ربانی سے اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی جڑ نکل جاتی ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اور " شیئًا " نکرہ تحت النفی کے طور پر واقع ہے۔ جو کہ عموم و شمول کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے آپ کو اس کے لئے کچھ بھی اختیار نہیں کہ اختیار سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ کو منظور ہی نہیں۔ 105 بدنیتی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ دلوں کی تطہیر اور ایمان کی روشنی کا معاملہ اصل میں موقوف ہے دل کی چاہت اور سچی طلب پر۔ اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر ان کے دلوں کی تطہیر اور پاکی کا سامان ہو تو کس طرح ؟ اور ایسے لوگ رحمت و عنایت خداوندی سے سرفراز ہوں تو کیونکر ؟۔ سو جس طرح حسن نیت و اختیار باعث سرفرازی ہے اسی طرح خبث باطن اور سوئِ اختیار باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس انسان کی صلاح و فلاح اور بناؤ و بگاڑ کا مدارو انحصار اس کے اپنے باطن اور دل کی کیفیت پر ہے۔ سو بدنیتی محرومی کا باعث بلکہ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے دلوں کی تطہیر اور ان کے تزکیہ کے لئے کارفرما خاص ضابطے کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ جو لوگ راہ راست چاہتے ہوں گے اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے بگاڑ کی اصلاح کریں گے ان کو راہ حق و ہدایت نصیب ہوجائے گی۔ اور توبہ و اصلاح ان کے لئے کفارئہ سیئات بن جائیگی۔ لیکن جو لوگ گناہوں کی دلدل ہی میں لت پت رہیں گے ان پر ان کی سیاہی اتنی جم جائیگی کہ اس کے اترنے کے لئے صورت باقی نہیں رہیگی۔ اور ایسے لوگ دوزخ کی راہ پر ہی چلتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ اسی میں جا گریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے صلاح و فساد اور صحت و بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹ کے رسیا، پکے حرام خور ہیں، پھر بھی اگر یہ لوگ (اپنے مقدمات کا فیصلہ کرانے) آپ ﷺ کے پاس آئیں (تو آپ ﷺ کو اختیار ہے کہ اگر آپ چاہیں) تو ان کے درمیان فیصلہ کردیں، یا ان سے منہ پھیر لیں، اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، اور اگر آپ فیصلہ کریں، تو ان کے درمیان عدل (وانصاف) ہی کے ساتھ فیصلہ کریں، بیشک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو،

106 یہود کی ضرب المثل حرام خوری کا ذکر وبیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پکے حرام خور ہیں کہ یہ لوگ رشوت خوری، چور بازاری، سود خوری اور فتویٰ فروشی وغیرہ کے عادی ہیں۔ اور آج تک دنیا بھر میں ان کے اطوار یہی ہیں۔ یہ سود خور، جوا باز اور چکر باز ہیں۔ شاید اسی لئے یہاں پر " آکلون " نہیں " اَکَّالُون " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ مبالغے کا صیغہ ہے کہ یہ لوگ بڑے ہی حرام خور لوگ ہیں۔ سو ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اسی فرق اور زور بیان کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَب اللہ التوفیق ولہ الحمد والشکر قبل کل شییئٍ وَ بَعْدَ کُلّ شْیئٍ ۔ اللہ تعالیٰ تمام یہودیانہ خصلتوں سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے ۔ آمین ثم امین یا رب العالمین ۔ بہر کیف سماع حرام اور اکل حرام یہود بےبہبود اور ان کے ہم مشربوں کی دو بڑی بیماریاں تھیں جو ان پر بری طرح مسلط تھیں۔ اور اسی بنا پر یہ لوگ خیر کے بہت سے اسباب سے محروم ہوگئے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 107 اہل باطل کے درمیان فیصلے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار :ـسو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی اگر یہ لوگ آپ کے پاس اپنے مقدمات کا فیصلہ کرانے کے لیے آئیں تو آپ کو اختیار ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے منہ پھیر لیں۔ کیونکہ ان کا مقصد حق کو اپنانا، قبول کرنا اور اس کی پیروی کرنا سرے سے ہے ہی نہیں۔ پھر ان کو منہ لگانے کا فائدہ کیا ؟۔ لہذا معاملہ آپ کی مرضی اور اختیار پر ہے۔ اس لئے آپ چاہیں اور ان کے درمیان فیصلے میں کوئی بہتری اور فائدہ دیکھیں تو ان کے درمیان فیصلہ کردیں۔ نہیں تو ان سے اعراض کرلیں۔ آپ ﷺ کو دونوں باتوں کا اختیار ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ مرضی اور اختیار اہل ذمہ کے بارے میں نہیں بلکہ ان کے درمیان فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنے عقد ذمہ کی بنا پر اسلامی حکم اور فیصلے کے بہرحال پابند ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور جو لوگ عقد ذمہ کے پابند نہ ہوں اور حق قبول کرنا بھی نہ چاہتے ہوں ان کے فیصلے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے ایسوں کا معاملہ آپ کی صوابدید پر ہے۔ چاہیں تو ان کے درمیان فیصلہ کردیں یا ان سے روگردانی کریں۔ 108 عدل و انصاف کی پابندی کا حکم وارشاد :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو عدل وانصاف ہی کے ساتھ کریں۔ کہ کوئی فریق خواہ کتنا ہی شریر کیوں نہ ہو آپ ﷺ کا کام تو بہرکیف انصاف ہی کرنا ہے۔ اسی کلمہ " او " کی بنا پر بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ امام اور قاضی کو اہل ذمہ کے درمیان فیصلہ کرنے یا اعراض برتنے کا اختیار حاصل ہے۔ اور بعض نے یہ کہا کہ یہ تخییر۔ { وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ } ۔ کے حکم و ارشاد سے منسوخ ہوگئی لیکن حق اور صواب یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں محکم ہے۔ اور یہ تخییراب بھی باقی ہے۔ یہی روایت ہے حسن، شعبی، نخعی اور زہری سے۔ اور یہی قول ہے حضرت امام احمد کا۔ یعنی امام کو اختیار ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ کرے یا نہ کرے اور ان سے اعراض کر دے۔ لیکن جب فیصلہ کرے تو عدل و انصاف ہی سے کرے۔ (محاسن التاویل للقاسمی) کہ عدل و انصاف بہرحال مطلوب ہے۔ سو اس سے عدل و انصاف کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ اس کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا ہے کہ عدل و انصاف کے قیام اور اس کی بقا پر سارے نظام کا دارومدار ہے۔ اور عدل و انصاف کا حامل اور علمبردار یہی دین حق ہے جو ساری دنیا کیلئے حق و ہدایت، عدل و انصاف اور خیر و برکت کا پیغام بن کر آیا ہے۔ اسی لئے یہاں پر یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ کو ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن جب آپ فیصلہ کریں تو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہی کریں ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق -
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ آپ کو کیسے اپنا (منصف اور) حکم مان سکتے ہیں، جب کہ ان کے پاس تورات موجود ہے، جس میں اللہ کا حکم (موجود و مسطور) ہے، پھر یہ اس کے بعد بھی پھرجاتے ہیں، اور (حقیقت یہ ہے کہ) یہ لوگ ایماندار ہیں ہی نہیں،1

