6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی وجہ سے قتل کیا اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اللہ پر افتراء پردازی کر کے حرام ٹھہرا لیا ۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔

آیت ” نمبر 140۔ یہ ایک عام اور مطلق خسارہ ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ۔ ان کا اپنا بھی خسارہ ہے اور آنے والی نسلوں کا بھی خسارہ ہے ۔ ان کا فکری خسارہ ہے اور روحانی خسارہ ہے اور انکی آزادی کا خسارہ ہے کہ اللہ نے تو انہیں انسانوں کی غلامی سے چھڑایا اور انہیں رب کی غلامی میں داخل کیا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی میں دوبارہ داخل کردیا ۔ اور ان انسانوں کو اپنا حاکم بنا لیا ۔ ان تمام امور سے صرف نظر بھی کیا جائے تو انہوں نے ضلالت اختیار کرلی ہے اور ہدایت کی راہ کو ترک کردیا ہے ۔ آیت ” قَدْ ضَلُّواْ وَمَا کَانُواْ مُہْتَدِیْنَ (140) ” یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ “ اس کے بعد قرآن کریم انہیں اس کائنات کی پہلی حقیقت کی طرف لاتا ہے جسے انہوں نے بھلادیا تھا اور آغاز کلام میں آیت ۔ آیت ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ “۔ (6 : 136) میں اشارہ کردیا تھا ۔ انہیں اس حقیقت کی طرف لایا جاتا ہے کہ جن فصلوں اور مویشیوں کے متعلق وہ ایسے نامعقول قواعد واضع کرتے ہیں ‘ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کا اصل اور مصدر کیا ہے ۔ وہ ان کے بارے میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین کی ہدایات لیتے ہیں جبکہ ان کو ان جنوں اور شیطانوں نے پیدا نہیں کیا ۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ان فصلوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ۔ ان چیزوں کو تمہارے سازوسامان کے طور پر پیدا کیا گیا اور تم انہیں استعمال کر رہے ہو ۔ تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم شکر خدا وندی بجا لاؤ اور صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ حالانکہ اللہ کو تمہارے شکر اور تمہاری بندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو غنی اور رحمتوں والا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حقائق و عقائد تو خود انسانوں کی دنیا وآخرت کو سدھارنے کے لئے بتلائے جاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک چیز کے مالک و خالق نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کے پیدا کردہ فصل اور مویشی ہیں لیکن انسان اللہ کی مخلوق کو تقسیم کر کے کچھ بتوں کو دے دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہیں ۔ پھر اللہ کے حصے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اور یوں شیطانوں کو خوش کرتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ ہی خالق ‘ مالک اور رازق ورب ہے ‘ اور ان مالوں میں کوئی تصرف اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اس کا اذن اسلامی شریعت کی صورت میں موجود ہے ۔ اور یہ شریعت اللہ کی جانب سے رسول اللہ لائے ہیں ۔ اللہ کا اذن ان غاصبوں کے جاری کردہ قوانین کو حاصل نہیں ہے ۔ جنہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کو غضب کرلیا ہے ۔
Ayahs 6:141–142

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کئے ۔ کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں ‘ زیتون اور انار کے درخت پیدا کئے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں ۔ کھاؤ اس کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو ‘ جب ان کی فصل کاٹو ‘ اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری وبار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

