6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 6:151–152

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا پابندیاں عائد کی ہیں : یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ یہ باتیں ہیں جس کی ہدایت تمہیں اس نے کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو ۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔ اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ۔۔۔۔۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔

آیت ” نمبر 151 تا 153۔ اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔ اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔ غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔ آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔ آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔ شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی قانون ساز نہیں ہے اور پھر لوگ اس بات کا اعتراف بھی کرلیں کہ وہ ان معاملات میں صرف اللہ کے سوال کسی طرف رجوع نہ کریں گے ۔ توحید اپنے تمام معانی کے ساتھ ‘ اسلام کا وہ اساسی اصول ہے کہ جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ اسلام میں توحید کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ یہ کمی عبادت سے پر کی جاسکتی ہے ‘ نہ حسن اخلاق سے اور نہ فضائل اعمال سے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جو وصیتیں کی جارہی ہیں ان کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ۔ آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً (6 : 151) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ہمیں چاہیے کہ یہاں ایک نظر ان آیات پر ڈالیں جو ان وصیتوں سے پہلے وارد ہوئی ہیں تاکہ ہمیں اس شرک کے تعین میں دشواری نہ ہو ‘ جس سے یہاں منع کیا گیا ہے ۔ ان وصیتوں سے پہلے ایک متعین موضوع پر بحث تھی ۔ وہ موضوع تھا حق قانون سازی ‘ اقتدار اعلی کا استعمال اور احکام ونواہی کا صدور ۔ ایک آیت قبل ہی یہ کہا گیا : آیت ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150) ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ ‘ ہم اس لگا تار یاد دہانی کے اس لئے محتاج ہیں کہ اسلامی تاریخ میں شیاطین نے دین اسلام کی اساسی اصطلاحات کے معانی اور مفاہیم کو بدلنے کی جو جدوجہد کی ہے اس کے آثار اب ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اسلامی تاریخ میں حاکمیت کے مسئلے کو اسلام کے بنیادی عقیدے کے مفہوم سے نکال دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی فکر کا شعور اور احساس ہی نہیں رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ اسلام کے نہایت ہی مخلص اور پر جوش حامی ہیں وہ ایک پرستش کے شعار ‘ عبادات کے طریقے اور ایک اخلاقی قدر کے قیام اور قوانین کی معمولی خلاف ورزی کے جزوی مسائل پر تو بات کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی اقتدار اعلی اور اس کے نظریاتی مقام پر بات نہیں کرتے ۔ وہ سکرات کے خلاف تو مہم چلاتے ہیں ۔ لیکن وہ اس عظیم منکر کے خلاف نہیں اٹھتے یعنی یہ کہ زندگی کو عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کرنے کے لئے نہیں اٹھتے ایسا نظام قائم کرنے کے لئے سعی نہیں کرتے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دوسری وصیتوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ وصیت کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور یہ وصیت ایسے سیاق میں کی جارہی ہے کہ شرک کا مفہوم ان تمام وصیتوں کے اصول کی روشنی میں متعین ہوتا ہے ۔ توحید اور نفی شرک وہ اصول ہے جس کی اساس پر ایک انسان علی وجہ البصیرت اپنے رب کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور جماعت مسلمہ کے افراد بھی باہم ان اصولوں کی اساس پر جڑ جاتے ہیں جو عقیدہ توحید اور نفی شرک کے نتیجے میں متعین ہوتے ہیں اور وہ اقدار ان لوگوں کے درمیان قدر مشترک بن جاتی ہیں جو عقیدہ توحید کے بعد وجود میں آتی ہیں ۔ اور یہ اصول واقدار اس قدر مستحکم ہوتے ہیں کہ جن کو خواہشات نفسانیہ اور جذبات سفلیہ کے طوفان اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے اور نہ ان پر ان اصطلاحات کا اثر ہوتا ہے جو انسان نے اپنی خواہشات اور میلانات کے تحت وضع کر رکھی ہیں۔ آیت ” وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَکُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاہُمْ “۔ (6 : 151) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔ “ صدیوں سے یہ خاندانی نظام قائم ہے اور اللہ نے یہ نظام عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کیا ہے ۔ اللہ لوگوں پر والدین اور اولاد سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے اس لئے اللہ نے اولاد کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت فرمائی اور والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت فرمائی ۔ اس وصیت کی پشت پر وہ نظریاتی رابطہ ہے ۔ جو اللہ کی حاکمیت اور ربوبیت کی صورت میں قائم ہے ۔ اللہ نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہی خالق ہے اور وہی رازق ہے ۔ لہذا تم والدین کے بارے میں ان کی کبرسنی کے دور میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرو ‘ اور اولاد جب ضعیف وناتواں ہو تو تم ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرو اور فقر اور مجبوری سے نہ ڈور کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ “۔ (6 : 151) ” اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ نے سابقہ فقرے میں وصیت فرمائی کہ خاندانی نظام کو مضبوط بناؤ تو اس کے بعد حکم دیا گیا کہ خاندان اور معاشرے کو پاک وصاف رکھو کیونکہ معاشرہ بھی خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔ معاشرے کی اخلاقی تطہیر کا خیال رکھو ۔ اسلام معاشرے میں فحاشی کو برداشت نہیں کرتا ‘ چاہے یہ فحاشی ظاہری ہو یا پوشیدہ ‘ لہذا اس وصیت اور سابقہ وصیت کے درمیان گہرا ربط ہے ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ فحاشی کے کیچڑ میں کوئی پاکیزہ خاندان اور پاکیزہ معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ فحاشی ظاہری ہو یا خفیہ اور باطنی ہو اس لئے کہ اسلام عفت اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ جو طبقات بھی فحاشی پھیلاتے ہیں ان کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ خاندانی نظام اور معاشرہ کمزور ہوجائیں ان کی بنیادیں ہل جائیں اور آخر کار وہ معاشرہ دم توڑ دے ۔ فواحش کیا ہوتے ہیں ؟ ہر وہ بات فواحش میں آتی ہے جو حد سے متجاوز ہو۔ لفظ فحش بعض اوقات خصوصا صرف زنا پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اس آیت میں بھی غالب گمان یہ ہے کہ اس لفظ سے زنا مراد ہے ۔ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ ان حرام امور کا ذکر فرما رہے ہیں جن کا ارتکاب ممنوع ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ لہذا یہاں مراد زنا ہوگا ۔ ورنہ قتل نفس بھی فاحشہ ہے اور مال یتیم کھانا بھی فاحشہ ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ شرک بھی فاحشہ ہے ۔ لہذا یہاں لفظ فاحشہ سے مراد مخصوص طور پر زنا ہوگا اور زنا کے لئے ” فواحش “ یعنی جمع کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ زنا کے ساتھ اور مقدمات اور لوازم بھی لازم ہوتے ہیں جو سب کے سب فواحش ہیں مثلا نمائش حسن ‘ بےپردگی ‘ اختلاط ‘ الفاظ ومکالمات ‘ حرکات واشارات ‘ ہنسی اور مذاق ‘ میک اپ اور لوگوں کو آمادہ کرنا ‘ یہ سب افعال فواحش میں آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض خفیہ ہیں اور بعض ظاہری ہیں ۔ بعض دل میں ہوتے ہیں اور اعضاء سے ہوتے ہیں ۔ یہ تمام فواحش کسی بھی معاشرے کے لئے ہم قاتل ہوتے ہیں اور کسی سوسائٹی کا اجتماعی وجود ان کے ذریعے کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ افراد معاشرہ کے دل گندے ہوتے ہیں اور ان کی ترجیحات حقیر ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کے بعد یہ وصیت ذکر ہوئی ۔ زنا کے ساتھ متعلق فواحش چونکہ اپنے اندر جاذبیت رکھتے ہیں ‘ اس لئے حکم دیا گیا کہ ان کے قریب مت جاؤ ‘ تاکہ اس برائی میں مبتلا ہونے کے ذرائع ہی بند ہوجائیں اور دور رہنے کی وجہ سے ان فواحش کی کشش کیا اثرات کم ہوجائیں ۔ اور وہ انسان کی قوت ارادی پر غالب نہ آجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ اگر کسی عورت پر ایک دفعہ نظر پڑجائے تو دوسری بار اسے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے اور مرد وزن کے درمیان اختلاط کو بھی ممنوع کیا گیا اور جاہلانہ آرائش وزیبائش کو ممنوع کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ عطر لگا کر باہر نکلنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ اسی طرح تمام ایسی حرکات ہنسی مذاق اور اشارات کو اسلام کے پاک معاشرے میں منع کیا گیا ہے ۔ اسلام لوگوں کو ایسی مشکل صورت حال سے دو چار نہیں کرتا کہ اس میں انہیں اپنے اعصاب کے اوپر کنڑول نہ رہے اور وہ ترغیبات کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو حدود ونافذ کرنے اور سزائیں دینے سے پہلے ہی لوگوں کو بچاتا بھی ہے ۔ اسلام لوگوں کے ضمیر ‘ شعور حواس اور اعضاء تک کو بچانے کی سعی کرتا ہے اس لئے کہ رب تعالیٰ اپنی مخلوق کی کمزوریوں سے خوف واقف ہے ۔ وہ لطیف وخبیر ہے ۔ ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لئے عیاشیاں پیدا کرتے ہیں ‘ ان کے سفلی جذبات کو آزاد کرتے ہیں ‘ اور اس مقصد کے لیے تصاویر ‘ فلمیں ‘ افسانے میلے اور دوسرے تمام ذرائع فراہم کرتے ہیں وہ دین اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا ارادے رکھتے ہیں ۔ آیت ” وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالْحَق “۔ (6 : 151) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔ قرآن کریم میں ان تین منکرات کا ذکر بارہا ایک جگہ آیا ہے ۔ یعنی شرک زنا اور قتل نفس کا ذکر بارہا ایک ساتھ کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام جرائم دراصل قتل کے جرائم ہیں ۔ پہلا جرام شرک دراصل فطرت کا قتل ہے ۔ دوسرا جرام معاشرے کا قتل ہے ‘ اور تیسرا جرم نفس انسانی کا قتل ہے ۔ اس لئے کہ جو فطرت توحید پر قائم نہیں ہے ۔ وہ دراصل مردہ فطرت ہے اور جس سوسائٹی میں فحاشی پھیل گئی ہے وہ سوسائٹی بھی مردہ سوسائٹی ہے اور اس نے آخر کار ہلاک وبرباد ہونا ہے ۔ یونانی تہذیب ‘ رومی تہذیب اور فارسی تہذیب کی تباہی اسی بیماری یعنی فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی ہوتی ہے ۔ آج مغربی تہذیب کے اندر جس تیزی سے فحاشی پھیلی ہے ‘ ماہرین اب انتظار کر رہے ہیں کہ کب اس پر ہمہ گیر تباہی آتی ہے اسی طرح وہ معاشرہ جس میں امن وامان نہ ہو وہ بھی لازما اپنے انجام تک پہنچتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان جرائم کے لئے سخت سزائیں مقرر کی ہیں کیونکہ اسلام اپنے معاشرے کو ہمہ گیرتباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔ اس سے پہلے یہ بات آگئی ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک و افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ یہاں مطلق نفس کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے ۔ یہاں اشارہ یہ مطلوب ہے کہ ایک فرد کے خلاف بھی اگر جرم قتل کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جرم پورے معاشرے کے خلاف جرم تصور ہوگا ۔ دوسری جگہ اس کی تصریح یوں کی گئی ہے ۔ آیت ” انہ من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیاء الناس جمیعا “ (5 : 32) ” جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ۔ “ اس لئے کہ ارتکاب قتل کا وقوع زندگی پر ہوتا ہے اور زندگی نفس بشر میں ہوتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کے تحت نفس انسانی کی بقا کی ضمانت دی ہے تاکہ دارالاسلام میں جماعت مسلمہ کے تمام افراد کو امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور اسلامی معاشرے کا ہر فرد بڑی آزادی کے ساتھ ترقی کی جدوجہد میں حصہ لے سکے اور اسے ماسوائے حق کے کسی اور وجہ سے نہ ستایا جائے ، وہ سچائی جس کی اساس پر کسی کو ستایا جاسکتا ہے وہ اسلامی شریعت میں بیان کردی گئی ہے اور اس بارے میں کسی تاویل یا اندازے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہاں اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اس لئے کہ یہ کام مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کیا جانا تھا تاکہ وہاں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے ایک حکومت بھی موجود ہو۔ اس نکتے کی بڑی اہمیت ہے ‘ اور اس سے اسلامی نظام اور دین اسلام کے عملی مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اسلامی نظام کی نشوونما اور اس کی حرکیت میں عملیت ایک اہم پہلو ہے کہ ان اساسی اصولوں کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں کیونکہ ابھی ان کے نفاذ کا ابھی وقت نہیں آیا تھا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ یہ اصول وقواعد اور اوامر ونواہی اللہ کی جانب سے ایک وصیت ہے اور اس پر تمہیں عمل کرنا ہے ۔ آیت ” ِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (151) یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ اس قسم کی تعقیبات قرآن کریم کے ہر حکم ‘ ہر امر ونہی کے بعد آتی ہیں ۔ اور یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے وہ قانونی امور کو بھی اللہ کی ذات سے وابستہ کردیتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امر ونہی کے صدور اور قانون سازی کا کام صرف اللہ وحدہ کے اختیار میں ہے ۔ یوں اسلامی نظام مملکت میں قانون کے لئے بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔ اس بات میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ یہی بات قابل فہم ہے ۔ اس لئے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی حکومت کی اطاعت کی جائے ‘ جیسا کہ اوپر کہا گیا ۔ اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ خالق ‘ رازق اور متصرف فی الکون ہے لہذا لوگوں کی زندگی میں تصرفات بھی اللہ کے کے چلنے چاہئیں ۔ اس تعقیب اور وصیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں پائے جانے والے احکام باہم متناسب ہیں اور بعد کے آنے والی آیت میں پائے جانے والے امور بھی باہم ہم رنگ ہیں اور درمیان میں یہ تبصرہ ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ “۔ (6 : 152) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ کسی سوسائٹی میں یتیم ایک کمزور شخصیت ہوتی ہے ‘ اس کا حامی اور مربی کوئی نہیں ہوتا اور اس کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس کی ذمہ داری اسلامی سوسائٹی پر ڈال دی گئی ہے کیونکہ سوشل سیکورٹی اسلامی نظام کی اساس ہے ۔ دور جاہلیت میں یتیم ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے تھے ۔ یتیم کے بارے میں قرآن کریم بار بار ہدایات دیتا ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس مسئلے کو لیا گیا ہے ۔ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں یتامی کی بےحد حق تلفی ہوا کرتی تھی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کے لئے بھی ایک یتیم شخص کا انتخاب کیا اور اسے یہ عظیم اعزاز بخشا کہ اسے تمام جہان والوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا پھر فرمایا کہ ان کا خیال اس طرح رکھا جائے کہ ان کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ “ حکم یہ ہے کہ یتیم کے متولی اور گارڈین کو یتیم کے مال میں صرف اتنا تصرف کرنا ہے جو اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کا فرض ہوگا کہ وہ اسے بچائے اور اسے ترقی دے ۔ جب وہ سن رش تک پہنچ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا پورا دے دے اور ترقی یافتہ شکل میں دے ۔ سن رشد اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب یتیم کی جسمانی اور عقلی قوت کمال کو پہنچ جائے ‘ اسطرح کہ وہ مال کو بچا بھی سکے اور اس کی حفاظ بھیکر سکے اور اسے ترقی بھی دے سکے ۔ اور وہ جب سوسائٹی میں ایک مختار شخص کی صورت میں آئے تو وہ اس کا ایک صحت مند فرد ہو اور سوسائٹی کے لئے مفید ہو ۔ سن رشد اور بلوغ کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ عبدالرحمن ابن زید اور امام مالک کے نزدیک عقلی بلوغ ہے ۔ امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علییہ کے نزدیک پندرہ سال کی عمر ہے ۔ سدی تیس سال کی عمر مقرر کرتے ہیں اور اہل مدینہ بلوغ اور عقلمندی دونوں کے حصول کے بعد سن رشد مانتے ہیں اور کسی عمر کی تحدید نہیں کرتے ۔ آیت ” وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا “۔ (6 : 152) ” اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔ یہ حکم تجارتی معاملات کے بارے میں ہے کہ تجارتی معاملات میں حتی المقدور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ ان احکام کو اسلامی عقائد ونظریات سے وابستہ کیا گیا ہے حالانکہ یہ محض تجارتی معاملات ہیں ۔ یہ اس لئے کہ اسلامی نظام میں تمام معاملات دین و ایمان سے وابستہ ہیں اور ان کے بارے میں جو احکام ہیں وہ منجانب اللہ ہیں۔ اس طرح یہ احکام اللہ اور اللہ کے اقتدار اعلی کے مسئلہ سے وابستہ ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان احکام کو ایک ایسے منظر میں لایا جاتا ہے جس میں اسلامی نظریہ حیات کا ربط زندگی کے تمام معاملات میں عیاں کیا گیا ہے ۔ تمام جاہلی نظاموں میں جس میں دور جدید کی جاہلیت بھی شامل ہے ‘ طریقہ یہ رہا ہے کہ عقائد و عبادات سے قانون اور معاملات کو بالکل علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصے میں اچھی طرح واضح کیا ہے ۔ آیت ” قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابآئونا اوان نفعل فی اموالنا ما نشؤا (11 : 86) ” انہوں نے جواب دیا : اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں باہم مالی اور تجارتی معاملات ‘ بیع اور شرا کے مسائل اور اسلامی نظریہ حیات کے نظریاتی پہلوؤں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اس دین کا مزاج کیا ہے ؟ اور اس میں عقائد و قانون کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ عبادت اور معاملات دونوں میں اللہ کی بندگی ضروری ہے کیونکہ یہ دین ہی کا حصہ ہیں اور اس کے اصل الاصول سے مربوط ہیں۔ آیت ” وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی “۔ (6 : 152) ” اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ “ سب سے پہلے اسلام قلب مومن کارابطہ اللہ کے ساتھ قائم کرتا ہے اور اس طرح انسان کو نہایت ہی بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور ہر وقت اس سے ڈرتا رہے اس راستے میں کئی ایسے مقامات آتے ہیں جہاں قدم ڈگمگا جاتے ہیں ۔ انسانی کمزوری اثر کر جاتی ہے اور انسان قرابت ‘ رشتہ داری اور قرابت کے حقوق کا لحاظ کرجاتا ہے ۔ کیونکہ انسان نہایت ہی کمزور ‘ ضعیف ہے اور دور اندیش نہیں ہے اور رشتہ داری کی قوت اس سے کمزوری کا ارتکاب کراتی ہے ۔ رشتہ داری کے ماحول میں وہ پروان چڑھتا ہے ۔ اس ماحول میں وہ زندہ رہتا ہے اور جب وہ رشتہ دار کے مقابلے میں شہادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس سے کمزوری کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اگر بھائی کے لئے شہادت دے تو مبالغہ ہوگا اور اگر خلاف دے تو کمی کرے گا یا بھائی اور دوسرے شخص کے درمیان فیصلہ کرے تو جانب داری کرے گا ۔ اس خطرناک مقام پر اسلام ہی مدد کو آتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ کلمہ حق کہے اور انصاف کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ پر بھروسہ کرے ۔ صرف اس سے ڈرے اور بھائی کی دوستی ودشمنی کے معاملے صرف اللہ کی نصرت طلب کرے ۔ اللہ سے ڈرے اور یہ نہ کرے کہ رشتہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ کے حقوق کو تلف کردے ۔ اللہ انسان کا خالق ہے اور اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے ۔ چناچہ اللہ یہاں اپنی وصیتوں کے بعد اپنے ساتھ کئے ہوئے عہد کو یاد دلاتے ہیں ۔ آیت ” وَبِعَہْدِ اللّہِ أَوْفُوا “۔ (6 : 152) ” اور اللہ کے عہد کو پورا کرو “۔ اللہ کے عہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچ کہو اگرچہ اس کی زد تمہارے کسی قرابت دار پر پڑتی ہو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ ناپ اور تول کے پیمانے پورے رکھو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ یتیم کے مال میں اس طرح تصرف کرو کہ وہ اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کے عہد میں یہ امر بھی داخل ہو ہے کہ بےگناہ جان کا احترام کرو ‘ اور ان سب عہدوں سے بڑا عہد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ الوہیت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور یہ عہد عہد اکبر ہے ۔ یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے ‘ اس لئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے اور اسے ان نوامیس قدرت کا شعور ہونا چاہئے جو انسان کے اندر اور اس کے اردگرد کائنات میں جاری وساری ہیں ۔ اور آخر میں وہی تبصرہ ۔ آیت ” ْ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (152) ”۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ “ ذکر کا مفہوم غفلت کے بالمقابل ہے۔ لہذا یاد رکھنے والا دل غافل دل کے متضاد ہوگا اور ذاکر وہ ہوگا جو اللہ کے عہد کو یاد رکھے اور ان عہود کے بارے میں اللہ کی وصیتوں کا خیال رکھے اور ان کو کسی حالت میں نہ بھولے ۔ یہ اصول جن کا آغاز عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا ‘ جس میں اسلامی عقائد اور اسلامی قانون اور اسلام کے اجتماعی نظام کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں اور جن سے پہلے کے سبق میں اللہ کے اقتدار اعلی اور اس کے حق حاکمیت کے مضامین تھے جس میں حق قانون سازی نمایاں ہے ‘ یہ سب اصول اللہ کا صراط مستقیم ہیں ۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے مقابلے میں دوسرے تمام راستے غلط ‘ دشوار گزار ہیں ‘ یہی مستقیم راستہ ہے ۔ آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153) ” نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “ یہ سبق یہاں ختم ہوتا ہے جس کا آغاز اس آیت سے ہوا تھا : آیت ” افغیر اللہ ابغی حکما ھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا “۔ ” کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم تلاش کرو ‘ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب مفصل طور پر نازل کردی ہے ۔ “ اور اس طویل سبق کا خاتمہ اس فقرے سے ہوا ۔ اس آغاز اور انجام اور درمیان میں مسئلہ حاکمیت الہیہ ‘ مسئلہ قانون سازی ‘ پھلوں اور مویشیوں کی حلت و حرمت ‘ ذبیحوں اور نذروں کے مسائل اور دوسرے اساسی اور اصولی مسائل تھے ۔ یہ مسائل اس آغاز و انجام کے درمیان بیان ہوئے ۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ ہے وہ وسیع دائرہ جس کے اندر یہ سب چیزیں آتی ہیں اور ان سب کا تعلق ان عقائد اور نظریات کے ساتھ ہے جو اس سورة کا اساسی مضمون ہے جس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ حاکم و معبود ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ واحد راستہ ہی اللہ کا راستہ ہے اور اس راہ سے ہم اللہ تعالیٰ پہنچ سکتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ لوگ اللہ وحدہ کو رب تسلیم کریں ‘ اسی کی عبادت کریں ‘ اسی کی اطاعت کریں ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم و قانون ساز تسلیم کریں اور پوری زندگی اسی کے رنگ میں رنگ دیں ۔ یہ راہ ہے جو اللہ کی راہ ہے ۔ اس کے سوا جس قدر بھی راستے ہیں وہ اللہ کی راہ سے جدا ہوجاتے ہیں اور وہ راستے کسی انجام تک نہیں پہنچتے ۔ اللہ نے تمہیں اسی راستے پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔ لہذا معلوم ہوا کہ تقوی کا مدار صحیح عقیدے اور صحیح عمل پر ہے ۔ یہ تقوی ہی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے کی طرف لے جاتا ہے ۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔

درس نمبر 71 ایک نظر میں : اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔ اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔ ٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔ ٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔ ٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔ ٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔ ٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔ ٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔ یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔ اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “ یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔ آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154) ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “ پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔ آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (155) ” اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ “ قرآن کریم عربوں پر بطور حجت نازل ہوا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر ایسی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی جس طرح یہود ونصاری پر کتابیں نازل ہوئی ۔ اگر ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی جس طرح ان پر نازل ہوئی ہے تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ عربوں پر حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا ‘ لیجئے یہ ہے کتاب جو تم پر نازل کی گئی ۔ اور اس کے بعد بھی اگر وہ اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں تو وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ آیت ” أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157) اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ یقینا قرآن کے نزول سے عربوں پر حجت تمام ہوگئی لیکن وہ اب بھی شرک کررہے ہیں ۔ وہ اب بھی خود قانون بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی شریعت ہے حالانکہ خدا کی کتاب آگئی ہے ۔ اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو وہ از خود گھڑتے ہیں اور ماننے کے بجائے وہ مزید خوارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ کتاب کی تصدیق کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں کہ اگر کوئی خارق عادت معجزہ آجائے یا بعض حصہ اس کا آجائے تو پھر یہ آخری فیصلے کا وقت ہوگا ۔ آیت ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158) ” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “ یہاں اللہ نبی کریم ﷺ کے دین اور تمام ادیان کے اندر فرق کردیتے ہیں جو عقیدہ توحید اور اس پر مبنی قانونی نظام پر قائم نہیں ہیں اور یہ کہ انکا معاملہ اللہ کے ہاں ہے اور وہ اپنے نظام عدل اور رحمت کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا ۔ آیت ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159) مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160) ” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ ‘ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “ اس اس سبق کی آخری ضرب آتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ تسبیح کا آخری دانہ گرا نہایت ہی تروتازگی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ‘ نہایت حکیمانہ اور نہایت دوٹوک انداز میں ۔ اس دین کے انتہائی گہرے حقائق کا خلاصہ پیش کردیا جاتا ہے یعنی بےقید اور ہمہ جہت توحید ‘ خالص بندگی اور اطاعت ‘ سنجیدگی کے ساتھ آخرت کا اقرار وجوابدہی کا تصور ‘ دنیا میں ہر شخص کے لئے اپنے اور صرف اپنے اعمال کی جوابدہی ۔ ہر چیز میں نظام ربوبیت کا مشاہدہ ‘ اور یہ کہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس سرزمین پر اقتدار کی کنجیاں کس کے حوالے کرتا ہے اللہ کے اس اختیار میں اس کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس سے کوئی باز پرس کرنے کا مجاز ہے ۔ اس آخری حصے میں مقام الوہیت کو تفصیل سے واضح کیا جاتا ہے نہایت ہی مخلص ‘ پاک وصاف دل یعنی قلب رسول اللہ ﷺ سے یہ ربانی تجلیات پھوٹتی ہیں اور انداز تعبیر قرآنی ہے جو کسی بھی مفہوم کی تصویر کشی میں لاثانی ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” اے محمد ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔

آیت ” نمبر 154۔ یہ کلام لفظ ثم کے ذریعہ کلام ماقبل پر عطف ہے ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ پہلے یہ آیت آئی تھی ۔ آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً “۔ (6 : 151) جہاں یہ بیان کرنا مقصود تھا کہ تمہارا حرام کردہ حرام نہیں بلکہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ۔ پھر کہا آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً “۔ (6 : 153) کہ یہی میرا سیدھا راستہ اور دین ہے ۔ اس جملے کا عطف پہلے پر ہوا تھا ۔ یعنی آیت ” الا تشرکوا بہ “۔ پر اس کے بعد یہ آیت آئی آیت ” ثم اتینا موسیٰ الکتب “۔ (6 : 154) جس کا عطف مذکورہ بالا دونوں جملوں پر ہوا ۔ اس طرح یہ پورا کلام مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ (تماما علی الذی احسن “۔ (6 : 154) کا مفہوم یہ ہے ‘ جیسا کہ ابن جریر نے لکھا ہے ’ پھر ہم نے موسیٰ کو تورات دی اور یہ ان پر ہماری جانب سے تکمیل نعمت تھی ۔ ہماری جانب سے ان کے لئے اعزاز وشرف تھا اسی وجہ سے کہ انہوں نے احسان کا رویہ اختیار کیا اور اپنے رب کی اطاعت کی ۔ رب کی جانب سے جو فرائض بھی عائد کئے گئے ہیں اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور اس کتاب میں وہ تمام امور درج ہیں جن کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو ضرورت تھی ۔ آیت ” تفصیلاللکل شی (6 : 154) ” قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد حلال و حرام ہیں ۔ آیت ” وھدی ورحمۃ “۔ (6 : 154) کے معنی یہ ہیں کہ ان کی قوم ہدایت پائے اور آخرت کی جوابدہی پر ایمان لے آئے اور اس طرح اللہ کی رحمت کی مستحق ہو کر اللہ عذاب کے عذاب سے بچ جائے ۔ یہ تھے مقاصد جن کے لئے ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ انہیں مقاصد کی خاطر اللہ نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم بھی ہدایت پاؤ اور پھر رحمت کے مستحق قرار پاؤ۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔

آیت ” نمبر 155۔ بیشک یہ ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی تشریح ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں کردی ہے جہاں یہ لفظ پہلے آیا تھا : ۔ آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92) ” یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “ یہاں لفظ مبارک اسلامی نظریہ حیات اور اس کی شمولیت اور ہمہ گیری کی بحث کے ضمن میں آیا ہے یعنی یہ کتاب ایک شرعی نظام پر مشتمل ہے۔ حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ تم اس شرعی نظام کی اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی رحمت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ تم اس کتاب کا اتباع کرو ‘ کیونکہ یہاں کلام شرعی نظام کے بارے میں ہے جبکہ سورة کے آغاز میں بات اسلامی عقائد ونظریات کی تھی ۔ یعنی اب تمہارے لئے کوئی وجہ معذرت باقی نہیں ہے اور نہ کوئی حجت باقی ہے ۔ یہ کتاب نازل ہوئی اور اس نے تمام دلائل اور حجتوں کو منسوخ و باطل کردیا ہے ۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام امور کی تفصیلات موجود ہیں زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اس میں ہدایات موجود نہ ہوں کہ تم خود اپنے لئے قانون بنانے کے لئے محتاج ہوجاؤ۔
Ayahs 6:156–157

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔

آیت ” نمبر 156 تا 157۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔ اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157) ” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔ قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔ اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة کے آغاز میں بھی تھی جہاں اسلامی نظریہ توحید اور عقائد کو تسلیم نہ کرنے پر تہدید دی گئی تھی اور یہاں یہ تہدید اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے کی مناسبت سے دوبارہ دہرائی گئی ہے ۔ ابتداء میں یہ کہا گیا تھا : آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8) ” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ یہاں اسی مضمون کو دہرایا گیا :
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

’ کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں ‘ یا تمہارا رب خود آجائے ‘ یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

آیت ” نمبر 158۔ یہ ایک دو ٹوک اور واضح تہدید ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ کی ناقابل تبدیل سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ آتا ہے اور لوگ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں تو انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جن خوارق عادت واقعات کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان میں سے کوئی واقعہ لایا جاتا تو ان کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا کیونکہ جب اس قسم کا کوئی معجزہ آتا ہے تو مدت عمل اور مہلت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ایمان وعمل مفید نہیں ہوتے ۔ جو لوگ پہلے سے مومن اور اسلامی نظام پر عمل پیرا نہ تھے ان کے لئے پھر کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق وہی ایمان مقبول ہے جو عمل کے ساتھ ہو ۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ اس آیت یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ (6 : 158) سے علامات قیامت مراد ہیں کیونکہ علامات قیامت آنے کے بعد پھر ایمان وعمل مفید نہیں رہتے اور بعض روایات میں اشراط الساعہ کو گنوایا بھی گیا ہے ۔ لیکن اس آیت کی تفسیر اس مفہوم میں زیادہ بہت ہے کہ اس سے مراد اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ ہے ۔ اس کی مثال اسی سورة کے آغاز میں موجود ہے ۔ آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8) ” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ یہ بات ذہن میں رہے کہ آغاز سورة میں یہی باتیں ایمان لانے اور اسلامی نظریات قبول کرنے کے موضوع پر کہی گئی تھیں اور یہاں باتیں اسلامی نظام کے نفاذ اور شریعت کے اجراء کے موضوع پر کہی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی اہم اور یاد رکھنے کے قابل بات ہے تاکہ اسلامی شریعت اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کی حقیقت ذہن میں رہے ۔ جس طرح آغاز سورة کی یہ بات سنت جاریہ پر محمول ہے ‘ اسی طرح یہاں بھی اس کی تاویل اشراط قیامت کے مقابلے میں سنت جاریہ کے ساتھ مناسب ہے ۔ یہ مناسب تاویل و تفسیر ہوگی اور یہاں اسے قیامت پر محمول کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جس کے وقوع کا علم عالم الغیب کو تھا ۔ اب بات کا رخ رسول اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کی شریعت اور آپ کی ملت دنیا میں تمام قائم ملتوں سے علیحدہ ہے ۔ تمام فرقے اور مذاہب جن میں مشرکین مکہ کا مذہب بھی شامل ہے ‘ سب باطل ہیں اور آپ کے دین و شریعت سے متضاد ہیں۔