Ayah 6:33(آیت) ” نمبر 33۔
مشرکین عرب عموما اور قریش کا وہ طبقہ خصوصا جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا اور جاہلیت میں گرفتار تھا ‘ وہ حضرت محمد ﷺ کی صداقت میں شک نہ کرتا تھا ۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ کہ آپ صادق اور امین ہیں ۔ ان کے علم میں کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ بھی نہ تھا جس میں آپ نے جھوٹ بولا ہو کیونکہ آپ رسالت سے قبل ان میں ایک طویل زمانہ رہ چکے تھے ۔ اسی طرح جو طبقات آپ کی دعوت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے انہیں اس بات میں بھی شک نہ تھا کہ آپ بالکل سچے رسول ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے اور یہ کہ انسان اس قسم کا کلام پیش نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اپنے اس علم اور یقین کے اظہار سے انکار کر رہے تھے اور اس دین جدید میں داخل ہونے سے مسلسل انکار کرتے چلے جاتے تھے ۔ وہ یہ انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرتے تھے بلکہ وہ اس لئے یہ انکار کرتے تھے کہ اس طرح ان کے اپنے اثر ورسوخ اور ان کی معاشرتی پوزیشن پر زد پڑتی تھی ۔ یہ تھی وہ اصل بات جس کی وجہ سے انہوں نے انکار اور کفر کی راہ کو اپنا لیا تھا اور اپنے باطل شرکیہ انکار پر جمے ہوئے تھے ۔
اسلامی تاریخ اور ذخیرہ احادیث میں متعدد ایسی روایات موجود ہیں جن سے قریش اور دوسرے عربوں کی اس پالیسی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔ وہ لوگ قرآن کے بارے میں اپنی حقیقی رائے کو چھپاتے تھے ۔
ابن اسحاق نے ابن شہاب زہری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابو سفیان ابن حرب ‘ ابو جہل ابن ہشام اور بنی زہرہ کے حلیف اخنس ابن شریق ابن عمر ابن وہب ثقفی ایک رات خفیہ طور پر نکلے تاکہ حضور اکرم ﷺ سے قرآن سنیں ۔ آپ رات کو اپنے گھر میں نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ہر ایک کسی خفیہ جگہ بیٹھ گیا اور تلاوت سنتا رہا ۔ ان تین افراد میں سے کوئی شخص دوسرے کے بارے میں نہ جاننا تھا ۔ یہ لوگ ساری رات قرآن کریم سنتے رہے جب صبح ہوئی تو بکھر گئے ۔ راستے میں اتفاقا ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھ لیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ دوبارہ کوئی یہ حرکت نہ کرے کیونکہ اگر ہمیں عام نادان لوگوں نے دیکھ لیا تو ان کے دل میں تم اچھا تاثر نہ چھوڑو گے ۔ اس قرار داد کے بعد یہ لوگ چلے گئے ۔ جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر ایک پھر آکر اپنی جگہ چھپ گیا ساری رات سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو یہ لوگ پھر بکھر گئے ۔ اتفاقا راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے پھر پہلی رات کی طرح ایک دوسرے کو سخت وسست کہا اور چلے گئے ۔ جب تیسری رات ہوئی تو یہ پھر اپنی اپنی جگہ آکر بیٹھ گئے اور ساری رات کلام الہی سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو پھرجانے لگے اور راستے میں انہوں نے پھر ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ انہوں نے کہا ‘ ہم ایک دوسرے کو نہ چھوڑیں گے جب تک کہ ہم پختہ عہد نہ کرلیں کہ پھر اس طرف نہ آئیں گے ۔ چناچہ انہوں نے پھر نہ آنے کا باقاعدہ معاہدہ کرلیا اور چلے گئے دوسرے دن صبح ہوتے ہیں اخنس ابن شریق نے اپنا عصا لیا اور ابو سفیان ابن حرب سے ان کے گھر آ کر ملا ۔ اس نے ابو سفیان سے کہا : بتاؤ ابو حنظلہ رات کو تم نے محمد سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا : ” ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے اس سے بعض ایسی باتیں سنیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھتا ہوں اور بعض باتیں میں نے ایسی بھی سنی ہیں کہ جن کے معنی و مراد کو میں نہیں سمجھا ہوں ۔ “ اخنس نے کہا : ” اس خدا کی قسم جس کے نام پر میں نے حلف لیا ۔ میرا بھی یہی حال ہے ۔ اب اخنس ان کے ہاں سے نکلا اور ابوجہل کے پاس آیا ‘ اس کے گھر گیا ۔ اور اسے کہا ابو الحکم ! تم بتاؤ محمد سے تم نے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابو جہل نے کہا : ” میں نے کہا سنا ؟ “ اور پھر کہا : ” ہمارا اور عبد مناف کا ہمیشہ مقابلہ رہا ۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کیا۔ ہم نے بھی لوگوں کو مقابلے میں خوب کھلایا ‘ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی سواریاں دینا شروع کردیں۔ انہوں نے عطیے دیئے تو ہم نے بھی عطایا کی بارش کردی یہاں تک کہ ہم گھوڑوں کے اوپر بیٹھ کر بھی گھٹنے سے گھٹنا ملا کر چلے اور ہم ایک دوسرے سے اس طرح آگے بڑھے جس طرح مقابلے کے دو گھوڑے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوگیا ہے اور اس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ۔ ہم ان کے مقابلے میں نبی کہاں سے لائیں گے ؟ خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ اور کبھی بھی اس کی تصدیق نہ کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں کہ اخنس اسے چھوڑ کر اٹھ گیا ۔
ابن جریر نے آیت (قد نعلم ۔۔۔۔۔ (6 : 33) الخ کے بارے میں سدی سے بواسطہ اسباط یہ روایت نقل کی ہے کہ بدر کے موقعہ پر اخنس ابن شریق نے بنی زہرہ سے کہا : اے بنی زہرہ ‘ محمد تمہارا بھانجا ہے ‘ تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے کی مدافعت کرو۔ اگر وہ فی الحقیقت نبی ہے تو تم ایک نبی کے ساتھ مقاتلہ کرنے کے گناہ سے بچ جاؤ گے ۔ اگر وہ جھوٹا ہوا تو تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے پر دست درازی نہ کرو۔ تم رک جاؤ حتی کہ اس کی مڈبھیڑ ابوجہل سے ہوجائے ۔ اگر محمد غالب ہوا تو تم صحیح و سلامت واپس ہوجاؤ گے اور اگر محمد مغلوب ہوگیا تو بھی تمہاری قوم تم سے کوئی مواخذہ نہ کرے گی ۔ چناچہ بدر کے واقعہ کے بعد اس کا نام اخنس (علیحدہ ہونے والا ‘ چھپنے والا) پڑگیا حالانکہ پہلے اس کا نام ابی تھا ۔ اس کے بعد اخنس نے ابوجہل سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات تنہائی میں ہوئی ۔ اخنس نے کہا : ” ابو الحکم ‘ مجھے محمد کے بارے میں بتاؤ کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے ؟ یہاں قریش کا میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو ہماری بات سنتا ہو ‘ ابو جہل نے کہا : ” تم برباد ہوجاؤ ‘ وہ تو سچے ہیں خدا کی قسم ۔ “ محمد نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر قصی کی اولاد لواء ‘ سقایہ اور حجابہ کے مناصب کے ساتھ ساتھ نبوت کا مرتبہ بھی لے جائے تو قریش کے باقی قبائل کے پاس کیا رہ جائے گا ۔ “ یہی مفہوم ہے اس آیت کا ” یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ “
یہاں یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ یہ سورة مکی ہے اور یہ آیت بھی بیشک مکی ہے لیکن بدر کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا ‘ لیکن جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کسی آیت میں یہ کہتے (ذلک قولہ) اور اس کے بعد کسی واقعہ کا ذکر کرتے تو مطلب یہ نہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ کی بابت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ پر یہ آیت صادق آتی ہے اور اس واقعہ پر اس سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ چاہے یہ آیت اس واقعہ سے پہلے نازل ہوئی ہو یا بعد میں نازل ہوئی ہو لہذا یہ روایت اس لحاظ سے غریب نہ ہوگی ۔
ابن اسحاق (رح) نے یزید ابن زیادہ سے روایت کی ہے ‘ انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے ۔ محمد نے کہا کہ مجھے یہ بتا گیا ہے عتبہ ابن ربیعہ سرداران قریش سے تھا ‘ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ۔ حضور اکرم ﷺ بھی مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ۔ عتبہ نے قریش سے کہا کیا یہ مناسب ہے کہ میں محمد ﷺ کے پاس جا کر ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ؟ اور جو مطالبے کرے ہم انہیں پورا کردیں اور وہ ہم پر تنقید بند کر دے ‘ شاید کہ وہ مان جائے ۔ یہ اس دور کی بات ہے جب حضرت حمزہ مسلمان ہوگئے تھے اور آپ کے ساتھی روز بروز بڑھ رہے تھے ۔ مجلس نے بالاتفاق کہا کہ تجویز بالکل درست ہے ۔ ابو الولید اٹھو اور ان سے بات کرو ۔ عتبہ اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اور بولا : ” بھتیجے ! تم جانتے ہو کہ ہم میں تمہارا بلند مقام ہے ‘ افراد قبیلہ بھی کافی ہیں اور آپ کا نسب بھی بلند مرتبت ہے لیکن تم نے اپنی قوم کو ایک عظیم مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔ قوم کا اتحاد واتفاق ختم ہوگیا ہے ‘ تم نے قوم کے افکار و عقائد کی تضحیک کی ۔ ان کے دین اور الہوں کو برا بھلا کہا اور قوم کے آباؤ اجداد جو فوت ہوگئے ہیں ان کو تم کافر اور جہنمی قرار دیتے ہو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں تم انہیں ذرا غور سے سنو ۔ ممکن ہے کہ یہ تمہارے لئے قابل قبول ہوں ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : ” ابو الولید کہو ‘ میں سنتا ہوں ۔ “ اس پر عتبہ نے کہا : ” بھتیجے ! تم نے جو تحریک برپا کر رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ تم مال و دولت جمع کرلو تو ہم تمہارے لئے اس قدرمال جمع کردیتے ہیں کہ ہم میں تم سب سے زیادہ مالدار بن جاؤ گے ۔ اگر تم لیڈر شپ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا اتنا بڑا لیڈر بنا دیتے ہیں کہ تمہارے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہ کریں گے ۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں اور اگر صورت حال یہ ہے کہ جو خیالات تم پر نازل ہوتے ہیں یہ کوئی ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں تم مجبور ہو اور تم ان خیالات کو نرک نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے لئے بڑے بڑے اطباء کا انتظام کرتے ہیں اور اس قدر خرچ کرتے ہیں کہ تم صحیح اور تندرست ہوجاؤ اس لئے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا تابع اس پر غالب آجاتا ہے اور اس کا علاج کرنا پڑتا ہے ۔ (یہ تھے تقریبا اس کے الفاظ) عتبہ نے یہ بات کی اور فارغ ہوگیا ۔ اور حضور اکرم ﷺ اس کی باتوں کو اچھی طرح سنتے رہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ابو الولید تمہاری بات ختم ہوگئی ۔ “ تو اس نے کہا ‘ ہاں ۔ حضور ﷺ نے ان سے کہا ” اب تم میری بات توجہ سے سنو ‘ تو عتبہ نے کہا فرمائیے ! آپ نے پڑھنا شروع کیا ۔
(آیت) ” حم (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عربیا لقوم یعلمون (3) بشیرا ونذیرا فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون (4) (41 : 1 تا 4)
” آپ نے سورة حم السجدہ کی یہ آیات ‘ آیت سجدہ تک تلاوت کیں اور پھر سجدہ فرمایا ۔ عتبہ خاموشی سے سنتا رہا ۔ اپنے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے زمین پر رکھے اور ان پر ٹیک لگائی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” ابولولید تم نے سن لیا ‘ یہ ہے میرا جواب ۔ “ عتبہ اٹھا اور اپنی محفل میں گیا ۔ انہوں نے جب عتبہ کو آتے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہا :” خدا کی قسم ابو الولید جو چہرہ لے کر گیا تھا اب اس کا وہ چہرہ نہیں ہے ۔ “ لیکن جب وہ ان کے پاس بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابو الولید تم کیا لے کر آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس یہ بات ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ خدا کی قسم میں نے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا ۔ خدا کی قسم نہ وہ جادو ہے ‘ نہ شعر ہے ‘ نہ کہانت ہے ۔ اے اہل قریش ! تمہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ تم میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس شخص سے تعرض نہ کرو اور اس کی راہ نہ روکو ‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ‘ خدا کی قسم میں نے اس کی جو بات سنی ہے اس کے بارے میں ایک دن تم کوئی عظیم خبر سنو گے ۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو وہ تمہارا یہ مسئلہ حل کردیں گے ۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی ۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی خوشحال قوم بن جاؤ گے ۔ “ اس پر اہل محفل نے یک زبان ہو کر کہا : ” ابو الولید خدا کی قسم اس نے اپنی باتوں سے تم اپنی باتوں سے تم پر جادو کردیا ہے ۔ “
علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں حضرت جابر ؓ کی روایت نقل فرمائی ہے کہ جب حضور ﷺ سورة حم السجدہ پڑھتے پڑھتے اس آیت تک پہنچے (آیت) ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “۔ (41 : 13) تو عتبہ نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ ایسا نہ کہیں ‘ اس کے بعد عتبہ اپنے خاندان کے پاس چلا گیا اور قریش کی طرف نہ آیا اور اس نے اپنے آپ کو بند کرلیا ۔
اس کے بعد جب عتبہ سے اس بارے میں گفتگو کی جاتی تو وہ کہتا : ” میں نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ وہ آگے نہ بڑھیں اور کیا تمہیں علم نہیں ہے جب محمد کوئی بات کہتا ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے ‘ اس لئے میں ڈر گیا تھا کہ کہیں تم پر بھی عذاب نازل نہ ہوجائے ۔
ابن اسحاق نے یہ روایت کی ہے ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ زعماء جمع ہوئے ۔ ولید ابن مغیرہ ان میں ایک معمر دانشور تھا ۔ زمانہ حج کا تھا ۔ اس نے ان زعماء سے کہا ‘ اہل قریش موسم حج آرہا ہے اور تمام عرب وفود کی شکل میں آئیں گے اور انہوں نے تمہارے ساتھی کے بارے میں سن رکھا ہے ‘ لہذا اس کے بارے میں تم ایک رائے پر متفق ہوجاؤ اور اگر تم مختلف باتیں کرو گے تو اس طرح تم خود ایک دوسرے کی تکذیب کرو گے ۔ خود تمہاری اپنی باتیں تمہاری تردید کردیں گی ۔ انہوں نے کہا ‘ ابو شمس ! تم ہی خود تجاویز دو ‘ میں سنتا ہوں۔ انہوں نے کہا : ” ہم اسے کاہن کہیں گے ۔ “ اس نے کہا : ” یہ بات بالکل غلط ہے ‘ اس لئے کہ وہ ہر گزکاہن نہیں ہے ۔ ہم نے کاہن بہت دیکھے ہیں ‘ نہ وہ کاہنوں کی طرح گاتا گنگناتا ہے ہے اور نہ سجع ملاتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ تجویز دی کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں نہ اس کا گلا گھونٹا ہوا ہے ‘ نہ اس کے دل میں وسوسے آتے ہیں ‘ نہ اس کے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں ۔ پھر انہوں نے تجویز کیا کہ اسے شاعر کہنا چاہئے تو اس نے کہا : کہ آپ ﷺ شاعر بھی نہیں ہیں ۔ ہم اشعار کو اچھی جانتے ہیں ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریضہ ‘ مقبوضہ اور مبسوطہ اس کی اقسام ہیں لہذا قرآن شعر کے زمرے میں نہیں آتا ۔ تو پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں انہیں ساحر کہنا چاہیے ۔ اس پر اس نے کہا : کہ حضور ﷺ ساحر بھی نہیں ہیں ۔ ہم نے جادوگروں اور ان کے جادوگرانہ کرتبوں کو دیکھا ہے ۔ وہ نہ پھونک جھاڑ کا کام کرتا ہے اور نہ تعویذ گنڈوں کا ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ابو شمس پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم کیا کہیں ۔ انہوں نے کہا : خدا کی قسم ‘ ان کی باتوں میں بڑی مٹھاس ہے اس کا اصل پھل دار ہے اور اس کی شاخیں بار آور ہیں اور ان باتوں میں سے جس کا بھی تم اظہار کرو گے لوگ انہیں غلط سمجھیں گے ۔ میرے خیال میں اگر اس کلام کے بارے میں کوئی معقول بات کہی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ تم محمد پر ساحر ہونے کا الزام عائد کرو کہ وہ ایسی جادو بھری باتیں کرتا ہے جن کی وجہ سے باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ بھائی اور بھائی کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے ۔ میاں اور بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور ایک شخص اپنے خاندان سے کٹ جاتا ہے ۔ چناچہ یہ لوگ یہ بات لے کر پھیل گئے اور موسم حج میں تمام راستوں پر بیٹھ گئے ‘ جو شخص بھی آتا یہ لوگ اسے ڈراتے اور خبردار کرتے اور حضور ﷺ کے کام سے لوگوں کو باخبر کرتے ۔
