Ayah 5:2364 اطاعت خدا و رسول ذریعہ فوز و فلاح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری وسیلہ فوز و فلاح اور کامیابی و سرفرازی ہے۔ـ سو جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق وہاں سے واپسی پر عمالقہ کے زور و قوت کا اظہار اپنی قوم سے نہیں کیا تھا اس کے نتیجہ میں وہ اپنی جماعت کے ان دوسرے لوگوں کی طرح کم ہمتی کا شکار بھی نہیں ہوئے۔ اور اس امتحان میں کامیاب بھی رہے۔ پس معلوم ہوا کہ مومن کی کامیابی دراصل خدا وند تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کو دل و جان سے ماننے اور اپنانے میں ہے اور بس۔ حیات دنیا کی اس عارضی فرصت میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی جہاں کی زندگی حقیقی بھی ہے اور ابدی بھی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم علم و حکمت اور غایت درجہ رحمت و عنایت پر مبنی و مشتمل ہوتا ہے۔ اور اس میں سراسر اس کے بندوں کی ہی مصلحت اور بہتری اصل مقصود ہوتی ہے۔ اور یہ شان اس وحدہٗ لاشریک کے حکم و ارشاد کے سوا اور کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اور اللہ کا رسول اللہ کا حکم و ارشاد ہی پہنچاتا ہے۔ وہ اپنی ذاتی غرض اور نفسانی خواہش سے کچھ کہتا ہے اور نہ کچھ کرتا ہے۔ پس بندوں کی بہتری اور بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم و ارشاد کی بےچوں و چرا اور پورے شوق و ذوق سے اطاعت کریں۔ یہی ان کی شان عبدیت و بندگی کا تقاضا ہے اور اسی میں ان کا بھلا ہے دنیاوی زندگی کی اس عارضی اور محدود فرصت میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید -
65 اللہ کی مدد کی توقع رکھنا باعث سرفرازی :ـسو اس سے معلوم ہوا کہ اپنے بس کی حد تک سچی نیت اور توکل علی اللہ کے ساتھ کام کرنے سے آگے راستے کھلتے جاتے ہیں۔ اس کا یقین ہونا چا ہیئے۔ اور یہی مومن کی شان ہے۔ پس اس سے اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا بزرگوں کے لئے علم غیب ثابت کرنا باطل و مردود ہے کہ یہاں بات علم غیب کی نہیں بلکہ اللہ پاک سے اس کی مدد کی امید و یقین کی ہے جس کی مومن صادق اپنے رب سے توقع رکھتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں دعا کرتے وقت دعا کی قبولیت کا یقین رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ۔ " اُدْعُوا اللّٰہَ وَاَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بالاجَابَۃِ " ۔ بہرکیف صدق نیت اور توکل علی اللہ مومن کی قوت کے دو عظیم الشان ماخذ ہیں۔ جتنی اور جس قدر یہ دونوں چیزیں اس کے اندر پکی اور پختہ ہونگی اسی قدر اس کو اپنے خالق ومالک کی طرف سے نصرت و امداد سے نوازا جائے گا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ۔ بہرکیف ان دو آدمیوں نے اپنی ایمانی قوت اور اللہ پر توکل اور بھروسے کے اعتماد پر ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق اس سرزمین میں داخل ہوجاؤ۔ جب تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے تم کو لڑائی بھڑائی کے بغیر ہی کامیابی نصیب ہو جائیگی کہ اس سرزمین کو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ اس لئے وہ بہرحال تم کو ملے گی۔ سو اللہ کی مدد کی ہمیشہ توقع رکھنی چاہیے۔
66 ایمان کا تقاضا کہ بھروسہ صرف اللہ پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اگر واقعی تم ایماندار ہو۔ سو اس سے ـ معلوم ہوا کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا بھروسہ کسی زندہ مردہ انسان، کسی کالی نیلی جھنڈی، کسی ایری غیری سرکار یا کسی امام ضامن جیسی مخترعات پر تو ہوگا مگر اللہ وحدہ لاشریک پر نہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اور پھر دعویٰ ہے کہ ۔ ہم چو ما دیگرے نیست ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ بہرکیف یہاں پر حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا اور شرط و قید کے ساتھ بتایا کہ تم اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل کا کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی اللہ تعالیٰ ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ اور ہوتا وہی ہے جو اس وحدہٗ لاشریک کو منظور ہوتا ہے کہ اس کی حکومت اور بادشاہی میں مشیت ومرضی بھی اسی وحدہٗ لاشریک کی کارفرما ہے۔ پس عقل سلیم اور نقل صحیح سب کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے اس دارالاسباب میں اسباب و وسائل تو بیشک پوری طرح اپنائے اور اختیار کئے جائیں لیکن دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی پر رکھا جائے۔
Ayah 5:2467 وفا اور بےوفائی کے دو متضاد اور عبرت انگیز نمونے : سو یہاں پر اصحاب موسیٰ کی بےوفائی اور ہمارے حضور ﷺ کے صحابہ کرام کی جاں نثاری کا ایک نمونہ بھی ملاحظہ ہو۔ ـ سو یہ تھا حال اس ناہنجار قوم کا۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے اتنے معجزات دیکھے اور ان کے توسط سے وہ اللہ پاک کی گوناگوں نعمتوں سے سرفراز ہوئے۔ مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں نے آنجناب کے حکم و ارشاد کے جواب میں ایسی گستاخانہ بات کہتے ہوئے بھی کوئی شرم محسوس نہ کی۔ اس کے مقابلے میں ہمارے آقا ۔ صَلَوات اللّٰہِ وسَلَامُہٗ عَلَیْہِ ۔ کے جان نثار صحابہ کرام کی شان یہ تھی کہ غزوئہ بدر کے مشورے کے موقع پر انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول، ہم آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ ہمیں جو حکم دیں گے ہم اس کے لئے سرِتسلیم خم ہیں۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں کود پڑنے کا فرمائیں گے تو ہم فوراً کود پڑیں گے۔ (مسلم، کتاب الجہاد، عن انس ؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم ایسے نہیں ہیں کہ آپ کو وہ جواب دیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے ان کو دیا تھا۔ بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہر طرف سے لڑیں گے۔ (مسند احمد و بخاری کتاب المغازی وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنے بےہودہ، بےشرم، بےانصاف اور ظالم ہیں وہ لوگ جو ان قدسی صفت حضرات صحابہ کرام پر زبان طعن دراز کرتے اور ان کے ایمان تک میں کیڑے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ان میں سے سوائے چند کے باقی سب ایمان سے ہی پھرگئے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ خَذَلَہُمُ اللّٰہُ وَقَاتَلَہُمْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ بہرکیف اصحاب موسیٰ کی اس بیوفائی اور حضرت خاتم الانبیائ ﷺ کے صحابہ کرام کی وفاداری و جاں نثاری کے یہ دونوں مظہر عبرت انگیز اور بصیرت افروز ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدَ وَھُوَ الْہادِیْ الٰی سواء السَّبِیْلَ ۔ اللہ ہمیشہ وفا شعاری اور محاسنِ اَخلاق سے نوازے اور بےوفائی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 5:2568 اللہ کے سوا کوئی بھی مختار کل نہیں : سو اس پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب میں کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اپنی ذات کے اور اپنے بھائی کے بارے میں۔ اور جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اس شان کا مالک ہو اور اس کو مختار کل مانا جائے ؟۔ سو مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس اس سے اہل بدعت کے مختار کل کے خود ساختہ شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ خدا کرے ایسی باتیں ان کے لئے سرمہ بصیرت ثابت ہوں۔ ان کو ہدایت مل جائے اور وہ ان شرکیات سے باز آجائیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ۔ بہرکیف قوم کے اس حوصلہ شکن جواب پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور اپنے عجز و انکسار اور اپنی بےبسی کا اس طرح اظہار فرمایا۔ اور اپنے رب کے حضور عجز و انکسار سے عرض کیا کہ میرے پروردگار ! میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی زور اور اختیار نہیں رکھتا۔ پس تو اے ہمارے مالک ! ہمارے اور ہماری اس بد اطوار اور ناہنجار قوم کے درمیان تفریق فرما دے۔ یعنی اب ہمیں ان کی قیادت و اصلاح کی ذمہ داری سے سبکدوش فرما دے۔ کہ جب اتنی طویل جدوجہد اور اس قدر معجزات اور خوارق دکھانے کے باوجود ان لوگوں کا یہ حال ہے اور یہ میری اتنی بات بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتے اور میری ہدایت کے جواب میں اس قدر کفریہ باتیں کرتے ہیں تو پھر ایسے پتھروں پر جونک لگانے کا آخر کیا فائدہ ؟ پس تو اے ہمارے مالک ہمارے اور ان کے درمیان تفریق اور جدائے فرما دے۔
69 ایمان و یقین ذریعہ سکون وقرار : سو حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ تو جدائی ڈال دے ہمارے اور ان بدکار لوگوں کے درمیان حقیقت اور انجام کے اعتبار سے۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون ۔ علیھما الصلوۃ والسلام ۔ تو اپنی پیغمبرانہ شان اور سکون و اطمینان کے ساتھ رہتے تھے مگر یہ لوگ حیران و سرگرداں مارے مارے پھر رہے تھے۔ بلکہ ان دونوں حضرات کے لئے کہ وہ وادی نعمائے الٰہیہ کا مظہر بن گئی تھی۔ (معارف از دیو بندی ) ۔ سو ایک ہی وادی میں ہونے کے باوجود قوم موسیٰ تو اپنی بدبختی کے باعث دھکے کھارہی تھی اور حضرت موسیٰ و ہارون اپنے ایمان و یقین کی قوت اور اپنے تعلق مع اللہ کی بنا پر اسی وادی میں سکون و اطمینان اور دوسری طرح طرح کی نعمائے الٰہیہ سے سرفراز ہو رہے تھے۔ سو ایمان و یقین اور تعلق مع اللہ کی دولت سکون وقرار کا ذریعہ اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا وسیلہ ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے جب اپنی قوم سے شکستہ دل اور مایوس ہو کر اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اب چونکہ ان لوگوں کے ساتھ میرا نباہ نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ ہماری بات سننے ماننے کو تیار نہیں اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے۔ تو ویسے ہی ہوا اور اس کے نتیجے میں ان کو دنیاوی سزا بھی ملی کہ ارض مقدس میں داخلے کے فوری انعام سے محروم ہوگئے۔ اور اخروی سزا الگ رہی۔ اس کے تین سال بعد حضرت ہارون کا انتقال ہوگیا اور اس کے ایک سال بعد حضرت موسیٰ بھی چل بسے۔ اور اس طرح ان کے درمیان اور ان کی قوم کے درمیان ہمیشہ کی جدائی ہوگئی۔
Ayah 5:2670 بدکاروں کے انجام بد پر افسوس نہ کرنے کی ہدایت :ـسو حضرت موسیٰ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ افسوس نہیں کرنا ان بدکار لوگوں کے انجام پر کہ یہ اسی انجام کے لائق تھے۔ اور یہ ان کے اپنے ہی عمل و کردار کا نتیجہ تھا۔ یہاں سے اس شفقت اور ہمدردی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے جو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصّلوۃُ والسلام ۔ کو اپنی امتوں سے ہوتی ہے کہ اللہ پاک ان کو اس طرح غم اور افسوس نہ کرنے کی تلقین و ہدایت فرماتا ہے۔ تاکہ امت کی بےراہ روی پر ان کو فرط شفقت کی وجہ سے خواہ مخواہ غم اور تکلیف نہ اٹھانا پڑے ۔ صلوات اللہ وسلامُہ علیھم اجمعین ۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ فسق و فجور کا انجام بہرحال برا اور ہلاکت و تباہی ہے۔ فاسق اور فاجر لوگوں کو جتنی بھی مہلت ملے ان کا انجام بہرحال بہت بھیانک ہونا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ سے فرمایا گیا کہ یہ لوگ چونکہ اپنے خود اختیار کردہ فسق اور معصیت و نافرمانی کی بنا پر اللہ کے انعام سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس لئے ان کی اس محرومی پر کسی افسوس کی ضرورت نہیں کہ اس کے ذمہ دار یہ خود ہیں اپنی نافرمانی اور سرتابی کی بنا پر ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:2771 آدم کے دو بیٹوں کی قربانیوں کی نوعیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو جبکہ ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک قربانی پیش کی۔ یہ قربانیاں ان دونوں نے کس بنا پر پیش کی تھیں اس کا ذکر کسی آیت کریمہ یا صحیح حدیث میں نہیں ملتا۔ البتہ بعض آثار اور تفسیری روایات میں اس کا یہ قصہ مذکور ہے کہ اس کی ضرورت ان کے رشتے کے سلسلے میں باہمی تنازع کی بنا پر پیش آئی تھی۔ (قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ کچھ بھی ہو بہرکیف ان دونوں میں سے ہر ایک نے الگ الگ قربانی پیش کی تھی جن میں سے ایک کی قربانی اس کے صدق و اخلاص کی بنا پر قبول فرمائی گئی اور دوسرے کی شرف قبولیت سے بازیاب نہ ہوسکی۔ اور اس طرح ان دونوں کی آزمائش کا نتیجہ ان کے سامنے آگیا۔ اور واضح ہوگیا کہ ان میں سچا اور مخلص کون ہے اور غلط کار و بدنیت کون۔ اور یہ کردار و مدار سب کا سب صدق و اخلاص پر ہے۔ سو صدق و اخلاص کی دولت عظیم الشان دولت ہے ۔ وَ باللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْد ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
72 حسد سب سے پہلا اور بڑا ہولناک جرم و گناہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حسد وہ پہلا جرم و گناہ ہے جس کا اولاد آدم میں ارتکاب کیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس شخص نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا حسد کی بنا پر۔ اور یہی حال انسان کا آج بھی ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو دیکھنے کی بجائے دوسرے پر تنقید کرتا اور اس پر جلتا اور حسد کرتا ہے۔ اور اس کے درپے آزار ہوجاتا ہے۔ اور اس طرح وہ دوسروں کی تکلیف و ایذا رسانی سے پہلے خود حسد کی آگ میں جلتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " الْحَسُوْدُ لا یَسُوْدُ " ۔ سو حسد وہ پہلا گناہ اور بڑا سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب اولاد آدم میں کیا گیا اور جس نے آدم کے ایک بیٹے سے قتل اور وہ بھی اپنے بھائی کے قتل جیسے سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کرا دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ حسد اور اس کے عواقب و نتائج سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
73 تقویٰ اصلاح و قبولیت کی اولین اساس : سو اس بھائی نے اپنے بھائی کی اس ہولناک دھمکی کے جواب میں کہا کہ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ پرہیزگار لوگوں ہی سے قبول فرماتا ہے۔ پس تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یقیناً تیرے اپنے تقوے اور پرہیزگاری میں کوئی فرق ہوگا۔ تو تجھے اس کی فکر اور اصلاح کرنی چاہیئے۔ نہ کہ تو الٹا بلاوجہ میرے قتل کے درپے ہوجائے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور خوف و مشیت خداوندی اصلاح احوال اور قبولیت عنداللہ کیلئے اولین اساس اور اہم بنیاد ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری کے اس گوہر گرانبہا ہی کو اپنانے اور ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں یہی مطلوب و مقصود ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَائُ ھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہٗ التَّقْویٰ مِنْکم } ۔ اللہ نصیب فرمائے اور صدق نیت اور اصلاح قلب و باطن کی دولت سے ہمیشہ سرفراز و سرشار رکھے ۔ کہ یہی ہے اصل اور حقیقی دولت جو انسان کو دارین میں کام آنے والی دولت ہے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 5:2874 اِقدام قتل سے بچنے کی تلقین : سو اس نیک بخت بھائی نے اپنے بھائی کی اس دھمکی کے جواب میں کہا کہ اگر تو نے مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ یعنی تیرے قتل کا اقدام نہیں کروں گا۔ نہ یہ کہ اپنا دفاع بھی نہیں کروں گا۔ کہ اپنی جان اور اپنے مال کی حفاظت میں لڑنا نہ صرف یہ کہ جائز اور مسموح ہے بلکہ اس راہ میں مارا جانا بھی شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ یعنی میں ایسا نہیں ہوں کہ برائی کے بدلے میں برائی کا ارتکاب کروں کہ ایسا کرنا تقویٰ و پرہیزگاری کی اس روش کیخلاف ہے جو میرے خالق ومالک کو پسند ہے اور جس پر میں کاربند ہوں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ہابیل نے قابیل کو سمجھایا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب کی طرف بارگناہ اٹھا کر لوٹوں۔ اس لئے میں تو تمہارے قتل کا اقدام بہرحال نہیں کروں گا۔ اب تم اگر ایسے کرو گے تو اپنے گناہ کے ساتھ ساتھ میرے گناہ بھی اپنے سر لو گے۔ سو تم اپنے بارے میں خود سوچ اور دیکھ لو۔ سو اس میں اس شخص کے قلب و ضمیر پر ایک دستک تھی۔
Ayah 5:2975 قاتل کیلئے دوہری سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس شخص نے اپنے بھائی سے کہا کہ تو سمیٹ لے میرے گناہ کو بھی اور اپنے گناہ کو بھی۔ یعنی میرے قتل کے گناہ کو یا میرے دوسرے تمام گناہوں کو۔ دونوں قول مروی ہیں۔ یعنی تو اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ میرے قتل ناحق کے اس گناہ کو بھی سمیٹ لے۔ یہ قول ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ وغیرہ کا ہے۔ امام جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ تیری گردن پر تیرے گناہ کا بوجھ بھی ہو اور میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے کہ قیامت کے روز مقتول مظلوم کی برائیاں قاتل پر ڈالی جائینگی۔ اس لیے تجھے اس روز یہ دونوں بوجھ اٹھانے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قاتل کیلئے یہ سزا مقرر ہے کہ اس پر مقتول کے گناہوں کا بوجھ ڈال کر اس کو دوہری سزا دی جائے۔ (المعارف، المراغی، ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ) ۔ اور حدیث میں فرمایا گیا ۔ " السَّیْفُ مَحَّائٌ للذُّنُوُبِ " ۔ یعنی " تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے "۔ اسی لئے شہید کے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ سوائے قرض کے۔ سو اس اعتبار سے ہابیل کے اس قول کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے قتل سے تو میرے گناہوں کی معافی کا بھی سبب ہوگا۔ سو اس طرح تو میرے گناہوں کی صفائی کا ذریعہ اور سبب بنے گا اور تیرے اپنے گناہ تو تیرے ذمے ہوں گے ہی ۔ والعیاذ باللہ ۔