آیت ” نمبر 141 تا 142۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور لباس کے لئے ہیں اور جن کے بالوں سے تم فرش وقالین بناتے ہو۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اس کرہ ارض پر رنگا رنگ زندہ مخلوقات کو پھیلایا اور اس مخلوقات کی رنگارنگی حیرت انگیز ہے ۔ اور پھر اس مخلوق کو ان فرائض کیلئے نہایت ہی ساز گار ماحول دیا جو انسان کو اس کرہ ارض پر ادا کرتے ہیں ان کو ان ضروریات کے لئے بھی موافق بنایا جو انسان کی زندگی کے لئے لابدی ہیں ۔ ان آیات و دلائل اور ان رنگا رنگ مخلوقات کو دیکھ کر ایک انسان کس طرح کچھ اثر لئے بغیر گزر سکتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس مخلوق اور ان زرعی اجناس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت و اختیارات کو تسلیم کرتا ہے ۔ قرآن کریم بار بار اس رزق کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لئے اللہ نے اس کرہ ارض پر بکھیر دیا ہے اس متنوع رزق کو اس بات پر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اگر رازق وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے ۔ انسانوں پر اس کی حکومت چلنی چاہئے ۔ اس لئے کہ جو خالق ہے ‘ رازق ہے ‘ رب ہے اور پوری زندگی میں کفیل ہے ‘ صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ زرعی اجناس اور مویشیوں اور پوری زندگی کے معاملات میں اسے اپنا حاکم ‘ مختار اور قانون ساز سمجھیں ۔ اور اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے باغات اور پھلوں کے کئی مناظر کی طرف اشارہ کیا ہے مختلف قسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس سے پہلے ان مناظر سے اللہ کی الوہیت اور خدائی پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اور یہاں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذکر سے اپنے حق حکمرانی پر استدلال کرتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ الوہیت اور حاکمیت دراصل ایک ہی حقیقت ہے ۔ وہی حاکم ہے اور یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔ (لاالہ الا اللہ لا حاکم الا اللہ) اب فصلوں اور پھلوں کے ذکر کے بعد یہ حکم ہے ۔ ایک قانون کی طرف اشارہ ۔ آیت ” کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141) ” کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تم اس کی فصل کاٹو تو اللہ کا حق دو ‘ اس فقرے کی وجہ سے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ لیکن ہم نے اس سورة کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے ۔ اور اگر اس سورة سے اس آیت کو علیحدہ کردیاجائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے قبل کا کلام اور بعد کا کلام ایک دوسرے سے اس وقت تک کٹ جاتا ہے جب تک یہ آیت مدینہ میں نازل نہیں ہوجاتی ‘ لہذا یہ بات درست نہیں ہے ۔ پھر ضروری نہیں ہے کہ اللہ کا حق جس کا اس سورة میں ذکر ہے وہ زکوۃ ہی ہو ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد مقدمہ ہے ۔ رہی زکوۃ تو اپنی متعین شرح کے ساتھ تو وہ ہجرت کے بعد دوسرے سال میں فرض ہوئی ۔ آیت ” وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141) ” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہ آیت کھانے پر بھی مناسب حد بندی ہے اور عطا پر بھی مناسب حد بندی عائد کرتی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ مسلمان جب دینے لگے تو حد سے گزر گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اسلام ہر بات میں اعتدال کو پسند کرتا ہے ۔ آیت ” وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَۃً وَفَرْشاً کُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(14 ” پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری وبار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ مویشیوں کے ذکر میں یہ کہا گیا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انسان کو یہ یاد دلانا مطلوب ہے کہ یہ تمام مخلوق اللہ کی پیدا کردہ ہے ۔ شیطان کسی چیز کا خالق نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب شیطان کا کچھ ہے ہی نہیں تو پھر یہ کیا ہے کہ نعمتیں اللہ کی اور پیروی شیطان کی ؟ جبکہ معلوم ہے کہ شیطان ہے بھی کھلا دشمن ۔ کیا سوچتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیزیں استعمال کرکے شیطان کی پیروی کرتے ہو اور وہ تو کھلا دشمن ہے ۔ اب قرآن کریم نہایت ہی گہرائی میں جا کر ادہام جاہلیت کو تلاش کرتا ہے ۔ نہایت ہی خفیہ گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور ایک ایک خفیہ گوشے کو روشنی میں لایا جاتا ہے ۔ ایسے ایسے گوشے واضح کرتا ہے جو بادی النظر میں بھی نامعقول ہیں اور ان کی کوئی توجہیہ نہیں کی جاسکتی اور بعض اوقات تو ان ادہام میں مبتلا لوگوں کو بہت زیادہ شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔ خصوصا اس وقت جب ان کی یہ حرکات کھلے میدان میں آشکارا ہوجاتی ہیں اور جب وہ دیکھ لیتے ہیں کہ انکے ان ادہام کی پشت پر نہ کوئی سند ہے ‘ نہ کوئی کتاب منیر ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل ہے ۔
Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

یہ آٹھ نرو مادہ ہیں ‘ دوبھیڑ کی قسم سے ‘ دو بکری کی قسم سے اے محمد ﷺ ان سے پوچھو کہ اللہ نے ان کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ ‘ یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں ؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھو ‘ ان کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں ۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔

آیت ” نمبر 142 تا 144۔ یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔ آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔ باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟ آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “ یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔ اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔ آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144) ” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “ اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔ اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔ اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے ۔ موقعہ کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں وہ چیزیں بھی گنوا دیں جو یہودیوں پر حرام تھیں اور مسلمانوں کے لئے حلال کردی گئیں ‘ اس لئے کہ وہ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی تھیں کیونکہ وہ ظلم وشرک میں مبتلا ہوگئے تھے اور اللہ کی شریعت سے دور ہوگئے تھے ۔
Ayahs 6:145–146

