Ayahs 5:103–104270 بَحِیْرَۃ اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے کوئی " بحیرہ " مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ مشرکین عرب کے یہاں رواج تھا کہ جو اونٹنی پانچ بچے جنتی اور اس کا پانچواں بچہ نر ہوتا تو وہ لوگ اس کے کان چیر کر اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ اس سے وہ لوگ کوئی فائدہ نہ لیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے نہ بوجھ لادتے۔ نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ اس کو کہیں چرنے یا پانی پینے سے روکتے۔ وہ آزادانہ جہاں چاہتی جاتی، چرتی، پانی پیتی۔ اس کو کوئی روک ٹوک نہ ہوتی۔ اس کو یہ لوگ " بحیرہ " کہتے تھے۔ اور " بحیرہ "، " بحر " سے بنا ہے جسکے معنیٰ چیرنے کے آتے ہیں۔ سو " بَحِیْرَہ "، " فَعِیْلَہ " بمعنیٰ مفعول ہے۔ یعنی وہ اونٹنی جسکے کان چیر دیئے گئے ہوں۔ (المحاسن وغیرہ) ۔ سو دین حق میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
271 { سَائِبَۃ } اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی اللہ نے کوئی سائبہ مقرر فرمایا ہے جس کو وہ لوگ شفا وغیرہ کی غرض کے لئے بتوں کے نام کی نذر کر کے یونہی کھلا چھوڑ دیتے تھے۔ جیسا کہ ہندو لوگ اپنے بتوں اور دیویوں وغیرہ کے نام کے سانڈ چھوڑتے ہیں۔ اور کئی جاہل مسلمان بھی کسی بزرگ یا قبر وغیرہ کے نام کی کوئی منت و نذر مان کر اس کو یونہی چھوڑ دیتے ہیں۔ جس طرح کہ " بحیرہ " سے کوئی خدمت نہیں لی جاتی تھی۔ نیز " سَائِبَۃ " اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جو دس بچے جنے اس طرح کہ وہ سب کے سب مادہ ہوں ان کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو۔ ایسی اونٹنی کو وہ لوگ بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے۔ نہ اس پر بوجھ لادا جاتا نہ سواری کی جاتی۔ نہ اس کی اون کاٹی جاتی نہ اس کا دودھ پیا جاتا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو یہ سب کچھ ان لوگوں کے اپنے توہمات پر مبنی تھا جس کی نہ کوئی اصل تھی نہ بنیاد۔ اور ایسی فرضی اور وہمی چیزوں کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش ہو ہی نہیں سکتی۔ پس یہ سب مردود ہے۔
272 { وَصِیْلَۃ } اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اللہ نے کوئی وصیلہ مقرر فرمایا ہے۔ یعنی جو بکری دو مرتبہ مادہ جنے۔ اس طرح کہ اس کے بیچ اس نے کوئی نر بچہ نہ دیا ہو۔ اس کو بھی وہ لوگ بتوں کے نام نذر کر کے آزاد چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے کہا کہ " وصیلہ " اس بکری کو کہتے ہیں جو اپنی ماں کے ساتویں بطن میں اپنے بھائی کے ساتھ پیدا ہوئی ہو۔ اس کو بھی وہ لوگ یونہی آزاد چھوڑ دیتے اور کہتے کہ یہ بکری اپنے بھائی سے مل گئی۔ پھر وہ اس کی وجہ سے اس کے بھائی کو بھی ذبح نہ کرتے اور اس کے دودھ کو مردوں کیلئے حلال قرار دیتے اور عورتوں کیلئے حرام۔ (محاسن وغیرہ) ۔ سو " سائبہ " کی طرح " وصیلہ " کے بھی دو مفہوم و مطلب ہوگئے اور یہ دونوں ہی صورتیں زمانہ جاہلیت میں پائی جاتی تھیں۔ اور یہ سب کچھ ان کے اوہام و خرافات کا نتیجہ تھا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
273 { حَام } اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اللہ نے کوئی جام مقرر فرمایا ہے۔ یعنی وہ اونٹ جس کی جفتی سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ اس کو بھی وہ لوگ بتوں کی نذر کر کے یونہی آزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس سے وہ کوئی خدمت وغیرہ نہیں لیتے تھے۔ گویا اس طرح اس نے اپنی پیٹھ کی حمایت و حفاظت کا سامان کرلیا۔ اس لئے اس کو وہ " حام " کہتے تھے۔ اور ان جانوروں کی تعریف و تعیین میں اور بھی کئی اقوال مروی ہیں۔ لیکن ان میں کوئی منافات نہیں کہ سب ہی صورتیں وہاں موجود تھیں اور یہ سب کی سب اوہام و خرافات پر مبنی تھیں۔ کوئی اصل و بنیاد ان کی نہیں تھی۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے نور علم و ہدایت سے محرومی کا کہ اس کے بعد انسان ایسے ہی طرح طرح کے اندھیروں میں بھٹکتا پھرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس وحی خداوندی کا نور ہی وہ نور عظیم ہے جو انسان کو راہ ِحق و ہدایت سے بہرہ مند و سرفراز کرتا ہے اور اس کو تہ در تہ اندھیروں سے نکال کر کے حق و ہدایت کے اجالے اور روشنی کی طرف لاتا ہے ۔ فَالحمد للّٰہِ الذِی شَرَّفَنَا بالصِرَاطِ الْمُسْتَقِیْم ۔ اَللّٰھُمَّ فَثَبِتنا عَلَیہ یا ذَا الْجَلَالِ وَالاِکْرَام -
274 کسی حلال کو از خود حرام ٹھہرانا اللہ پر بہتان باندھنا ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنی طرف سے جھوٹ باندھتے ہیں اللہ پر اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی حلال چیزوں کو ازخود حرام قرار دیتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کسی حلال چیز کو بلا کسی شرعی دلیل کے ازخود یونہی حرام قرار دے دینا اللہ پر جھوٹ گھڑنا اور بہتان باندھنا ہے جو کہ بڑا ہی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے جن پاکیزہ چیزوں کو اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمایا ہے ان کو حرام قرار دینے کا حق کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ۔ { قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطِیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ } ۔ (الاعراف : 32) ۔ یعنی " ان سے کہو اے پیغمبر کہ کس نے حرام کیا اس زینت کو جس کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے اپنے بندوں کے لئے اور ان پاکیزہ چیزوں کو جو اس نے ان کو عطا فرمائی ہیں ؟ "۔ اسی لیے حدیث میں ان بدعات کے موجد عمرو بن الخزاعی کے بارے میں سخت عذاب کا ذکر آیا ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرۃ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں دوزخ کی آگ میں گھسیٹ رہا ہے کہ یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے " بحیرہ " اور " سائبہ " وغیرہ کو رواج دیا اور دین اسماعیل کو بدلا۔ (بخاری : کتاب التفسیر، سورة المآئدۃ، مسلم : کتاب الجنتہ وصفۃ نعیمہا و اھلہا) افسوس کہ آج امت مسلمہ کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو دور جاہلیت کے لوگوں کے نقش قدم پر اس طرح حماقتوں کا ارتکاب کرتے ہوئے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں میں سے کچھ کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے مفروضوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