ابن جریر نے عبدالاعلی ‘ محمد ابن ثورہ ‘ معمر عبادہ ابن منصور کے واسطوں سے عکرمہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آئے ۔ آپ نے اسے قرآن کریم سنایا ۔ اس پر قرآن کریم کا بہت ہی اثر ہوا ۔ اس واقعہ سے جب ابو جہل ابن ہشام خبردار ہوا تو وہ ولید کے پاس آیا اور اسے کہا کہ تمہاری قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ تمہارے لئے دولت جمع کرے تو ولید نے کہا یہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ آپ کے لئے بطور چندہ وہ جمع کر رہے ہیں اس لئے کہ تم محمد ﷺ کے پاس گئے تھے اور اس کی جانب سے عطیے کے خواہاں تھے ۔ (یہ خبیث اس کی عزت نفس پر چوٹ لگانا چاہتا تھا کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو مالدار سمجھتا تھا اور اپنے مال پر فخر کرتا تھا) اس نے کہا کہ آیا قریش کو معلوم نہیں ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں ؟ تو اس پر ابو جہل نے کہا ‘ پھر آپ کے لئے مناسب ہے کہ محمد کے بارے میں کوئی ایسی بات کہیں جس سے معلوم ہو کہ تم اسے سخت ناپسند کرتے ہو اور اس کے خلاف ہو ۔ تو ولید نے کہا : کہ ” تم بتاؤ میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم تم میں کوئی ایک بھی میرے مقابلے میں اصناف شعر سے زیادہ واقف نہیں ہے ‘ نہ مجھ سے زیادہ رجزیہ اشعار کو جانتا ہے ‘ نہ قصائد کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ نہ کوئی جنات کے اشعار کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے ۔ خدا کی قسم محمد کی کوئی بات شعر کے زمرے میں نہیں آتی ۔ خدا کی قسم وہ جو بات کرتا ہے وہ بہت ہی میٹھی بات ہے ‘ اس کی ظاہری شکل نہایت ہی پالش شدہ ہے ۔ اس کے سامنے جو چیز آتی ہے وہ اسے توڑ دیتی ہے ۔ الغرض اس کی بات برتر اور بلند رہتی ہے اور اس پر کوئی بات بلندی حاصل نہیں کرسکتی ۔ ابو جہل نے کہا ‘ خدا کی قسم لوگ تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ۔ تمہیں بہرحال کچھ کہنا ہی پڑے گا ۔
اس نے کہا ” پھر مجھے سوچنے دیجئے جب اس نے اچھی طرح سوچا تو پھر کہا : ” یہ ایک جادو ہے جو پر اثر ہے اور کسی اور ذریعے سے آتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ذرنی ومن خلقت وحیدا۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا تسعۃ عشر) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قریش نے کہا کہ اگر ولید صابی بن گیا تو تمام قریش صابی بن جائیں گے ۔ ابو جہل نے کہا : ” اس کا بندوبست میں کرلوں گا ۔ فکر مت کرو “۔ اس کے بعد وہ اس سے ملا اور اس نے بڑے غور وفکر کے بعد یہ بات کہی کہ ” یہ جادو بھرا کلام ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کی اولاد اور اس کے ملازمین کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ “
ان تمام باتوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے مخالفین کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ آپ ان تک جو پیغام پہنچا رہے ہیں اس میں آپ ﷺ ان سے کوئی جھوٹ بول رہے ہیں بلکہ وہ ان روایات کے مطابق بعض دوسری وجوہات واسباب کی وجہ سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے ۔ ان اسباب میں سے سب سے بڑا سبب یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس دعوت وتحریک کے نتیجے میں ان سے ان کی موجود سیادت و قیادت چھن جائے گی ‘ جس پر وہ غاصبانہ طور پر فائز تھے ۔
حالانکہ سیادت و قیادت اور حاکمیت کا مقام خاصہ خدا تھا اور یہی مفہوم ہے ۔ (لا الہ الا اللہ) کا جو دعوت اسلامی کی اساس ہے ۔ یہ لوگ بہرحال عربی زبان اور اس کے مفہومات سے اچھی طرح واقف تھے اور وہ کلمہ شہادت کے اس مفہوم کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اس لئے کہ کلمہ شہادت تمام حاکمیتوں اور قیادتوں کے خلاف ایک انقلابی دعوت تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی زندگی سے غیر اللہ کی بندگی کا قلع قمع کردیا جائے ۔
(آیت) ” قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجْحَدُونَ (33) وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِکَ فَصَبَرُواْ عَلَی مَا کُذِّبُواْ وَأُوذُوا (34) (6 : 33 : 34)
” اے نبی ﷺ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں انہوں نے صبر کیا۔ “