109 ہر دعوے کیلئے عملی ثبوت کی ضرورت : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ کو اپنا حکم اور منصف کس طرح بنائیں گے جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود و مسطور ہے۔ جو ان کی اپنی کتاب ہے۔ اور اس پر یہ لوگ ایمان و یقین کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اور اس میں اس مسئلے کا حل اور حکم بھی موجود ہے جس کے بارے میں فیصلہ کرانے کیلئے یہ لوگ آپ کے پاس آئے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ اپنے دعوائے ایمانی میں سچے ہوتے تو اپنی کتاب پر ضرور عمل کرتے کہ ہر دعوے کی صداقت کیلئے عملی ثبوت ضروری ہوتا ہے۔ بہرکیف یہود کو جب اس بات کا علم تھا آنحضرت ﷺ کا فیصلہ تورات کے حکم کے مطابق ہی تھا تو پھر یہ لوگ آپ ﷺ کے حکم و ارشاد سے جانتے بوجھتے سرتابی و روگردانی کس طرح کرتے ہیں۔ اور اس کے لئے ان کے پاس آخر کیا وجہ جواز باقی رہ سکتی ہے ؟۔ سو اس سے معلوم ہوگیا کہ انکا اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں۔ 110 یہود کا تورات پر بھی ایمان نہیں :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایماندار ہیں ہی نہیں۔ یعنی ان کا اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں ورنہ یہ اس طرح اس کے احکام سے سرتابی کیوں کرتے۔ معلوم ہوا کہ ایمان سے محرومی دراصل جڑ ہے تمام خرابیوں کی۔ سو زبانی طور پر دعویٰ کرنا اور عملی طور پر اپنے دعوے کیخلاف کرنا ایسے دعویداروں کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا کسی بھی چیز پر ایمان نہیں۔ قرآن پر تو ان کا ایمان ہے ہی نہیں خود تورات پر بھی ان کا ایمان نہیں جس پر ایمان کا یہ لوگ دعویٰ کرتے اور دم بھرتے ہیں۔ ورنہ یہ اس طرح اس سے اعراض اور روگردانی و سرتابی نہ کرتے۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے عمل و کردار سے اپنے دعوے کی تردید خود کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے اتارا تورات کو، جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی، اسی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے (اللہ کے) وہ پیغمبر، جو (اپنے رب کے حضور) گردن جھکائے ہوئے تھے، ان یہود کے لئے، اور (اسی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے) ان کے درویش اور علماء بھی، کیونکہ ان کو محافظ (و نگہبان) ٹھرایا گیا تھا اللہ کی کتاب کا، اور وہ اس پر گواہ تھے،2 پس تم مت ڈرو لوگوں سے (اے گروہ یہود ! ) بلکہ خاص مجھ ہی سے ڈرو، اور مت لو تم میری آیتوں کے بدلے میں (دنیاء دوں کا یہ) گھٹیا مول، اور جو لوگ فیصلہ نہیں کرتے اس (حکم و قانون) کے مطابق جس کو اللہ نے اتارا ہے، وہ کافر ہیں،

