5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 5:91–92

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ ڈال دے تمہارے درمیان عداوت اور بغض شراب (خانہ خراب) اور جوئے کے ذریعے اور وہ تمہیں روک دے اللہ کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) اور نماز سے، سو (اب بتلاؤ کہ یہ سب کچھ سننے کے بعد) کیا تم باز آتے ہو (کہ نہیں ؟ )4

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور (دل کی خوشی سے) حکم مانو تم لوگ اللہ کا اور اس کے رسول کا، اور تم بچتے رہو، پھر اگر تم لوگ پھرگئے تو یقین جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر5

228 شراب اور جوا بغض و عداوت کا ذریعہ ۔ والعیاذ باللہ : کہ شراب سے جب آدمی کی عقل زائل ہوجاتی ہے تو وہ بےہودہ گوئی کرتا ہے جس سے بات مار پیٹ اور قتل و قتال تک جا پہنچتی ہے۔ اور جوئے میں بازی ہارنے والا شخص جب اپنا مال اپنے حریف کے پاس دیکھتا ہے تو خواہ مخواہ اس کے دل میں حسد، بغض اور جلن کے احساسات جنم لیتے ہیں جس سے پھر آگے طرح طرح کے فتنے اور فساد ابھرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بعض و عداوت اور نفرت و بغاوت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ اور ہر ایک اس کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کس طرح انتقام لے اور اپنے جوش عداوت کو ٹھنڈا کرے۔ اور اس سے دنگا و فساد، بےعزتی و خرابی اور لڑائی جھگڑے کی طرح طرح کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور افراد و اَشخاص کی یہ لڑائی اور نفرت بعض اوقات قوموں اور قبیلوں کے درمیان جنگ بن جاتی ہے اور انتقام در انتقام کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کی ہلاکت خیزیوں اور تباہ کاریوں کا ایک تباہ کن سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 229 شراب اور جوا وغیرہ یاد خداوندی سے محرومی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : جو کہ ایک بڑا ہی ہولناک خسارہ اور نقصان ہے کہ اللہ کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد تو دلوں کی زندگی اور ان کی تقویت و تازگی کا ذریعہ ہے۔ تو اس سے محرومی تو گویا اپنی زندگی ہی سے محرومی ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے انسان کی زندگی اور اس کی عزت و عظمت اور رفعت و سربلندی ذکر الٰہی اور یاد خداوندی ہی کے ساتھ وابستہ ہے۔ سو یاد الٰہی سے غفلت و محرومی اپنے مقصد حیات سے غفلت اور اپنی قدر و قیمت سے محرومی ہے۔ اور خدا فراموشی درحقیقت خود فراموشی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { نَسُوا اللّٰہَ فَانْسٰٰہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُوْلئکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ } - 230 شراب اور جوا نماز سے محرومی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیطان چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ان چیزوں کے ذریعے نماز سے روک دے جو کہ تمہارے دین کا بنیادی ستون ہے اور اس کو ضائع کرنا پورے دین کو ضائع کرنا ہے۔ اور دین کا ضیاع دراصل دنیا وآخرت دونوں کا ضیاع ہے۔ تو پھر اس سے بڑھ کر نقصان اور ضیاع اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ذکر اللہ کے بعد صلوۃ یعنی نماز کا ذکر تخصیص بعد التعمیم کے قبیل سے ہے۔ کیونکہ نماز ذکر اور یاد خداوندی کا سب سے بڑا مظہر اور اہم ذریعہ و ثبوت ہے کہ اس کے ذریعے انسان اپنے ظاہر وباطن ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک کی یاد دلشاد ایسی عظیم الشان نعمت ہے جو انسان کو اصل حقائق سے غافل نہیں ہونے دیتی۔ جس کا نتیجہ اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔ جب کبھی اس سے کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو اللہ پاک کی یاد اس کو سنبھال لیتی ہے اور پھر سیدھی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ اس لئے شیطان اس کو اس دولت سے محروم کرنا چاہتا ہے کہ اس سے محرومی کے بعد وہ ہلاکت و تباہی کے دائمی کھڈے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 231 محرمات سے بچنے کی پر زور ترغیب وتحریض : سو تحضیض و ترغیب کے طور پر استفہامیہ انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ باز آتے ہو ؟ یعنی کو باز آنا چاہیے۔ سو اس ارشاد سے شراب خانہ خراب جیسی محرمات سے بچنے کی پرزور ترغیب وتحریض فرمائی گئی ہے کہ آیت کے آخر میں استفہام کے طور پر فرمایا گیا " تو کیا تم لوگ باز آتے ہو ؟ "۔ یعنی یہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد تم لوگوں کو ضرور باز آنا چاہیئے اور ان محرمات سے پوری طرح رک جانا چاہیئے۔ حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ اس طرح استفہام والا یہ اسلوب صریح نہی سے کہیں بڑھ کر موثر اور بلیغ ہوتا ہے۔ اسی لئے حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے اس پر فرمایا تھا ۔ " اِنْتَہَیْنَا رَبَّنَا اِنْتَہَیْنَا " ۔ " ہم باز آگئے اے ہمارے رب ہم باز آگئے "۔ یعنی یہ اسلوب بیان انتہائی بلیغ اور نہایت موثر اسلوب و انداز بیان ہے۔ سو اس اسلوب بیان میں امر کے ساتھ زجرو تنبیہ، موعظت و تاکید اور اتمام حجت کا معنیٰ و مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

کوئی گناہ (اور پکڑ) نہیں ان لوگوں پر جو (صدق دل سے) ایمان لائے، اور انہوں نے (اس کے مطابق) کام بھی نیک کئے، اس میں جو کہ انہوں نے کھا (پی) لیا (حکم حرمت سے پہلے) جب کہ وہ بچتے رہے (اس وقت کی محرمات سے) اور وہ ثابت قدم رہے اپنے ایمان پر، اور کام بھی نیک کرتے رہے، پھر وہ بچتے رہے (نئی حرام کردہ چیزوں سے) اور ثابت قدم رہے پھر بچتے رہے اور وہ نیکوکار رہے اور اللہ محبت فرماتا ہے نیکوکاروں سے،1