یہاں الظالمون سے مراد المشرکون ہے اور قرآن کریم کے بیشتر مقامات میں الظالمون سے مراد المشرکون ہی ہوتا ہے حضور اکرم ﷺ کے طیب خاطر کے لئے بات آگے بڑھتی ہے اور وہ حقیقی اسباب بیان کردیئے جاتے ہیں جن کی بناء پر جھٹلانے والے حضور ﷺ کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔ حالانکہ آیات الہیہ کی صداقت اور سچائی بالکل بدیہی ہے ۔ پھر اس سے آگے یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے ہم منصب رسولوں کے ساتھ پوری انسانی تاریخ میں مکذبین نے یہی رویہ اختیار کیا ہے ‘ جن کے کچھ حالات قرآن نے بھی بیان کیے ہیں کہ رسولوں نے کن کن مشکل حالات میں اپنا کام جاری رکھا ۔ انہوں نے مشکلات پر صبر کیا یہاں تک کہ اللہ کی مدد آپہنچی ۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا کہ سنت الہیہ کی یہی شان ہے ۔ سنت الہیہ کبھی نہیں بدلتی اور کسی کی تجاویز اور کسی کی خواہشات کے بدلے اللہ کی سنت نہیں بدلتی ۔ نیز کسی کے جھٹلانے کی وجہ سے ‘ کسی کی تکالیف کی وجہ سے اور کسی کی ذاتی مشکلات کی وجہ سے سنت الہیہ میں کبھی فیصلے قبل بر وقت نہیں کیے جاتے ۔
Ayah 6:34(آیت) ” نمبر 34۔
خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ کو چھوڑ کر روگردانی اختیار کی ۔ لیکن انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار اللہ کی نصرت صرف اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کے مطابق آتی ہے ۔
” تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ‘ مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ‘ انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ “
یہ وہ الفاظ ہیں جو اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو کہے جارہے ہیں ۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ایک گونہ تسلی ہے ۔ ہمدردی اور تسلی کا ہاتھ آپ کے سرپر پھیرا جارہا ہے ۔ اور ان الفاظ کے اندر حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے داعیوں کے بھی نقوش راہ واضح ہیں ۔ ایک واضح راستہ دکھایا جاتا ہے ‘ ان کا کردار بھی ان کے لئے متعین کردیا جاتا ہے اور آگاہ کردیا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ سکتے ہیں اور جو مشکلات پہلے لوگوں کو پیش آئیں وہ ہر داعی حق کی راہ میں آتی ہیں ۔
یہ الفاظ داعیان حق کو بتاتے ہیں کہ دعوت حق کے لئے سنت الہیہ ایک ہی ہے اور دعوت حق بھی ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ اکثر لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور مکذبین کی روش ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے ‘ اس دعوت کے حاملین کو ہمیشہ اذیت دی جاتی رہی ہے اور اس تکذیب اور ایذا رسانی پر داعیوں کو صبر کرنا پڑتا ہے اور پھر صبر کے مرحلے کے بعد آخر کار داعیوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ لیکن نصرت اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اور اپنے وقت پر آتی ہے ۔ یہ نصرت محض اس لئے قبل از وقت نہیں آجاتی کہ کچھ پاک طینت اور بےگناہ داعیوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے ۔ یا یہ کہ گمراہ لوگ اور گمراہی کے لیڈر ان پاک طینت لوگوں کو اذیت دینے پر قادر ہیں ۔ نیز یہ امر بھی سنت الہیہ کی رفتار کو تیز نہیں کرسکتا کہ ایک مخلص ‘ ذاتی خواہشات سے پاک وصاف ‘ نہایت ہی پاک طینت کارکن اور داعی اپنے دل کے اندر شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس کی قوم راہ راست پر آجائے اور وہ اس حقیقت پر بہت ہی فکر مند اور دل گرفتہ ہے کہ اس کی قوم ضلالت میں گری ہوئی ہے اور یہ کہ اس کی قوم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ یہ تمام امور سنت الہیہ کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جلد بازی کی وجہ سے اپنے کسی کام میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ چاہے ان کلمات کا تعلق عباد صالحین کی آخری فتح سے ہو یا ان کے متعلق کسی طے شدہ تقدیر سے ہو ۔
یہ ایک فیصلہ کن دو ٹوک اور سنجیدہ فیصلہ ہے ۔ اس کا مقصد حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلانا ہے اور مشکلات راہ پر آپ کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار ہے ۔
