Ayahs 6:66–67(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔
یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔
(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)
” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔
یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔
آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔
جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی محفل میں بیٹھ جائے تو یاد آتے ہیں اس کا فرض ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہو۔
Ayah 6:68(آیت) ” نمبر 68۔
یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں ہو رہی ہوں تو آپ یاد آتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل اسلام سب کو یہی حکم تھا ۔ یہاں ظالمون سے مراد مشرکون ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز گفتگو ہے ۔
لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو اس وقت مشرکین کے مقابلے میں حضور ﷺ کی پوزیشن مختلف تھی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ حضور ﷺ ان کے مقابلے میں اس وقت تک جہاد و قتال جاری رکھے ہوئے تھے جب تک تمام فتنوں کا استیصال نہیں کردیا جاتا اور کسی کو یہ جرات ہی نہی رہتی کہ وہ آیات الہیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کرے ۔
اس کے بعد سیاق کلام مومنین اور مشرکین کے درمیان مکمل فرق و امتیاز کی بات کو پھر دہراتا ہے جس طرح اس سے قبل رسول اللہ ﷺ اللہ اور مشرکین کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ یہاں فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دونوں کے انجام اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے ۔
Ayah 6:69(آیت) ” نمبر 69۔
اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد نہیں ہوجاتا تو پھر ان کے درمیان کسی اور بات پر اشتراک نہیں ہوسکتا ۔
یہ ہے دین اسلام اور یہ ہے اللہ کا کلام ۔ اگر کوئی اس کے سوا کوئی اور بات کرتا ہے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ فعل اس کا اپنا ہوگا لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے سبب دین اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرا مزید مطالعہ کیجئے ‘ قرآن کریم کچھ مزید ہدایات دیتا ہے ‘ اہل حق واہل باطل کے درمیان مکمل جدائی کی کچھ مزید حدود وقیود بیان کی جاتی ہیں ۔
Ayah 6:70(آیت) ” نمبر 70۔
اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :
ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں ‘ اسلامی شریعت پر کلام کرتے ہیں اور اس دین کی طرف قابل تضحیک اوضاف کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مثلا وہ لوگ جو غیب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عالم غیب کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں حالانکہ ایمان بالغیب اصول عقائد میں سے ہے اور جو لوگ زکوۃ کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ وہ دین کے بنیادوں میں سے ہے ۔ اور جو لوگ شرم وحیاء اور عفت و پاکیزگی کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول دین میں سے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحرروں میں انہیں قرون اولی کے زرعی اور جاگیردارنہ اخلاق میں سے قرار دیتے ہیں یا انہیں بورژوا اخلاق قرار دیتے ہیں اور جو لوگ حقوق الزوجین کے بارے میں تحقیر آمیز ریمارکس پاس کرتے ہیں اور جو لوگ عورت کے لئے مقرر اصول عفت و پاکیزگی کو عورت کی پسماندگی اور اس کا استحصال قرار دیتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تمام باتوں سے پہلے وہ انسانوں کی پوری زندگی میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسان کی سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی اور قانونی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قائل نہیں ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان شعبوں میں لوگ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اللہ کے دین کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرنے والے سمجھے جائیں گے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ماسوائے تبلیغی مقاصد کے ان لوگوں سے دور رہے اس لئے کہ یہ لوگ ظالم اور مشرک ہیں اور ان کافروں میں سے ہیں جو اپنے کفریہ اعمال میں گرفتار ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ دردناک عذاب میں رہیں گے ‘ اس لئے کہ یہ لوگ مذکورہ کفریہ روش میں مبتلا تھے ۔
دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دیں اور یہی حکم آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے لئے بھی باقی ہے ۔ لیکن حضور کو اس مقاطعہ کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس دین کے ساتھ ہنسی مذاق کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی اس عارضی زندگی نے فریب میں ڈال دیا ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھی انہیں یاد دہانی کراتے جائیں ۔ انہیں ڈراتے رہیں کہ وہ جو کچھ برائیاں سمیٹ رہے ہیں ان کا وبال ان کی جان پر ہوگا اور ایک وقت آنے والا ہے جس میں وہ اللہ سے ملیں گے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کچھ بھی تعاون کرسکے ۔ نہ کوئی ان کا سفارشی ہوگا ‘ نہ ان سے کوئی مالی تاوان قابل قبول ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنی جان کو ان باتوں سے چھڑا سکیں جن کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا ۔ یہ مفہوم قرآن کریم نے جن الفاظ میں ادا کیا ہے ‘ ان کی خوبصورتی اور معنوی گہرائی قابل غور ہے ۔ ذرا دوبارہ تلاوت کیجئے ۔
(آیت) ” وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْْسَ لَہَا مِن دُونِ اللّہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ وَإِن تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا (6 : 70)
” ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور متنبہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے ہوئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ اور اگر گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لئے نہ ہو ‘ اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ۔ “
ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں ماخوذ ہوگا ‘ ذمہ داری انفرادی ہوگی اور اپنے اعمال کی بنیاد پر ہوگی اور ایسے حالات میں ہوگی کہ جہاں اللہ کے سوا کوئی ولی اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر کوئی ممکن حد تک زیادہ معاوضہ وتاوان دینا چاہے تو بھی قبول نہ ہوگا اور یوں وہ کسی صورت میں بھی گردن نہ چھڑا سکے گا ۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو مذاق کا نشانہ بنایا اور دنیا کی چند روزہ حیات سے دھوکہ کھا گئے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو گروی رکھ دیا اپنی بداعمالیوں کے ہاتھ ‘ اور اس وجہ سے ان پر وہ عذاب ثابت ہوگیا جس کا تذکرہ اس آیت میں ہوا اور ان کا انجام یہ قرار پایا ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ أُبْسِلُواْ بِمَا کَسَبُواْ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَعَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُواْ یَکْفُرُونَ (70)
” کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے ‘ ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا “۔
گویا وہ اپنے افعال بد کی وجہ سے پکڑے گئے اور یہ ان کے لئے مناسب سزا تھی ‘ کیسی جزاء ؟ ایسا گرم پانی جو ان کے حلق اور پیٹ کو بھون ڈالے گا ۔ ان کے کفریہ اعمال کی وجہ سے یہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہوگا اور یہ عذاب اس بات کی دلیل ہوگا کہ وہ دین کے ساتھ مذاق کرتے رہے ۔
تیسری بات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا للہ کا سچا دین فی الحقیقت ان کا دین ہے ۔ (دینھم) سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین میں داخل ہوگئے ہیں اور داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اس قسم کے لوگ موجود تھے اور عرف عام میں انہیں منافقین کہا جاتا تھا ۔ مدینہ طیبہ میں تو بات ایسی ہی تھی ۔
سوال یہ ہے کہ آیا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوگا مثلا مشرکین جو دین اسلام میں داخل نہیں ہوئے ۔ ہاں ان پر بھی ہوگا اس لئے کہ حقیقی دین ‘ دین اسلام ہی ہے ۔ یہ پوری بشریت کا دین ہے چاہے کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے ۔ اس لئے کہ جو شخص اس دین کا انکار کرتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ درحقیقت خود اپنے دین کو چھوڑتا ہے ۔ اس لئے کہ یہی تو دین ہے جو اللہ کے نزدیک دین ہے اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ کی جانب سے صرف یہی دین مقبول ہے ۔
یہی مفہوم ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دین کی نسبت ان کی طرف کی ہے کہ یہ ان کا دین ہے ۔
(آیت) ” وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ دِیْنَہُمْ لَعِباً وَلَہْواً وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا (6 : 70)
” چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشابنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا ہوئے ہے ۔