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو ‘ الا یہ کہ وہ مردار ہو ‘ یابہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو ‘ کہ وہ ناپاک ہے ‘ یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور کی حالت میں بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے ‘ یقینا تمہارا رب درگزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجر اس کے کہ جو ان کی پیتھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو ‘ یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی ‘ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔

آیت ” نمبر 145 تا 146۔ ” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے پیٹ میں جنین کو اپنی عورتوں اور بیویوں کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور مردوں کے لئے حلال قرار دیتے ہیں ۔ وہ اللہ کے پیدا کردہ بعض دوسرے ارزاق کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ قوانین و ضوابط اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کے یہ کام شرک کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ! کہ آیا اللہ کی جانب سے کوئی رسول آیا تھا جس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو بتاؤ وہ کون سا رسول تھا یا اللہ نے جب ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو تم خود اس مجلس میں موجود تھے ۔ تم نے خود اللہ سے سنا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو بادی النظر میں یہ جھوٹا ہوگا اور تم عقلا ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتے ۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو تمام جہان تمہاری تکذیب کر دے گا ۔ رہا یہ میرا معاملہ ‘ تو میرے اوپر جو کتاب قرآن نازل ہو رہی ہے اس میں کسی شخص پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہے جس کو تم حرام قرار دیتے ہو اور بزعم کود ” تم “ حرام قرار دیتے ہو ۔ میرے اوپر اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی جانور مردار ہوگیا ہو ‘ بغیر ذبح کے مر گیا ہو یا بہایا ہوا خون ہو ‘ یا خنزیر کا گوشت حرام ہے اس لیے کہ یہ ناپاک ہے ‘ یا وہ گوشت جو فسق کا ہو ‘ مثلا وہ ذبیحہ جو مشرکین بتوں پر ذبح کرتے ہیں ‘ اپنے بتوں اور آستانوں پر اور ان پر بتوں کا نام لیا گیا ہو ‘ یہ ذبح اسلام میں فسق تصور ہوتا ہے ‘ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ یہ مردار تصور ہوتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ “ یہ اللہ کی جانب سے اعلان ہے ان مشرکین کے لئے جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مردار کی حلت و حرمت کے مسئلے میں مجادلہ کرتے تھے کہ وہ جن چیزوں میں مجادلہ کرتے ہیں ان میں سے بعض اشیاء تو حرام ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور بعض اشیاء حلال ہیں جنہیں اللہ نے قرار دیا ہے ۔ ان حلال چیزوں کی حرمت کی نسبت جو وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں ۔ ابن جریر آیت (فمن اضطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مردار ‘ خون ‘ لحم خنزیر یا بتوں کے نام پر ذبح ہونے والے جانوروں کو حرام قرار دیا لیکن اگر کوئی اس کے کھانے پر مجبور ہوجائے ‘ بطور حکم عدولی نہ کھا رہا ہو اور یہ نہ ہو کہ حالت اضطرار میں نہ ہو اور اسی طرح وہ جان بوجھ کر حدود سے تجاوز نہ کر رہا ہو اور حد ضرورت کے اندر کھا رہا ہومثلا صرف اس قدر کھا رہا ہو کہ اس کی زندگی بچ جائے ‘ اس سے زیادہ نہ کھا رہا ہو تو اس قدر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے اور وہ اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ اس پر اس کو کوئی سزا نہ ہوگی اور گناہ بخش دیا جائے گا ‘ یہ ہے مفہوم غفور کا ۔ اور رحیم اس لئے ہے کہ اس نے لوگوں پر رحم کرکے بوقت مجبوری جواز کا حکم دیا ۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو وہ ان چیزوں کے استعمال کو ہر حال میں حرام کردیتا۔ “ رہی وہ مقدار جو ان چیزوں سے کھائی جاسکتی ہے تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ صرف اسی قدر کھائے گا جس سے جان بچ جائے ‘ دوسری رائے یہ ہے کہ بقدر کفایت اور سیر ہوجانے تک کھا سکتا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایک بار کھانے کے علاوہ دوسرے اوقات مجبور کے لئے ذخیرہ بھی کرسکتا ہے ۔ اگر اسے یہ ڈر ہو کہ آئندہ بھی رزق حلال نہ ملے گا ‘ مین ان اختلافات کی تفصیلات میں نہیں جاتا ۔ اس موضوع پر اسی قدر کافی ہے ۔ رہے یہودی تو ان پر وہ تمام جانور حرام کردیئے گئے تھے جن کے ناخن تھے ۔ یعنی وہ تمام حیوانات جن کے پاؤں پھاڑے ہوئے نہیں ہیں مثلا اونٹ ‘ شترمرغ ‘ مرغابی اور بطخ ۔ ان پر گائے اور بکریوں کی چربی بھی حرام کردی گئی تھی ‘ صرف پیٹھ کی چربی جائز تھی یا وہ چربی جو آنتوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی تھی ۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام کی گئیں اور یہ سزا ان کو اس بغاوت کے نتیجے میں دی گئی جو وہ اللہ کے احکام اور قوانین سے کرتے تھے ۔ آیت ” وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِکَ جَزَیْْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ (146) ٍ ” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجر اس کے کہ جو ان کی پیتھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو ‘ یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی ‘ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں “۔ قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ وہ سبب بتا دیا جس کی وجہ سے ان پر یہ چیزیں حرام کردی گئی تھیں اور یہ حرمت یہودیوں کے ساتھ مخصوص تھی اور یہی حقیقی سبب تھا ۔ وہ سبب نہ تھا جو وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل یعنی حضرت یعقوب نے خود اپنے اوپر یہ چیزیں حرام کرلی تھیں اور اسرائیل کی اطاعت میں یہ لوگ بھی بدستور ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام کئے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اشیاء حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے مباح اور حلال تھیں یعنی ان کے بعد جب انہوں نے سرکشی اختیار کی تو ان پر اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا اور یا انہیں سزا دی ۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا ۔

