Ayah 5:626 وضو میں غَسْلِ رِجْلَیْن کا حکم : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور دھویا کرو تم لوگ اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک۔ یعنی { َارْجُلَکُم } کا عطف مغسول { وُجُوْھَکُمْ } پر ہے نہ کہ مجرور { برُؤسِکُم } پر۔ جیسا کہ شیعہ امامیہ کا کہنا ہے۔ اور اس کی بڑی دلیل سنت مطہرہ اور سلف صالحین کا قولی اور عملی اجماع و تواتر ہے۔ یعنی صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہ سب کا ۔ عَلَیِہِمُ الرَّحمۃُ والرضِوان ۔ چناچہ محقق ابن امبر الجاح لکھتے ہیں کہ تیس سے زیادہ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ کے وضو کو روایت کیا ہے۔ اور یہ سب اس پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ پاؤں کو دھویا ہے مسح کا ذکر کسی ایک روایت میں بھی نہیں آیا۔ (تحریر الاصول بحوالہ معارف القرآن) ۔ نیز یہاں پر { اِلَی الْکَعْبَیْنِ } کی تحدید و تقیید بھی اسی کا قرینہ ہے۔ کیونکہ یہ تقیید وضو ہی میں ہوسکتی ہے نہ کہ مسح میں۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ایک سفر میں جلدی کی وجہ سے ہم نے پاؤں کو دھونے کی بجائے ان پر مسح کرلیا تو اس پر آنحضرت ۔ ﷺ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ " وَیْلٌ لِلْاَعْقَابِ مِنَ النَّار " ۔ (بخاری : کتاب الوضوء باب غسل الرجلین، ولا یمسح علی القدمین، و مسلم کتاب الطہارۃ) ۔ اور اس میں اور بھی صاف وصریح احادیث موجود ہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی اور المعارف وغیرہ) ۔
27 ملامست سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا یا تم لوگوں نے صحبت کی ہو اپنی عورتوں سے۔ یعنی " ملامست " سے یہاں پر مراد " مباشرت " ہے نہ کہ محض ہاتھ سے چھو لینا اور بس۔ یعنی اگر تم میں سے کسی نے عورت سے صحبت کی ہو جس سے اس کو غسل کی ضرورت پڑگئی ہو اور پھر تم کو ضرورت غسل کو پورا کرنے کیلئے پانی میسر نہ آئے تو تم تیمم کرلو۔ بہر کیف یہاں پر ملامست سے مراد مباشرت اور جماع ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے۔ اس لیے حضرات اہل علم اس کا مطلب عموما اس طرح کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں " ای جامعتموہن " ( الصفوۃ، المدارک وغیرہ ) ۔
28 احکام خداوندی کی تعمیل طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو پاک کر دے اپنے پاکیزہ احکام کے ذریعے، ظاہری میل کچیل سے بھی اور گناہوں کی باطنی اور معنوی میل سے بھی۔ جو کہ ظاہری اور حسی میل کچیل سے کہیں بڑھ کر مہلک اور خطرناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کے اوامرو ارشادات کو اپنانے اور دل و جان سے اپنانے اور ان کو حرز جان بنانے میں خود تمہارا اپنا بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی۔ سو جو لوگ اس دین حنیف اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے محروم ہیں وہ نور حق و ہدایت اور طہارت و پاکیزگی کی نعمتوں سے محروم اور طرح طرح کی انجاس و اقذار میں ملوث و مبتلا اور مہیب اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو احکام خداوندی کی تعمیل انسان کے لیے طہارت و پاکیزگی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس کے نتیجے میں مومن صادق ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ اور اس طرح وہ ایک پاکیزہ اور مبارک و مسعود وجود بن جاتا ہے۔ اور یہ شان احکام خداوندی کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔
29 اِتمام نعمت کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو پاک کر دے اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دے۔ سو وہ تم لوگوں پر اپنی نعمت کا اتمام اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔ اپنے احکام و شرائع کے بیان سے۔ تاکہ تم جسمانی اور روحانی دونوں طہارتوں اور پاکیزگیوں سے بہرہ ور ہو سکو کہ انسان روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے۔ نماز سے روح اور باطن کی پاکیزگی کا سامان ہوتا ہے کہ یہ وہ عظیم الشان عبادت ہے جو انسان کو بےحیائی اور برائی سے روکتی اور محفوظ رکھتی ہے۔ اور نمازی کو یہ انقلاب آفریں درس دیتی ہے کہ وہ ہر وقت اللہ پاک کی نگرانی میں اور اس کے سامنے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس عظیم الشان عبادت کے ذریعے اس کے قلب و باطن کی تقویت کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ بہرکیف نعمتوں سے یہاں پر مراد نعمت اسلام ہے۔ (روح، ابو السعود وغیرہ) ۔ سو دین حنیف کے احکام واِرشادات تمہارے ہی بھلے کے لیے ہیں کہ ان کی تعمیل اور پابندی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
30 شکر نعمت ایک اہم مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو اس وہاب مطلق، خداوند قدوس وحدہ لاشریک کا جس نے تم کو ایسی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور اس طرح اس کا شکر ادا کرکے تم لوگ خود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکو کہ شکر نعمت دوام نعمت اور اس میں خیر و برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ سو شکر نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے انسان آگے طرح طرح کی نعمتوں سے سرفراز ہوتا ہے۔ شکر نعمت سے نعمت خیر بن جاتی ہے۔ جبکہ ناشکری سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نعمت وبال اور عذاب جان بن جاتی ہے۔ اور اللہ پاک کی بےحد و حساب نعمتوں میں سب سے بڑی اور سب سے اہم نعمت دین و ایمان کی نعمت ہی ہے جس سے انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ پس تم لوگ دل و جان سے اس کی قدر کرو اور اس کی تعلیمات و ہدایات کو اپناؤ تاکہ خود تمہارا بھلا ہو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سُبْحَانُہ وَ تَعٰالٰی -