جیسا کہ ہم نے وضاحت کی اس آیت میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ دین اسلام تمام انسانوں کا دین ہے ۔ لہذا جو شخص دین اسلام کو کھیل اور تماشا بناتا ہے گویا وہ خود اپنے دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے ۔ اگرچہ ایسا کرنے والا شخص مشرک ہو۔
چہارم یہ کہ ظالموں اور مشرکوں کی ہم نشینی کس قدر جائز ہے ؟ اور جو لوگ دین اسلام کو کھیل تماشا بناتے ہیں ان کے ساتھ مجالس کی حدود کیا ہیں ؟ یہ مجالست صرف وعظ ونصیحت کی خاطر جائز ہے اور اس کے سوا ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں ہے ۔ یعنی ایسے حالات میں جب وہ آیات الہی کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اور نکتہ چینی کر رہے ہوں اور یہ نکتہ چینی اور مذاق مختلف انداز میں ہو سکتا ہے ۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر جامع الاحکام میں اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ” اس آیت میں بصراحت اس نظرئیے کی تردید آجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ راہنمایان دین اور ان کے متبعین بطور تقیہ فاسقین کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرسکتے ہیں اور ان کی غلط آرا کی تصدیق بطور تقیہ کرسکتے ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ فاسقین اور مفسدین کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی خاطر بھی ان حدود وقیود کے ساتھ ہم بیٹھ سکتے ہی جن کا تذکرہ اس آیت میں ہوچکا ہے ۔ رہی یہ بات کہ فساق وفجار کی مجالس میں بیٹھنا اور ان کی بری اور مفسدانہ باتوں پر سکوت اختیار کرنا اور بطور تقیہ ایسا کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو کھلے طور پر باطل کا اقرار ہے اور حق کے خلاف شہادت ہے اور لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے ۔ نیز اس طرز عمل میں دین کی بھی توہین ہے اور جو لوگ دین کا کام کرتے ہیں ان کی بھی توہین ہے ۔ لہذا ایسے حالات میں بیٹھنا منع ہوگا اور ایسی مجالس میں چھوڑنا فرض ہوگا ۔
امام قرطبی نے بعض دوسرے اقوال بھی نقل کئے ہیں :” ابن خویز مقداد کہتے ہیں کہ جو شخص آیات الہی کے بارے میں گستاخانہ کلام کرے اس کی مجلس سے فورا واک آوٹ کرنا چاہئے خواہ یہ شخص مومن ہو یا کافر ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح گرجوں اور مندروں میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور کفار اور بدعتیوں کے ساتھ ہم نشینی کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ نیز یہ بات بھی منع ہے کہ کوئی ان سے محبت ودوستی کرے ‘ ان کی باتیں سنے اور ان کے ساتھ مناظرے کرے ۔ روایات میں آیا ہے کہ بعض بدعتی لوگوں کے ابو عمران نخعی سے کہا کہ میری بات سنو تو انہوں نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا میں تمہاری آدھی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں “۔ اسی قسم کی بات ایوب سختیانی سے بھی منقول ہے اور فضیل ابن عباس نے کہا ہے : جو شخص کسی صاحب بدعت کے ساتھ دوستی رکھے گا ‘ اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور یوں اس کے دل سے اسلام خارج ہوجائے گا ۔ جس شخص نے کسی مبتدع شخص کو رشتہ دیا تو اس نے قطع رحم کیا اور جو شخص بدعتی لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ دانشمندی سے محروم کردیا جائے گا ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ فلاں بندہ بدعتی کو بری نظروں سے دیکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ ایسے شخص کو اللہ بخش دے گا ۔ ابو عبداللہ حاکم نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس شخص نے بدعتی کی عزت افزائی کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے کے کام میں معاونت کی “۔
یہ باتیں تو اس شخص کے بارے میں ہیں جو بدعتی ہو ‘ البتہ دین اسلام کا پیروکار ہو ‘ رہا وہ شخص جو اپنے لئے اللہ کی خصوصیات میں سے ایک صفت کا دعوی کرتا ہو ‘ مثلا صفت حاکمیت تو وہ بدعتی سے بھی بڑا مجرم ہے اور جو شخص ایسے شخص کو اس صفت کے ساتھ متصف کرتے ہیں وہ اس سے بھی بڑے مجرم ہیں ۔ یہ جرم محض ارتکاب بدعت جیسا جرم نہیں ہے بلکہ کفر اور شرک جیسا بڑا جرم ہے ۔ کسی شخص کو صفت حاکمیت سے متصف کرنا سلف صالحین کے دور میں نہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے اس نکتے پر بحث نہیں کی ۔ تاریخ اسلام میں کسی وقت بھی کسی نے اپنے آپ کو اللہ کے بالمقابل حاکم نہیں سمجھا اور نہ حاکمیت خود یا حاکمیت عوام کا دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی وہ مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہو۔ شرق اوسط پر فرانسیسی حملے سے پہلے عالم اسلام میں اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم تھا ۔ فرانسیسی حملے کے بعد ہی لوگ اللہ کی حاکمیت کے دائرے سے خارج ہوئے ہیں ۔ ہاں بعض لوگ ایسے تھے جو اس سے بچے رہے ۔ لہذا اقوال سلف میں سے ایسے اقوال کم ملتے ہیں جن کا انطباق ہم اس جدید صورت حالات پر کرسکیں اس لئے کہ یہ جدید صور حال ایسی ہے کہ اس میں مسلمان شرعی حدود کو دور پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔
درس نمبر 64 ایک نظر میں :
یہ لہر حقیقت الوہیت اور خصوصیات ذات کبریائی کے بیان میں ایک نہایت ہی موزوں زمزمہ ہے ۔ اس میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی شدت کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو راہ ہدایت پانے کے بعد دوبارہ شرک کے اندھیروں میں داخل ہوجائے اور آگے بڑھنے کے بعد رجعت قہقہری اختیار کرلے یا دین اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجائے ۔ ایسے شخص کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے جیسے وہ ایک صحرا میں کھڑا ہے اور اسے اپنی منزل مقصود کی طرف جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ اس فیصلے اور قرار داد پر کہ ہدایت دی ہے جو اللہ کی راہنمائی پر مبنی ہو ‘ اس لہر کا میٹھا نغمہ اپنے طویل ترنم کے ساتھ اس بات پر ختم ہوجاتا ہے کہ تخلیق اور نظام حکومت (امر) کے بارے صرف اللہ وحدہ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ اس اختیار کلی کا اظہار اس وقت ہوگا جب نفخ صور کے دن مومن و کافر سب کو اپنی اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا سب کے سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو اس وقت جس کا عقیدہ نہیں تھا وہ بھی یقین سے جان لے گا کہ اب تو تمام اختیارات اللہ وحدہ کے ہاتھ مین ہیں اور اب تمام معاملات اسی کی طرف لوٹ آئے ہیں ۔
Ayahs 6:71–72(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “
لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔
غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔
ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔
(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)
” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔
اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔
(آیت) ” کَالَّذِیْ اسْتَہْوَتْہُ الشَّیَاطِیْنُ فِیْ الأَرْضِ حَیْْرَانَ لَہُ أَصْحَابٌ یَدْعُونَہُ إِلَی الْہُدَی ائْتِنَا “۔ (6 : 71)
” کیا ہم اپنا حال اس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو ‘ درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آؤ ‘ سیدھی راہ موجود ہے ؟۔ “
ضلالت وگمراہی اور حیرانی و پریشانی کا یہ ایک متحرک اور جیتا جاگتا منظر ہے جو شخص عقیدہ توحید کے بعد شرک اختیار کرتا ہے ۔ جس کا ضمیر رب واحد اور ارباب متفرقہ کے درمیان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ عموما ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی راہ اختیار کرے ۔ غرض یہ ایک ایسی بدبخت مخلوق خدا کا منظر ہے ” جسے شیطان نے صحرا میں بھٹکا کدیا ہو ۔ لفظ استہوتہ اپنے مفہوم کی تصویر کشی خود ہی کردیتا ہے ۔ اگر وہ ایک راہ لیتا تو کوئی بات نہ تھی ۔ کسی ایک راہ پر پڑجاتا چاہے وہ گمراہی کی راہ ہوتی ‘ لیکن یہاں وہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جانب سے اس کے کچھ ساتھی ہدایت یافت ہیں اور وہ اسے راہ راست کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار پکارتے ہیں کہ آؤ بھائی ادھر آؤ ۔ وہ اس شیطانی بےراہ روی اور دوستوں کی پکار کے درمیان حیران وپریشان کھڑا ہے ۔ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کدھر جائے اور دونوں پکارنے والوں میں سے کس کی راہ کا انتخاب کرے ۔ وہ اس نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہے اور قرآن کے الفاظ کے درمیان سے اس شخص کی ذہنی اذیت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔
میں جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تو سوچتا رہتا کہ اس ذہنی کھینچا تانی ‘ کشمکش اور تذبذب کی وجہ سے انسان کس عذاب میں مبتلا ہوتا ہوگا ۔ ایسے افراد کا ایک ذہنی نقشہ سامنے آجاتا ہے لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہی ہوتا ہے جبکہ عملی زندگی میں ‘ ہمارے سامنے بعض لوگوں کے حقیقی حالات بھی آئے ہیں جن پر یہ منظر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے اور وہ لوگ اس عذاب میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو تو پالیا تھا اور اس میں اپنی ذہنی وعملی بساط کے مطابق معرفت بھی حاصل کی مگر اس کے بعد وہ الٹے پاؤں پھرے اور کھوٹے اور جھوٹے الہوں کی پرستش اور اطاعت کرنے لگے ۔ یہ اطاعت انہوں نے خوف اور لالچ کی وجہ سے کی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایسی ہی کربناک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کے عملی حالات کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور قرآن کریم کا یہ اندازبیاں کس قدر جامع اور موثر ہے ۔
