6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا رب کوئی خدا ‘ اس کے سوا نہیں ہے ‘ ہر چیز کا خالق ‘ لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے ۔

(آیت) ” نمبر 02 ا۔ جب یہ بات تسلیم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی خالق ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہی بادشاہ اور مالک ہے ۔ اور جب اللہ ہی خالق اور مالک ہے تو لازما وہی رازق ہے اس لئے کہ جب وہ خالق ہے اور مالک ہے تو رزق اسی کی ذمہ داری ہے اور یہ رزق وہ اپنی مملکت سے دیتا ہے جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ اللہ کی مملکت میں جو کچھ بھی ہے یا جس چیز سے بھی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تمام چیز میں اللہ کی مملوکہ ہیں اور جب تخلیق ‘ ملکیت اور رزق اللہ کا ہے تو یہ بات حتما ثابت ہوجاتی ہے کہ رب بھی وہی ہے ۔ لہذا یہ ہر انسان کا فرض ہوگا کہ وہ خصائص ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ ربوبیت کی اہم خصوصیات یہ ہیں ‘ مختار ومنتظم ہونا ‘ ہدایت دینا ‘ بادشاہ ہونا اور ایسی پوزیشن میں ہونا کہ اس کی اطاعت کی جائے اور وہ ایک ایسا نظام اور دین دے جس پر لوگ اجتماعی طور پر عمل کریں ۔ (دیکھئے المصطلحات الاربعہ فی القرآن مولانا ومودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان ‘ مباحث الوہیت ‘ ربوبیت اور عبادت) لہذا ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اطاعت اس کی ہوگی جن میں سے اہم خضوع اور سرتسلیم خم کرنا ہے ۔ عرب لوگ اپنے دور جاہلیت میں اس بات کے منکر نہ تھے کہ اللہ اس کائنات کا خالق ہے ۔ وہ لوگوں کا خالق اور رازق ہے اور تمام لوگوں کو اللہ کی ملکیت سے تمام ضروریات زندگی فراہم ہو رہی ہے ۔ اس کی ملکیت میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے ۔ عربوں کے علاوہ تمام دوسری جاہلیتیں بھی ان حقائق کا انکار نہ کرتی تھیں (ماسوائے یونانی فلاسفہ کیا کی ایک قلیل تعداد کے) اور اس زمانے میں ہمارے دورجدید کے مادی مذاہب نہ تھے جن کی تشہیر وتشریح یونانی دور کے مقابلے میں زیادہ وسیع طور پر ہو رہی ہے ۔ لہذا سلام کے آغاز کے دور میں اللہ کے ساتھ جن الہوں کو شریک کیا جاتا تھا ان کی عبادت اس لئے کی جاتی تھی کہ یہ الہ الہ حقیقی کے قرب کا سبب اور ذریعہ ہیں ۔ یہ ایک انحراف تھا اور دوسرا انحراف یہ تھا کہ لوگوں کی زندگیوں پر اسلامی نظام حیات کی حکمرانی نہ تھی ۔ اور نہ اس دور میں تحریک اسلامی کو ایسے لوگوں سے سابقہ تھا جو ہمارے دور میں پائے جاتے ہیں جو سرے سے وجود باری کے منکر ہیں اور یہ انکار وہ بغیر علم بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ وجود باری کے منکر ہیں یا انکار خدا پر اصرار کرتے ہیں وہ بہت ہی تھوڑے ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ ایک حقیر اقلیت ہی میں رہیں گے ۔ حقیقی گمراہی یہ تھی جس طرح آج ہے کہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور سے نظام زندگی اخذ کرتے تھے اور یہی وہ روایاتی شرک تھا جس پر جاہلیت عربیہ قائم تھی اور تمام دوسری جاہلیتیں قائم رہی ہیں۔ اب جو حقیر اقلیت انکار خدا پر مصر ہے کیا اس کے پاس کوئی علمی دلیل ہے ؟ کیا اس کا انکار سائنس پر مبنی ہے ؟ اگرچہ اس کا دعوی تو ہے لیکن سائنس ان کے اس عقیدے کی تصدیق نہیں کرتی ہے ؟ نہ کوئی سائنسی دلیل ہے اور نہ اس کائنات کی طبیعیات میں اس بات پر کوئی دلیل ہے ۔ یہ دراصل وہ انحراف اور بغاوت ہے جو لوگوں نے اہل کلیسا اور ان کے خداؤں کے خلاف اختیار کی ۔ کلیسا کے خدا اس بات پر مصر تھے کہ لوگ کلیسا کے پاس غلام ہوں حالانکہ اصول دین میں سے کوئی اصل ایسا نہ تھا کہ لوگوں کو غلام رکھا جائے ۔ پھر ان مذہبی پیشواؤں کی شخصیت کی فطری نشوونما بھی غلط تھی ۔ وہ انسان کے انسانی وظائف کو معطل کر رہے تھے مثلا وہ لوگ جنہیں بتییسمہ دے دیا جاتا تھا ۔ (دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی باب الوہیت اور بندگی) یہ حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں تخلیق کائنات اور تقدیر نظام کائنات کا ذکر اس لئے نہیں کیا جاتا کہ ان امور سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وجود پر دلائل قائم کیے جائیں ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکرین کا موقف اس قدر بودا تھا کہ قرآن کریم جیسی سنجیدہ کتاب میں اس پر بحث مناسب ہی نہ تھی ۔ خلق اور تقدیر کے حقائق تو قرآن مجید میں اس لئے لائے گئے ہیں کہ لوگ راہ راست پر آجائیں ‘ وہ اپنے عقائد و اعمال میں اللہ کی الوہیت ‘ اس کی حاکمیت اور اس کی مکمل بندگی کو نافذ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ یہی صورت حال حقیقت حیات کی ہے ۔ لیکن سائنسی اعتبار سے تخلیق اور دنیا کو ایک نہایت ہی حکیمانہ اندازے کے مطابق پیدا کرنا ‘ اور اس کائنات کے اندر زندگی کی مختلف شکلوں کو پیدا کرنا ‘ ایسے حقائق ہیں جو ان لوگوں کے دلائل کے قلع قمع کرنے کے لئے نہایت ہی کافی وشافی ہیں ۔ جو لوگ ذات باری کے وجود کے بارے میں کج بحثی کرتے ہیں وہ ان حقائق کے ہوتے ہوئے وجود باری کے خلاف کوئی قوی دلیل نہیں لاسکتے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ ہٹ دھرمی کریں اور اپنے آپ کو شرمندہ کریں۔ جو لیان ہاکسلے نے دو کتابیں لکھی ہیں ” انسان اکیلا کھڑا ہے “ اور ” انسان جدید دنیا میں “ یہ شخص ایسے ہی لوگوں میں سے ہے جو اس سلسلے میں نہایت ہی دریدہ دینی سے کام لیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں ۔ یہ شخص ایسی باتیں کرتا ہے جو صرف اس کے دل کی خواہشات ہیں اور ان باتوں پر کوئی علمی اور سائنسی دلیل اس کے پاس نہیں ہے ۔ یہ اپنی کتاب ” انسان جدید دنیا میں “۔ یہ شخص ایسے ہی لوگوں میں سے ہے جو اس سلسلے میں نہایت ہی دریدہ دینی سے کام لیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں ۔ یہ شخص ایسی باتیں کرتا ہے جو صرف اس کے دل کی خواہشات ہیں اور ان باتوں پر کوئی علمی اور سائنسی دلیل اس کے پاس نہیں ہے ۔ یہ اپنی کتاب ” انسان جدید دنیا میں “ میں دین کے موضوع پر یہ کلام کرتا ہے : ” ہمیں سائنس کی ترقی ‘ منطق کی ترقی اور علم النفس کی ترقی نے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ ایسے حالات میں اب اس کائنات کے کسی خدا کو فرض کرنے کا فائدہ نہیں ہے ۔ طبیعی علوم نے ہماری عقل سے خدا کو نکال دیا ہے ۔ چناچہ اب وہ اس کائنات کا حاکم اور مدبر نہیں رہا ہے ۔ اب یہ خدا اگر ہے تو وہ پہلا سبب (cAuse) ہے اور ایک مجمل یا ناقابل فہم بنیاد ہے “۔ دل ڈیورانٹ اپنی کتاب ” مناہج فلاسفہ “ میں لکھتے ہیں : ” فلسفہ بھی خدا کی ذات سے بحث کرتا ہے لیکن فلسفے کا خدا لاہوتی خدا نہیں ہے جسے وہ لوگ عالم طبیعی سے خارج وجود سمجھتے ہیں بلکہ بلاسفہ کا الہ ” قانون عالم ‘ اس کا ہیکل ‘ اس کی زندگی اور اس کی مشیت ہے “ ۔ ہمارے قارئین ایسی باتیں برداشت نہیں کرسکتے لیکن بہر حال یہ باتیں کہی گئی ہیں ۔ ہم اپنے مسائل کا فیصلہ نہ قرآن سے کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی عقل سے ان کے ان غلط اقوال پر کوئی فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ ہماری عقل بھی قرآن ہدایت سے فیض یاب ہے ۔ ہم ان لوگوں کا فیصلہ انہی جیسے سائنس دانوں کی عدالت میں پیش کردیتے ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا ہے ۔ جان کلیفلانڈ کو تران ‘ مشہور ریاضی دان اور ماہر طبیعیات ہیں۔ انہوں نے جامعہ کو رنل سے ڈاکٹریت کی ڈگری لی اور ایک دوسری یونیورسٹی میں طبیعیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔ یہ شخص اپنے ایک مقالے میں جو ” حتمی نتیجہ “ کے عنوان سے کتاب ” اللہ سائنس کے دور میں روز روشن کی طرح ہیں “ میں شائع ہوا ‘ لکھتے ہیں : ” کیا کوئی سمجھ دار آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ مادہ جو عقل اور حکمت سے عاری ہے ‘ وہ خود اپنے آپ کو پیدا کرسکتا ہے اور یہ بھی محض اتفاق سے ۔ کون عقلمند ہے جو ایسا عقیدہ رکھ سکتا ہے یا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس بےجان اور بےعقل مادے نے یہ پورانظام اور یہ قوانین طبیعی ایجاد کئے اور پھر یہ قوانین اس نے اپنے اوپر لاگو کرلیے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر معقول انسان اس سوال کا جواب نفی میں دے گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب مادہ قوت میں بدلتا ہے یا قوت مادے میں بدلتی ہے تو یہ عمل بھی متعین قوانین کے تحت ہوتا ہے وہ مادہ جو یہ نتائج پیدا کرتا ہے وہ بھی ان قوانین طبیعی کا پابند ہے جن کا وہ مادہ پابند ہے وج اس سے پہلے تھا “۔ ” کیمیائی تجربے بتاتے ہیں کہ مادے میں سے بعض چیزیں زوال اور فنا کی طرف جارہی ہیں ۔ ان میں سے بعض فنا کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔ بعض دوسری ایسی ہیں تو سست رفتاری سے فنا کی طرف جارہی ہیں ۔ اس کے باوجود یہ بات مسلمہ ہے کہ مادہ ابدی نہیں ہے اور جب وہ ابدی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ازلی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ایک دن ایسا تھا جس میں مادے کی ابتدا ہوئی ۔ کیمیائی شواہد اور دوسرے سائنسی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مادے کا آغاز اس طرح نہیں ہوا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ پیدا ہوا ہو یا وہ تدریج کے ساتھ آگے بڑھا ہو بلکہ دلائل یہ بتاتے ہیں کہ مادہ اچانک نمودار ہوا ہے ۔ آج سائنس نے وہ وقت بھی متعین کردیا ہے جس میں مادہ وجود میں آیا ۔ ان حقائق سے معلوم ہوگیا کہ یہ جہان مخلوق ہے اور جب سے یہ پیدا ہوا ہے وہ متعین قوانین قدرت کا پابند ہے ۔ لہذا اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ گنجائش ہے کہ یہاں معاملات اتفاقات سے طے ہوتے ہیں ۔ “ ” جب یہ مادی دنیا ‘ اس بات کی اہل نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود پیدا کرسکے ‘ یا وہ قوانین اور ضابطے متعین کرسکے جس کے تحت دنیا کو چلنا ہے تو یہ بات متعین ہوگئی اور ثابت ہوگئی کہ یہ مادی مخلوقات کسی غیر مادی ذات کی پیدا کردہ ہے ۔ تمام قرائن اور شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس ذات خالق کو عقل و حکمت کا حامل ہونا چاہئے ۔ عقل عالم مادی میں کوئی کام بغیر اس کے اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے ساتھ ارادہ نہ ہو ۔ مثلا طب اور نفسیاتی علاج کا نظام اس بات کو ثابت کرتا ہے اور جو ذات صاحب ارادہ ہوگی وہ لازما اپنا ذاتی وجود رکھتی ہوگی لہذا خود ہماری عقل جو حتمی اور لازمی نتیجہ نکالتی ہے وہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس عالم کا ایک خالق ہے بلکہ وہ خالق علیم و حکیم بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ۔ وہ اس عالم کی تخلیق کی بھی قدرت رکھتا ہے اور اس کا انتظام اور تدبیر بھی کرتا ہے ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق علیم و حکیم بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ۔ وہ اس عالم کی تخلیق کی بھی قدرت رکھتا ہے اور اس کا انتظام اور تدبیر بھی کرتا ہے ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق دائم الوجود ہو ۔ اس کی آیات و علامات ہر جگہ پائی جاتی ہوں لہذا کوئی معقول شخص اس عالم کے مسئلہ کو اس وقت تک حل نہیں کرسکتا جب تک وہ وجود باری تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘ جو اس عالم کا خالق ہو اور اس کی طرف متوجہ ہو جس طرح ہم نے اس مقالے کے آغاز میں کہا “۔ لارڈ کلیفن کے زمانے کے بعد سائنسی علوم نے جس قدر ترقی کی ہے ‘ اس کے بعد ہمارے لئے یہ دلیل بےمثال انداز میں مؤکد ہوگئی ہے ۔ اس سے پہلے اس قسم کا کوئی تاکیدی استدلال نہ تھا کہ جس قدر بھی ہم گہرے غور وفکر سے کام لیں تو بہت جلد سائنس ہمیں مجبور کردے گی کہ ہم خدا پر ایمان لائیں۔ ایک دوسرے ماہر علوم جدید اور بیالوجی کے ماہر فرانک ایلن ایک مقالے میں جس کا عنوان یہ ہے ‘ تخلیق کائنات اتفاق ہے یا بالارادہ ہے “ اور یہ مقالہ بھی مذکورہ بالاکتاب میں ہے ۔ لکھتے ہیں : ” اکثر اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مادی کائنات کسی بھی خالق کی محتاج نہیں ہے ۔ لیکن اگر ہم تسلیم کریں کہ یہ جہان موجود ہے تو سوال یہ ہوگا کہ یہ کس طرح موجود ہوا ۔ اس سوال کے صرف چار جواب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ محض وہم اور خیال ہے ‘ تو یہ احتمال اس لئے غلط ہوگا کہ ہم نے اس کا وجود تسلیم کرکے گفتگو شروع کی ہے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ کائنات از خود وجود میں آئی ہے اور پھر تیسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ازلی ہو اور اس کا کوئی آغاز نہ ہو اور چوتھا یہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہو ۔ جہاں تک پہلے احتمال کا تعلق ہے تو اسے تسلیم کرنے میں اور کوئی مشکل نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ ہمارا شعور واحساس اس احتمال کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا کہ یہ عالم محض وہم ہے اور اس میں حقیقت کا کوئی شائبہ نہیں ہے ۔ ماضی قریب میں یہ رائے سرجیمس جینز نے اختیار کی ۔ انہوں نے طبیعیات میں اس رائے کا اظہار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس جہان کا کوئی عملی وجود نہیں ہے بلکہ ہمارے ذہن کے اندر یہ محض ایک تصویر ہے ۔ اس رائے کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم محض ادہام کی دنیا میں رہتے ہیں ۔ مثلا یہ ریل گاڑی جس میں ہم سوار ہو کر جاتے ہیں اور جسے ہم چھوتے ہیں یہ محض وہم ہے ۔ ان گاڑیوں میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ بھی محض ادہام ہیں اور یہ ریلیں جن صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کرتی چلی جارہی ہیں ان کا بھی کوئی وجود نہیں ہے ۔ وہ جن پلوں کے اوپر سے گزرتی ہیں وہ بھی محض وہم ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس رائے اور نظریے سے بڑھ کر اور کوئی وہمی بات نہ ہوگی۔ رہی دوسری رائے کہ یہ جہان اور یہ پوری مادی دنیا خودبخود وجود میں آگئی تو یہ بات اور احتمال سابقہ احتمال سے بھی زیادہ بودا ہے ‘ زیادہ احمقانہ ہے اور اس کے بارے میں بھی بحث وجدال کرنا یا اس پر سوچنا تک حماقت ہے ۔ تیسری رائے یہ کہ یہ جہان ازلی ابدی ہے اور اس کا کوئی آغاز نہیں ہے ۔ تو یہ رائے چوتھی رائے کے ساتھ ازلیت میں مشترک ہے کیونکہ وہاں الہ ازلی ہے یہاں مادہ ازلی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم صفت ازلیت کو کسی مردہ جہان کی طرف راجع کرتے ہیں یا ہم صفت ازلیت کو کسی زندہ حی وقیوم اور خالق کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں احتمالات کو مان لینے میں اس قدر شبہات ومشکلات نہیں ہیں جس قدر پہلے دو احتمالات کو قبول کرنے میں ہیں ۔ لیکن ڈائنامک حرارت کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ اس جہان کی ضرورت تدریجا ختم ہو رہی ہے اور آخر جا کر اس نے ختم ہونا ہے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ دنیا کا درجہ حرارت نہایت کم ہوجائے گا مثلا مطلق صفر تک ۔ اس دن قوت ختم ہوجائے گی ‘ زندگی محال ہوجائے گی ۔ ایسا ایک دن ضرور آئے گا جب تمام اجسام کا درجہ حرارت صفر مطلق تک پہنچ جائے گا ۔ یہ حالت طویل زمانے کے بعد ہوگی ۔ جلنے والا سورج ‘ بھڑکتے ہوئے ستارے اور یہ زمین اپنی زندگی کے مختلف انواع کے ساتھ یہ بتا رہی ہے کہ اس کا آغاز ایک وقت سے ہوا ‘ اور اس متعین وقت میں یہ وجود میں آئی ۔ لہذا اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس جہان کا ایک خالق ہے جو ازلی اور ابدی ہے ‘ اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور نہ خاتمہ ہے ‘ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ‘ وہ نہایت ہی قوی اور اس کی قوت کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ لہذا حقیقی بات یہی ہے کہ اس کے دست قدرت نے اس جہان کو بنایا ہے ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے یہاں قرآن کریم تخلیق کی اساس پر یہ اصول قائم کرتا ہے کہ چونکہ وہ خالق ہے لہذا یہ امر واجب ہے کہ صرف اسی کی بندگی کی جائے اور صرف وہی رب ہے ‘ اپنے تمام مفاہیم اور معانی کے ساتھ یعنی حاکم بھی وہی ہے ۔ مربی اور تربیت کنندہ بھیوہی ہے ‘ ہادی ورہبر بھی وہی ہے اور قیوم بھی وہی ہے ۔ (آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ فَاعْبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْلٌ(102) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب کوئی خدا ‘ اس کے سوا نہیں ہے ‘ ہر چیز کا خالق ‘ لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے ۔ “ اللہ قیوم اور نگران ہے ‘ صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ تمام کائنات کا قیوم اور منتظم اعلی ہے اس لئے کہ وہ سب کا خالق ہے ۔ اس اصول تخلیق کے یہاں ذکر کا مقصد ہی یہ ہے اور اس بات کا انکار مشرکین مکہ دور جاہلیت میں بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ خالق ہے ‘ لیکن وہ لوگ خالق کائنات کی تخلیق کا حق نہ ادا کرتے تھے ۔ یعنی اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے تجویز کردہ نظام حیات کو اپنی پوری زندگی میں اپنانا ۔ یہ صاحب نہایت یقین سے یہ باتیں کرتے ہیں لیکن خود انسانی علم بھی اسے تسلیم نہیں کرتا ۔ پھر حرارت کے ڈائنامک قوانین بھی حتمی نہیں ۔ البتہ تشریح کائنات کے دوسرے نظریات میں سے یہ بھی ایک نظریہ ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں ترمیم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نظریہ سرے سے اڑ جائے ۔ ہماری عادت یہ نہیں ہے کہ ہم سائنس کے اصولوں سے اسلام کی صحت پر استدلال کریں ۔ نہ ہم سائنس کو اسلام کا تصدیق کنندہ سمجھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کے اصولوں سے اسلام کی صحت پر استدلال کریں نہ ہم سائنس کو اسلام کا تصدیق کنندہ سمجھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کے لئے یہ سائنسی شواہد پیش کرتے ہیں جو صرف سائنس کو الہ سمجھتے ہیں ۔ گویا یہ اقوال ان خداؤں کے ہیں جن پر جو لیان ہاکسلے یقین رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ کی صفات کی یہاں ایک تعبیر پیش کی جاتی ہے ۔ یہ ایک ایسی تعبیر ہے جو موضوع کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتی ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی انسانی زبان اللہ کی ایسی توصیف کرسکتی ہے ۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کو اسی طرح بلاتشریح دیکھیں کہ وہ نہایت صاف و شفاف انداز میں ذات باری کے بارے میں روشنی ڈالے اور اس مشہد کی تصویر کشی کرے جس کے اندر ایک نہایت ہی عظیم اور ہولناک حقیقت پوشیدہ ہے تاکہ صفات باری کے معاملے میں انسان کو پوری تشفی ہو اور اس کا ضمیر روشن ہو۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔

(آیت) ” نمبر 103۔ وہ لوگ جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ اللہ کو دیکھ لیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں جس طرح بعض دوسرے لوگ اپنی قبیح فطرت کی وجہ سے وجود باری پر مادی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ درحقیقت سمجھتے ہی نہیں کہ وہ کہتے کیا ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی نظر ‘ انسان کے حواس ‘ اور انسان کا ذہنی ادراک یہ سب قوتیں اسے صرف اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ اس کائنات کے ساتھ تعلق کی نسبت سے اپنے معاملات طے کرسکے اور اس کرہ ارض پر منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اس مخلوق کائنات کے صفحات میں وجود باری پر دلالت کرنے والے آثار کی تلاش کرسکے ۔ رہی ذات باری کی حقیقت تو وہ اس طاقت ہی سے محروم ہیں جس کے ذریعے وہ اس کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکے۔ پھر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس کرہ ارض پر انسان کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کی ادائیگی کے لئے اس کے لئے رویت باری کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ جہاں تک یہاں انسانی فرائض کا تعلق ہے ان کی ادائیگی کے لئے انسان کو مناسب طاقت دی گئی ہے ۔ انسان کے لئے یہ تو ممکن ہے کہ وہ سابقہ لوگوں کی سادگی کو سمجھ لے مگر وہ آخری دور میں آنے والوں کی قبیح فطرت کو سمجھنے میں غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے ‘ یہ لوگ ایٹم اور برق کی بات کرتے ہیں ۔ پروٹون اور نیوٹرون کی بات کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے اپنی زندگی کے اندر ایٹم ‘ کوئی برق ‘ کوئی نیوٹرون اور کوئی پروٹون نہ دیکھا ‘ اس لئے کہ زندگی کی ماہیت کو دیکھنے کی دوربین ابھی تک وجود میں نہیں آسکی ۔ ان سائنس دانوں کے نزدیک یہ امور بہرحال مسلم ہیں اور وہ انکے وجود کو فرض کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے ان چیزوں کے کچھ آثار متعین کر لئے ہیں ۔ جب وہ آثار پائے جاتے ہیں تو ان لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ موجود ہیں اور کائنات بھی موجود ہے حالانکہ یہ صرف احتمال ہے کہ جس طرح انہوں نے فرض کیا ہے کائنات اسی طرح ہو ۔ تاہم جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے اس لئے کہ اس کے آثار موجود ہیں اور یہ آثار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ موجود ہے تو پھر یہ لوگ وجود باری کے بارے میں جدل وجدال اور مناقشہ شروع کردیتے ہیں بغیر علم ‘ بغیر ہدایت ‘ بغیر ادراک اور بغیر کسی کتاب منیر کے ۔ اس کے برعکس اللہ کے وجود کے لئے وہ ایسی دلیل طلب کرتے ہیں کہ آنکھیں اللہ کو دیکھ سکیں ۔ اس کرہ ارض پر زندگی کے عجائب گویا ان کے لئے کافی نہیں ہیں حالانکہ وہ وجود باری پر کافی ثبوت ہیں۔ دلائل تکوینی جو اس کائنات کی کھلی کتاب کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں اور انسانی نفوس کے اندر بھی موجود ہیں ان کے بیان کے بعد اور یہ کہنے کے بعد کہ ۔ (آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103) ” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘ اب اس خوبصورت انداز میں صفات الہی کے بیان کے بعد بات یوں آگے بڑھتی ہے ۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

دیکھو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ‘ اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا اور میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں

(آیت) ” نمبر 104۔ یہ جو کچھ اللہ کی طرف سے آ رہا ہے بصیرت کی روشنی ہے ۔ بصیرت انسان کو ہدایت دیتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے ۔ یہ بذات خود عین روشنی ہے ۔ اس لئے جو شخص اسے دیکھے گا وہ روشن دیکھے گا اور اگر کوئی آنکھیں بند کرے گا تو وہ اندھا ہوگا ۔ ان بصیرتوں اور روشنیوں کے آجانے کے بعد صرف اندھا ہی محروم رہ سکتا ہے ۔ وہ جس کے حواس کام نہ کررہے ہوں اور جس کے شعور کا دراوزہ بند ہو جس کا ضمیر اندھا ہو۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنی برات کا اعلان یوں کردیں کہ میں تم پر نگہبان اور پاسبان مقرر نہیں کیا گیا ہوں۔ (آیت) ” ما انا علیم بحفیظ “۔ (6 : 104) ” میں تمہارے لئے پاسبان مقرر نہی ہوا ہوں “۔ یہاں عبار میں ایک عجیب تناسق ہے ۔ اللہ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103) ” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘ (آیت) ” قَدْ جَاء کُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّکُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْْہَا “۔ (6 : 104) ” دیکھو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ‘ اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا ۔ “ ایک جگہ ابصار اور مقابل میں بصائر ہے ۔ ایک جگہ بصیر ہے اور مقابلے میں عمی ہے ‘ یہ عربی اسلوب میں الفاظ کا بہترین انتخاب ہے۔ اس کے بعد روئے سخن حضرت نبی کریم ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کے اندر جو اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے وہ ایسا نہیں ہے جو کسی امی شخص کی طرف سے بنایا جاسکتا ہو اور جس سے مالکان بصیرت خود بخود یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ یقینا کلام الہی ہے ۔ لیکن مشرکین انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ ان کے سامنے تشفی بخش دلائل نہ تھے ۔ بلکہ وہ بہانہ سازی کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ یہ عظیم علمی کام اور فصیح وبلیغ کلام بعض اہل کتاب سے سیکھ کر بتا رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت جو اہل کتاب تھے ان کے پاس نہ یہ پیغام تھا اور نہ یہ اعلی کلام ۔ چناچہ حضور ﷺ کو ہدایت کردی جاتی ہے کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتین چلے جائیں۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں ” تم کسی سے پڑھ کر آئے ہو “ اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں۔