76 ظالم کا بدلہ دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس شخص نے اپنے بھائی کے قلب و ضمیر پر دستک کے طور پر اس سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تو سمیٹ لے میرے گناہ کو بھی اور اپنے گناہ کو بھی۔ پھر اس کے نتیجے میں تو دوزخیوں میں سے ہوجائے کہ یہی بدلے ہے ظالموں کا جس کا ارتکاب تو میرے قتل سے کرے گا۔ یا وہ جس کے باعث تیری قربانی قبول نہیں ہوسکی۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ یعنی میرے قتل کے ارتکاب سے تو ظلم بالائے ظلم کا مرتکب ہوگا۔ اور اس کے نتیجے میں تو اہل دوزخ میں سے ہوجائے گا کہ ظالم کا ٹھکانا اور اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ سو میں تیرے قتل کیلئے ہاتھ نہیں بڑھاؤنگا اور تیرے قتل کیلئے پہل نہیں کروں گا بلکہ اس کی بجائے مجھے مظلوم رہنا پسند ہے تاکہ میرا بدلہ اللہ لے۔ (البحر، الصفوۃٗ وغیرہ) ۔ بہرکیف قتل ناحق کے سبب تو دوزخیوں میں سے ہوجائے گا۔ کیونکہ قتل ناحق ان بڑے کبیرہ گناہوں ۔ اَکْبَرُ الْکَبِائر۔ میں سے ہے جن کی سزا جہنم کا دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ۔ { وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّداً فَجَزَائُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْہَا } ۔ (النسائ : 93) ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 5:3077 تمردو سرکشی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نفس و شیطان کی طغیانی پند و نصیحت کا اثر قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس موقع پر ہابیل نے قابیل کو ایسا وقیع اور موثر وعظ کیا تاکہ وہ قتل کے اس انتہائی سنگین جرم کے ارتکاب سے باز رہے۔ مگر اس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ کیونکہ نفس و شیطان کی طغیانی جب انسان پر مسلط ہوجائے تو کوئی کلمہ وعظ و نصیحت اس پر اثر نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نفس و شیطان کی طغیانی انسان کو مہالک میں ڈالنے والی چیز ہے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے ۔ آمین ۔ { فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ } ۔ کے اس اسلوب بیان سے اس کشمکش کا اظہار ہوتا ہے جو اول اول اس کے دل میں جرم قتل کے خلاف پیدا ہوئی۔ کیونکہ قدرت نے انسان کے اندر ایک نفس لوامہ بھی ودیعت فرما رکھا ہے جو اس کو برائی سے روکتا اور اس کے خلاف برابر احتجاج کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان مختلف حیلوں حوالوں سے اس کی زبان بند نہ کر دے۔ اسی کو لسان نبوت نے اللہ کے واعظ سے تعبیر فرمایا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ " وَاعِظُ اللّٰہِ فِیْ قَلْبِ کُلِّ مُؤْمِنٍ " -
78 قابیل کا انتہائی ہولناک خسارے میں پڑنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار اس شخص نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا جس سے وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا دنیاوی اعتبار سے بھی کہ سب کی لعنت ملامت اور بدنامی و رسوائی کے علاوہ بھائی جیسے دست وبازو سے محروم ہوگیا۔ اور اخروی اعتبار سے بھی کہ دوزخ کے عذاب کا مستحق بنا۔ اور روئے زمین پر پہلا قتل کر کے آئندہ ہونے والے ہر قتل کے گناہ کا حصہ داربنا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی تصریح وارد ہے۔ چناچہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " جو بھی کوئی ظلم کے ساتھ قتل ہوگا اس گناہ کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر ہوگا " کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کی بنیاد ڈالی۔ (بخاری : کتاب الانبیاء، باب خلق آدم و ذرّیتہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح جب انسان کا نفس اس پر غالب آجاتا ہے اور جذبہ مغلوب ہوجاتا ہے تو انسان خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر شر و فتنہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 5:3179 ندامت مطلوب و معتبر کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ندامت اٹھانے والوں میں سے ہوگیا لیکن یہ ندامت اس کو کچھ کام آنے والی نہ تھی۔ کیونکہ ندامت وہی معتبر اور مفید ہوتی ہے جو خوف خداوندی کی بنا پر ہو۔ ـ مگر اس کی یہ ندامت خوف خدا کی وجہ سے نہ تھی۔ تاکہ توبہ قرار پاتی اور گناہ کی معافی کا ذریعہ بنتی۔ بلکہ یہ ندامت محض دنیاوی رسوائی کی بنا پر تھی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " الندم توبۃ " کا ارشاد امت مسلمہ کی خصوصیت ہو۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ بہرکیف قابیل کی یہ ندامت اس بنا پر نہیں تھی کہ میں نے ایسے گناہ اور جرم عظیم کا ارتکاب کیوں کیا۔ اور یہ کہ مجھے اس سے توبہ کرنی چاہیے جو کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد ہے " الندم التوبۃ "۔ (رواہ احمد و البخاری) ۔ بلکہ اس کی یہ ندامت عام رسوائی کے ڈر سے تھی۔ جیسا کہ عام لوگوں کو پیش آتا ہے۔ (المراغی وغیرہ) بہرکیف اپنے بھائی کے قتل کا ارتکاب کرنے کے بعد جب قابیل کو اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کی تدبیر نہیں سوجھ رہی تھی تو اس نے کوے کو زمین کرید کر دفن کرتے دیکھا تو اپنا سر پیٹ کر رہ گیا کہ " میں اس کوے کے برابر بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا لیتا "۔ تو اس سے وہ سخت ندامت میں مبتلا ہوگیا۔ مگر بےوقت اور بےکار کی اس ندامت و شرمندگی کا اس کو کوئی فائدہ نہ ہوا نہ ہوسکتا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہ ہمیشہ ہمیش کے اور سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہو کر رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے ندامت مطلوب و معتبر کی نشاندہی فرما دی گئی کہ جو خوف خداوند قدوس کی بنا پر ہو نہ کہ محض دنیاوی افسوس کی صورت میں اور بس۔