اب یہ سنجیدہ فیصلہ اپنے اثرات کو اپنی آخری ممکن حدوں تک پہنچاتا ہے ۔ ان خدشات کی راہ بھی روک دی جاتی ہے جو ممکن تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں پیدا ہوجائیں ۔ اس لئے کہ فطری طور پر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی قوم سدھر جائے اور ایک رسول تو پوری بشریت کی ہدایت کا مشتاق ہوتا ہے ۔ وہ خواہش مند ہوتا ہے اور انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اس کی قوم اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور کب ہدایت پذیرہو جاتی ہے ؟ اس قسم کی خواہشات نزول قرآن کے وقت بعض مسلمانوں کے دل میں بھی جوش مارتی تھیں جن کی طرف اسی سورة کی دوسری آیات میں اشارت موجود ہیں ۔ اس قسم کی خواہشات انسانوں کے اندر نہایت ہی قدرتی اور فطری ہوتی ہیں ۔ لیکن اس دعوت اسلامی کے فیصلہ کن انداز ‘ اس کے حقیقی مزاج اس کے بارے میں رسولوں کے کردار اور پھر عوام الناس کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم ذار سخت لہجے میں یوں مخاطب ہوتا ہے : ۔
Ayah 6:35(آیت) ” نمبر 35 تا 36۔
نہایت ہی شاہانہ انداز کے درمیان سے خوف کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کوئی ان الفاظ کی ہولناکی اور اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ نہ رکھے کہ یہ الفاظ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور ان کیساتھ اللہ رب العالمین نے اپنے نبی کو مخاطب کیا ہے جن کی صفات میں صابر ہونا اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہونا اہم صفات ہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی صبر اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی جانب سے پہنچنے والی ایذاؤں کو برداشت کیا ۔ آپ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو بددعا نہ دی حالانکہ ایک زمانہ ان کی تیش ذنیاں سہتے رہے ۔ اور نہایت ہی صبر اور حلم کا مظاہرہ فرماتے رہے ۔
اے محمد ! یہ تو ہماری سنت ہے ۔ اگر ان لوگوں کی بےرخی اور ان کی جانب سے مسلسل تکذیب آپ برداشت نہیں کرسکتے اور آپ بہرحال انہیں کوئی معجزہ ہی دکھانا چاہتے ہیں تو پھر اگر آپ کے اندر استطاعت ہے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈلیں یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی سیڑھی لگا لیں اور اس طرح ان لوگوں کے سامنے کوئی حیران کن معجزہ پیش کردیں ۔
ان کی ہدایت ‘ حقیقت یہ ہے کہ اس لئے موقوف نہیں ہے کہ تم ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کر دو ۔ صرف یہ کمی نہیں رہ گئی کہ بس کوئی معجزہ صادر ہوا اور وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ جیسے وہ بالکل تیار بیٹھے ہوں ۔ اس طرح تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا ۔ یا تو اللہ اس طرح کرتا کہ ابتداء ہی سے انہیں اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کے سوا کوئی اور راستہ قبول ہی نہ کرتے مثلا ملائکہ اور یا یوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اپنی قدرت کے ذریعے راہ ہدایت کی طرف موڑ دیتا اور وہ ہدایت کی قبولیت کے لئے آمادہ ہوجاتے اور یا اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر کردے جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وسیلہ کے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس مخلوق مکرم حضرت انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ۔ اس آسمانی منصوبے کے مطابق اس مقصد کی خاطر اس بات کی ضرورت تھی کہ اس مخلوق کو کچھ متعین صلاحتیں دی جاتیں اور یہ صلاحتیں ان صلاحیتوں سے جدا ہوں جو فرشتوں کو دی گئی تھیں ۔ ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ انسانوں کی صلاحیتوں کے درمیان تفاوت رکھی جائے ۔ یہ کہ لوگوں کے اندر ہدایت اور ایمان کی قبولیت کی استعداد بھی مختلف ہو اور لوگوں کے اندر قبولیت حق کے مادے کی مقدار بھی مختلف ہو ۔ یہ کام اللہ کے دائرہ قدرت کے مطابق اللہ کے قانون عدل کے مطابق اور اس کے قانون جزا وسزا کے عین مطابق ہو ۔
یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جبر کے ذریعے لوگوں کو راہ ہدایت پر جمع نہیں فرمایا ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہدایت کی راہ لیں اور ماننے نہ ماننے کا اختیار انہیں دے دیا اور آخرت میں اس پر عادلانہ جزاء وسزا کا اجراء فرمایا ۔ اس حقیقت کو جاننا چاہئے اور اس سے غافل نہ ہونا چاہئے ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ “
شوکت کلام دیکھنے کے قابل ہے اور فیصلہ ہدایت بھی قابیل دید ہے ‘ لیکن بات کا موقع ومحل ہی ایسا تھا جس کے اندر اس زور دار بات اور دو ٹوک ہدایت کی ضرورت تھی ۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو کس مزاج اور کس فطرت پر پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ ہدایت کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں حالانکہ دعوت حق کے پاس ثبوت دلیل کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
Ayah 6:36(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) عوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) واپس لائے جائیں گے ۔ “
جب کوئی رسول دعوت حق لے کر لوگوں کے پاس آتا ہے تو اس دعوت کے مقابلے میں لوگ دو گروہ بن جاتے ہیں ۔ ایک فریق تو زندہ اور بیدار لوگوں کا ہوتا ہے ‘ جن کے اندر قبولیت حق کی استعداد ہوتی ہے ‘ یہ استعداد کام کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے دل کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ ہدایت اور سچائی کے اندر ذاتی قوت ‘ نکھار اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے اور ایسے لوگ اسے پاتے ہی قبول کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “۔ (6 : 36) ” یعنی جن لوگوں کی قوت شنوائی کام کر رہی ہوتی ہے وہ حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرافریق وہ ہوتا ہے جو دراصل مردہ ہوتا ہے ۔ اس کی فطرت معطل ہوجاتی ہے ۔ وہ نہ سنتا ہے اور نہ قبول کرتا ہے ۔ وہ نہ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی لبیک کہتا ہے ۔ یہ بات نہیں ہوتی کہ اس سچائی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہوتی سچائی تو خود دلیل ہوتی ہے ‘ آفتاب آمد ولیل آفتاب ‘ اور جب بصیرت رکھنے والی فطرت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر سچائی دیکھ لیتی ہے ۔ فورا وہ آخری فیصلہ کرکے تسلیم کرلیتی ہے ۔ دوسری قسم کے لوگوں کے اندر جو کمی ہوتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ان کی فطرت مر چکی ہوتی ہے اور ان کی استعداد قبولیت حق جاتی رہتی ہے لہذا ان کے اندر محض دعوت سنتے ہی قبولیت حق کی استعداد پیدا نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج خود رسول وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ ان پر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی ۔ ان کا معاملہ اللہ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ اگر اللہ چاہے تو ایسے لوگوں کو زندہ کردیتا ہے اور اگر نہ چاہے تو یہ لوگ زندہ ہوں یا مردہ قیامت تک مردہ رہیں گے ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا ۔
(آیت) ” والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون “ (6 : 36) ” مردوں کو تو اللہ قبروں ہی سے اٹھائے گا اور وہ اس کی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ یہ ہے کہانی قبولیت حق اور محرومیت کی ۔ اس سے ہدایت وضلالت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ رسول کے فرائض متعین ہوجاتے ہیں اور تمام امور کا آخری فیصلہ اللہ کے سپرد ہوتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ پر اس حقیقت کو آشکارا کرنے کے بعد ‘ اب روئے سخن اہل کفار اور مشرکین کے اس غلط مطالبے کی طرف پھرجاتا ہے جس میں وہ خوارق ومعجزات کے مطابلے کرتے تھے ۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ لوگ اس معاملے میں سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے تو اس کے بعد نہ ماننے والوں بلکہ ماننے والوں کو بھی ایک عظیم بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ جو ان لوگوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ان پر رحم کرکے انہیں اس عظیم تباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔ اس موقعہ پر تمام زندہ مخلوقات کے بارے میں اللہ کی حکیمانہ تدابیر کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ سنت تمام زندہ مخلوقات تک وسعت پزیر ہے ۔ یہاں وہ حکمت بتائی جاتی ہے جو ہدایت وضلالت کے فیصلوں کے پیچھے کام کرتی ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیت کام کرتی ہے ۔