Ayah 6:57(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) ۔
” کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
یہ ضرب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کفار اور جھٹلانے والوں کے سامنے واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کردیں کہ آپ کے دل میں اپنے پیغام کے بارے میں پختہ یقین ہے اور آپ کو اس سلسلے میں مکمل یکسوئی حاصل ہے ۔ آپ کے شعور میں اس پیغام کی سچائی پر بین دلائل موجود ہیں اور آپ کی ذات میں اس امر کا گہرا وجدانی احساس موجود ہے کہ آپ ﷺ جو پیغام دے رہے ہیں وہ حق ہے ۔ یہ ایک ایسا شعور ہے ‘ جو تمام نبیوں کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہے اور تمام نبیوں نے اس احساس و شعور اور وجدانی راہنمائی کا اظہار ایسے ہی الفاظ میں کیا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ من عندہ فعمیت علیکم انلزمکموھا وانتم لھا کرھون “۔ (11 : 28)
” نوح نے کہا اے بردران قوم ‘ ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر پر چپکا دیں ۔ “ اور حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا :
(آیت) ” (آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزیدوننی غیر تخسیر “۔ (11 : 63)
” صالح (علیہ السلام) نے کہا اے بردران قوم ‘ تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ؟ سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارہ میں ڈال دو ۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)
” اس قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا : ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ “ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا :
(آیت) ” فلما ان جآء البشیر القہ علی وجھہ فارتد بصیرا قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون “۔ (12 : 96)
” پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یوسف کا قمیص یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی ۔ تب اس نے کہا ” میں تم سے کہتا نہ تھا ؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ “
یہ ہے حقیقت خدائی ‘ جو اللہ والوں کے دل میں روشن چراغ کی طرح نمایاں ہوتی ہے ۔ لیکن صرف ان لوگوں کے دلوں میں یہ چراغ روشن ہوتا ہے جن کے دلوں میں اللہ روشن کرنا چاہے ۔ ایسے لوگ اللہ کو اپنے دل میں موجود پاتے ہیں اور ان کی شخصیت کی گہرائیوں میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے اور ان کے دلوں کو یقین سے بھر دیتی ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کے سامنے اس کا اعلان ببانگ دہل کردیں ۔ مشرکین دراصل دعوت الی اللہ کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں اور وہ حیلے بہانے بنا کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس حقیقت کو تسلیم کرانے کے لئے معجزات پیش کریں حالانکہ یہ حقیقت تو قلب رسول میں روشن چراغ کی طرح موجود ہے ۔
(آیت) ” قل انی علی بینۃ من ربی وکذبتم بہ “۔ (6 : 57)
” کہو میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے “۔ وہ ہمیشہ یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ یا تو ان پر کوئی خارق عادت معجزہ نازل ہوجائے یا ان پر عذاب الہی نازل ہوجائے تاکہ وہ اس بات کو تسلیم کرلیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیا جاتا تھا کہ اس سوال کے جواب میں آپ ان کے سامنے رسول اور رسالت کی حقیقت کا اعلان کریں اور رسول اور رسالت اور اللہ اور اس کی الوہیت وحاکمیت کے درمیان مکمل فرق بیان کریں ۔ نیز یہ بھی اعلان کردیں کہ جس عذاب اور معجزے کی آمد کے لئے وہ عجلت کا اظہار کر رہے ہیں اس کے صدور میں ان کو بالکل اختیارات نہیں ہیں ۔ یہ کام تو صرف اللہ کے دست قدرت میں ہے ۔ وہ تو الہ نہیں وہ تو فقط پیغام بر ہیں ۔
(آیت) ” ِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57)
” میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
کسی معجزے کا آنا اور اس کے بعد نہ ماننے کی صورت میں ان پر عذاب الہی کا نزول ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق اللہ کے فیصلے اور حکم سے ہے اور اس معاملے میں جج اور فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے ۔ اللہ ہی حق بیان کرنے والا ہے اور اطلاع دینے والا ہے ۔ اللہ ہی ہے جو کسی پیغمبر اور اس کی امت دعوت کے درمیان فیصلے کا اختیار رکھتا ہے ۔ کسی انسان کو اس باب میں کوئی اختیار اور حق مداخلت نہیں دیا گیا ہے ۔
اس طرح رسول اللہ ﷺ اعلان کردیتے ہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا انہیں کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ وہ قضا وقدر کے ان امور میں مداخلت کرسکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے نظام الوہیت کے ساتھ مخصوص ہے اور خصائص الوہیت میں سے ہے جبکہ وہ خود ایک بشر ہیں ۔ ہاں امتیاز یہ ہے کہ ان کی طرف وحی آتی ہے ۔ ان کا فرض یہ ہے کہ وہ اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور انہیں انجام بد سے ڈرائیں ۔ ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ فیصلے کریں اور ان کے مطابق لوگوں کو سزا دیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ حق بیان کرتا ہے اور ہمیں اس کی اطلاع دیتا ہے اسی طرح فیصلوں کا اختیار بھی اللہ کو ہے ۔ یہ وہ انداز ہے جس کے سوا ایک بشر اور ذات باری کے درمیان فرق و امتیاز کی کوئی اور سبیل نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کے قلب ونظر سے اپیل کریں اور ان کی توجہ ان قوی دلائل واشارات کی طرف مبذول کرائیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے ہے اور اس کا فیصلہ بھی مشیت الہی پر موقوف ہے ۔ اگر معجزات کا صدور اور عذاب الہی کا نزول آپ کے قبضہ قدرت میں ہوتا تو تقاضائے انسانیت کے نتیجے میں آپ فورا ہی یہ چیلنج قبول کرلیتے اور اور اس معاملے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے کیونکہ وہ تو اس امر کا بار بار باصرار مطالبہ کرتے تھے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ کے اختیار میں تھا اور اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کے مقابلے میں نہایت ہی حلیم ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کوئی خارق عادت معجزہ نہیں صادر فرماتے کیونکہ اس کے بعد ان پر عذاب آتا ہے ۔ وہ تو تکذیب پر تلے ہوئے تھے اور یہ وہ بات ہے جو تاریخ میں اس سے قبل اقوام وملل کو پیش آتی رہی ہے ۔