Ayah 5:731 تذکیر نعمت برائے شکر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو تم لوگ اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر فرمایا کہ اس نے تمہیں جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی عظیم الشان روشنی سے بہرہ ور فرمایا اور توحید کے کلمہ حق پر جمع کرکے تم سب کو ایک جسم و جاں بنادیا۔ سو اس عظیم الشان نعمت کا تقاضا ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرو اور اس کی تعلیمات کو دل و جان سے اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ لیکن شکر گزاری کی توفیق کم ہی لوگوں کو ملتی ہے۔ جیسا کہ سورة سبا میں ارشاد فرمایا گیا { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرِ } ( سبا : 13) ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنَ ہٰؤُلَائِ الْقَلِیْلَ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے اس انعام واحسان کو جو اس نے تم پر فرمایا کہ تم لوگوں کو دین و ایمان کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا۔ اور تم کو راہ حق و ہدایت پر ڈال کر سچی اور حقیقی عزت و عظمت سے سرفراز فرمایا۔ سو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کو یاد کرو تاکہ اس کا شکر ادا کرسکو۔ سو اس میں تذکیر نعمت برائے شکر نعمت کا درس ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
32 میثاق خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے اس پختہ عہد و میثاق کو جو اس نے تم لوگوں سے لیا۔ یعنی وہ عہد جو کہ تم نے اس کے رسول کے ہاتھ پر عسر و یسر کی ہر حالت میں سمع وطاعت کی بیعت کے ذریعے کیا تھا بیعت عقبہ کے موقع پر۔ یا بیعت رضوان کے موقع پر۔ اور بعض نے اس سے عہد الست کا میشاق مراد لیا ہے۔ (محاسن التاویل، مدارک التنزیل اور جامع البیان وغیرہ) ۔ سو میثاق کے لفظ کا عموم ان سب ہی عہود و مواثیق کو شامل ہے لیکن ظاہر اور متبادر اس کا پہلا مفہوم و مصداق ہی ہے ۔ والعلم عنداللہ تعالیٰ ۔ سو اللہ سے کئے ہوئے اپنے اس پختہ عہد کو یاد کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو کہ یہ اس کے حقِّ بندگی کا بھی تقاضا ہے اور عقل و نقل کا بھی۔ اور اللہ سے ڈرو اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچو کہ یہ اس کا تم لوگوں پر حق بھی ہے اور اس میں خود تمہارا اپنا بھلا بھی ہے ۔ وباللّٰہِ التَّوْفِیْق -
33 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ خوب جانتا ہے سینوں کے اندر کے بھیدوں کو۔ پس اس سے تمہاری کوئی بھی حالت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی۔ اس لئے اس کے ساتھ اپنے دلوں اور اپنی نیتوں کا معاملہ ہمیشہ صحیح رکھو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس سے اہل بدعت کے اس مشرکانہ مغالطے اور شرکیہ قیاس آرائی کی جڑ نکل جاتی ہے جو وہ لوگ اس طرح بگھارتے ہیں کہ جب تم کسی دنیاوی بادشاہ سے ازخود نہیں مل سکتے، اور اگر وہاں پہنچ بھی جاؤ تو تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہوسکتی، جب تک کہ تم کوئی واسطہ اور وسیلہ نہ پکڑو۔ ایسے ہی تم اللہ تک بلاواسطہ نہیں پہنچ سکتے۔ سو ایسے لوگوں کا یہ قیاس باطل اور سراسر بےبنیاد ہے۔ بھلا جو اللہ دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا اور پوری طرح جانتا ہے تو اس کو دنیاوی بادشاہوں اور حکمرانوں پر قیاس کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟۔ سو اپنی نیتوں، ارادوں اور دلوں کے معاملے کو بھی اس کے ساتھ درست رکھو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:834 عدل و انصاف کی اہمیت اور اس کی تاکید و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار تم لوگوں کو ابھارنے اکسانے نہ پائے کسی قوم کی دشمنی اس بات پر کہ تم انصاف چھوڑ دو کہ تمہارا کام اور تمہاری شان تو بہرحال انصاف کرنا ہی ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسا عظیم ہے یہ دین اور کیسی عمدہ اور پاکیزہ ہیں اس کی یہ تعلیمات کہ دشمن، اور وہ بھی وہ دشمن جس نے تم سے زیادتی اور بےانصافی بھی کی ہو اس سے بھی بےانصافی کرنا تمہارے لئے روا نہیں۔ اور جو دین دشمنوں کے ساتھ بھی بےانصافی روا نہ رکھتاہو بلکہ وہاں بھی عدل و انصاف ہی کی تعلیم دیتا ہو اس کے نزدیک اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ عدل و انصاف کے برتاؤ کی تاکید کس قدر ہوگی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان اپنے دین کی ان عظیم اور مقدس تعلیمات سے غافل، ظلم و بربریت کی طرح طرح کی ہولناک وادیوں میں بھٹکتا پھر رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے خبردار فرمایا گیا کہ کسی قوم کی دشمنی تم لوگوں کو بےانصافی پر اکسانے نہ پائے۔ بلکہ تم لوگ ہمیشہ حق کے گواہ اور عدل وانصاف کے علمبردار و پاسدار بن کر رہو۔ یہی تمہارے ایمان و یقین کا تقاضا ہے اور اسی میں تمہارے لیے خیر او بھلائی ہی دنیا و آخرت میں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 5:9–1035 ایمان والوں کیلئے بہت بڑے اجر کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے کہ ان کے لیے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی اور وہ اجر اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان ہوگا کہ اس کی عظمتوں کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ۔ جعلنا اللہ من اہلہ بمحض منہ وکرمہ وہو ارحم الراحمین سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایمان صادق اور عمل صالح کی برکت سے ان کے گناہوں کی بخشش بھی فرما دی جائے گی اور ان کو اجر عظیم سے بھی نوازا جائے گا جو جنت کی بےمثال اور سدابہار نعمتوں کی شکل میں ان کو نصیب ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت اور عمل صالح کا سرمایہ دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائیں گے اور اس کے مطابق وہ نیک عمل بھی کریں گے ان کے لئے بڑی بخشش کا بھی وعدہ ہے اور عظیم الشان اجرو ثواب کا بھی ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرِیْدُ وعلی مَا یُحِبُّ ویرید -
Ayah 5:1136 ایمان وسیلہ امن وامان ہے : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے اس وقت تم لوگوں پر فرمایا جبکہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کی ٹھان لی تھی۔ تو اس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا تھا۔ اور اس نے اپنے کرم سے تم کو ان لوگوں کے شر سے بچا لیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو ان کے صدق ایمان کی برکت سے اللہ پاک اس دنیا میں بھی شرور وفتن سے بچاتا اور ان کی حفاظت فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فلَہُ الْحَمدُ وَلَہُ الشّکرُ ۔ سو ایمان وسیلہ امن وامان ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کی محرومی ہے۔ روایات کے مطابق آنحضرت ﷺ اور حضرات صحابہ کرام کی ایک جماعت ایک موقع پر میدان جنگ میں موجود تھے۔ تو سب نے نماز میدان جنگ ہی میں ادا کی۔ اس پر کفار کو بعد میں بڑا افسوس ہوا کہ ہم نے بڑی غلطی کی جو مسلمانوں پر حالت نماز میں حملہ نہیں کیا۔ ورنہ یکبارگی حملہ کر کے ہم ان کا صفایا کردیتے۔ پھر کہا کہ اچھا کوئی بات نہیں کہ ابھی ان پر عصر کی نماز کا وقت آنے والا ہے جو ان کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ تو اس وقت ایسا کریں گے۔ تو اس سے پہلے نماز خوف کا حکم نازل ہوگیا جس سے دشمنوں کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ تو اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ میرے اس احسان کو یاد کرو کہ جب ایک قوم نے تم کو نیست و نابود کردینے کا ارادہ کیا تو اللہ نے تم کو ان سے بچا لیا۔ سو بچانے والا سب کو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی امان اور حفاظت سے سرفرازی کا ذریعہ ایمان ہے۔ سو ایمان وسیلہ امن وامان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
37 اللہ پر بھروسہ ایمان کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب میں واضح فرما دیا گیا کہ ایمان والوں کا بھروسہ ہمیشہ اللہ پاک ہی پر ہونا چاہیئیـ کہ ان کے ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھیں کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا اور مدد کرنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور اس کی مدد کے ساتھ اور کسی کی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ اسی لیے یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا جارہا ہے کہ ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ مگر افسوس کہ آج کے مسلمان کا حال اس کے برعکس یہ ہے کہ وہ درختوں، پتھروں، دھاگوں اور ان ملنگوں وغیرہ پر بھروسہ رکھتا ہے جنکی نہ کوئی حقیقت ہے نہ حیثیت اور نہ کوئی اصل نہ بنیاد۔ محض اوہام پرستی کی بنا پر وہ ان پر تکیہ کیے ہوئے ہیں اور اس خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہے جو کہ مالک مطلق اور مختار کل ہے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ جو کوئی حق و حقیقت کی دعوت دے اور ان کو اوہام و خرافات سے نکال کر راہ حق و ہدایت کی طرف لانا چاہے یہ اس کی بات ماننے کی بجائے الٹا اس کے درپے آزار ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ واِلَی اللّٰہِ المْشْتکیٰ جلَّ وَعَلَا ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 5:12–1338 اللہ تعالیٰ کی معیت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ یقینا میں تم لوگوں کے ساتھ ہوں اپنے علم وقدرت اور اپنی مدد و نصرت کے اعتبار سے۔ سو اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے تو اللہ سب کے ساتھ ہے پس اس کے باوجود اس سے منہ موڑنا اور اس کے سوا اوروں کی طرف جھکنا اور جھانکنا کس قدرظلم اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ تو اس کی معیت عامہ ہے جو سب کے لئے عام ہے۔ جبکہ اس کی دوسری معیت معیت خاصہ ہے۔ جو اس کے خاص بندوں کے لئے ہے۔ اور جو عبارت ہے اس کی نصرت و امداد سے۔ سو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور ان کے اندر بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان سے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نے میرے عہد کی پابندی کی۔ کہ میری مہربانی اور شفقت تمہارے شامل حال رہیگی اور میری عنایت تمہیں حاصل رہے گی۔
39 اللہ کو قرض دینے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے اللہ کو قرض دیا اچھا قرض یعنی یہ کہ تم لوگ نیکی کی راہوں میں اس کی رضا کے لئے اخلاص اور نیک نیتی سے خرچ کرتے رہے۔ سو اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کیلئے مال خرچ کرنا اس کو قرض دینا ہے۔ یعنی جس طرح کہ انسان کو اپنا دیا ہوا قرض ضرور واپس ملتا ہے اسی طرح اللہ پاک کے نام پر اور اس کی رضا کیلئے دیا ہوا انسان کو ضرور واپس ملے گا۔ اور ایسا کہ اصل سے کئی گنا زیادہ اور بڑھا کر ملے گا۔ کہ یہ بدلہ اس ذات اکرم و اعلیٰ کی طرف سے ملے گا جس کے کرم اور اس کی عنایت کی کوئی حد و انتہاء نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو قرض حسن سے مراد وہ نفلی صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے کیا جائے ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ-
40 کفر و انکار باعث محرومی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کفر کیا اس کے بعد تو وہ یقینا بھٹک گیا سیدھی راہ سے۔ اور سیدھی راہ سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہی چیز موجب اور باعث ہے سب خرابیوں اور ہلاکتوں کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سیدھی راہ سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے کہ سیدھی راہ سے بہرہ مندی و سرفرازی پر دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی موقوف ہے۔ اور اس سے محرومی کے بعد انسان حیوانِ لا یعقل بلکہ " شَرُّ الْبَرِیَّہ " بن جاتا ہے اور وہ انسانی شرف اور اعلیٰ اقدار سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے نہایت ہولناک گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار باعث محرومی و ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:1445 نصاریٰ کے عہد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں سے بھی عہد لیا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ سو ان سے اس بات کا عہد لیا گیا کہ تم نے عبادت و بندگی صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کی کرنی ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرانا کہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے ہی نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ کہ جو دین و شریعت حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں اس کی حفاظت و پابندی کرنا تم پر لازم ہے۔ (محاسن التاویل للعلامۃ الشامی القاسمی ) ۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد تمام سابقہ ادیان منسوخ ہوگئے۔ اور اب نجات کی راہ صرف دین حق اسلام سے وابستگی ہی میں منحصر ہے۔ لہٰذا اب اس دین حق کو صدق دل سے قبول کرنا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو حرز جان بنانا ہی عقل و نقل کا تقاضا اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نصاری سے بھی عہد لیا کہ وہ حق اور اہل حق کی نصرت و امداد کریں مگر انہوں نے اپنی بدبختی اور فساد نیت کی بنا پر اس نصیحت کے ایک بڑے حصے کو فراموش کردیا جس کی تلقین و تاکید ان کو کی گئی تھی۔ اور اس طرح انہوں نے سعادت و سرخروئی کی راہ کو چھوڑ کر ہلاکت و بدبختی کی راہ کو اپنایا جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
46 دین حق سے انحراف و اعراض کا نتیجہ تشتّت و انتشار : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین حق سے اعراض و انحراف کا نتیجہ وانجام تشتت وانتشار ہے کہ ملت کی شیرازہ بندی کا ذریعہ اللہ کی کتاب اور اس کا دین حق ہی تھا۔ اور اس کو انہوں نے ضائع کردیا۔ اب ان کے لئے صحت و سلامتی کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ اپنی کتاب کی پیشینگوئیوں کے مطابق نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے اور ان کے لائے ہوئے دین حق کو دل و جان سے قبول کرلیتے۔ مگر انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں یہ لوگ حق و ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر طرح طرح کی گمراہیوں کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ اور یہ ہویٰ وہوس اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے۔ اور ان ہی کے بندے اور غلام بن کر رہ گئے۔ پھر اہواء و اَغراض اور مصالح و آراء کے تصادم اور ٹکراؤ سے یہ لوگ آپس میں باہم دست و گریبان ہوگئے۔ اور یہ اسی میں پڑے رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ آج کچھ یہی حال امت مسلمہ کا بھی ہوگیا ہے۔ یہ بھی آپس میں باہمی لڑائیوں، جھگڑوں، فتنہ و فساد اور جنگ وجدال میں مصروف ہے۔ ملک ملک آپس میں لڑ رہے ہیں۔ جماعتیں اور گروہ آپس میں برسرپیکار ہیں۔ قومیں اور قبیلے ایک دوسرے کی دشمنی اور بیخکنی کے درپے ہیں۔ قتل و قتال کے بازار گرم ہیں۔ خونریزیاں ہو رہی ہیں۔ جگہ جگہ اور طرح طرح سے تصادم اور سر پھٹول کا دور دورہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ البتہ یہ فرق بہرحال موجود ہے کہ اہل کتاب نے تو اپنے دین کی سچی اور حقیقی تعلیمات ہی کو ضائع اور گم کردیا مگر امت مسلمہ کے پاس اس کا دین کتاب و سنت کی مقدس اور پاکیزہ تعلیمات کی صورت میں ۔ الحمد للہ ۔ آج بھی جوں کا توں اور بغیر کسی کمی بیشی کے پورے کا پورا موجود ہے۔ اور بالکل ویسے ہی جیسا کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آیا تھا۔ سو ایسی صورت میں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ صدق دل سے اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اللہ توفیق بخشے اور تشتّت و انتشار سے اس امت کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ فَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِہ ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 5:1547 اہل کتاب کے جرم کتمان کی پردہ دری کا ذکر وبیان : ۔ سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یقینا آ چکے ہیں تمہارے پاس ہمارے رسول جو کھول کر بیان کرتے ہیں خود تمہاری کتاب کی بہت سی ان باتوں کو جو تم لوگ چھپاتی تھے۔ سو اہل کتاب کے اخفا کردہ حقائق کو بیان کرنا نبی اکرم ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ مثلاً رجم کا حکم، عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی حضرت نبی آخر الزمان سے متعلق بشارت اور دوسری پیشگوئیاں۔ (صفوۃ، محاسن، مراغی اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو یہ آنحضرت ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ آپ ﷺ نے باوجود اس کے نہ کبھی تورات و انجیل کو کسی سے سیکھا پڑھا، ان کے ان مخفی گوشوں کو اس طرح بےنقاب کیا، جس کا ذریعہ وحی خداوندی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو آپ ﷺ یقینا اور قطعی طور پر نبی برحق ہیں ۔ ﷺ ۔ پس جو لوگ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیش کردہ دین حق پر ایمان لانے کے شرف سے محروم ہیں وہ نور حق و ہدایت سے قطعی طور پر محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اہل کتاب اسی کتاب کی جن باتوں کو چھپاتے تھے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنی تشریف آوری کے بعد ان کو اجاگر کر کے حق کو پوری طرح واضح فرما دیا اور کھرا کھوٹا سب الگ کردیا۔ جیسا کہ زنا کی سزا کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے اصل حقیقت کو ان کے سامنے واضح فرما دیا۔ اور حضرت عبداللہ بن سلام نے جو کہ اہل کتاب کے بڑے عالم تھے اس کی تائید و تصدیق فرما دی وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ آنحضرت ﷺ کی صداقت و حقانیت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔
48 دین حنیف کی سماحت کا ایک نمونہ و مثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ رسول عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں تمہاری بہت سے باتوں کے بارے میں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر ان کے اخفا کردہ بہت سے حقائق کے بارے میں چشم پوشی اور درگزر سے کام لیتا ہے۔ جن کے ظاہر کرنے سے کوئی دینی غرض وابستہ نہیں کہ اصل مقصود تو بیان حق ہے نہ کہ محض تمہاری فضیحت و رسوائی۔ ورنہ تمہارے سب کرتوت اگر پورے کے پورے ظاہر کر دئے جاتے تو تم لوگ منہ دکھانے کے نہ رہتے۔ سو یہ اس دین حنیف کا تم لوگوں پر کرم بالائے کرم ہے جس کی قدر کرنا اور نور حق و ہدایت کی طرف رجوع کرنا اور اس کو اپنانا عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دین کی جن اہم باتوں کو تم لوگ چھپاتے اور مخفی رکھتے تھے دین حنیف نے ان کو ظاہر اور واضح فرما دیا۔ تاکہ دین کی جس روشنی سے دنیا محروم ہوگئی تھی وہ ان کو پھر نصیب ہو سکے۔ اور جن باتوں کے اظہار و اعلان کی ضرورت نہیں تھی، ان کے بارے میں اغماض اور چشم پوشی اختیار فرمائی۔ اور اس طرح اس دین حق نے تم پر اے اہل کتاب کرم بالائے کرم کا معاملہ فرمایا ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
49 نور سے مراد کتاب مبین : یعنی قرآن حکیم، جس سے کفر و شرک، اِلحاد و بیدینی اور شکوک و شبہات کی تاریکیاں چھٹتی ہیں۔ سو آیت کریمہ میں وارد لفظ نور سے مراد قرآن حکیم ہے۔ اور تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان اور بےمثال روشنی آچکی ہے کہ یہ وہ عظیم الشان روشنی ہے جس کے سامنے چاند سورج تک کی دوسری تمام حسی اور ظاہری روشنیاں ہیچ ہیں۔ اور " کتاب مبین " اسی کا بیان اور اس کی تشریح ہے۔ یعنی یہ عطف عطف تفسیری ہے۔ اور نور سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس بھی لی جاسکتی ہے کہ آج دنیا جہاں میں رشد و ہدایت اور ایمان و یقین کی معنوی روشنی جہاں کہیں بھی موجود ہے وہ دراصل آپ ﷺ ہی کے باعث ہے ﷺ مگر سیاق وسباق کے اعتبار سے اور راحج قول و احتمال کے مطابق یہاں پر نور سے قرآن حکیم ہی مراد ہے۔ ایک تو اس لئے کہ بعض دوسری آیات میں بھی نور سے مراد قطعی طور پر قرآن حکیم ہی ہے۔ وہاں کوئی دوسرا احتمال ہو ہی نہیں سکتا مثلاً ۔ { وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا } ۔ (النسائ : 174) ۔ { وَاتَّبَعُوْا النُوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعُہ } ۔ (الاعراف : 157) ۔ { فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا } ۔ (التغابن : 8) وغیرہ۔ سو ان آیات کریمہ میں جب قطعی طور پر نور سے مراد قرآن مجید ہی ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ آیت زیر بحث میں بھی نور سے مراد قرآن پاک ہی ہوگا ۔ فَاِنَّ الْقُرْآنَ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا ۔ یعنی قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے۔ دوسرا قرینہ اس بات کا کہ سورة مائدہ کی اس آیت کریمہ میں وارد لفظ نور سے مراد قرآن کریم ہی ہے یہ ہے کہ رسول کا ذکر تو اسی آیت کریمہ کے شروع میں صراحت کے ساتھ آچکا ہے۔ اس لئے یہاں نور سے مراد پیغمبر کی بجائے قرآن ہی لینا درست اور بہتر ہے۔ تاکہ تکرار نہ ہو۔ اور تیسرا قرینہ یہ ہے کہ اس کے بعد { یھدی بہ } میں ضمیر مجرور متصل مفرد کی لائی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ نور اور کتاب مبین کا مصداق ایک ہی ہے۔ یعنی قرآن حکیم۔ اور یہ عطف عطف تفسیری ہے۔ ورنہ اگر اس کے دو الگ الگ مصداق ہوتے تو ضمیر مفرد کی بجائے تثنیہ کی ہوتی یعنی " یَھْدِیْ بِھِمَا " نہ کہ " بِہٖ " مفرد کی۔ سو ان تینوں قرینوں سے یہ بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ سورة مائدہ کی اس آیت کریمہ میں وارد لفظ نور سے مراد قرآن حکیم ہی ہے۔ یہی حق وصدق ہے اور یہی تقاضا ہے دوسری مختلف نصوص کریمہ کا ۔ والحمدُ للّٰہ الذی بیدہ ازمۃ التوفیق والعنایۃ -
Ayah 5:1650 صدق نیت کی عظمت شان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک اس کتاب حکیم کے ذریعے ہدایت و راہنمائی فرماتا ہے اس سیدھی راہ کی جس پر چل کر انسان دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ سو صدق نیت اور طلب صادق انسان کو نور حق و ہدایت اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی خصلت ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف راہ ہدایت سے سرفرازی چونکہ انسان کی فوز و فلاح کے لئے سب سے بڑی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت چونکہ کھانے پینے وغیرہ کی دوسری تمام ضرورتوں سے بھی کہیں بڑھ کر اور بنیادی ضرورت ہے، اس لئے خدائے رحمان و رحیم نے اپنی رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت سے اس روحانی اور باطنی ضرورت کی تکمیل کے لئے بھی کامل، بےمثال اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا۔ اور اسی سلسلے کی آخری کڑی قرآن حکیم کی یہ بےمثال نعمت ہے جو سراسر ہدایت اور نور مبین بن کر تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہے ۔ فالحمد للہ جل وعلا ۔ سو یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی صلاح و فساد اور صحت وبگاڑ کا اصل اور بنیادی تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ اگر وہ صدق دل سے اپنی اصلاح کا طالب ہوگا تو اللہ پاک اس کو ضرور اس سے سرفراز فرمائے کا کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور مسلسل و لگاتار کرم فرمانا لیکن جو ادھر توجہ ہی نہ کرے اور وہ اعراض و روگردانی ہی سے کام لے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس کی بگڑی آخر کیسی اور کیونکر بن سکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 5:1751 حلول مسیح کا عقیدہ قطعی اور کھلا کفر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا کافر ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح بن مریم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح میں حلول فرما لیا۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کی شکل میں خود جلوہ افروز ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز یہ کہ عیسیٰ خدائی صفات و اختیارات کا حامل و مظہر ہے کہ وہ حاجت روا، مشکل کشا اور غیب داں ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ اس طرح کی شرکیات میں آج امت مسلمہ کے بھی بہت سے کلمہ گو مبتلا وگر فتار ہیں۔ اور وہ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی انہی باتوں کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں۔ پیغمبر کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر " یا رسول اللہ " پکارتے، ان کو " عالم الغیب "، " نورٌ مِّنْ نُور اللہ "، " مختار کل " اور ہر جگہ " حاضر و ناظر " مانتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ان کا کہنا ہے کہ اَحَد اور اَحْمد میں تو فقط میم کی مروڑی کا فرق ہے اور بس۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ۔ وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر۔ اتر پڑا وہ مدینہ میں مصطفٰی ہو کر ۔ والعیاذ باللہ ۔ تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ سو حلول مسیح کا عقیدہ قطعی طور پر کفر اور کھلا کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے عیسائیوں کے حلول اور عینیت کے عقیدئہ کفر کی تردید فرمائی گئی ہے۔ اور صاف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ عقیدہ رکھنے والے پکے کافر ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام تصورات اور ایسے جملہ شوائب سے پاک اور اس سی کہیں بلند وبالا اور ارفع واعلی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
52 اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکتا : استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا کوئی بھی نہیں جسکا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایسا کوئی زور چل سکے یا وہ اس بارے کچھ بھی اختیار رکھتا ہو۔ تو پھر تم لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں جو کہ محض اللہ کے ایک بندے اور اس کے رسول تھے ایسے شرکیہ عقائد آخر کیوں اور کیسے رکھتے ہو ؟ پس اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے بارے میں بھی اس طرح کے خود ساختہ عقیدے رکھنا شرک ہے کہ اختیار کلی اسی وحدہ لاشریک کا خاصہ ہے جو آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا بلاشرکت غیرے تنہا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وہی ہر کسی کی حاجت روائی کرتا اور مشکل کشائی فرماتا ہے۔ اور اس قدر اور اس حد تک کہ اس کا احاطہ و ادراک اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی کیلئے ممکن ہی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خداوند قدوس کی طاقت وقدرت لامحدود اور بےنہایت ہے۔ ازل سے لے کر ابد تک کی ساری مخلوق اگر مل کر بھی اس کے کسی حکم کو بدلنا یا اس کی راہ میں حارج اور رکاوٹ بننا چاہے تو یہ اس کے بس اور اس کی قدرت سے خارج ہے۔ تو پھر اس ذات اقدس و اعلیٰ میں حضرت عیسیٰ یا کسی بھی اور مخلوق کے شریک یا شامل ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ وہ سب سے اعلیٰ وبالا اور یکتا و بےمثال ہے۔ اور ہر قسم کے شریک اور ہر شائبہ شرک سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
53 اس کائنات میں بادشاہی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا اور انداز حصر وقصر میں بیان فرمایا گیا کہ اس کائنات میں بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ پس وہ اگر اسباب کے درجے میں اس دنیا میں کسی کو کسی ملک یا خطے کی کوئی حکومت یا بادشاہی دے دے تو یہ اس کی عنایت اور مرضی کہ اس کی شان ہے ۔ { تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ } ۔ (آل عمران : 26) ۔ لیکن اسباب کے خلاف کسی زندہ یا مردہ انسان کو کسی ملک یا علاقے کا مالک یا حاکم ماننا شرک ہوگا۔ پس " داتا کی نگری "، " خواجہ اجمیری کی نگری "، " پیر بابا کا علاقہ " وغیرہ جیسی اصطلاحات اہل بدعت کے اپنے شرکیہ ذہنوں کی پیداوار ہے ورنہ دین حق کی سچی تعلیمات میں ان کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس طرح کی کسی بات کیلئے نہ کوئی سند ہے نہ دلیل۔ نہ نقل صحیح سے نہ عقل سلیم سے ۔ { مَااَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَان } ۔ آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی تمام کائنات کا خالق بھی تنہا وہی وحدہ لاشریک ہے اور مالک و متصرف بھی وہی۔ اور اس پر حکومت و فرماں روائی بھی اسی کی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اسی ارشاد ربانی سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے تو اس میں حکم و قانون بھی اسی کا چلے گا۔ نیز ایسے خالق ومالک اور قادر مطلق کیلئے کسی کو بغیر باپ کے یا ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہٰذا جن لوگوں نے محض اس وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کے منصب پر بٹھا دیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو انہوں نے نہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت مطلقہ کو پہچانا اور نہ اس کی حکمت بالغہ کی قدر کی۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے بھٹک کر ظلمت کفر و شرک اور دور کی گمراہی میں جاپڑے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ طرح طرح کے اندھیروں میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:1854 " صاحبزادگی " کا مرض اور اس کے شاخسانے : سو یہود و نصاریٰ نے کہا کہ " ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں "۔ اس لئے ہمارے لئے وہ خاص حقوق ہیں جو اور کسی کو نہیں مل سکتے۔ یہاں تک کہ جنت میں بھی ہمارے سوا اور کوئی نہیں جاسکے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس زعم اور گھمنڈ کو اس طرح صریح لفظوں میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَارٰی } ۔ (البقرۃ : 111) سو یہ ہے " صاحبزادگی " اور اپنی بڑائی اور بزرگی کے دعویٰ و گھمنڈ کا وہ مرض جو قوموں کو بھی لاحق ہوا اور اشخاص و اَفراد کو بھی۔ اور اس خود ساختہ زعم اور گھمنڈ نے آگے طرح طرح کی خرابیوں کو جنم دیا یہاں تک کہ ایسے لوگ نور حق و ہدایت ہی سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ امت مسلمہ میں پائے جانے والے بہت سے لوگ بھی آج اسی مرض میں مبتلا ہو کر طرح طرح کی خرابیوں اور مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہ ۔ کہ وہ نوری اور قدسی وغیرہ بنتے۔ سید اور آل رسول ہونے کے دعوے کرکے اپنے لئے خاص حقوق و مراعات کا ادعا کرتے اور اپنے آپ کو صاحبزادہ اور پیرزادہ سمجھتے، کہتے، کہلواتے اور لکھتے لکھواتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اپنی اسی ذہنیت کی بنا پر وہ اپنے لئے خاص حقوق اور احکام کا دعویٰ و گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں کتنے ہی ایسے ہیں جو اس طرح کے زعم اور گھمنڈ میں نہ نماز پڑھتے ہیں نہ دوسرے کھلے احکام دین تک کی پروا کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان میں کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے قول و فعل سے احکام دین و شریعت کا مذاق اڑاتے ہیں جو کہ کفر ہے۔ اور وہ خود اور ان کے خاص چیلے چانٹے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ یہ معرفت کی باتیں ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکتے وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔
55 اللہ تعالیٰ کا ہر حکم مبنی برحق اور حکمت ہوتا ہے : کہ وہ حاکم و حکیم بھی ہے اور { عَلٰی کُلِّ شَیْ ئِِ قَدِیْر } اور { عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ } بھی۔ اس لئے وہ جو سزا چاہے اور جس کے لئے چاہے دے سکتا ہے۔ اور اس کی سزا و جزا سراسر علم و حکمت پر مبنی اور عین عدل و انصاف کا تقاضا ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہی جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کس کا جرم کس نوعیت کا ہے اور کس درجے کا ہے۔ اور وہ کس سلوک و صلہ کا مستحق ہے ۔ جلَّ وَ عَلَا شَانُہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی مشیت سب پر حاوی ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ کوئی اس کی مشیت ومرضی میں حائل اور رکاوٹ نہیں بن سکا۔ مگر وہ چونکہ علیم وخبیر اور حکیم و رحیم بھی ہے اس لئے اس کا ہر حکم علم اور حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ اور اس میں اس کے بندوں ہی کا بھلا ہوتا ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اس کے ہر حکم وارشاد کو دل وجان سے اپنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق -
56 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو لوٹ کر اللہ پاک ہی کے پاس جانا ہے۔ـ سو تم لوگ چاہو یا نہ چاہو۔ جانا بہرکیف تم سب کو اسی کی طرف ہے۔ اور وہاں اپنے کئے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ اب ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ عمل و کردار کی کیا پونجی لیکر اس کے حضور حاضر ہو رہا ہے اور اس کے یہاں وہ کس طرح کے صلے اور بدلے کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وتَرْضی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ بکُلِّ حَالٍ مِّنَ اْلاَحْوَالِ وَفِیْ کُلّ مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِن فِی الْحَیَاۃِ ۔ بہرکیف ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں ہی پانا ہے جو کہ دارالجزا ہے۔ جبکہ یہ دنیا عمل کی کمائی کی جگہ اور دارالعمل ہے۔ اس لئے عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ ہمیشہ اپنی آخرت کو اپنے پیش نظر رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ-
Ayah 5:1957 بعثت پیغمبر کے احسان عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آگئے تمہارے پاس ہمارے رسول جو کھول کر بیان کرتے ہیں تمہارے لیے ہمارے احکام ایسے وقت میں جبکہ رسولوں کا آنا بند تھا نبی آخر الزمان کی بعثت و تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے۔ـ اور خاص کر ایسے میں جبکہ تم لوگ نور ہدایت کے خاص طور پر زیادہ محتاج تھے۔ پس ہمارے اس احسان کی قدر کرو اور اس کو اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت سمجھ کر اپناؤ کہ یہ حقِّ نعمت تم پر واجب ہے۔ اور اس سے منہ موڑنا کفران نعمت ہے جس کا انجام بہت برا اور بڑا بھیانک ہے کہ شکر نعمت، نعمت میں اضافے، بڑھوتری اور خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ جبکہ کفران نعمت محرومی کا باعث اور عذاب شدید کا موجب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَ نَّکَمْ وَلَئِنْ کفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ } ۔ (ابراہیم : 7) اور اگر تم نے ناشکری اور ناقدری کی تو یاد رکھنا کہ اللہ کوئی کمزور اور عاجز ہستی نہیں۔ وہ بڑی ہی قدرت والا ہے۔ تم لوگوں کو اس کے یہاں سے اپنی کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور اس صورت میں تم یہ بھی نہیں کہہ سکو گے کہ تمہارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا تھا کہ تمہارے پاس ایک عظیم الشان نذیر و بشیر آچکا ہے جس نے حق اور حقیقت کو تمہارے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
Ayah 5:2058 نبوت کی نعمت قدرت کی سب سے بڑی نعمت : سو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے سامنے اس نعمت عظمی کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ای میری قوم یاد کرو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے جن کے ذریعے اس نے تم لوگوں کو نور نبوت سے سرفراز فرمایا جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ کیونکہ نبوت و رسالت کی نعمت ہی وہ نعمت ہے جو انسان کو اس کے مقصد حیات سے آگہی بخشتی اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ پر ڈالتی ہے۔ اور اس کے بغیر انسان سراسر اندھیروں میں ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نہ اس کو اپنے مقصد وجود و تخلیق کا کوئی اتہ پتہ نہ اپنی منزل مراد کے بارے میں کوئی علم و آگہی اور نہ راہ حق و ہدایت سے متعلق کوئی علم وخبر۔ جس کے نتیجے میں وہ انسانیت کے منصہ شرف سے محروم ہو کر حیوانیت محضہ کے قعر مذلت میں جا گرتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے گر کر اسفل السافلین اور " شر البریۃ " ۔ " بدترین مخلوق " ۔ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور اس طرح وہ اس ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی نے اپنی قوم سے مزید فرمایا کہ اس نے تم لوگوں کو بادشاہ بنایا۔