275 کفر و شرک مت ماری کا باعث ۔ والعیاذ باللہ : سو کفر و شرک اور احداث و بدعت کی نحوست سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اپنی عقلوں سے کام نہیں لیتے۔ سو مت ماری کے باعث ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایسے لوگ عقل کی روشنی سے کام نہیں لیتے ورنہ وہ ایسی ایسی حماقتوں کا ارتکاب نہ کرتے۔ اور اللہ پاک پر ایسے ایسے بہتان باندھنے کی جسارت کبھی نہ کرتے۔ دراصل شرک و بدعت کی نحوست سے ایسے لوگوں کی عقل مار دی جاتی ہے جس سے وہ اس قدر موٹی بات بھی سمجھنے کے قابل نہیں رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور { اَکْثَرَھُمْ } کے لفظ سے اس حقیقت کو پھر آشکارا فرما دیا گیا کہ اکثر لوگ عقل و خرد کے نور سے محروم ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام کی اکثریت کی تائید و تردید کو کسی امر کے حق یا باطل ہونے کیلئے معیار نہیں قرار دیا جاسکتا۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے پجاریوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے۔ بہرکیف یہاں سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک اور احداث و بدعت سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس سے وہ سیدھی اور صحیح بات سمجھنے اور ماننے کے قابل نہیں رہتا۔ اور کفر و شرک اور بدعت کے ماروں کے طور طریقوں سے ان کی مت ماری کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے اور اس کے مظاہر یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ملتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 5:105–106278 دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنی فکر کرنے کی ضرورت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی فکر کرو دوسرے کسی کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ تم لوگ خود ہدایت پر ہوؤ۔ پس تم لوگوں کو دوسروں کی عیب چینی اور خوردہ گیری کرنے کی بجائے سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ انسان اصل میں اور سب سے پہلے اپنا ہی ذمہ دار ہے۔ اور اپنی ذات ہی کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی۔ پس تم اپنی فکر کرو اور تم سے اسی بارے پوچھ ہوگی۔ زمحشری کہتے ہیں کہ جو لوگ فاسقوں اور فاجروں کے پیچھے پڑنے، ان کی عیب جوئی اور خوردہ گری کرنے ہی کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں وہی اس کے اصل مخاطب ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو یہ ایک بڑی عظیم الشان ہدایت ہے جو اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ انسان جب دوسروں کی عیب جوئی اور خوردہ گیری کرنے لگتا ہے تو وہ اپنی اصلاح سے غافل ہوجاتا ہے۔ اور اس طرح وہ بڑے خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو انسان دوسروں کی بجائے سب سے پہلے اپنی اصلاح کا محتاج ہے۔ اور اس کو اپنے عیبوں ہی پر سب سے زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس کا درس انسان کی فطرت کے اندر اس طرح موجود اور مرکوز ہے کہ انسان جب کسی دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتا ہے تو اس کی تین انگلیاں خود اس کی اپنی طرف مڑی ہوتی ہیں مگر وہ اس سے سبق نہیں لیتا اور اپنی فطرت میں مرکوز اس عظیم الشان درس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اور اس طرح وہ خسارے میں پڑجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
279 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم لوگوں کو بتادے گا وہ سب کچھ جو تم قتل کر رہے تھے یعنی اپنی زندگیوں میں اور اس کے مطابق تمہیں اپنے کیے کرائے کا بدلہ پانا ہوگا۔ اس لئے اصل اور سب سے پہلے اپنی اصلاح و فکر کرو اور ہمیشہ یہ بات اپنے پیش نظر رکھو کہ حساب اور معاد کے اس یوم عظیم کیلئے میں نے کیا تیاری کی ہے اور کیا سامان جمع کیا ہے۔ سو یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی اصلاح فرد و معاشرے کیلئے ایک انقلاب آفریں تاثیر رکھتی ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں اس کا جگہ جگہ اور طرح طرح سے اہتمام فرمایا گیا ہے کہ دنیا والوں کی نگاہوں سے تو انسان چھپ اور بچ سکتا ہے لیکن حساب و جزا کے اس یوم عظیم کی پرسش اور گرفت و پکڑ سے بچنا اس کے لئے کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اس یوم حساب کو ہمیشہ یاد رکھے کہ وہاں پر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب میں نے خود دینا ہے۔ وہاں پر کوئی دوسرا نہ میرے کچھ کام آسکے گا اور نہ کسی کی وجہ سے میری جواب دہی کا بوجھ مجھ سے ہلکا ہو سکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 5:107283 گواہوں کی جگہ دوسرے دو گواہ کھڑے کیے جائیں : یعنی میت کے وارث جن کو اس سے زیادہ قرابت و رشتہ داری ہو۔ یعنی اگر کسی طرح یہ پتہ چل جائے کہ ان دونوں گواہوں نے اپنی گواہی میں کذب بیانی یا کسی خیانت و بددیانتی یا کسی طرح کے اخفاء و کتمان سے کام لیا تھا تو اس وقت گواہی وارثوں کی طرف لوٹائی جائے۔ یعنی پہلے دو گواہوں کی جگہ ان میں سے دو گواہ کھڑے ہوں۔ اور وارثوں میں سے دونوں گواہ ایسے ہوں جو میت کے زیادہ قریب ہوں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی صورت میں ان دو کی جگہ دوسرے دو گواہ کھڑے کئے جائیں جو کہ متوفی کے وارثوں میں سے ہوں۔ وہ اس معاملے کے بارے میں گواہی دیں۔
Ayahs 5:108–109284 گواہی کو صحیح طور پر ادا کرنے کا سب سے اچھا طریقہ : یعنی یہ طریقہ جو ہم نے مقرر کیا کہ امانت رکھنے والے کو سب کے سامنے اور نماز کے بعد قسم دی جائے۔ اور قسمیں بھی سخت قسم کی دی جائیں۔ اور اس کے بعد قسمیں وارثوں کی طرف لوٹائی جائیں۔ یہ طریقہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی صحیح طریقے پر ادا کریں۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہے اور اس کے بعد لوگوں کی فضیحت کا ڈر بھی۔ (المراغی) ۔ سو ایسی صورت میں ان دونوں گواہوں کو اس بات کا خوف ہوگا کہ ان کی قسمیں دوسرے دو آدمیوں کی قسموں کے ذریعے رد کردی جائیں گی۔ سو اس خوف سے وہ دروغ گوئی اور کذب بیانی سے بچیں گے کہ اس طرح ان کو عام لوگوں کے سامنے اور سوسائٹی میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ خِزْیٍ وَّ سُوْئٍ ۔ (معالم الفرقان فی دروس القرآن وغیرہ) ۔