Ayah 6:58(آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے ‘ صبر ‘ حلم ‘ بردباری ‘ اور مہلت دینے میں اس کی صلاحیت محدود ہے ۔ جب انسان انسان کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو انسان کی قوت برداشت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ انسان دوسرے زیردست انسان کی جانب سے سرکشی کو برداشت ہی نہیں کرتا لیکن اللہ حلیم ‘ بردبار اور قوی ہے ‘ وہ عظمت والا ہے ۔
ذراکلام الہی پر غور کرو ۔ بارہا ایسا ہوتا ہے انسان بعض دوسرے انسانوں سے ایسے امور دیکھتا ہے کہ اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دیکھو کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرتا چلا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی اللہ کی زمین پر رہتے ہیں ‘ وہ اللہ کھانا وپینا فراہم کرتا ہے ‘ ان پر بارش برساتا ہے ‘ انکے لئے ہر طرف سے فراوانی کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہیں رہتا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بات کو دہرائے ۔ ایک بار وہ معرکہ جنگ میں تھے ۔ معرکہ اس قدر گرم تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا اور کفار نے فیصلہ کن حملہ کیا ہوا تھا ۔ ہر طرف سے بزن کا عالم تھا ۔ آپ نے فرمایا :” اے اللہ آپ کس قدم حلیم اور بردبار ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم و بردبار ہیں ۔ غرض یہ اللہ کا حلم اور بردباری ہی ہے کہ نافرمانوں کو مہلت دئیے جا رہی ہے ۔
(آیت) ” وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔ وہ جانتے ہوئے مہلت دیتا ہے ۔ وہ حکمت کے ساتھ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور علیم بھی ہے اور قدرت بھی رکھتا ہے کہ ان کے مطالبے کو بھی پورا کردے اور انہیں سخت عذاب سے بھی دوچار کر دے ۔ “
بات یہ ہو رہی تھی کہ اللہ ظالموں کے بارے میں خوب جانتے ہیں ‘ اور یہ کہ حقیقت الوہیت اور شان کبریائی کیا ہے ‘ اس مناسبت سے یہاں شان کبریائی کے ایک وسیع تر میدان ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور یہ وسیع تر میدان عالم غیب ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا علم تمام خفیہ باتوں پر محیط ہے ۔ یہاں اللہ کے علم کی وسعت کی عجیب اور منفرد تصور کشی کی جاتی ہے اور اس میدان میں اللہ کے علم کی وسعتوں کی طرف دور تک را ہوار خیال کو گامزن کیا جاتا ہے ۔
Ayah 6:59(آیت) ” نمبر 59۔
اللہ کے کامل اور محیط علم کی یہ نہایت خوبصورت تصویر ہے ۔ یہ علم اس قدر محیط ہے کہ زمان ومکان کا ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ بروبحر کے تمام موجودات اس کے علم کے دائرے کے اندر ہیں ۔ فضاؤں اور زمین کی گہرائیوں میں پائے جانے والے تمام ذرات بھی اس کے دائرہ علم کے اندر ہیں ۔ خشک وتر اور زندہ و مردہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔
ہمارے اس بیان اور آیت زیر بحث کے اسلوب بیان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن کا انداز نہایت ہی منفرد ‘ شامل وکامل ‘ گہرا وعمیق اور نہایت ہی موثر اور معنی آفریں ہے ۔
ہمارا را ہوار خیال اس مختصر آیت کے پیچھے سرپٹ بھاگتا ہے ۔ ہمارا خیال عالم معلومات اور عالم مجہولات میں گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ انسان عالم غیب وعالم شہادت پر غور وفکر کرتا ہے تو اس کا وجدان اور مشاہدہ کانپ اٹھتا ہے کہ ہر وادی میں اور ہر طرف اسے مشاہدات ومظاہر کی نئی نئی شکلیں نظر آتی ہیں ۔ انسان کی جدوجہد بڑی تیزی سے اپنی تلاش نامعلوم کے لئے جاری ہے ۔ وہ غیب کے پردوں کو پھاڑ کر سب کچھ عیاں کرنا چاہتا ہے ۔ وہ ماضی اور مستقبل کے تمام پردے ہٹانا چاہتا ہے ۔ زمان ومکان کے آفاق اور گہرائیوں میں وہ دور تک جھانکنا چاہتا ہے لیکن وہ جس سمت سے آگے بڑھتا ہے اسے نظر آتا ہے کہ غیب کی چابیاں تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ ایک حد پر جاکر اس کو علم واکتشافات کے دروازے مقفل نظرآتے ہیں اور آگے کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں ۔ غرض انسان کا وجدان کائنات کی تاریک وادیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں دوڑتا ہے ۔ یہ سب جگہیں اللہ کے علم کے زاویے سے عیاں ہیں ۔ پھر ہمارا شعور دنیا کے ہر خزاں میں گرنے والے پتوں کی طرف جاتا ہے ‘ جن کی تعداد سے انسان بیخبر ہیں لیکن اللہ کی آنکھ ایک ایک کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح وہ امر ربی سے گرتا ہے اور اس پوری کائنات میں یہ علم ان پتوں تک وسیع ہے ۔ اس کائنات میں اگنے والے بیشمار پودوں سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے بیج اور ان کا ایک ایک دانہ جو ظلمات ارض میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اللہ کی نظر میں ہے ۔ اس وسیع و عریض کائنات کا ہر خشک وتر اللہ کی نظروں میں ہے اور کوئی بھی چیز علم الہی سے باہر نہیں ہے ۔
غرض یہ تصور سر کو چکرا دیتا ہے اور اس سے عقل مبہوت ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور اور شعور ہمیں تاریخ اور زمانوں کی طوالتوں میں لے جاتا ہے ۔ یہ آفاق کائنات کی دوریوں کا تصور دلاتا ہے ۔ عالم معلوم اور مشاہد اور عالم غیب اور مجہول کا تصور انسان کرتا ہے تو اس میں ہر طرف وسعت ہی وسعت نظر آتی ہے ۔ را ہوار خیال تھک کر چور چور ہوجا تا ہے لیکن قرآن کریم کے چند کلمات ان وسعتوں اور دوریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ یہ ہے قرآن کا اعجاز ‘ اعجاز عبارت اور اعجاز خیال جس پہلو سے بھی ہم اس مختصر آیت پر نگاہ ڈالیں یہ معجز ہے اور یہ اعجاز ہمیں واضح طور پر اس طرف لے جاتا ہے کہ اس عظیم کلام کا مصدر اور منبع کیا ہے ؟