Ayah 5:3280 قتل کے بدلے قتل کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کسی کو قتل کیا بغیر کسی جان کے کہ اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو قتل کیا جائے کہ یہ صحیح ہے۔ اور اسے قتل کی اجازت ہے کہ دوسرے کو قتل کردینے کے بدلے میں قاتل کو اس کے قصاص میں قتل کرنا جائز ہے۔ کہ ۔ { النَّفْسُ بالنَّفْسِ } ۔ کے ضابطہ عام کا تقاضا یہی ہے کہ جان کے بدلے میں جان لی جائے۔ کیونکہ قتل کے بعد قاتل کو قتل کرنا ایک امر مطلوب و محمود ہے کہ اس میں سب کی جانوں کی حفاظت ہے۔ ورنہ کسی کی بھی جان محفوظ نہیں رہے گی۔ اسی لیے سورة بقرۃ میں " اولوا الالباب " یعنی عقل خالص رکھنے والوں کو خطاب کر کے اور ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اے عقل خالص رکھنے والو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب لعلکم تتقون } ۔ (البقرۃ : 179) ۔ والعیاذ باللہ ۔
81 فساد فی الارض کی سزا قتل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا کسی نے کسی کو قتل کیا ہو بغیر کسی طرح کے فساد پھیلائے کے زمین میں۔ رہزنی کرکے یا احصان کے بعد زنا کا ارتکاب کرکے۔ یا حرث و نسل کو تباہ کر کے۔ یا نظام امن کو خراب کرکے۔ یا مال و دولت کے لوٹنے سے وغیرہ۔ (المراغی، معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو فساد فی الارض کی سزا قتل ہے۔ اسی بنا پر کفار کے خلاف جہاد و قتال نہ صرف جائز ومشروع بلکہ مامور بہ ہے۔ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق فرض و لازم ہے۔ اسی طرح قوانین و اَحکام خداوندی کی خلاف ورزی اور ان میں بگاڑ پیدا کرنے کی سزا قتل ہے۔ اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شر انگیزی فتنہ پروری اور چوری ڈکیتی وغیرہ سب اسی فساد فی الارض میں داخل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے مجرموں کو حکومت اسلامی قوانین کے مطابق قتل کرسکتی ہے۔
82 حرمت نفس کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نظر میں حرمت نفس کی عظمت و اہمیت کس قدر ہے کہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایک جان کا قتل کرنے کا جرم سب لوگوں کے قتل کرنے کے برابر کا جرم ہے۔ کہ اس نے حرمت نفس کا ازالہ کیا اور قتل نفس کا راستہ نکالا۔ (روح، بیضاوی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح ایک جان کو قتل کرنا سب لوگوں کو قتل کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایک جان کا اتلاف پوری نسل انسانی کے اتلاف کے برابر ہے۔ سو اس سے حرمت انسانی کی عظمت شان اور قتل نفس کی سنگینی کو واضح فرما دیا گیا۔ حقوق انسانی کے علمبرداروں اور دعویداروں نے صدیوں بعد اب کہیں جا کر انسانی جان کی حرمت و حفاظت کا اعلان و اظہار کیا ہے مگر دین حنیف نے پندرہ سو برس قبل انسانی جان کی حفاظت کا درس دیا جبکہ دنیا ساری سوئی ہوئی تھی۔ اور اس قدر بلیغ اسلوب اور موثر انداز میں درس دیا کہ اس کی کوئی نظیر و مثال دنیا نہ آج تک پیش کرسکی نہ قیامت تک پیش کرسکے گی ۔ فلِلّٰہِ الحمدُ رب العالمین ۔ بہرکیف اس سے انسانی جان کے قتل کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
83 ایک جان کو بچانا سب لوگوں کی جان بخشی کے برابر : سو اس میں تصریح فرمائی گئی ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا گویا سب لوگوں کی جان بچانا ہے۔ کسی ظالم کے پنجہ سے چھڑا کر یا ہلاکت کے راستے سے بچا کر وغیرہ۔ (معارف، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اس طرح کسی انسان کو موت کے پنجے سے چھڑانا اس کو زندگی بخشنے کے مترادف ہے۔ اور جس نے کسی ایک شخص کے ساتھ ایسا کیا اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بخشی کا سامان کیا۔ کیونکہ اس کا باعث رحمت و شفقت اور احترام انسانیت کا وہ جذبہ ہے جو ایسے انسان کے باطن میں مخفی و مستور ہے۔ اور یہ وہ اہم اساس و بنیاد ہے جو تمام بنی نوع انسان کی حمایت و حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لئے اس کی حفاظت بھی سب کی ذمہ داری ہے۔ ابو مسلم اس آیت کریمہ کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جس نے کسی ایک جان کو قتل کیا سب مسلمانوں کے ذمے لازم ہے کہ وہ اس سے دشمنی رکھیں کہ وہ درحقیقت ان سب کا قاتل ہے۔ اور اس کے برعکس جس نے ایک شخص کی زندگی بچائی سب مسلمانوں پر اس کی محبت لازم ہے کہ اس نے ان سب کی زندگی بچائی۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔
84 عوام الناس کی اکثریت حجت نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی بہت سے لوگ حد سے بڑھنے والے ہی رہے۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ عام لوگوں کی تائید یا تردید کسی معاملے میں حق یا ناحق ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ـ چناچہ اکثر لوگ ناحق طور پر قتل و خونریزی کا ارتکاب کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان بدبختوں نے اللہ پاک کے نبیوں کو بھی قتل کیا۔ اور یہاں تک کہ ایسے بدبخت اور سیاہ باطن حضرت امام الانبیاء ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ کے قدسی صفت صحابہ کرام کے قتل کے درپے ہوگئے۔ (کبیر، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو لوگوں کی اکثریت ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں ہی کی رہی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس عوام الناس کی اکثریت کی تائید یا تردید کسی معاملے میں حق یا ناحق ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے پرستاروں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ حق بہرحال وہ اور صرف وہی ہے جو دین حق کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے حق قرار پائے قطع نظر اس سے کہ اس کے ماننے والے کتنے ہیں۔ کم یا زیادہ۔ عوام کی قلت یا کثرت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