111 تورات کے ہدایت اور نور ہونے کا مطلب :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے اتارا تورات کو جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔ یعنی اپنے دور میں مسافران راہ حق کے لئے۔ پس اس سے منہ موڑ کر ان لوگوں کا آپ ﷺ کے پاس اپناکیس لانا اور اس پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھنا دراصل ان کی شرارت اور بدنیتی کی بنا پر ہے نہ کہ طلب و تلاش حق کے لئے۔ سو وہ تورات جو اپنے دور میں مسافران راہ حق کیلئے ہدایت و نور کا سرچشمہ تھی اس کو اس کے ان حاملین نے اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ بنادیا۔ یہاں تک کہ اس اصل تورات کا انہوں نے وجود ہی ختم کردیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری تھی۔ اور اب جو کچھ ان لوگوں کے پاس تورات کے نام سے موجود ہے وہ دراصل ان کی اپنی اہواء و اَغراض اور خواہشات کی تکمیل کا سامان ہے جس سے یہ لوگ خود بھی دھوکہ کھا رہے ہیں اور دنیا کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور اس طرح یہ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے تورات کی قدر و قیمت اور اس کی عظمت شان کو واضح فرمایا گیا ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کو اس دور کے لئے ہدایت اور روشنی کا منبع اور سرچشمہ بنا کر اتارا تھا۔ تاکہ لوگ اس سے راہ حق و ہدایت پاسکیں اور اس سے مستفید و فیضیاب ہو کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں۔ مگر ان لوگوں نے اس کو اپنی اہواء و اَغراض کے سامان کا ذریعہ بنانے کے لئے بازیچہ اطفال بنادیا اور اس کو بگاڑ کر کچھ کا کچھ کردیا۔ یہاں تک کہ اب اصل تورات کا ملنا ہی مشکل ہے۔ 112 اہل کتاب کے سامنے ان کے اسلاف کا نمونہ عمل : ـسو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب کے پیغمبروں کے فیصلے تورات کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی یعنی تورات کے مطابق ہی فیصلہ کیا کرتے تھے ان کے وہ پیغمبر جو اپنے رب کے حضور گردن جھکائے ہوئے تھے ان یہودیوں کے لیے۔ سو وہ اسی کے مطابق اس دور میں لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ اور آپ (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ تک تشریف لانے والے تمام انبیائے کرام اسی کے مطابق فیصلہ کرتے رہے۔ کیونکہ اس دور میں حق و ہدایت کا منبع ومصدر تورات ہی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کے مطابق فیصلہ کرنے کی یہی صورت تھی کہ تورات کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ کیونکہ تورات میں ہر عمدہ نصیحت بھی موجود تھی اور ضرورت کے ہر حکم کی تفصیل بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَکَتَبْنَا لَہٗ مِنْ کُلِّ شَیئٍ مّوْعِظْۃً وَتَفْصِیْلاً لِکُلَّ شَیئٍ } ۔ (الاعراف : 145) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل کتاب کے مخلص حاملین کی روش کو بیان فرمایا گیا کہ وہ اسی کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے اور یہی حق ہوتا ہے کتاب الٰہی کا کہ اس کو زندگی کے مسائل کے لئے حکم بنایا جائے۔ اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔ نہ کہ اس کو محض تبرک کی چیز اور چومنے چاٹنے کا سامان بنادیا جائے۔ سو اس سے دور حاضر کے یہود کے سامنے ان کے بڑوں کا آئینہ رکھ دیا گیا کہ دیکھو کہ وہ کیا اور کیسے لوگ تھے اور تم کیا اور کیسے ہو۔ اور تم لوگ کہاں کھڑے ہو ؟ 113 کتاب الہی کی اصل حیثیت اس کے مرجع حکم وارشاد ہونے کی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا کیا اہل کتاب کے احبارو رہبان کے فیصلے بھی تورات کے مطابق ہوتے تھے۔ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے ان کی درویش اور علماء بھی۔ سو جس طرح ان کے انبیائے کرام کے فیصلے تورات کے مطابق ہوا کرتے تھے اسی طرح ان کے احبارو رہبان کے فیصلے بھی تورات ہی کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ سو کتاب الہی کی اصل حیثیت یہ ہے کہ اس کو معاملات زندگی میں حکم اور منصف بنایا جائے اور اس کے حکم وارشاد کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔ ان انبیائے کرام کے بعد یا ان کے زمانے ہی میں ان کے اذن سے تورات کے مطابق ہی فیصلہ کرتے تھے کہ اپنے دور میں وحی خداوندی کی امین و پاسدار اور رشد و ہدایت کا منبع ومصدر تورات ہی تھی۔ لیکن بعد میں ان لوگوں نے اس کو اپنی طرح طرح کی تحریفات کا نشانہ بنادیا اور ہر دور میں اس کی تحریف کا ارتکاب کیا گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کچھ کا کچھ بنادیا اور اس نشان ہدایت ہی کو گم کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کتاب الہی کی اصل حیثیت یہی ہے کہ اس کو مرجع حکم و ارشاد بنایا جائے۔ 114 قرآن حکیم کی ایک امتیازی شان کا ذکر وبیان : ـسو اس سے سابقہ آسمانی کتابوں اور قرآن حکیم کی حفاظت کے معاملے میں بنیادی فرق بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان کتابوں کا محافظ انکے احبارو رہبان کو بنایا گیا تھا کہ وہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ ہونے دیں۔ لیکن انسان چونکہ کمزور اور خواہشات کا غلام ہے ۔ اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہ ۔ اس لئے یہ لوگ اللہ کی اس کتاب کو تحریف سے نہ بچا سکے۔ اور چونکہ وہ کتابیں ہمیشہ کے لئے تھیں ہی نہیں بلکہ ایک خاص زمانے اور مخصوص مدت کے لئے تھیں اس لئے اللہ پاک نے ان کی حفاظت اپنے ذمے لینے کی بجائے انہی پر چھوڑ دی۔ بخلاف قرآن حکیم کے کہ یہ اللہ پاک کی آخری کتاب تھی جس کو قیامت تک باقی رہنا تھا۔ اس لئے اس کی حفاظت کی ذمہ داری کو اللہ پاک نے خود اپنے ذمے لینے کا وعدہ فرمایا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ۔ { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ } ۔ (الحجر :9) کہ " اس ذکر کو نازل بھی ہم ہی نے کیا ہے اور اس کے محافظ بھی ہم ہی ہیں " جس کا نتیجہ وثمرہ یہ ہے کہ قرآن پاک آج تک جوں کا توں محفوظ ہے۔ اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک یونہی محفوظ و محصون رہے گا۔ اس میں کسی طرح کا کوئی تغیر ہوا نہ تبدل۔ نہ آج تک ہوا نہ قیامت تک ہوگا انشاء اللہ۔ اور یہ شان اس کتاب عزیز یعنی قرآن حکیم کے سوا اور کسی بھی کتاب کی نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ فللّٰہِ الحمد رب العلمین - 115 اہل کتاب کے علماء اپنی کتاب کے شاہد :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اس پر گواہ بھی تھے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں کوئی تغیر و تبدل روا نہیں۔ اور یہ کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نیز " شہداء " کے معنیٰ نگران و محافظ کے بھی ہیں۔ یعنی یہ لوگ اس کے محافظ و نگہبان تھے کہ اس میں کسی بھی طرف سے کوئی مداخلت نہ ہوسکے اور تحریف و تبدیل کسی بھی طرف سے اس کی طرف راہ نہ پاس کے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد میں اہل کتاب کی غلط روش پر طنز و تعریض ہے کہ ان کے بڑوں کا تعلق تورات کے ساتھ کیا اور کیسا تھا اور ان کا کیا ہے۔ انہوں نے اول تو اپنی کتاب کو عمل اور حکم کے دائرے ہی سے الگ کردیا اور اگر کچھ تعلق رکھا بھی تو وہ اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے۔ اور اس طرح یہ لوگ نور حق و ہدایت سے محروم اور دور سے دور تر ہوتے چلے گئے۔ سو اتباع ہویٰ کی راہ محرومی اور ہلاکت کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ـسو اہل کتاب کو یاددہانی کرائی گئی کہ تم لوگوں کو اللہ کی کتاب کا محافظ اور پاسبان بنایا گیا تھا مگر تم اس کے راہزن بن گئے۔ تم کو اس کتاب کا گواہ اور اس کے علوم و معارف کا امین و شاہد بنایا گیا تھا مگر تم نے کتمانِ حق اور تحریف کتاب کے جرم کا ارتکاب کیا۔ سو تم لوگ سوچو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تم کہاں تھے اور کہاں پہنچ گئے ہو ؟ تم کو کیسا اور کیا ہونا چاہیے تھا مگر تم کیا بن گئے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 116 شہادتِ حق کا تقاضا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا جائے : اس لیے ان لوگوں کو اللہ کے سوا کسی سے بھی نہ ڈرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔ـسو ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ لوگوں سے مت ڈرو اور خاص مجھ ہی سے ڈرو۔ پس تم لوگوں سے مت ڈرو اس حق کے اظہار وبیان کے سلسلے میں جو کہ تمہارے پاس موجود ہے۔ بلکہ اس کو جوں کا توں ٹھیک ٹھاک بیان کرو کہ اسی میں تمہارا اور دوسروں کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ نور حق و ہدایت سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ اور اس نور سے محرومی کے بعد اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس نور حق و ہدایت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ پس تم لوگ اس سے نہ ڈرو کہ لوگ کیا کہیں گے بلکہ ہمیشہ اس سے ڈرو اور اسی کا خیال رکھو کہ ہمارے خالق ومالک سے ہمارا معاملہ کیا اور کس طرح کا ہے۔ کہ اس کی رضا ہی اصل مقصود ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ ـسو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ظاہر اور واضح فرما دیا گیا کہ جس گروہ کو کتاب الہی کا گواہ بنایا جائے اس پر واجب اور لازم ہی کہ وہ بیان حق کے سلسلے میں اللہ ہی سے ڈرے۔ دوسروں کا خوف اور رعب اپنے سینوں سے نکال دے۔ 117 حق فروشی سے تحذیر و ممانعت :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مت اپناؤ میری آیتوں کے بدلے دنیائے دوں کے ثمن قلیل کو کہ حق فروشی کے مقابلے میں یہ دنیا ساری بھی ہیچ ہے کہ نور حق و ہدایت سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ اور اس نور سے محرومی کے بعد اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب حق فروشی کے مقابلے میں دنیا ساری بھی ہیچ ہے تو پھر اس کے کچھ ٹکوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ سو حق کی عظمت شان دنیا جہاں سے بڑھ کر ہے۔ 118 اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنا کفر ہے :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ فیصلہ نہیں کرتے اس حکم و قانون کے مطابق جس کو اللہ نے اتارا ہے وہ کافر ہیں۔ اگر وہ احکام خدا وندی کی توہین کے ارادے سے اور دوسرے احکام کو ان سے بہتر سمجھ کر ایسا کریں تو۔ کیونکہ یہ بلاشبہ کفر ہے۔ اور اس میں چونکہ حق تلفی اور ظلم و ناانصافی بھی ہے اس لئے یہ لوگ ظالم بھی ہیں۔ نیز اس میں چونکہ احکام الہٰی سے خروج اور ان کی نافرمانی بھی ہے اس لئے ایسے لوگ فاسق اور بدکار بھی ہیں۔ نیز یہ ارشادِربانی اگرچہ بنیادی طور پر یہود کے بارے میں ہے لیکن الفاظ کے عموم کے اعتبار سے یہ یہود اور غیر یہود سب کو عام اور شامل ہے۔ (روح، کشاف، صفوۃ اور محاسن وغیرہ) ۔ کہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوص مورد کا۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس نے خدا کے نازل کردہ احکام پر یقین نہ کیا وہ صریح کافر ہے۔ اور جس کا اعتقاد تو ہے لیکن ان پر عمل نہیں وہ ظالم اور فاسق ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر اس (تورات) میں بھی یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان (لی جائے) بدلے میں جان کے، آنکھ بدلے آنکھ کے ناک بدلے ناک کے، کان بدلے کان کے، دانت بدلے دانت کے، اور زخموں میں بھی قصاص ہے، پھر جو کوئی صدقہ کر دے اس (حق قصاص) کا، تو وہ کفارہ ہوجائے گا اس کے لیے، اور جو لوگ فیصلہ نہیں کرتے اس (حکم و قانون) کے مطابق، جس کو اللہ نے اتارا ہے وہ ظالم ہیں،

119 حقِّ قصاص کو معاف کرنے کی ترغیب :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی صدقہ کردے اس [ حق قصاص ] کا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوجائے گا یعنی وہ صدقہ کر دے اپنے اس حق کا جو کہ قصاص کے سلسلے میں اس کو حاصل ہے۔ اور معاف کرنے کے اس عمل کو صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمانا اس کے لئے ترغیب وتحریض کے لئے ہے۔ (محاسن و معارف وغیرہ) ۔ سو حقِّ قصاص کو معاف کرنا معاف کرنے والے کے گناہوں کیلئے کفارہ ہوجائے گا۔ چناچہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کے جسم میں کوئی زخم آیا اور اس نے اس کا صدقہ کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے لیے اسی کے برابر گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔ سو اس میں عفو و درگزر کی ترغیب وتحریض ہے ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ ویرید ۔ بہرکیف اپنے حق سے تنازل اور عفو و درگزر بڑے مکارمِ اَخلاق میں سے ہے۔ اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ لہ کی اس ضمیر کا مرجع مجروح نہیں جارح ہے۔ یعنی اگر مجروح اپنے حق قصاص کو معاف کر دے تو یہ جارح کے گناہ کے لیے کفارہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد حکومت اس پر کوئی گرفت نہیں کرسکے گی۔ اور اگر مجرم توبہ کرلے گا تو یہ معافی اس کے لیے عند اللہ بھی کفارہ بن جائے گی اور یہ قول ابن عباس، مجاہد اور شعبی وغیرہ سے منقول ہے۔ اور بعض اہل علم نے اسی کو ترجیح دی ہے ۔ والعلم عند اللہ - 120 حقِّ قصاص کا معاف کرنا موجب کفارہ ذنوب :ــسو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی صدقہ کردے گا اپنے اس حق قصاص کا تو یہ کفارہ ہوجائے گا اس کے لیے۔ یعنی اس معاف کردینے والے صاحب ِحق کے لئے کہ اس سے اس کے گناہ معاف ہوں گے۔ نیز یہ کفارہ ہوگا جنایت کے مرتکب ۔ جانی ۔ کے حق میں کہ اس سے اس کے ذمے سے قصاص سا قط ہوجائے گا۔ (صفوۃ، جامع البیان، ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ لفظ اگرچہ ان دونوں معنوں کا احتمال رکھتا ہے لیکن عفو و درگزر کی فضیلت بیان کرنے والی روایات و آثار سے پہلے احتمال کی تقویت و تائید پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لَمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد ۔ سو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے معاف کردینا بڑے اونچے محامدِ اَخلاق میں سے ہے۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان کے (ایک زمانہ) بعد ہم نے ان ہی کے نقش قدم پر بھیجا عیٰسی بیٹے مریم کو تصدیق کرنے والا بنا کر، اس تورات کے لئے جو ان سے پہلے آچکی تھی،1 اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی، اور (اس کو بھی) تصدیق کرنے والی بنا کر بھیجا، اس تورات کے لئے جو اس سے پہلے آچکی تھی، اور سراسر ہدایت اور عظیم الشان نصیحت کے طور پر پرہیزگاروں کے لیے،