قرآن کریم جو اسلامی تصور حیات کا مصدر اور سرچشمہ ہے اور جس سے اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی ہے ‘ وہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اس کائنات کے دو جہان ہیں ‘ ایک عالم غیب ہے اور دوسرا عالم مشاہدہ یا عالم شہادت ۔ لہذا انسان جس جہان میں رہتا ہے اس کے تمام حقائق غیبی نہیں ہیں اور نہ اس کا واسطہ عالم مجہولاتا سے ہے بلکہ یہاں عالم شہادت بھی ہے ۔
اس کائنات کے اندر بعض ناقابل تغیر قوانین اور سنن ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سنن کائنات میں سے ضروری کا علم حاصل کرسکتا ہے ۔ اپنی اس صلاحیت اور ضرورت کے مطابق اسے یہ صلاحیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ یہاں خلافت ارضی کے منصب سے وابستہ فرائض ادا کرسکے اور اپنی زندگی کو سنن کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر صلاحیت دی ہے جس قدر اسے منصب خلافت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے درکار ہے ، تاکہ انسان کائناتی قوتوں کو مسخر کر کے اس زمین کو آباد کرسکے ‘ یہاں زندگی کو ترقی دے سکے اور انسانی زندگی کی بہتری کے لئے اللہ نے اس کائنات کے اندر جو ذخائر ودیعت کئے ہیں انہیں کام میں لا سکے ۔
لیکن ان قوانین قدرت کے ساتھ ساتھ مشیت الہی بھی بطور ایک حقیقت کے موجود ہے ۔ اگرچہ یہ تمام قوانین قدرت مشیت ایزدی کا نتیجہ ہیں لیکن یہ قوانین قدرت مشیت الہیہ کے بجائے تقدیر الہی کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ یہ تمام قوانین قدرت الہیہ کے تحت چلتے ہیں ۔ یہ کوئی خود مختار یا کنٹرول سے باہر مشینری نہیں ہے ۔ اللہ کی قدرت اور اس کی تقدیر ان قوانین پر پوری طرح محیط ہے ۔ اس کائنات کی ہر حرکت اس کے دائرہ قدرت میں ہے ۔ اگرچہ بظاہر یہ کائنات ایک ناموس کے مطابق رواں دواں ہے لیکن یہ ناموس اللہ کا پیدا کردہ ہے ۔ اللہ کا نظام قضا وقدر ان قوانین قدرت کو نافذ کرتا ہے ۔ نظام قضا وقدر عالم غیب کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں نے جو سائنسی اصول وضع کر رکھے ہیں وہ بھی ظنی اور احتمالی ہوتے ہیں اور آج تک انسان نے اس کائنات کے جو راز معلوم کئے ہیں اور ان کے بھی یہ اعتراف موجود ہے ۔
ذرا انسان کے اس مختصر وجود پر غور کیجئے ۔ اس کے اندر ہر لحظہ لاکھوں ذرات سرگرداں ہیں ۔ ہی سب تصرفات انسانی نقطہ نظر سے غیب ہیں ۔ اگرچہ یہ تمام حرکات اور مؤثرات خود اس کے وجود کے اندر روبعمل رہتے ہیں ۔ پھر اس عظیم کائنات کے اندر جو مؤثرات کام کر رہے ہیں وہ تو لاتعدد الا تحصی ہیں۔ انسان ان میں سے کچھ بھی نہیں جانتا ۔
عالم غیب انسان کے ماضی پر بھی محیط ہے اور اس کائنات کے ماضی پر بھی محیط ہے ۔ انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات اور اس کی موجودہ حالت پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ نیز ان کے مستقبل پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ یہ سب امور سنن الہیہ کے مطابق روبعمل ہیں جن میں سے نہایت ہی قلیل مقدار کا علم ابھی تک انسان کو ہوسکا ہے ۔ انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور انہیں منظم اور مربوط طریقے سے فریضہ خلافت کی ادائیگی میں استعمال کر رہا ہے ۔
انسان اس کائنات میں اپنی خواہش کے مطابق نہیں آتا ۔ نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ اب وہ اس جہان میں وارد ہوگا ۔ جب وہ اس جہان سے رخصت ہوتا ہے تب بھی اس رخصتی میں اس کی خواہش شامل نہیں ہوتی اور نہ اسے علم ہوتا ہے کہ کب اسے جانا ہے یہی صورت حال ہر زندہ مخلوق کی ہے ۔ انسان جس قدر علم بھی حاصل کرلے اور اس کی معرفت اور آگاہی کا دائرہ کتنا ہی وسیع تر کیوں نہ ہوجائے وہ اس صورت حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا ۔
اسلامی ذہنیت اور اسلامی ماہیت کے اعتبار سے ” غیبی علمی “ نوعیت رکھتی ہے ۔ اس لئے کہ غیب اور عدم علم اسائنسی اعتبار سے بھی بھی حقیقی علم ہے ۔ جو لوگ غیب کا انکار کرتے ہیں وہ جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بہت کچھ جاننے والے ہیں ۔
اسلامی فکر کی اساس یہ ہے کہ ایک مسلمان ایسے غیبی حقائق کے وجود کا اقرار کرتا ہے جس کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس علم کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ پھر اسلامی فکر یہ بھی یقین رکھتی ہے کہ یہ کائنات سنن الہیہ کے مطابق چل رہی ہے ۔ اور ان سنن الہیہ میں سے بعض ایسے ہیں جن کا علم فریضہ خلافت فی الارض کے لئے ضروری ہے ۔ ان اصولوں کے ساتھ مضبوط اساسوں پر ہم آہنگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے ۔ چناچہ اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر کی وجہ سے انسان نہ علم ومعرفت سے محروم ہوتا ہے اور نہ حقیقت واقعیہ کے ادراک سے محروم ہوتا ہے ۔ اس عالم شہادت سے آگے ایک عالم غیب ہے اور اس عالم مغیبات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اپنے بندوں میں سے اگر اللہ چاہے تو کسی قدر علم کسی کو عطا کر دے ۔
ایمان بالغیب وہ دشوار گزار گھاٹی ہے جس کو انسان نے ضرور عبور کرنا ہے ۔ جب تک وہ اس مقام پر فائز نہیں ہوتا وہ حیوانی مقام سے بلند ہو کر انسانی مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ حیوان صرف ان امور کا ادراک کرسکتا ہے جو اس کے حواس کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس حقیقت کا ادراک صرف انسان ہی کرسکتا ہے کہ یہ کائنات صرف اسی قدر محدود نہیں ہے جو اس کے حواس میں آتی ہے یہ بہت ہی وسیع ہے بلکہ اس سے بھی وسیع تر ہے جو بذریعہ آلات اس کے ترقی دادہ حواس کے دائرہ ادراک میں آرہی ہے ۔ یہ اسلامی تصور اس کائنات کے تصور سے کہیں وسیع تر تصور ہے بلکہ اس کائنات کے بارے میں انسان سوچ کے اندر یہ ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ یہ انسانی شخصیت کے بارے میں بھی انسانی سوچ میں ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ انسانی شخصیت کے اندر جو قوتیں کار فرما ہیں ان کے بارے میں بھی انقلابی سوچ ہے ۔ اس سوچ کے تحت ایک انسان کے اندر اس کائنات کے بارے میں اور اس کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کے بارے میں ایک نیا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اس تصور کے اثرات اس کرہ ارض پر انسان کی عملی زندگی پر بھی پڑتے ہیں اس لئے کہ وہ انسان جو صرف ماحول کا اپنے حواس کے ساتھ ایک محدود مشاہدہ کرتا ہے اس انسان کے مساوی نہیں ہو سکتا جو اپنی بصیرت اور اپنے نظریات کی وجہ سے اس کائنات کے بارے میں وسیع تر سوچ رکھتا ہے ۔ یہ عقلمند انسان فطرت کائنات کی آواز کو اپنی شخصیت کے نہاں خانے سے سنتا ہے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اشارات پاتا ہے ۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کا دائرہ کار زمان ومکان کی قید سے زیادہ وسیع ہے ۔ اور اس کی شخصیت اس سے کہیں وسیع ہے جو وہ سمجھتا ہے یا اپنی عمر کے ایک مختصر عرصے میں وہ سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ اس ظاہری اور پوشیدہ کائنات کے پس پست ایک عظیم حقیقت ہے اور یہ حقیقت اس کائنات سے بڑی اور اس کی خالق ہے ۔ اس عظیم حقیقت کے وجود ہی سے تمام کائنات کا وجود مستعاد ہے ۔ یہ ہے حقیقت باری تعالیٰ جسے آنکھیں نہیں پا سکتیں اور جو انسانی کی عقل کے احاطے میں نہیں آسکتی ۔
ایمان بالغیب وہ یونٹ ہے جہاں سے انسان اور حیوان کے راستے جدا ہوتے ہیں اور انسان عالم حیوانیت سے بلند ہوتا ہے ۔ لیکن ہر زمانے کی طرح ہمارے دور کے مادہ پرست بھی یہ چاہتے ہیں کہ انسان کو انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر عالم حیوانیت کی طرف لوٹا کرلے آئیں جہاں وہی چیز حقیقت سمجھی جاتی ہے جو حواس کے دائرے میں آتی ہے ۔ یہ مادیت پسند اس بات کو ترقی پسندی کہتے ہیں حالانکہ یہ دراصل رجعت پسندی اور ناکامی ہے جس سے اللہ نے مسلمانوں کو ابھی تک بچایا ہے ۔ لہذا ان کی امتیازی صفت ہی یہ قرار دی گئی کہ یومنون بالغیب (جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ یہ نکتہ گرنے والوں اور منہ موڑنے والوں کے لئے ہلکات اور تباہی کا مقام ہے ۔
جو لوگ غیب اور سائنس کا باہم تقابل کرکے بحث کرتے ہیں وہ تاریخی واقعات کی فیصلہ کن تعبیر کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک گویا مستقبل ان کے سامنے یقینی صورت میں موجود ہے حالانکہ جدید ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ مستقبل کا دارومدار محض احتمالات پر ہے ۔ مستقبل کے بارے میں انسان کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتا ۔
مارکس کی یہ عادت تھی کہ وہ تاریخی اسباب کی روشنی میں مستقبل کے لئے قطعی فیصلے کرتا تھا ۔ لیکن آج کا انسان بچشم سردیکھ سکتا ہے کہ مارکس کی ان تمام پیشین گوئیوں کا حشر کیا ہوا ؟
مارکس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سب سے پہلے انگلستان میں کمیونزم نافذ ہوگا کیونکہ انگلستان صنفی اعتبار سے چوٹی پر پہنچ چکا ہے ۔ وہاں ایک طرف سرمایہ دار عروج پر ہے اور دوسری جانب جانب مزدور فقر وفاقے کے اعتبار سے اپنی آخری منزل تک پہنچ چکا ہے ۔ لیکن بعد کے ادوار میں ہم نے دیکھا کہ نہایت ہی پسماندہ اقوام کے اندر کمیونزم کامیاب ہوا ‘ مثلا روس اور چین میں اور صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہممالک میں سے کسی ایک میں بھی کمیونسٹ انقلاب برپا نہ ہوا۔
لینن اور اسٹالن نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ سوشلسٹ دنیا اور سرمایہ دار دنیا کے درمیان کسی وقت بھی عالمگیر جنگ ہوگی ‘ لیکن ان دونوں کے خلیفہ خرد شیف باہم سلامتی اور دیانت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔ میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی پیشین گوئیوں پر مزید بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی یہ یقینی پیشین گویاں اس لائق نہیں کہ ان پر کوئی سنجیدہ بحث کی جائے ۔
یقینی حقیقت اگر کوئی ہے تو یہی غیبی حقیقت ہے اور اس کے سوا تمام باتیں محض احتمالات ہیں ۔ اگر کوئی حتمی بات ہے تو وہی ہے جس کا فیصلہ اللہ کی قضا وقدر نے کردیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اللہ نے کیا فیصلہ کیا ہے ‘ اس کا کسی کو علم نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔ ہاں تقدیر الہی کے اٹل حقیقت ہونے کے باوجود اس کائنات کے بارے میں کچھ سنن الہیہ ایسی بھی ہیں جو اٹل ہیں اور جو تقدیر الہیہ کا حصہ ہیں ۔ ان میں سے بعض سنن الہیہ تک انسان کی رسائی بھی ممکن ہے اور ان تک رسائی حاصل کرکے انسان اپنے منصب خلافت الہیہ کے فرائض کو بہت ہی اچھی طرح ادا کرسکتا ہے ۔ لیکن ان وسائل کے باوجود اللہ کا فیصلہ اور اس کی تقدیر سپریم ہے اور تقدیر الہی نامعلوم ہے ۔ یہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہے اور (ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم) (17 : 9) یہ قرآن کریم اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی سیدھی ہے ۔
اب روئے سخن غیب کے علوم کی کنجیوں سے اس کائنات کے ایک خاص پہلو کی طرف مر جاتا ہے ۔ یعنی ذات انسانی کی طرف جو اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور اللہ کی قدرت کے کرشموں میں سے اہم کرشمہ ہے جس سے اللہ کے علم محیط کا بہت ہی اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔
Ayah 6:60(آیت) ” نمبر 60۔
یہ چند مزید الفاظ ہیں ‘ اس سے پہلے چند کلمات میں عالم غیب کے طویل و عریض آفاق کے خطوط کھینچ دیئے گئے تھے اور سابق آیت کے محدود کلمات نے یہ واضح کردیا تھا کہ باری تعالیٰ کا علم کس قدر کامل اور شامل ہے ۔ اب ان زیر بحث چند کلمات اور محدود فقروں سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ انسان کی پوری زندگی مکمل طور پر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تمام امور اللہ کے علم ‘ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی تدبیر کے مطابق طے پا رہے ہیں ۔ انسان کا جاگنا اور سونا ‘ اس کا مرنا اور پیدا ہونا ‘ اس کا دوبارہ اٹھنا اور حساب و کتاب سب کے سب امر الہی کے مطابق طے ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے مطابق ہی طے ہوں گے ۔ یہ حقیقت قرآن کے مخصوص طرز ادا اور نہایت ہی ایجداز اور نہایت ہی موثر پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ طرز ادا نہایت ہی محسوس ‘ متحرک اور ایسے انداز میں ہے کہ پورا منظر اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور انسانی شعور اور جذبات کو ساتھ لئے ہوئے ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز طرز تعبیر میں ۔