(آیت) ” نمبر 105 تا 107۔ اللہ اپنی آیات اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے اندر نہ یہ اسلوب تھا اور نہ وہ اس پر قادر تھے کیونکہ یہ ان کے معاشرے سے ماخوذ نہ تھا ۔ یہ پیغام اور یہ کلام پوری انسانیت کے پاس بھی اس وقت نہ تھا ‘ اس لئے اس کلام کے دو نتائج برآمد ہوئے ۔ ” جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہ تھے ‘ جن کو اس پیغام اور علم سے دلچسپی ہی نہ تھی وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی ہی نہ کرتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ جس بلند مقام سے ان سے ہمکلام ہوتے تھے اسے وہ اس انکار اور عدم دلچسپی کا جواز بنا کر پیش کرتے تھے اس لئے کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ خوب جانتے تھے ‘ یہ بات ان کے بھی سامنے تھی کہ محمد جو اونچا کلام پیش کرتے تھے وہ ان کا ذاتی نہ تھا ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ یہ بہانہ بناوٹی ہے کیونکہ وہ حضور ﷺ سے خوب واقف تھے ۔ رسالت سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ اسی لئے انہوں نے یہ کہا کہ اے محمد تو نے یہ کلام اہل کتاب سے سیکھا ہے ۔ حالانکہ خود اہل کتاب کے ہاں نہ یہ پیغام تھا اور نہ ایسا اسلوب کلام تھا ۔ اہل کتب کی کتابیں تو وہ پڑھتے تھے اور ان کے پاس موجود تھیں اور اب بھی وہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ ان کتابوں کے پیغام اور کلام میں اور قرآن کے پیغام و کلام میں کوسوں اور میلوں فاصلے ہیں ۔ ان کے ہاں جو کلام ہے وہ تو تاریخ انبیاء کی بےترتیب تاریخی روایات ہیں۔ سابقہ بادشاہوں کی تاریخ اور قصے کہانیاں ہیں اور ان کو نامعلوم افراد نے تصنیف کیا ہے ۔ یہ تو عہد قدیم کی بات ہے ۔ رہیں عہد جدید کی کتب یعنی اناجیل تو ان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے شاگردوں کی روایات کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر یہ بھی آپ کے جانے کے کئی سال بعد جمع کی گئی کتابیں ہیں ۔ بعد میں عیسائیوں کی مختلف کانفرنسوں نے ان میں کئی تبدیلیاں کیں اور سالہا سال تک یہ تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ یہاں تک کہ اخلاق تعلیمات اور روحانی ہدایات بھی اس تحریف اور تعدیل سے نہ بچ سکیں ۔ یہ چیزیں تھیں اس وقات اہل کتاب کے پاس ۔ ان کا قرآن کریم کے ساتھ تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے لیکن جاہلیت کے دور میں مشرکین کے پاس اس کے سوا اور کوئی بہانہ تھا کہاں ؟ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے دور کے متشرقین اور نام نہاد مسلمان بھی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ وہ اسے علمی تحقیقات کا نام دیتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وَلِنُبَیِّنَہُ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (105) ” اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کھول دیں “۔ اس کے بعد یہ حکم آتا ہے کہ وہ جو چشم بینا رکھتے ہیں اور جانتے ہیں اور وہ جو اندھے ہیں اور کورے ہیں ان کے درمیان مکمل جدائی ہونا چاہئے ۔ اللہ کی جانب سے حضرت نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب جبکہ اللہ نے اپنی آیات کو ایک اعلی اسلوب میں کھول کر بیان کردیا ہے ۔ اور لوگ اس کے نتیجے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو آپ کو حکم دیا تھا جاتا ہے کہ آپ آنے والی وحی کی پیروی کریں اور مشرکین کو ایک طرف چھوڑ دیں ۔ آپ اب ان سے ہم کلام ہی نہ ہوں اور وہ جو گھٹیا گفتگو کرتے ہیں اس کی طرف توجہ ہی نہ کریں ۔ وہ جو کج بحثی کرتے ہیں ‘ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ‘ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ آپ کے لئے اب راہ صرف ایک ہے کہ آپ اللہ کے راستے پر چل پڑیں ۔ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں ‘ اپنے ساتھیوں کی زندگیوں کو اس کے مطابق درست کریں۔ آپ مشرکین کے ذمہ دار نہیں ہیں اور جب آپ اپنے رب کی وحی کی اطاعت کریں گے تو بندوں کی ذمہ داری آپ پر نہ ہوگی ۔