59 حکومت و بادشاہی دنیاوی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے : جو کہ دنیاوی اعتبار سے سب سے بڑی عزت ہے۔ تو اس طرح اس واہب مطلق نے تم لوگوں کو دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے سب سے بڑی نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا۔ تو عقل و نقل اور دین و فطرت سب کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ اپنے خالق ومالک کیلئے سراپا سپاس بن جاؤ۔ اور اس شکر وسپاس گزاری کا متقضیٰ یہ تھا اور یہ ہے کہ تم اس دین حق کو دل و جان سے اپنا لو جو اب تمہارے خالق ومالک نے حضرت خاتم الانبیاء کے ذریعے تمہارے لیے بھیجا ہے۔ اور جو خاتم الادیان کے طور پر قیامت تک کی ساری دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے بھیجا ہے کہ اب راہ حق و ہدایت اسی سے وابستہ ہے۔ سو بنی اسرائیل کو اللہ پاک نے دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے سب سے بڑی اور عظیم الشان نعمتوں سے نوازا تھا۔ جس کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اس کی شکر گزاری میں دل و جان سے اس کے حضور جھک جاتے۔ مگر انہوں نے کفران نعمت اور ناشکری سے کام لیا۔ جس کے نتیجے میں یہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے سو کفران نعمت محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
60 تذکیر نعم برائے شکر نعم :ـسو حضرت موسیٰ نے ان سے مزید فرمایا کہ اس نے تم لوگوں کو وہ کچھ دیا جو اس نے دنیا جہاں میں کسی کو نہیں دیا۔ سو اس نے تم کو فرعون جیسے ظالم کے پنجہ ظلم و ستم سے نجات و آزادی عطا فرمائی۔ اور اس کو مع اس کے لشکر کے تمہارے سامنے غرق دریا کیا۔ دریا کی طوفانی موجوں کو روک کر تمہارے لئے خشک راستے بنا دیے۔ پھر انہی لہروں کو چلتا کرکے خدائی کا دعویٰ کرنے والے اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر اور تمہارے اس دشمن کو غرقاب کرکے ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر کردیا۔ منّ وسلویٰ جیسی نعمتوں سے تمہیں سرفراز فرمایا۔ بادلوں کے ذریعے تمہارے لئے سائے کا انتظام فرمایا اور پتھر سے تمہارے سامنے تمہارے لئے بارہ چشمے جاری کردیئے۔ سو ان طرح طرح کے اور عظیم الشان انعامات کو یاد کرکے تم اس کے حضور دل و جان سے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم لوگ شکر نعمت کی سعادت سے سرفراز ہو کر دارین کی فوز و فلاح اور سرخروئی سے مشرف و سرفراز ہوسکو۔ سو اس طرح ان لوگوں کو ان مختلف اور عظیم الشان نعمتوں کی یاد دہانی سے ان کے شکر کی دعوت دی گئی ہے۔ مگر انہوں نے اس کی بجائے کفران نعمت کو اپنا کر ہلاکت و تباہی کی راہ کو اختیار کیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:2161 ارض مقدس اور اس کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکر : سو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم داخل ہوجاؤ تم لوگ اس مقدس سرزمین میں۔ یعنی سرزمین شام و فلسطین میں جس کو اللہ نے تم لوگوں کے لیے لکھ رکھا ہے۔ سو ارض فلسطین بڑی مقدس اور مبارک سرزمین ہے۔ جس میں اللہ پاک کے کتنے ہی پیغمبر تشریف لائے اور انہوں نے دنیا کو نور وحی و رسالت سے منور و روشناس فرمایا۔ اور ان معنوی اور روحانی نعمتوں کے علاوہ اس سرزمین کو بیشمار ظاہری اور حسی نعمتوں سے بھی نوازا گیا۔ یہاں تک کہ اس کو شہد اور دودھ کی سرزمین ۔ " ارض العسل و الحلیب " ۔ کہا جانے لگا۔ سو حضرت موسیٰ ﷺ نے اپنی قوم کو اسی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کا حکم و ارشاد فرمایا تاکہ تم لوگ اپنی اس غصب شدہ زمین کو دوبارہ حاصل کرکے اس کی ان نعمتوں اور برکتوں سے سرفراز ومالا مال ہوسکو۔ اور اس سے مراد شام و فلسطین کی وہ سرزمین ہے جس کو وحی خداوندی میں جگہ جگہ ارض مقدس اور مبارک فرمایا گیا۔
62 اطاعت خدا و رسول سے روگردانی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : چناچہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ الٹے پاؤں مت لوٹو کہ اس کے نتیجے میں تم خسارے والے ہوجاؤ گے۔ سو اللہ اور اس کے رسول کے حکم وارشاد اور ان کی اطاعت سے سرتابی و روگردانی اپنا ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے سرتابی دراصل اپنے ہی خسران و نقصان کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے برعکس ان کے حکم و ارشاد کو دل و جان سے اپنانے میں انسان کا اپنا ہی بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ اسلئے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اس حقیقت سے آگہی بخشتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جس کو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے۔ اور اس کے حکم سے منہ موڑ کر تم الٹے پاؤں مت پھرو۔ ورنہ تم سخت خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ مگر اس سب کے باوجود اس بدبخت قوم نے حضرت موسیٰ کی آواز پر کان نہیں دھرا۔ اور آخر کار وہ ہولناک خسارے میں مبتلا ہو کر رہی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:2263 قوت ایمانی سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کی اس دردمندانہ اپیل کے جواب میں کہا کہ اے موسیٰ اس سرزمین میں بڑے سخت لوگ رہتے ہیں۔ ہم وہاں ہرگز قدم نہیں رکھیں گے۔ جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو اس صورت میں ہم وہاں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ سو یہ نمونہ ہے غلامی کی پسی ہوئی اور ایمان کی کمزور قوم کی پست ہمتی اور کور ذوقی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قوت ایمانی سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ایمان و یقین کی قوت اور اس کی پختگی و مضبوطی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے کہ اسی قوت ایمانی کی بنا پر انسان سبقت الی الخیرات کرتا اور اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتا ہے۔ اور بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی دولت سے سرفراز و بہرہ ور ہوتا ہے۔ جبکہ اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -