Ayah 6:19(آیت) ” 19۔
” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔
بات کا جگہ جگہ رکنا ‘ اور پھر موثر آغاز اور ایک ہی آیت میں یہ زیروبم ایک عجیب انداز کلام ہے ۔ ایک لفظ میں ایک موقف بیان ہوجاتا ہے ‘ ایک ایک لفظ ایک منظر کو پیش کرتا ہے جس سے شبہات وخلجانات اور ان کی نوعیت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
بذات خود حضور اکرم ﷺ کو خطاب کیا جاتا ہے اور احکام دیئے جاتے ہیں ۔ پھر حضور ﷺ ان احکامات کے تحت ان مشرکین سے مخاطب ہوتے ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور لوگوں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے ۔ وہ اللہ کے مخصوص حقوق میں بعض حقوق غیر اللہ کو دیتے ہیں اور ان سرپرستوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔ پھر یہ لوگ حضور ﷺ کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کو ان کی اس حالت پر برقرار رکھیں تاکہ وہ اس کے بدلے حضور ﷺ کے دین میں شریک ہوجائیں ۔ ان کے خیال میں ایسا ممکن تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام اور شرک ایک ہی دل میں جمع ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سوچ دل میں بٹھالی تھی ۔ آج کے دور جدید میں بھی لوگوں کے دلوں میں اس قسم کی سوچ بیٹھی ہوئی ہے ۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حوالے سے مسلمان بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے معاملات میں غیر اللہ سے ہدایات بھی لے سکتے ہیں ۔ وہ غیر اللہ کے مطیع فرمان بھی ہوسکتے ہیں اور غیر اللہ سے غیبی امداد بھی لے سکتے ہیں اور غیر اللہ کو ولی اور سرپرسب بھی بنا سکتے ہیں ۔
حضور اب یہاں مشرکیں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یہاں آکر آپ ﷺ کے دین اور ان کے ادیان کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں ۔ آپ کی توحید اور ان کا شرک اب اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ آپ ﷺ کا اسلام اور ان کی جاہلیت ایک جگہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اب آپ ان کے ساتھ فیصلہ کردیتے ہیں : ” اب میرے اور تمہارے درمیان اتحاد واتصال ممکن نہیں ہے ۔ اتحاد صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ تم لوگ اپنا دین چھوڑ کر میرے دین میں شامل ہوجاؤ ورنہ ۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ اتحاد ہو سکے کیونکہ آغاز ہی سے دونوں کی رہیں جدا ہوچکی ہیں ۔ “
حضور ﷺ ان کے ساتھ یوں ہمکلام ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کون سی سند اور شہادت ہے ؟ ذرا لائیں میدان میں کوئی شہادت اور کوئی ثبوت اپنے موقف پر ۔
(آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “۔ (6 : 19) ان سے پوچھو کس چیر کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ۔ “ اس پوری کائنات میں سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ وہ کون سی شہادت ہے جسے درجہ تصدیق حاصل ہے ؟ مقدمے میں کون سا ثبوت فائنل ہے جس کے بعد کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہو ؟
یہ نہایت ہی عمومی سوال ہے ۔ شیء کے لفظ سے سوال کیا گیا ہے یعنی پوری کائنات کی کوئی شے ثبوت میں لاؤ ۔ جو سب سے بڑی شہادت ہو۔
حضور ﷺ کو جس طرح حکم دیا جاتا ہے کہ ان سے پوچھو ‘ اسی طرح آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو جواب بھی دے دو ۔ اس لئے کہ خود مخالفین اس بات کے معترف تھے کہ دراصل جواب وہی ہے جو حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جواب دے دیں ۔ (آیت) ” قل اللہ (6 : 19) ” کہو اللہ “ ہاں ! بیشک سب سے بڑا گواہ ہے ۔ وہی تو ہے جو اس سچائی کو بیان کر رہا ہے ۔ وہی تو ہے جو سب سے بھلے فیصلے کرتا ہے اور اس کی گواہی کے بعد کوئی گواہی نہیں ہے ۔ اس کی بات کے بعد کسی بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جب اللہ بات کر دے تو تمام باتیں ختم ہوجاتی ہیں اور معاملے کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔
جب اس حقیقت کا اعلان کردیا گیا کہ اللہ شہادت سب سے برتر شہادت ہے تو اب اس بات کا اعلان کیا جاتا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ گواہ ہے اور اللہ ہی اس مسئلے کا فیصلہ کرے گا ۔
(آیت) ” شھید بینی وبینکم “۔ (6 : 19) ” میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہ ہے ۔ “ مطلب یہ ہوا (آیت) ” ھو شھید) ۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہ ہے ۔ اس مقام پر لفظ اللہ کے بعد وقف مناسب ہے ۔ کیونکہ یہاں مختصر مختصر فقروں میں بات ہو رہی ہے ۔ یعنی لفظ اللہ کے بعد وقف وصل کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے ۔ اگر وصل ہو تو اللہ (آیت) ” شھید بینی وبینکم “۔ (6 : 19) ہوگا ۔
جب یہ اصول متعین ہوگیا کہ اس معاملے میں فیصلہ صرف اللہ کا فیصلہ ہے تو یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی شہادت قرآن کی شکل میں آگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم محض اس لئے نازل کیا ہے کہ میں تمہیں اور ان تمام دوسرے لوگوں کو ڈراؤں جن تک وہ پہنچے ۔ آپ کی زندگی میں یا آپ کی وفات کے بعد ۔ لہذا قرآن کریم ان لوگوں پر بھی حجت ہوگا جن تک حضور ﷺ کی موجودگی میں پہنچایا آپ ﷺ کے بعد جن تک پہنچا ۔ اس لئے کہ انسانی سوچ کے اس اساسی مسئلے میں قرآن ہی فیصلہ کن شہادت ہے اور اسی سوچ پر دنیا اور آخرت کی نجات کا مدار ہے اس پر انسانی وجود قائم ہے ۔
(آیت) ” واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ (6 : 19) ” اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے سب کو متنبہ کردوں ۔ “ ہر وہ شخص جس تک قرآن کی تعلیمات پہنچ جائیں ‘ کسی ایسی زبان میں جسے وہ سمجھتا ہو اور اس سے وہ دعوت قرآن اخذ کرسکتا ہو تو اس پر حجت قائم ہوگئی ۔ حضور ﷺ کا فریضہ انذار ادا ہوگیا ‘ اور اگر وہ نافرمانی کرے اور تکذیب کرے تو اس کے لئے عذاب لازم ہوگیا ۔ (ہاں جو شخص عربی زبان نہیں جانتا اور اس کی زبان میں قرآن کی دعوت بھی موجود نہیں ہے تو اس پر حجت قائم نہ ہوگی اور اس بات کا مؤاخذہ اہل اسلام سے ہوگا کیونکہ انہوں نے اس زبان میں قرآن کے مفہوم کو منتقل نہ کیا جسے وہ سمجھتا ہے ۔ اگر اس کی زبان میں قرآن کا ترجمہ کردیا گیا ہو تو اس پر حجت تمام ہوگی) ۔
جب یہ اعلان کردیا گیا کہ اللہ کی شہادت قرآن کریم کے اندر درج ہے تو اس شہادت کا مضمون بھی بتا دیا گیا ۔ اور یہ چیلنج کی صورت میں اور سخت تنبیہ کے انداز میں بتادیا گیا وہ لوگ جو شہادت دیتے تھے اس پر ان کی سرزنش کی گئی کہ کیا تم اللہ کے مقابلے میں خود اپنی شہادت پیش کرتے ہو ؟ بتا دیا گیا کہ ہم تمہاری اس شہادت کو مسترد کرتے ہیں ۔ آپ اس کے مخالف موقف کا اعلان فرما دیتے ہیں اور اعلان کردیتے ہیں کہ اللہ کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ ہی الہ ہے اور اس معاملے میں ہمارے اور تمہارے مکمل جدائی ہے ‘ ہماری راہیں مختلف ہیں ۔ نہایت ہی تاکیدی اور فیصلہ کن الفاظ میں اپنی براءت کا اظہار کردیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19)
” کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “ قرآن کی یہ آیات ان آیات کے یہ مقطعے اور ان کی یہ ضربات انسانی دل کو اس قدر جھنجوڑتی ہیں کہ الفاظ میں ان کے اثرات کو بیان کرنا ہی محال ہے اس لئے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اپنے الفاظ کے ذریعے ان کے اثرات اور ان کی خوبصورتی کو محدود کر دوں کیونکہ کوئی تبصرہ ان کے حسن کو بیان نہیں کرسکتا ۔
آیات کے اس مجموعے یا اس لہر میں جس مسئلے کو لیا گیا ہے اس پر قدرے ضروری ہے ۔ یہ مسئلہ سرپرستی ‘ توحید اور مشرکین کے ساتھ کے ساتھ مکمل جدائی کا مسئلہ ہے ۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا اساسی مسئلہ ہے اور اس دین میں یہ ایک عظیم اور اہم حقیقت ہے ۔ آج کے اسلامی گروہ اور اسلامی جماعت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے پر غور کرے ‘ اس سبق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذراطویل وقفہ کرے اور تامل و تدبر کرے ۔
اس وقت تحریک اسلامی کا مقابلہ پورے کرہ ارض پر چھائے ہوئے نظام جاہلیت کے ساتھ ہے ۔ جس طرح نزول قرآن کے وقت برپا ہونے والی تحریک اسلامی کا مقابلہ اس وقت کی جاہلیت سے تھا ۔ اس لئے آج کی تحریک اسلامی کو چاہئے کہ وہ اپنا موقف نزول قرآن کے وقت کی تحریک اسلامی کے موقف کی روشنی میں متعین کرے تاکہ وہ اس روشنی کی مدد سے اپنی راہ کو اچھی طرح دیکھ سکے ۔ چناچہ تحریک اسلامی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ اس آیات پر خوب اچھی طرح طویل غور وفکر کرے اور پہلی تحریک اسلامی کے نقوش پا سے راہنمائی حاصل کرے ۔
زمانہ لوٹ کر اسی مقام پر آگیا ہے جہاں پہلی تحریک اسلامی کے وقت تھا ۔ انسانیت اسی مقام پر آگئی ہے جس پر وہ نزول قرآن کے وقت تھی اور رسول اللہ ﷺ زندہ و موجود تھے ۔ ان پر اسلام نازل ہوا تھا اور اس کی اساس اس بات کی شہادت پر تھی کہ اللہ ایک ہے ‘ اور اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ یہ شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ‘ اسی طرح ہم نے ادا کرنی ہے جس طرح اسے حضرت ربعی ابن عامر نے ادا کیا تھا ‘ جب وہ مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کے ایلچی کے طور پر ایرانیوں کے کمانڈر انچیف رستم کے ہاں گئے تھے اور جنہوں نے حضرت ربعی سے پوچھا تھا ” تم نے کیوں ہم لوگوں پر لشکر کش کی کی ہے ؟ “ ان کا جواب یہ تھا ” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ اپنے جن بندوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا چاہتا ہے انہیں اس غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کر دے ۔ پھر انہیں دنیا اور آخرت کی وسعتوں کے اندر لے جائے اور دوسرے ادیان کے مظالم سے نکال کر اسلام کے نظام عدل میں داخل کر دے ۔ “ حضرت ربعی ؓ نے یہ شہادت یہ جانتے ہوئے دی کہ رستم اور اس کے ساتھی کسی کی پوجا یہ جانتے ہوئے نہ کرتے تھے کہ وہ الٰہ ہے اور ان کا خالق ہے یا اس کائنات کا خالق ہے اور نہ یہ لوگ کسری کے سامنے معروف مراسم عبودت بجا لاتے تھے ۔ بلکہ وہ قانون اور شریعت کسری سے اخذ کرتے تھے ۔ اس طرح وہ کسری کی بندگی کرتے تھے جو اسلام کے منافی تھی ۔ ربعی ؓ نے ان کو بتایا کہ وہ لوگوں کو انسانی نظاموں سے نکال کر اللہ کے نظام حاکمیت میں داخل کرنا چاہتے ہیں جس میں اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدہ کے لئے مخصوص ہے اور اس کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی ہے جس کے اندر حاکمیت ‘ اطاعت اور بندگی صرف وحدہ کے لئے ہے ۔
آج کل زمانہ اس مقام پر لوٹ آیا ہے جس پر کبھی اسلام نے لوگوں کے سامنے (لا الہ الا اللہ) کی شہادت پیش کی تھی ۔ آج انسانیت لوٹ کر بندوں کی غلامی میں داخل ہوگئی ہے ‘ وہ دوسرے ادیان کے مظالم سہ رہی ہے اور اس عظیم شہادت سے اس نے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ اگرچہ انسانیت کی آبادی کا ایک حصہ مسجدوں سے اذانوں کے ذریعے سے روز وشب (لا الہ الا اللہ) کی شہادت نشر کر رہا ہے ۔ لیکن اسے معلوم نہیں ہے کہ اس شہادت اور کلمہ شہادت کا مدلول اور مفہوم کیا ہے ؟ نہ یہ شہادت دیتے وقت یہ لوگ اس مفہوم کو ذہن میں لاتے ہیں ۔ نہ یہ لوگ اس حاکمیت کا انکار کرتے ہیں جو کچھ لوگوں نے اپنے لئے مخصوص کرلی ہے حالانکہ ان کا یہ موقف اعلان خدائی کے برابر ہے چاہے وہ اپنے اس موقف کا اعلان کریں یا نہ کریں ۔ مثلا دنیا میں مروج مجالس قانون ساز کا جو حال ہے یا کچھ اقوام کا حال ہے اس معاملے میں افراد ومجالس کا حکم ایک ہی ہے ۔ افراد اور اقوام کی حیثیت ایک ہی ہے ۔ یہ افراد اور یہ مجالس اور یہ اقوام چونکہ الٰہ نہیں ہیں اس لئے انہیں انسانون کے لئے قانون سازی کا کوئی حق نہیں ہے الا یہ کہ انسانیت مرتد ہو کر (لا الہ الا اللہ) سے انکار کر دے اور وہ یہ اختیارات اللہ کے سوا کسی اور کو دے دے تو اس صورت میں وہ عقیدہ توحید کی منکر ہوگی اور صرف اللہ اس کا والی اور سرپرست نہ ہوگا ۔
اس وقت صورت حالات یہ ہے کہ پوری انسانیت ‘ جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو رات اور دن مساجد سے اذانوں کے ذریعے سے (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم نہ سمجھتے ہوئے اس کا اعلان کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قیامت کے دن سب سے بڑی گناہگار اور زیادہ عذاب کے مستحق ہوں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد لوٹ کر انسانوں کی بندگی اختیار کرلی ہے ۔ اس کے بعد کہ ان پر یہ سچائی اتری اور ان تک پہنچ گئی اور اس کے بعد کہ وہ دین اسلام میں داخل تھے ‘ لہذا اس دور میں تحریک اسلامی اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ وہ ان آیات پر اچھی طرح غور کرے :
(آیت) ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14)
” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں (مجھے کہا گیا) تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ “
چاہے اس کا جو مفہوم بھی لیا جائے ‘ اس کا مطلب ہوگا اس کے سامنے عاجزی کرنا ‘ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس سے نصرت طلب کرنا اور اس سے استعانت طلب کرنا ۔ یہ سب امور اسلام کے ساتھ متضاد ہیں اس لئے کہ یہ امور شرکیہ ہیں اور اسلام آیا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کو ان شرکیہ امور سے نکالا جائے ۔ تحریک اسلامی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ولایت کا اظہار سب سے پہلے جس بات میں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی اپنے نظریہ یا اپنی زندگی کے نظام میں غیر اللہ کی حاکمیت کو قبول کرلے ۔ یہ وہ بات ہے جس میں میں اس وقت کرہ ارض پر بننے والی پوری انسانیت مبتلا بلا استثناء ۔ اور تاکہ تحریک اسلامی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اس کے سامنے جو ہدف ہے وہ یہ ہے کہ اس نے عوام الناس کو لوگوں کی بندگی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کرنا ہے اور یہ کہ اسے اسی قسم کی جاہلیت سے واسطہ درپیش ہے جس سے حضور اکرم ﷺ اور پہلی تحریک اسلامی کو سابقہ درپیش تھا جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں ۔
نیز تحریک اسلامی کو اس شراب ایمانی کی بھی اشد ضرورت ہے جو یہ آیات قلب مومن میں انڈیل رہی ہیں جبکہ دل مومن کسی جاہلیت کے سامنے صف آرا ہو :
(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18)
” کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔
جو تحریک بھی جاہلیت اور اس کی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کر رہی ہو ‘ جو جاہلیت کے جبر وقہر اور عناد وسرکشی کا مقابلہ کر رہی ہو اور جو جاہلیت کی سازشوں اور کینہ پروریوں کے سامنے صف آراہو اور اس کے پھیلائے ہوئے فساد اور فسق وفجور کا دفعیہ چاہتی ہو اس کے لئے اس تمام شرک کے مقابلے کے لئے ان حقائق کا ادراک ضروری ہے اور اس تحریک کے اندر یہ جذبات اور یہ شعور موجود ہونا چاہئے ، ورنہ اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ غیر اللہ کو اپنا سرپرست بنا لے اور یہ نہ ہو کہ اس نافرمانی کے نتیجے میں وہ عذاب اخروی کی سزاوار ہوجائے ۔ تحریک اسلامی کو یہ یقین کرلینا چاہئے کہ نفع ونقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اللہ کو اپنے بندوں پر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے ۔ اس کے فیصلے کے بعد کوئی فیصلہ نہیں ہے اور نہ اس کے حکم اور فیصلے کو کوئی رد کرسکتا ہے ۔ جس دل میں یہ یقین اور یہ شعور نہ ہو وہ احیائے اسلام کی مشکلات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتا جبکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ جاہلیت کے قائم نظام کے مقابلے میں ہو رہی ہو اس لئے کہ احیائے اسلام کی تحریک کو جاہلیت کبھی بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتی ۔ اس کی راہ میں ہمیشہ پہاڑ جیسی مشکلات حائل کی جاتی رہی ہیں ۔
یہ یقین کرلینے کے بعد کہ آج کرہ ارض پر تحریک اسلامی کا نصب العین کس قدر اہم اور مشکل ہے ‘ اپنے نظریے اور عقیدے کے صحیح ادراک کے بعد اور اس کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کہ اللہ سبحانہ وحدہ لا شریک ہے اور اس توحید کے کئی پہلو ہیں اور ان تمام امور کے ساتھ ساتھ یہ شعور کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں ۔ آج کی تحریک اسلامی کو اللہ کی جانب سے شہادت اور جاہلیت کے ساتھ مکمل بائیکاٹ اور فیصلہ کن علیحدگی کی ضرورت ہے کیونکہ جاہلیت بعینہ اس شرک میں مبتلا ہے جس میں قرون اولی کی جاہلیت مبتلا تھی ۔ اس لئے تحریک اسلامی کو چاہئے کہ وہ ویسا ہی اعلان کردے جس اعلان کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دیا تھا ۔ جس طرح رسول ﷺ نے اس وقت کی جاہلیت کے منہ پر اس کے نظریات مار دیئے تھے آج بھی تحریک کو چاہئے کہ وہ دور جدید کی جاہلیت کے غلط افکار اس کے منہ پر دے مارے اور اللہ رب العالمین کے ان احکام کو نافذ کر دے ۔
(آیت) ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19)
” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو اللہ ۔۔۔۔۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو ؟ کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔
تحریک اسلامی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس وقت کرہ ارض پر چھائی ہوئی جاہلیت کے مقابلے میں یہ موقف اختیار کرے ۔ اسے چاہئے کہ وہ اس کے مقابلے میں اپنے سچے نظریات کا اعلان ببانگ دہل کرے اور فیصلہ دل دہلا دینے والی رعب دار آواز میں کرے ۔ اس کے بعد نتائج اللہ پر چھوڑ دے جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ اسے اپنے بندوں کے معاملات پر پورا پورا کنٹرول ہے ۔ اللہ کے بندے جس میں یہ جابر طاغوتی طاقتیں بھی شامل ہیں ‘ اللہ کے مقابلے میں ایک مکھی جتنی طاقت بھی نہیں رکھتے ۔ اگر ان سے مکھی بھی کوئی چیز لے بھاگے تو یہ اس سے نہیں چھڑا سکتے ۔ مقابلے میں ایک مکھی جتنی طاقت بھی نہیں رکھتے ۔ اگر ان سے مکھی بھی کوئی چیز لے بھاگے تو یہ اس سے نہیں چھڑا سکتے ۔ یہ جابر قوتیں اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں نہ یہ قوتیں کسی کو کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ امور کائنات پر پوری طرح غالب ہے لیکن لوگوں کو اللہ کا غلبہ نظر نہیں آتا ۔