Ayahs 6:106–107

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو

(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106) ” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔ (آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔ یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔ کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ۔ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لئے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے ‘ پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ‘ اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں

(آیت) ” نمبر 108۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ان میں سے جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور وہ اپنے طرز عمل کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ اچھے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے ۔ اگر وہ برے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے اور ان کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ صحیح راہ پر ہو تو بھی اسے اچھی سمجھتا ہے اور اگر وہ ضلالت کی راہ پر گامزن ہو تو بھی وہ اسے اچھا سمجھتا ہے ۔ یہ ہے انسان کی فطرت اور اس کا مزاج ۔ مشرکین مکہ اللہ کے ساتھ کچھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ صرف اللہ ہی خالق اور رازق ہے ۔ اگر ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مسلمانوں نے برا بھلا کہا تو وہ اپنے بتوں کے دفاع میں نکل آئیں گے اور اللہ رب العزت کو برا بھلا کہیں گے ۔ لہذا مسلمانوں کو ہدایت ہوئی کہ وہ انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیں ۔ (آیت) ” ثُمَّ إِلَی رَبِّہِم مَّرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (108) ” پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ‘ اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں “۔ ایک مومن جس کو اسلامی دین پر اطمینان قلب حاصل ہو اور اسے یہ یقین ہو کہ وہ جس دین پر ہے وہ برحق ہے ۔ اس کا قلب مطمئن ہے اور وہ ایسے امور کے پیچھے نہیں پڑتا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو ‘ کیونکہ بتوں کو گلیاں دینے سے ان کے ایمان ویقین میں کوئی اضافہ ہو نہیں سکتا ۔ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ مخالفین کے دلوں میں عناد بڑھ جائے ۔ اس لیے اہل ایمان کو اس بےفائدہ مشغلے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ۔ ہاں یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ جواب میں اہل ایمان مخالفین کی جانب سے ایسی باتیں سنیں جن کو وہ پسند نہیں کرتے یعنی رب ذوالجلال کی شان میں گستاخی ۔ اب اس سبق کا خاتمہ ہو رہا ہے ‘ اس پورے سبق میں اللہ تعالیٰ نے ایسے دلائل و شواہد پیش کئے ہیں جو رات ودن کے ہر لمحے میں چشم بینا کے لئے وافر مقدار میں موجود ہیں سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ مخالفین اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے سامنے بھی رسولان سابقہ کی طرح کوئی خارق العادۃ مادی معجزہ آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے اور ان کے اس حلفیہ بیان کر سن کر بعض مخلصین اہل ایمان نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجویز پیش کی کہ آپ ﷺ اللہ سے کسی ایسے معجزے کے صدور کے لئے دست بدعا ہوں ۔ اس تجویز کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ دو ٹوک جواب یوں دیتے ہیں کہ دیکھو تمہیں ان مکذبین اور ان کی تکذیب کی حقیقت ہی کا علم نہیں ہے ۔
Ayahs 6:109–110

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی (یعنی معجزہ) ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ ” نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں ۔ “ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس (کتاب) پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔ ” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