285 فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں مل سکتی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ فاسق لوگوں کو ہدایت کی دولت سے سرفرازی نصیب نہیں ہوسکتی کہ ہدایت کی دولت ملتی ہے طلب صادق پر۔ اور طلب صادق کی اس نعمت سے ایسے بدکار لوگ محروم ہوتے ہیں۔ تو پھر انکو ہدایت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟۔ سو فاسق لوگ اپنے فسق کی بنا پر نور حق و ہدایت سے محروم ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو توفیق نہیں ملتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ تو ایک عام فطری قانون و دستور ہے کہ دنیا میں کسی کو ایک عام سی چیز بھی ہاتھ پھیلائے اور مانگے بغیر نہیں ملتی تو پھر حق و ہدایت کی دولت جو کہ اس کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے وہ بغیر چاہے اور بن مانگے آخر کیوں اور کیسے مل سکتی ہے ؟۔ سو حق و ہدایت کی نعمت عظمیٰ ملتی تو حضرت واہب مطلق کی طرف سے بغیر کسی قیمت کے اور بالکل مفت ملتی ہے کہ اس کی قیمت دینا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں کہ اس کے مقابلے میں دنیا ساری کا ثمن قلیل بھی ہیچ ہے۔ سو وہ ملتی تو مفت اور بالکل مفت ہے مگر اس کے لئے طلب صادق اور رجوع الی اللہ اولین شرط ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق -
Ayah 5:110289 حضرت عیسیٰ کا خصوصی ذکر اور اس میں پنہاں درسہائے عبرت و بصیرت : حضرات انبیائے کرام کے عمومی ذکر کے بعد اب یہ حضرت عیسیٰ ۔ (علیہ السلام) ۔ کا بطور خاص ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ آنجناب کی محبت کے غلو میں آپ ﷺ کے پیروکاروں نے خاص طور پر بہت شرک کیا۔ یہاں تک کہ ان بدبختوں نے اپنے دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ انہوں نے آپ ﷺ کو خدا، خدا کا بیٹا، عالم غیب، متصرف فی الامور، یہاں تک کہ زندگی و موت کا مالک و مختار بھی مان لیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسی بناء پر یہاں سے اب حضرت عیسیٰ کا ذکر علیحدہ اور مستقل طور پر فرمایا جا رہا ہے تاکہ واضح ہوسکے کہ آنجناب کے بارے میں آپ کی امت نے کیسی کیسی شرکیات کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ آج امت مسلمہ کے جاہل طبقے کا ایک بڑا حصہ بھی اسی طرح کے شرکیہ عقائد ونظریات میں مبتلا ہے۔ اور بدعت پرست اور شکم پرور ملاں اور پیران سوء ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کو ان شرکیات پر پکا کرتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے نبی سے بڑھ کر ان کے امتیوں اور ان میں بھی صحابہ کرام کے عہد مبارک سے گزر کر صدیوں بعد کے بزرگوں کے بارے میں بھی یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ وہ بھی اللہ کی قدرت اور اس کی عطا و بخشش سے مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے۔ چناچہ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند نے جسکو اس کے حامی بڑے بڑے القاب سے نوازتے ہیں اس نے اس موقع پر اور انہی آیات کریمہ کے ذیل میں اپنے تفسیری ۔ بلکہ تحریفی ۔ حواشی میں صاف لکھ دیا کہ حضور غوث پاک نے بارہ برس کی ڈوبی کشتی کو صحیح سلامت نکال دیا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس تحریف پسند نے اس جھوٹے اور من گھڑت قصے کے دولہا، اس کی برات، اس کے مقام اور اس کی قبر وغیرہ تک کے بارے میں بےسروپا باتوں کو بھی یہاں ذکر کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور پھر بھی دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان اور توحید کے علمبردار ہیں۔ اگر۔ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ ۔ یعنی احیاء و اماتت کی خدائی صفت میں اس کی عاجز و بےبس مخلوق کو شریک ماننا بھی شرک نہیں تو پھر شرک نام اور کس بلا کا ہے ؟ اور ایسے خود ساختہ اور من گھڑت قصوں کو قرآنی آیات کا مفہوم و مصداق قرار دینا بھی اگر تحریف نہیں تو پھر تحریف اور ہوتی کیا ہے ؟۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ وَھُوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْہِ التُّکلان ۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول تھے اور بس۔
290 حضرت عیسیٰ کو انعامات خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے حضرت عیسیٰ اور مریم ۔ علیھما الصلوۃ والسلام ۔ پر ہونے والے انعامات خداوندی کی یاد دہانی فرمائی جا رہی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم یاد کرو میرے ان انعامات اور احسانات کو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیے کہ تم کو بغیر باپ کے معجزانہ طور پر اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا۔ آپ کو بالکل بچپن میں معجزانہ طور پر بولنے اور ایک نہایت عمدہ، مدلل اور پاکیزہ کلام کرنے کے شرف سے نوازا۔ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کو طہارت و پاکیزگی اور ہدایت و راہنمائی کا ایک امتیازی مقام بخشا۔ اپنے دور کی تمام عورتوں پر ان کو فضلیت و بزرگی عطا کی۔ ان کی گود میں آپ سے ایک معجزانہ اور مدلل کلام کروا کر بےمثال طریقے سے ان کی طہارت و پاکدامنی کا اعلان کروایا وغیرہ۔ (ابن کثیر، محاسن اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو حضرت عیسیٰ کے اس قصہ کی تذکیر و یاددہانی میں نصاریٰ کیلئے خاص طور پر تنبیہ کا سامان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ پر کیسے کیسے انعامات فرمائے۔ مگر ان لوگوں نے اس کے جواب میں کیسی ناشکری اور بےقدری اور کس قدر کفر و شرک کا اظہار و ارتکاب کیا کہ یہ لوگ تمام کفار و مشرکین سے بڑھ گئے کہ دوسرے کفار و مشرکین کی گستاخیاں تو حضرات انبیائے کرام تک تھیں لیکن ان لوگوں کی گستاخیاں تو حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ تک جا پہنچیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا اور اس کا شریک قرار دے دیا۔ اور آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کو بھی اس کی خدائی میں شریک کردیا۔ (المراغی) اور اس طرح ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے پیش کردہ دین توحید کو بدل کر دین شرک بنادیا اور دین الٰہی کو بگاڑ کر کچھ کا کچھ کردیا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ اور مریم خدا نہیں خدا کے برگزیدہ بندے تھے اور بس ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