(آیت) ” وھو الذی یتوفکم بالیل “۔ (6 : 60) وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے ۔ جب انسان نیند کی آغوش میں ڈوب جاتا ہے تو گویا وہ مر جاتا ہے ۔ حالت نوم بھی دراصل موت کی ایک قسم ہے ۔ جس طرح حالت موت میں انسان کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اسی طرح خواب میں بھی حواس معطل ہوجاتے ہیں اور انسان غافل ہوتا ہے ۔ حواس مردہ ہوجاتے ہیں ‘ عقل رک جاتی ہے اور انسان کا فہم وادراک بھی ختم جاتا ہے ۔ یہ ایک راز ہے جو ابھی تک انسانی فہم سے باہر ہے کہ انسانی قوتیں حالت خواب میں کس طرح رک جاتی ہیں ۔ اگرچہ ہم حالت خواب کے آثار کو جانتے ہیں لیکن اس کی حقیقت تک انسان نہیں پہنچ سکا کہ یہ حالت کس طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی ایک حالت غیبی ہے جس طرح دوسری غیبی حالات انسان کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں ۔ لیکن جب انسان اس حالت میں پہنچتا ہے تو اس کی تمام قوتیں اس سے سلب ہوجاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ فہم وادراک کی قوت سے بھی انسان محروم ہوجاتا ہے ۔ ایک مخصوص وقت تک کے لئے انسان آثار حیات سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کے قبضہ قدرت میں جا پہنچتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان خواب میں چلا جائے تو صرف اور صرف ارادہ الہی اسے حالت بیداری میں لاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے ! کہ انسان جب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو تو وہ کس قدر کمزور وناتواں ہے ۔
(آیت) ” ویعلم ما جرحتم بالنھار “۔ (6 : 60) ” اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اسے جانتا ہے ۔ “ انسانوں کے اعضاء حالت بیداری میں پورا دن جو حرکات کرتے ہیں جو پکڑتے ہیں اور جو چھوڑتے ہیں ‘ جو اچھے کام کرتے ہیں اور جو برے کام کرتے ہیں ‘ سب کے سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ تمام کے تمام انسانوں کی حرکات و سکنات اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہیں اور ان کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں جاتی ۔
(آیت) ” ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (6 : 60) ” آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ۔ “ جس طرح ایک ریوڑ چرنے چگنے کے بعد واپس اپنی جائے قیام اور اپنے مالک کی طرف لوٹتا ہے اسی طرح انسان واپس اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹتا ہے ۔
(آیت) ” ثم ینبکم بما کنتم تعملون “۔ (6 : 60) ” پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ؟ “ اس وقت ان کا وہ اعمال نامہ پیش ہوگا جس کے اندر ان کا ہر فعل درج ہوگا ۔ اور اس پر اس قدر حقیقی انصاف ہوگا جس میں ظلم کا شائبہ تک نہ ہوگا۔
غرض یہ آیت چند کلمات پر مشتمل ہے لیکن ان کلمات کے اندر ایک طویل ریل لپٹی ہوئی ہے ۔ اس کے اندر مختلف تصاویر اور مناظر پنہاں ہیں ۔ مختلف فیصلے ‘ مختلف اشارات اور ہدایت ثبت ہیں ۔ مختلف شیڈ اور رنگ ہیں ‘ کون ہے جو اس قدرت مختلف کلمات میں یہ رنگ بھر سکتا ہے ۔ اگر یہ آیات معجز نہیں ہیں تو پھر کون سا کلام معجز ہو سکتا ہے ۔ لیکن تعجب ہے کہ تکذیب کرنے والے اور کفر کا رویہ اپنانے والے ان سے غافل ہیں اور مادی معجزات اور خوارق کے طلبگار ہیں اور اللہ کے عذاب الیم کو دعوت دے رہے ہیں ۔
Ayahs 6:61–62(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔
(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔
یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیارات عطا کر دے ‘ ان کو وافر مقدار میں علم ومعرفت دے دے اور ان کو وافر مقدار میں قوت دے دے تاکہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت ارضی کے تقاضے پورے کرسکیں ۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انسانی زندگی کے تمام سانس اللہ کے ہاں مقرر ہیں اور انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے اس قانون قدرت کے مطابق ہیں جو اس نے خود انسانوں کے وجود میں جاری اور ساری کردیئے ہیں اور انسان خود اپنے وجود کے ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ اور یہ قوانین بھی نفس انسانی اور حرکات انسانی کے اندر متعین اور مقرر ہیں ۔
(آیت) ” ویرسل علیکم حفظۃ “۔ (6 : 61) ” اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے ۔ “ یہاں آیت میں ان نگرانوں کی نوعیت کو متعین نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور وہ تمام اعمال ریکارڈ کر رہے ہیں جو انسانوں سے صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں صرف اس امر پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ ہر انسان براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہے اور انسانی سوچ میں یہ شعور ڈالنا ہے کہ نفس انسانی کو ایک لحظہ کے لئے بھی آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی وہ کسی وقت تنہا ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرتے رہتے ہیں اور اس قدر مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کرتے ہیں کہ ان کی نظروں سے کوئی بات بچ کر نہیں رہتی ۔ یہ ایک ایسا تصور اور ایسی سوچ ہے جس کے نتیجے میں مکمل انسانی شخصیت بیدار ہوجاتی ہے اور وہ ہر بات کو محسوس کرتی ہے ۔