آیت ” نمبر 147۔ اس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور یہ رحمت ہمارے لئے بھی وسیع ہے اور اس سے پہلے کے مومنین کے لئے بھی وسیع تھی اور مومنین کے علاوہ تمام مخلوقات کے لئے بھی اس میں وسعت ہے کیونکہ وہ تو محسن ہے ۔ دوست کے لئے بھی رحیم ہے اور دشمن کے لئے بھی رحیم ہے ۔ اگر مجرم عذاب کے مستحق ہوں تو بھی وہ نفاذ عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور یہ اس کی شان کریمی ہے اور اس ڈھیل کے عرصہ میں کئی لوگ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن ان کا عذاب نہایت ہی سخت ہے ۔ صرف اس کا حلم ہی اسے اہل ایمان سے رد کرسکتا ہے ۔ اللہ کے نظام فضا وقدر میں جو وقت متعین ہے اس وقت تک ہی وہ مؤخر ہو سکتا ہے ۔ اس آیت میں اگرچہ شمع امید کو بھی روشن رکھا گیا ہے اور انسان کو مایوس نہیں کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ حد سے نہ گزرے اور اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کے لئے یہ دونوں باتیں ضروری ہیں تاکہ وہ ڈر جائیں ‘ اپنے رویے پر غور کریں اور دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ۔ جب بات یہاں تک پہنچتی ہے اور اہل ضلالت کے لئے کوئی مفر نہیں رہتا ۔ جب ان کے پاس کوئی استدلال نہیں رہتا اور تمام بھاگنے کے راستے بند ہوجاتے ہیں تو قرآن کریم ان کے فرار کے آخری راستے کو بھی بند کردیتا ہے ۔ ان کے گمراہانہ تصورات ‘ شرکیہ عقائد اور بےمعنی اعمال کے لئے ایک راہ موجود تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنا کوئی اختیار نہیں رکھتے ‘ وہ تو مجبور ہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ ایسے تصورات رکھتے ‘ نہ غلط عقائد ان کے ہوتے اور نہ وہ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ہمیں ان باتوں سے روک دیتا ۔ وہ تو قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت پر کوئی قید نہیں ہے ۔
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “ ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