291 حضرت عیسیٰ کے لیے تائید غیبی کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی تائید روح القدس کے ذریعے فرمائی گئی جو کہ آپ کے ساتھ رہتے اور مشکلات و مصائب سے آپ کی حفاظت کرتے۔ پس یہ مدد اسباب کے درجے میں تھی نہ کہ مافوق الاسباب طور پر۔ اس لئے اہل بدعت کا اس سے اپنی مافوق الاسباب مدد کے شرکیہ عقیدے کے لئے استدلال کرنا باطل و مردود اور خود ان لوگوں کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا ثبوت ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بشر کا درجہ نوریوں کے مقابلے میں کس قدر بلند وبالا ہے کہ نوریوں کے سردار حضرت جبریل امین بحکم الہٰی حضرت عیسیٰ کی تائید و نصرت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ پس اہل بدعت کا حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ کا انکار کرکے ان کو نور ثابت کرنے کی کوشش کرنا اور اس غرض کیلئے نصوص صریحہ تک میں تحریف سے کام لینا ان لوگوں کی اپنی جہالت اور بلادت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف روح القدس کے ذریعے حضرت عیسیٰ کی تائید و نصرت خداوندی کا یہ انعام بھی حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدَہ ۔ کی طرف سے حضرت عیسیٰ پر ایک خاص انعام تھا۔ اس لیے اس کا بھی یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے تھے ۔ (علیہ السلام) -
292 حضرت عیسیٰ کا مہد اور کہل کا کلام ایک برابر : سو حضرت عیسیٰ کا بچپن کا کلام بھی بڑی عمر کے کلام کی طرح مدلل اور معقول کلام تھا۔ یعنی آپ کا بچپن کا کلام بھی بڑی عمر کے کلام کی طرح بڑا معقول اور مضبوط تھا۔ نیز آپ نے بحکم الٰہی دوبارہ اس دنیا میں نزول فرمانا ہے تاکہ آپ ﷺ بڑی عمر کے اپنے کلام سے بھی دنیا کو نوازیں۔ جس طرح کہ بچپن کے کلام سے انہیں محظوظ فرما چکے ہیں۔ سو یہ دونوں احتمال یہاں موجود ہیں جسکی بنا پر یہاں مہد اور کہل یعنی بچپن اور ادھیڑ عمر کے دونوں کلاموں کو ایک ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔ ورنہ بڑھاپے اور ادھیڑ عمر کا کلام کوئی معجزہ نہیں جسکو اس سیاق وسباق میں ذکر فرمایا جائے کہ وہ تو ایک عام چیز اور عادی بات ہے جو عام اور ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے بارے میں چونکہ بہت سے لوگوں نے غلو سے کام لیا اور ان کو خداوند قدوس کی الوہیت اور خدائی میں شریک قرار دے دیا اس لئے یہاں پر اس بارے تصریح فرما دی گئی کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا تھے اور نہ خداوند قدوس کی کسی صفت میں شریک وسہیم۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے جن پر یہ اور یہ انعامات فرمائے گئے ۔ علیہ الصَّلَوۃُ والسلام ۔ اور جنہوں نے ان کو خدا قرار دیا انہوں نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ -
293 حضرات انبیائے کرام کی تعلیم براہ راست اللہ کی طرف سے : سو اس سے حضرات انبیائے کرام کے علوم کی امتیازی شان واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے تمام علوم براہ راست اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ کسی انسان سے کچھ نہیں سیکھتے۔ سو عیسیٰ سے فرمایا گیا کہ میں نے تجھ کو تورات بھی سکھائی اور انجیل بھی۔ یعنی تورات و انجیل کے ظاہری معانی و مطالب بھی سکھائے اور باطنی اسرار و رموز بھی بتلائے۔ یا کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سنت ہیں جن کے مطابق آپ اپنے دوبارہ نزول کے بعد فیصلہ فرمائیں گے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف آپ کے یہ تمام علوم و معارف اللہ تعالیٰ کی تعلیم و تلقین ہی سے تھے۔ کسی بشر اور انسان سے آپ نے کبھی کچھ نہیں پڑھا تھا، جیسا کہ سب ہی انبیائے کرام کی صفت و شان ہوتی ہے کہ وہ تمام علوم براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں۔ کسی انسان سے کبھی نہیں سیکھتے۔ کوئی انسان اور بشر کسی پیغمبر کا معلم اور استاذ نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے یہاں حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں یعنی میں نے سکھائے تمہیں یہ علوم و معارف۔ سو حضرات انبیائے کرام کی عظمت شان کا یہ ایک خاص پہلو اور شان ہے کہ ان کے علوم براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اور حضرت حق ۔ جلَّ مَجْدُہٗ ۔ ان تمام حضرات کو آسمانی علوم و معارف سے نوازتے ہیں۔ وہ کسی بشر اور انسان سے کبھی کوئی حرف بھی پڑھتے سیکھتے نہیں۔ اور یہ انہی کا خاصہ ہے ۔ عَلَیْھِمُ الصَّلُوۃُ وَالسَّلَام -
294 حضرت عیسیٰ کے بعض خاص معجزات کا ذکر : سو اس سے آنجناب کے بعض ان خاص معجزات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ (علیہ السلام) کو نوازا تھا۔ اور ان کے ذکر میں ہر ایک کے ساتھ { بِاذنِیْ } " میرے حکم سے " کی تصریح موجود ہے۔ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ آپ کو کوئی خدائی اختیارات مل گئے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن وحکم سے معجزانہ طور پر ہوا تھا۔ اور اللہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے کہ وہ عزیز و حکیم بھی ہے اور علیم وخبیر بھی اور عَلٰی کُلِّ شَیء قِدِیْرِ بھی۔ مگر افسوس کہ اللہ پاک کی اس تنبیہ و تذکیر کے باوجود آپ کے ماننے کے دعویداروں نے آپ کو خدا کی خدائی میں شریک کرکے شرک کے گناہ عظیم اور جرم سنگین کا ارتکاب کیا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ زَیْغٍ وَّضَلَال ۔ سو معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کے اذن سے ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
295 حضرت عیسیٰ کی حفاظت بنی اسرائیل سے : سو حضرت عیسیٰ کی حفاظت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے تم سے بنی اسرائیل کو روک دیا اور یہود بےبہبود کو آپ کے قتل و صلب کے منصوبے میں ذلت و رسوائی سے ہم کنار کیا۔ وہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے اور آپ کو ہم نے صحت و سلامتی کے ساتھ اپنی طرف اٹھا لیا جبکہ بظاہر اسباب ان ظالموں کو روکنے والی کوئی قوت موجود نہ تھی۔ (صفوۃ، معارف وغیرہ) ۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصَّلوۃُ وَالسَّلام ۔ حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہوتے بلکہ وہ مشکلات سے بچنے کیلئے خود بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت و عنایت کے محتاج ہوتے ہیں۔ اور جب پیغمبر اور حضرت عیسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہوسکتے تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے۔ پس غلط اور گمراہی کی بات کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے از خود طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں۔ اور اس طرح وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
296 ہٹ دھرمی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خبث ِ باطن اور ہٹ دھرمی محرومی اور خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کافروں نے حضرت عیسیٰ کے ان معجزات کے بارے میں کہا کہ یہ سب ایک کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔ سو اس طرح وہ معجزات جو کہ روشنی کے مینارے اور رشد و ہدایت کے علم اور نشان تھے وہ ان لوگوں کے لئے گمراہی اور تاریکی ہی میں اضافے کا باعث بن گئے۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے انسان کی بدنیتی اور اس کے سوئِ اختیار کا کہ اس کے باعث ایسا شخص حق و ہدایت کی دولت سے سرفراز و فیضیاب ہونے کی بجائے ضلالت و گمراہی کی گہری کھائیوں میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصلاح احوال کیلئے حسن اختیار اور صدق نیت اولین اساس و بنیاد ہے۔ جبکہ خبث باطن سوئِ اختیار اور بدنیتی خرابی و فساد کی جڑ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے صلاح و فساد اور اس کی درستگی و بگاڑ کا اصل اور حقیقی تعلق اس کے اپنے باطن اور اس کے دل کی دنیا سے ہوتا ہے۔ اس لئے ہر کوئی دیکھ لے اور اپنے باطن کا جائزہ خود لے لے کہ اس کے اندر کا حال کیسا ہے اور اس کا اپنے خالق ومالک کے ساتھ معاملہ کس طرح کا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یحِبُّ وَیُرِیْدُ وہو الہادیْ الی سواء السبیل -
Ayah 5:111297 لفظ وحی اپنے لغوی معنیٰ میں :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی قابل ذکر ہے جب میں نے حواریوں کے دل میں بات ڈالی۔ یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اپنے معروف معنوں میں نہیں بلکہ القاء والہام کے مفہوم میں ہے۔ کیونکہ وحی اپنے معروف معنیٰ و مفہوم کے اعتبار سے حضرات انبیاء ورسل ہی کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ البتہ اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے یہ غیر انبیاء کے لئے بھی ہوسکتی ہے، بلکہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر شہد کی مکھی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلٰی النَّحْلِ } ۔ (النحل : 68) ۔ سو اسی طرح یہاں بھی ہے کہ حواریوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ بات ڈال دی کہ وہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔ تو وہ فورً ایمان لے آئے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ۔ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ ۔ جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم ایمان لے آؤ مجھ پر اور میرے رسول پر "۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے حواریوں کی طرف وحی کی حضرت عیسیٰ کے توسط سے۔ یعنی عیسیٰ کے ذریعے ان کو پیغام دیا گیا۔ حواریوں سے اس طرح کہا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم ایمان لے آئے۔ پس آپ ہمارے گواہ رہیئے۔ سو یہ بھی قدرت کی طرف سے حضرت عیسیٰ پر ایک خاص انعام تھا۔
298 حواریوں کے اعلان ایمان کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت عیسیٰ پر ایک اور انعام اور احسان خداوندی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ حواریوں نے کہا کہ ہم صدق دل سے ایمان لے آئے۔ پس آپ گواہ رہیں کہ ہم پورے فرمانبردار ہیں۔ اور رب کی طرف سے اب ہمیں جو بھی حکم ہمیں ملے گا اس کے لئے ہم سرتسلیم خم ہیں۔ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان تھا حضرت عیسیٰ پر کہ حواری اس طرح فوری طور پر انکے مطیع اور فرمانبردار بن گئے اور انہوں نے دل و جان سے اس پیغام حق و ہدایت کو قبول کرلیا۔ اور انہوں نے اپنے اس ایمان و یقین کا صاف اور صریح طور پر اقرار و اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ ہم ایمان لے آئے اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ اور اس طرح حضرت عیسیٰ کو حواریوں کی صورت میں ایسے مخلص ساتھیوں کی جماعت مل گئی جو راہ حق میں آپ کے معین و مددگار بن گئے۔ جبکہ بنی اسرائیل کی اکثریت آپ (علیہ السلام) کو جھٹلا چکی تھی۔ اس لیے انعامات خداوندی کے ذکر وبیان کے ضمن میں یہاں پر حواریوں کے ایمان کے اس انعام کو بھی بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ " حواری " اصل میں مخلص ساتھی کو کہا جاتا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کو ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر حواری کہا جانے لگا۔ اور اس لفظ و لقب کے ساتھ وہ خاص طور پر مشہور ہوگئے اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوا ہے اور میرا حواری زبیر ہے جو جنت میں میرا پڑوسی ہوگا۔
Ayah 5:112299 { ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ } کا معنیٰ و مفہوم ؟ : سو حواریوں کے اس سوال کا مقصد جیسا کہ ترجمہ کے اندر بین القوسین کے الفاظ سے اشارہ کیا گیا ہے یہ تھا کہ کہیں ہماری یہ درخواست حکمت و مصلحت کے خلاف تو نہیں۔ یعنی ان کو حق تعالیٰ کی استطاعت اور قدرت الہٰی میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ تو کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس طرح کا سوال کرنے سے ان کا مقصود و مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری یہ درخواست پیش کرنے اور قبول کرنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ جیسا کہ عام محاورے میں کہا جاتا ہے کہ کیا جناب والا ہماری اس درخواست کو پورا فرماس کیں گے ؟ یا یہ کہ کیا ہم اپنی فلاں درخواست پیش کرسکتے ہیں ؟ یا جیسے گھر میں داخلے کی اجازت مانگنے والا شخص کہتا ہے کہ کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسی ہر صورت میں سوال قدرت اور طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ اس معنیٰ میں ہوتا ہے کہ کیا ہماری یہ اپیل و درخواست قبول کیے جانے کے لائق ہے ؟۔ سو ایسے ہی یہاں بھی سمجھا جائے۔ یعنی کیا ہماری یہ درخواست قبول کئے جانے کے لائق ہے کہ آپ ﷺ کا رب آسمان سے ہم پر اس طرح کا کوئی خوان نعمت اتار دے۔ سو حضرت عیسیٰ کے ان مخلص ساتھیوں اور حواریوں نے اس طرح حضرت عیسیٰ کے توسط سے یہ درخواست اپنے رب کے حضور پیش کی۔