ابھی یہ خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور اس برے انجام کو دیکھ کر دل مومن کانپ ہی رہا تھا کہ صراط مستقیم دکھا دیا جاتا ہے اور فیصلہ کن حکم دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَیَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (71) وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72۔ 71)
” کہو ” حقیقت میں صحیح راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سراطاعت خم کر دو “ ۔ نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
نہایت ہی مناسب نفسیاتی حالات میں یہ فیصلہ کن بات ہے ۔ اس لئے کہ جب انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے حیرانی اور کشمکش کی ایک تصویر چل رہی ہے ‘ اسے کوئی سکون وقرار حاصل نہیں ہے اور وہ سخت ترین اذیت کا شکار ہے تو ایسے حالات کو دیکھ کر کوئی بھی قاری اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور مطمئن کردینے والی بات کو قبول کرے اور راحت و سکون کی تلاش کرے ۔ یہ فیصلہ کن بات کیا ہے ؟ یہ ہے سچائی ۔ ” راہنمائی تو صرف اللہ کی راہنمائی ہے ۔ “ ھدی اللہ ھو الھدی “ کی ترکیب سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کجہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کی راہنمائی ہی حقیقی راہنمائی ہے ۔
انسان نے جب بھی اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا وہ آوارہ صحرا ہوا ۔ نیز اگر انسان اللہ کی راہنمائی کا کچھ حصہ تبدیل کرکے اس کی جگہ اپنے تصورات نافذ کرے ‘ اپنے فارمولے آزمائے ‘ اپنی جانب سے قوانین وضع کرے ‘ اپنے طور طریقے اپنائے ‘ خود ساختہ پیمانے رائج کرے اور یہ سب کام علم الہی ‘ ہدایت الہی اور اللہ کی روشن کتاب کی راہنمائی کے دائرے سے باہر نکل کر کرے تو وہ کبھی بھی راہ راست نہ پائے گا اور بےکنار صحرا ہی میں پھرتا رہے گا ۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کائنات کے بعض نوامیس فطرت تک رسائی حاصل کرچکا ہے ‘ کائنات کی بعض قوتوں کو اس نے مسخر کرلیا ہے ‘ اس کرہ ارض کا نظام چلانے کے لئے وہ ان قوتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اس دنیا کی زندگی کو ترقی دے رہا ہے لیکن اس کو اللہ نے اس قدر وسیع علم اور قوت نہیں دی ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام قوتوں اور تمام حقیقتوں کی تہہ تک پہنچ سکے ‘ نہ یہ حضرت انسان اس عالم غیب کی وسعتوں کے اندر داخل ہو سکتا ہے جو اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ خود انسان کی عقل ، انسان کی سوچ ‘ اس کے جسم کے مختلف اعضاء کا کام کرنا اور اس کے اسباب اور ان اعضاء کا اس طرح مربوط طریقے پر کام کرنا ‘ یہ سب امور ایسے ہیں جو انسان کے لئے ابھی تک عالم غیب کے حصے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی انسان خدائی ہدایت اور راہنمائی کا محتاج ہے ۔ انسان کی زندگی ‘ اس کے نظریات ‘ اس کی تخلیق ونشوونما ‘ زندگی کی اقدار اور پیمانے ‘ زندگی کا نظام اور طور طریقے ‘ زندگی کے ضوابط اور قوانین ایسے امور ہیں جن میں انسان کو اللہ کی راہنمائی درکار ہے تاکہ ان چیزوں کو اس کی زندگی میں نافذ کیا جاسکے اور اس کی عملی زندگی پر ان خدائی ہدایات کا نفاذ ہو ۔
یہ انسان جب اللہ کی ہدایت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہدایت کو قبول کرلیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ انسان قرار پاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے جب بھی وہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتا ہے یا اللہ کی راہنمائی میں سے بعض اجزاء سے انحراف کرتا ہے یا اس میں سے بعض اجزاء کو تبدیل کرکے اس کے اندر خود ساختہ اجزاء پیوست کردیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو بات اللہ کی راہنمائی پر مبنی نہ ہو تو وہ ضلالت ہے کیونکہ کوئی تیسرا اور درمیانی راستہ موجود نہیں ہے ۔ (فماذا بعد الحق الا الضلال) ” سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ “ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں اس گمراہی کا مزہ خوب چکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے بےحد مصائب جھیلے ہیں اور آج تک انسانیت ان مصائب میں مبتلا ہے ۔ انسانی تاریخ نے اپنا یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ اس کا یہی انجام ہوگا ‘ جب بھی وہ اللہ کی راہنمائی سے انحراف کرے گی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اللہ کا حکم بھی یہی ہے اور اللہ کی جانب سے اطلاع بھی یہی ہے ۔ اس حقیقت کی سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اگرچہ دعوی بہت سے حقائق کا کیا جاتا ہے لیکن تاریخ نے کسی کو تصدیق نہیں کی ۔ جو لوگ خدائی راہنمائی سے انحراف کی وجہ سے انسانی مصائب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کریں ۔ ایک عقلمند سب کچھ چشم بینا سے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ ان مصائب کو ہاتھ سے چھو سکتا ہے ۔ یہ محسوس ہیں اور اس پوری دنیا کے عقلمند لوگ ان کی بابت چیخ و پکار کر رہے ہیں۔
چناچہ سیاق کلام میں مکرر حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دو صرف اللہ کے سامنے ۔ اسی سے ڈرو اور اسی کی بندگی اور عبادت کرو ۔ وامرنا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو اور نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
یعنی اے محمد اعلان کر دو کہ راہنمائی اور ہدایت تو صرف اللہ کی راہنمائی اور ہدایت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی کے آگے سرتسلیم خم کر دو ‘ اس لئے کہ عالمین اسی کے آگے جھکتے ہیں ۔ یہ پوری کائنات اس کے آگے پابند حکم ہے ‘ پس کوئی جواز نہیں ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر انسان جیسی عقلمند مخلوق اللہ رب العالمین کے آگے نہ جھکے اور اللہ کی ملکیت اور ربوبیت کا انکار کردے اور آسمان و زمین اور پوری کائنات سے مختلف روش اختیار کرے ۔
یہاں پورے جہان اور اس کی ربوبیت کا ذکر بےمحل نہیں ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر بات بنتی ہی نہیں ۔ اس کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا یہ کہ پوری دنیا میں مشہود اور غائب دونوں شامل ہیں اور وہ قوانین قدرت جن کے مطابق یہ رواں دواں ہے ان سے یہ کائنات شمہ بھر انحراف بھی نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ اللہ رب العالمین ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اپنی طبیعی زندگی کے اندر وہ بھی ان نوامیس فطرت کا پابند ہے ۔ انسان کی جسمانی زندگی ان ضوابط کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ ان ضوابط کا مطیع ہے ۔ ان کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا ۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس محدود اختیاری زندگی کے اندر بھی اللہ کے ضوابط کی پابندی کرے اور یہ اس کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں دیکھا جائے گا کہ وہ راہ ہدایت پالیتا ہے یا صحرائے ضلالت کی طرف جانکلتا ہے ۔ اگر وہ خدائی ضوابط کی اس طرح پابندی کرے جس طرح وہ اپنی طبیعی زندگی کے اندر مطیع نوامیس الہی ہے تو اس کی زندگی خوش اسلوبی سے گزرے گی اور اس کا طرز عمل اور اس کی طبیعی زندگی باہم متناسق ہوں گے ۔ اس کا جسم اس کی روح کا ساتھی ہوگا اور اس کی دنیا آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی ۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے (امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب رسالہ دینیات)
یہ کہنا کہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ‘ اس لئے انہوں نے سرتسلیم خم کردینے کی روش اختیار کی ہے ، ایک نہایت ہی موثر ار مفرح انداز گفتگو ہے اور تا قیامت جو لوگ بھی راہ تسلیم ورضا کو اختیار کریں گے وہ اپنے آپ کو براہ راست امر الہی کا تعمیل کنندہ سمجھیں گے ۔
اب وہ مامورات آتے ہیں جو اعلان تسلیم ورضا کے بعد کا لائحہ عمل ہیں۔
(آیت) ” وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72) ” نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو “۔
اصل فریضہ یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کیا جائے ۔ اس کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد پھر عبادات کا درجہ آتا ہے اور نفسیاتی اصلاح کا کام شروع ہوتا ہے تاکہ تسلیم ورضا کی اساس پر عملی زندگی کا نقشہ فائع ہو سکے اور عملی زندگی اور تفصیلی نظام زندگی اس وقت تک استحکام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر نہ ہو ۔
اس لہر کی آخری ضرب اسلامی نظریہ حیات کے اساسی حقائق کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ یہ حقائق اسلامی نظریہ حیات کے اصلی اور بنیادی عوامل ہیں ۔ مثلا حشر ونشر ‘ تخلیق کائنات ‘ حاکمیت الہیہ ‘ علم غیب اور علم شہادت اور یہ کہ اللہ حکیم وخبیر ہے ۔