(آیت) ” حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون “۔ (6 : 61) ” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ “ یہ اسی ربانی نگرانی کا رنگ ہے ‘ لیکن مختلف شیڈز میں ‘ یعنی ہر انسان کے لئے اس دنیا میں سانس لینے کی تعداد مقرر ہے ۔ اس کے ان سانسوں کے رک جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زاوے سے اجل مقرر ہے ۔ لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زوایے سے اجل مقرر ہے جو اس کے لئے غیب ہے اور اس کا علم اسے کسی ذریعے سے بھی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اللہ کے علم میں وہ پہلے سے تحریری طور پر ثبت ہے اور ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے ۔ اس دنیا سے اس کے جانے کا وقت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہے ‘ اس کے اندر کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس میں بھول چوک ممکن ہے ۔ اللہ کے نمائندے تیار کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ فرشتے ہوتے ہیں اور ان کا نظام نہایت ہی محفوظ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی موت کا وقت تحریری طور ثبت ہے لیکن انسان سخت غفلت میں ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے اپنا فرض نہایت ہی باریک بینی سے ادا کرتے ہیں ۔ وہ اپنا پیغام وقت پر پہنچاتے ہیں ۔ یہ سوچ اور یہ عقیدہ ہی ایک غافل انسان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی اور شافی ہے ۔ اس عقیدے کا حامل انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے فیصلے اسے پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں ۔ ہر وقت وہ یہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ اگلے ہی لمحے میں اس کی روح قبض ہو سکتی ہے اور اگلے ہی سانس میں اس کی حرکت قلب رک سکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم ردوا الی اللہ مولھم الحق “۔ (6 : 62) ” پھر سب کے سب اللہ ‘ اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں ۔ “ حقیقی آقا وہی ہے جس نے انہیں یہاں اس کرہ ارض پر زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کئے اور ان پر یہاں ان کی پوری زندگی کا ریکارڈ تیار کرنے کے لئے اپنے نگران مقرر کئے جو بالکل کوئی کمی بیشی نہیں کرتے ۔ اس کے بعد وہی آقا ہے کہ جب چاہتا ہے ان انسانوں کو اپنے پاس بلا لیتا ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں اپنی مرضی سے فیصلہ کرے اور اس کے فیصلے پر کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ۔
(آیت) ” الالہ الحکم وھو اسرع الحسبین “۔ (6 : 62) ” خبردار ہوجاؤ ‘ فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے ۔ “ صرف وہی فیصلہ کرتا ہے ‘ وہ خود ہی حساب لیتا ہے ۔ وہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرتا ۔ اور نہ جزاوسزا میں تاخیر کرتا ہے ۔ جلدی فیصلہ کرنے کے اثرات بھی انسانی زندگی پر نہایت ہی گہرے ہوتے ہیں ۔ انسان سوچتا ہے کہ اللہ کے ہاں نہ حساب میں دیر لیتا ہے اور نہ فیصلہ کرنے میں ۔
ایک مسلمان کی یہ سوچ کہ اللہ اس کا خالق ہے اور ایک دن اسے مرنے ہے اور اللہ کے سامنے اپنی پوری زندگی کا حساب و کتاب پیش کرنا ہے اسے ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ اس سوچ کے مطابق اس کے عقائد کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ وہ صرف اللہ وحدہ کو حقیقی حاکم سمجھنے لگتا ہے اور اس کا یہ منطقی عقیدہ ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بندوں کے تمام امور اللہ کے حکم کے مطابق طے ہونے چاہئیں ۔
آخرت کا حساب و کتاب اور آخرت میں سزا وجزاء کے فیصلے بہرحال اس دنیا میں کیے گئے اعمال پر مرتب ہوتے ہیں اور لوگ اس دنیا میں اس وقت تک صحیح طرز عمل اختیار نہیں کرسکتے جب تک ان کے لئے کسی شریعت کی شکل میں مربوط ضابطہ عمل موجود نہ ہو جس میں ان کے لئے حلال و حرام کی حد بندی کردی گئی ہو اور جس کے اوپر ان کا اخروی حساب و کتاب ہو۔ اس طرح اس تصور حیات کے مطابق یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں بھی حاکم اللہ ہے اور آخرت میں بھی حاکم اللہ ہے ۔
اگر طے یہ کردیا جائے کہ دنیا میں اللہ کی شریعت کے سوا کوئی اور قانون رائج ہوگا تو پھر آخرت میں ان سے مؤاخذہ اور حساب و کتاب کس ضابطہ عمل پر ہوگا ؟ کیا ان کے اعمال کا موازنہ قیامت کے روز ان قوانین کے مطابق ہوگا جو دنیا میں عملا نافذ نہ تھی اور نہ یہ لوگ اپنے فیصلے اس شریعت کے مطابق کراتے تھے ؟ یہ صورت حال ہر گز ممکن نہیں ہے ۔
لوگوں کو چاہئے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ ان سے حساب و کتاب خود اپنی شریعت کے مطابق لے گا ۔ اگر انہوں نے اپنی پوری زندگی کو اور اپنے معاملات کو اللہ کی شریعت کے مطابق نہ ڈھالا ‘ جس طرح وہ اپنے مراسم عبودیت شریعت کے مطابق بجا لاتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان سے حساب لیتے وقت سب سے پہلے اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اور یہ کہ کیوں انہوں نے اللہ کے سوا کئی دوسرے الہوں کو حاکم اور شارع مقرر کیا اور تسلیم کیا ۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کو حاکم اور رب قرار کیوں نہ دیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پہلا حساب یہ لیا جائے گا کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کیوں کیا یا انہوں نے اللہ کی شریعت کے ساتھ ساتھ دوسرے شرائع کا اتباع کرکے اور اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگی کر کے شرک کا ارتکاب کیوں کیا ؟ انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی میں اپنے اقتصادی اور سیاسی نظام میں ‘ اپنے معاملات اور سوشل روابط میں اللہ کے سوا دوسروں کی پیروی کرکے شرک کا ارتکاب کیوں کیا جو ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے سوا سب کوتاہیوں سے درگزر کرتا ہے ‘ اگر چاہے ۔
اب اللہ تعالیٰ انہیں عدالت فطرت میں پیش فرماتے ہیں ‘ کیونکہ خود فطرت انسانی کو حقیقت الہیہ کا شعور ہوتا ہے ۔ فطرت انسانی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ مشکل لمحات میں بارگاہ الہیہ میں پناہ لیتی ہے ۔ قرآن ایسے بعض شدید لمحات کی تصویر کشی بڑی سرعت سے ہوتی ہے اور یہ منظر اسکرین پر آکر چلا جاتا ہے ۔ لیکن یہ منظر نہایت ہی دو ٹوک ‘ فیصلہ کن ‘ موثر اور حیران کن ہوتا ہے ۔
یہ ہولناک اور کربناک صورت حال ہمیشہ قیامت کے لئے مؤخر نہیں کردی جاتی ، کبھی کبھار اس دنیا میں بھی انسان ایسے حالات سے دوچار ہوتا ہے ۔ مثلا بحری سفر میں انسان کو جو مشکلات پیش آتی ہیں تو ان میں مشرکین بھی ہمیشہ اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی پھر لوگوں کو نجات دیتے ہیں ۔ لیکن جب وہ اس مشکل اور خوفناک صورت حالات سے بخیریت نکل آتے ہیں اور نارمل زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پھر شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں ۔
Ayahs 6:63–64(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔
خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)
(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔
یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں :
(آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64)
” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔
یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :
Ayah 6:65(آیت) ” نمبر 65۔
اگر کوئی مصیبت سر کے اوپر آکر پڑتی ہے یا پاؤں کے نیچے سے کوئی مصیبت پھوٹتی ہے تو اس کا تصور دائیں بائیں سے آنے والی مصیبتوں سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے اس لئے کہ انسان کی قوت واہمہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ دائیں بائیں سے آنے والی مصیبت کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن جو عذاب سرکے اوپر سے نازل ہو یا جو عذاب پاؤں کے نیچے سے ابل پڑے وہ انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ‘ اسے متزلزل کردیتا ہے ‘ اور انسان کی محدود قوت پر غالب آجاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں ٹھہرنا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ انداز بیان ایسا ہے جو انسان کے شعور واحساس میں اس قوی فیکٹر کو اجاگر کرتا ہے اور انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ اللہ کا عذاب جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔ اللہ کسی بھی وقت بندوں کو پکڑنے کی قدرت رکھتا ہے ۔
اس آیت میں عذاب کی ان قسموں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ‘ عذاب کی ان اقسام کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جو نہایت ہی دھیمی رفتار سے اور طویل زمانے کے بعد انسان پر آتی ہیں ۔ ان اقسام کا عمل لمحہ بھر یا مختصر عرصے میں پورا نہیں ہوجاتا ۔ یہ اقسام انسان کی ساتھی بن جاتی ہیں ‘ انسان کی آبادی اور اس کی پوری زندگی میں رچ بس جاتی ہیں اور رات دن انسان کی رفیق سفر رہتی ہیں ۔
(آیت) ” اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض “۔ (6 : 65) ” یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ “ اللہ کے دائمی اور طویل المدت عذاب کی یہ ایک اور شکل ہے ۔ یہ عذاب انسانوں پر خود اپنے ہاتھوں آتا ہے اور وہ خود اسے گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں ‘ وہ یوں کہ اللہ انہیں گروہوں اور پارٹیوں میں تقیسم کردیتا ہے ‘ یہ گروہ اور احزاب ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوجاتے ہیں ‘ وہ ایک قسم کی پارٹیاں ہوتی ہیں ‘ عوام ان فرقوں کے اندر فرق و امتیاز بھی نہیں کرسکتے ۔ ان فرقوں کے درمیان جدل وجدال قائم رہتا ہے ۔ ایک طویل دشمنی قائم ہوجاتی ہے اور ان میں سے ایک فرقہ دوسرے کے لئے بلائے جان ہوتا ہے ۔
انسانیت نے اپنی تاریخ کے مختلف وقفوں میں اس قسم کے عذاب کو محسوس کیا ہے ۔ جب بھی انسان نے اپنی اجتماعی زندگی سے اسلامی نظام حیات کو بدر کیا ہے ‘ انسان اس عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔ جب بھی اسلام کو ترک کر کے انسانوں نے اپنی خواہشات اور میلانات کی پیروی شروع کی ہے اور اپنی کوتاہیوں ‘ کمزوریوں اور جہالتوں کو اپنا اصول بنایا ہے وہ اس قسم کے عذاب سے دو چار ہوئے ہیں ۔ جب بھی لوگ راہ گم کردیتے ہیں اور اپنے لئے خود نظام زندگی بنانے لگتے ہیں ‘ اپنے لئے رسم و رواج اور اجتماعی قوانین خود بنانے لگتے ہیں اور حسن قبح کے پیمانے خود تجویز کرنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں انسانوں میں سے بعض لوگ بعض دوسرے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں ۔ بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے تجویز کردہ نظام زندگی کی اطاعت کریں ۔ اور یوں وہ دوسروں کے غلام بن جائیں اور اس کے مقابلے میں بعض دوسرے لوگ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یوں فریق اول ان مخالفین پر حتی المقدور مظالم ڈھانے لگتا ہے ۔ اب دو فریق میدان میں ہوتے ہیں ۔ ان دونوں کی خواہشات ‘ میلانات اور مقاصد ومفادات کے درمیان ٹکراؤ ہوجاتا ہے ۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھتے ہیں ۔ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ‘ ایک دوسرے پر غصہ ہوتے اور ان سب تضادات کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ دونوں فریق کسی ایک پیمانے پر متفق نہیں ہوتے ۔ وہ پیمانہ معبود نے سب کے لئے تجویز کیا ہے جس کے مطابق تمام لوگ رب ذوالجلال کے بندے ہوتے ہیں ۔ اس رب کے سامنے کوئی بھی جھکنے سے نہیں کتراتا نہ وہ اس عبادت اور جھکنے میں اپنے لئے کوئی سبکی محسوس کرتا ہے ۔
اس کرہ ارض پر سب سے بڑا فتنہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ دوسرے لوگ انہیں الہ سمجھتے ہوئے انکی بندگی کریں اور ان کے حق حاکمیت کو تسلیم کریں ۔ یہ وہ فتنہ ہے جس کی وجہ سے انسان گروہوں میں بٹ کر باہم دست و گریبان ہوجاتے ہیں اس لئے کہ بظاہر تو وہ ایک ہی قوم اور ایک امت نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت ایک دوسرے کے غلام اور بندے ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض لوگوں کی ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے اور وہ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ اس اقتدار میں وہ اللہ کی شریعت کے پابند نہیں ہوتے ۔ بعض دوسرے جن کے ہاتھ میں اقتدار نہیں ہوتا ان کے دل میں اہل اقتدار کے لئے نفرت اور بغض ہوتا ہے یہ صاحبان اقتدار اور ان سے اقتدار چھیننے کی فکر کرنے والے متربصین (گھات میں بیٹھنے والے) ایک دوسرے کی طاقت اور دشمنی کا مزہ چکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے نہ علیحدہ ہوتے اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی فاصلہ ہوتا ہے ۔ وہ ایک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۔ آج اس کرہ ارض پر تمام انسانیت اللہ کے اس عذاب میں مبتلا ہے اور یہ اللہ کا وہ عذاب ہے جو نہایت ہی دھیمی رفتار سے اپنا کام کرتا ہے ۔
اس وقت اس کرہ ارض پر اسلامی تحریک کا جو موقف ہے وہ قابل التفات ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اسلامی تحریک کے موقف کو دنیا پر چھائی ہوئی جاہلیت سے بالکل علیحدہ اور ممتاز کردیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ جاہلیت ہے کیا ؟ ہر صورت حال ‘ ہر حکومت اور ہر معاشرہ جس پر اسلامی شریعت کی حکمرانی نہ ہو ‘ وہ جاہلیت ہے ۔ ہر وہ صورت حال جس میں اللہ وحدہ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کیا جاتا ہو جاہلیت ہے ۔ اس جاہلیت اور اسلامی تحریک کے موقف کے درمیان مکمل جدائی ضروری ہے ۔ تحریک اسلامی کو ہر قوم اور ہر معاشرے کے اندر جو جاہلیت میں رہتی ہو اور جاہلی قوانین اور اقدار نافذ کرنا چاہتی ہو خود اپنا ایک مستقل اور جدا وجود اور تشخص قائم کرنا چاہئے اور اسے جدا نظر آنا چاہئے ۔
اسلامی تحریک عذاب الہی کی اس دھمکی کی زد سے صرف اس صورت میں نجات پاسکتی ہے کہ وہ شعوری نظریاتی اور اپنے نظام زندگی کے اعتبار سے اہل جاہلیت سے مکمل طور پر علیحدہ ہوجائے ، آیت کے یہ الفاظ ” یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں ۔ “ اور یہ مکمل جدائی اور علیحدہ تشخص اس وقت تک قائم رہے جب تک اللہ ہمیں دارالاسلام قائم کرنے کی توفیق نہیں دے دیتا ۔ اسلامی تحریک کے اندر یہ شعور زندہ رہنے چاہئے کہ وہی حقیقی امت مسلمہ ہے اور اس کے اردگرد جو معاشرہ عملا موجود ہے وہ ابھی تک اسلامی امت کا حصہ نہیں بنا ہے ۔ یہ لوگ حاملین جاہلیت ہیں ۔ اس نظریے اور اس منہاج پر تحریک اسلامی کو دوسرے لوگوں سے جدا ہونا چاہئے ۔ اس کے بعد اسے بارگاہ الہی میں دست بدعا ہونا چاہئے کہ اے اللہ ہمارے اور ہماری اس قوم اور اس معاشرے کے اندر حق کے اوپر فیصلہ کر دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔
اگر تحریک اسلامی یہ امتیاز اور جدائی اختیار نہیں کرتی تو مذکورہ بالا وعید اور دھمکی کی مستوجب ہوگی ۔ وہ کسی مخصوص معاشرے میں ایک گروہ اور فرقہ بن جائے گی ‘ اور یہ فرقہ بھی دوسرے فرقوں کے ساتھ خلط ملط ہوگا ۔ اس کا کوئی علیحدہ تشخص نہ ہوگا اور نہ اپنے ماحول کے اندر ان کی کوئی امتیازی شان ہوگی ۔ اس پر بھی وہ عذاب نازل ہوگا جو دوسرے لوگوں پر ہوگا اور یہ ایک دائم اور طویل عذاب ہوگا ۔ اور یہ امید تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی فتح اور نصرت نصیب ہوگی جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے ۔
اپنے معاشرے سے مکمل جدائی اور امتیاز کی وجہ سے بعض اوقات بہت بڑی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور مصائب کے پہاڑ بھی ٹوٹے ہیں ۔ لیکن یہ مصائب اور نـقصانات ان مصائب اور نقصانات سے کہیں کم ہوتے ہیں جو اس صورت میں کسی اسلامی تحریک پر آتے جب وہ جاہلی معاشرے میں خلط ملط ہو اور اس کا موقف واضح اور ممتاز نہ ہو اور وہ جاہلی معاشرے میں مدغم اور پیوستہ رہے اور آخر کار ہر کہ درکان نمک رفت ۔ نمک شد ہوجائے ۔
اس نکتے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انبیاء ورسل کی تاریخ کا مطالعہ کریں رسولوں کی تاریخ سے یہ بات نظر آتی ہے کہ جب تک رسولوں کے متبعین نے اس وقت کے موجود جاہلی معاشرے سے اپنے آپ کو مکمل طور پر علیحدہ نہیں کرلیا ‘ اس وقت تک انہیں وہ فتح اور نصرت حاصل نہیں ہوئی جس کا اللہ نے تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور رسول آخر کار غالب ہوں گے ۔ کسی امت کو بھی غلبہ اور کامیابی اس وقت تک نصیب نہیں ہوئی جب تک وہ اس وقت کے جاہلی معاشرے سے کٹ کر علیحدہ نہیں ہوگئی ۔ اور انہوں نے دوسرے لوگوں سے نظریہ اور نظم زندگی علیحدہ اور ممتاز نہیں کرلیا ۔ اس علیحدگی اور امتیاز سے مراد یہ نہیں ہے کہ اسلامی تحریک لوگوں سے معاشرتی بائیکاٹ کر دے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اپنے نظریہ حیات اور اپنے دین اور نظام کے اعتبار سے ممتاز ہو ۔ یہ وہ یونٹ ہے جس سے اسلامی تحریکوں اور دوسرے لوگوں کی راہ جدا ہوجاتی ہے ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دعوت اسلامی کا منہاج وہی ہوگا جس کے مطابق رسولوں نے دعوت دی ۔ اس راہ میں وہی مقامات ہیں جو رسولوں کو پیش آئے ۔
(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُونَ (65)
” دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔ “
درس نمبر 63 ایک نظر میں :
سابق لہر میں اہل حق و باطل کے درمیان مکمل جدائی کے مضمون پر خاتمہ ہوا تھا ۔ اس لہر میں اس کی مزید تفصیل دی گئی ہے ۔ یہ حضور ﷺ کی قوم ہی تھی ۔ جس نے اس کتاب کو جھٹلایا جو آپ پر نازل ہوئی تھی اور وہ کتاب بڑحق تھی ۔ اسی نکتے پر حضور ﷺ اور آپ کی قوم کی راہیں جدا ہوگئیں اور آپ ﷺ نے ان سے علیحدہ ہو کر اپنی راہ لی ۔ آپ ﷺ کو اللہ نے حکم دیا کہ آپ ان سے علیحدہ ہوجائیں اور اعلانیہ کہہ دیں کہ میں تمہارا حوالہ دار نہیں ہوں اور یہ کہ اب میں تمہیں تمہاری تقدیر کے حوالے کرتا ہوں اور تم برے انجام تک پہنچنے والے ہو ‘ وہ عنقریب آنے والا ہے ۔
رسول ﷺ کو یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ جب وہ اسلام پر نکتہ چینیاں کررہے ہوں تو آپ ان کی مجلس میں نہ بیٹھیں اس وقت جبکہ وہ دین اسلام کے ساتھ مذاق کررہے ہوں اور دین اسلام کا شایان شان احترام نہ کر رہے ہوں ۔ لیکن اس جدائی اور امتیاز کے ساتھ ساتھ حکم یہ ہے کہ انہیں انجام بد سے ڈرایا جاتا رہے اور وعظ وتبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رہے ۔ یہ صورتحال بہرحال موجود رہنی چاہئے کہ اہل دعوت اور اہل جاہلیت ایک قوم ہونے کے ساتھ ساتھ دو الگ فرقے ہوں ‘ دو علیحدہ امتیں ہوں ۔ اس لئے کہ اسلام میں رنگ ونسل اور خاندان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ یہاں تو اتحاد وافتراق کا مدار نظریے ‘ اور عقیدے کی اساس پر ہے ۔ یہ نظریہ اور عقیدہ ہی ہوتا ہے جو نکتہ اتفاق یا مقام افتراق ہوتا ہے ۔ جب دینی اساس پائی جائے تو لوگ متحد ہوجاتے ہیں اور جب دینی عنصر مفقود ہو تو تمام دوسرے روابط کٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس یہی اس لہر کا مختصر مضمون ہے ۔