تحریک اسلامی کو اچھی طرح یقین کرلینا چاہئے کہ اسے حسب وعدہ الہی تمکن فی الارض اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک وہ جاہلیت کے مقابلے میں اپنی زندگی کی راہیں بالکل الگ نہیں کرلیتی ‘ اس کے ساتھ مکمل طور پر قطع تعلق نہیں کرلیتی ‘ جب تک طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں تحریک اسلامی اعلان حق نہیں کردیتی اور جب تک وہ جاہلیت کے مقابلے میں اس اسلوب پر شہادت حق نہیں دے دیتی جس طرح ان آیات میں اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جب تک وہ جاہلیت کو اسی انداز میں چیلنج نہیں کرتی اور اس کے ساتھ مکمل بائیکاٹ نہیں کردیتی اور اس سے اعلان برات نہیں کردیتی ۔
قرآن کریم تاریخ کے ایک مخصوص دور کی اصلاح کے لئے مخصوص نہ تھا ۔ قرآنی ہدایات مکان وزمان کے قیود سے آزاد ہیں ۔ قرآن تو ایک منہاج انقلاب ہے ۔ اور جب بھی کوئی تحریک اس منہاج کو اپنائے گی اسے اسی طرح کام کرنا پڑے گا جس طرح پہلی تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ آج ہمیں ویسے ہی حالات درپیش ہیں جیسے نزول قرآن کے وقت درپیش تھے ۔ اسی مقام پر لوٹ کر آگیا ہے جس پر وہ حضور ﷺ کے وقت تھا ۔ جبکہ دنیا میں اسلام متعارف ہو رہا تھا ۔ ہمیں اس دین کی حقیقت پر پورا بھروسہ ہونا چاہئے ۔ ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کے غلبے پر پورا پورا بھروسہ ہونا چاہئے ۔ جماعت اسلامی کو اسی کو اسی انداز میں تیاری کرنا چاہئے ۔ اللہ سب سے اچھا محافظ ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔
درس نمبر 58 ایک نظر میں :
” یہ ایک نئی لہر ہے ۔ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں اور خصوصا قرآن کے نظریہ بعث بعد الموت کو جھٹلاتے ہیں ۔ البتہ اس لہر میں نہ تو ان کی ہٹ دھرمی اور عناد کی تصویر کشی کی گئی ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے وہ اسلاف جو قرآن اور بعث بعد الموت کے منکر تھے ‘ ان کا انجام کیا ہوا ؟ بلکہ ان کے سامنے یوم البعث کے کچھ مناظر اور جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں اور ان کے آخروی انجام بد کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور یہ انجام بدنہایت متحرک اور زندہ مناظر ومشاہد کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ لوگ میدان حشر میں ہیں اور نہایت ہی شرمسار کنندہ سوالات سے دو چار ہیں جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ‘ سرعام رسوا ہورہے ہیں ۔ کوئی جواب بن نہیں پڑتا ۔
(آیت) ” أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22)
” کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جنہیں تم خدا کے ساتھ برابر سمجھتے تھے ؟ “ یہ سوال اس قدر شان جلالت کے ساتھ ہوتا ہے کہ ان پر جزع وفزع کا عالم طاری ہوجاتا ہے ۔ اب وہ نہایت ہی خاکساری اور نہایت ہی بھولے پن سے قسمیں اٹھاتے ہیں اور اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں ۔
(آیت) ” وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23)
” اللہ ہمارے رب کی قسم ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ “ لیکن جب وہ آگ کے کنارے پہنچتے ہیں ‘ ہتھ کڑیاں لگی ہوئی ‘ حسرت وندامت میں ڈوبے ہوئے ڈرے اور سہمے ہوئے تو یوں گویا ہوتے ہیں۔
(آیت) ” یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27)
” اے کاش ! کہ ہم لوٹائے جائیں ‘ اور اللہ کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور مومنین میں شامل ہوجائیں۔ “ اب خود اللہ جل جلالہ ان سے ایک سوال کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ شرم وندامت کی وجہ سے پگھلے جا رہے ہیں اور اور خوف وہراس کی وجہ سے ان کی جان نکلی جا رہی ہے ۔
(آیت) ” الیس ھذا بالحق “۔ (6 : 30) ” کیا یہ سچائی نہیں ہے ؟ “ اب وہ نہایت ہی خاکساری اور شرمندگی کے ساتھ جواب دیتے ہیں (آیت) ” بلی وربنا “۔ (6 : 30) ” ہمارے رب کی قسم ‘ ہاں “ ۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ اعتراف ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ حکم ہوتا ہے ۔
(آیت) ” فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ” پس چکھو تم اس عذاب کو اس لئے کہ تم انکار پر مصر تھے ۔ “ وہ ایسے حالات میں اس صورت حالات سے دو چار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہار چکے ہیں ۔ سب کچھ ہار چکے ہیں ۔ اب انہوں نے اپنے کاندھوں پر اپنے تمام برے اعمال اٹھائے ہوئے ہیں اور آخرت کے بارے میں اپنے برے موقف کی وجہ سے اور اس گھاٹے کے سودے پر سخت نالاں ہیں اور غم سے نڈھال ہوچکے ہیں ۔
ایک منظر کے بعد دوسرا منظر اسکرین پر آتا ہے ۔ ہر منظر ایسا ہے کہ دل دہل جاتا ہے ‘ پورا بدن ٹوٹ رہا ہے پورا وجود ریزہ ریزہ ہوا چاہتا ہے ۔ دل و دماغ کے دریچے اب تو بالکل کھلے ہیں ۔ اب وہ سچائی انہیں صاف صاف نظر آتی ہے ۔ جو حضور ﷺ پیش فرما رہے تھے ۔ لیکن ان مناظر کو دیکھ کر قبولیت حق کی توفیق صرف ان لوگوں کو ہوئی جن کے بارے میں مشیت الٰہی نے فیصلہ کیا کہ وہ حق کو قبول کریں گے ‘ لیکن وہ لوگ جن کو قرآن کریم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں وہ تو اس سچائی کو اس طرح پہچان رہے تھے جس طرح وہ اپنے بچوں کو پہچانتے تھے ‘ لیکن اس کے باوجود اس سچائی کو قبول نہ کرتے تھے ۔
Ayah 6:20(آیت) ” نمبر 20۔
قرآن کریم میں اس بات کا ذکر بار بار آتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاری ‘ قرآن کریم کو بعینہ اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں اور یہ قرآن کریم ان پر اللہ کی جانب سے نازل ہو رہا ہے ۔ یہ حقیقت اہل کتاب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے بھی بیان کی گئی ہے اور مشرکین عرب کے مقابلے میں بھی یہ دلیل دی گئی ۔ اہل کتاب بالمعوم مدینہ میں تحریک اسلامی کے خلاف دشمنی ‘ عناد اور مقابلے کا موقف اختیار کئے ہوئے تھے اور اہل شرک ہر جگہ پر تھے ۔ یہ حقیقت اس لئے لائی گئی کہ مشرکین عرب مانتے تھے کہ اہل کتاب ان کے مقابلے میں زیادہ اہل علم ہیں اور وہ کتب سماویہ اور وحی کے مزاج سے زیادہ باخبر ہیں ۔ لہذا یہ بات لائی گئی کہ اہل کتاب قرآن کریم کو اچھی طرح بغیر کسی اشتباہ کے پہچانتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ پر بھی اسی رب کی وحی آرہی ہے جس نے پہلے رسولوں پر وحی بھیجی تھی ۔