121 حضرت عیسیٰ کی تصدیق تورات کیلئے : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے بعد ہم نے انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ بیٹے مریم کو بھیجا تصدیق کرنے والا بنا کر اس تورات کے لیے جو ان سے پہلے آچکی تھی کہ اصول کے اعتبار سے سب آسمانی کتابیں ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں اور ان کی دعوت اور ان کا پیغام بھی مشترک اور اپنی اصل وضع کے اعتبار سے ایک ہی ہوتا ہے۔ اصولی طور پر سب ہی توحید خداوندی کی دعوت دیتی ہیں اور انسانوں کو اپنے خالق ومالک حقیقی کی طرف رجوع کرنے اور اسی کے آگے جھکنے کا درس دیتی ہیں۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد تقریباً چھ سو سال تک کوئی نبی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ سلسلہ نبوت کی تکمیل پر خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ اسی لئے آپ کا ارشاد ہے ۔ " اَنَا اَولٰی بِعِیْسٰی ابن مریم " ۔ یعنی " میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں " اور حضرت عیسیٰ حضرت خاتم الانبیاء کی بعثت و تشریف آوری کی خوشخبری دینے کے لئے آئے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمُبَشِّراً بِرَسُوْلِ یَاتِی مِنْ بعدی اسْمُہٗ اَحْمَدُ } ۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ کو تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا تھا کہ آسمانی کتابیں سب کی سب ایک ہی منبع فیض سے آئی تھیں۔
Ayahs 5:47–48

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور چاہیے کہ فیصلہ کریں انجیل والے اس کے مطابق جو کہ اللہ نے اتارا ہے اس میں، اور جو لوگ فیصلہ نہیں کرتے اس (حکم و قانون) کے مطابق جو اللہ نے اتارا ہے وہ فاسق ہیں،2

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور اب ہم نے اتارا آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) اس کتاب (عظیم) کو حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی بنا کر، ان تمام کتابوں کے لئے جو کہ اس سے پہلے آچکی ہیں، اور محافظ (و نگہبان) بنا کر ان پر، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا ہے، اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اس حق سے (ہٹ کر) جو کہ آچکا آپ کے پاس، ہم نے تم میں سے ہر ایک (امت) کے لئے مقرر کی ایک شریعت اور راہ عمل، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن (اس نے ایسے نہیں کیا) تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے ان احکام میں جو اس نے تم کو دیے ہیں، پس تم لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو نیکیوں میں، اور تم سب کو بہر حال لوٹ کر جانا ہے اللہ کی طرف، پھر وہ خبر کر دے گا تم کو ان سب کاموں کی جن میں تم لوگ اختلاف کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں)

122 اللہ کی شریعت پر عمل نہ کرنے والے فاسق :ـسو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت پر عمل نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ کہ وہ ناسنح کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرتے ہیں اور نبی آخر الزمان اور ان کی شریعت مطہرہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرنا کہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ کی قانونی حیثیت باقی رہتی ہی نہیں اور اس پر عمل کرنے کا کوئی معنیٰ ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ واضح فرما دیا گیا کہ انجیل والوں کو چاہئے کہ وہ انجیل کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا لازمی نتیجہ اور تقاضا یہی تھا اور یہی ہے کہ وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں کہ انجیل میں اس کی صاف اور صریح تعلیم دی گئی تھی۔ اور دوسری طرف اس سے یہ امر بھی واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق اور بدکار ہیں۔ اور فسق کا لفظ یہاں پر محدود فقہی معنی و مفہوم میں نہیں بلکہ اس لفظ کی اصل ہے خروج عن الطاعۃ یعنی اطاعت سے نکل جانا۔ سو اس اعتبار سے یہ لفظ کفر و شرک وغیرہ تک سب ہی مفاہیم کو عام اور شامل ہے اور خداوند قدوس سے غداری، عہد شکنی اور سرکشی سب ہی اس میں شامل ہیں۔ پس جو لوگ جانتے بوجھتے اور آزادی و اختیار رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام و قوانین کے خلاف فیصلے کرتے اور کراتے ہیں وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (مکرر حکم ہے کہ) فیصلہ کرو تم ان کے درمیان اس (حکم و قانون) کے مطابق جسے اتارا ہے اللہ نے،1 اور پیروی نہیں کرنا ان کی خواہشات کی، اور ہوشیار رہنا ان سے کہ یہ کہیں پھسل نہ دیں آپ کو اس (حق و ہدایت) کی کسی بات سے جس کو اللہ نے اتارا ہے آپ کی طرف، پھر اگر یہ پھرے ہی رہیں (حق و ہدایت) تو یقین جان لو کہ اللہ ان کو مبتلائے مصیبت کرنا چاہتا ہے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں، بیشک لوگوں کی اکثریت پکی بدکار ہے،2

130 اعمال کا پورا بدلہ صرف آخرت میں :ـسو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کچھ بدلہ اگرچہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے لیکن ان کا اصل اور پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گاـ کہ سب گناہوں کی سزا تو دنیا میں ملنا ممکن ہی نہیں۔ اس کی یہاں گنجائش ہی نہیں۔ نیز دنیا " دار الجزا " نہیں " دارالعمل " ہے۔ یعنی یہ دنیا عمل کی جگہ ہے۔ اور جزا و سزا کا مقام دار آخرت ہے۔ اور وہیں پر انسان کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ مل سکے گا۔ لیکن اس کے اچھے برے اعمال کا کچھ نہ کچھ بدلہ اس کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ یہاں پر۔ { بِبَعْضِ ذُنُوْ بِہِمْ } ۔ کی اس تصریح سے واضح ہوا ہے۔ سو معاصی وذنوب بہرحال انسان کیلئے ہلاکت و تباہی کا باعث ہیں۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی جبکہ ان کا اصل بھگتان آخرت کے اس ابدی جہان ہی میں بھگتنا ہوگا جو کہ " دارالجزا " ہے۔ اور جس میں انسان کو اپنے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ حق واضح ہوجانے کے باوجود اس کی پیروی نہ کریں اور اس کے بعد بھی وہ اپنے اعراض و انکار اور روگردانی و سرتابی پر اڑے رہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان پر رحم کیا جائے۔ بلکہ وہ اس لائق ہیں کہ ان کو ان کے کئے کرائے کی سزا ملے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے کہ انسان راہ حق و ہدایت سے منحرف و محروم رہے مگر ان کے اعمال کا پورا بدلہ ان کو آخرت ہی میں ملے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ 131 عوام کی اکثریت کی رائے معیارِ حق نہیں ہوسکتی : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ اکثر لوگ پکے بدکار ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ عوام کا لانعام کی اکثریت کا کسی کے ساتھ یا اس کی حمایت میں ہوجانا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔ جیسا کہ آج کے اس نام نہاد جمہوری دور میں عام طور پر کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ اہل بدعت عوام کالانعام کی جہالت اور بدعت نوازی کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ عوام کی اکثریت ہمیشہ فاسقوں اور بدکاروں کی ہی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ چناچہ خود آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ اور آپ کے زمانہ مبارک میں بھی عام لوگوں کا حال یہی تھا۔ اور اس کے بعد کے ہر دور میں بھی یہی رہا کہ اکثریت کافر اور منکر لوگوں ہی کی رہی۔ اور آج بھی جبکہ دنیا کی کل آبادی پانچ ارب ہے۔ ان میں سے چار ارب کھلے کفر و باطل پر ہیں اور پانچواں ارب جو دین و ایمان کا دعویدار ہے اس میں سے بھی صحیح ایمان و عقیدے کے لوگوں کی تعداد محدود و معدود ہے۔ پس عوام الناس کی اکثریت کی تائید و حمایت کو حق کی دلیل قرار دینا پرلے درجے کی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم (اور فیصلہ) چاہتے ہیں ؟ اور اللہ سے بڑھ کر اچھا حکم (اور فیصلہ) اور کس کا ہوسکتا ہے ؟ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ؟

132 سب سے اچھا حکم و فیصلہ اللہ ہی کا ہے : ـسو استفہام انکاری سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے حکم سے بڑھ کر اچھا حکم و فیصلہ اور کسی کا بھی نہیں ہوسکتا۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی کہ اللہ کے حکم و فیصلہ سے بڑھ کر اچھا حکم و فیصلہ اور کسی کا بھی نہیں ہوسکتا کہ اس وحدہ لاشریک کا حکم ہر لحاظ سے احسن و افضل اور اعلیٰ وبالا ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کا علم بھی کامل و شامل اور اس کی حکمت بھی کامل و لایزال۔ اور اس کی رحمت بھی کامل و لامحدود۔ اس لیے اس کے ارشاد فرمودہ حکم و قانون کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ تو پھر اس کے حکم و قانون سے بڑھ کر کسی کے حکم و قانون کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ پس انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے اوامرو ارشادات کو دل و جان سے قبول کرے اور صدق دل سے ان پر عمل پیرا ہو ۔ وَبِاللّٰہ التوفیق ۔ سو بڑے ہی محروم اور بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد کا انکار کرتے اور اس سے اعراض و روگردانی برتتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے لیے دائمی ہلاکت اور انتہائی ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، تم یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنانا، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جس نے دوست بنایا ان کو تم میں سے، تو وہ یقینا ان ہی میں سے ہوگیا، بیشک اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا ایسے ظالم لوگوں کو،3

133 یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے کی ممانعت : ـسو اہل ایمان کو خطاب کر کے صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یہود اور نصاری کو اپنا دوست نہیں بنانا کہ تمہارے ایمان اور تمہاری دینی غیرت کا مقتضا یہی ہے کہ تم ایسے کسی بھی شخص کو اپنا دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کا دشمن ہو۔ کیونکہ ایسے کسی شخص یا گروہ کو دوست بنانے کا مطلب اس کی دین دشمنی سے راضی ہونا ہے جو کہ ایک مومن صادق سے متصور نہیں ہوسکتا۔ سو دنیاوی زندگی میں ظاہری میل ملاپ، روا داری اور حسن معاملگی تو الگ چیز ہے اس کی ممانعت نہیں، لیکن دل کی دوستی ایسوں سے جائز نہیں ہوسکتی۔ اس کا تعلق صرف سچے مسلمانوں سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ دوسرے مقام پر یہ ممانعت من دون المومنین کی قید کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ سو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں دوست بنانا منع ہے۔ پس اگر ان سے یہ دوستی اور موالات اسلام اور مسلمانون کے مفاد کے لیے ہو یا کم ازکم یہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف نہ ہو تو پھر یہ ممنوع نہیں۔ 134 اہل کفر آپس میں ایک ہیں :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ان کا آپس میں اگرچہ بغض و بیر ہے لیکن تمہاری دشمنی میں وہ سب ایک ہیں کہ کفر و نفاق اور حق سے دوری و بیزاری میں وہ سب باہم شریک ہیں ۔ وَالْکُفْرُ مِلّۃٌ وَاحِدَۃ۔ تو ایسے میں وہ تمہارے دوست اور خیرخواہ کسی بھی طرح نہیں ہوسکتے۔ سو ایسے میں اس لیے تمہارے لیے یہ کیسے روا ہوسکتا ہے کہ تم حق پر ہونے اور نور ایمان سے سرفراز ہونے کے باوجود ان سے دوستی رکھو۔ (معارف، محاسن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مومن صادق کی دلی دوستی اور محبت اہل کفر سے کبھی نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں باہم ایک ہیں۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کو اپنے لیے مشترک خطرہ سمجھتے ہیں اور اس مشترک خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ باہم ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بنے ہوئے ہیں جس کا ایک زندہ مظہر آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے موجود دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا کے یہود و نصاری اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یکجا ہو کر مصروف عمل ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 135 اہل کفر و باطل سے دوستی کا انجام بڑا ہولناک ہے : سو کوئی شخص یا گروہ ان لوگوں سے اگر دل سے دوستی اور محبت رکھتا ہے تو پھر تو وہ پکا انہی میں سے ہوگا اگرچہ وہ اپنے زبانی کلامی دعو وں میں ان کی مخالفت کا دم بھرتا اور اعلان کرتا ہو۔ (محاسن التاویل للامام القاسمی ) ۔ نیز ان سے دوستی اور تعلق کی بنا پر ان کے کفر کی میل ان کے باطن پر چڑھتی اور پھیلتی جائیگی اور صحبت ہم جنس کی بنا پر یہ بھی شدہ شدہ انہی کی طرح ہوجائے گی۔ سو اہل کفر و باطل سے تعلق اور دوستی کا انجام و نتیجہ بڑا برا اور ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (معارف وغیرہ) اور ایسے لوگوں کا دعوائے دین و ایمان بےحقیقت ہوگا جس کا نہ کوئی اثر ہوسکتا ہے نہ فائدہ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جو کوئی اَغیار سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہوجائیگا۔ پس جو کوئی جس قوم کا فلسفہ اختیار کریگا۔ ان کے نظریات کو اپنائیگا وہ انہی کے سانچے میں ڈھل جائے گا اور انہی کا رنگ ان پر چڑھ جائے گا۔ پس اغیار سے ظاہری میل ملاپ تو ہوسکتا ہے مگر ان سے دل کی دوستی نہ کسی مسلمان کے لئے روا ہوسکتی ہے اور نہ ہی یہ بات کسی مسلمان کی قومی اور دینی غیرت کے لئے قابل برداشت ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 136 اللہ ظالموں کو ہدایت سے نہیں نوازتا :ـسو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت سے نہیں نوازتا کہ ایسے لوگ تو دل سے ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ بلکہ وہ تو ظلم ہی پر کمربستہ ہیں۔ اور اللہ پاک ایسا نہیں کہ دل کی چاہت اور خواہش کے بغیر ہدایت جیسی انمول دولت سے کسی کو یوں ہی نواز دے کہ ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے ملتی تو وہ بیشک اس وحدہ لاشریک، واہب مطلق کی طرف سے مفت ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کیلئے بنیادی شرط اور اولین واساسی تقاضا طلب صادق ہے۔ جس سے ایسے ظالم لوگ محروم ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے قلب و باطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید لما یحب ویرید -
Ayahs 5:52–53

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

پس تم دیکھو گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے،4 وہ دوڑ دوڑ کر جا گھستے ہیں انہی (کافروں) میں، کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم پر چکر نہ پڑجائے کسی (حادثہ و) مصیبت کا، سو بعید نہیں کہ اللہ لے آئے فتح (و کامرانی مسلمانوں کے لئے) یا ظاہر فرما دے کوئی اور بات اپنے یہاں (پردہ غیب) سے، جس کے نتیجے میں ان کو ندامت (و شرمندگی) اٹھانا پڑے ان باتوں پر، جو انہوں نے چھپا رکھی ہیں اپنے دلوں میں،

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) اہل ایمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے1 کہ یہ تمہارے ساتھ ہیں، اکارت چلے گئے ان کے سب عمل،2 جس سے یہ ہوگئے سراسر خسارہ اٹھانے والے،

137 منافقین کے منافقانہ روے کا ذکر وبیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جا کر انہی [ کافر ] لوگوں میں گرتے اور گھستے ہیں اور بیماری سے یہاں پر مراد ہے شک و ریب اور نفاق کی بیماری۔ (محاسن التاویل) اور باطن کی یہ بیماری ظاہری اور جسمانی امراض سے بھی کہیں بڑھ کر مضر اور خطرناک ہے۔ سو اس مرض کے مریض اور اس خوفناک روگ کے روگی یہود جو دشمنان اسلام سے دوستی رکھتے ہیں اور ان کو اس ضمن میں جب بھی کوئی موقع ملتا ہے یہ ادھر دوڑ پڑتے ہیں۔ جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین کا طریقہ و وطیرہ تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب ایسے لوگوں کے دل لذت ایمان سے عاری و محروم ہیں تو ان کے سامنے دنیاوی مفادات اور مادی فوائد ہی سب کچھ ہے۔ اس لئے ایسے لوگ دوڑ دوڑ کر کفار سے جا ملتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کَلِّ زَیْغ وَّ ضَلَال وَ سوء وانحراف۔ 138 منافقت خود اپنے آپ سے دھوکہ ۔ والعیاذ باللہ : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کہیں ہم پر چکڑ نہ پڑجائے کسی حادثہ اور مصیبت کا۔ سو منافقوں کا نفاق اور ان کا اپنی چالاکی کا گھمنڈ خود ان کی محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منافق لوگ کھلے کافروں سے دوستی رکھتے ہیں کہ برا وقت پڑنے پر یہ لوگ ہمیں کام دیں گے۔ اس لئے ہم ان سے بگاڑتے نہیں۔ بلکہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح یہ منافق لوگ اپنے آپ کو بڑا چالاک اور ہوشیار سمجھتے ہیں۔ مگر درحقیقت اسی سے ان کی یہ اصلیت آشکارا ہوجاتی ہے کہ یہ ابن الوقت، موقع پرست اور ناقابل اعتبار لوگ ہیں۔ اور یہی حال ہے کمزور ایمان والے نام نہاد مسلمانوں کا آج بھی کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے دین و ایمان کی قیمت پر دوسروں سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو منافق لوگوں کی منافقت ان کی ہلاکت کا باعث ہے۔ اور جس کو یہ لوگ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھتے ہیں وہی ان کی محرومی کا باعث ہے جسکے نتیجے میں یہ لوگ نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے۔ بلکہ دونوں طرفوں کا اعتبار کھو کر ان کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ مگر ان کی مت ماری کا عالم ہے کہ ان کو اپنی اس محرومی کا احساس و شعور نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ ایسے لوگ تذبذب کا شکار، لذت ایمان و یقین سے محروم، اطمینان قلب سے عاری اور لَا الٰی ھٰؤلَائِ وَلَا اِلٰی ہَؤلاء کا مصداق ہوتے ہیں۔ سو یہ ایک نقد سزا ہے نفاق کی جو ایسے بدبخت لوگوں کو یہیں ملتی رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 139 صدق و اخلاص کامیابی کی اصل واساس : ـسو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ صدق ایمان و یقین کامیابی کا ذریعہ اور کفر و نفاق ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ لے آئے فتح یا ظاہر فرما دے اور کوئی امر اپنے یہاں سے۔ جیسے ان کفار و مشرکین اور منافقوں کو جلا وطن کردیا جائے۔ یا ان کے دلوں میں وہ ایسا رعب ڈال دے کہ یہ اہل حق کے مقابلے میں ہاتھ اٹھانے کے قابل ہی نہ رہیں اور جزیہ دینے کی پیشکش کردیں۔ یا کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ منافقوں کے دلوں کے یہ پوشیدہ راز آشکارا ہوجائیں اور ان کو مزید ذلت اور رسوائی سے دو چار ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس صدق ایمان و یقین کامیابی اور فائز المرامی کا ذریعہ وو سیلہ اور کفر و نفاق ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کر دے جس سے کفار و مشرکین اور یہود بےبہبود اور ان کے اعوان و اَنصار ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ مکہ کے کفار و مشرکین مغلوب ہوگئے اور مدینے کے یہودی ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ خواہ مخواہ خوف میں مبتلا ہیں اور دوڑ دوڑ کر ان کفار میں جا گرتے ہیں۔ حالانکہ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو عنقریب ہی فتح و کامرانی کی خوشخبری نصیب ہوجائے۔ یا اللہ تعالیٰ اپنے یہاں سے اور کوئی ایسا امر ظاہر فرما دے جس سے ان کی عزت و عظمت اور شان و شوکت میں اضافہ ہو اور ان کو غلبہ نصیب ہو۔ سو کامیابی صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کی راہ میں ہے ۔ وباللہ التوفیق - 140 منافقت کا نتیجہ و انجام رسوائی و پریشانی : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو ندامت اور شرمندگی اٹھانا پڑے ان باتوں پر جو ان لوگوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہیں۔ کہ جن کا سہارا ہم نے ڈھونڈا تھا ان کا خود اپنا انجام یہ ہوگیا۔ اور جن سچے اہل ایمان کو ہم کمزور و ناتواں اور نادان سمجھتے تھے وہ اس طرح غالب آگئے۔ اور اس وقت ان منافقوں کو سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سو منافقت کا نتیجہ و انجام بہرحال رسوائی اور ندامت و پریشانی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی اور معاملہ ظاہر فرما دیں جس سے ان لوگوں کا بھانڈا عین چورا ہے میں پھوٹ جائے اور ان کو اپنے دلوں میں پوشیدہ باتوں پر نادم ہونا پڑے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد اسلام کی پے در پے کامیابیوں کے سامنے ان کے سب منصوبے ناکام ہوگئے اور ان کو پریشانی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اور پھر فتح مکہ کے بعد ان کی رہی سہی امیدیں بھی ختم ہوگئیں۔ ان کی ہمتیں ٹوٹ گئیں اور ان کے حوصلے جواب دے گئے۔ مدینے کے یہود مغلوب ہوگئے اور ان میں سے کچھ کو جلا وطن کردیا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کے دور میں پورا جزیرئہ عرب یہود بےبہبود کے وجود سے پاک ہوگیا۔ سو اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ فالحمد للّٰہِ رب العالمین -