6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں ‘ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے ۔

(آیت) ” نمبر 135۔ یہ نہایت ہی پختہ تہدید ہے ‘ حق پر مشتمل ہے اور اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ۔ یہ تہدید نبی کریم ﷺ کی زبانی ہے کہ وہ ان کے معاملات سے ہاتھ نکال رہے ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ وہ سچائی پر ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ ان کا طریق کار اور نظام سچائی پر مشتمل ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ ان کے مخالفین گمراہی پر ہیں اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ : (آیت) ” إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (135) ” کہ ظالم فلاح نہیں پاسکتے “۔ اس لئے کہ یہ غیر متبدل اصول ہے ‘ کہ مشرکین جو اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بتاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا ‘ نہ اس کے سوا کوئی اور نصرت کرسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ‘ وہ نہایت اعلی درجے کی گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اور وہ گھاٹے ہی گھاٹے میں ہیں ۔ اب اس سورة کے دوسرے حلقے میں کلام کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس سبق پر قدرے غور کیا جائے ۔ اس سبق سے پہلے ان ذبیحوں پر کلام تھا جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا تھا اور اس سبق کے بعد پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں نذر ونیاز کی بحث ہے ۔ ان دوجزوی مسائل کے درمیان یہ سبق خالص نظریاتی اور عقائد کے مباحث پر مشتمل ہے اور ان میں ایمان وکفر کے مسائل اور مناظر بیان کئے گئے ۔ اس درمیانی سبق میں انسانوں اور جنوں انبیاء اور ان کے دشمنوں کے درمیان چلنے والی کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ تمام بڑے بڑے نظریاتی مسائل چھیڑے گئے ہیں جو اس سورة میں بالعموم بیان ہوئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کریم زندگی کے ان جزوی مسائل کو کس طرح شریعت کے مطابق اسلام کی نظریاتی اساس پر منطبق کرتا ہے اور اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر مسئلے کا نظریاتی پس منظر نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے ۔ وہ نظریاتی اساس یہ ہے کہ اس کائنات کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور وہی ہے جو حلال و حرام کی حدود کا تعین کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جگہ جگہ اپنے نظریہ اساسی کو کیوں بار بار دہراتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم اصولا اس بات کو اسلام کا اساسی نظریہ قرار دیتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ اساسی کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) پر قائم ہے ۔ اسی کلمہ کے ذریعے اسلام مسلمانوں کے دلوں سے تمام دوسری خدائیاں نکال کر ان کے دلوں میں صرف اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا عقیدہ جاگزیں کرتا ہے ۔ چناچہ اسلام تمام لوگوں سے حق حاکمیت چھین کر صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرتا ہے ۔ قانون سازی ایک ایسا معاملہ ہے کہ کوئی چھوٹا قانون ہو یا بڑا دونوں میں اللہ کا حق حاکمیت استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وہ حق ہے جسے ایک مسلمان صرف اللہ کے لئے مخصوص کردیتا ہے اور تمام دوسرے لوگوں کے لیے اس حق کی نفی کردیتا ہے ۔ اسلام میں دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں ‘ چاہے وہ عقائد ونظریات سے متعلق ہوں مثلا الوہیت وحاکمیت یا عملی معاملات ہوں سب میں صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کی جائے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہو۔ اس طرح قانون کا حق بھی صرف اللہ کے قانون کو حاصل ہو ۔ چناچہ ایک مسلمان کا دین یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام اطاعتوں اور قیادتوں کا انکار کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور قیادت کو قبول کرلے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم ان اعتقادی امور کو بار بار دہراتا اور ان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور تمام امور کو ان نظریات پر مرتب کرتا ہے جس طرح اس مکمل سورة میں صاف نظر آتا ہے جیسا کہ آغاز سورة میں ہم نے کہا کہ یہ سورة پوری کی پوری مکی ہے اور مکی سورتوں میں امت مسلمہ کے سامنے قانون سازی کا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا ۔ اس کے باوجود اس سورة میں نظریاتی اور اعتقادی طور پر اس بات کی صاف صاف نشاندہی کردی گئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہے اور یہ اسلام اور دین اسلام کا ایک عظیم اور اساسی نظریاتی اصول ہے جس پر یہ دین قائم ہے ۔ (1) (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی کا فصل الوہیت اور عبودیت) درس نمبر 70 ایک نمبر میں : یہ سبق جو قدرے طویل ہے اور اس سے پہلے کا سبق اور اس پر آنے والے تبصرے اسلام کے نظریہ حاکمیت سے متعلق ہیں ۔ یہ ایک ایسی سورة میں ہیں جو مکہ میں نازل ہوئی ‘ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ مکی سورتوں کا موضوع بالعموم نظریات اور عقائد سے متعلق ہوتا ہے ۔ مکی سورتوں میں قانون سازی کو نہیں چھیڑا گیا تھا ‘ قانون سازی کے بارے میں صرف وہ باتیں ان سورتوں میں ہوتی تھیں جن کا تعلق اصول قانون سے تھا ، مکہ مکرمہ میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی جسے قانون سازی کی ضرورت پڑتی اور اللہ تعالیٰ شریعت کو محض داستان یا تاریخ کے طور پر ذکر کرنا نہ چاہتا تھا ۔ نہ اس وقت اسلامی شریعت بحث وتحقیق کا محض کوئی تدریسی موضوع تھا ۔ اسلام تو ایک ایسا معاشرہ چاہتا تھا جو عملا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہوسکے ‘ جس کے اندر لوگ اپنے آپ کو ‘ اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور شریعت کی قیادت میں دینے کے لئے تیار ہوں ۔ لہذا اسلام میں قانون سازی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوجائے اور وہ لوگوں کے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرنا نہ شروع کردے ۔ صورت یہ نہ ہو کہ ادھر سے حکم آ رہا ہو اور ادھر انسانوں پر نافذ ہورہا ہو ‘ اس لئے کہ اسلام کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے اور اپنے قانون نظام کا نفاظ بھی سنجیدگی ‘ وقار اور متانت کے ساتھ کرتا ہے ۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سبق ایک مکی سورة میں ہونے کے باوجود قانون سازی کے مسئلے کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام قانون سازی کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور قانون سازی کو اس دین کے اساسی مسائل میں سے تصور کرتا ہے ۔ اس سے قبل کہ ہم اس سبق کی تفصیلا میں جائیں مناسب ہوگا کہ ظلال القرآن کی طرز پر ہم اس پورے سبق پر ایک اجمالی نگاہ دوڑائیں اور دیکھیں کہ اس سبق کی مراد کیا ہے اور اس میں کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟ اس کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں کچھ تصورات اور ادہام رکھتے تھے ۔ ان کے کچھ مالی اور کچھ اجتماعی تصورات تھے جو دور جاہلیت میں عقیدے اور قانون کا درجہ رکھتے تھے ۔ یہ تصورات اور ادہام درج ذیل امور پر مشتمل تھے ۔ 1۔ اللہ نے انہیں فصلوں اور مویشیوں کی صورت میں جو رزق عطا کیا تھا وہ انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ ایک حصہ اللہ کے لئے تھا ‘ اور وہ یہ زعم رکھتے تھے کہ اللہ نے یہ حصہ اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے ۔ ایک دوسرا حصہ انہوں نے اپنے شرکاء کے ساتھ مخصوص کردیا تھا ۔ یہ شرکاء وہ الہ تھے جن کو وہ پکارتے تھے اور ان کو وہ اللہ کے ساتھ اپنے نفس کے معاملات ‘ اموال اور اولاد کے معاملات میں شریک کرتے تھے ۔ (آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِیْباً فَقَالُواْ ہَـذَا لِلّہِ بِزَعْمِہِمْ وَہَـذَا لِشُرَکَآئِنَا (6 : 136) ” انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔ 2۔ اس کے بعد وہ خود بزعم خود مقرر کردہ حصہ خدا پر دست درازی کرتے تھے اس حصے سے کچھ وہ لے لیتے تھے اور اسے اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیتے تھے لیکن وہ اپنے شرکاء کے حصے کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے تھے ۔ (آیت) ” فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمْ فَلاَ یَصِلُ إِلَی اللّہِ وَمَا کَانَ لِلّہِ فَہُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَآئِہِمْ (6 : 136) ” پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ۔ “ 3۔ ان کے ان شرکاء نے ان کے لئے قتل اولاد کو خوشنما بنادیا تھا ۔ یہ کام ان کے معاشرے میں پائے جانے والے کاہنوں کا تھا جو ان کے قوانین بناتے تھے جو ان کے لئے از خود ایسی رسومات گھڑتے تھے کہ ان پر لوگ عمل کرنے پر مجبور ہوتے ۔ ان پر ایک طرف سے اجتماعی دباؤ ہوتا تھا اور دوسری جانب سے وہ دینی رسومات کے زاویہ سے از خود ایسا کرنا چاہتے تھے مثلا وہ فقر اور عار کی وجہ سے لڑکیوں کو قتل کرتے تھے اور بعض اوقات وہ بطور نذر بھی اولاد کو قتل کرتے تھے جس طرح عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کے دس بچے ہوئے اور جوان ہوئے تو وہ ایک کو الہوں کے نام پر قربان کرے گا ۔ (آیت) ” وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ أَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ (6 : 137) ” اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ “ 4۔ یہ لوگ بعض جانوروں اور بعض فصلوں پر پابندی عائد کردیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ ان کا کھانا محض اللہ کے اذن پر موقوف ہے اور یہ ان کا زعم تھا ۔ بعض سواری کے جانوروں کی پشت کا گوشت نہ کھاتے تھے ۔ بعض پر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہ سمجھتے تھے یا حج کے موسم میں اگر ان پر سوار ہوتے تو اللہ کا نام نہ لیتے اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ حج کی سواریاں ہیں اور ان کے اندر اللہ کا ذکر موجود ہے ۔ وہ کہتے یہ تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ ہَـذِہِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ یَطْعَمُہَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِہِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُورُہَا وَأَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُونَ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہَا افْتِرَاء عَلَیْْہِ “۔ (6 : 138) ” کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ “ 5۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کا جو حمل ہے وہ صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتوں پر وہ حرام ہے ۔ ہاں اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو مرد اور عورت دونوں مساویانہ طور پر حقدار ہوں گے اور اس مضحکہ خیز قانون کو بھی وہ منجانب اللہ سمجھتے تھے ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ مَا فِیْ بُطُونِ ہَـذِہِ الأَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَی أَزْوَاجِنَا وَإِن یَکُن مَّیْْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَاء سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139) ” اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “ عربی سوسائٹی کے اسلام سے پہلے جو رنگ ڈھنگ تھے مذکور بالا تصورات ‘ مزعومات اور رسم و رواج سے ان کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے اور مکہ مکرمہ کے اندر اس سورة کی اصلاحات کے ذریعے قرآن کریم ان کا قلع قمع کرنے کے درپے ہے ۔ عربوں کے دل و دماغ کو ان غلط مزعومات سے پاک کر رہا ہے اور عرب کی جاہلی سوسائٹی سے ان کو محو کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی دھیمی رفتار سے اپنے مخصوص منہاج اصلاح کے ذریعے غلط تصورات کے اس جنگل کو صاف کررہا ہے ۔ ٭ سب سے پہلے اس نے لوگوں کو یہ بتایا کہ جو لوگ اپنی اولاد کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل کر رہے ہیں وہ بیوقوف ہیں ۔ وہ علم ومعرفت سے محروم ہیں اور اپنے آپ کو نعمت اولاد سے محروم کر رہے ہیں ۔ پھر یہ کام وہ یوں کرتے ہیں کہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے اس کی ذات بےعیب پر افتراء باندھنے کے جرم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ قرآن نے اعلان کیا کہ یہ مطلق گمراہی ہے اور یہ مزعومات سب کے سب غلط ہیں ۔ ٭ اس کے بعد قرآن نے انہیں یہ سمجھایا کہ ان کے یہ تمام اموال جن میں وہ تصرف کرتے ہیں یہ دراصل اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔ اللہ ہی وہ ذات ہیں جس نے تمہارے لئے طرح طرح کے باغ ‘ تاکستان اور نخلستان پیدا کئے ۔ وہی ہے جس نے تمہارے تمام جانور پیدا کئے اور وہی ہے جو سب کو رزق دیتا ہے ۔ غرض وہی مالک ہے اور صرف وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق رکھتا ہے ‘ ان تمام چیزوں میں جو اس نے اس دنیا میں بطور رزق پیدا کیں ۔ اس بیان کے دوران قرآن کریم ان مناظر کو کام میں لاتا ہے جو انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پھلوں کے باغ اور لہلہاتے کھیت اور نخلستان اور تاکستان وغیرہ اور حیوانات جو بہترین اور خوبصورت سواری کا کام کرتے ہیں اور ان کی فر سے فرش کا کام لیا جاتا ہے ‘ ان کا گوشت کھایا جاتا ہے ‘ ان کی کھالوں سے متعدد مفادات لئے جاتے ہیں بلکہ اون اور بال بھی کام میں لائے جاتے ہیں ۔ اس مقام پر یہ تاثر بھی واضح طور پر دیا جاتا ہے کہ انسان اور شیطان کے درمیان روز اول سے دشمنی ہے لہذا انہیں ہر گز اپنے دشمنوں کے قدموں پر نہیں چلنا چاہیے اس لئے کہ ہو کھلا دشمن ہے ۔ ٭ اس کے بعد بعض حیوانات کے بارے میں ان کے بودے تصورات کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تصورات اور عقائد ادنی منطق سے بھی خالی ہیں ۔ ان تصورات کو ایسے انداز میں سامنے لایا گیا ہے کہ وہ بادی النظر میں حقیر بودے اور بےوقعت نظر آتے ہیں ۔ اس وضاحت کے بعد ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان بےدلیل قوانین رواجات پر وہ کیوں عمل پیرا ہیں ؟ وہ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں ‘ حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ‘ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے ۔ کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سوال کرتے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ تعالیٰ نے یہ قوانیں بنائے ؟ یا یہ کوئی راز کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہیں بتائی تھی یا یہ حکم صرف تمہارے لئے تھا ۔ فرماتے ہیں یہ سب کچھ افتراء ہے اور لوگوں کو ناحق گمراہ کرنا ہے اور اس افتراء اور گمراہی کے نتیجے میں اللہ ان سے مواخذہ کرے گا ۔ ٭ اس مقام پر اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں کہ حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے اور یہ کہ یہودیوں کے لئے کیا حرام کیا گیا تھا اور کیوں اور مسلمانوں کے لئے کیا حرام ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جو اگرچہ یہودیوں کے لئے قبلا حرام تھیں مگر اب حلال کردی گئی ہیں ۔ ٭ اس کے بعد ان کے اس استدلال کی تردید کی جاتی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ اس جاہلیت میں مبتلا نہ ہوتے اور یوں اپنے لئے خود حلال و حرام کے اصول طے کر کے شرک کا ارتکاب نہ کرتے ۔ (آیت) ” لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148) ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے ۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : کہ یہ بات اور یہ استدلال تمام کافر ہمیشہ سے پیش کرتے چلے آئے ہیں لیکن تاریخ میں جن اقوام نے یہ استدلال کیا ہے وہ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکیں ۔ (آیت) ” کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148) ” اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے انہیں نے تکذیب کی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو چکھا ۔ “ ان آیات سے ثابت ہوا کہ شریعت کے بغیر از خود کسی چیز کو حرام سمجھنا شرک باللہ کے مترادف ہے ۔ جن لوگوں نے ہمیشہ آیات الہی کی تکذیب کی ہے وہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس قسم کے فیصلے اور استدلال کس منطق کی رو سے کرتے ہیں ۔ (آیت) ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148) ” ان سے کہو ’ ’ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “ ٭ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے موقف پر کوئی علمی ثبوت پیش کریں لیکن اگر وہ کوئی جھوٹے دلائل دیں تو ان کو یکسر رد کردیں ۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اصل عقائد کے مضمون میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ رابطہ ہی ختم کردیا جائے ۔ دونوں مواقع پر مضمون کے الفاظ میں بہت کم تغیر پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک باللہ (ذات میں) اور شرک باللہ (حاکمیت میں) ایک ہی درجہ رکھتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے سوا قانون سازی کرتا ہے یا کسی کو قانون ساز تسلیم کرتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے ۔ (آیت) ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150) ” ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ “ ان آیات اور سابقہ آیات کے مناظر ‘ عبارات اور الفاظ تک ایک ہیں ۔ جو لوگ قانون سازی از خود کرتے ہیں وہ ہوائے نفس کے متبع ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ۔ اگر وہ اللہ کی آیات کو سچا مانتے اور آخرت پر ایمان لاتے اور اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرتے تو وہ اپنے لئے اور لوگوں کے لئے خود قانون نہ بناتے اور اللہ کے احکام کے سوا کسی کو حرام قرار نہ دیتے ۔ ٭ اور آخر میں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس نے فی الحقیقت حرام کردی ہیں ۔ اس میں اجتماعی زندگی کے تمام اصول بتلا دیئے گئے ہیں یعنی اللہ کی توحید ‘ اللہ کے احکام اور حدود فرائض لیکن زیادہ تر وہ چیزیں گنوائی گئی ہیں جو حرام ہیں ۔۔۔۔۔۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی ممانعت کی ‘ والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور فقر وفاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل کی ممانعت اور یہ کہ اللہ رازق ہے اور یہ کہ ممانعت اور یتیم کے مال کو کھانے کی ممانعت الا یہ کہ جائز طور پر اسے استعمال کیا جائے اور ناپ اور تول کے پیانوں کو درست رکھنے کا حکم ۔ بات اور معاملات میں عدل سے کام لیا جائے اگرچہ معاملہ رشتہ داروں کا ہو اور اللہ کے عہد سے وفا کی جائے اور ان سب امور کو منجانب اللہ وصیت قرار دیا گیا اور ان امور کے بارے وصیت کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔ یہ تمام امور اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول اور شریعت کے مبادی ہیں ۔ ان کو ایک ہی سلسلہ کلام میں جمع کیا گیا ہے اور بالکل ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اور منظم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ سب احکام ایک ہی جملے ‘ ایک ہی گروپ اور ایک ہی اجتماعی شکل میں لائے گئے ہیں ۔ اس سے قرآن کریم کی اجتماعی سوچ اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے اور اسلام کا منہاج بھی واضح ہوتا ہے چناچہ اس سبق کے آخر میں کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153) ” اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پر اگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں دی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ یہ آخری جملہ اس لئے کہا گیا تاکہ اس پورے سبق سے جو مقصود اصلی ہے وہ بالکل سامنے آجائے اور بات کھل کر ایک ہی فقرے میں سمیٹ لی جائے اور اس طرح دو ٹوک بن جائے ۔ دین اسلام میں عقائد اور قانون دونوں کا تعلق توحید اور شرک سے ہے ۔ بلکہ اسلامی قانون سازی میں بھی شرک کا ارتکاب ہو سکتا ہے جس طرح عقیدے میں شرک ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام میں قانون سازی عین عقیدہ ہے اس لئے کہ قانون اسلامی دراصل عقیدہ توحید کی تفصیل وتشریح ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت قرآن کریم کے متعدد نصوص سے بالکل واضح ہے ۔ اور اسلام کے اسلوب بیان کے مطابق اسے جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ حقیقی مقام ہے جس سے دین کا مفہوم طویل تاریخی عوامل کی وجہ سے دور ہوگیا اور یہ عمل طویل زمانے میں مکمل ہوا ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے خبیث اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔ آج حال یہ ہے کہ دین کے دشمن تو ہیں ہی دشمن ‘ خود دین کے لئے کام کرنے والوں اور اس کے پرجوش کارکنوں کے ذہنوں سے یہ حقیقت اوجھل ہوگئی ۔ خود حامیان دین بھی عقیدہ حاکمیت الہیہ کو اسلامی عقائد سے علیحدہ سمجھتے ہیں اور حامیان دین بھی مسئلہ حاکمیت الہیہ میں اس طرح پرجوش نہیں رہے جس طرح وہ معروف دینی عقائد کے لئے پرجوش ہیں ۔ وہ لوگ عقیدے حاکمیت الہیہ کے انکار کو دین کا انکار نہیں سجھتے جس طرح وہ عقیدہ توحید کے انکار اور اللہ کی عبادات کے انکار کو دین کا انکار سمجھتے ہیں حالانکہ دین اسلام نے کسی جگہ بھی عقیدے بندگی اور شریعت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے تصور کو طویل تاریخی اور تدریجی سازشوں کے تحت نکالا گیا ہے اور نہایت ہی ہوشیاری اور تجربہ کاری کے ساتھ یہ کام کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ حاکمیت الہیہ کے عقیدے نے موجودہ شکل اختیار کرلی ۔ اسلام کے برجوش حامی بھی اس کے حامی نہ رہے ‘ حالانکہ یہ حقیقت اس سورة میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے ‘ باوجود اس کے کہ یہ سورة مکی سورة ہے اور اس کا موضوع دستور و قانون نہیں ہے بلکہ اس کا موضوع عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ہے لیکن اس کے باوجود اس نکتے کے تمام پہلو لئے گئے ہیں اور تمام تفصیلات دی گئی ہیں اور یہ بھی اس حوالے سے کہ بات اجتماعی زندگی کے اس جزوی مسئلے پر ہو رہی تھی لیکن اس جزوی مسئلے کا تعلق چونکہ ایک اصول سے تھا ‘ نظریاتی اور دستوری مسئلے سے تھا ۔ یہ اصول بھی ایسا تھا جو اساس دین ہے اس لئے یہاں اس پر زور دیا گیا ۔ لوگ بتوں کی پوجا کرنے والے پر تو شرک کا فتوی لگاتے ہیں لیکن ان لوگوں پر شرک کا فتوی نہیں لگاتے جو اپنے فیصلے طاغوتی عدالتوں سے کراتے ہیں ۔ وہ بت پرستی سے تو اجتناب کرتے ہیں لیکن طاغوتی حکام کی اطاعت سے اجتناب نہیں کرتے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے ۔ انہیں چاہیے کہ قرآن کو اس طرح پڑھیں جس طرح وہ نازل ہوا ہے ۔ انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہیے ۔ (آیت) ” وان اطعتموھم انکم مشرکون “۔ اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک بن جاؤ گے ۔ “ اسلام کے یہ پرجوش حامی اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو صرف بعض جزوی امور کو زیر بحث لا کر مطمئن کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ فلاں فلاں قانون ‘ اسلام کے خلاف ہے یا فلاں فلاں قانون کا فلاں جزء اسلام کے خلاف ہے ۔ ان کا جوش بعض جزوی اصطلاحات تک موقوف ہے یا وہ بعض بدعملیوں کی اصلاح تک اپنے آپ محدود رکھتے ہیں اور ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ گو اسلام تو پورے کا پورا قائم ہے لیکن بعض جزوی امور میں نقص رہ گیا ہے بس صرف ان امور کی اصلاح ہی سے اس کی تکمیل ہوجائے گی ۔ دین اسلام کے بارے میں غیرت رکھنے والے اور اس کے پرجوش حامی درحقیقت اس دین کے لئے باعث اذیت ہیں لیکن سمجھتے نہیں بلکہ اس قسم کی جزوی اور غیر اہم باتوں کو اہمیت دے کر یہ لوگ دین کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں ۔ امت مسلمہ کے اندر اس وقت جو نظریاتی قوت اور جوش پایا جاتا ہے یہ لوگ اسے اس قسم کی غیر اہم باتوں پر صرف کرتے ہیں اور ضمنا وہ موجودہ دور کے جاہلی اجتماعی نظام اور جاہلی سوسائٹی کی تائید کرتے ہیں ۔ وہ عملا یہ شہادت دیتے ہیں کہ دین قائم ہے اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف یہ جزوی نقائص ہیں جنہیں وہ ختم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ دین مکمل طور پر معطل ہے اور اس وقت موجودہ سوسائٹی پوری طرح جاہلی سوسائٹی ہے ۔ اس میں اللہ کی حاکمیت جاری نہیں ہے ‘ ایسی حاکمیت جس میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔ دین اسلام تب قائم ہوگا جب زمین پر اللہ کی حاکمیت جاری ہوگی ۔ جب تک اللہ کی حاکمیت قائم نہ ہوگی دین پوری طرح قائم نہیں ہوسکتا ۔ آج اس کرہ ارض پر مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں ایسے طاغوتی نظام قائم ہیں جنہوں نے دست درازی کرکے اللہ کی حاکمیت کو چھین لیا ہے ۔ یہ اختیار خود انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کے لئے حلال و حرام متعین کرنا شروع کردیا ہے اور وہ لوگوں کے مال اور اولاد کے بارے میں قوانین بناتے ہیں۔ زیر بحث آیات اور بیانات میں اسی مشکل مسئلے کو نہایت ہی موثر انداز میں نہایت ہی تفصیل کے ساتھ لیا گیا ہے ۔ تمام باتوں کو اللہ کی حاکمیت اور بندگی کے نظریات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور انہیں مسئلہ کفر واسلام اور مسئلہ اسلام وجاہلیت قرار دیا گیا ہے ۔ اسلام نے جس عظیم معرکے کے بعد اس دنیا مین اپنا وجود قائم کیا تھا وہ محض الحاد کے خلاف معرکہ نہ تھا ‘ کہ ایک شخص خدا کو مان لے اور چند دینی رسومات کا پابند ہو کر حامی دین بن جائے یہ معرکہ اجتماعی فساد اور اخلاقی فساد کے خلاف محض کوئی اصلاحی تحریک بھی نہ تھا یہ باتیں بھی اگرچہ اس معرکہ میں شامل تھیں لیکن یہ تحریکات دین کے قیام کے بعد بھی جاری رہیں ۔ اسلام نے اپنے وجود کے لئے جو معرکہ سر کیا وہ اس کرہ ارض پر حاکمیت الہیہ کے قیام کا معرکہ تھا مکہ میں لوگ سمجھتے تھے کہ لا الہ الا اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ۔ اس وقت مکہ میں قرآن نے اس نظریہ کو مسلمانوں کے ذہن میں اچھی طرح بٹھا دیا تھا ۔ قرآن نے مسلمانوں کے ضمیر کے اندر اور ان کے دل و دماغ کے اندر یہ نظریہ اچھی طرح مرتسم کردیا تھا کہ حاکم صرف اللہ ہے اگرچہ مکہ میں نظام حاکمیت الہیہ اور نظام قانون اسلامی کا کوئی موقعہ نہ تھا ۔ کسی مسلمان کے ذہن میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم ہو سکتا ہے اور اگر کوئی یہ تصور کرتا تھا تو وہ مومن نہ ہوسکتا تھا ۔ جب یہ نظریہ مکہ میں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ گیا تو مدینہ میں اس نظریہ کی بنیاد پر حاکمیت الہیہ قائم ہوئی ۔ اگر ہمارے دور کے دین کے پرجوش حامیوں کے ذہن میں یہ بات سماجائے تو انہیں اپنے طرزعمل پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں کرنا کیا چاہیے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس سبق پر یہ تبصرہ کافی ہے ۔ اب آیات کی تشریح ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ ۔

آیت ” نمبر 136۔ فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت کے اندر دی گئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ غلہ لے آتے تو اسے ڈھیر بنا لیتے ۔ اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے نکالتے اور ایک بتوں کے لئے ۔ اب جب تیز ہوا چلتی اور غلے کے دانے بتوں کے حصے سے اڑ کر اللہ کے حصے میں شامل ہوجاتے تو یہ اس حصے سے ان کو جدا کرکے پھر بتوں کے حصے میں ملا دیتے ‘ اور اگر اللہ کے حصے کی جانب سے ہوا آئے اور اللہ کے حصے سے دانے بتوں کے حصے میں مل جاتے تو وہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے ۔ اسی کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) ” یہ لوگ برے فیصلے کرتے ہیں “۔ مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کھیت کے ایک حصے کو اللہ کے نام کردیتے اور ایک حصے کو اپنے بتوں کے لئے مخصوص کردیتے ۔ اب اللہ کے حصے سے ہوا اگر کسی چیز کو اڑا کر بتوں والے حصے میں ملا دے تو یہ اسے اسی طرح چھوڑ دیتے تھے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں مل جائے تو یہ اسے واپس کردیتے تھے ۔ اور کہتے ۔ (اللہ عن ھذا غنی) اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ “ اور مویشیوں میں سے انہوں نے سائبہ اور بحیرہ نام رکھے ہوئے تھے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے ۔ اہل ضلالت نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مویشیوں اور فصلوں کے ایک حصے کو اللہ کا حق قرار دے دیا اور ایک حصے کو بتوں کا حق قرار دیا ۔ اب اگر اللہ کے حصے کی کوئی چیز بتوں کے حصے میں خلط ملط ہوجاتی تو یہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں جا پڑتی تو یہ اسے لوٹا دیتے ۔ اور اگر کبھی خشک سالی ہوتی تو وہ اللہ کے حصے کو موقوف کر کے خود استعمال کرتے لیکن بتوں کے حصے کو ہر حال میں قائم رکھتے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے کہا۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) ” یہ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ‘۔ حضرت سدی کہتے ہیں کہ یہ اپنے مالوں کے حصے بناتے تھے اور فصلوں میں سے بھی اللہ کا حصہ مقرر کرتے تھے ۔ اسی طرح بتوں کے لئے بھی حصہ مقرر تھا ۔ بتوں کے حصے کو بتوں پر صرف کرتے اور اللہ کے حصے کو صدقہ کردیتے ۔ اب وہ مویشی جو بتوں کا حصہ ہوتے اگر اتفاقا مر جاتے اور اللہ کا حصہ زیادہ ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہمارے خداؤں کے لئے بھی تو اخراجات درکار ہیں تو وہ اللہ کے حصے میں سے لے کر اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر خرچ کرتے ۔ اور اگر اللہ کے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور بتوں والے حصے میں فصل زیادہ ہوجاتی تو کہتے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے حصے کو اچھا بناتا۔ یوں وہ بتوں کے حصے سے لے کر حصے کو پورا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” اگر یہ سچے ہوتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کیونکہ یہ لوگ میرے حصے سے تو لیتے ہیں لیکن میرے حصے میں شامل نہیں کرتے اور یہی مطلب ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کا ۔ ابن جریر آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے بارے اطلاع ہے کہ وہ برے فیصلے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ نہایت ہی غلط فیصلہ تھا کہ انہوں نے میرا حصہ ان لوگوں کو دے دیا جو انہوں نے بزعم خود میرے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ ان مزعومہ شریکوں کے حصے میں سے وہ مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ یہی بات اس امر کے لئے کافی ثبوت ہے کہ یہ لوگ گمراہ بھی ہیں اور جاہل بھی ۔ انہوں نے سچائی کی راہ کو ایک طرف چھوڑ دیا کیونکہ وہ جب اپنے خالق اور رازق کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو وہ کس کے ساتھ کریں گے جبکہ اس نے ان پر لاتعداد احسانات بھی کر رکھے ہیں ۔ وہ اللہ کو ان بتوں کے برابر کرتے ہیں جو نفع ونقصان نہیں دے سکتے ۔ بلکہ انہوں نے ان بتوں کو اللہ فضیلت دے دی کہ ان کے حصے کو اللہ کے حصے سے بڑا قرار دیا ۔ یہ تھی وہ بات جو انسانوں اور جنوں میں سے شیطان لوگ اپنے دوستوں کو سجھاتے تھے تاکہ وہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں اہل ایمان کے ساتھ الجھتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شیاطین انسانوں کو جو زاویہ نظر دیتے ہیں ‘ اس میں ان شیاطین کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہوتا ہے ۔ انسانی شیطانوں کا مفاد یہ ہے (یہ کاہنوں ‘ مجاوروں اور رئیسوں میں سے ہوتے ہیں) کہ پہلے تو وہ ان انسانوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں اور اس اثر کو قائم کرلینے کے بعد وہ ان کو اپنی مطلوبہ سمت کی طرف حرکت دیتے ہیں۔ اپنے دئیے ہوئے زاویہ نظر کے عین مطابق جو باطل تصورات اور فاسد عقائد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یوں وہ ان عوام الناس کو گمراہ کرکے خود اپنے مادی مفاد بھی حاصل کرتے ہیں مثلا یہ برخود غلط عوام بتوں کے لئے جو حصے تجویز کرتے ہیں وہ عملا انہیں لوگوں کو ملتے ہیں جو ان کو یہ تصور دیتے ہیں ۔ جنوں کے شیاطین کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ان کو گمراہ کرتے ہیں اور انکی قیادت کرکے ان کی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی ۔ یہ تصورات جو عرب جاہلیت میں پائے جاتے تھے ‘ ان کی مثالیں دنیا میں پائی جانے والی دوسری جاہلیتوں کے اندر بھی موجود ہیں ۔ مثلا یونانی ‘ فارسی ‘ رومی اور افریقہ وایشیا کی دوسری جاہلیتوں میں ۔ یہ تصورات تمام جاہلیتوں میں مالی تصرفات کرتے ہیں اور یہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ مثلا دور جدید کی جاہلیت بھی ایسے مالی تصرفات کو روا رکھتی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ۔ چناچہ اس شرک میں دور جدید کی جاہلیت بھی ازمنہ سابقہ کی جاہلیتوں کے بالکل برابر ہے ۔ دونوں ایک ہی اصول پر قائم ہیں ۔ مثلا جاہلیت کی تعریف ہے ہو وہ تصرف جو عوام الناس کی زندگیوں میں کیا جائے جبکہ اس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہو ۔ اب یہ اور بات ہے کہ قدیم زمانوں میں اس قسم کے تصرفات کی شکل ونوعیت اور ہوتی تھی اور آج ذرا مختلف ہے ۔ اصول ایک ہے اور شکلیں مختلف ۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔

آیت ” نمبر 137۔ جس طرح ان لوگوں کے لئے ان کے شرکاء اور ان کے شیاطین نے اپنے مالوں اور فصلوں میں یہ تصرفات خوبصورت بنادیئے ہیں ‘ اسی طرح انہوں نے ان کے لئے قتل اولاد کو بھی مزین بنا دیا ہے ۔ یوں کہ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو تنگدستی کے خوف سے زندہ درگور کردیتے تھے ‘ یا اس لئے کہ وہ جنگی قیدی بن جائیں گی اور ان کے لئے موجب طار ہوں گی ۔ بعض اوقات وہ اولاد کو بطور نذر بھی قتل کرتے تھے ۔ جس طرح حضرت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے ان کو دس ایسے بیٹے بخشے جوان کے لئے دست وبازو ہوں تو وہ ان میں سے ایک کو قربان کریں گے ۔ یہ تمام باتیں ان کے دل و دماغ میں انکی جاہلی رسومات نے پختہ طور پر بٹھا دی تھیں ۔ یہ رسومات جاہلیت وہ تھیں جو لوگوں نے خود ہی اپنے لئے وضع کی تھیں ۔ اس آیت میں جن شرکاء کا ذکر ہے اس سے مراد شیاطین جن وانس ہیں انسانوں میں سے جو شیاطین تھے وہ کاہن ‘ مجاور اور سردار تھے ۔ جنوں میں سے وہ لوگ تھے جو بعض انسانوں کے دوست بن جاتے تھے اور وہ انسانوں کی مدد کرتے تھے ۔ اس آیت میں ان شیاطین کا جو واضح ہدف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے ۔ آیت ” لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ “۔ (6 : 137) ” تاکہ انکو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ “ یعنی وہ ان کو ہلاک کردیں ‘ ان پر ان کے دین کو گنجلک اور مشتبہ بنادیں ۔ اس طرح کہ وہ اسے واضح طور پر سمجھ نہ سکیں ۔ ہلاک کرنے کا مصداق ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں ۔ دوسرا مصداق یہ ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی اسلام کے خلاف ہوجاتی ہے اور وہ اپنے معاشرے میں ان مویشیوں کی طرح بن جاتے ہیں جن کو وہ شیاطین جس طرح چاہیں ہانک کرلے جائیں ‘ یعنی اپنے مقاصد اور مفادات کے مطابق یہاں تک کہ وہ لوگ ان حیوانوں کے اموال ‘ اولاد اور خود ان کی جان کے بارے میں قتل کرنے اور ہلاک کرنے کے اختیارات کے بھی ملک ہوجاتے ہیں۔ ان حیوانوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پوری اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ دین اور عقیدے کے ساتھ جو زائد تصورات وابستہ کردیئے گئے اور جو درحقیقت دین سے نہیں ہیں ‘ وہ نہایت ہی گہرے ہوگئے اور اب دیندار لوگوں پر ان کا بھاری دباؤ ہے ۔ یہ تصورات چونکہ سوسائٹی کے اندر موجود رسم و رواج کی وجہ سے دین سے وابستہ ہوئے ہیں اس لئے یہ عرف بھی ان کی پشت پر ہوتا ہے اور ان رسومات کا دباؤ معاشرے پر اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ عوام کالانعام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ الا یہ کہ یہ ان میں سے کوئی حقیقی دین کی بنیادون کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور قرآن وسنت پر اس کی گرفت مضبوب ہو ۔ یہ دینی رنگ کے مبہم اور پیچیدہ تصورات جن کو لوگ دین سمجھتے ہیں ‘ یہ اجتماعی رسومات جن سے یہ تصورات پروان چڑھتے ہیں اور جو عوام الناس پر کمر توڑ بوجھ بنے ہوئے ہیں ‘ یہ ان صورتوں تک محدود نہیں ہیں جو قدیم زمانوں کی جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی تھیں ‘ دور جدید کی تازہ ترین جاہلیت میں بھی یہ تصورات واضح طور پر موجود ہیں ۔ یہ رسم و رواج جو دور جدید میں بھی عوام الناس پر بارگراں بنے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ‘ لوگوں کے لئے لابدی بن گئے ہیں اور اب لوگوں کے لئے کوئی راہ نہیں رہی ہے کہ وہ ان کے چنگل سے نکل باگیں ۔ لوگوں نے اپنے اوپر مخصوص لباس فرض کرلئے ہیں اور بعض اوقات ان پر اس قدر روپیہ خرچ کرتے ہیں جو انکے پاس نہیں ہوتا ۔ یہ رسم و رواج لوگوں کی زندگی کو چاٹ جاتے ہیں ۔ ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل جاتی ہیں ‘ ان کے اخلاق ختم ہوجاتے ہیں لیکن ہو ہر حال میں ان کی پابندی کرتے ہیں۔ صبح کا لباس ‘ دوپہر کا لباس ‘ شام کا لباس ‘ منی اسکرٹ ‘ ٹیڈی لباس اور مضحکہ خیز لباس ‘ قسم قسم کا میک اپ اور بناؤ سنگھار ۔ بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں بعض ان سے کراتے ہیں ۔ کرانے والوں میں سے لباس کے بڑے بڑے تاجر ‘ بڑی بڑی کمپنیاں اور بینکوں اور مالی اداروں کے سود خور کارندے اور وہ تاجر شامل ہیں جو لوگوں سے یہ حرکات اس لئے کراتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں جو نفع ملے اسے وہ مزے لے لے کر کھائیں ۔ اس تمام صورت حال کی پشت پر یہودی سازش ہے اور یہودیوں نے یہ صورت حال اس لئے چلا رکھی ہے کہ اس طرح وہ لوگوں پر معاشی اور سیاسی حکمرانی کریں ۔ لیکن یہودی یہ کام اسلحہ اور فوج کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ یہ کام وہ افکار وخیالات ‘ تصورات ونظریات کے ہتھیاروں کے ذریعے کرتے ہیں اور یہ حکومت وہ عرف عام کے دباؤ سے کرتے ہیں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ نظریات کا اثر اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ نظریات نظام حکومت کا روپ نہ دھاریں اور اجتماعی شکل اختیار نہ کرلیں اور سوسائٹی کے ڈھانچے کے اندر نہ گھس جائیں ۔ چناچہ سوسائٹی کے اندر ان جاہلی نظریات اور تصورات کو یہ یہودی بڑی اسکیم کے ساتھ پھیلاتے اور جاری کرتے ہیں ۔ یہ کام معاشرے کے تمام شیاطین کرتے ہیں ‘ یہ شیاطین جنوں میں بھی ہیں اور انسانوں میں بھی ۔ یہ تمام کام جاہلیت میں جس کی اشکال اور صورتیں مختلف ہیں ۔ لیکن اس کے اصول اور جڑیں اور بنیادیں ایک ہی ہوتی ہیں ۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ قرآن نے بعض ازمنہ قدیمہ کی جاہلیتوں ہی پر بحث وتقید کی ہے اور جدید دور کی جاہلیتوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو ہم قرآن کریم کی شان کو گھٹا رہے ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم تمام قدیم وجدید جاہلیتوں پر بحث کرتا ہے ۔ وہ ہر دور میں انحراف کرنے والے معاشرے کا مقابلہ کرتا ہے اور اسے واپس لا کر جادہ مستقیم پر ڈالتا ہے ۔ باوجود اس کے کہ یہ ایک عظیم عمرانی بوجھ اور سازش ہے قرآن کریم مسئلہ جاہلیت کے حل کو آسان کرنے کے لئے اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ یہ تمام شیاطین اور ان کے دوست اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اپنی قوت اور قدرت سے نہیں کر رہے ۔ وہ یہ کام اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کو مہلت دے رکھی ہے ‘ اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے ۔ یہاں یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کے دائرہ قدرت کے اندر اور اللہ کی مشیت کے ساتھ کر رہے ہیں اگر اللہ کی مشیت نہ ہوتی تو وہ ہر گز ایسا نہ کرتے ۔ لہذا کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انہیں اپنی روش پر چلنے دیجئے ۔ آیت ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (137) ” اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ “ یہ بات اپنی جانب سے کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ یہ تمام تصورات اور تصرفات من جانب اللہ ہیں اور ان کے لئے یہ شریعت ہیں ۔ اپنے زعم کے مطابق وہ کہتے تھے کہ یہ تصورات وتصرفات حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہیں۔ آج جاہلیت جدیدہ کے دور میں بھی شیاطین کا یہی رویہ ہے ۔ ان کی اکثریت میں اس قدر جرات تو نہیں ہے کہ وہ کمیونسٹوں کی طرح سرے سے وجود باری کا انکار ہی کردیں ۔ لیکن وہ دین کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو دور جاہلیت قدیمہ کے لوگ کرتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو دین اور مذہب کا سخت احترام کرتے ہیں اور وہ جو قانون بتاتے ہیں اس کی اساس بھی دین اسلام پر ہی ہے ۔ لیکن ان لوگوں کا طریقہ ورادت خالص منکرین خدا اور کیمونسٹوں کے مقابلے میں زیادہ مکارانہ اور اذیت دہ ہے ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اس سوئے ہوئے جذبہ دین سے بہت ڈرتے ہیں جو ان کی رگ وروح میں جاری وساری ہے ۔ ا گرچہ وہ جذبہ اسلام کا حقیقی جذبہ نہ ہو ‘ کیونکہ مکمل اسلام تو پورا نظام حیات ہے ۔ وہ محض خفیہ جذبہ نہیں ہے اور نہ بجھی ہوئی چنگاری ہے ۔ اس طرح یہ لوگ مسلمانوں کے غیض وغضب سے بچنا چاہتے ہیں ۔ یہ نہایت ہی مکارانہ چال ہے اور اسلام کے خلاف ایک نہایت ہی تکلیف دہ صورت حالات ہے ۔ اب ذرا دین کے ان نادان حامیوں کے حالات کو دیکھئے ۔ یہ اسلامی نظام حیات کے اساسی مقاصد کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتوں پر اپنی قوتیں کھپاتے ہیں ۔ انہیں اس جاہلی صورت حالات کے اندر یہ بات نظر ہی نہیں آتی کہ اللہ کی حاکمیت پر دست درازی کرکے شرک کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور بےدانش جوش کی وجہ سے وہ موجودہ مشرکانہ نظام کو ایک اسلامی صورت حالات بناتے ہیں ۔ اپنی اس روش کی وجہ سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ موجودہ حالات گویا اسلامی حالات ہیں اور ان حالات اور عالم اسلام کی صورت حال میں صرف چند جزئیات کا اختلاف ہے ۔ اپنے اس رویے کی وجہ سے اسلام کے یہ نادان دوست ‘ مذہبی طبقے اور بظاہر اسلام کے پرجوش حامی اس غیر اسلامی صورت حالات کو طول دے رہے جو سراسر غیر اسلامی ہے اور اسلامی دنیا پرچھائی ہوئی ہے حالانکہ اس طرز عمل کی وجہ سے ان لوگوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں ۔ یہ خدمات وہ لوگ انجام دیتے ہیں جنہوں نے اسلام کا مخصوص مذہبی لباس پہن رکھا ہے حالانکہ اسلامی نظام نے کوئی ایسا مخصوص مذہبی طبقہ نہیں رکھا کہ اسلام کے بارے میں وہی بات کرسکے ۔ اسلام کا نہ کوئی کاہن ہے اور نہ اس میں کسی پادری کی گنجائش ہے کہ ان کے سوا کوئی اور اسلام کی بات ہی نہ کرسکے ۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا ۔

آیت ” نمبر 138۔ ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔ آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو ۔ یہ سب اقوال ان کا زعم تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے مذہب میں پھر اجازت صرف کاہنوں ‘ گدی نشینوں اور بعض رئیسوں کو تھی ۔ پھر انہوں نے مویشیوں میں سے بعض کو اسی طرح اپنے اوپر بھی حرام کردیا تھا جن کا ذکر سورة مائدہ میں ہوچکا ہے ۔ ” اللہ نے کسی جانور کو بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام قرار نہیں دیا “ ۔ یہ انہوں نے از خود قرار دیا کہ ان جانوروں پر سواری حرام ہے ۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا کہ بعض جانوروں کے اوپر اللہ کا نام نہ لیاجائے گا یعنی سواری کے وقت ‘ دودھ نکالنے کے وقت اور نہ ان کے ذبح کے وقت بلکہ ان پر الہوں کا نام لیا جائے گا جن کے نام وہ مختص ہوچکے تھے ۔ ابن جریر افتراء علی اللہ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ’ ان لوگوں نے بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے ‘ اللہ پر افتراء باندھا ہے ‘ اللہ پر جھوٹ بولا ہے کیونکہ انہوں نے از خود بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی تھی ۔ اس آیت میں اللہ نے اس بات کی تردید کردی کہ اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ اور نبی کریم ﷺ اور مومنین کو یہ اطلاع کردی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ یہاں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہلیت کے وہ خدوخال کون سے ہیں ۔ جو اکثرجاہلیتوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ بعض لوگ دیدہ دلیری سے کام لے کر اس دنیا کو محض مادہ قرار دیتے ہیں اور بعض اگرچہ بےحیائی میں اس حد تک آگے نہیں جاتے اور خدا کا سرے سے انکار نہیں کرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ دین تو صرف عقیدے کا نام ہے ۔ یہ کوئی نظام زندگی یا اجتماعی ڈھانچہ ‘ یا سیاسی اور اقتصادی نظام نہیں ہے جو پوری زندگی کو اپنے دائرہ اختیار میں لے سکتا ہو۔ جاہلیت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر جاہلیت ایک مخصوص دنیاوی نظام قائم کرتی ہے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے ۔ البتہ ہر جاہلیت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مذہب کا احترام کرتی ہے اور وہ اپنے خدوخال دین ہی سے لیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلیت کا یہ انداز نہایت ہی خطرناک اور گہری عیاری اور چالاکی پر مبنی ہوتا ہے ۔ عالمی عیسائیت اور عالمی صہیونیت نے اس علاقے میں جو کبھی دارالاسلام تھا ‘ اور جہاں شریعت الہی قانون کی حیثیت رکھتی تھی ‘ یہی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ یہ پالیسی انہوں نے ترکی میں عظیم لیڈر کے تجربے کی ناکامی کے بعد اپنائی ہے ۔ یاد رہے کہ ترکی کا یہ عظیم لیڈر خود انہوں نے مصنوعی طور پر پیدا کیا تھا ‘ اس نے انہی کی ہدایت پر ترکی سے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس لئے کہ ترکی کی خلافت اسلامیہ اس کرہ ارض پر عظمت اسلام کی آخری نشانی تھی ‘ لیکن ترکی میں ان کی اعلانیہ ملحدانہ پالیسی بری طرح ناکام رہی اور اس نے اس علاقے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کیا ۔ اس ملحدانہ پالیسی نے اعلانیہ دین سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ چناچہ یہ پالیسی وہاں کے اجتماعی نظام سے بالکل نامانوس رہی کیونکہ اہالیان ترکیہ کے دلوں میں ابھی تک محبت اسلام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ چناچہ اس تجربہ کے بعد عالمی صلیبیت اور صہیونیت نے نئے تجربے شروع کیے ‘ جن کے مقاصد تو وہی ہیں البتہ ان نئے تجربات میں کمالی غلطیوں کو نہیں دہرایا جاتا ۔ چناچہ وہ اب جو سازشیں کرتے ہیں وہ دین کے پردے میں رہ کر کرتے ہیں ۔ وہ دینی نتظیمیں قائم کرتے ہیں جو یا تو اعلانیہ ان مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں اور یا ان کا مقصد یہ ہوتا ہے ۔ وہ ان تنظیموں کے بعض جزوی مسائل کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان جزوی خرابیوں کے علاوہ جو کچھ ہے وہ درست ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اسلام کے خلاف یہ نہایت ہی گہری سازش ہے جو دین اسلام کے خلاف شیاطین جن وانس نے تیار کی ہے ۔ صلیبی اور صہیونی اس عر سے میں پوری طرح اپنے مقاصد کے لئے کام کرتے رہے ۔ باوجود مذہبی اختلافات کے وہ باہم دگر متحد ومتفق رہے اور باہم تجربات اور مہارتوں کاتبادلہ کرتے رہے ۔ بظاہر وہ اس ترکی تجربے کے بھی خلاف رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ ترکوں کی تحریک بھی دراصل احیائے اسلام کی تحریک ہے اور یہ کہ ترکی حکومت محض زبانی طور پر اپنے آپ کو لادینی حکومت ظاہر کر رہی ہے ۔ متشرقین صلیبی اور صہیونی استعمار کو فکری غذا مہیا کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بڑی محنت کی ہے کہ ترکی تجربہ فی الواقعہ ملحدانہ تجربہ نہ تھا اور نہ محنت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ ترکی تجربے کے ملحدانہ خو وخال کی وجہ سے اس کے اثرورسوخ اور فعالیت میں میں کمی واقع ہوگئی تھی ۔ مستشرقین کی جانب سے اسلامی تحریک کے خلاف یہ تباہ کن حملہ تھا لیکن ترکی کی تحریک الحاد اب اس قابل نہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ فعال ہوسکے ۔ دور جدید میں مستشرقین کی جانب سے اسلام کے خلاف کاروائی خود اسلام کے عنوان سے کی جارہی ہے ۔ یہ لوگ اسلامی نظریات کے مفہوم بدل رہے ہیں ۔ اسلام کے لئے لوگوں کے جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں اور اس کو جاہلی رنگ دے رہے ہیں ۔ دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسان کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسانی کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے بےراہ روی پر ڈال رہے ہیں ۔ پھر وہ جاہلیت کے ہر نشان کو ایسا ثابت کر رہے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے اور اس کو ان ممالک میں رواج دے رہے ہیں ۔ جہاں اسلام کے بارے میں لوگوں کے جذبات حساس نہیں۔ یوں وہ عالم اسلام کو صلیبیت اور صہیونیت کے دام تذدیر میں پھنساتے ہیں اور ان کی یہ تحریک ان صلیبی اور صہیونی جنگوں سے زیادہ کامیاب ہے جو وہ اسلام کے خلاف گزشتہ تیرہ سو سال سے لڑ رہے ہیں ‘ لیکن حقیقت یہ ہے ۔ آیت ” ِ سَیَجْزِیْہِم بِمَا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (138) ” عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا ۔ “
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔

آیت ” نمبر 139۔ اس شرک اور بت پرستی سے جو ادہام پیدا ہوئے تھے ‘ انکے اندر یہ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے حلال و حرام کے تعین کا کام بھی اللہ کے بجائے انسانوں کے سپرد کردیا تھا اور دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ انسان جو قانون سازی کر رہے ہیں وہی اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ خرافات کی دنیا میں وہ اس مقام تک آپہنچے کہ کہنے لگے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے ہے یا شاید یہ بات وہ مذکورہ بالا بحریہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کے حق میں کہتے تھے کہ عورتوں کے لئے اس کا کھانا حرام ہے ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر یہ جانور مردہ حالت میں پیدا ہو تو عورتیں بھی ان سے کھاسکتی ہیں اور یہ کیوں ؟ اس کا کوئی منطقی جواز ان کے پاس نہ تھا ۔ ہاں جواز صرف یہ تھا کہ انہوں نے قانون سازی کا کام جن لوگوں کے سپرد کردیا تھا ان کی منشا یہ ہوگی یا ان کا مفاد اس میں ہوگا ۔ یہ خالص بےمعنی قانون سازی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ نہایت ہی مکروہ قانون ہے ۔ جن لوگوں نے یہ بنایا ہے انہوں نے اللہ پر افتراء پردازی کی ہے ‘ خصوصا یہ بات جو وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی من عند اللہ شریعت ہے ۔ آیت ” سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139) ” ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “ وہ تمام امور میں بڑی حکمت کے ساتھ تصرفات کرتا ہے اور اس کے فیصلے اور قانون ایسے نہیں ہوتے جیسے ان جاہلوں کے ہوتے ہیں ۔ جب انسان کلام الہی کو پڑھتے ہوئے ان گمراہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان گمراہیوں کے حاملین جن خساروں ‘ نقصانات اور مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں ان پر غور کرتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر نہایت ہی تعجب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ لوگ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام سے انحراف کرکے کس قدر نقصانات اٹھا رہے ہیں اور کن ناقابل برداشت ذمہ داریوں میں گھر گئے ہیں ۔ ان ذمہ داریوں کو لے کر وہ کس قدر فضول اور مجمل ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان فرائض ایسے عائد کردئیے گئے ہیں کہ ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان پر فرائض ایسے عائد کردیئے گئے ہیں ۔ کہ ناقابل برداشت ہیں ۔ ان کی زندگی پیچیدہ اور اضطراب انگیز ہے ۔ زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے ۔ ہر طرف وہم و خرافات اور تقلید اور نقل ہے ۔ ان سب حالات کے مقابلے میں اسلام کا عقیدہ توحید ہے جو بالکل صاف ستھرا اور واضح ہے ۔ عقیدہ انسانی ذہن سے ادہام اور خرافات کو کھرچ کر رکھ دیتا ہے اور انسانی عقل کو اندھی تقلید کی پیروی اور جکڑی بندیوں سے آزاد کردیتا ہے ۔ یہ عقیدہ انسانیت کو جاہلیت اور اس کی رسومات سے رہائی دلاتا ہے ۔ پھر یہ عقیدہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے ‘ چاہے یہ غلامی قانون سازی کے معاملے میں ہو ‘ یا رسومات اور طرز عمل میں ہو یا حسن وقبح کے پیمانوں کے میدان میں ہوں۔ اس جنگل سے نکال کر عقیدہ توحید انسان کو ایک واضح نظریہ دیتا ہے ۔ ایک واضح معنی دیتا ہے ۔ اس کے تصورات واضح اور آسان ہیں ۔ ان تصورات کی روشنی میں انسان کو ہمہ گیر آزادی نصیب ہوجاتی ہے اور انسان صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کے اعلی ارفع مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔ لوگ نبی کی اتباع سے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ آہ ! یہ ایک عظیم خسارہ ہے اور یہ خسارہ دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ‘ بلکہ آخرت کا خسارہ تو بہت ہی زیادہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ انسانیت نے اللہ کی سیدھی راہ سے انحراف کرلیا ہے اور جاہلیت کی گندگی میں ڈوب گئی ہے ۔ اس نے انسانوں کی غلامی میں اپنے آپ کو دے دیا ہے ۔