جس طرح ہم نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ آیت مکی ہے ‘ اور اس میں اس انداز سے اہل کتاب کے تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں خطاب مشرکین مکہ سے تھا کہ جس کتاب کا تم انکار کر رہے ہو اہل کتاب اسے اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور اگر اہل کتاب کی ایک بڑی اکثریت ایمان نہیں لائی تو اس نے درحقیقت اپنے آپ کو ایک بہت ہی بڑے خسارے میں ڈال لیا ہے ۔ اس معاملے میں علم کے باوجود وہ مشرکین کے ہم پلہ ہوگئے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالتے ہوئے ایمان کی دولت سے محروم کرلیا ہے ۔ اس آیت سے قبل اور بعد کی بات بہرحال مشرکین مکی کی بابت ہے ۔ اس لئے جس طرح ہم نے اس سورة کے تعارف کے وقت بتایا ‘ ہم ترجیح اس بات کو دیتے ہیں کہ یہ آیات بھی مکی ہیں ۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ‘ (آیت) ” الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمُ ۔ (6 : 20) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں آتا ۔ “ کا حوالہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ یہ کلام منزل من اللہ اور سچا ہے یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے نبی ہیں اور ان پر بذریعہ وحی یہ قرآن نازل ہو رہا ہے ۔ یہ تفسیر بھی بہرحال اس آیت کے مدلول اور مفہوم میں داخل ہے لیکن تاریخی واقعات کی روشنی میں اور اہل کتاب کے رویے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ‘ جو انہوں نے دین اسلام کے مقابلے میں اختیار کیا ‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے مفہوم کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔ اللہ کا منشا یہ تھا کہ جماعت مسلمہ کے ذہن میں یہ پہلو بھی آجائے تاکہ وہ آئندہ کے ادوار میں اہل کتاب کے حوالے سے اپنا اپنا رویہ متعین کرلے اور یہ جان لے کہ ان کا رویہ اسلام کی بابت کیا ہوگا ۔
اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی اس سے بھی وہ واقف تھے ۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح باخبر تھے کہ اس کتاب کے اندر پائے جانے والے نظریات کو جو قوم سینے سے لگاتی ہے اس کے اندر پھیلاؤ کی کس قدر عظیم قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کتاب کے نتیجے میں کسی قوم کے اندر جو اخلاقی قوت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے اثرات کس قدر دور رس ہوتے ہیں ۔ یہ کتاب جو نظام حیات پیش کرتی ہے وہ کس قدر مستحکم نظام ہے ۔ اہل کتاب اس کتاب اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ اس کتاب میں ان کے لئے نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کسی دوسرے دین کے لئے کوئی گنجائش ہے ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اس کتاب میں کس قدر عظیم سچائی ہے اور وہ خود کس عظیم باطل کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ اس نظام جاہلیت سے بھی واقف تھے جس تک وہ آپہنچے اور جس تک ان کی قوم ‘ ان کے اوضاع واطوار اور ان کے اخلاق اور ان کا اجتماعی نظم پہنچ گئے ہیں ۔ اب صورت یہ ہوگئی کہ یہ دین برحق ان کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں کرسکتا ۔ نہ ان کے درمیان بقائے باہمی ممکن ہے ۔ اس لئے جو معرکہ درپیش ہے وہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کرہ ارض کے اوپر سے جاہلیت ختم ہوجاتی ‘ جب تک ہر جگہ یہ دین غالب نہیں ہوجاتا اور پوری دنیا کا دین خدا پرستی پر قائم نہیں ہوجاتا اور اس کرہ ارض پر اللہ کی بادشاہت قائم نہیں ہوجاتی ۔ جب تک اللہ کے حقوق سلطنت اور حقوق اقتدار اعلی پر دست درازی کرنے والوں کو اس کرہ ارض کے اوپر سے بھگا نہیں دیا جاتا اس وقت تک دونوں گروہوں کے درمیان مصالحت نہیں ہو سکتی اس لئے کہ صرف اسی طریقے سے خدا کی بادشاہ قائم ہو سکتی ہے ۔
اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اس دین میں یہ حقیقت موجود ہے اور اس حقیقت کو وہ بعینہ اس طرح بغیر کسی اشتباہ کے جانتے تھے جس طرح وہ اپنے بچوں کو جانتے تھے ۔ اہل کتاب نسلا بعد نسل اس دین کا مطالعہ کرتے چلے آئے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس دین کے اندر قوت اور شوکت کے سرچشمے پنہاں ہیں اور یہ کہ یہ دین نفس انسانی کے اندر کن کن راہوں پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے ۔ اسی لئے وہ ہر وقت ان تحقیقات میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اس دین کی ان قوتوں کے اثرات کو کس طرح زائل کردیں ۔ کس طرح وہ اہل اسلام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرسکتے ہیں ؟ کس طرح وہ دین اسلام کے نصوص میں لفظی اور معنوی تحریف کرسکتے ہیں ؟ کس طرح وہ اس دین کو باطل اور جاہلیت کے مقابلے میں تحریک نفاذ اسلام اور تحریک قیام حکومت الٰہیہ کے مقام سے گرا کر ایک مجرد ثقافتی اور علمی تحریک میں بدل سکتے ہیں اور اس کی زندہ نصوص کو محض الہیاتی نظریاتی مباحث میں بدل کر انہیں بےجان کرسکتے ہیں ۔ چناچہ انکی یہی سعی رہی کہ اس دین کو محض لاہوتی ‘ فقہی اور فرقہ وارانہ اختلافات کا اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا جائے ۔ وہ دین اسلام کے مطالب اور مفہومات کو ایسے تصورات اور ایسی اشکال میں ڈھالتے ہیں جن کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اس دین کے لئے مہلک ہیں ۔ لیکن ان سازشوں کے باوجود وہ اہل اسلام کو یہ باور کراتے ہیں کہ تمہارا عقیدہ محفوظ ہے اور قابل احترام ہے ۔ اس طرح جو خلا وہ پیدا کرتے ہیں اس کی جگہ وہ نئے تصورات ‘ نئے طور طریقے اور نئی ترجیحات سامنے لاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلامی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں ۔
اہل کتاب دین اسلام کا بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں اور نہایت ہی سنجیدگی اور گہرائی سے اسلام کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ لیکن اس سے وہ کسی حقیقت کی تلاش میں نہیں ہیں ۔ ہمارے بعض سادہ لوح لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں حقیقت کی تلاش ہے یا وہ اس دین کے ساتھ کوئی انصاف کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہمارے بعض سادہ لوح لوگ ایسا سمجھتے ہیں جب مستشرقین میں سے کوئی اسلام کے بعض پہلوؤں کے بارے میں اچھے تاثرات کا اظہار کرے ۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ سچائی کی تلاش میں ہیں یا یہ کہ وہ دین اسلام پر کوئی منصفانہ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ان تحقیقات سے اس امر کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کس مقام سے وہ دین اسلام پر حملہ آور ہوں ۔ یہ لوگ دین اسلام کے ان تمام سرچشموں کو بند کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے انسانی فطرت کو سیرابی حاصل ہو سکتی ہے یا فطرت انسانی ان پہلوؤں سے متاثر ہو سکتی ہے ۔ وہ ایسے تمام سرچشموں کو بند کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس دین کی قوتوں کے راز معلوم کرتے ہیں تاکہ وہ ان قوتوں کا اچھی طرح دفاع کرسکیں ۔ یہ لوگ یہ جاننا چاہتے کہ یہ دین اپنے آپ کو انسانی نفسیات کے اندر کس طرح نشوونما دیتا ہے تاکہ یہ لوگ اہل اسلام کو غافل پا کر کچھ اپنے تصورات اس کے اندر داخل کردیں اور لوگوں کے نفوس کے اندر جو بھی خلا باقی ہو اسے وہ دین کے ساتھ متضاد تصورات کے ذریعے بھر دیں ۔
چناچہ ان مقاصد کے حصول کے لئے یہ لوگ دین اسلام کو اسی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بچوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں ۔ ہمیں ان حقائق کے بارے میں علم ہونا چاہئے ۔ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہمیں اپنے دین کے بارے میں بھی پورا پورا علم ہونا چاہئے اور ہمیں بھی چاہئے کہ ہمیں اپنے دین کے بارے میں اسی طرح پہچان ہو جس طرح ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں پہچان ہوتی ہے ۔
گزشتہ چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کی عملی صورت حال اس بات کی تصدیق کرتی ہے جس کے بارے میں قرآن کریم نے پہلے سے بتا دیا تھا ۔
(آیت) ” الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمُ ۔ (6 : 20) وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کے پہچانتے ہیں ۔ “ میں کوئی اشتباہ نہیں آتا ۔ “ ماضی قریب کے تاریخی دور میں یہ صورت حال بہت ہی اچھی طرح واضح ہوگئی ہے ۔ آج اسلام کے بارے میں جو بحثیں ہو رہی ہیں وہ اس قدر وسیع ہیں کہ ہر ہفتے کی تحریروں کو جمع کرکے ایک کتاب شائع کی جاسکتی ہے ۔ یہ صورت تمام غیر ملکی زبانوں کی ہے ۔ ان مباحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب اس دین کی ہر چھوٹی بڑی بات سے واقف ہیں ۔ وہ اس کے مزاج اور اس کی تاریخ سے پوری طرح باخبر ہیں ۔ انہیں اس دین کی قوت کے سرچشمے بھی معلوم ہیں اور اس کی قوت مدافعت سے بھی وہ پوری طرح باخبر ہیں ۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس دین کے بگاڑنے کے طریقے کیا ہیں ‘ لیکن اہل کتاب کی اکثریت اپنی اس نیت کو چھپائے رکھتی ہے ۔ وہ اپنے مقاصد کو اس لئے خفیہ رکھتے ہیں کہ اگر دین اسلام پر براہ راست حملہ کیا جائے تو لوگ اس کی مدافعت کے لئے اٹھتے ہیں اور طرفداری کرتے ہیں ۔ وہ تحریکات جو اس دین پر مسلح حملوں کے دفاع کے لئے برپا کی گئیں ‘ مثلا استعماری قوتوں کے خلاف تو یہ تحریکات ایک دینی فہم اور دینی جذبے کے اوپر قائم تھیں ۔ انہوں نے اپنے وقت میں دین کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیا ‘ لیکن آج دین کے خلاف فکری جنگ شروع ہے اس فکری ونظریاتی جنگ کی مدافعت کے لئے بھی اسلامی تحریکات اٹھتی رہی ہیں اور اہل کتاب کو اس کا اندیشہ ہمیشہ رہتا ہے ۔ اس لئے وہ نہایت ہی مذموم طریقے اختیار کرتے ہیں اور وہ یوں کہ وہ پہلے دین اسلام کی کسی قدر تعریف کرتے ہیں اور اسلام کی مدافعت اور حمایت کے جذبات کی جذبات کو سلا دیتے ہیں تاکہ اسلام کی حمایت کا جذبہ بےحس کردیا جائے ‘ اور پڑھنے والے کے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے اور اس طرح ایسے مصنفین پیالے میں زہر ڈالتے جائیں اور پڑھنے والا ایک ایک گھونٹ پیتا رہے ۔ اب ایسے لوگوں کی بات کچھ اس طرح کی ہوتی ہے ۔ ” بیشک اسلام ایک عظیم دین ہے لیکن اس کے معانی اور تصورات کو ترقی یافتہ شکل میں جدید تہذیب کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے تاکہ وہ جدید دور کی ضروریات کو پورا کرے ۔ دور جدید میں معاشروں کے اندر جو جدت اور ترقی کا عمل جاری ہے ‘ مناسب نہیں ہے کہ یہ دین اس کی راہ میں رکاوٹ بنے بلکہ مناسب یہ ہے کہ یہ دین جدید اخلاقی قدریں اپنا لے اور جدید نظامہائے حکومت اور اجتماعی امور کو نہ چھیڑے ۔ اس طرح کہ جو چاہے اسلامی عقائد کو اپنے دلوں میں بٹھائے رکھے لیکن انسان کی عملی زندگی میں جدید نظریات اور تہذیب مغرب کے رنگ ڈھنگ اس کے دائرے سے باہر نکل آئیں ۔ وہ اپنے اجتماعی معاملات بھی اس ان لوگوں کے حوالے کر دے جو اس کرہ ارض پر الہ اور رب بنے ہوئے ہیں اور خود اپنا دین چلا رہے ہیں ‘ اس طرح اسلام ایک ہمہ گیر دین قرار پائے گا “۔
اس انداز گفتگو کے دوران یہ مصنفین اپنی اقوام کو یہ راز سمجھاتے ہیں کہ دین اسلام کی قوت اور صلابت کا راز کیا ہے ؟ بظاہر یہ تعریف کر رہے ہوتے ہیں لیکن بباطن اپنی اقوام کو تاثر دیتے ہیں کہ یہ دین نہایت ہی خطرناک ہے ۔ یوں تعریف کے لباس میں یہ اپنی اقوام کو اس دین کی قوت کے راز سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ ان انکشافات کے ذریعے تخریبی قوتیں دین کے نازک مقامات پر حملہ آور ہوں اور ان کے وار اور بمباری ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگے اور ان کو اس بارے میں اس قدر علم ومعرفت حاصل ہوتی رہے جس طرح وہ اپنے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔
قرآن کریم کے اسرار و رموز اس کے جاننے والوں پر کھلتے ہی رہیں گے ۔ یہ کتاب ہمیشہ جدید اور نئی رہے گی ۔ گزشتہ چودہ سو سال میں یہ ہمیشہ جدید رہی ہے ۔ مسلمان اس کی روشنی میں معرکے لڑتے رہے ہیں اور اپنی تاریخ پر اس کی روشنی میں غور کرتے رہے ہیں ۔ وہ اپنے ماضی اور حال کا جائزہ اس کی روشنی میں لیتے رہے ہیں اور اپنے معاملات کو اللہ کے نور میں دیکھتے رہے ہیں جس کے ذریعے سچائی کے راستے واضح ہوجاتے ہیں ۔
Ayahs 6:21–24(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔
بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔
(آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “
یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ صادق القول اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔
اس موقعہ پر قرآن ان کی ناکامی اور عدم فلاح اور ان کے غلط موقف کی ایک تصویر کشی نہایت ہی زندہ ‘ متحرک اور دلکش الفاظ میں فرماتے ہیں :
(آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) (6 : 22 تا 24)
” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرک کی کئی قسمیں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کی بھی کئی اقسام ہیں اور صورت حال وہ نہیں ہے جو عام طور پر کلمہ شرک اور شرکاء اور مشرکین کے اطلاق سے آج کل عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں یا پتھروں ‘ درختوں اور آگ وغیرہ کے مظاہر کی پرستش کرتے ہیں ۔ بس یہی ہے شرک کا مفہوم ۔
درحقیقت شرک تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ ذات باری کے خصائص میں سے کچھ خصائص اس میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ چاہے وہ نظریاتی امور ہوں جن میں کا اس کائنات کے تصرفات میں سے کوئی امر اللہ کے سوا کسی اور سے منسوب کیا جائے ‘ یا مراسم عبودیت ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے بجا لائے جائیں مثلا عبادت اور نذر ونیاز وغیرہ یا زندگی کے نظام کو درست کرنے کے لئے اصول اور ضابطے اللہ کے سوا کسی اور سے لیے جائیں ۔ یہ سب کے سب شرک کے الوان و اقسام ہیں ۔ اس شرک کا ارتکاب یوں ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایک قسم کا شرک کرتے ہیں اور بعض دوسری قسم کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے مشرکین کے شرکاء اور معبود بھی مختلف ہوتے ہیں۔
قرآن کریم نے ان تمام اقسام پر کلمہ شرک کا اطلاق کیا ہے اور شاید قیامت کے منظر کے اندر ان مشرکین اور شرکاء کے زندہ مناظر پیش کرکے اہل ایمان کو حقیقت سمجھانے کی سعی کی ہے ۔ قرآن کریم نے لفظ شرک کو کسی ایک مفہوم تک محدود نہیں رکھا ہے اور نہ ان میں سے کسی ایک مفہوم سے متصف کسی شخص کو مشرک کہا ہے اور نہ دنیا اور آخرت میں ان تمام اقسام کے مشرکین کے انجام اور سزا اور ان کے ساتھ تعلق میں کوئی فرق کیا ہے ۔
عربوں کے اندر شرک کی یہ تمام اقسام پائی جاتی تھیں ۔ عربوں میں یہ اعتقاد موجود تھا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض اللہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہ شرکت اس طرح ہے کہ اللہ کے ہاں جو بات وہ کہتے ہیں وہ لازما منظور ہوتی ہے ۔ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلوں اور واقعات کی رونمائی میں ان کا بھی داخل ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے شریک ہوتے ہیں یا یوں کہ یہ مخلوقات انسان کو اذیت دینے پر قادر ہے ۔ مثلا جنات نقصان دیتے ہیں ۔ یا دونوں طریقوں سے یہ انسان کو اذیت دے سکتے ہیں ۔ مثلا آباؤ و اجداد کی روحیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان جنات ‘ کاہنوں اور اجداد کی ارواح کی طرف اشارات کے طور پر یہ لوگ ان کی طرف منسوب بت بناتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ ان بتوں کے اندر ان خدا رسیدہ مخلوقات کی روح آجاتی ہے ۔ کاہن پھر ان روحوں اور بتوں کے ساتھ ہم کلام بھی ہوتے تھے ۔ یوں ان کے لئے یہ کاہن اس اسلوب اور اٹکل سے بعض چیزوں کو حرام کرتے تھے اور بعض کو حلال کرتے تھے ۔ اس طرح درحقیقت یہ کاہن ہی تھے جو یہ کام کرتے تھے اور وہی شریک کا درجہ رکھتے تھے ۔
مزید برآں شرک کا ارتکاب وہ اس طرح بھی کرتے تھے کہ ان بتوں کے سامنے مراسم بندگی ادا کرتے تھے ۔ ان کے استھانوں پر قربانیاں کرتے اور ان کی نذریں مانتے تھے ۔ یہ قربانیاں اور نذریں اور عبادات بھی دراصل وہ ان کاہنوں کی کرتے تھے ۔ بعض عرب ایرانیوں کے زیر اثر یہ بھی عقیدے رکھتے تھے کہ کواکب کو بھی واقعات عالم میں اثر ودخل حاصل ہے ‘ اور اس طرح گویا یہ ستارے بھی خدا کے شریک ہیں ۔ چناچہ عربوں کے اندر ستارہ پر ستی داخل ہوگئی ۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ لایا گیا ہے وہ بھی اسی نقطہ نظر سے لایا گیا ہے اور اس سورة کے موضوع سے یہی بات اس قصے کو مربوط کردیتی ہے ۔ (جیسا کہ آگے ہم بتائیں گے انشاء اللہ)
شرک کی تیسری صورت بھی ان عربوں کے اندر رائج تھی ۔ یہ لوگ کاہنوں کی مدد سے اپنے لئے دستور اور قانون خود بناتے تھے اور زندگی کے طور طریقے اور رسم و رواج اپنے لئے خود وضع کرتے تھے ۔ اگرچہ اس کے اندر قانون سازی کی اجازت اللہ نے نہ دی تھی لیکن خود قانون بنا کر وہ دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ کا قانون اور شریعت ہے جس طرح آج کے بعض سیاسی مفکر ایسا دعوی کرتے ہیں ۔
پس اس منظر میں ‘ یعنی قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ تمام قسم کے شرکاء کے بارے میں لوگوں کو بلا کر یہ سوال کریں گے کہ لاؤ ان کو اب جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے ؟ آج تو ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ آج تو وہ اپنے متبعین کی کوئی امداد نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کو اس ہولناک صورت حال سے بچا سکتے ہیں۔
(آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22)
” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے ۔ “
یہ منظر بالکل آنکھوں کے سامنے ۔ گو میدان حشر برپا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکوں سے یہ باز پرس ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ باز پرس نہایت ہی المناک ہے ۔ ” وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں ؟ “
یہ ہولناک باز پرس انہیں حواس باختہ کردیتی ہے ۔ اب ان کی فطرت پر جو پردے پڑگئے تھے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کی فطرت اور ان کی یادداشت سے وہ عارضی حالات محو ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان حالات کی بنیاد فطرت پر تھی ہی نہیں یہ غیر فطری اور محض سراب کی طرح عارضی حالات تھے ۔ ان کا شعور اب یہ بتاتا ہے کہ وہ کس طرح شریک ٹھہر سکتے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ نہ تو شرکاء موجود تھے اور نہ ہی ہم نے کسی کو شریک بنایا ۔ اب یہ منظر ان کے لئے ایک نئے فتنے کا سبب بنے گا ۔ اس حقیقی دربار میں اب خبیث اور بےاصل افکار ان کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں جس طرح بھٹی میں تپ کر چیزوں سے غلط عناصر جھاگ کی شکل میں خارج ہوجاتے ہیں ۔
(آیت) ” ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23)
” تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ “ وہ حقیقت سامنے آگئی جس کی وجہ سے فتنہ چھٹ گیا یا اس کی روشنی میں فتنہ واضح ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ کر اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا لیکن انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب ان کے لئے اقرار مفید نہ تھا ۔ اس اقرار باطل سے علیحدگی ان کے لئے مفید نہ رہے گی ۔ بلکہ یہ ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی اور ان کا یہ اقرار ان کے لئے اب موجب نجات نہ ہوگا ۔ وقت جا چکا ہوگا ۔ آج تو جزائے اعمال کا دن ہے ۔ آج تو آخری فیصلوں کا دن ہے ۔ یہ ریمانڈ کا دن نہ ہوگا ۔
ان کی اس حالت پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تبصرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جب شرک کا ارتکاب کیا اور ان لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اپنے نفوس کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ارتکاب کیا اس لئے کہ اللہ کے ساتھ کسی شریک کا تو دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ نہ ان شرکاء کی کوئی حقیقت تھی ۔ آج ان سے وہ افتراء غائب ہے ۔ انہوں نے حق کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا جھوٹا طلسم غائب ہوگیا۔
(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) ۔
” دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ناپید ہوگئے ۔ “ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ بولا ہے ۔ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اسی وقت اپنے اوپر جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو فریب میں ڈال دیا ۔ اللہ پر افترا باندھا اور اب ان کے تمام معبود ناپید اور گمشدہ ہیں اور اب تو حشر اور حساب کا دن ہے ۔
میرے خیال میں اس آیت کی یہی اطمینان بخش تفسیر ہے ‘ کیونکہ منظر قیامت کا ہے اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ذات باری کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے اس لئے کہ قیامت کے دن ان کا جھوٹ ان کے خلاف ہوگا اس مفہوم میں ۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھ سکیں گے اور نہ ارادۃ جھوٹی قسم اٹھا سکیں گے ۔ جن لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ عمدا جھوٹ بولیں گے تو وہ اس لئے درست نہیں ہے کہ لایکتمون اللہ حدیثا کے بموجب وہ قیامت میں اللہ سے تو کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ۔ بلکہ قیامت کے اس ہولناک منظر میں ان کی فطرت پاک وصاف ہوجائے گی اور اس سے شرک کی آلائشیں دور ہوجائیں گی ۔ لیکن اللہ ان پر تعجب فرماتا ہے کہ دیکھو انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کس جھوٹ میں بسر کی اور آج آخرت میں ان کے پردہ خیال میں اس جھوٹ کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم بالمراد) بہرحال یہ بھی احتمالات میں سے ایک احتمال ہے ۔
اگلی آیات میں مشرکین کا ایک دوسرا گروہ اسکرین پر آتا ہے اور اب ان کے کیس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مناظر قیامت میں سے ایک دوسرا منظر ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کو سنتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوت مدرکہ کو معطل کردیا ہے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ تحریک اسلامی کے معاند ہیں اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑی شے سمجھتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے مجادلہ کر رہے ہیں۔ چناچہ اس صورت میں وہ آنکھیں بند کرنے اور نفرت کرنے کی وجہ سے اس قرآن کریم پر یہ تبصرہ کرتے ہیں ” یہ تو ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ “ اور پھر وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت کو سننے اور قبول کرنے سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کے حالات کی یہ تصویر صفحہ کی ایک طرف ہے اور اس صفحے کے دوسری جانب ان کی نہایت ہی مکروہ اور دردناک حالت کو منقش کیا گیا ہے ۔ وہ آگ کے کنارے کھڑے ہیں ‘ گرفتار ہیں اور انہیں اس خوفناک انجام کے دھانے پر کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ وہ نہایت ہی ذلت میں چیخ و پکار کرتے ہیں اور نہایت ہی حسرت آمیز انداز میں یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تو وہ اپنے موقف میں تبدیلی کرلیں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا ۔ چناچہ نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں ان کی اس تمنا اور خواہش کو رد کیا جاتا ہے ۔