پھر کہو ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔

آیت ” نمبر 148 تا 149۔ افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔ جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔ آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148) ” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “ ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔ آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148) ” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “ یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔ آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148) ” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “ اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بناتا کہ وہ اللہ کے نظام قضا وقدر کا علم حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں ۔ اللہ کی جانب سے لوگوں پر صرف یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے اوامر اور منہیات کا علم حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں ۔ جب وہ اس سلسلے میں سعی شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اللہ انہیں راہ ہدایت پر ڈال دیں گے اور ان کے دل اسلام کے لئے کھل جائیں گے ۔ مسئلہ قضا وقدر میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ ہے اور انسان کے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے یہ آسان بھی ہے ‘ واضح بھی ہے اور اس میں کوئی بحث و مباحثہ اور جدل وجدال نہیں ہے ۔ نہ تحکم اور سینہ زوری ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو آغاز ہی سے انسان کو اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ پر چل ہی نہ سکتا یا اللہ انہیں مجبور کردیتا کہ وہ ہدایت اختیار کریں یا اللہ ان کے دلوں میں از خود ہدایت ڈال دیتا اور ان پر ہدایت کے لئے جبری ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن اللہ جل شانہ یہ نہیں چاہتے تھے ۔ اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آدم کو قدرت واختیار دے کر اسے آزمائے اور یہ اختیار اس قدر ہو کہ وہ ہدایت وضلالت میں سے جس راہ پر چاہے اختیار کرے ۔ انسان جب کسی راہ کا آزادانہ ارادہ کرے تو اللہ پھر اس کی مدد کرے ‘ ہدایت کی طرف یا ضلالت کی طرف ‘ یعنی جو ضلالت کی طرف اشارہ کرے اس کے لئے وہ راہ بھی آسان ہو ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اس کی سنت جاری رہتی ہے ۔ آیت ” قُلْ فَلِلّہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِیْنَ (149) ” پھر کہو (تمہاری حجت کے مقابلے میں) ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “ اب یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور قرآن اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ہر انسان اسے بسہولت سمجھ سکتا ہے ۔ رہی وہ علمی کشتیاں جو اس مسئلے پر ہوتی رہی اور وہ طویل جدل وجدال جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے تو وہ اسلامی احساس اور اسلامی منہاج کے ساتھ لگا نہیں کھاتا ۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی سوچ اسے قبول نہیں کرتی بلکہ یونانی فلسفے اور عیسائیوں کے ہاں لاہوتی مباحث بھی آج تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ۔ اس لئے کہ یہ مباحث جس انداز سے چلے وہ اس مسئلے کے مزاج کے خلاف تھا ۔ ہر حقیقت کی جو نوعیت ہوتی ہے اس کے مطابق ہی اسے لیا جاتا ہے اور اس پر بحث کے لئے اس کے حسب حال اسلوب اپنایا جاتا ہے ۔ جہاں تک مادی حقائق کا تعلق ہے ان کو بذریعہ تجربہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور ریاضی حقائق کو ذہنی معروضات کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے لیکن جو حقائق مادی دنیا سے وراء ہیں ان کا اپنا منہاج بحث ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا یہ حقائق عملی نوعیت رکھتے ہیں اور انہیں عملی انداز میں اور حقیقت پسندانہ منہاج بحث کے ساتھ لینا چاہتے ۔ ان کو محض دینی مفروضوں کے انداز میں نہیں لینا چاہیے جس طرح ان کو پہلے بھی لیا گیا اور آج بھی لیا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ یہاں ایک عملی صورت حالات پیدا کر دے ۔ وہ احکام اور منہیات پر مشتمل ہے اور یہ احکام اور منہیات واضح ہیں ۔ ان کے بارے میں نامعلوم مشیت الہیہ کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم کسی بےکنار صحرا میں بلا دلیل پڑجائیں اور اپنی قوتوں کو لاحاصل جدل وجدال اور بادیہ پیمائی میں صرف کردیں ۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو ہدایت کرتے ہیں ۔ کہ آپ اس قانون سازی میں اللہ کو بطور گواہ پیش فرمائیں ۔ اس طرح جس طرح اس سے پہلے حضور کو ہدایت ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے مسئلے میں بھی اللہ کی ذات کو بطور شہادت پیش فرمائیں ۔ اس سورة کے آغاز میں یہ فرمایا گیا تھا ۔ آیت ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ” ان سے پوچھو کس کی شہادت بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “ اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا :
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔

آیت ” نمبر 150۔ یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ اللہ جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اعلان بھی کرد یا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دل میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ ایمان آخرت اس لئے کہ یہ لوگ اگر منکر آخرت نہ ہوتے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے کی جرات ہی نہ کرتے ۔ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ۔ ایسی ہی تعبیر اس سورة کے آغاز میں بھی آئی تھی ۔ آیت ” الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِم یَعْدِلُونَ (1) ” تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے زمین و آسمان بنائے ‘ روشنیاں اور تاریکیاں پیدا ہیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہرا رہے ہیں ۔ “ یہ ہے حکم ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ سے اس کا حق حاکمیت چھینتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے سپرد کرتے ہیں جو خود ان ہی کی طرح انسان ہیں یہاں ان لوگوں کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی اسلامی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اب اللہ کے اس حکم کے بعد کسی اور انسانی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔ اگر ہم یہ بات سمجھنا چاہیں کہ اللہ نے اس مسئلے کا فیصلہ اس انداز میں کیوں کیا ؟ اور ایسے لوگوں کو آیات الہیہ کو جھٹلانے والا کیوں کہا ۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں دے دیا کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ مشرک ہیں اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے والے ہیں ‘ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھنے کی سعی ضرور کریں کیونکہ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور فیصلوں پر تدبر کرنا اور ان کی حکمت معلوم کرنا ایک مطلوبہ امر ہے ۔ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اپنی جانب سے عوام کے لئے قانون بنائیں یہاں یہ حکم لگایا ہے کہ وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے اللہ کی شریعت کا عنوان دیں ‘ کیونکہ آیات الہیہ سے یہاں دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان سے مراد آیات کونیہ ہیں ‘ تو یہ آیات بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ خالق اور رازق اللہ وحدہ ہے ‘ اور جو خالق اور رازق ہوگا وہی مالک ہوگا لہذا وہی متصرف اور حاکم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص صرف اللہ کو حاکم نہ سمجھے تو وہ گویا آیات الہیہ کونیہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر ان آیات سے مراد قرآنی آیات ہوں تو قرآن کی بیشمار آیات واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ قرار دیتی ہیں کہ حاکمیت اور قانون سازی کے معاملے میں اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ کی شریعت ہی کو قانونی درجہ حاصل ہے ۔ اور لوگوں کو صرف اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی اور کرانی چاہیے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے کہ جو شخص آخرت پر یقین و ایمان رکھتا ہے کہ وہ ایک دن قیامت کے روز اپنے رب کو ملنے والا ہے تو ایسا شخص ہر گز اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنے لئے کسی ایسے حق کا مطالبہ کرے گا ۔ اللہ انسانوں کا حاکم مطلق ہے اس کا نظام قضا وقدر بھی انسان پر جاری ہے اور اس طرح اس کی شریعت بھی ان پر جاری ہونا چاہیے ۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ کی تیسری قرار داد یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ یعنی وہ اسی طرح شرک ہیں جس طرح بت پرست مشرک ہیں ۔ اگر یہ اہل توحید میں سے ہوتے تو وہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر نہ بناتے نہ اس کے حق حاکمیت میں اور نہ اس کے حق الوہیت میں کیونکہ وہ ان میں منفرد ہے ۔ اور اگر کوئی دوسرا ان حقوق کو استعمال کررہا ہو تو اس کی مخالفت کرتے اور ہر گز اس پر راضی نہ ہوتے ۔ جیسا کہ معلوم ہوتا ہے ‘ یہ بات ان تمام احکام کی علت ہے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے بالمقابل قانون سازی کرتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے اللہ نے ان پر یہ احکام صادر کئے کہ وہ مشرک ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہیں اور یہ کہ دراصل وہ آخرت کی جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دین انہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ یہ ہے علت اور اس کے نتیجے میں یہ ہے حکم ۔ رہا یہ کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کا یہ حکم کیوں ہے تو یہ تو نص قطعی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کے مطابق تو ایسے لوگ مشرک ہی سمجھے جائیں گے ۔ تو اب یہ ہر مسلمان کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔ اس شہادت اور گواہی کے بعد اور ان کی جانب سے قرار دادہ محرمات کو رد کردینے کے بعد اب وہ فہرست دی جاتی ہے کہ فی الواقعہ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہاں محرمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ بعض مثبت احکام کی یاد دہانی بھی کی گئی ہے جس کے مخالف طرز عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان محرمات کا آغاز ارتکاب شرک سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اسلام کا اصول اولین ہے اور سب سے پہلے اس کو ذہن نشین کرانا ضروری ہے ۔ شرک سے مراد عام ہے ۔ شرک فی الاعتقاد اور شرک فی الحکم ۔ یہاں شرک سے دونوں قسم کے شرک مراد ہیں ۔ اس بنیادی اصول کے بعد تمام اوامر اور نواہی اسی پر مرتب ہوتے ہیں یعنی اسلام قبول کرلے اور پھر سرتسلیم ختم کر دے ۔