6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔

(آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54) ” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “ نعمت ایمان کے بعد یہ ان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس سے حساب و کتاب میں بہت ہی نرمی ہوگی اور جزاء میں نہایت ہی فیاضی اور فراوانی ہوگی ۔ اس قدر عظیم رحمت اور یقینی رحمت کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر اس فعل کو فرض کرلیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ بعد سلام ایسے مومنین آیات الہی کو خوشخبری بھی دے دیں کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر کا سلوک ہوگا بشرطیکہ وہ توبہ اختیار کریں اور صالحانہ روشن اپنائیں ۔ اسی لئے بعض مفسرین نے جہالت کی تعریف یہ کی ہے کہ کوئی ارتکاب ذنوب پر جما ہوا ہو ورنہ جو شخص بھی ارتکاب جرم کرتا ہے وہ جاہلت ہی کی وجہ سے کرتا ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق اس نص میں ہر وہ گناہ شامل ہوگا جو کسی سے صادر ہو اور جب وہ توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو گناہ معاف ہوجائے گا ۔ اس رائے کی تائید ان آیات ونصوص سے بھی ہوتی ہے جن میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ توبہ اور اس کے بعد اصلاح حال سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ وہ رحمت الہی ہے جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے مناسب ہے کی بعض اہم احادیث کا یہاں تذکرہ کردیا جائے جو ان واقعات و حالات کے بارے میں ہیں جن میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان آثار و احادیث اور اس آیت کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین اسلام اس وقت انسانیت کے اندر کس قدر عظیم انقلاب لا رہا تھا ۔ اس وقت معاشرتی اعتبار سے اسلام نے انسانیت کو جس مقام بلند تک پہنچا دیا تھا ‘ انسانیت آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکی ہے ۔ طبری نے صناد ‘ ابو زید ‘ اشعث کردوس اور حضرت ابن مسعود کے سلسلہ میں روایت سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ قریش کے کچھ کبراء حضور ﷺ کے پاس سے گزرے ‘ اس وقت آپ ﷺ کے پاس صہیب ‘ عمار ‘ بلال ‘ خباب اور ان جیسے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم تمام مسلمانوں میں زیردست لوگ تھے ۔ ان کبراء نے کہا : ” اے محمد ﷺ کای تم نے اپنی قوم سے ان لوگوں کو منتخب کیا ہے ؟ کیا ہم میں سے اللہ نے صرف ان لوگوں پر احسان کیا ہے ؟ کیا ہم ان لوگوں کے زیر اطاعت آجائیں ؟ آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے بھگا دیں ‘ اگر آپ نے ایسا کیا تو ممکن ہے کہ ہم تمہارے مطیع ہوجائیں اس واقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم ۔۔۔۔۔۔۔ (53) (6 : 52۔ 53) تک۔ طبری نے حسین ابن عمرو ابن محمد عنقزی ‘ انہوں نے اپنے والد ‘ انہوں نے بعض دوسرے لوگوں اور انہوں نے سدی اور ابو سعید ازدی سے نقل کیا ہے ۔ یہ ازد قبیلہ کے قاری تھے ۔ انہوں نے خباب سے اس آیت ۔ (آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) کے بارے میں کہا کہ اقرع ابن حابس تمیمی اور عینیہ ابن حصن فزاری آئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ بلال ‘ صہیب ‘ عمار ‘ خباب اور دوسرے ضعیف اور کمزور اہل ایمان کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے جب ان ضعفاء کو دیکھا تو انہیں حقیر سمجھا ۔ یہ دونوں حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ‘ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ہمراہ ایک جگہ بیٹھیں جس کی وجہ سے عربوں کے اندر ہماری عزت ہو ‘ کیونکہ آپ کے پاس عربوں کے وفود آتے جاتے ہیں لیکن ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ہمیں عرب آپ کے پاس ان دوسرے درجے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پائیں ۔ جب ہم آپ لوگوں کے پاس آئیں تو آپ ذرا ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کریں ۔ جب ہم چلے جائیں تو پھر آپ آزاد ہیں ان کے پاس بیٹھیں یا نہ بیٹھیں ۔ آپ نے فرمایا ” درست “ اس پر ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں آپ ایک پروٹوکول پر دستخط فرما دیں ۔ راوی کہتا ہے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی ؓ کو بلایا کہ انہیں یہ بات لکھ دیں ۔ راوی کہتا ہے ہم ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیَ (52) ” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے پڑھا ۔ (آیت) ” وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53) ” دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ “۔ اور اس کے بعد پڑھا ۔ (آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ۔ (6 : 54) ” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کردیا ہے ۔ “ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کاغذ پھینک دیا ۔ اور ہمیں بلایا اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے ۔ (آیت) ” سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ “۔ (6 : 54) اس کے بعدہم آپ کے پاس بیٹھا کرتے اور جب آپ جانا چاہتے تو خود اٹھ کر چلے جاتے اور ہم اپنی جگہ پر ہوتے ۔ اس کے بعد سورة کہف کی یہ آیت (واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالعدواۃ والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا (18 : 28) ” اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح وشام اسے پکارتے ہیں اور ان سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو “۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو “۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے رہتے اور جب وقت ہوجاتا تو ہم خود اٹھ جاتے اور آپ ﷺ کو اکیلا چھوڑتے کہ آپ ﷺ اٹھ کر چلے جائیں ۔ (ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس حدیث پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ ” یہ حدیث غریب ہے ۔ یہ آیت مکی ہے ‘ اور اقرع ابن حابس اور عیینہ ہجرت کے بہت بعد میں مسلمان ہوئے ہیں ۔ “ لیکن اس تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ان کی اس روایت کا تعلق ان کے اسلام کے پہلے کے واقعہ سے ہے ۔ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ اس واقعے کے وقت وہ مسلمان ہوچکے تھے ۔ لہذا ان کے اسلام اور اس روایت کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔ کیونکہ جب حضور ﷺ نے ان کی بات تسلیم نہ کی تو انہوں نے اس وقت اسلام سے اعراض کردیا ۔ (سید قطب) اس کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو دیکھتے ان کو سلام کرنے میں پہل فرماتے اور فرماتے ” خدا کا شکر ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں انہیں پہلے سلام کروں ۔ “ صحیح مسلم میں عائذ ابن عمر کی روایت ہے کہ ابو سفیان آیا اور مجلس میں سلمان ‘ صہیب ‘ بلال ؓ اجمعین اور دوسرے لوگ بیٹھے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا : ” خدا کی قسم اللہ کی تلواروں نے خدا کے دشمنوں میں سے جس مقام تک پہنچنا چاہئے تھا نہ پہنچ سکیں ۔ “ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : تم لوگ یہ ریمارکس شیخ قریش اور ان کے سردار کے بارے میں پاس کررہے ہو ؟ ابوبکر ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اس واقعہ کی اطلاع آپ ﷺ کو دی تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” تم نے ان کو ناراض تو نہیں کردیا ؟ اگر تم نے ان لوگوں کو ناراض کردیا ہے تو تو نے رب کو ناراض کردیا ہے ۔ “ ابوبکر ؓ فورا ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا ” بھائیو ! کیا تم میری بات سے ناراض تو نہیں ہوگئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا :” نہیں تو ‘ بھائی تمہیں اللہ معاف کر دے ۔ ذرا ٹھہرو ‘ یہ غور کا مقام ہے اور اس پر ذرا طویل وقفہ کرو۔ ان آیات پر غور کرو ‘ بلکہ تمام انسانیت کا یہ حق ہے کہ وہ اس مقام پر رکے ار دیر تک غور کرے ۔ ان آیات میں انسان کے خالی خولی حقوق اور چمکدار اصولوں اور اقدار ہی کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان آیات میں جو بات کہی گئی ہے وہ انسانی حقوق سے بھی بہت بلند اور اہم ہے ۔ یہاں ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو عملا لوگوں کی زندگیوں میں موجود ہے اور یہ وہ عظیم انقلاب ہے جو اسلامی نظام حیات نے پوری انسانیت کی زندگی میں عملا برپا کیا ۔ ذرا آسمان انسانیت کے افق پر نگاہ ڈالو ‘ وہ ہے بلند اور باریک لکیر جس تک کبھی یہ انسانیت پہنچی تھی اور کاغذوں پر نہیں ملا وہاں تک پہنچی تھی آج ذرا غور کرو کہ وہی انسانیت اس ریکارڈ مقام سے کس قدر نیچے گر گئی ہے اس لئے کہ انسانیت دین اسلام کی قیادت سے محروم ہوگئی ہے ۔ انسانیت جس قدر بھی گر جائے اس ریکارڈ کی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔ اس انقلاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے کیونکہ تاریخ کے ایک دور میں انسانیت اس مقام تک پہنچی ہے ۔ یہ ریکارڈ عملا قائم ہوا ہے اور انسان نے یہ خط ایک دن اپنے عمل سے افق انسانیت پر رقم کیا ہے ۔ انسانیت کو چاہئے کہ اس مقام بلند تک دوبارہ پہنچنے کی سعی کرے اس لئے کہ اسلامی انقلاب نے اس چوٹی کو ایک بار سر کیا ہے ۔ دوبارہ اس مقام تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ وہ دیکھو افق انسانیت پر مسلمانوں کے نقوش پا موجود ہٰں ۔ اب بھی انسان وہاں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اب بھی دین اسلام موجود ہے ۔ صرف عزم یقین اور اعتماد کی ضرورت ہے ۔ ان آیات کی اہمیت یہ ہے کہ ان میں انسانیت کے اس عظیم سفر کے نقوش پا کو دائما مرتسم کردیا گیا ہے ۔ ان آیات میں اس تاریخی عمل کو ریکارڈ کردیا گیا جس کے ذریعے اسلام نے عربوں کو جاہلیت کی گراٹوں اور گندگیوں سے اٹھا کر اس مقام بلند تک پہنچا دیا تھا اور پھر ان کے ہاتھ میں پوری انسانیت کی قیادت دے دی تھی ۔ انہوں نے اطراف عالم میں پوری انسانیت کو ہاتھ سے پکڑا اور افق انسانیت میں اس ریکارڈ لکیر تک اٹھا دیا جسے کوئی اور نظام تک عبور نہیں کرسکا ۔ انسانیت عموما اور عرب خصوصا جس قعر مذلت میں گرے ہوئے تھے ‘ ان آیات میں اس کا تصور سردار قریش کے ان الفاظ کے اندر بالکل واضح ہے ۔ کہتے ہیں : ” محمد تم نے اپنی قوم میں سے صرف ان لوگوں کو چن لیا ہے ؟ کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو چھوڑ کر ‘ احسان کیا ہے ؟ اور کیا اب ہم ان لوگوں کے مطیع فرمان ہوجائیں ؟ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے بھگا دیں ۔ اگر آپ نے انہیں اپنی مجلس سے رخصت کردیا تو امید ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کرلیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اقرع ابن حابس اور عیینہ ابن حصن فزاری نے جو الفاظ کہے ان میں بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس وقت دنیا کس قعر مذلت میں گری ہوئی تھی ۔ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے اصحاب سابقین اولین کے بارے میں اس حقارت آمیز انداز میں کلام کرتے ہیں کہ بلال ‘ صہیب ‘ عمار اور خباب ؓ اجمعین جیسے لوگ دوسرے درجے کے لوگ ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ اہل عرب ہمیں ان جیسے ضعفاء اور غلاموں کے ساتھ ایک ہی مجلس میں بیٹھے ہوئے دیکھیں کیونکہ حضور ﷺ کے پاس تو ہر وقت عالم عرب سے وفود آتے رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کا موقف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ان کا بیٹھنا ان کے لئے باعث ننگ ہے ۔ اس جگہ جاہلیت کا سیاہ چہرہ بےنقاب ہوجاتا ہے اور اس کی حقیر رسمیں اور کمزور اقدار کھل کر سامنے آجاتی ہیں ۔ قوم ‘ نسب اور مال و دولت کی بنیاد پر قائم ہونے والی عصبیت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے ۔ ان فقراء میں سے بعض لوگ سرے سے عرب ہی نہ تھے ۔ بعض دوسرے ایسے تھے کہ انکا تعلق وقت کے نام نہاد شرفاء میں سے نہ تھا اور بعض ایسے تھے جو مالدار نہ تھے ۔ یہی وہ اقدار ہیں جن کو دنیا کی ہر جاہلیت نشوونما دیتی ہے ۔ دور جدید کی جاہلیتیں بھی آج تک اس قسم کے تصور قومیت ‘ تصور نسل اور مالی لحاظ سے اٹھنے والے طبقاتی تصور سے بلند نہیں ہو سکیں ۔ یہ ہیں جاہلیت کی گراوٹیں اور پستیاں اور یہ ہے اسلام کی سربلندی اور علو شان ۔ اسلام کی نظر میں ان قومی ‘ نسلی اور طبقاتی نعروں کا کوئی وزن نہیں ہے اور نہ ان پست اور سطحی تصورات کا کوئی اعتبار ہے ۔ اسلام وہ نظام ہے جو آسمان سے نازل ہوا ‘ یہ کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو زمین سے اگا ہو۔ اس لئے کہ زمین کے اندر تو پستیاں موجود ہیں اور یہ پستیاں ایسی شور زدہ ہیں کہ ان کے اندر ایسے خیالات کے پودے اگ ہی نہیں سکتے کیونکہ اسلامی پودا نہایت ہی پاکیزہ درخت ہوتا ہے ۔ اسلام کی اطاعت سب سے پہلے محمد رسول اللہ ﷺ کرتے ہیں جو اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور جن پر آسمانوں سے وحی آتی ہے ۔ وہ قریش کی ایک سرکردہ شاخ بنی ہاشم کے فرد ہیں ۔ پھر اسلام کی اطاعت حضرت ابوبکر ؓ کرتے ہیں ‘ جو حضور ﷺ کے ساتھی ہیں۔ یہ حضرات سب سے پہلے ان غلاموں کے بارے میں ان زیردستوں کے بارے میں اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہیں ۔ یہ غلام اور زیردست وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا تمام غلامیوں کا جو اپنی گردن سے اتار پھینکا ہے صرف اللہ کے غلام بن گئے ہیں اور صرف اللہ کے غلام ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں مذکورہ بالا انقلابی ہدایات آئیں ۔ جس طرح قریش کے ان سرداروں کی باتوں میں جاہلیت کی پستیاں عیاں ہیں اور اقرع اور عیینہ کی ذہنیت میں یہ گراوٹیں نمایاں ہیں اس طرح کلام الہی کے اس حصے میں بھی علو شان عیاں ہے ۔ حضور ﷺ کو ان الفاظ میں ہدایات دی جاتی ہیں ۔ ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔ (آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53) وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54) جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “ اسلام کی یہ سربلندی اس روپے سے عیاں ہوتی ہے جو حضور ﷺ نے ان غلاموں کے ساتھ اختیار کیا جس کے بارے میں اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ آپ ان کو سلام کرنے پہلے کریں اور جب وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو اس وقت تک انتظار کریں جب تک وہ خود اتھ نہیں جاتے حالانکہ حضور محمد ابن عبد اللہ ابن ہاشم تھے ‘ اس کے سوا آپ پیغمبر خدا تھے اور خیرالخلائق تھے اور ان لوگوں کے سرخیل تھے جن کی وجہ سے انسانیت اور زندگی کو شرف نصیب ہوا ۔ ان غلاموں کی ذہنیت سے بھی اسلامی نظریہ حیات کی سربلندی عیاں ہے ۔ وہ اللہ کے ہاں اپنے مرتبے کا احساس رکھتے ہیں ۔ وہ اللہ کی راہ میں چلنے والی تلواروں کے کام اور فرائض کے بارے میں بھی احساس رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی تلواریں ہیں ۔ ابو سفیان قریش کا شیخ اور سردار ہے اور وہ اسلامی صفوں میں اس لئے پیچھے رہ گیا کہ وہ فتح مکہ کے بعد عام معافی کے نتیجے میں ایمان لایا ، یہ غلام اس لئے پہلی صفوں میں چلے گئے کہ انہوں نے مشکل دور میں دعوت اسلامی پر لبیک کہا اور شدید ابتلا میں ڈالے گئے ۔ جب حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں ابو سفیان کے معاملے میں ڈانٹا تو حضور ﷺ نے انہیں سخت متنبہ کیا اور کہا کہ تم نے ان لوگوں کو غصہ تو نہیں دلایا ۔ اگر تم نے انہیں ناراض کیا ہے تو گویا تم نے اللہ کو ناراض کردیا ہے ۔ آج کے دور میں ہمارا کوئی تبصرہ یہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ہم تو صرف سادہ الفاظ میں اس واقعہ کو نقل کرسکتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ فورا اٹھ کر ان کے پاس واپس جاتے اور پوچھتے ہیں ” بھائیو ! تم ناراض تو نہیں ہوگئے ہو ۔ “ وہ جواب دیتے ہیں ” نہیں بھائی ‘ اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ “ یہ کس قدر حیران کن واقعہ ہے جو انسانی تاریخ میں رونماہوا ؟ یہ کس قدر عظیم انقلاب تھا جو انسانی زندگی میں رونما ہوا ؟ جس کے اندر اقدار بدل گئیں ‘ طور طریقے بدل گئے ۔ لوگوں کا شعور بدل گیا اور ان کے خیالات بدل گئے اور یہ تمام تغیرات آنا فانا واقع ہوئے جبکہ علاقے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ لوگ بدل نہیں گئے تھے اور اقتصادی نظام جوں کا توں تھا ۔ نظریات کے سوا تمام حالات زندگی جوں کے توں تھے ۔ بس آسمان سے ایک پیغام آیا ‘ وہ ایک بشر پر آیا ‘ یہ صرف اللہ کی حاکمیت کا پیغام تھا ۔ انسانی فطرت تہ بہ تہ آلودگیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ لوگ جاہلیت کی پستیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اس پیغام لانے والے نہیں پکارا ‘ اس پکار کی وجہ سے ان کی قوتوں نے جوش مارا اور اس جوش میں وہ پستیوں سے اٹھ کر بلند ترین چوٹیوں پر چڑھ گئے ۔ یہ برتری انہیں صرف اسلام کی برکت سے نصیب ہوئی ۔ پھر تاریک نے دیکھا کہ یہ لوگ ان بلندیوں سے پستیوں میں جا جا کر گرنے لگے ۔ اور آخر کار دوبارہ پستیوں تک پہنچ گئے ، آج نام نہاد تہذیب کے مراکزواشنگٹن ‘ نیویارک ‘ شکاگو اور جو ہانسبرگ وغیرہ میں یہ گندی عصبیتیں دوبارہ عروج پر ہیں ۔ رنگ اور نسل کے اساس پر آج پھر لوگوں نے عصبیتوں کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ کہیں وطنیت کا فتنہ ہے ‘ کہیں قومیت کا چرچا ہے ‘ کہیں طبقاتی جنگ برپا ہے اور ان جاہلیتوں کی گندگی جاہلیت عربیہ سے کچھ کم بدبودار نہیں ہے ۔ لیکن اسلامی نظام حیات آج بھی سرفراز ہے ۔ اس کے عروج کا خط آج بھی افق انسانیت پر ریکارڈ ہے ۔ آج بھی انسانیت کے لئے یہ نظام رحمت ہے اور امید کی کرن ہے کہ شاید دوبارہ انسانیت اس مقام تک اس کی قیادت میں پہنچ جائے اور اس گندے اور بدبودار تبخیر سے نکل آئے ۔ اس کی آنکھیں اور نظریں اوپر کو اٹھیں ۔ وہ دوبارہ اس ریکارڈ خط تک پہنچنے کی سعی کرے ۔ شاید وہ دوبارہ یہ میٹھی آواز سن سکے اور داعی اسلام کی حدی خوانی سے وجد میں آجائے اور اسلامی نقوش راہ پر چل کر دو بار اس بلند ترین ٹارگٹ تک جا پہنچے ۔ اس تفسیر میں ہم نے جو انداز اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے ان اجمالی اشارات سے آگے ہم نہیں جاسکتے ۔ جس قدر وقفہ ہم نے کرلیا اب اس سے زیادہ نہیں رک سکتے تاکہ ہم تمام انسانیت کو دعوت دے سکیں کہ وہ ان آیات پر غور کرے اور دیکھے کہ پوری انسانی تاریخ کے اندر یہ واقعہ کس قدر روشن اور چمکدار ہے ۔ اس کے اندر انسانیت نے نہایت ہی پستیوں سے اسلامی نقوش راہ پر چلتے ہوئے بلندی حاصل کی اور وہ بلندیوں میں بہت دور تک جانکلی ۔ کس طرح آج کی مادی اور بےدین تہذیب کی قیادت میں وہ دوبارہ گری اور اب اس کی حالت یہ ہے کہ انسانیت ایک ایسا جسم ہے جس میں کوئی روحانیت نہیں ہے ۔ انسان ہیں مگر وہ نظریہ حیات سے محروم ہیں ۔ یہ بھی معلوم کرلیں اسلام میں کس قدر صلاحیت ہے کہ وہ دوبارہ قائدانہ مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ خصوصا تاریخ کے ایسے موڑ پر جبکہ تمام تجربے ‘ تمام مکاتب فکر ‘ تمام طرز ہائے حیات ‘ تمام نظامہائے زندگی ‘ تمام تصورات حیات اور تمام افکار ‘ جو انسانوں کے خود ساختہ تھے اور جن میں دین اسلام سے ہدایت نہ اخذ کی گئی تھی وہ زندگی کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ یہ تمام افکار انسانی زندگی کو اس سربلندی تک یہ پہنچا سکے جس تک اسلامی نظام نے اسے پہنچایا تھا ۔ یہ تمام تصورات انسانیت کو عزت واحترام کا وہ مقام نہ دلا سکے جو اسے اسلام کے زیرسایہ نصیب ہوا ۔ انسانوں کو وہ اطمینان نہ دلا سکے جو اسلام نے انہیں عطا کیا ۔ خصوصا وہ انقلاب جو اسلامی نظام نے عربوں میں رونما کیا ‘ بغیر اس کے کہ لاکھوں انسانوں کو ذبح کیا جائے ‘ بغیر اس کے کہ کروڑوں پر تشدد کیا جائے ‘ بغیر اس کے کہ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے کیمپوں میں بند رکھا جائے ‘ بغیر تشدد ‘ بغیر بےچینی ‘ بغیر ایذا رسانی ‘ بغیر بھوک اور بغیر فقر اور بغیر ان انقلابات کے جن کی زد میں انسانیت آتی رہتی ہے اور جس میں کچھ لوگ دوسروں کو جسمانی یا روحانی طور پر غلام بنا لیتے ہیں ۔ اللہ کی غلامی کے سوا اور غلامیاں راسخ ہوجاتی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں اسی قدر کلام کافی ہے اور یہ آیات بذات خود جو گہرے اثرات نفس انسانی پر چھوڑتی ہیں وہ کسی تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے پارہ 30 میں سورة عبس کی تشریح ملاحظہ فرمائیں)
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔

(آیت) ” نمبر 55۔ یہ اس لہر کا خاتمہ ہے ۔ اس میں حقیقت رسالت اور مزاج رسول کی بڑی خوبی سے وضاحت کی گئی ہے اور اسلامی نظریہ حیات کو بھی کسی بغیر لاگ ولپیٹ کے بتایا گیا ہے ۔ ان اقدار حیات کو بھی واضح کیا گیا ہے ۔ جن کے غلبے کے لئے اسلام اس جہان میں آیا اور ان کو بھی جدا کردیا گیا جن کی بیخ کنی کے لئے اسلام اٹھا ۔ (آیت) ” وکذلک نفصل الایت “۔ (6 : 55) (اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں) کیوں اس لئے کہ (آیت) ” لتستبین سبیل المجرمین “۔ (6 : 55) (تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے) یعنی اس انداز ‘ اس منہاج اور اس طرز کلام کے ساتھ ہم بیان مدعا کرتے ہیں ۔ بڑی تفصیلات کے ساتھ جن کے بعد سچائی کی پہچان میں کسی شک کی گنجائش نہی رہتی ۔ بات میں کوئی اجماع یا پیچیدگی نہیں رہتی اور اس فصاحت کے بعد سچائی کو تسلیم کرنے کے لئے کسی معجزے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ سچائی واضح ہوجاتی ہے ‘ بات کھل جاتی ہے اور قرآنی انداز کلام کے مطابق ۔ اس پوری سورة کے اندر بیان ہونے والے شواہد و دلائل کے مطابق حقائق وواقعات کی روشنی میں یہ امور تفصیل آیات کے مفہوم میں شامل ہیں۔ مقصد مجرموں کی راہوں کو جدا کرنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات اور اس کی اساس پر تحریک برپا کرنے کے لئے قرآن کا منہاج کیا ہے ؟ (لتستبین) قرآن کا منہاج وانداز یہ نہیں ہے کہ وہ فقط مومنین وصالحین کی راہوں کی نشاندہی کر دے ‘ بلکہ قرآن کا منہاج تحریک یہ ہے کہ قرآن کریم گمراہوں اور مجرموں کے طور طریقوں کی وضاحت بھی کرتا ہے ۔ مجرموں کی راہوں کی وضاحت بذریعہ تنقید باطل بےحد ضروری ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ اہل حق کے راستے کی وضاحت ہو ۔ یہ دعوت اسلامی کے واضح خطوط ہیں جن پر ہمیں چلنا ہے ۔ حق و باطل کا طریقہ کار یہاں سے جدا ہوجاتا ہے ۔ اسلام کا منہاج عمل اللہ نے متعین کیا ہے اور یہ اس لئے متعین کیا گیا ہے کہ اس منہاج کے مطابق نفوس انسانی کا علاج کیا جائے ۔ اللہ کو اس بات کا خوب علم تھا کہ سچائی وبھلائی پر پختہ یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب بھلائی کے مقابلے میں شر اور سچائی کے مقابلے میں جھوٹ پر بھی نظر رکھی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ یہ باطل خالص جھوٹ اور شر محض ہے جس کے مقابلے میں حق خالص سچائی اور خیر محض ہے ۔ نیز حق وصداقت کی حمایت پر انسان اس وقت آمادہ ہوتا ہے جب وہ یہ یقین کرلے کہ اس سچائی کا مقابلہ جو قوت کر رہی ہے وہ باطل ہے ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوت باطلہ مجرموں کی راہوں کی مسافر ہے اور مجرمین وہ قوت ہیں جن کے بارے میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم یہ تصریح کرتا ہے کہ ہر نبی کا کوئی دشمن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین ) (اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے ایک دشمن پیدا کیا) یہ اس لئے تاکہ نبی اور مومنین کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے کہ ان کا دشمن مجرم ہے اور ان کا یہ عقیدہ پختہ یقین ‘ اعتماد اور شرح صدر پر مبنی ہو۔ کفر ‘ شر اور مجرمانہ حرکات کی وضاحت ‘ ایمان ‘ بھلائی اور اصلاح کے لئے نہایت ضروری ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ مجرمین کے راستوں کی وضاحت آیات الہیہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ‘ مجرمین کے موقف اور ان کے طرز عمل کے بارے میں کوئی بھی شعبہ یا معمولی التباس خود مومنین کے موقف ‘ ان کے طرز عمل اور ان کی راہ میں شبہات پیدا کردیتا ہے ‘ اس لئے کہ دونوں تصویر کے دو رخ ہیں ‘ کتاب کے صفحات متقابل ہیں اور دو جدا جدا راستے ہیں ۔ دونوں کے الگ الگ رنگ ہیں جن کے درمیان امتیاز ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک اسلامی کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے کارکنوں کے فکر ونظر مومنین اور مجرمین کا راستہ ممتاز ہو۔ ہر تحریک کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے راستے کو متعارف کرائے اور اس کے بالمقابل مجرمین کے جو راستے ہیں ان پر تنقید کرکے ان کی کمزوریاں واضح کرے اور دونوں کے درمیان جو فرق و امتیاز ہے اسے کھول کر بیان کرے ۔ یہ فرق و امتیاز عالم واقعہ میں بھی ہو ‘ حقیقی ہو ‘ محض نظریاتی نہ ہو ‘ اس لئے کہ داعیوں اور ان کے کارکنوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس ماحول میں وہ کام کر رہے ہیں ان میں مومنین کون ہیں اور مجرمین کون ہیں ؟ نیز ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان مجرمین کا طریق کار کیا ہے ‘ ان کا منہاج کار کیا ہے اور ان کی علامات کیا کیا ہیں ۔ تاکہ ان کے ذہن میں دونوں راستوں اور منہاج کے اندر کوئی شبہ والتباس نہ ہو ۔ نہ عنوان ایک ہو اور نہ صفات اور خدوخال ایک ہوں ۔ مومنین اور مجرمین ان کے تصور میں ایک دوسرے سے اچھی طرح ممتاز ہوں ۔ جس وقت جزیزۃ العرب میں سب سے پہلے اسلام اور شرک کی مڈبھیڑ ہوئی ‘ اہل ایمان اور مجرمین کے درمیان یہ فرق و امتیاز بالکل واضح تھا ۔ دونوں کے راستے اچھی طرح ممتاز اور جدا تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کا راستہ مومنین کا راستہ تھا اور یہی آپ کے ساتھیوں کا راستہ تھا اور مجرمین کا راستہ ان لوگوں کا راستہ تھا جو تحریک اسلامی میں آپ کے ساتھ شامل نہ ہوئے تھے اور ایمان نہ لائے تھے ۔ اس حد بندی اور اس وضاحت کے ساتھ قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اور آیات الہیہ تفصیلات دے رہی تھیں ۔ جس کے نمونے اس سورة میں آپ نے دیکھے ۔ یہ آخری نمونہ تو سبیل المجرمین کی اچھی طرح نشاندہی کر رہا ہے ۔ جب اسلام نے شرک ‘ بت پرستی ‘ الحاد اور ان ادیان کا سامنا کیا جو اپنی اصل کے اعتبار سے ادیان سماوی تھے لیکن ان کے اندر بعد میں آنے والے انسانوں نے اپنی خواہشات کے مطابق تحریفات کردی تھیں ‘ تو اسلام نے ان ادیان ونظریات کے مقابلے میں مومنین کو ایک واضح موقف اور ایک صاف وسیدھا راستہ دیا ۔ جس طرح ان کافروں اور مشرکوں کی راہ واضح اور متعین تھی ‘ اور ان کے اندر کوئی بیس اور شک نہ تھا۔ لیکن آج عالم اسلام میں چلنے والی تحریکات اور انکے مخالفین کے درمیان راستے کی صفائی اور اس کا تعین نہیں ہے ۔ اور یہی بہت بڑی مشکل ہے ۔ یہ اسلامی تحریکات ایسے لوگوں کے درمیان چل رہی ہیں جو نسلی اعتبار سے مسلمان ہیں اور ایسے علاقوں میں چل رہی ہیں جو کسی وقت دارالاسلام میں شامل تھے ۔ کسی وقت ان علاقوں پر دین اسلام کی حکمرانی تھی اور شریعت ان علاقوں کا بنیادی قانون تھی ۔ پھر ان علاقوں نے اور ان اقوام نے حقیقی اعتبار سے اسلام کو چھوڑ دیا ‘ صرف نام کے مسلمان رہ گئے اور انہوں نے اسلام کے بنیادی عناصر کو عملا اور اعتقادا ترک کردیا ۔ اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلا رہے کہ انہوں نے عقیدے کے اعتبار سے اسلام کو اپنایا ہوا ہے ۔ حالانکہ اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ اور حاکم نہیں ہے ۔ اس شہادت کے اندر یہ مفہوم شامل ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ وہ اس کائنات کا خالق اور اس میں متصرف ہے ۔ انسان صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اسی کے احکام کے مطابق پوری زندگی بسر کریں گے ۔ انسانوں کا یہ فرض ہوگا کہ صرف اللہ سے اپنے قوانین اخذ کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں ۔ جو شخص اس مفہوم کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتا تو اس نے نہ کلمہ شہادت پڑھا اور نہ وہ اسلام میں داخل ہوا ۔ چاہے اس کا نام اور اس کا لقب اور اس کی نسل اور نسب جو بھی ہو ۔ جس سرزمین پر بھی کلمہ شہادت اپنے اس مدلول کے ساتھ جاری نہ ہو تو اس سرزمین کو ہم دارالاسلام نہیں کہہ سکتے اور نہ وہ سرزمین سرزمین اسلام ہے ۔ اس کرہ ارض پر لوگوں کی بڑی بڑی قومیں آباد ہیں جن کے نام مسلمانوں کے ناموں جیسے ہیں اور یہ لوگ ہیں بھی مسلمانوں کی نسلوں سے ۔ ان لوگوں کے علاقے بھی کسی وقت دارالاسلام تھے لیکن ان میں سے آج کوئی قوم بھی لا الہ الا اللہ کی شہادت اس مفہوم کے مطابق نہیں دیتی اور نہ کسی ملک میں لوگ اس مفہوم کے مطابق نظام حکومت چلاتے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ صورت حال ہے ‘ جس کا مقابلہ آج ان ملکوں میں اسلامی تحریکات کر رہی ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ان کا رابطہ ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ۔ ان تحریکات کو یہ مشکل درپیش ہے کہ نام نہاد مسلمانوں کے اندر لا الہ الا اللہ کا مفہوم نہیں سمجھا جاتا ۔ اور نہ لوگ لفظ اسلام کو اس کے صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ نہ تو جاہلیت کے مفہوم سے آگاہ ہیں اور نہ ہی شرک کی حقیقت سے ۔ اس کے علاوہ اسلامی تحریکات کو یہ مشکل بھی درپیش ہے کہ خود صالح مسلمانوں کے سامنے صحیح راستہ متعین نہیں ہے ۔ ان کا راستہ مجرموں اور مشرکوں کے راستہ سے جدا نہیں ہے ۔ دونوں کے نشانات وعنوانات ایک ہیں ۔ دونوں کے نام اور اوصاف ایک جیسے ہیں اور دونوں ایک ناپیدا کنار صحرا میں گم گشتہ راہ ہیں ۔ اسلامی تحریکات ‘ اس کمزوری کو اچھی طرح جانتی ہیں ‘ لیکن وہ اس عظیم کوتاہی کے بارے میں خاموش ہیں ۔ یہ خاموشی محض وسعت قلبی ‘ بےراہ روی ‘ منافقت اور حق و باطل کے درمیان ملاوٹ کی وجہ سے اختیار کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس پوائنٹ پر جو شخص سچی اور فیصلہ کن بات کرتا ہے وہی الٹا مجرم بن جاتا ہے ۔ اس کی پکڑ دھکڑ شروع ہوجاتی ہے اور اس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ شخص مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے ۔ اس طرح ان لوگوں کے نزدیک مسلمان وہ نہیں ہوتا جو اقوال خدا اور اقوال رسول کے مطابق مسلمان ہو بلکہ مسلمان وہ ہوتا ہے جو ان کی اپنی اصطلاحات اور ان کے رسم و رواج کے مطابق مسلمان ہو ۔ یہ ہے وہ عظیم مشکل جو اسلامی تحریکات کی راہ میں مائل ہے ۔ لیکن تمام اہل دعوت کے لئے لازم ہے کہ وہ اس مشکل مسئلے کو حل کر کے آگے بڑھیں ‘ وہ جہاں بھی ہوں اور جس دور میں بھی ہوں ۔ مناسب یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کی تحریک کا آغاز یوں کی جائے کہ ابتداء ہی سے مومنین اور مجرمین کی راہیں بالکل علیحدہ اور متعین ہوجائیں ۔ اہل دعوت جب کام کا آغاز کریں تو حق اور صداقت کا اظہار بغیر کسی مداہنت کے دو ٹوک الفاظ میں کریں ۔ وہ بغیر کسی خوف اور لاگ لپیٹ کے بات کریں ۔ ان کی بات میں کوئی پیچیدگی نہ ہو اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ ان کے دل میں کوئی خوف اور ڈر نہ ہو ۔ نہ وہ اپنے دل میں اس بات کا خوف پیدا ہونے دیں کہ ان کے خلاف کوئی مخالفانہ آواز اٹھے گی اور یہ کہا جائے گا ” دیکھو یہ لوگ تو مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ اسلام کا موقف یہ نہیں ہے جو ان بےراہ رو لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے ۔ اسلام کا راستہ واضح ہے ‘ جس طرح کفر کی راہ بالکل واضح ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کا اقرار درج بالا مفہوم کے ساتھ کیا جائے ۔ جو شخص اس مفہوم کے ساتھ کلمہ طیبہ کا اقرار نہیں کرتا اور جو شخص اپنی زندگی میں کلمہ طیبہ کو اس مفہوم کے اندر قائم نہیں کرتا تو اس کے بارے میں اللہ اور رسول اللہ کا حکم یہ ہے کہ وہ ظالم ‘ فاسق اور کافر ہے اور مجرم ہے ۔ ذرا پھر پڑھیے (آیت) ” وَکَذَلِکَ نفَصِّلُ الآیَاتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ (55) ” اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔ “ یاد رکھیے دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس گھاٹی کو سر کریں ۔ اپنی راہ سے اس رکاوٹ کو ہٹائیں ۔ وہ اپنے نظریات کے اندر خلوص اور للہیت پیدا کریں تاکہ وہ اپنی پوری قوتوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوں ۔ کوئی شبہ ان کی راہ نہ روک سکے ‘ کوئی التباس ‘ کوئی مداہنت اور کوئی بےراہ روی ان کی راہ میں حائل نہ ہو ‘ اس لئے کہ ان کی قوتیں اس وقت تک کھل کر کام نہ کرسکیں گی جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور یہ کہ جو لوگ ان کی راہ روکے کھڑے ہیں اور ان کو اور تمام دوسرے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکے ہوئے ہیں وہ مجرمین ہیں ۔ یہ بات بھی تحریک اسلامی کے حاملین کے پیش نظر رہے کہ اقامت دین کے مسئلے کو جب تک کفر و ایمان کا مسئلہ نہ تصور کیا جائے گا اس وقت تک کوئی بھی اس راہ کی مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا ۔ جب تک ایک مسلمان یہ یقین نہ کرلے کہ اس کی راہ اور اس کی قوم کی راہ بالکل جدا ہے ‘ یہ کہ اس کی ملت اور اس کی قوم کی ملت جدا ہے اور یہ کہ ان کا دین اور ان کی قوم کا دین جدا ہے ۔ ذرا پھر دہرائیے ۔ (آیت) ” وَکَذَلِکَ نفَصِّلُ الآیَاتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ (55) ” اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔ “ صدق اللہ العظیم ۔ درس نمبر 62 ایک نظر میں : حقیقت رسول ﷺ اور حقیقت رسالت کے بیان کے بعد اب روئے سخن دو بار حقیقت الوہیت کی طرف پھر گیا ہے ۔ ان حقائق پر سابقہ لہر میں بحث کی گئی تھی ۔ ان تمام لہروں کا باہم گہرا ربط ہے ۔ حقیقت رسول اور حقیقت رسالت کے بعد یہ بھی واضح کیا گیا کہ رسول کا راستہ مومنین کا راستہ ہے اور اس کے مقابلے میں تمام راستے مجرمین کے راستے ہیں ۔ اس لہر میں شان کبریائی کا اظہار کئی رنگوں اور کئی میدانوں میں ہوتا ہے ۔ ان کی تفصیلات تو ہم تشریح آیات کے ضمن میں دیں گے البتہ یہاں ہم ان کی طرف اجمالی اشارات کریں گے ۔ حقیقت الوہیت کا چراغ قلب رسول میں روشن ہے ۔ رسول کا دل اعتماد اور یقین کی شراب طہور سے بھر پور ہوتا ہے ۔ اگر پوری دنیا بھی اس حقیقت کو جھٹلا دے تو رسول ثابت قدم رہتا ہے اس کے پائے یقین میں کوئی لغزش نہیں آتی ۔ اس لئے رسول اللہ اعلان کردیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے ہوگئے ہیں اور وہ اس معاملے میں ان لوگوں سے مکمل علیحدہ راہ اپنا لیتے ہیں جو اس بارے میں متزلزل ہوتے ہیں اور یہ جدائی رسول کے پختہ یقین اور عزم کی وجہ سے ہے ۔ (آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَہْوَاء کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (56) قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) (6 : 56۔ 57) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ “ کہو : ” میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا ‘ راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ۔ “ کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔ شان کبریائی کا اظہار اس حلم اور برداشت سے بھی ہوتا جس کا برتاؤ اللہ تعالیٰ ان مکذبین کے ساتھ فرماتے ہیں ۔ وہ تو مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر خارق عادت معجزے کا وقوع ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کے جواب میں نہایت ہی بردباری کا عمل اختیار فرماتے ہیں اور یہ اس لئے کہ اگر کسی خارق عادت معجزے کا ظہور ہوجائے اور پھر وہ تکذیب کریں تو سنت الہیہ کے مطابق پھر ان پر نزول عذاب لازم ہوجائے گا اور ہر قسم کا عذاب نازل کرنا اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر نزول عذاب کو خود حضرت نبی کریم ﷺ کے اختیار میں دے دیا جاتا تو ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا اس کے پیش نظر یہ خطرہ تھا کہ حضور ﷺ ان پر یہ عذاب نازل ہی کردیتے کیونکہ انہوں نے بار بار حق جھٹلا کر آپ کو دل تنگ کردیا تھا اور آپ کی قوت برداشت سے یہ صورت حال باہر ہوگئی تھی ۔ لہذا ایسے حالات میں بھی ان کو مہلت دے دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی حلیم و حکیم ہے اور اس سے شان کبریائی کا ظہور بھی ہوتا ہے ۔ (آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58) ” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔ شان کبریائی کا ظہور اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور اس کائنات کے اندر جو واقعہ بھی ہوتا ہے ‘ اس کا علم اسے احاطے میں لئے ہوئے ہے اور یہ علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے ۔ اس غیب کا یہ نقش اور یہ صورت صرف اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ (آیت) ” وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَۃٍ إِلاَّ یَعْلَمُہَا وَلاَ حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ (59) ۔ ” اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بحروبر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے ‘ درخت سے گرنے والا کوئی پتا ایسا نہیں ہے جس کا اسے علم نہ ہو ‘ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو ‘ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔ “ اس کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں پر مکمل گرفت حاصل ہے ۔ وہ ہر حال میں اللہ کے کنٹرول میں ہیں ‘ سوتے ہوں یا جاگتے ‘ زندہ ہوں یا مردہ اور دنیا میں ہو یا آخرت میں ہوں۔ (آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفَّاکُم بِاللَّیْْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَی أَجَلٌ مُّسَمًّی ثُمَّ إِلَیْْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (60) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَیُرْسِلُ عَلَیْْکُم حَفَظَۃً حَتَّیَ إِذَا جَاء أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُونَ (61) ثُمَّ رُدُّواْ إِلَی اللّہِ مَوْلاَہُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَہُ الْحُکْمُ وَہُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ (62) (6 : 60 : 62) ” وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ۔ پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو ‘ آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔ ؟ اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ پھر سب کے سب اللہ اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس جاتے ہیں ۔ خبردار ہوجاؤ کہ سارے اختیارات اس کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ یہ شان کبریائی خود ان لوگوں کے اس فطری ردعمل کے وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب یہ جھٹلانے والے کسی خطرے سے دو چار ہوتے ہیں ۔ اس وقت یہ لوگ دوسرے شرکاء کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں کہ وہ اس خطرے کو ٹال دے لیکن اس کے باوجود پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اس خطرے کو ٹالنے کے لئے وہ جس خدا کو پکارتے تھے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں کسی دوسرے ایسے عذاب سے دوچار کر دے جس کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ بچے ۔ (آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63) قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64) قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْْکُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِکُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَیُذِیْقَ بَعْضَکُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُونَ (65) ۔ (6 : 63 تا 65) (اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ کہو ” وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے ‘ یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے ‘ یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ “ دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔ “ )
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” نمبر 56 تا 58۔ یہ لہر ہدایت اور اشارات سے بھری پڑی ہے ۔ اس میں قلب انسانی پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کے ذریعے حقیقت الوہیت کو نظروں کے سامنے لایا گیا ہے ۔ ان مؤثرات اور ضربات میں سے اہم اور گہرا موثر اس میں لفظ قل کا تکرار ہے ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو کیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف سے آنے والے ہر پیغام کو پہنچا دیں ۔ یہ وہ پیغام ہے جو کسی اور گروہ کے پاس نہیں ہے ‘ کوئی اور اس پیغام کا حامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ پیغام کسی اور پر القا ہوتا ہے ۔ (آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَہْوَاء کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (56) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ “ کہو : ” میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا ‘ راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ۔ “ حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان فرما دیں کہ آپ کو ان لوگوں کی بندگی کرنے اور انکی پیروی کرنے سے خدا نے منع کردیا ہے جن کی بندگی اور پیروی تم مشرکین کرتے ہو ۔ میں تمہارے معبودوں کو کسی صورت میں اپنے رب کا ہمسر نہیں بنا سکتا ۔ اس لئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا کہ میں لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہیں وہ محض اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے ان لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کا ہمسر بناتے ہیں ۔ وہ کسی علم یا دلیل کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہے ۔ اور نہ اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ انکے نزدیک یہ کوئی حق بات ہے ۔ نیز یہ کہ اگر میں ان لوگوں کی پیروی کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہ رہوں گا کیونکہ جن لوگوں پر ان کی خواہشات مسلط ہوتی ہیں وہ لازما گمراہی کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ مشرکین کے ساتھ اس انداز میں ہمکلام ہوں ۔ ان کے ساتھ اس انداز میں دو ٹوک بات کریں ۔ اس سورة میں اس سے پہلے بھی حضور ﷺ کو حکم دیا جا چکا ہے ۔ (آیت) ” أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ۔ ” کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسراخدا بھی ہے ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “ مشرکین مکہ حضور ﷺ کو یہ پیشکش کرتے رہے تھے کہ آپ انکے دین کو مان لیں اور وہ آپ کے دین کو تسلیم کریں گے ۔ آپ ان کے خداؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور وہ آپ کے الہ واحد کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید اس قسم کی مصالحت مسالت کا امکان ہے اور یہ کہ ایک ہی دل میں شرک اور توحید جمع ہو سکتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ غیر اللہ کی بندگی اور پیروی کے ساتھ ساتھ اللہ کی بندگی اور پیروی بھی ممکن ہے حالانکہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے شریکوں کو تسلیم کرے ۔ وہ تو یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے بندے صرف اور صرف اس کی بندگی کریں ۔ اللہ کو وہ بندگی سرے سے قبول ہی نہیں ہے جس میں شرک کا کوئی شائبہ تک موجود ہو ‘ چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ حضور ﷺ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ آپ ﷺ کو ان کی بندگی سے منع کردیا گیا ہے جن کی یہ لوگ بندگی کرتے ہیں یا جنہیں وہ الہ کہتے ہیں ۔ لیکن یہاں انداز تعبیر یوں ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ” الذین “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قابل غور ہے اس لئے کہ الذین کا لفظ ذوالعقول کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اگر مراد صرف بتوں سے ہوتی یا دوسرے بےجان معبود مراد ہوتے تو یہاں لفظ (ما) استعمال ہوتا (الذین) استعمال نہ ہوتا ۔ لہذا یہاں بتوں اور دوسرے حجر وشجر سے کوئی اور مخلوق مراد ہے جنکے لئے لفظ الذین استعمال ہوا ہے ۔ ان معبودوں کے لئے الذین کی ضمیر استعمال بتاتا ہے کہ معبود ذوالعقول تھے ۔ اس تعبیر کی تائید دو باتوں سے ہوتی ہے ایک تو واقعی تاریخی حائق سے اور دوسری اسلامی اصطلاحات سے ۔ تاریخی واقعہ یہ ہے کہ مشرک صرف پتھر کے بتوں اور درختوں کی پوجا نہ کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ وہ جنوں ‘ فرشتوں اور انسانوں کو بھی پوجتے تھے ۔ انسانوں کی پوجا اس طرح کرتے تھے کہ وہ انسانوں کو قانون سازی اور افراد کے لئے راہنمائی کا حق دیتے تھے یہ انسان ان کے لئے رسم و رواج قوانین اور ضابطے بناتے تھے جن کے مطابق ان کے ہاں اجتماعی عمل ہوتا اور تنازعات کے فیصلے ہوتے ۔ ان انسانوں کی رائے اور دوسرے انسانوں کے رواج کے مطابق ۔ اب ہم اسلامی اصطلاحات کی طرف آتے ہیں۔ اسلام اسے شرک تصور کرتا ہے ۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ انسانوں کے امور زندگی میں کچھ دوسرے انسانوں کو حاکم بنانا اس طرح ہے جس طرح انہیں کوئی اپنا الہ بنا لے اور انہیں اللہ کا شریک اور ہمسر بنا دے ۔ اسلام میں اس حرکت سے اسی طرح منع کرتا ہے جس طرح اسلام بتوں اور پتھروں کی پوجا سے منع کرتا ہے ۔ یہ دونوں کام اسلام کے عرف میں برابر اور مساوی درجے کے منکرات ہیں ۔ یہ صریح شرک ہے اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانا ہے ۔ اب پہلی چوٹ کے ساتھ متصلا دوسری چوٹ لگتی ہے ۔ یہ دوسری ضرب پہلی ضرب کی تکمیل ہے اور اس سے متصل ہے ۔