Ayahs 5:33–3485 فساد فی الارض اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے برابر : سو اس سے فسادفی الارض کے جرم کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دراصل اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کا جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو امن وامان کو تباہ کرنا اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ رہزنی و ڈکیتی کا ارتکاب کر کے۔ اور اس کو خدا و رسول سے جنگ قرار دیا گیا کہ عدل و انصاف اور امن وامان قائم کرنا دین حق کا ایک بنیادی مقصد اور اہم تقاضا ہے۔ یہاں تک کہ دین حق کے نازل کرنے اور انبیائے کرام کے مبعوث فرمانے کا انتظام بھی بنیادی طور پر اسی لئے فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں اس کی تصریح فرما دی گئی ہے۔ بہرکیف اس طرح کے عدوان کو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا گیا۔ کیونکہ ایسا کرنا اس حق اور عدل پر اعتداء اور زیادتی ہے جسکو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ امن وامان کو قائم کرنا اور اس کو قائم رکھنا سب کی اہم اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
86 باغیوں اور رہزنوں کے قتل کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان کو چن چن کر قتل کیا جائے اگر انہوں نے قتل و خونریزی کا ارتکاب کیا ہو۔ ان کے اس امر قبیح اور جرم شنیع کے نتیجے میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ آیت کریمہ قطع طریق یعنی راہزنی کے بارے میں ہے۔ اور اس میں بیان فرمودہ سزائیں مختلف جرائم پر مرتب فرمائی گئی ہیں۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ قتل کے سلسلے میں یہاں پر " یُقْتَلُوْا " کی بجائے " یُقَتَّلُوْا " فرمایا گیا ہے جو کہ تقتیل سے ماخوذ ہے جو باب تفعیل سے ہے۔ اور باب تفعیل معنیٰ کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے۔ اسی لئے حضرات اہل علم اس کو شرط تقتیل کے معنیٰ میں لیتے ہیں۔ اسی کے ایک پہلو کو ظاہر کرنے کے لئے ہم نے اس کا ترجمہ ان لفظوں سے کیا ہے۔ سو ایسے لوگوں کو ایسے شر انگیز اور سبق آموز طریقوں سے قتل کیا جائے کہ یہ دوسروں کے لئے درس عبرت بن جائیں۔ اور یہی اصل اور بڑا مقصد ہوتا ہے ایسی سزاؤں کا کہ دنیا عبرت پکڑے۔
87 محاربہ کی دوسری سزا سولی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا ان کو سولی پر لٹکا دیا جائے اگر انہوں نے قتل و خونریزی کے ساتھ ساتھ مال بھی لوٹا ہو۔ سو ان کو چن چن کر قتل کیا جائے گا اور دوسروں کی زجر و توبیخ اور عبرت پذیری کے لئے ان کو سولی پر بھی لٹکایا جائے گا۔ سو یہ ان کی سزا کی دوسری صورت ہے کہ جب انہوں نے قتل اور سلب و نہب کے ان دونوں جرائم کا ارتکاب کیا تو ان کو قتل اور سولی کی دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ (معارف وغیرہ) ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ یہاں پر سولی کے لیے صلیب کی بجائے تصلیب کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جس میں شدت اور سختی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ سو اس میں سولی کے وہ سب طریقے داخل اور مطلوب ہیں جو شدت اور دردناکی کے اعتبار سے زیادہ موثر اور کار کر ہوں۔ بہرکیف اس سے محاربہ اور راہزنی کی دوسری صورت اور اس کی سزا کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔
88 مخالف سمتوں سے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی سزا : یعنی ہر ایک کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا اگر انہوں نے صرف مال لوٹا ہو۔ جمہور کے نزدیک جیسا کہ اوپر بھی گزرا اس آیت کریمہ میں محاربہ سے مراد رہزنی اور ڈکیتی ہے۔ اور اس میں اسی سے متعلق یہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک یہاں پر محاربہ سے مراد ارتداد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (معارف للکاندھلوی بہرکیف اس بارے ہدایت فرمائی گئی کہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو مخالف سمتوں سے کاٹا جائے کہ عبرت پذیری اور درد انگیزی کے لئے یہ طریقہ زیادہ موثر اور کار آمد ہے۔ اور یہ حکم اس صورت سے متعلق ہے کہ ڈاکہ زنی میں صرف مال لوٹا گیا ہو۔ کسی جان کا ضیاع نہ ہوا ہو۔ سو ایسی صورت میں ان کے ہاتھ پاؤں کو مخالف سمتوں سے کاٹا جائے گا تاکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ عبرت بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
89 چار جرائم پر چار سزاؤں کا ذکر وبیان : سو اس سے چار سنگین جرائم پر چار سنگین سزاؤں کا ترتب فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ اگر انہوں نے صرف خوف و ہراس پھیلایا ہو تو اس صورت میں ان کو جلا وطن کیا جائے گا۔ اور یہ قول جمہور کا ہے کہ ان کو جلا وطن کردیا جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نفی ۔ جلا وطنی ۔ سے مراد حبس و قید ہے۔ کیونکہ یوں ملک بدر کردینے سے وہ دوسری جگہ جا کر یا دوسروں سے مل کر اور زیادہ فتنہ و فساد پھیلائیں گے۔ بہرکیف یہ چاروں سزائیں ان کے چاروں جرائم پر مرتب اور تقسیم ہیں۔ یہ قول جمہور کا ہے جبکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ ان میں سے جو سزا چاہے ان پر جاری کرے۔ سو ان حضرات کے نزدیک یہ حرف " اَو " جو یہاں واقع ہے تخییر کے لئے ہے۔ مگر جمہور کے نزدیک یہ تنویع و توزیع کے لئے ہے۔ (معارف، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور دونوں صورتوں کا فرق واضح ہے۔ بہرکیف اصلاح احوال اور قانون و نظام کی بالادستی کے لئے حکومت وقت ان چاروں صورتوں میں سے جو بھی صورت زیادہ موثر ومفید اور کارگر سمجھے اس کو اختیار کرے۔