300 تقویٰ و پرہیزگاری تقاضائے ایمان : سو حضرت عیسیٰ نے اپنے جواب میں ان سے ان کے ایمان کا حوالہ دے کر کہا کہ تم اللہ سے ڈرو اگر تم واقعی ایماندار ہو۔ ایمان و یقین کا مقتضیٰ یہی ہے کہ اس طرح کی خلاف عادت فرمائشیں نہ کی جائیں۔ اور ایسی فرمائشیں بعض اوقات فتنے کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ اس لئے اللہ سے ڈرو اور اسطرح کی فرمائشوں سے مجتنب و باز رہو۔ تاکہ تم اس طرح کی آزمائشوں اور فتنہ سامانیوں سے محفوظ رہو۔ بہرکیف یہاں پر ایمان کو شرط کے طور پر ذکر فرمانے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری ایمان صادق کا تقاضا اور اس کا نتیجہ وثمرہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ سو اگر ایمان صحیح اور سچا و پکا ہے تو اس کے نتیجے میں تقویٰ و پرہیزگاری کا ظہور و بروز ضرور ہوگا۔ ورنہ ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ و پرہیزگاری سے بدرجہ تمام و کمال نوازے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 5:113301 خوان سماوی کی طلب کی وجوہ کا ذکر وبیان : سو خوان سماوی سے کھانے کی خواہش دراصل اس کی برکات کی بنا پر تھی۔ کیونکہ آسمان سے اترنے والا یہ خوان بطور خاص خیر و برکت کا ذریعہ ہوگا۔ اس سے ہمارے ایمان و یقین میں قوت پیدا ہوگی۔ باطنی شفا و صحت حاصل ہوگی۔ اور تیری عبادت واطاعت کے شوق و جذبہ میں اضافہ ہوگا۔ (صفوہ و معارف وغیرہ) ۔ نیز جب ہم ضرورت کے موقع پر اس خوان سے کھائیں گے تو اس کا شکر ادا کریں گے جس سے ہم اس کی رحمت و عنایت سے مزید سرفراز ہوں گے۔ نیز جب ہم اس کے نزول کو دیکھیں گے تو ہمارا ایمان اور پختہ ہوجائے گا اور ہمارے اطمینان میں اور اضافہ ہوگا کہ نظر و استدلال کے ساتھ مشاہدہ کا علم بھی شامل ہوجائے گا۔ سو خوان سماوی کے نزول کا یہ مطالبہ اس کی ان برکات کی بنا پر تھا۔ اور اسی کے پیش نظر ان بندگان صدق و صفا نے اس کے اتارے جانے کی یہ دعا و درخواست کی تھی۔ تاکہ وہ اس کی ان برکات سے فیضیاب ہو سکیں۔
302 حق کے گواہ بننے کی خواہش و چاہت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے مزید کہا کہ تاکہ ہم گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عنایت اور آپ کی نبوت و رسالت کے اور ان لوگوں کیلئے بھی گواہ بن سکیں جنہوں نے اس معجزے کو بچشم خود نہیں دیکھا ہوگا۔ اور اس طرح ہم حق کے گواہ بن کر دوسروں کیلئے بھی خیر و برکت کا ذریعہ بن جائیں گے کہ ہماری اس گواہی سے جو لوگ حق کے طالب اور ایمان کے متلاشی ہوں گے وہ نور حق اور متاع ایمان و یقین سے سرفراز ہوجائیں گے۔ اور جو نور ایمان و یقین سے سرفراز ہوں گے ان کی قوت ایمان و یقین میں اور اضافہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ کے حواریوں نے اپنے اس مطالبے کے فوائد سے متعلق ایک بات یہ بھی کہی کہ اس سے کھانے کی بنا پر ہمارے دلوں کو اطمینان کی دولت مل جائے کہ ظاہر ہے کہ جو کھانا اللہ رب العالمین کی طرف سے ملے اس سے بڑھ کر اچھا اور باعث اطمینان کھانا اور کونسا ہوسکتا ہے ؟۔ سو اس طرح ان حضرات نے حلال و طیب اور پاکیزہ و بابرکت روزی کی درخواست کی کہ اس سے اطمینان قلب کی دولت ملتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 5:114303 پیغمبر کا کام اللہ کے حضور دعا کرنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا، جس طرح کہ آج کے اہل بدعت کا شرکیہ عقیدہ ہے۔ کیونکہ جو مختار کل ہوتا ہے وہ دعا نہیں کیا کرتا بلکہ وہ حکم صادر کرتا ہے۔ پیغمبر کا کام تو دراصل اپنے رب کے حضور دست دعا وسوال بلند کرنا ہوتا ہے اور بس۔ آگے اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ پاک کی مشیت کے تابع اور اس کی مرضی پر موقوف ہوتا ہے جس کی دعا وہ چاہے قبول کرے اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے۔ اپنے پیغمبروں کی دعا وہ عام طور پر اپنے فضل و کرم سے قبول ہی فرماتا ہے۔ لیکن اگر چاہے تو نہ قبول کرے۔ جیسا کہ نوح کی دعا ان کے اپنے بیٹے کے لئے قبول نہیں فرمائی۔ اور اسی طرح ابراہیم کی دعا ان کے اپنے باپ کے لئے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی دعا اپنے چچا ابو طالب کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف پیغمبر اختیار کلی کا مالک نہیں ہوتا کہ جو چاہے کرے بلکہ پیغمبر کا اصل کام اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کرنا اور اس کے حضور اپنی عرض والتجا پیش کرنا ہوتا ہے اور بس۔ آگے ان کی دعا کی قبولیت و عدم قبولیت کا معاملہ حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدْہٗ ۔ کی مرضی و مشیت پر موقوف ہوتا ہے۔ وہ خالق کل اور مالک کل ہے اور جیسا چاہے کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس مختار کل وہی وحدہٗ لاشریک ہے ۔ جَلَّ وَعَلَا ۔ باقی سب اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
304 عید کا مفہوم اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ اے اللہ تو ہم پر آسمان سے ایک ایسا خوان اتار دے جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید قرار پائے اور تیری طرف سے ایک عظیم الشان نشانی۔ یعنی وہ ہمارے اگلوں و پچھلوں سب کے لئے خوشی کا سامان ہو اور تیری یاد دلشاد کی تازگی کا سبب و باعث۔ اہل بدعت کے بڑوں نے اپنی افتاد طبع اور بدعت پرستی کی بنا پر اس سے عید میلاد وغیرہ اپنی بعض مروجہ بدعات کا جواز کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ حضور پرنور کی ولادت مائدہ سماوی سے بڑی نعمت ہے اس لئے عید میلاد منانا سنت پیغمبر سے ثابت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے ان لوگوں کی یہ تحقیق انیق اس سے پہلے کے چودہ صدیوں کے سلف صالحین میں سے کسی کو بھی آخر کیوں نہ سوجھی ؟۔ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کو بھی آخر یہ بات کیوں نہ سمجھ آسکی ؟ صحابہ کرام میں سے کسی پر بھی یہ عقدہ آخر کیوں نہ کھلا ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود سرکار دوعالم ۔ ﷺ ۔ نے اپنی نبوت مطہرہ کی تئیس (23) سالہ زندگی میں اس آیت کریمہ اور اس میں پائے جانے والے لفظ عید کا یہ مفہوم اپنی امت کو کیوں نہ ارشاد فرمایا۔ فقہ و حدیث کی سب کتابوں میں " کتاب العیدین " کے لفظ سے عید الفطر اور عید الاضحی کی صرف دو ہی عیدوں کا ذکر کیوں آتا رہا ؟ اور جب سے عید میلاد کا یہ مروجہ سلسلہ شروع کیا گیا سلف سے لیکر خلف تک تمام ثقہ علمائے کرام اس کو بدعت کیوں قرار دیتے رہے ؟ مثال کے طور پر اس بارے چند ایک حوالہ جات ملاحظہ ہوں : فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحنبلی : ج 1 ص 312، ارشاد الاخیار : ص 20 للشیخ الامام نصیر الدین الشافعی، المدخل لابن امیر الحاج المالکی : ج 1 ص 85 ا، الشرعۃ الالہیۃ للشیخ عبد الرحمن المغربی، القول المعتمد للشیخ احمد بن محمد المصری، حسن المقصد للشیخ جلال الدین السیوطی، مکتوبات شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی : ج 5 ص 22 وغیرہ وغیرہ۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : المنہاج الواضح ۔ راہ سنت ۔ للشیخ سرفراز خان صفدر۔ حفظہ اللہ و دامت برکاتہم ۔ پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا پیغمبر کی یاد کوئی ایسی چیز ہے کہ سال میں صرف ایک مرتبہ منا لی جائے اور بس۔ اور وہ بھی آپ کی جسمانی ولادت و پیدائش کے موقع پر جبکہ پیغمبر کا اصل امتیاز ان کی روحانی ولادت، یعنی ان کی بعثت و نبوت ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں جہاں کہیں بھی ذکر آیا ہے وہ آپ ﷺ کی بعثت اور نبوت و رسالت ہی کا آیا ہے نہ کہ جسمانی ولادت کا ﷺ بلکہ پیغمبر کی ذات اقدس تو وہ ذات ہے جن کا اسوئہ حسنہ اور حیات طیبہ زندگی کے ہر موڑ اور ہر موقع و مقام پر اور ہر حرکت و سکون میں سامنے رکھنے کی ضروت ہے تاکہ اس سے سبق لے کر راہ عمل استوار کی جاسکے۔ نہ یہ کہ دنیاوی بادشاہوں وغیرہ کی طرح سال میں ایک آدھ مرتبہ جشن منا لیا جائے اور بس۔ پس اہل بدعت کی یہ تاویلات دراصل تحریفات کے زمرے میں آتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے ایک بڑے تحریف پسند نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عیسائیوں کا بڑا دن اسی کی یادگار ہے۔ اس خدا کے بندے کو کوئی خیال نہ آیا کہ تم سے مطالبہ سنت محمدیہ ﷺ کی پیروی کا ہے یا کہ عیسائیوں کے رسم و رواج کی پیروی کا ؟ پتہ نہیں ایسے لوگوں کی مت کیوں اس قدر مار دی گئی اور یہ لوگ کیوں ایسے اوندھے اور اندھے ہوگئے کہ نصوص کتاب و سنت میں بھی اپنی خواہشات ومرضی کے مطابق اور اپنی من گھڑت اور خود ساختہ بدعات کی تائید وتقویت کے لئے اس طرح تحریفات کرتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ واِلَیْہِ الْمُشْتَکیٰ جَلَّ وَعَلَا -
305 روزی رساں سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز و اسلوب حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ سب کا روزی رساں تو ہی تو ہے۔ جس کو جو ملتا ہے وہ تیری ہی طرف سے ملتا ہے۔ تیری عطا بلا حدود اور بغیر کسی عوض و بدلہ کے ہے۔ اور تو اپنے بندوں کو وہاں سے دیتا اور ایسا عطا فرماتا ہے کہ ان کے وہم و گمان بھی وہاں نہیں پہنچ سکتے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بڑے ہی غلط کار اور بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے طور پر طرح طرح کے اَن داتا گھڑ رکھے ہیں۔ اور انہوں نے ان سے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ انہی کے آگے جھکتے اور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور انہی سے مانگتے اور انہی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد باری تعالیٰ سے اور اسی طرح دوسرے مختلف مقامات پر یہ حقیقت پوری طرح واضح فرما دی گئی کہ رازق سب انسانوں کا اللہ ہی ہے کہ وہی رزق و روزی کا اور اس کے اسباب و وسائل کا خالق ومالک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور وہی سب کا داتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 5:115306 بنی اسرائیل پر خوان نعمت اترا کہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ بیشک میں تم لوگوں پر اس خوان کو اتارنے والا ہوں مگر یاد رکھو کہ جو اس کے بعد اس کا کفر کرے گا تو اس کو میں ایسے سزا دوں گا جو دنیا جہاں میں کسی کو نہ دی ہوگی۔ سو اس نعمت کی ناشکری کرنے والوں کو سخت سزا ملے گی کہ جب یہ نعمت غیر معمولی اور بےمثال ہے تو اس کی ناقدری و ناشکری اور کفران کی سزا بھی بہت سخت ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ پھر یہ خوان اترا کہ نہیں ؟ اس میں علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ جمہور کے نزدیک ہاں یہ اترا۔ ان لوگوں نے اس سے کھایا بھی اور پھر اس کے شکر و کفر کے اعتبار سے وہ لوگ بھی دو قسم پر ہوگئے۔ اور کفر و ناشکری کرنے والوں کو سور اور بندر بنادیا گیا۔ اور پھر تین دن کے اندر ان کو ہلاک کردیا گیا۔ اور حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان پر یہ خوان روٹی اور گوشت کی صورت میں نازل فرمایا گیا تھا۔ اور ان سے فرمایا گیا تھا کہ نہ تو یہ اس میں خیانت کریں اور نہ آنے والے کل کے لئے اس کو ذخیرہ کریں۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس اس میں خیانت بھی کی اور ذخیرہ اندوزی بھی۔ جس کے نتیجے میں ان کو مسنح کرکے بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ (ترمذی، کتاب التفسیر) جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ خوان نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ اس تنبیہ کے بعد وہ لوگ ڈر گئے اور اپنے اس مطالبے سے دستبردار ہوگئے۔ مگر راحج قول پہلا ہی ہے جو کہ جمہور کا ہے اور جس کی تائید مذکورہ بالا روایت سے بھی ہوتی ہے جو کہ مرفوعاً بھی روایت ہوئی ہے لیکن موقوفاً زیادہ صحیح ہے۔ (روح، قرطبی، طبری، ابن کثیر، محاسن، جامع اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اللہ پاک نے ان سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے اس خوان کے اترنے کے بعد کفران نعمت سے کام لیا تو پھر تمہیں ایسا سخت عذاب دونگا جو تم سے پہلے دنیا جہاں میں کسی کو نہیں دیا کیونکہ اس کے بعد غیب تمہارے مشاہدہ میں آجائے گا اور کشف حقائق کے بعد بھی جو ایمان نہیں لائے گا اس کے لیے ایسا ہی ہولناک عذاب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:116307 بلاغت کلام کا ایک خاص اسلوب : یعنی " قال " ماضی کا صیغہ " یقول " ۔ مستقبل ۔ کے معنیٰ میں ہے۔ اور تحقق وقوع کے لئے اس کو ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جو کہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے۔ یعنی یہ امر اتنا یقینی اور اس قدر پختہ ہے کہ گویا کہ یہ ہوچکا ہے۔ اور ماضی کو مستقبل کے معنیٰ میں استعمال کرنا اور ماضی بول کر مستقبل مراد لینا بلاغت کلام کا ایک عام اور معروف اسلوب ہے جو دنیا کی ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے۔ اور خود ہمارے روز مرہ کے محاورے میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ بہرکیف مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کا ماضی کے صیغے سے ذکر کرنا ان کی قطعیت اور یقینی حیثیت کے اظہار وبیان کے لئے ہوتا ہے۔ سو حضرت عیسیٰ سے یہ پرسش اور سوال و جواب جو قیامت میں ہوگا ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جو کہ گویا کہ واقع ہوچکی ہے کہ اس نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ اس لیے اس کو ماضی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم لوگ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو اللہ کے سوا ؟
308 قیامت کے روز حضرت عیسیٰ سے سوال کا ذکر : اور حضرت عیسیٰ سے یہ سوال ان کے پیروکاروں پر حجت قائم کرنے کیلئے ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہمیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارو ؟ اور ہماری تصویریں اور مورتیاں بنا کر ان کے آگے جھکو ؟ اور ان کی پوجا پاٹ کرو ؟ یہ سوال اگرچہ بظاہر حضرت عیسیٰ سے ہوگا لیکن اس سے اصل مقصود ان کفار و مشرکین کی تقبیح و تذلیل اور ان پر حجت قائم کرنا ہوگا جنہوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس شرک کا ارتکاب کیا کہ یہ سب جرم و قصور ان لوگوں کا اپنا ہی کیا کرایا ہوگا۔ (قرطبی، صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ سو اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سب دنیا کے سامنے اپنی عبدیت و بندگی اور اپنی بےگناہی کا اعلان و اظہار کریں گے جس سے نصاریٰ کا کفر و شرک اور ان کا جرم و قصور سب کے سامنے واضح ہوجائے گا۔ اور ان پر حجت قائم ہوجائے گی۔ اور سب دنیا کے سامنے ان کی تذلیل و تقبیح کا سامان ہوجائے گا۔ اور یہ امر پوری طرح واضح ہوجائے گا کہ یہ عام جرم و قصور خود لوگوں کا ہے حضرت عیسیٰ کی ذات عالی اس سے بہرحال بری و بےقصور ہے۔
309 محبت میں غلو کا نتیجہ و انجام : سو یہ ہوتا ہے محبت میں غلو کا نتیجہ وانجام کہ حضرت عیسیٰ کو قیامت کے اس یوم حساب میں اس طرح جواب دہی کرنا پڑے گی اور آنجناب اس موقع پر سب کے سامنے اپنی صفائی بیان کریں گے۔ سو یہ ہے محبت میں غلو کا نتیجہ و انجام کہ حضرت عیسیٰ جیسی پاکیزہ ہستی کو بھی حشر کے اس ہولناک دن میں علی رؤوس الاشہاد اس طرح اپنی صفائی بیان کرنا پڑے گی۔ اسی لئے دین حنیف نے ایسے غلو سے طرح طرح سے روکا اور منع فرمایا ہے۔ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج اس امت کے جہلاء کا ایک بڑا طبقہ طرح طرح سے اسی غلو کا شکار ہے۔ جس کی بنا پر وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ولیوں کے جھوٹے اور من گھڑت قصے سنا سنا کر ان کو ان نبیوں تک پہنچا دیا اور نبیوں کو خدا کی خدائی اور اس کی الوہیت میں شریک کرلیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
310 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تنزیہ و تقدیس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ اللہ پاک کے حضور عرض کریں گے کہ پاک ہے تو اے میرے رب ہر نقص و عیب اور ہر شائبہ شرک سے۔ اور یہ کلمہ اصل میں " سبح " یا " سباحۃ " سے ماخوذ ہے جسکے معنیٰ تیز چلنا اور خشکی یا تری میں دور نکل جانا ہیں۔ اسی لیے بڑے تیز گھوڑے کو عربی میں " فرس سبح " کہا جاتا ہے۔ سو اس سے اللہ پاک کیلئے تسبیح و تنزیہ کیلئے یہ کلمہ استعمال کیا جاتا ہے کہ اللہ پاک ہر قسم کے شرک اور شوائبِ شرک سے پاک ہے۔ نہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اسکا شریک وسہیم اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں کوئی اس کا شریک وسہیم۔ وہ ہر اعتبار سے وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا مظہر قرار دے کر ان کو اللہ تعالیٰ کا عین قرار دیا اور کہا ۔ { انَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم } ۔ کہ " اللہ ہی عیسیٰ بن مریم ہے " یا جنہوں نے ان کو تین خداؤں میں سے ایک خدا مانا یا ان کو خدا کا بیٹا قرار دیا ان سب نے شرک کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ایسی تمام شرکیات اور ان کے شوائب سے پاک ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔ اس کی شان { لم یلد ولم یولد } کی شان ہے۔
311 حضرت عیسیٰ کا اعتراف و اقرار عبدیت : سو اس سے حضرت عیسیٰ کے احساس و اقرار عبدیت سے لبریز و معمور جواب سامنے آتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ میرا یہ کام نہیں ہوسکتا تھا کہ میں کوئی ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر بالفرض میں نے کوئی ایسی بات کہی توتی تو وہ یقینا آپ کے علم میں ہوتی کہ وہ آپ وہ سب کچھ پوری طرح جانتے ہیں جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا وہ کچھ جو آپ کے دل میں ہے۔ کہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرا علم و ادراک بہرحال محدود ہے۔ مجھے تو بس وہی کچھ معلوم ہوسکتا ہے جو تو مجھے بتادے اور سکھا دے اے میرے خالق ومالک۔ اگر میں نے بالفرض ایسی کوئی بات کہی ہوتی تو وہ ضرور آپ کے علم میں ہوتی کہ آپ کا علم ہر چیز کو حاوی اور محیط ہے۔ کوئی بھی چیز اس سے باہر نہیں ہوسکتی۔ سو جب میں بندہ ہوں اور مجھے اپنی بندگی کا پورا شعور و احساس اور اس کا اقرار و اعتراف ہے تو پھر میں ایسی کوئی بات آخر کس طرح کرسکتا تھا کہ اپنی خدائی اور الوہیت کا دعویٰ کروں ؟ ایسی بات نہ تو میرے لئے زیبا تھی اور نہ ہی میں ایسی کوئی بات کرسکتا تھا۔ سو اس طرح حضرت عیسیٰ اپنی عبدیت و بندگی سے لبریز و معمور اس جواب کے ذریعے اپنی براءت اور حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدہٗ ۔ کی عظمت شان اور تقدیس مقام کا اعلان کردیں گے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
312 عالم غیب صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ کہیں گے کہ بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کو جاننے والا۔ مبتدا و خبر جب دونوں معرفہ ہوں جیسا کہ یہاں ہے کہ " اِنَّ " کا اسم اور خبر دراصل مبتدا و خبر ہی ہوتے ہیں تو اس سے حصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ پس عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور علم غیب خاصہ خداوندی ہے۔ جیسا کہ دوسری آیات کریمہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مثلاً- { لِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ } ۔ (ھود : 123) ۔ یعنی " اللہ ہی کیلئے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا "۔ نیز فرمایا گیا ۔ { قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السِّمٰوَاتِ وَالْاَرْض الْغَیْبَ اِلَّا اَللّہُ } ۔ (النمل : 65) " کہو آسمانوں اور زمین ۔ کی اس پوری کائنات ۔ میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے ایک اللہ ۔ وحدہ لاشریک۔ کے " وغیرہ وغیرہ آیات کریمہ۔ پس اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو عالم غیب ماننا اللہ پاک کی اس صفت میں اس کی مخلوق کو حصے دار ماننا ہے جو کہ شرک ہے اور جو نصوص قرآنی کے مطابق ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تو ہی اے میرے مالک سب غیبوں کو جاننے والا ہے۔ تیری اس صفت میں تیرا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