235 ایمان اور عمل صالح ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ انہوں نے کھا پی لیا ان حرام چیزوں میں سے جن کی حرمت کا حکم بعد میں نازل ہوا کہ وہ اس کے مکلف اور پابند تھے ہی نہیں۔ اس لئے نہی کا حکم نازل ہونے سے پہلے جو کچھ ہوگیا اس سے متعلق ان پر کوئی گناہ نہیں۔ سو ایمان صادق ایک عظیم الشان اور انقلاب آفریں دولت ہے جسکے بعد ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ اور جس کے بعد کسی بھی صورت میں ناکامی اور خسارے کا کوئی سوال نہیں بشرطیکہ ایمان سچا ایمان ہو اور بندئہ مومن اپنے ایمان کے مقتضیٰ پر صدق دل سے عمل کرتا ہو ۔ وَباللّٰہِ التوفیق لما یحبُّ ویرید وعلیٰ ما یُحِبُ ویُرِید ۔ بہرکیف ایمان کی برکت سے پچھلے تمام گناہوں کی میل دھل جاتی ہے۔ سو ایمان اور عمل صالح ذریعہ نجات اور وسیلہ فوز و فلاح ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ 236 تقویٰ تقاضائے ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والوں پر کوئی مواخذہ اور گرفت نہیں جبکہ وہ بچتے رہیں ان چیزوں سے جن کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا تھا کہ مومن کی شان ہی " اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا " کی شان ہوتی ہے کہ جو حکم و ارشاد بھی اس کو اپنے خالق ومالک کی طرف سے ملے اس کو وہ بلا کسی پس و بیش اور چون وچرا کے بجائے لائے کہ اس کے ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے۔ اور اسی میں اس کی بہتری اور بھلائی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی ایسی چیز پر کوئی گرفت و پکڑ نہیں ہوگی جس کے بارے میں کسی صریح ممانعت کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ شریعتِ الٰہی کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں جو حد متعین کردی گئی ہو اس کی پابندی اور اس کا احترام کیا جائے۔ پھر شریعت ہی کی طرف سے اگر اس میں کچھ اضافہ کیا جائے تو اس کو پورے صدق و اخلاص سے نبھایا جائے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحِبُّ وَیُرِیْد ۔ سو تقوی ایمان کا اہم اور بنیادی تقاضا ہے۔ 237 تقویٰ کی عظمت و اہمیت : سو یہاں پر اس ایت کریمہ میں تقوی کا ذکر تین بار فرمایا گیا ہے جس سے تقوی کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ بعض حضرات اہل علم نے کہا ہے کہ یہاں پر پہلے تقویٰ سے مرادیہ ہے کہ وہ شرک سے بچ کر ایمان لائے ہوں۔ اور دوسرے موقع پر تقویٰ سے مرادیہ ہے کہ اس پر انہوں نے مداومت و ہمیشگی کی ہو اور وہ اس پر ثابت قدم رہے ہوں۔ جبکہ تیسرے موقع پر تقویٰ سے مراد ہے کہ وہ گناہوں سے بچ کر رہے ہوں اور انہوں نے نیک کام بھی کئے ہوں۔ سو اس اعادئہ و تکرار سے تقویٰ کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ (التسہیل لعلوم التنزیل، محاسن التاویل وغیرہ) کہ تقویٰ ہی حقیقت میں دارین کی سعادت و سرخروئی کا ضامن و کفیل ہے۔ اور اسی سے انسان طرح طرح کی عنایات خداوندی سے سرفراز ہوتا ہے۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے ایک طرف یہ واضح ہوجاتا ہے کہ شریعت اسلامی میں احکام کا نزول بتدریج ہوا ہے اور تدریج کے اس طریقہ کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی سہولت اور ان کی بہتری کے لئے اختیار فرمایا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر گرفت و پکڑ اور مواخذہ نہیں فرمائیگا جنہوں نے اس کی بخشی ہوئی اس رخصت سے فائدہ اٹھایا۔ اور یہ تدریج عموماً تین مدارج پر رہی۔ پھر اس آیت کریمہ میں تقویٰ کا ذکر تین بار ہوا ہے۔ پہلی بار تقویٰ کے ساتھ ایمان اور عمل صالح ذکر فرمایا گیا۔ دوسری مرتبہ ایمان کا ذکر فرمایا گیا۔ اور تیسری مرتبہ احسان کا۔ سو یہاں پر تقویٰ کے تین بار ذکر کرنے سے اس کے انہی تدریجی مراتب کی طرف اشارہ فرما دیا گیا۔ 238 صفت احسان کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو اس سے احسان اور محسنیں یعنی نیکوکاروں کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور محسن وہ لوگ ہیں جن کی نیتیں اور ارادے بھی نیک ہوں اور عمل و کردار بھی درست۔ پس ان کو وہ ان کے اس اجر وثواب سے نوازے گا جس کے اپنے مرتبہ و شان کے مطابق یہ لوگ مستحق ہوں گے کہ وہ بڑا ہی قدر دان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس آیت کریمہ کی شان نزول سے متعلق حضرت انس ۔ ؓ ۔ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ ؓ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا کہ اتنے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوگیا۔ تو آنحضرت ﷺ نے منادی کو حکم دیا کہ جا کر اس کی حرمت کا اعلان کر دے۔ ہمیں جب منادی کی آواز سنائی دی تو ابوطلحہ ؓ نے مجھے فرمایا کہ باہر جا کر دیکھو کہ یہ کیسی اور کیا آواز ہے۔ تو میں نے جا کر دیکھا اور واپس آ کر بتایا کہ اس طرح منادی شراب کی حرمت کا اعلان کر رہا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اٹھو اور اس شراب کو فورا ً گرا دو ۔ چناچہ میں نے ایسے ہی کیا اور پھر مدینے کی گلیوں میں شراب جگہ جگہ بہہ رہی تھی۔ تو اس پر بعض حضرات نے کہا کہ ہم میں سے کچھ لوگ تو اس حالت میں قتل ہوگئے کہ ان کے پیٹوں میں شراب تھی تو ان کا کیا بنے گا ؟ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی ۔ { لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ۔ اور اس میں بتادیا گیا کہ ایسے لوگوں پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری کتاب المظالم والغصب و کتاب التفسیر، ترمذی کتاب التفسیر وغیرہ ) ۔ یہاں پر ایک لمحہ کے لئے رکیے اور سوچیے اور ان حضرات صحابہ کرام ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ کی شان اطاعت و بندگی اور جذبہ تسلیم ورضا کو دیکھئے اور اس سے اندازہ کیجئے کہ کیسی انقلاب آفریں ہے ایمان و یقین کی یہ متاع بےمثال جو انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے اور اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ وہ لوگ جو شراب خانہ خراب کے ایسے رسیا اور جدی پشتی عادی تھے کہ شراب گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، جب وہ نبی امی ۔ فداہ لحمی ودمی ۔ پر ایمان لائے، ان کی دعوت پر لبیک کہا، ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہوگئے، تو بےمثال استاذ کی بےمثال شاگردی میں یہ لوگ ایسے مثالی بلکہ بےمثال نمونے بن گئے کہ ڈھونڈے سے بھی کہیں ان کی کوئی مثال نہیں مل سکے گی۔ حرمت شراب کی ندا جونہی سنی اور تحریم خمر کا پیغام جونہی انکو ملا اور یہ آواز جونہی ان کے کان میں پڑی کہ شراب کو حرام کردیا گیا تو وہ فوراً اور بلاکسی توقف و انتظار اور بغیر کسی تسویف و تاویل کے سرتسلیمِ خم ہوگئے۔ شراب کے مٹکے ٹوٹنے لگے اور شراب خانہ خراب مدینے کی گلیوں اور نالیوں میں جابجابہنا شروع ہوگئی۔ اور اس کو ایسا ترک کیا کہ جو لوگ حکم تحریم کے نزول سے پہلے فوت ہوگئے تھے ان کے بارے میں بھی ان کو فکر دامنگیرہو گئی کہ ان کا کیا بنے گا ؟ تو کیا کوئی مثال مل سکتی ہے ایسے امتثال بےمثال کی ؟ اور اس قدر اطاعت و فرمانبرداری کی ؟ ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر منحوس اور بدبخت ہیں وہ لوگ جو ان قدسی صفت حضرات صحابہ کرام ؓ پر بھی زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ایمان و یقین میں بھی کیڑے نکالنے کی سعی مذموم کرتے ہیں اور اس بارے تشکیک پیدا کرنے کیلئے وہ طرح طرح کے پاپڑ بیلتے اور جھوٹ کے پلندے گھڑتے اور گھڑا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اللہ ضرور تمہاری آزمائش کرے گا کچھ ایسے شکاروں کے ذریعے، جو تمہارے ہاتھوں کی پہنچ، اور تمہارے نیزوں کی زد میں ہوں گے، تاکہ اللہ یہ دیکھے کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے، پس جس نے اس (تنبیہ) کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا، تو اس کے لئیے ایک بڑا اور دردناک عذاب ہے،2

239 اہل ایمان کے لئے ایک آزمائش کا اعلان : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور تمہاری آزمائش کرے گا کچھ خاص شکلوں کے ذریعے۔ یعنی تم لوگوں کی آزمائش ضرور کریگا تاکہ کھرے کھوٹے میں فرق وتمیز ہوسکے۔ سو یہ بھی اس ارحم الراحمین کی رحمت بیکراں کا ایک مظہر عظیم ہے کہ اس نے اس امتحان کے بارے میں پیشگی ہی بتادیا تاکہ اہل ایمان اس کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوجائیں۔ اور وہ اس امتحان میں کامیابی سے ہم کنار و سرفراز ہوں کہ آزمائش بہرحال آزمائش ہوتی ہے۔ اور شکار سے ممانعت کی یہ آزمائش بعض اعتبارات سے بڑی سخت بھی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ شکار بالعموم انسان کو اور خاص طور پر عربوں کو بہت مرغوب تھا۔ اور خاص کر سفر کے دوران میں جبکہ انسان کو خاص طور پر زیادہ ضرورت بھی ہوتی ہے۔ تو ایسے میں اگر شکار اس کثرت اور اتنی سہولت اور اس قدر آسانی سے مل جائے تو اس سے بچنا اور آزمائش میں پورا اترنا کوئی آسان بات نہیں۔ سو ایسی آزمائش میں پورا وہی اتر سکتے ہیں جو ایمان و یقین کی قوت میں ایک خاص امتیازی شان رکھتے ہوں۔ اور جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے خاص عنایت سے سرشار ہوں۔ اور یہ ممانعت چونکہ اصل میں کی ہی اسی لیے گئی تھی کہ لوگوں کے ایمان اور تقویٰ کو جانچا اور پرکھا جائے۔ اس لیے اس سے متعلق پیشگی اس طرح خبردار کیا گیا کہ آگے تم لوگوں کو ایسے مواقع پیش آئیں گے کہ تم لوگ احرام باندھے ہوئے ہو گے اور مختلف قسم کے شکار تمہارے اردا گرد اور تمہاری پہنچ اور دسترس میں ہوں گے مگر تم نے ان کا شکار نہیں کرنا۔ پس تم لوگ محتاط رہنا اور ایسا نہ ہو کہ تم لوگ اس طرح پھسل جاؤ جس طرح یہود پھسل گئے تھے۔ 240 ابتلاء و آزمائش کیلئے قدرت کی طرف سے خاص ماحول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مختلف قسم کے شکار اس طرح تمہاری دسترس میں ہویں گے مگر تمہیں احرام کی وجہ سے ان کا شکار کرنا جائز نہ ہوگا۔ علامہ ابن کثیر اور قاضی بیضاوی وغیرہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا عمرہ حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا جبکہ چرند و پرند وغیرہ مختلف شکار حضرات صحابہ کرام ؓ کے پاس خود جمع ہوجاتے۔ اور ان کے خیموں کے اندر داخل ہوجاتے۔ اور اس قدر کثرت سے کہ اس کی اس سے پہلے کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ وہ اگر چاہتے تو ان کو تیروں اور نیزوں سے شکار کرلیتے۔ بلکہ انکو ہاتھوں سے یونہی پکڑ لیتے۔ مگر انہوں نے اس کے باوجود ایسے نہیں کیا اور آزمائش کے دور میں کوئی شکار نہیں کیا۔ حالانکہ اس دوران نیل گائے اور دوسرے جنگلی جانوروں کے ریوڑوں کے ریوڑ اور پرند چرند ان کے خیموں کے اندر خود بڑی کثرت کے ساتھ پہنچ رہے تھے۔ سو شکار کی ممانعت کا یہ واقعہ جو حضرات صحابہ کرام ؓ کی آزمائش کیلئے پیش آیا تھا بنی اسرائیل کے اصحاب سبت یعنی ہفتے کے دن والے لوگوں کے قصے سے بالکل مشابہ ہے۔ ان دونوں میں ابتلاء و آزمائش کے دو نمونے پیش آئے اور دونوں کے نتائج دو مختلف صورتوں میں سامنے آئے۔ اَصحاب سبت والوں کو مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا مگر وہ صبر نہ کرسکے اور انہوں نے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے کام لینا شروع کیا اور آزمائش میں ناکام رہے۔ جبکہ حضرات صحابہ کرام ؓ اس آزمائش میں پورے اترے حالانکہ شکار ان کی اس قدر پہنچ میں تھے کہ وہ اگر چاہتے تو ان کو نیزوں بھالوں کے علاوہ خود اپنے ہاتھوں سے یونہی پکڑ لیتے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے کوئی شکار نہیں کیا۔ (صفوۃ، محاسن، اور بیضاوی وغیرہ) ۔ سو اس طرح وہ حضرات اس آزمائش میں پورے اترے جو ان کے صدق و اخلاص اور قوت ایمان و یقین کا ایک واضح مظہر اور کھلا ثبوت ہے ۔ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم وَعَنَّا مَعَہُم اَجْمَعِیْنَ- 241 علم بمعنی اظہار وتمیز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھے اور اس طرح کہ کھرا کھوٹا خود نکھر کر اور کھل کر سامنے آجائے۔ پس { لِیَعْلَم } کا کلمہ یہاں پر اپنے معروف معنیٰ میں نہیں کہ " اللہ جانے "۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے، اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس کا علم کسی امتحان اور آزمائش پر موقوف نہیں۔ بلکہ اس لفظ کا معنیٰ یہاں پر دیکھنا اور واضح کرنا ہے۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اس ابتلاء و آزمائش کے ذریعے یہ امر ظاہر اور واضح کر دے کہ کون بن دیکھے اللہ سے ڈرتا اور اس کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی سے بچتا ہے اور کون اصحاب سبت کی طرح حیلوں بہانوں سے کام لیکر خلاف ورزی کا ارتکاب کرتا ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جَلَّ وَعَلَا ۔ سو اس آیت کریمہ میں قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مواقع کی طرح علم بمعنی اظہار اور تمیز کے ہے کہ اللہ پاک کا طریقہ یہی ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو سب کے سامنے کھول دیتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ کون اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون اصحاب السبت کی طرح بہانہ بازی اور حیلہ سازی سے کام لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 242 بن دیکھے خدا سے ڈرنا ہی صلاح و فلاح کی اصل بنیاد ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھے کہ کون اللہ سے ڈرتا ہے بن دیکھے۔ سو بن دیکھے خدا سے ڈرنا اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچنا ہی اساس و بنیاد ہے صلاح و فلاح کی اور اسی پر مدارو انحصار ہے سارے معاملے کا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے وہ ان ظاہری اور ناسوتی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ آنکھیں محدود و مخلوق اور عاجز و قاصر ہیں۔ اس کو صرف دل کی آنکھوں ہی سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو ماننے کے لئے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اس کو بالغیب یعنی بن دیکھے ہی مانا جائے۔ 243 حدود اللہ سے تجاوز باعث عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا تو اس کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ پس حدود اللہ سے تجاوز سے ہمیشہ بچنے اور محفوظ رہنے کی فکر کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرنے والوں کیلئے بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ آخرت میں کہ ایسا شخص امتحان میں ناکام ہوگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی پیروی نہیں کی۔ اور اس کے عمل سے ثابت ہوگیا کہ وہ بن دیکھے خدا سے نہیں ڈرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدوں کی پابندی اور پاسداری ہی پر سارے معاملے کا دار و مدار ہے۔ اور اس کی حدود کا التزام اور ان کی پابندی ہی وہ امر ہے جس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے کہ اسی خالق ومالک کو اس کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کیلئے حدیں مقرر فرمائے۔ اور اس کی مقرر فرمودہ حدود ہی انسان کیلئے حقیقی فوز و فلاح کی ضامن و کفیل ہیں اور ہوسکتی ہیں کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو خالق ومالک ہونے کے ساتھ ساتھ حاکم و حکیم اور رحمن و رحیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، تم شکار مت کرو ایسی حالت میں کہ تم احرام میں ہوا کرو اور جس نے تم میں سے جان بوجھ کر ایسے کرلیا تو اس کے ذمے بدلہ ہے مارے ہوئے جانور کے برابر (وہم پلہ) مویشیوں میں سے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر آدمی کریں، کعبہ تک پہنچنے والی قربانی کے طور پر، یا (پھر اس کی قیمت کے برابر) کفارہ میں کھانا کھلانا ہوگا کچھ مسکیوں کو، یا اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ چکھے مزہ اپنے کئے کا اللہ نے معاف فرما دیا اس کو جو کہ اس سے پہلے ہوچکا، اور جس نے پھر یہ حرکت کی تو اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ بڑا ہی زبردست (اور ٹھیک ٹھیک) بدلہ لینے والا ہے،

244 حالت احرام میں شکار کی ممانعت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسی حالت میں شکار مت کیا کرو جبکہ تم حالت احرام میں ہوا کرو۔ خواہ وہ احرام حج کا ہو یا عمرے کا۔ کیونکہ احرام انتہائی تذلل اور عاجزی کا مظہر ہے۔ پس ایسی حالت میں شکار کرنا مومن کو زیب نہیں دیتا۔ اور مراد اس شکار سے خشکی کا شکار ہے نہ کہ پانی کا شکار کہ اس کی اجازت ہے جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ بہرکیف { وَاَنْتُم حُرُم } کی اس شرط و قید سے واضح فرما دیا گیا کہ جب تک تم احرام کی حالت میں ہوا کرو شکار مت کیا کرو کہ ایسی صورت میں شکار کرنا ممنوع و محظور ہے۔ اور یہ بات احرام کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ البتہ جب احرام کی پابندیوں سے آزاد اور فارغ ہوجاؤ تو اس کے بعد تم شکار کرسکتے ہو کہ اس کے شکار کی اجازت ہے۔ لیکن جب تک احرام کی پابندیوں میں ہوا کرو تو اس سے بچ کر رہا کرو۔ 245 حَکَم تم ہی میں سے ہوں : یعنی وہ دونوں منصف اور حَکَم مسلمان ہوں۔ اور ان کی رائے پر اعتبار کیا جاتا ہو۔ غیر مسلم کی گواہی اس ضمن میں معتبر نہیں ہوگی ۔ { وَلَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیِنَ عَلَی الْمومِنِیْنَ سَبِیْلًا } ۔ (النسائ : 141) کہ " اللہ تعالیٰ نے کافروں کیلئے اہل ایمان کے مقابلے میں کوئی زور اور غلبہ نہیں رکھا "۔ لہذا اہل کفر کو اہل حق پر حَکَم اور منصف بننے کا کوئی حق نہیں۔ اس لئے ایسے معاملے میں حَکَم بننے اور فیصلہ کرنے والے دونوں منصفوں کا تعلق اہل ایمان سے ہو۔ { مِنْکُمْ } کے کلمہ فعل سے اس کی تصریح فرما دی گئی کہ ان دونوں منصفوں کا تعلق اہل ایمان ہی سے ہو۔ 246 ھَدْی کے جانور کو حرم ہی میں ذبح کرنا ضروری ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کعبہ تک پہنچنے والی قربانی کے طور پر۔ یعنی وہ قربانی لے جا کر حرم میں نحر یا ذبح کی جائے اور اس کا گوشت حرم کے فقراء و مساکین میں تقسیم کیا جائے۔ اور اس سے وہ شخص خود نہیں کھا سکتا۔ پس اس قربانی کو اسی مقام پر جہاں وہ شخص خود موجود ہو یا حرم کے سوا کسی اور جگہ پر ذبح کرنا جائز نہیں۔ بلکہ اس کو حدود حرم ہی میں ذبح کرنا اور وہاں کے فقراء و مساکین پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ بہرکیف۔ { ھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ } ۔ کے اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ دونوں حَکَم اور منصف جس جانور کا بھی فیصلہ کریں اس کا حدود حرم میں پہنچنا اور وہاں ذبح کیا جانا ضروری ہے۔ کہ اس کے ذبح اور قربانی کی جگہ وہی ہے جس کی پابندی ضروری ہے۔ 247 ھَدْی کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا : سو ارشاد فرمایا گیا یا کفارہ میں کھانا کھلانا ہوگا کچھ مسکینوں کو۔ یعنی اگر شکار کا مثل نہ مل سکے یا مثل کو حدود حرم میں لے جا کر ذبح کرنا ممکن نہ ہو تو اس مقتول شکار کی قیمت لگا کر اس کا غلہ مسکینوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔ یا ان کو کھانا کھلا دیا جائے۔ جیسا کہ صدقہ فطر وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ (معارف از کاندھلوی وغیرہ) ۔ اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ ہر شخص کو دو سیر گندم دے دی جائے۔ سو تاوان کی رقم سے جتنی بھی گندم بنے اس کو اسی حساب سے ان کے درمیان تقسیم کیا جائے۔ سو اس حکم و ارشاد میں بندوں کے لیے سہولت اور آسانی ہے۔ 248 کھانا نہ کھلا سکے تو روزے رکھے : سو ارشاد فرمایا گیا یا اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے۔ یعنی ہر مسکین کے حصے کے برابر ایک روزہ کے حساب سے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ یعنی اگر کھانا نہ کھلا سکے تو جس قدر مسکینوں کو اس جزائِ صید غلہ پہنچنا ہو اسی کے حساب سے روزے رکھے۔ حرف " اَوْ " یہاں پر بعض حضرات کے نزدیک تخییر کیلئے ہے۔ یعنی ان تینوں میں سے جو صورت چاہے اختیار کرے۔ جبکہ بعض حضرات کے نزدیک یہ تخییر کیلئے نہیں بلکہ ترتیب کیلئے ہے۔ یعنی اول اس پر ہَدْی واجب ہے۔ یہ اگر نہ ہوسکے تو پھر کھانا کھلانا ہے۔ اور یہ بھی اگر نہ ہوسکے تو پھر روزے رکھنے ہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ 249 اسلامی سزاؤں کا اصل مقصد تطہیر و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ـ تاکہ اس طرح وہ مزہ چکھے اپنے اس کیے کرائے کا جس کا ارتکاب اس نے حرمت احرام کی خلاف ورزی سے کیا۔ تاکہ وہ آئندہ باز رہے اور ایسی حرکت کا ارتکاب دوبارہ نہ کرے۔ تاکہ اس طرح تطہیر بھی ہوجائے اور دوسرے کیلئے تذکیر بھی۔ سو اسلامی سزاؤں کا اصل مقصد تطہیر و تذکیر ہے تاکہ اس طرح اس کو معلوم ہوجائے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ٗ ۔ کی مقرر فرمودہ حدود کی خلاف ورزی کے ارتکاب کا نتیجہ و انجام کیا ہوتا ہے۔ تاکہ اس طرح وہ اس سے آئندہ کے لئے محتاط رہے اور دوسروں کے لئے نمونہ عبرت بنے۔ اور اس طرح وہ اس سے محتاط رہیں۔ اور اس کے نتیجے میں معاشرہ جرائم سے پاک صاف ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 250 نزول حکم کے پہلے کے عمل پر کوئی مواخذہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے معاف فرما دیا اس کو جو اس سے پہلے ہوچکا۔ یعنی اس حَکَم کے نازل ہونے سے پہلے یا اس شخص کے اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں۔ (معارف القرآن ازکاندھلوی) کہ اس وقت وہ حکم کا مکلف ہی نہیں تھا۔ سو نزول حکم سے پہلے کے عمل کی بنا پر کسی سے کوئی مواخذہ نہیں۔ پس اگر کسی نے یہ احکام نازل ہونے سے پہلے احرام کی حالت میں شکار کیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے۔ اس پر کوئی گرفت و پکڑ نہیں ہوگی۔ لیکن آئندہ اس پر پکڑ بہرحال ہوگی۔ لہذا اس سے محتاط رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 251 تکرار معصیت پر پکڑ کی وعید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پھر یہ حرکت کی تو اللہ اس سے انتقام لے گا کہ ایسے شخص کو کہ دنیا میں اس کا بدلہ دینا ہوگا اور آخرت میں اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔ اگر سچی توبہ نہ کی تو۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ دنیوی سزا سے اخروی عذاب اسی صورت میں رفع ہوسکتا ہے جبکہ جرم و قصور کا اعادہ و تکرار نہ ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو کوئی اپنے جرم و قصور کے سلسلے میں اعادہ و تکرار سے کام لے گا اور پھر وہی کچھ کرے گا جو اس نے پہلے کیا تھا تو وہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 252 اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کریمہ کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی زبردست اور انتقام لینے والا ہے۔ پس نہ کوئی اس کی گرفت سے بچ سکے گا اور نہ ہی کوئی لاگ لپٹ اس کے یہاں کام آسکے گی کہ وہ انتقام لینے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس فکر و کوشش ہمیشہ اسی کی ہونی چاہیئے کہ اس خالق ومالک سے معاملہ صحیح رہے اور وہ ناراض نہ ہوجائے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَھُوَ الہَادِیْ اِلٰی سوائِ السَّبِیْل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کریمہ کا حوالہ دے کر ایسے لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اس کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور لاپروا نہ ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

حلال کردیا گیا تمہارے لئے سمندر کا شکار پکڑنا، اور اس کا کھانا، فائدہ پہنچانے کے لئے تمہیں، اور دوسرے مسسافروں کو، اور حرام کردیا گیا تم پر خشکی کا شکار، جب تک کہ تم احرام کی حالت میں ہوؤ اور ڈرتے رہا کرو تم لوگ اس اللہ سے جس کے حضور تم سب کو اکٹھا کر کے پیش کیا جائے گا،1

253 بحری شکار کی حلت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بحری شکار تمہارے لئے حلال کردیا گیا تاکہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ ورنہ اگر تمہیں یہ اجازت نہ ملتی تو تمہیں بڑی مشکل پیش آتی۔ سو اپنے خالق ومالک کی اس عنایت سے فائدہ اٹھاؤ اور دل و جان سے اس کا شکر بجاؤ لاؤ۔ بہرکیف حالت احرام میں خشکی کا شکار تو حرام کردیا گیا لیکن بحری شکار حلال ہے۔ اس کا اگر کوئی موقع ملے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ 254 حالت احرام میں خشکی کے شکار کی حرمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حرام کردیا تم لوگوں پر خشکی کا شکار جب تک تم حالت احرام میں ہوؤ۔ اس سورة کریمہ میں یہ تیسری مرتبہ خشکی کے شکار کی حرمت کا ذکر آرہا ہے۔ اس سے اس امر کی تاکید اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خشکی کے شکار کی حرمت حرم میں اور احرام کی حالت میں کس قدر زیادہ ہے۔ بہرکیف یہ ایک وقتی حرمت تھی جو حالت احرام تک محدود تھی کہ جب تک تم لوگ احرام کی حالت میں ہوؤ گے تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ اور یہ ممانعت تمہارے لئے ایک آزمائش ہے۔ اس لئے تم نے اس کا بطور خاص خیال رکھنا ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔ تاکہ تم کامیاب ہو سکو ۔ وباللہ التوفیق - 255 یوم جزا کی یاد دہانی سے نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اس اللہ سے جس کے حضور تم سب کو اکٹھا کر کے پیش کیا جائے گا۔ یعنی یوم حشر میں۔ سو تم چاہو یا نہ چاہو جانا بہرحال تمہیں سب کو اسی کے حضور ہے۔ اور وہاں ہر کسی نے اپنے کئے کرائے کا بدلہ بہرحال پانا ہے۔ اس لئے ہمیشہ اور سب سے پہلے یہ بات پیش نظر رکھو کہ اس وحدہ لاشریک کے یہاں کیا جواب دیں گے ؟ اور وہاں معاملہ کیسا رہے گا ؟ اصل فیصلہ تو بہرحال وہیں کا ہے۔ سو روز جزا کی حاضری اور وہاں کی جوابدہی کا احساس ہی انسان کو سیدھا اور اس کے رویے کو درست رکھنے والی چیز ہے۔ اس لیے اس کی بار بار اور طرح طرح سے یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہاں ہر کسی نے اپنے کئے کرائے کا پھل پانا اور اس کا بھگتان بھگتنا ہے۔ اس لئے وہاں کی جوابدہی کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے سامنے رکھا جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِی اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ ۔ اور آخرت کا یقین اور وہاں کی جوابدہی کا احساس ایک انقلاب آفرین چیز ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے عزت والے گھر کعبہ کو، لوگوں (کی اجتماعی زندگی) کے لئے قیام کا ذریعہ بنادیا اور (اسی طرح) عزت والے مہینے، حرم میں قربانی ہونے والے جانور اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں (قربانی کی نشانی کے طور پر) پٹے ڈالے ہوں، یہ (قراردار) اس لئے کہ تاکہ تم یقین جان لو کہ اللہ کے علم میں ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے، اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے،2

256 کعبہ مشرفہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے عزت والے اپنے اس گھر یعنی کعبہ کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے کہ حج اور نماز وغیرہ کتنے ہی احکام کا تعلق اسی سے ہے۔ اور جب تک یہ باقی ہے دنیا باقی ہے۔ اور جب اللہ پاک دنیا کو ختم کرنا چاہیں گے تو سب سے پہلے اس کو اٹھائیں گے۔ (مظہری، فتح القدیر، مدارک، صفوۃ، معارف وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کعبۃ اللہ کا فائدہ سب لوگوں کو یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی پہنچتا ہے اگرچہ ان کو اس کا کوئی احساس اور اعتراف بھی نہ ہو۔ کہ اس منبع خیر و برکت بیت عتیق کے وجود اور اس کی بقا سے ان سب کا وجود اور ان کی بقا ہے۔ ورنہ ان سب کے سمیت اس کارخانہ ہست وبود کا خاتمہ ہوجائے۔ سو دنیا کی تعمیر کا آغاز بھی اسی گھر سے ہوا، جیسا کہ ارشاد فرمایا ۔ اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ للنَاسِ للَّذِیْ ببکَۃَ } ۔ اور اس کے خاتمے کا ارشاد بھی اسی سے ہوگا۔ (معارف للکاندھوی ) ۔ نیز یہی وہ مقام مبارک ہے جسکی طرف پوری دنیا کے مسلمان اپنی عبادات میں متوجہ ہوتے ہیں۔ اور یہ مرکز سب کیلئے مرکز توحید بھی اور باعث سکون واطمینان قلب بھی ہے۔ بہرکیف کعبہ مشرفہ لوگوں کے لئے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے قیام و بقا کا ذریعہ ہے ۔ زَادَھَا اللّٰہ تَشْرِیْفًا وَّ تَعْظِیْما وَزَادَنَا اِیْمَانًا وَّیَقِیْنًا - 257 حرمت والے مہینے بھی امن وامان کا ذریعہ :ـسو ارشاد فرمایا گیا اور عزت وحرمت والے مہینے کو بھی۔ کہ حرمت والے ان مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی عرب کے لوگ قتل و قتال سے باز رہتے تھے۔ اور وہ یہ چار مہینے ہیں۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ (صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ کیونکہ حرمت کے ان مہینوں میں زمانہ جاہلیت میں بھی ہر طرح کا قتل و قتال ممنوع ہوتا تھا اور مکمل امن وامان ہوتا تھا۔ اور کسی طرح کے جنگ وجدال کو وہ لوگ جائز نہیں سمجھتے تھے۔ وہ لوگ آپس میں قتل و خونریزی کرتے لیکن جب حرمت والے مہینے آجاتے تو وہ لوگ رک جاتے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور جب وہ لوگ اللہ کے لئے اور اس کے حکم وارشاد کے احترام میں جنگ وجدال سے رکیں گے تو اس کے نتیجے میں وہ کئی طرح کے فتنوں سے بچ جائیں گے۔ اور امن وامان سے بہرہ ور و سرفراز ہوں گے۔ اور سکون و اطمینان کی فضا قائم ہوگی۔ 258 قربانی کے جانوروں کی عظمت شان کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قربانی کے جانور بھی امن وامان اور خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ یہاں پر " اَلْقَلَائِد " سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ اصل میں ہے " ذوات القلائد " (جامع، صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ یہ قلادے چونکہ قربانی کے جانور کے گلے میں نشانی کے طور پر ڈالے جاتے تھے جس کے باعث کوئی ان کو چھیڑتا نہیں تھا اس لئے یہ ان کی حفاظت و سلامتی کا ذریعہ بن جاتے تھے۔ نیز ان کی قربانی کی وجہ سے جو خیرو برکت نصیب ہوتی ہے وہ ان لوگوں کے لئے بھی حفظ وامان اور خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے جو اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کے لئے ان جانوروں کو قربان کرتے ہیں۔ سو رحمتیں ہی رحمتیں اور برکتیں ہی برکتیں ہیں اس مالک الملک وحدہ لاشریک کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ مَا شَکَرَ شَاکِرُوْنَ وَمَا غَفَلَ عَنْہ غَافِلُوْنَ ۔ قربانی کے تمام جانوروں میں سے قلادے ڈالے ہوئے ان جانوروں کا بطور خاص ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں ثواب بھی زیادہ ہے اور ان کی حج کے ساتھ مناسبت اور تعلق بھی ظاہر اور واضح ہے۔ (المحاسن وغیرہ) ۔ وَبِاللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرِیْد ۔ بہرکیف یہ امن وامان کے مختلف مظاہر اور وسائل ہیں۔ 259 اللہ تعالیٰ کا ہر حکم وارشاد بےنظیر و بےمثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ یقینا جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور جب یہ صفت و شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کے لیے ممکن نہیں تو اللہ تعالیٰ کے کسی حکم و ارشاد کی بھی کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں کہ اس سب کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ پس اس کی ہدایات وتعلیمات اور مواعظ و ارشادت میں ہر طرح سے خیر ہی خیر اور برکت ہی برکت ہے۔ لہذا تم لوگ دل و جان سے ان کو اپناؤ تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے بہرہ ور و سرخرو ہو سکو۔ سو اس کے اوامرو احکام کی نہ کوئی نظیر ممکن ہوسکتی ہے نہ مثال کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ایسا کامل اور محیط علم ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ اسی وحدہ لاشریک کی یہ شان ہے کہ وہ اس سب کو پوری طرح جانتا ہے جو کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں موجود ہے۔ سو وہ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَخُذْنَا بِنَواصیْنَا الٰی مَا فیہِ حُبَّکَ وَرِضاکَ یَا ذَا الجَلَالَ وَالْاکْرَام - 260 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس کے ظاہر و باطن کے اعتبار سے، نفع و نقصان کے لحاظ سے اور اس کے انجام و مآل کے اعتبار سے۔ پس اس نے جو کچھ فرمایا، بتایا، وہی حق ہے۔ اور اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی بھی ہستی کی یہ شان نہیں ہوسکتی۔ پس معبود برحق بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ وحدہ لاشریک ہی ہے جس کا ہر حکم علم کامل، رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ پر مشتمل ہے۔ اس لیے اسی کا حکم و قانون انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا کفیل وضامن ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی برتنا سب سے بڑا اور دنیا و آخرت کا خسارہ ہے ۔ وَالعیاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ-
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

یقین جانو کہ اللہ عذاب دینے میں بھی بڑا سخت ہے، اور یہ کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان بھی ہے،3

261 اللہ تعالیٰ کی شان عدل کے دو پہلوؤں کی تذکیر و یاددہانی : سو اللہ تعالیٰ کی شان عدل و انصاف کے دونوں پہلوؤں کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو کہ عذاب دینے میں بھی بہت سخت ہے اور اس کی بخشش اور مہربانی بھی بہت بڑی ہے۔ پس نہ تو تم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے غافل و بےفکر ہوجاؤ اور نہ ہی اس کی رحمت و بخشش سے مایوس و ناامید۔ بلکہ اس کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہنے کی فکر بھی کرو اور اس کی رحمت و بخشش کی بھرپور امید بھی رکھو کہ یہی تقاضا ہے ایمان و یقین کا۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ " الاِیْمَانُ بَیْنَ الْخَوفِ وَالرَّجَائِ " ۔ کہ ایمان خوف اور امید کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ اور اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { نَبِّئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَاَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَاب الاَلِیْم } ۔ (الحجر :49-50) ۔ پس جو لوگ اپنے جرم و قصور پر اڑے رہیں گے وہ اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور اس کے برعکس جو لوگ صدق دل سے توبہ کر کے اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ کی طرف رجوع کریں گے ان کے سب گناہوں کو وہ اپنی شان کرم و عنایت سے معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی غفور اور انتہائی مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فِایَّاہ نساَلُ التوفیق مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول کے ذمے تو (پیغام حق کو) پہنچا دینا ہے اور بس اور اللہ جانتا ہے وہ سب کچھ جسے تم لوگ ظاہر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جسے تم چھپاتے ہو،4

262 رسول کی ذمہ داری ہے کلمہ حق پہنچا دینا اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ رسول کے ذمے تو پہنچادینا ہے اور بس۔ اور وہ انہوں نے کردیا۔ اور اس سے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ آگے منوا لینا نہ تو رسول کے بس میں ہے اور نہ ہی ان کی ذمہ داری۔ اب تبلیغِ حق کے بعد اگر تم لوگوں نے نہ مانا تو اس کی تمام تر ذمہ داری خود تم ہی لوگوں پر ہوگی اور اس کا بھگتان بھی تم ہی لوگوں کو بھگتنا ہوگا اور بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس اپنے مآل و انجام کی فکر تم خود کرو قبل اس سے کہ فرصت عمر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ اور پھر تدارک و تلافی کی کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہ رہے اور تم سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 263 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جانتا ہے وہ سب کچھ جس کو تم لوگ ظاہر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جس کو تم لوگ چھپاتے ہو۔ پس اللہ سے تمہاری کوئی بھی چیز چھپ نہیں سکتی کہ وہ تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی کے مطابق تم اس کے یہاں سے اپنے کئے کرائے کا بدلہ پاؤ گے۔ پس اپنا معاملہ ہمیشہ اس سے درست رکھو ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس تم لوگ اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ اس سے تمہاری کوئی بھی حالت اور کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ وہ ظاہر اور باطن دونوں کو ایک برابر جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ظاہر و باطن اور اخفاء و اظہار کی یہ تقسیم تم لوگوں کے یہاں اور تمہارے اعتبار سے ہے ورنہ اس وحدہ لاشریک کے یہاں سب ایک برابر ہے۔ اور وہ سب کو یکساں جانتا اور ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰھُمَّ لِکُلِّ مَا تُرِیْد فی کل حالٍ مِّنَ الاحوال وفِیْ کُلّ مَوْطِن مِّنَ المَوَاطِنِ فِیْ الْحَیاۃِ -
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہو (اے پیغمبر ! کہ باہم) برابر نہیں ہوسکتے پاک اور ناپاک، اگرچہ ناپاک کی بہتات تمہیں اچھی ہی کیوں نہ لگتی ہو، پس ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے، اے عقل خالص رکھنے والو ! تاکہ تم فلاح پاسکو،

264 پاک اور ناپاک آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ پاک اور ناپاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ ناپاک کی بہتات تم کو اچھے لگے کہ پاک چیز میں جو خیرو برکت ہوتی ہے وہ ناپاک اور خبیث میں بہرحال نہیں ہوسکتی۔ خواہ وہ پاک چیز قول و فعل ہو، یا مال و دولت یا کچھ اور کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ (قرطبی، محاسن وغیرہ) ۔ سو پاک چیز میں جو خیر و برکت ہوتی ہے وہ اس قدر بڑی اور اتنی عظیم الشان چیز ہے کہ ناپاک کی اس کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں پاک چیز ہی نصیب فرمائے اور خبیث و ناپاک کی ہر شکل و صورت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ پس تم لوگ ہمیشہ پاک چیز ہی کو اپنانے کی فکر و کوشش میں رہا کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 265 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ فوز و فلاح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری عقل خالص کا تقاضا اور ذریعہ فوز و فلاح ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سے ڈرو تم لوگ اے عقل خالص رکھنے والو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ پس تم لوگ ہمیشہ تقویٰ کو اپنائے رکھو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ اور فلاح ہی وہ سب سے بڑی نعمت ہے جو کہ مقصد حقیقی اور غایت اصلی ہے۔ اور جو کہ عبارت ہے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ و پرسکون زندگی سے بہرہ مندی سے اس دنیا میں اور جنت کی نعیم مقیم سے بہرہ مندی و سرفرازی سے آخرت کے اس ابدی جہاں اور حقیقی اور دائمی زندگی میں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری بڑا ہی عظیم الشان نصب العین اور بےمثال گوہر مقصود ہے۔ اور عقل خالص کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اسی گوہر کو اپنے پیش نظر رکھے۔ بھلا جو چیز دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی ہو اس سے بڑھ کر افضل اور بہتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے ؟ اور اس کے بالمقابل اس سے محرومی سب سے بڑی محرومی اور ہولناک خسارہ ہے۔ سو کسقدر محروم اور بدبخت ہیں وہ لوگ جو تقویٰ و پرہیزگاری کے اس گوہر تابدار سے ناواقف و نا آشنا ہیں۔ اور اس طرح وہ زندگی کے حقیقی لطف سے محروم، اپنے مآل و انجام سے غافل و لاپروا ہیں۔ اور خالص حیوانوں کی بلکہ اس سے بھی کہیں بدترزندگی گزار رہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ وذَالِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم و گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، تم مت پوچھا کرو ایسی باتوں کے بارے میں کہ جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت میں پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہے، تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی، اللہ نے معاف فرما دیا ان سوالات سے متعلق (جو اس سے پہلے تم لوگ کرچکے ہو) اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی بردبار ہے،1

266 غیر ضروری اور نامناسب سوالات سے ممانعت : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مت پوچھا کرو ایسی چیزوں کے بارے میں جو اگر تم لوگوں پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو بری لگیں۔ مثلاً تمہاری ایسی کوئی حرکت ظاہر ہوجائے جس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ تو اس سے تم کو شرمندہ ہونا پڑے۔ یا ایسا کوئی حکم اور عمل تم پر فرض ہوجائے جو کہ پہلے فرض نہ تھا تو اس سے تم مشقت میں پڑجاؤ۔ جیسا کہ بعض واقعات میں ہوا۔ سو اس طرح کے غیر ضروری اور نامناسب سوالات نہیں پوچھنے چاہئیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آنحضرت ﷺ سے استہزاء اور آزمائش کے طور پر مختلف قسم کے غیر ضروری سوالات کرتے۔ کوئی پوچھتا میرا باپ کون ہے ؟ کون کہتا میری گمشدہ اونٹنی کہاں ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (بخاری : کتاب التفسیر سورة المآئدۃ) ۔ اور بھی مختلف روایات اس بارے مروی ہیں ۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ العزیز۔ 267 نزول وحی کا زمانہ باران رحمت کا زمانہ ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے ایسی چیزوں کے بارے میں اس وقت پوچھا جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ یعنی جب کہ پیغمبر موجود ہیں اور وحی کا سلسلہ جاری ہے۔ کیونکہ نزول وحی کا زمانہ باران رحمت کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس طرح نزول باران کے دوران زمین میں پڑنے والا ہر بیج اگ آتا ہے اسی طرح نزول وحی کے دور میں پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے۔ اللہ پاک کی طرف سے ایسی کسی بات کے بارے میں کوئی حکم نہ فرمانا کسی سہو یا نسیان کی بنا پر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سہو و نسیان کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بلکہ ایسا تمہارے لئے آسانی اور سہولت کی غرض سے ہوتا ہے۔ پس تم لوگ خواہ مخواہ بےمقصد اور فضول سوالات کرکے اپنے لئے تنگی اور مشکلات کا سامان نہ کرو۔ حضرت ابو ثعلبہ الخشنی ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر فرمائے ہیں ان کو ضائع نہیں کرنا۔ اور کچھ حدیں قائم فرمائی ہیں ان کو پھلانگنا نہیں۔ اور کچھ چیزوں کو اس نے حرام فرمایا ہے تم ان کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ اور کچھ چیزوں کو اس نے یونہی چھوڑ دیا ہے بغیر کسی بھول یا نسیان کے۔ پس تم ان کے پیچھے نہیں پڑنا ۔ اور ان میں کھود کرید نہیں کرنا ۔ (رواہ الدارقطنی، وابونعیم) (محاسن التاویل للعلامہ القاسمی) ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَ یرِیْد ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ ایسی باتیں پوچھ چکا ہے، پھر (جواب ملنے پر) وہی ان کے منکر ہوگئے،2

268 غیر ضروری سوالات باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اسی طرح کی باتوں کے بارے میں پوچھا لیکن [ جواب ملنے پر ] پھر وہی لوگ ان کے منکر ہو گیے۔ یعنی اس سے مقصود بعینہ یہی سوالات نہیں بلکہ انہی کی جنس سے تعلق رکھنے والے اسی طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات ہیں۔ (تفسیر القاسمی و تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ یعنی پہلی امتوں نے جو سوالات پوچھے تھے وہ بھی اسی طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات تھے اور ان کے نتیجے میں ان قوموں پر ایسے ہی وبال اور مصائب آئے تھے۔ یہاں تک کہ وہی لوگ ان کے منکر ہوگئے۔ چناچہ بنی اسرائیل اپنے پیغمبروں سے اسی طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات کرتے۔ پھر جب جواب ملتا تو وہ اس کے منکر ہوجاتے اور اس کے نتیجے میں وہ ہلاکت میں جاگرتے۔ (محاسن التاویل اور مراغی وغیرہ) ۔ سو اس طرح کے غیر ضروری سوالات باعث ہلاکت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جس طرح غیر ضروری سوالات کرنا منع ہے اسی طرح کثرت سوالات یعنی زیادہ سوالات کرنا بھی ممنوع ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں آنحضرت ﷺ سے اس بارے ممانعت ذکر ہوئی ہے۔ چناچہ روایت میں ہے ۔ " نَہیٰ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ عَنْ قِیْلَ وَقَال وَعَنْ کَثْرَۃِ السُّوَال وَعَنْ اضاعَۃِ المال " ۔ یعنی " اللہ کے رسول نے منع فرمایا قیل وقال سے، کثرت سوال سے اور مال کے ضائع کرنے سے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ 269 پیغمبر کا کام ازخود حکم دینا نہیں اتباع کرنا ہوتا ہے : اور پیغمبر کی بات ماننے ہی میں لوگوں کا بھلا ہوتا ہے مگر ایسے لوگوں نے حکم ملنے کے بعد اس کی تعمیل نہیں کی۔ بلکہ یہ اس کے منکر ہوگئے اور انہوں نے اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ حکم بہرحال اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوتا ہے کہ حاکم وہی ہے ۔ { اِنِ الْحُکْمُ اِلّا لِلّٰہِ } ۔ پس اس موقع پر اہل بدعت کے بعض بڑوں اور انکے زعماء اور رؤساء کا یہ کہنا کہ اس سے معلوم ہوا کہ احکام حضور کو مفوض ہیں۔ جو فرض فرمائیں فرض ہوجائے اور جو نہ فرمائیں نہ ہو۔ اور ان کے ایک مشہور تحریف پسند کا اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو مالک احکام بنادیا ہے، ایک ایسا دعویٰ اور قول ہے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی، کہ حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کا وصف ہے رسول اور پیغمبر۔ کہ آپ اپنے رب کی طرف سے پیغام پہنچاتے ہیں نہ یہ کہ ازخود اپنی طرف سے حکم دیں۔ آپ ﷺ کا صاف وصریح اعلان و ارشاد ہے ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰیٓ اِلَیَّ } ۔ (یونس : 15) ۔ کہ میرا کام تو صرف پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے نہ کہ اپنی طرف سے کوئی حکم دینا۔ وہ وحی خواہ جلی ہو یعنی قرآن حکیم یا خفی جیسے احادیث کریمہ۔ اور اللہ پاک کی طرف سے آپ کو حکم بھی صرف اتباع اور پیروی کا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں جگہ جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا گیا ۔ { اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِکَ } ۔ یعنی " پیروی کرو تم اس وحی کی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے تمہارے رب کی طرف سے ‘ (الانعام آیت 107) ۔ { وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٰیٓ اِلَیْکَ وَاصْبِرْ } ۔ (یونس : آیت نمبر 109) " اور پیروی کرو تم اس وحی کی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اور صبر سے کام لیتے رہو " ۔ { وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٓیٰ اِلِٓیْکَ مِنْ رَّبِکَ } ۔ (الاحزاب : آیت نمبر 2) " اور پیروی کرو اس وحی کی جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے " وغیرہ وغیرہ کتنی ہی آیات کریمہ میں اس بات کی تصریح ہے کہ پیغمبر کا کام تو صرف پیروی کرنا ہوتا ہے اس وحی کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے آتی ہے نہ کہ ازخود اپنی طرف سے احکام جاری کرنا۔ اور آپ ﷺ خود صاف اور صریح طور پر اعلان فرماتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے نہ کسی حلال کو حرام کرسکتا ہوں اور نہ کسی حرام کو حلال۔ (صحیح بخاری : ج ا ص 438، صحیح مسلم : ج ص 29) وغیرہ۔ بلکہ میرا کام تو صرف پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو اللہ کی طرف سے میرے پاس آتی ہے اور بس۔ اسی لئے قرآن پاک میں آپ کو اس بارے ان الفاظ میں تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے ۔ { یَآ اَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } ۔ (التحریم : 1) کہ " اے پیغمبر آپ ایک ایسی چیز کو اپنے لئے حرام کیوں ٹھہراتے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دیا ہے "۔ اور یہ تنبیہ اس موقع پر نازل ہوئی جب کہ آپ ﷺ نے ایک خانگی مصلحت کی بنا پر شہد کو قسم کھا کر اپنے اوپر حرام فرما لیا تھا۔ چناچہ صحیح احادیث کے مطابق آپ ﷺ نے اپنی اس قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ دیا اور شہد استعمال فرمایا۔ نیز ارشاد ربانی ہے ۔ { لَیْسَ لَکَ مِنَ الاَمْرِ شَیْئٌ } ۔ (آل عمران : 128) ۔ یعنی " اس معاملے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں "۔ اس لئے علماء و فقہاء کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کہ نبی کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہوتا ہے اور بس۔ تحلیل و تحریم کا اختیار آپ کو نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ صرف نبی و رسول ہوتے ہیں نہ کہ کوئی خدائی اختیار رکھنے والے۔ اس کی مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : عمدۃ القاری : ج 12 ص 745، اشعۃ اللمعات : ج 3 ص 178، حجۃ اللہ البالغۃ : ج 1 ص 49، الجواہر والیواقیت للشعرانی : ج 2 ص 24، التحریر لابن الہمام الحنفی : ص 224 وغیرہ وغیرہ۔ اس کے باوجود اہل بدعت کے ان پیشواؤں کا یہ کہنا کہ حضور احکام کے مالک اور مفوض ہیں، جو چاہیں حکم دیں اور فرض فرمائیں، ایک لغو اور بےبنیاد قول ہے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ جیسا کہ ابھی صاف وصریح آیات اور احادیث کی روشنی میں گزرا۔ اور نصِّ قرآنی کے مطابق پیغمبر خود اپنا منصب نفی و اثبات کے الفاظ و کلمات اور حصر و تاکید کے اسلوب کے ساتھ بیان فرماتے ہیں کہ میرا کام تو صرف وحی کی پیروی کرنا ہے اور بس ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰیٓ اِلَیَّ } ۔ دراصل تفویض کا یہ خود ساختہ، نامعقول اور غلو آمیز عقیدہ شیعہ و روافض کا عقیدہ ہے جو ان کی کتابوں میں موجود ہے اور ان کے حالیہ امام خمینی آنجہانی نے بھی اپنی مختلف کتابوں " الحکومۃ الاسلامیۃ " وغیرہ میں لکھا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : شرح مواقف ازجرجانی الحنفی :757 اور غنیۃ الطالبین ازشیخ جیلانی : ص 221 وغیرہ۔ اس طرح اہل بدعت نے بھی یہ عقیدہ دراصل انہی لوگوں سے لیا اور اس کو انہوں نے بھی انہی عوامل و محرکات کی بنا پر اپنایا ہے جن کی بنا پر ان لوگوں نے اس کو اپنایا اور اختیار کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ باقی رہی مسلم شریف کی وہ حدیث جس کا حوالہ اس موقع پر ان دونوں اہل بدعت نے دیا ہے تو اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اگر میں اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر ہاں کہہ دیتا تو یہ تم پر فرض ہوجاتا۔ اور تم نہ کرسکتے۔ نہ یہ کہ میں ازخود اپنی طرف سے ہاں کرکے فرض کردیتا۔ جیسا کہ اہل بدعت نے سمجھا۔ رہی یہ بات کہ اتنی جلدی وحی کا نزول کیسے ہوسکتا تھا تو اس کا انکار جیسا کہ علامہ طحاوی حنفی نے فرمایا کوئی ملحد و زندیق ہی کرسکتا ہے۔ ورنہ مومن صادق کو اس میں نہ کوئی اشتباہ ہوسکتا ہے نہ استبعاد۔ (ملاحظہ ہو مشکل الآثار) ۔ اہل بدعت کے ان ہی بڑے صاحب نے یہاں پر ایک اور اپچ اس طرح نکالی ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حلال وہ ہے جسے اللہ حلال کرے اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام فرمایا۔ اور جس سے خاموشی رہی وہ معاف ہے۔ لہذا محفل میلاد شریف اور عرس وغیرہ کو چونکہ اللہ رسول نے حرام نہیں فرمایا، لہذا حلال ہے۔ زیغ طبع ملاحظہ ہو کہ ان صاحب نے حدیث خود وہ نقل کی جس میں تصریح ہے کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کا فعل اور اسی کا اختیار ہے۔ مگر عقیدہ اس کے خلاف یہ بنایا کہ احکام حضور کو مفوض ہیں۔ اور مزید یہ کہ محفل میلاد اور عرس وغیرہ کا جواز اس سے کشید کرتے ہیں کہ چونکہ اس سے اللہ، رسول نے منع نہیں فرمایا، اس لئے یہ حلال ہیں۔ حالانکہ کسی بھی حکم شرعی کے ثبوت کے لئے دلیل مثبت کا ہونا ضروری ہوتا ہے نہ کہ محض یہ مفروضہ کہ اس سے منع نہیں کیا گیا۔ ورنہ اگر کوئی شخص موصوف کی اسی خود ساختہ منطق کی بنا پر انہی کی زبان میں یوں کہنے لگے کہ صاحب نمازیں پانچ نہیں چھ فرض ہیں۔ روزے تیس نہیں چالیس ہیں۔ حج سال میں ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ ہے۔ فجر کی رکعتیں دو نہیں تین ہیں یا ظہر کی چار نہیں پانچ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ ان میں سے کسی کے بھی منع اور ناجائز ہونے کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ لہٰذا ایسا کرنا ممنوع نہیں مباح ہے۔ تو پھر بدعت اور تحریف کے یہ علمبردار اور ان کی کمپنی آخر اس کا کیا جواب دے گی ؟ اور اس کا رد آخرکس بنا پر کرے گی ؟۔ سو موصوف کے اس استدلال کی بنیاد ہی غلط ہے اور بناء الفاسد علی الفاسد کے قبیل سے ہے۔ اور یہ تحریف و تغییر دین کے زمرے میں آتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ زَیْغِ وَاِلْحَاد وّانحراف۔