Ayah 5:3590 تقویٰ و پرہیزگاری کی عظمت شان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزو فلاح کی اصل اور اساس ہے۔ پس تم لوگ بچتے رہا کرو اپنے اس خالق ومالک کی ہر نافرمانی سے کہ اتقاء کا اصل معنیٰ بچنا ہی ہے۔ اور اس کی نافرمانی و ناراضگی سے بچ گئے تو ہر ظلم و فساد سے بچ گئے۔ اور اس کے نتیجے میں تم لوگ اپنے رب کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ گئے۔ سو تقویٰ اصل و اساس ہے ہر خیر اور حقیقی فوزو فلاح کی ۔ فَوَفِّقْنَا اللَّھُمَّ تَقْواکَ وَخُذُ بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّک وَرِضَاک۔ بہرکیف تقویٰ و پرہیزگاری ایک اہم مقصد اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی اصل و اساس ہے اور تقوی کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر واحکام کو صدق و اخلاص سے اپنایا جائے اور اس وحدہ لا شریک کی ناراضگی سے بچنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالی -
91 وسیلہ کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے اس خالق ومالک کا قرب ڈھونڈتے رہو۔ یعنی نیک اعمال کے ذریعے کہ جتنے تم نیکیوں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں آگے بڑھتے جاؤ گے اتنے ہی اس کے قرب اور رضائے خداوندی کے شرف سے مشرف وسرفراز ہوتے جاؤ گے۔ سو نماز و روزہ، حج و زکوٰۃ، صدقہ و خیرات، جہاد و قتال اور اقامت حدود وغیرہ جملہ عبادات و طاعات اور افعال وصفات خیر اس میں داخل ہیں کہ ان سب کے ذریعے انسان اس وحدہ لاشریک کی رضا و خوشنودی اور اسکے قرب و نزدیکی کے شرف سے مشرف ہوتا اور اس راہ میں آگے بڑھتا اور ترقی کرتا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، حسن، زید، عطائ، ثوری اور سدی، ابو وائل وغیرہ جیسے اکابر مفسرین کرام اور ثقہ اہل علم اور اصحاب فضل سے یہاں پر وسیلہ کے یہی معنیٰ مروی و منقول ہیں۔ اس لئے یہ حضرات وسیلہ کا مفہوم عام طور پر اسی طرح کے الفاظ سے بیان کرتے ۔ " ای اطلبوا ما یقربکم الیہ من طاعتہ و عبادتہ " ۔ (روح، قرطبی، مدارک، جامع البیان، محاسن التاویل اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت کا اس کلمہ کو اپنے من پسند معانی پہنانا اور اس پر آگے طرح طرح کے قیاسات کی عمارات استوار کرنا سب کچھ بےاصل اور ان لوگوں کی اپنی اختراعات کے ذیل میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ وسیلہ کے معنیٰ ہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے اس کا قرب ڈھونڈنا۔ نہ کہ کسی شخصیت کا وسیلہ پکڑنا۔ جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ چناچہ قتادہ اس کا معنیٰ اس طرح بیان کرتے ۔ " ای تقربوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یُرْضِیْہِ " ۔ (صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
92 جہادفی سبیل اللہ ذریعہ فوز و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا سکو اور اس کے ذریعے تم ان قوتوں کو زیر کرسکو جو حصول قرب و رضائے خداوندی کی اس راہ میں تمہارے لئے رکاوٹ اور سدِّ راہ بنتی ہوں، خواہ وہ نفس و شیطان کی پوشیدہ قوتیں ہوں یا دوسرے دشمنوں کی کھلی اور ظاہری قوتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جہاد سے اصل مقصود دفع شر و فساد، اِعلاء ِکلمۃ اللہ اور رضائے خداوندی کیلئے کوشش اور محنت کرنا ہے۔ تاکہ باطل قوتیں دب جائیں اور وہ راہ حق میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ سو جہاد میں ہر وہ محنت و کوشش داخل و شامل ہے جو احکام خداوندی کی تعمیل و پابندی اور دین حق کی اقامت و سربلندی کے لئے کی جائے۔ خواہ اس کا تعلق جان و مال سے ہو یا تیغ وسنان اور زبان وبیان سے۔ چناچہ سنن ابوداؤد میں حضرت امام الانبیاء ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اپنے مالوں اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ ۔ " جَاہِدُوْا الْکُفَارَ وَالْمُشْرِکِیْنَ بَامْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَ اَلْسِنَتِکُمْ " ۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے مالوں اور زبانوں سے جہاد کی اہمیت جہاد بالنفس سے بھی اس لحاظ سے بڑھ کر ہے کہ جہاد بالنفس کا موقع کبھی کبھی آتا ہے اور وہ بھی ان لوگوں کے لئے جو جسمانی طور پر اس کے اہل ہوں۔ جبکہ مال اور زبان سے جہاد کا موقع ہمیشہ اور ہر حال میں رہتا ہے ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لما یُحِبُ وَیُرِیَد وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:3693 حیات دنیا کی نعمت اور اس کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آخرت میں کافروں کے پاس دنیا بھر کی دولت بھی ہو اور اسی کے برابر اور بھی تاکہ وہ اس کو اپنے بدلے میں دے سکیں قیامت کے عذاب سے بچنے کے لیے تو وہ بھی اس دن ان سے نہیں قبول کی جائے گی کہ وہ وقت اور وہ جہاں عمل اور قبولیت کا نہیں۔ فیصلے اور بدلے کا وقت اور جہاں ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی جو آج ہمیں یہاں میسر ہے حق تعالیٰ کی بخشی ہوئی کتنی عظیم الشان نعمت ہے کہ وہاں تو اتنی ناقابل تصور دولت بھی قبول نہیں کی جائے گی، جبکہ آج یہاں اس دنیا میں جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اگر کوئی اپنے حلال مال میں سے کھجور کے ایک کے دانے کے برابر بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اپنے داہنے ہاتھ سے قبول فرماتا ہے۔ اور پھر اسے اپنے طور پر بڑھاتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے ۔ فَیَا سُبْحَان اللّٰہِ مَا اَکْرَمَکَ وَمَا اَعْظَمَ شَأْنُکُ ۔ فلک الْحَمْدُ وَلَک الشُّکُرْ حتّی تَرْضٰی ۔ ور صحیحین وغیرہ میں حضرت انس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک ایسے دوزخی سے جس کو سب سے کم درجے کا عذاب ہوگا پوچھے گا کہ اگر تجھے روئے زمین کی سب دولت مل جائے تو کیا تو اس کو اپنے عذاب کے بدلے میں دینے کو تیار ہوگا ؟ تو وہ کہے گا ہاں ضرور اے میرے مالک ! تب اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں ایک بڑی آسان اور معمولی سی چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ ۔ { اَلَّا تُشِرِکْ بِیْ شَیْئًا } ۔ کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ مگر تو نے اس کو بھی پورا نہ کیا۔ (بخاری : کتاب الرقاق و مسلم واحمد وغیرہ) ۔ پھر اس شخص کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم فرما دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ فَخُذْنَا اللّٰھُمَّ بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہ حُبُّک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ ۔ یا ذا الجلال والاکرام ویا من بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayah 5:3794 کافر کیلئے دوزخ کا دائمی عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے دائمی عذاب ہوگا کہ نہ وہ عذاب کبھی ختم ہوگا اور نہ ایسے کافروں کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ ان کو ہمیشہ اسی میں پڑے جلنا ہوگا۔ سو کافر کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ کا عذاب ہے۔ اور وہ بڑا ہی بدبخت اور برا انسان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا اور طرح طرح سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة البینۃ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اولئک ھُمْ شَر البریۃ } ۔ (البینۃ : 6) یعنی کفار خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے کھلے مشرکوں میں سے ان سب کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے جس میں ان کو ہمیشہ کیلئے رہنا ہوگا۔ اور یہی لوگ ہیں جو سب سے بری مخلوق ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جن لوگوں نے ایمان و یقین کی دولت سے محروم رہ کر کفر و باطل ہی کی راہ کو اپنائے رکھا اور متاع عمر کو اسی میں گنوا دیا وہ بڑے ہی محروم اور سیاہ بخت لوگ ہیں۔ خواہ دنیاوی اعتبار سے وہ کتنے ہی بڑے عیش و عشرت میں کیوں نہ رہے ہوں۔ پس اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ اللّٰھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہَ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالِاکْرَامِ-
Ayah 5:3895 چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ چوری کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو عبرتناک سزا کے طور پر اللہ کی طرف سے۔ یعنی تاکہ وہ عبرت بن کر دوسروں کو اس جرم سے باز رکھنے کا ذریعہ بن جائے اور معاشرہ ایسے گھناؤنے جرائم سے پاک وصاف ہوجائے۔ اور چور کی یہ سزا اس کے فعل سرقہ پر ہے نہ کہ مال سرقہ کے بدلے میں۔ اسی لیے یہ سزا مالک مال کے معاف کردینے سے بھی معاف نہیں ہوگی۔ (محاسن وغیرہ) ۔ یہاں پر { وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ } کا عطف محاربین پر ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ بیچ کی دو آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں۔ ان کے بعد اب پھر تعزیرات اور حدود کا ذکر شروع فرما دیا گیا۔ بالفاظ دیگر بیچ میں امور مصلحہ کا ذکر آگیا تھا۔ اب اس کے بعد اصل موضوع کو دوبارہ ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ اور اس میں حدِّ سرقہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 5:3996 آخرت میں معافی کیلئے سچی توبہ ضروری ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جس نے توبہ کرلی اپنے ظلم کے بعد اور اس نے اصلاح کرلی اپنے بگاڑ کی تو بیشک اللہ اس پر توجہ فرمائے گا اپنی رحمت و عنایت سے۔ یعنی آخرت کے بارے میں کہ وہاں اس کو سزا نہیں دے گا۔ رہ گئی قطع ید کی دنیاوی سزا تو وہ اس توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ پس معلوم ہوا کہ بغیر توبہ کے آخرت کی سزا معاف نہیں ہوتی۔ روایات میں ہے کہ ایک ملحد بےدین شخص نے قطع ید کی اس اسلامی سزا پر اعتراض کیا کہ اسلام نے جب ہاتھ کی دیت پانچ سو دینار رکھی تو پھر اسے پانچ درہم کی چوری میں کاٹ دینا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ تو اس وقت کے اہل حق میں سے ایک عالم دین نے اس کا جواب یہ دیا کہ جب یہ ہاتھ امانت دار تھا تو اس کی قدر و قیمت اتنی زیادہ تھی۔ اور جب یہ خیانت کا مرتکب ہوا تو اس قدر ذلیل و خوار ہوگیا کہ اتنی چوری پر اس کے کاٹنے کا حکم دے دیا گیا۔ ( اِنَّہَا لَمَّا کَانَتْ اَمِیْنَۃً کَانَتْ ثَمِیْنَۃً وَلَمَّا خَانَتْ ہَانَتْ ) (معارف وغیرہ) ۔ سو اصل قدر و قیمت دین و ایمان سے ہے کہ اسی سے انسان دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز ہوتا ہے۔ ورنہ ایمان و عقیدہ اور دولت یقین سے محروم انسان کجراہ ہے۔ بلکہ اس سے بھی برا اور " شر البریہ " ۔ بدترین مخلوق ۔ ہے جس نے دوزخ کا ایندھن بننا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 5:4097 اللہ کی بعض اہم صفات کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بیشک اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی اس ساری کائنات کی۔ وہ عذاب دے جس کو چاہے اور معاف فرمائے جس کو چاہے کہ وہ مختار کل اور حاکم مطلق ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ جو چاہے کرے۔ کسی میں یارا نہیں کہ وہ اس کو اپنے ارادئہ و فیصلہ کی تنفیذ سے روک سکے۔ مگر وہ چونکہ قادر مطلق ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم مطلق بھی ہے، اس لیے اس کا جو بھی کام ہوتا ہے وہ حکمت اور اس کے تقاضوں سے خالی نہیں ہوسکتا۔ پس انسان کیلئے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کی فکر و کوشش میں لگا رہے اور اس کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی کوشش کرتا رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس کے ہر حکم و ارشاد کو دل و جان سے اپنائے کہ اس میں خود اسی کا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -