Ayah 9:119اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور سچوں کے ساتھ ہوجانے کا حکم
اوپر کی دو آیتوں میں حضرت کعب بن مالک اور ان کے دونوں ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ یہ آیت بھی انہی آیات کے ساتھ نازل ہوئی۔ حضرت کعب اور ان کے ساتھیوں نے سچ بولا اور سچ ہی کی وجہ سے نجات ہوئی (جس کا حدیث شریف میں ذکر ہے) اس آیت میں سچائی کی اہمیت اور ضرورت بتانے کے لیے عامۃ المسلمین کو حکم فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اللہ سے ڈرنے کا حکم قرآن مجید میں جگہ جگہ وارد ہوا ہے۔ اس آیت میں تقویٰ حاصل ہونے کا ایک طریقہ بتادیا اور وہ یہ ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔ عربی میں صادق سچے کو کہتے ہیں اور سچائی کو صدق کہتے ہیں۔ دین اسلام میں صدق کی بہت بڑی اہمیت اور فضیلت ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ایمان، اقوال اور اعمال سب میں ضرورت ہے۔ اس کی ضد کذب یعنی جھوٹ ہے۔ جھوٹ سے دین اسلام کو بہت سخت نفرت ہے۔ اور اس کی شدید ممانعت ہے۔
مومن بندہ پر لازم ہے کہ ان وعدوں میں سچا ہو جو وہ مخلوق سے کرتا ہے۔ بندوں کے ساتھ جو رہنا سہنا ہو اس میں بھی سچائی کو سامنے رکھے۔ اگر سچائی پیش نظر نہ رہے تو جھوٹ بولے گا اور دھوکہ دے گا۔ سورة زمر میں فرمایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (اور جو شخص سچ لے کر آیا اور سچ کی تصدیق کی سو یہ لوگ تقویٰ والے ہیں) اس میں سچائی اختیار کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے اور انہیں صفت تقویٰ سے متصف بتایا ہے۔ سورة حجرات میں فرمایا (اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاھَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الصَّادِقُوْنَ ) (بلاشبہ مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہیں کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں) اس میں یہ بتادیا کہ ایمان میں سچائی ہونا لازم ہے۔ اگر دین کی کسی بات کو نہ مانا یا عقائد دینیہ کے کسی عقیدہ میں شک کیا گو وہ لوگوں کے سامنے بظاہر مسلمان ہونے کی وجہ سے مومن سمجھا جائے گا لیکن اللہ کے ہاں مومن نہ ہوگا کیونکہ اس کے ایمان میں سچائی نہیں ہے پھر عملی طور پر بھی ایمان کے تقاضوں کو پورا کر کے دکھانا لازم ہے۔ اللہ کی راہ میں مالوں سے، جانوں سے جہاد کریں اور یہ سب کچھ دل کی گہرائیوں سے پوری سچائی کے ساتھ ہو۔ اللہ کی خوشنودی کے لیے نہ جان جانے کی پرواہ ہو نہ مال خرچ ہونے سے نفس میں کوئی خلش اور چبھن محسوس ہوتی ہو۔
جو بھی عمل کریں اس میں نیت کی سچائی ہو یعنی صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت ہو۔ بندوں کو معتقد بنانا ان سے تعریف کروانا اعمال صالحہ کے ذریعہ دنیا طلب کرنا اور شہرت کے لیے علم حاصل کرنا مقصود نہ ہو۔ جیسی عبادت مخلوق کے سامنے کرے جو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو، ایسی ہی عبادت تنہائی میں کرے۔ ایسا نہ کرے کہ لوگوں کے سامنے لمبی نماز اور اچھی نماز پڑھے اور تنہائی میں نماز پڑھے تو جلدی جلدی نمٹا دے نہ رکوع سجدہ ٹھیک ہو نہ تلاوت صحیح ہو نہ خشوع و خضوع ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب بندہ ظاہر میں نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے پھر لوگوں سے علیحدہ ہو کر تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تب بھی اچھی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ھٰذا عَبْدِیْ حَقًّا) کہ سچ مچ یہ میرا بندہ ہے۔ (رواہ ابن ماجہ کمافی المشکوٰۃ ص 455)
حضرت شیخ سعدی (رح) نے گلستان میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک صاحب جو بزرگ سمجھے جاتے تھے اپنے ایک لڑکے کے ساتھ بادشاہ کے مہمان ہوئے وہاں انہوں نے نماز پڑھی اور کھانا کم کھایا، جب واپس گھر آئے تو اہل خانہ سے کھانا طلب کیا۔ لڑکے نے کہا کہ ابا جان نماز بھی دوبارہ پڑھئے، کیونکہ جیسے وہاں کھانا کم کھانا اللہ تعالیٰ کے لیے نہ تھا ایسے ہی آپ کی نماز بھی اللہ کے لیے نہ تھی۔
جب بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں اور (اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ ایَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) کے الفاظ زبان سے ادا کرتا ہے تو اسے ظاہر سے اور باطن سے اللہ ہی کا بندہ بننا لازم ہے۔ زبان سے اللہ کا بندہ ہونے کا دعویٰ اور عملی طور پر دنیا کا بندہ، خواہشوں کا بندہ۔ دینار اور درہم کا بندہ۔ یہ شان عبدیت کو زیب نہیں دیتا، دعوائے بندگی میں سچا ہونا لازم ہے۔
جب دعا کرے تو دعا میں بھی سچائی ہونی چاہئے یعنی جب یوں کہے کہ اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں تو پوری طرح متوجہ ہو کر حقیقی سوالی بن کر سوال کرے۔ زبان سے دعاء کے الفاظ جاری ہیں لیکن دل غافل ہے اور یہ بھی پتہ نہیں کہ کیا مانگ رہا ہوں ؟ یہ سچ اور سچائی کے خلاف ہے۔ جب اللہ سے مغفرت کی دعا مانگے تو سچے دل سے حضور قلب کے ساتھ مغفرت طلب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو یوں کہہ رہا ہے کہ میں مغفرت چاہتا ہوں لیکن دل اور کہیں لگا ہوا ہے۔ یہ صدق اور سچائی کے خلاف ہے۔ اسی لیے حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا نے فرمایا استغفارنا یحتاج الی استغفار کثیر۔ کہ ہمارا استغفار کرنا بھی صحیح استغفار نہیں ہے۔ اس کے لیے بھی استغفار کی ضرورت ہے (ذکرہ ابن الجزری فی الحصن) اگر قسم کھائے تو اللہ کی قسم کھائے اور سچی قسم کھائے آئندہ کسی عمل کے کرنے پر قسم کھائی تو قسم پورا کرے (شرط اس میں بھی وہی ہے کہ گناہ کی نذر نہ ہو) ۔ جب کسی نیک کام کرنے کا ارادہ اور وعدہ کرے تو سچا کر دکھائے۔ حضرت انس ؓ کے چچا انس بن نضر غزوہ بدر میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے۔ اس کا انہیں بہت رنج ہوا، کہنے لگے کہ افسوس ہے رسول اللہ ﷺ نے پہلی بار مشرکین سے جنگ کی اور اس میں شریک نہ ہوا۔ اگر اللہ نے مجھے مشرکین سے قتال کرنے کا موقعہ دیا تو میں جان جوکھوں میں ڈال کر دکھا دوں گا۔ آئندہ سال جب غزوۂ احد پیش آیا اور اس میں مسلمان شکست کھا گئے تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ میں مشرکین کے عمل سے برأت ظاہر کرتا ہوں اور یہ جو مسلمانوں نے شکست کھائی ان کی طرف سے معذرت پیش کرتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مجھے احد سے ورے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے اور مشرکین سے بھڑ گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ شہادت کے بعد دیکھا گیا تو ان کے جسم میں تلواروں اور نیزوں کے اسی سے کچھ اوپر زخم تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ ) (مومنین میں ایسے افراد ہیں جنہوں نے اپنا عہد پورا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا) حضرات صحابہ ؓ سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس بن نضر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ذکرہ السیوطی فی الدر المنثور ص 194 ج 5) و عزاہ الی الترمذی و النسائی و البیھقی فی الدلائل۔ و رواہ البخاری مختصراً ص 605 ج 2)
حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد سے فارغ ہوئے تو حضرت مصعب بن عمیر ؓ پر آپ کا گزر ہوا۔ آپ نے ان کو مقتول پڑا ہوا دیکھا اور آیت (رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ) تلاوت فرمائی۔ (درمنثور ص 191 ج 1 عن الحاکم و البیہقی فی الدلائل)
جو شخص عالم نہ ہو وہ طرز گفتگو سے یہ ظاہر نہ کرے کہ میں عالم ہوں۔ اگر کوئی شخص عالم بھی ہو اور مسئلہ معلوم نہ ہو تو اٹکل سے مسئلہ نہ بتائے کیونکہ اس میں اس کا دعویٰ ہے کہ میں جانتا ہوں اور یہ دعویٰ جھوٹا ہے پھر اٹکل سے بتانے میں غلطی ہوجاتی ہے اس میں اپنا بھی نقصان ہے اور سوال کرنے والے کو بھی دھوکہ دینا ہے اور گمراہ کرنا ہے۔
اگر کسی کے پاس مال یا علم و عمل کا کمال نہ ہو تو اپنی حقیقی حالت کے خلاف ظاہر نہ کرے، کیونکہ یہ صدق و سچائی کے خلاف ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری ایک سوتن ہے اگر میں جھوٹ موٹ (اسے جلانے کے لیے) یوں کہہ دوں کہ شوہر نے مجھے یہ یہ کچھ دیا ہے اور حقیقت میں نہ دیا ہو تو کیا اس میں کچھ گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اَلْمُتَشَبِّعُ بِِمَا لَمْ یُعْطَ کَلَا بِسِ ثَوْبَیْ زُوْرٍ (مشکوٰۃ المصابیح ص 281 از بخاری و مسلم) کہ جس شخص نے جھوٹ یہ ظاہر کیا کہ مجھے یہ چیز دی گئی ہے حالانکہ اسے نہیں دی گئی اس کی ایسی مثال ہے جیسے کیسی نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے (یعنی سر سے پاؤں تک وہ جھوٹا ہی جھوٹا ہے) اس حدیث کا مفہوم بہت عام ہے۔ ہر قسم کے جھوٹے دعویداروں کو شامل ہے۔ سچ اور جھوٹ اقوال میں منحصر نہیں، اعمال و احوال اور لباس اور دعاوی اور عزائم ان سب میں سچ اور جھوٹ کی شان پیدا ہوجاتی ہے ہر مومن بندہ اپنی نگرانی کرے اور سچ ہی کو اختیار کرے اور ہر طرح کے جھوٹ سے بچے۔ اصلاح بین الناس یا بعض دیگر مواقع میں جو جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ مستثنیٰ ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی جانوں کی طرف سے مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
(1) جب بولو تو سچ بولو (2) وعدوں کو پورا کرو
(3) جو امانتیں تمہارے پاس رکھی جائیں انہیں ادا کرو۔ (4) اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرو۔
(5) اپنی نظروں کو نیچا رکھو۔ (6) اپنے ہاتھوں کو (ظلم و زیادتی سے) بچائے رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 415)
عبداللہ بن عامر ؓ کا بیان ہے کہ ایک دن میری والدہ نے مجھے بلایا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے میری والدہ نے کہا آ میں تجھے دے رہی ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے کیا چیز دینے کا ارادہ کیا تھا انہوں نے کہا میں نے کھجور دینے کا ارادہ کیا تھا آپ نے فرمایا اگر تو اسے کچھ بھی نہ دیتی تو تیرے اعمال نامہ میں ایک جھوٹ لکھا جاتا (مشکوٰۃ المصابیح ص 416) اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کو راضی کرنے کے لیے بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں ان سے جو وعدہ کریں وہ بھی سچا ہوا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سچ کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور بیشک نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور انسان برابر سچ اختیار کرتا ہے اور سچ ہی پر عمل کرنے کی فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گنہگاری کی طرف لے جاتا ہے اور گنہگاری دوزخ میں لیجاتی ہے اور انسان جھوٹ کو اختیار کرتا ہے اور جھوٹ ہی کے لیے فکر مند رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تیرے اندر چار خصلتیں ہوں تو ساری دنیا بھی اگر تجھ سے جاتی رہے تو کوئی ڈر نہیں۔
(1) امانت کی حفاظت (2) بات کی سچائی
(3) اخلاق کی خوبی (4) لقمہ کی پاکیزگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 445)
صادقین کی مصاحبت
ابھی صدق کی فضیلت اور اہمیت اور اس کے مقابل جو صفت کذب ہے اس کی مذمت اور شناعت و قباحت معلوم ہوئی۔ حضرات مفسرین کرام نے (وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ) کا ایک مطلب تو یہ بھی لکھا ہے کہ کونوا مثلھم فی صدقھم جو لوگ صادقین ہیں انہیں کی طرح ہوجاؤ یعنی صدق ہی کو اختیار کرو اور ایمان و اعمال و اقوال میں صادقین کی راہ پر چلو اور جس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اس کی مناسبت سے یہی معنی زیادہ اظہر ہیں۔ کیونکہ حضرت کعب اور ان کے دونوں ساتھی جو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ جانے سے رہ گئے تھے وہ ان کے ساتھ عمل صدق میں شریک نہ ہوئے تھے۔ لیکن الفاظ کا عموم اس بات کو بھی بتاتا ہے کہ صادقین کی صحبت اختیار کرو۔ صحبت کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ اچھی صحبت اور بری صحبت دونوں بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں جو اچھوں کی صحبت اٹھائے گا اس میں خوبی پیدا ہوگی اور جو بروں کی صحبت میں رہے گا اس میں برائیاں آتی چلی جائیں گی اور اس کا نفس برائیوں سے مانوس ہوجائے گا اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَ لَا یَاْکُلُ طَعَامَکَ الاَّ تَقِیٌّ) صرف مومن کی صحبت اختیار کرو اور تیرا کھانا (یعنی طعام ضیافت) متقی کے سوا کوئی نہ کھائے (رواہ الترمذی) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے سو تم میں سے ہر شخص غور کرے کہ اس کی دوستی کس سے ہے (رواہ الترمذی) (اگر اچھے لوگوں سے دوستی ہے تو اچھا آدمی ہے اور برے لوگوں سے دوستی ہے تو سمجھ لے کہ تو برا آدمی ہے) ۔
پس ہر شخص کو معاشرت کے لیے اٹھنے بیٹھنے کے لیے مسافرت کے لیے اور مصاجت کے لیے صادقین کی صحبت اختیار کرنا لازم ہے جیسے ساتھی ہوں گے ویسا ہی خود ہوجائے گا اور یہ ایسی چیز ہے جس کا عموماً مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ سچوں کے ساتھ ہونے میں تقویٰ کا حکم دینے کے بعد سچوں کے ساتھ ہونے کا حکم دیا۔ اپنے لیے بھی صادقین اور صالحین کی مصاحبت کا فکر کریں اور اپنی اولاد کے لیے بھی اسی کو سوچیں، صادقین کے ساتھ بھی رہیں ان کی کتابیں بھی پڑھیں۔ کتاب بھی بہترین ساتھی ہے مگر کتاب اچھی ہو۔ اچھائی سکھاتی ہو اور اچھے لوگوں کی لکھی ہوئی ہو۔
Ayahs 9:120–121فی سبیل اللہ سفر اور خرچ کرنے پر اجر وثواب کا وعدہ
رسول اللہ ﷺ اللہ کے پیارے ہیں۔ اللہ کے رسول ہیں۔ غزوات میں خود تشریف لے جاتے تھے تمام تکلیفوں میں بنفس نفیس شریک ہوتے تھے۔ آپ نے اپنے لیے کوئی آرام کی صورت نکالی ہو اور اپنے صحابہ کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہو ایسا ہرگز کبھی نہیں ہوا آپ ہر تکلیف میں شریک تھے بلکہ اپنے ساتھیوں سے زیادہ محنت کرتے تھے، تکلیف اٹھاتے تھے۔ ان حالات میں کوئی شخص خواہ اہل مدینہ میں سے ہو خواہ آس پاس کے رہنے والے دیہاتیوں میں سے ہو کسی کے لیے یہ کہاں روا ہوسکتا تھا کہ آپ غزوہ میں چلے جائیں اور خود اپنی جان کو عیش و آرام اور حفاظت کے ساتھ اپنے گھر میں لیے ہوئے بیٹھا رہے۔ ایمانی محبت کا تقاضا یہی تھا کہ سب آپ کے ساتھ نکل کھڑے ہوں البتہ جو معذور تھے وہ ساتھ نہ جائیں تو یہ دوسری بات ہے جو لوگ غزوۂ تبوک میں آپ کے ساتھ جانے سے بچھڑ گئے تھے جن کا ذکر اوپرہوا۔ انہیں اور تمام صحابہ کو متنبہ فرما دیا کہ اللہ کے نبی کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہ جانا ایمان تقاضوں کے خلاف ہے ہاں جسے رسول اللہ ﷺ نے خود ہی اپنی جانب سے مدینہ طیبہ کا امیر بنا دیا تاکہ آپ کے پیچھے انتظام سنبھالے (یہ محمد بن مسلمہ اور ایک قول کے مطابق سباع بن عرفطہ تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر اپناخلیفہ بنا دیا تھا) یا جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے چھوڑ دیا تھا (یہ حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ تھے) یا جو حضرات معذورین تھے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ آیت شریفہ کا سیاق اور طرز بیان اس بات کا مقتضی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ جہاد میں جائیں تو کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ آپ کے پیچھے رہ جائے اسی لیے بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جہاد کرنا فرض عین تھا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ حکم اس وقت تھا جب مسلمان کم تھے۔ جب مسلمان تعداد میں زیادہ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ (کما ذکرہ فی الروح)
جو تین حضرات مومنین مخلصین میں سے پیچھے رہ گئے تھے ان کا واقعہ تفصیل سے چند صفحات پہلے گزر چکا ہے پیچھے رہ جانے والے مخلصین میں حضرت ابو خیثمہ بھی تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کو لے کر تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو منافقین بھی برے دل سے ساتھ لگ لیے تھے، پھر وہ راستہ سے واپس ہوتے رہے۔ راستہ سے واپس ہونے والوں میں حضرت ابو خیثمہ بھی تھے۔ سخت گرمی اور دھوپ کی وجہ سے یہ بھی راستہ سے واپس آگئے تھے ان کی دو بیویاں تھیں۔ واپس آئے تو دیکھا کہ باغ میں دو چھپروں کے نیچے ان کی بیویوں نے پانی چھڑک رکھا ہے اور کھانا تیار کر رکھا ہے۔ ابھی دروازہ ہی میں کھڑے تھے کہ اپنی دونوں بیویوں اور انہوں نے جو کچھ تیار رکھا تھا اس سب پر نظر پڑی اس کو دیکھ کر کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ تو سخت گرمی میں ہیں اور ابو خیثمہ ٹھنڈے سایہ میں ہے اس کے لیے کھانا حاضر ہے اور اس کی خوبصورت بیوی سامنے موجود ہے یہ انصاف کی بات نہیں۔ اللہ کی قسم میں ان میں سے کسی ایک چھپر میں بھی داخل نہ ہوں گا۔ میں روانہ ہوتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچتا ہوں۔ دونوں بیویوں نے سفر کا سامان تیار کیا انہوں نے اپنا اونٹ لیا اور روانہ ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ تبوک میں پہنچ چکے تھے انہوں نے آپ کو وہیں جا کر پایا ابھی یہ دور ہی تھے کہ حاضرین نے کہا کہ کوئی سوار آ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ابوخیثمہ ہے۔ چناچہ یہ تھوڑی دیر میں پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو خیثمہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس کے بعد انہوں نے اپنا قصہ سنایا اور آپ نے ان کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔
حضرت ابوذر ؓ تو ساتھ ہی چلے تھے لیکن ان کا اونٹ رفتار میں کمزور تھا، وہ پیچھے رہ گیا حضرت ابوذر ؓ نے اپنا سامان اپنی کمر پر لادا پھر پیدل ہی چل دیئے اور راستہ ہی میں ایک منزل پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ (البدایہ والنہایہ ص 7، 8 ج 5)
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے کا ایمانی تقاضا تو تھا ہی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اجر وثواب کا بھی وعدہ فرمایا۔ چناچہ ارشاد ہے۔ (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ لَا یُصِیْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ) (الآیتین) یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کو جو بھی پیاس، تھکن اور بھوک اللہ کے راستہ میں پہنچتی ہے اور جہاں بھی قدم رکھتے ہیں جس سے دشمنوں کو جلن ہوتی ہے اور دشمنوں کو جو کچھ تکلیف پہنچاتے ہیں۔ یہ سب ان کے اعمال صالحہ کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھے کام کرنے والوں کا اجر صائع نہیں فرماتا۔
نیز جو بھی کوئی خرچ کریں چھوٹا ہو یا بڑا اور جس میدان کو بھی قطع کریں تو یہ سب لکھا جاتا ہے۔ اور یہ لکھنا صرف لکھنے کے لیے نہیں ہے اللہ تعالیٰ ان سب پر اچھے سے اچھا ثواب عطا فرمائے گا۔
معلوم ہوا کہ صرف جنگ کرنا اور ہتھیار چلانا ہی جہاد نہیں ہے اس راہ میں جو تکلیفیں آنے جانے میں پیش آئیں بھوک، پیاس، دُکھن، قدم اٹھانا، خرچ کرنا وادیوں کو قطع ان سب میں ثواب ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کافروں کے دل جلانے کے لیے بھی نیت رکھنی چاہئے۔ ان کے دل جلانے میں بھی ثواب ہے۔ غزوۂ تبوک میں تو قتال ہوا ہی نہیں، آنا جانا اور تکلیف اٹھانا ہی تھا۔ اس پر بھی اجر وثواب کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔
فائدہ : حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو فرمایا کہ مدینہ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پورے سفر میں تمہارے ساتھی تھے تم جو بھی راستہ چلے اور جس میدان کو بھی تم نے قطع کیا وہ لوگ تمہارے ساتھ ہی رہے۔ (یعنی اجر وثواب میں وہ بھی تمہارے برابر کے شریک ہیں) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ مدینہ میں ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ مدینہ میں ہوتے ہوئے بھی تمہارے ساتھی تھے، وہ عذر کی وجہ سے رک گئے تھے۔ (صحیح بخاری ص 637 ج 2)
اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے عمل پر بھی ثواب اور نیت کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے۔ جو شخص معذور ہو اور عمل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اس کو بھی ثواب سے نواز دیا جاتا ہے۔ فالحمدللہ العلی الکبیر۔
Ayah 9:122جہاد اور تفقہ فی الدین میں مشغول رہنے کی اہمیت اور ضرورت
دین اسلام کامل ہے، مکمل ہے، جامع ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے اس میں اعتقادیات بھی ہیں اور عبادات بھی، اخلاق بھی ہیں اور آداب بھی، معاشرت کے طریقے بھی ہیں اور معاملات کے احکام بھی، بیاہ شادی بھی ہے اور اولاد کی پرورش بھی، مال کمانے کے جتنے طریقے ہیں ان کے احکام بھی بتائے ہیں۔ کفر کو مٹانے اور اہل کفر کو نیچا دکھانے کا اور اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے جہاد اور قتال بھی مشروع ہے اور یہ بھی دین کا ایک ضروری اور بہت اہم کام ہے۔ جسے حدیث شریف میں چوٹی کا عمل بتلایا ہے (ذروۃ سنامہ الجھاد) لیکن اگر سارے ہی افراد جہاد میں لگ جائیں تو تعلیم و تعلم کا کام کون کرے جس کے ذریعہ علم و اعمال زندہ رہتے ہیں۔ اور فضائل و مسائل کا پتہ چلتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں کے احکام معلوم ہوتے ہیں۔
جہاد کی قسمیں :
اس لیے عام حالات میں جہاد فرض عین نہیں ہے۔ فرض عین اسی وقت ہوتا ہے جبکہ دشمن کسی علاقہ پر دھاوا بول دیں۔ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔ پس جہاد فرض کفایہ ہے اور دین کی دوسری ضروریات بھی ہیں۔ خصوصاً جبکہ علوم اسلامیہ کا جاننا، اور پہنچانا اور پھیلانا بھی لازم ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہر وقت جہاد کے لیے ہر ہر فرد نکل کھڑا ہو، اسی کو فرمایا (وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ) (الآیۃ) کہ اہل ایمان کو یہ نہ چاہئے کہ سب ہی نکل کھڑے ہوں ہاں ایسا ہو کہ جہاد میں بھی جاتے رہیں ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت جایا کرے۔ اور علوم میں مشغول رہنے والے بھی ہوں۔ جہاد میں جانے والے جہاد کو قائم رکھیں جس سے فرض کفایہ ادا ہوتا رہے۔
تفقیہ اور تفقہ کی ضرورت :
جو لوگ جہاد میں نہ نکلیں وہ دینی سمجھ حاصل کریں۔ یعنی ایک جماعت علوم دینیہ پڑھانے والوں کی بھی رہے۔ جن کے ساتھ علوم دینیہ حاصل کرنے والے لگے رہیں اور سرسری علوم پر اکتفا نہ کریں۔ بلکہ فقہ فی الدین حاصل ہونا ضروری ہے۔ علوم کی وسعت بھی حاصل ہو اور علوم کی گہرائی میں اتریں، تاکہ اس قابل ہوجائیں کہ یہ سمجھ سکیں کہ کس آیت اور کس حدیث سے کیا ثابت ہوتا ہے اس کو (لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ ) سے تعبیر فرمایا جو لوگ جہاد میں نہیں گئے وہ وطن میں رہ کر علم دین حاصل کریں اور جو لوگ جہاد میں گئے وہ بھی واپس آکر علم حاصل کریں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ علم دین سے نابلد رہیں۔ اگر جاہل محض رہیں گے تو جہاد سے متعلقہ اعمال شرعیہ کی تعمیل نہ کرسکیں گے۔ جب یہ لوگ جہاد سے واپس آجائیں تو وہ جو حضرات علم کی تحصیل میں مشغول تھے ان واپس آنے والوں کو اللہ سے ڈرائیں یعنی دینی احکام سکھائیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نا فرمانیوں سے بچتے رہیں۔ اسی کو فرمایا (لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ ) جہاد میں جانے والے نوبت بہ نوبت جایا کریں۔ ایک جماعت جہاد میں چلی گئی (جن کے پاس ضروری علم پہلے سے ہے) اور جب یہ جماعت واپس آجائے تو یہ علوم دینیہ میں مشغول ہوجائے اور دوسری جماعت چلی جائے۔ جب جہاد ہمیشہ ہی فرض کفایہ ہے اور علوم دینیہ کو زندہ رکھنا بھی ضروری ہے اور مجاہدین کی خانگی حاجات اور ضروریات بھی ہیں تو ایسا کرنا ضروری ہوگا کہ فرض کفایہ کو قائم رکھنے کے لیے جماعت جہاد میں چلی جایا کرے اور ان کی واپسی پر بلکہ ان سے پہلے ہی دوسری جماعت جہاد کے لیے روانہ ہوجایا کرے۔ جو لوگ علوم میں مشغول تھے وہ مجاہدین کے پیچھے ان کے گھر والوں کی خیر خبر رکھیں اور جب وہ واپس آجائیں تو ان کو احکام شرعیہ بنائیں، قرآن و حدیث کی تعلیم دیں۔
بطور فرض کفایہ امت مسلمہ کے ذمہ یہ بھی لازم ہے کہ علوم شرعیہ کو محفوظ رکھیں اور ان کو پڑھتے پڑھاتے رہیں۔ قرآن مجید کا محفوظ رکھنا (مطبوعہ مصاحف پر بھروسہ کر کے حفظ کو نہ چھوڑ دیا جائے) قرآن کی تفاسیر کو محفوظ رکھنا احادیث شریفہ اور ان سے متعلقہ علوم کو محفوظ رکھنا، قرآن مجید اور احادیث شریفہ سے جو احکام و مسائل مجتہدین نے مستنبط کیے ہیں ان کو محفوظ رکھنا بلکہ علوم عربیہ صرف ونحو، معانی وبیان اور عربی لغات کا باقی رکھنا بھی لازم ہے کیونکہ ان چیزوں پر قرآن و حدیث کا فہم موقوف ہے۔ اگر یہ چیزیں محفوظ نہ ہوں گی تو ملحدین اور زنادقہ اپنے پاس سے غلط ترجمے کریں گے اور قرآن و حدیث کے مفاہیم اور معانی بدل دیں گے۔ ہر شخص پر عقائد اسلامیہ کا جاننا اور ان کا عقیدہ رکھنا، نماز کے احکام و مسائل جاننا اور نماز کو سیکھنا اور یاد رکھنا، طہارت و نجاست کے مسائل جاننا، اور ان تمام احکام کا جاننا جن سے ہر شخص کو روزانہ واسطہ پڑتا ہے یہ فرض عین ہے۔ جو لوگ تجارت کرتے ہیں ان کو تجارت کے مسائل جاننا فرض عین ہے اسی طرح جو لوگ زراعت میں صنعت و حرفت میں ملازمت میں لگے ہوئے ہیں اپنے اپنے مشاغل اور مکاسب کے بارے میں احکام و مسائل سیکھیں جو ان پر فرض عین ہے تاکہ خلاف شرع طریقوں سے مال نہ کھائیں۔ محنت بھی کریں اور مال حرام ملے اور مال کمانے میں خلاف شرع امور کا ارتکاب کر کے گنہگار ہوں اس سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ اپنے اپنے کاروبار اور کام کاج کے بارے میں شریعت کے احکام معلوم کریں۔ جن کے پاس مال ہے وہ خصوصیت کے ساتھ وجوب زکوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ کے مسائل معلوم کریں۔
لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ غیر قوموں کی طرح اپنے کو آزاد سمجھتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں زندگی گزار لیتے ہیں نہ میاں بیوی کے حقوق کا پتہ، نہ اولاد کی تعلیم و تادیب کی خبر، نہ ماں باپ اور دیگر اقرباء کے حقوق کی ادائیگی کا فکر، نہ حلال کمانے کا دھیان۔ یہ طریقہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں ہے۔
فقہ دینی سمجھ کا نام ہے عہد اول میں اس کا مفہوم بہت زیادہ عام تھا۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے فقہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا معرفۃ النفس مالھا و ما علیھا کہ ہر شخص کا یہ پہچان لینا کہ میری ذمہ داری کیا ہے۔ میں دنیا اور آخرت میں کن کن چیزوں کا مسؤل ہوں اور وہ کیا کیا چیزیں ہیں جن کا انجام دینا میرے ذمے لازم ہے۔ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ان سب کو جانے اور جاننے کے مطابق عمل کرے۔ اس میں پورے دین کا سمجھنا اور اپنی جان پر نافذ کرنا آگیا۔ در حقیقت یہ فقہ کی بہت جامع تعریف ہے۔ اور (لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ ) کے مفہوم میں یہ سب احکام و مسائل آجاتے ہیں احکام و مسائل کا جو علم ہے اور جو امور روح قلب اور تزکیہ نفس سے متعلق ہیں فقہ ان سب کو شامل ہے۔ حضرت حسن سے کسی نے کچھ دریافت کیا انہوں نے کچھ جواب دے دیا، سائل نے کہا دوسرے فقہاء تو آپ کی مخالفت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا تم نے کوئی فقیہ دیکھا بھی ہے ؟ اس کے بعد فقیہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا انما الفقیہ الزاھد فی الدنیا، الراغب فی الاخرۃ، البصیر بدینہ المداوم علی عبادۃ ربہ الورع الکاف عن اعراض المسلمین العفیف عن اموالھم الناصح لجماعتھم۔ یعنی فقیہ وہ ہے جو دنیا سے بےرغبت ہو، مسلمانوں کی بےآبروئی کے درپے نہ رہتا ہو (یعنی ان کی غیبتیں نہ کرتا ہو۔ ان پر تہمت نہ دھرتا ہو) ان کے مالوں سے دور رہتا ہو، اور مسلمانوں کی جماعت کا خیر خواہ ہو۔ (روح المعانی ص 48 ج 11)
تفقہ فی الدین بہت بڑی دولت ہے جس کو بھی حاصل ہوجائے وہ بڑا سعادت مند ہے۔ حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ کہ اللہ تعالیٰ جس کو خیر سے نواز نے کا ارادہ فرماتے ہیں اسے تفقہ فی الدین کی دولت عطا فرماتے ہیں۔ (صحیح بخاری ص 16 ج 1) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو دعا دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے بار گاہ الٰہی میں یوں عرض اللّٰھُمَّ فَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ کہ اے اللہ اسے تفقہ فی الدین نصیب فرما، حضرت عمر ؓ نے فرمایا تفقھوا قبل اَن تُسَودوا یعنی اس سے پہلے فقیہ بن جاؤ کہ تم کو سرداری سپرد کی جائے یعنی نو عمری ہی سے فقہ میں لگنا چاہئے۔ (صحیح بخاری ص 17 ج 1)
جو حضرات آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے غیر منصوص مسائل کا استنباط کرتے ہیں جیسے ائمہ اربعہ نے کیا یہ بھی تفقہ فی الدین ہے اور جو لوگ اصلاح قلوب اور تزکیہ نفوس کے شغل میں لگے ہوئے ہیں اور امت کی اصلاح کی اجتماعی اور انفرادی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں وہ بھی تفقہ فی الدین میں لگے ہوئے ہیں۔ بعض لوگ فقہ کا نام سنتے ہی کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں اور گو یا اس کو بد عت سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں اس کا حکم دیا ہے اور حدیث شریف میں اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے خیر سے نوازنا چاہیں اسے تفقہ فی الدین سے نواز دیتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ فقہ کی کیا ضرورت ؟ حدیث دیکھ کر عمل کرلیں گے۔ حالانکہ حدیث پر عمل کرنے کے لیے سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے ناسخ منسوخ دیکھنا پڑتا ہے ظاہری طور پر جو تعارض ہو اس کے رفع کرنے کے لیے تطبیق بین الاحادیث کی ضرورت ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ قال صاحب الدر المختار و اعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر ما یحتاج لدینہ و فرض کفایۃ و ھو ما زاد علیہ لنفع غیرہ و مندوبا و ھو التبحر فی الفقہ و علم القلب، و حرام و ھو علم الفلسفۃ و الشعبدۃ و التنجیم و الرمل و علوم الطبعیین و السحر و الکھانۃ ا ہ۔ قال الشامی فی حاشیۃ قولہ علم القلب أی علم الاخلاق و ھو علم یعرف بہ انواع الفضائل و کیفیۃ اکتسابھا و أنواع الرذائل و کیفیۃ اجتنابھا۔ (صاحب درمختار نے فرمایا ہے کہ جان لے ! ایک علم کا حاصل کرنا فرضی عین ہے اور وہ علم کی اتنی مقدار ہے جو دین پر عمل کے لیے ضروری ہو اور ایک علم فرض کفایہ ہے یہ وہ ہے جو اپنے عمل سے زائد ہو دوسرے سے نفع کے لیے اور ایک مندوب ہے اور یہ فقہ میں مہارت حاصل کرنا اور دلوں کا عمل ہے۔ اور ایک علم حرام ہے اور یہ فلسفہ، شعبدہ بازی، نجوم، رمل مادہ پرستی کا علم اور جادو وکہانت کا علم ہے۔ علامہ شامی نے حاشیہ میں کہا ہے علم دل سے مراد ہے علم اخلاق اور یہ وہ علم ہے جس سے فضائل کی اقسام اور ان کے حاصل کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور برائیوں کی اقسام اور ان سے بچنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے) ۔ (ردالمحتار ص 30 ج 1)
فائدہ : لفظ لِیَتَفَقَّھُوْا بات تفعل سے ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ کلمہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فقہ تفقہ سے حاصل ہوگا یعنی اس میں تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ اور بغیر محنت اور کوشش کے حاصل نہ ہوگا۔ نیز صاحب روح المعانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ لِیُنْذِرُوْا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم دین پڑھانے والے کی غرض ارشاد اور انذار ہونی چاہئے یعنی امور خیر کی تعلیم دے اور گناہوں کی تفصیل بتائے اور ان سے بچنے کی تاکید کرے۔ اور متعلم کا مقصود بھی خوف و خشیت ہو، وہ علم حاصل کر کے شریعت پر چلنے کی نیت کرے اور خوف و خشیت کو اپنی زندگی کا وظیفہ بنائے۔ دنیا حاصل کرنے اور بڑا بننے کی نیت سے علم نہ پڑھے۔ حضرت حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے اس حال میں موت آگئی کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم طلب کر رہا تھا تو اس کے اور نبیوں کے درمیان ایک ہی درجے کا فرق ہوگا۔ (رواہ الدارمی فی سننہ ص 85 ج 1)
چونکہ لّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ کے بعد (وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ ) بھی فرمایا اس لیے اصحاب علم پر ضروری ہے کہ جو لوگ بھی علم دین حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس پہنچیں ان کی خیر خواہی، ہمدردی اور دلداری کریں۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ لوگ تمہارے تابع ہوں گے۔ (یہ حضرات صحابہ کو خطاب ہے) اور بہت سے لوگ تمہارے پاس زمین کے دور دراز گوشوں سے آئیں گے تاکہ وہ تفقہ فی الدین حاصل کریں۔ سو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان سے اچھی طرح پیش آنا میں تمہیں اس کی وصیت کرتا ہوں۔ راوی حدیث حضرت ابو سعید خدری کا طریقہ تھا کہ جب کوئی طالب علم ان کے پاس پہنچتا تو فرماتے تھے مَرْحَباً بوصیۃ رسول اللہ ﷺ ۔ کہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں (رواہ الترمذی فی ابواب العلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو اس طرح پاؤ گے جیسے (سونے چاندی کی) کانیں ہوتی ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر مختلف قسم کی قوت اور استعداد رکھی ہے) جاہلیت کے زمانہ میں جو لوگ (مکارم الاخلاق اور محاسن الاعمال کے اعتبار سے) بہتر تھے اسلام میں بھی وہ بہتر ہوں گے۔ جبکہ وہ فقیہ ہوجائیں (رواہ مسلم ص 307) جب اسلام میں داخل ہو کر فقیہ ہوں گے تو اپنی استعداد کو دینی سمجھ کے مطابق خرچ کریں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فقید واحد اشد علی الشیطان من الف عابد یعنی ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے بھاری ہے۔ (رواہ الترمذی فی ابواب العلم)
فقیہ کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہزار عابدوں سے بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص صرف عبادت گزار ہو شیطان کے مکرو فریب اور بہکانے کے طریقوں سے واقف نہیں ہوتا شیطان اسے آسانی سے ورغلا دیتا ہے اور جو شخص فقیہ ہو وہ شیطان کے داؤ گھات مکرو فریب اور بہکانے کے طریقوں کو جانتا پہچانتا ہے۔ وہ اپنے علم وفقہ کے ذریعہ خود بھی شیطان کے مکر و فریب مے محفوظ رہتا ہے اور دوسروں کو بھی بچاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور یاد رکھے اور اسے دوسروں تک پہنچا دے۔ کیونکہ بہت سے حامل فقہ ایسے ہوتے ہیں جو خود فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے حامل فقہ ایسے ہوتے ہیں جو اس شخص کو پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 35)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احادیث شریفہ کے ظاہری الفاظ سے جو مسائل ثابت ہوتے ہیں ان کے علاوہ ان میں وہ مسائل بھی ہیں جن کی طرف ہر شخص کا ذہن نہیں پہنچتا، جن کو اللہ تعالیٰ نے فقہ کی دولت سے نوازا ہے وہ ان مسائل اور احکام کو سمجھتے ہیں، اور احادیث کی عبارات اور سیاق کلام، طرز بیان، وجوہ دلالت سے انہیں وہ چیزیں مل جاتی ہیں جو ان کو نہیں ملتیں جو فقہ سے عاری ہیں۔ اسی فقہ یعنی دینی سمجھ کو کام میں لانے کا نام استنباط ہے۔
یہ تو معلوم ہوگیا کہ دین اسلام میں تفقہ فی الدین کی بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے لیکن اس میں افراط وتفریط پائی جاتی ہے ایک جماعت تو ایسی ہے جسے فقہ کے نام سے ہی چڑ ہے اور ساتھ ہی ان میں یہ غفلت ہے کہ احادیث شریفہ کی پوری کتابیں بھی نہیں پڑھتے پڑھاتے چند منتخب احادیث یاد کر کے فتوے دینے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ امام بخاری اور امام شافعی اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ اور ایک جماعت ایسی ہے جس نے اساتذہ سے قرآن پڑھا نہ حدیث پڑھی خود رو عالم ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنی سمجھ سے دینی احکام بتانے اور فتوے دینے کا حق ہے ایسے لوگ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں یہ لوگ نہ عربی جانتے ہیں نہ صرف ونحو سے واقف ہیں۔ نہ وجوہ استنباط سے باخبر ہیں نہ فصاحت و بلاغت کی کتابیں پڑھیں نہ لغات پر حاوی ہیں۔ حروف اصلیہ اور حروف زائدہ کو بھی نہیں جانتے لیکن اپنی جاہلانہ سمجھ سے فتویٰ دینے کو تیار ہیں۔ اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ اجتہاد ختم نہیں ہوا اور اس بات کی لپیٹ میں وہ اپنے کو مجتہد قرار دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اجتہاد کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ میں نے ان لوگوں کے لیے چند سوال رکھے ہیں۔ عزیز طلبہ سے ان لوگوں کا واسطہ پڑجائے تو ان سے دریافت کرلیں کہ لُمْتُنَّنِیْ کیا صیغہ ہے ؟ دونوں کے حروف اصلی بتائیں ؟ اور حروف محذوفہ اور زائد بیان فرمائیں ؟ اور یہ بتائیں کہ یَخِصِّمُوْنَ اور (اَمْ مَّنْ لَّا یَھِدِّیْ ) اور وادَّکَرَ کیا صیغہ ہے کس باب سے ہے اور یہ بھی واضح کریں کہ فَاَسْقَیْنٰکُمُوْہُ اور فَلَا تُمَارِ فِیْھِمْ میں کتنے کلمات ہیں ؟ ان میں اسم، فعل حروف کیا کیا ہیں اور ساتھ ہی معرب و مبنی کی تعیین بھی کرتے چلیں ؟
اجتہاد، استنباط اور تفقہ کوئی حلوہ کا لقمہ نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے مجتہد اور فقیہ بن جائے۔ یہ ضروری باتیں دور حاضر کے بےپڑھے مجتہدوں سے امت کو محفوظ رکھنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔
آیت بالا کی تفسیر جو اوپر لکھی گئی یہ اس بنیاد پر ہے کہ لِیَتَفَقَّھُوْا اور وَلِیُنْذِرُوْا کی ضمیر اس جماعت کی طرف راجع ہو جو جہاد کے لیے نکلنے والوں کے ساتھ نہ گئے اور گھروں میں رہ گئے اور ان کا یہ رہنا اس لیے ہے کہ علم دین حاصل کریں اور مجاہدین واپس ہوں تو ان کو علم سکھائیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بہت سے حضرات نے لِیَتَفَقَّھُوْا اور وَلِیُنْذِرُوْا کی ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع کی ہے جو گھروں کو چھوڑ کر باہر نکل گئے اس صورت میں باہر نکلنے والوں سے علم کے لیے سفر کرنے والے مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح جہاد کے لیے جماعتیں جاتی ہیں اسی طرح طلب علم کے لیے بھی اہل ایمان باہر نکلیں اور باہر نکل کر علم حاصل کریں۔ پھر واپس ہو کر ان لوگوں کو دین سکھائیں اور اللہ سے ڈرائیں جو طلب علم کے لیے باہر نہ گئے تھے۔ یہ تفسیر سیاق کلام سے قریب تر ہے۔ صاحب روح المعانی نے یہ تفسیر لکھ کر لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض اصحاب دیہاتوں میں چلے گئے تھے۔ وہ وہاں کی چیزوں سے منتفع ہوئے اور ساتھ ہی لوگوں کی ہدایت کے کام میں مشغول رہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ تم تو ہمارے پاس آکر بس گئے اور اپنے ساتھیوں کو چھوڑ آئے یہ بات سن کر انہیں رنج ہوا اور دیہات چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے ان کی پریشانی دور ہوگئی کیونکہ جو علم حاصل کیا ہے دیہات میں رہ کر اس کا پھیلانا اور ہدایت دینے کی کوشش کرنا بھی ایمانی تقاضوں میں شامل ہے لِیَتَفَقَّھُوْا اور وَلِیُنْذِرُوْا کا مرجع جو بھی ہو اور ترجمہ اور تفسیر میں جو رخ بھی اختیار کیا جائے ہر حال میں آیت شریفہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایک جماعت کا تفقہ فی الدین میں مشغول ہونا ضروری ہے۔ یہ لوگ خود علم دین حاصل کریں اور پھر اپنی قوم کو علمی باتیں بتائیں، اوامرو نواہی سے آگاہ کریں تاکہ قوم کے افراد گنہگاری سے بچ سکیں۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا دین اسلام میں بہت پھیلاؤ ہے۔ انسانوں کی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ اسلام کے تمام علوم کو محفوظ رکھنا فرض کفایہ ہے۔ یہ علوم قرآن کریم میں اور حادیث شریف میں کتب تفسیر میں شروح حدیث میں۔ فقہ کی کتابوں میں مدون ہیں۔ پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ پورے دین کو علماً و عملاً محفوظ رکھے۔ ان علوم کی تعلیم و تدریس ہوتی رہے۔ خود بھی پڑھیں۔ اپنی اولاد کو بھی پڑھائیں۔ اور تمام مسلمانوں کے لیے یہ مواقع فراہم کریں کہ ان علوم میں مشغول ہو سکیں۔ اس میں کتابیں لکھنا بھی ہے مدارس کا قیام بھی ہے اور مدارس کی امداد بھی ہے۔ بعض علاقوں میں کچھ لوگوں نے ایسے مدارس قائم کیے جن کے نصاب سے کتاب الجہاد اور کتاب العتاق وغیرہ کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ ان پر عمل تو نہیں رہا لہٰذا ان کے پڑھانے کی ضرورت نہیں، یہ ان لوگوں کی نا دانی ہے۔ عمل ہو یا نہ ہو ہر حال میں پورے دین کو باقی رکھنا اور محفوظ رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر بعض علوم کو چھوڑ دیا اور بعض علوم کو نصاب سے خارج کردیا تو جب کبھی حالات پلٹا کھائیں گے اور ان چیزوں پر عمل کرنے کا موقعہ آجائے گا جن پر آج عمل کرنے کا موقعہ نہیں ہے تو اس وقت بھولے ہوئے احکام پر کیسے عمل ہوگا ؟ پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جن احکام پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ یہ بھی تو امت ہی کا قصور ہے نہ جہاد چھوڑتے جو فرض کفایہ ہے نہ یہ دن دیکھنے میں آتے کہ احکام جہاد و احکام استرقاق کو نصاب سے خارج کرنے کا مشورہ کرتے۔
Ayahs 9:123–124ان کافروں سے قتال کرو جو تمہارے آس پاس ہیں
ان آیات میں اولاً اہل ایمان کو یہ حکم دیا کہ جو کفار تمہارے آس پاس رہتے ہیں ان سے قتال کرو۔ اور اس انداز سے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی گزارو (جن میں جنگ کی تیاری کرتے رہنے اور جنگ کا سامان فراہم کرنا بھی داخل ہے) کہ وہ لوگ تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔ یہ تمہیں اپنی طرف سے غافل نہ سمجھیں۔ صاحب معالم التنزیل حضرت ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ (یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ ) (جو لوگ تم سے قریب ہیں) سے بنو قریظہ، بنو نضیر اور خیبر میں بسنے والے یہودی مراد ہیں اور جو لوگ ان کے آس پاس تھے، اور بعض جن حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے روم کے لوگ مراد ہیں۔ کیونکہ وہ شام میں تھے اور وہاں قیصر روم کی حکومت قائم تھی اور شام بہ نسبت عراق کے مدینہ منورہ سے قریب تر ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ دونوں قول اس زمانہ کے حالات کے پیش نظر تھے۔ جیسے جیسے مسلمان مختلف علاقوں میں بڑھتے گئے ان کے حالات کے اعتبار سے آیت شریفہ کا حکم شامل ہوتا چلا گیا۔ جس زمانہ میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں ان کافروں سے قتال کریں جو ان سے قریب تر ہیں۔ قریب والے دبے رہیں گے تو اس کا دور والے کافروں پر بھی اثر پڑے گا۔ پھر فرمایا۔ (وَ لْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً ) اس کے بارے میں صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں شِدَّۃٌ و حمیۃ کہ کافر لوگ تمہارے اندر شدت اور حمیت اور قوت محسوس کریں، پھر حضرت حسن سے غِلْظَۃٌ کی تفسیر کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ صبراً علی جھادھم یعنی جب کافروں سے مقابلہ و مقاتلہ ہونے لگے تو جم کر مقابلہ کرو، وہ تمہارے اندر نرمی اور کمزوری محسوس نہ کریں۔ بلکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ تم لوگ قوت اور شوکت والے ہو۔ دبنے والے اور راہ افرار اختیار کرنے والے نہیں ہو پھر فرمایا (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ) (کہ اس بات کو جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے) وہ دشمنوں کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ تقویٰ اختیار کرو۔ گناہوں سے بچو، شریعت کے خلاف کام نہ کرو۔ ظلم و زیادتی سے پرہیز کرو۔
Ayahs 9:125–126منافقوں کی کافرانہ باتیں :
اس کے بعد منافقوں کی ایک حرکت بد کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جب قرآن کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آپس میں دل لگی کے طور پر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ اس آیت کے ذریعہ تمہارے ایمان میں کیا ترقی ہوئی۔ اور کیا اضافہ ہوا ؟ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ جو اہل ایمان ہیں ان کے دلوں میں قرآن کی سورتوں کے نزول سے ترقی ہوتی ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں مرض یعنی نفاق ہے ان کے دل کی نا پاکی میں اس سے اور زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے جو سورتیں نازل ہوچکی تھیں اب تک انہیں کے منکر تھے اب جو نئی سورت نازل ہوگئی اس کے بھی منکر ہوگئے اور ساتھ ہی اس کا مذاق بھی بنایا لہٰذا ان کے کفر میں اور اضافہ ہوگیا۔ اور یہ کفر پر جمنا اور کفر میں ترقی کرتے جانا ان کے کفر پر مرنے کا سبب بن گیا۔
پھر فرمایا کیا یہ منافق لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ہر سال میں ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں۔ امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، جہاد میں جانے کا حکم ہوتا ہے تو پیچھے رہ جاتے ہیں جن سے ان کا نفاق کھل جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ سے رسوا ہوتے ہیں۔ پھر بھی توبہ نہیں کرتے۔ اور نصیحت بھی حاصل نہیں کرتے۔
پھر منافقوں کا ایک اور طریق کار ذکر فرمایا اور وہ یہ کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو چپکے سے فرار ہونے کے لیے ایک دوسرے کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے ہیں، اور اس تاک میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کوئی کھسکتے ہوئے دیکھ نہ لے۔ آپس میں کہتے ہیں کہ دیکھو ہمیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ اگر کوئی مسلمان دیکھ رہا ہو تو وہیں مجلس میں بیٹھے رہتے ہیں اور جب دیکھا کہ کسی کی بھی نظر نہیں پڑ رہی ہے تو چپکے سے چل دیتے تھے۔ اپنے خیال میں انہوں نے بڑی ہوشیاری کی، لیکن اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایمان سے پھیر دیا، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ اس موقعہ میں ہوتا تھا جب کوئی ایسی آیت نازل ہوتی تھی جس میں منافقین کے بارے میں زجرو توبیخ کا مضمون نازل ہوتا تھا اور منافقین کے عیوب منکشف ہوتے تھے۔
Ayah 9:127آخر میں فرمایا (بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ ) کہ ان لوگوں کی یہ حرکتیں اور ان حرکتوں کا انجام بد اس وجہ سے سامنے آیا کہ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ اگر حق اور حقیقت کو سمجھتے تو نہ منافقت اختیار کرتے نہ ان سے منافقانہ حرکتیں صادر ہوتی۔
Ayah 9:128رسول اللہ ﷺ کی صفات عالیہ اور اخلاق حسنہ کا بیان
یہ دو آیتیں ہیں جن پر سورة توبہ ختم ہو رہی ہے۔ پہلی آیت میں سیدنا خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعض صفات بیان فرمائیں۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا جو بڑے مرتبہ والا رسول ہے (اس پر رَسُوْلٌ کی تنکیر دلالت کرتی ہے) اور یہ رسول تم ہی میں سے ہے اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ بشر ہے تمہاری جنس میں سے ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب سے ہے، جو مخاطبین اوّلین ہیں ان کا ہم زبان ہے وہ اس کی باتوں کو سمجھتے ہیں اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نسب کے اعتبار سے اور مل جل کر رہنے کے اعتبار سے تم ہی میں سے ہے اس کے نسب کو، اس کی ذات کو اور اس کی صفات کو اچھی طرح سے جانتے ہو۔ مفسر ابن کثیر (ص 403 ج 2) لکھتے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے سامنے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کسریٰ کے سامنے اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا ان اللہ بعث فینا رسولا منا نعرفہ نسبہ و صفتہ و مدخلہ و مخرجہ و صدقہ و امانتہ۔ (اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جو ہم میں سے ہے ہم اس کے نسب کو اور اس کے حالات کو جانتے ہیں ہم ہر طرح سے اس کی سچائی و امانت کو جانتے ہیں) آپ جن لوگوں میں پیدا ہوئے نبوت سے سر فراز ہونے کے بعد بھی انہیں میں رہے، آپ انہیں کی زبان میں بات کرتے تھے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے آپ سے استفادہ کرنے اور آپ کی باتیں سننے اور سمجھنے کا خوب موقعہ تھا۔ اگر ان کا نبی ان کی جنس سے نہ ہوتا مثلاً فرشتہ ہوتا یا ان کا ہم زبان نہ ہوتا یا رہنے سہنے میں کسی ایسی جگہ رہتا جہاں آنا جانا اور ملنا جلنا دشوار ہوتا تو استفادہ کرنے اور بات سمجھنے میں دشواری ہوتی یہ اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ انہیں میں سے رسول بھیج دیا۔ کما قال تعالیٰ (فی سورة آل عمران) (لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ ) (اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر احسان فرمایا جبکہ ان میں سے ایک رسول بھیج دیا) آپ کی دیگر صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ) کہ امت کو جس چیز سے تکلیف ہو وہ آپ کو شاق گزرتی ہے۔ اور آپ کو اس سے تکلیف ہوتی ہے اور آپ امت کے نفع کے لیے حریص ہیں آپ کو یہ بھی حرص ہے کہ جملہ مخاطبین ایمان لے آئیں اور یہ بھی حرص ہے کہ اہل ایمان کے تمام حالات درست ہوجائیں اور آپ کو مومنین کے ساتھ بڑی شفقت ہے، آپ ان کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق صرف ایسا نہیں ہے کہ بات کہہ کر بےتعلق ہوگئے بلکہ آپ کا اپنی امت سے قلبی تعلق ہے۔ ظاہراً بھی آپ ان کے ہمدرد ہیں اور باطناً بھی، امت کو جو تکلیف ہوتی اس میں آپ بھی شریک ہوتے تھے اور ان میں سے کسی کو تکلیف پہنچ جاتی تو آپ کو کڑھن ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا (وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) (یعنی مؤمنین کے ساتھ آپ نرمی کا برتاؤ کیجیے) ایک مرتبہ رات کو مدینہ منورہ کے باہر سے کوئی آواز آئی، اہل مدینہ کو اس سے خوف محسوس ہوا چند آدمی جب اس کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ پہلے ہی سے ادھر روانہ ہوچکے تھے۔ یہ لوگ جا رہے تھے تو آپ آ رہے تھے آپ نے فرمایا لَمْ تُرَاعُوْا۔ ڈرو نہیں، کوئی فکر کی بات نہیں۔ (صحیح بخاری ص 417 ج 1)
حضرات صحابہ میں کسی کو تکلیف ہوجاتی تھی تو اس کے لیے فکر مند ہوتے تھے۔ عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ دوا بتاتے تھے۔ مریض کو تسلی دینے کی تعلیم دیتے تھے۔ تکلیفوں سے بچانے کے لیے ان امور کی تعلیم دیتے تھے۔ جن سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ تھا اور جن سے انسانوں کو خود ہی بچنا چاہئے لیکن آپ کی شفقت کا تقاضا یہ تھا کہ ایسے امور کو بھی واضح فرماتے تھے۔ اسی لیے آپ نے کسی ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا جس کی منڈیر بنی ہوئی نہ ہو۔ (مشکوٰۃ ص 404) اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص (ہاتھ دھوئے بغیر) اس حالت میں سو گیا کہ اس کے ہاتھ پر چکنائی لگی ہوئی تھی پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچ گئی (مثلاً کسی جانور نے ڈس لیا) تو وہ اپنی ہی جان کو ملامت کرے (مشکوٰۃ ص 366) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص رات کو سونے کے بعد بیدار ہو تو ہاتھ دھوئے بغیر پانی میں ہاتھ نہ گھسا دے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے (ممکن ہے کہ اسے کوئی ناپاک چیز لگ گئی ہو یا اس پر زہریلا جانور گزر گیا ہو) (رواہ البخاری و مسلم)
جوتے پہننے کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ زیادہ ترجوتے پہنے رہا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہنے رہتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سوار ہو جیسے جانور پر سوار ہونے والا زمین کے کیڑوں مکوڑوں اور گندی چیزوں اور کانٹوں اور اینٹ پتھر کے ٹکڑوں سے محفوظ رہتا ہے ایسے ہی ان چیزوں سے جوتے پہننے والے کی بھی حفاظت رہتی ہے۔ (رواہ مسلم) نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب چلتے چلتے تمہارے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک چپل میں نہ چلے جب تک کہ دوسرے چپل کو درست نہ کرلے (پھر دونوں کو پہن کر چلے) اور یہ بھی فرمایا کہ ایک موزہ پہن کر نہ چلے کیونکہ ان صورتوں میں ایک قدم اونچا اور ایک قدم نیچا ہو کر توازن صحیح نہیں رہتا (رواہ مسلم) آپ امت کو اسی طرح تعلیم دیتے تھے جیسے ماں باپ اپنے بچوں کو سکھاتے اور بتاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تمہارے لیے باپ ہی کی طرح ہوں میں تمہیں سکھاتا ہوں (پھر فرمایا کہ) جب تم قضاء حاجت کی جگہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو نہ پشت کرو، اور آپ نے تین پتھروں سے استنجا کرنے کا حکم فرمایا، اور فرمایا کہ لید سے اور ہڈی سے استنجا نہ کرو۔ اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ (مشکوٰۃ ص 42)
اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو جگہ کو دیکھ بھال لے (مثلاً پکی جگہ نہ ہو جہاں سے چھینٹیں اڑیں اور ہوا کا رخ نہ ہو وغیرہ (مشکوٰۃ صفحہ 42) نیز آپ نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں جنات اور کیڑے مکوڑے رہتے ہیں) اگر کتب حدیث میں زیادہ وسیع نظر ڈالی جائے تو اس طرح کی بہت سی تعلیمات سامنے آجائے گی جو سراپا شفقت پر مبنی ہیں۔ اسی شفقت کا تقاضا تھا کہ آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی بھی مومن عذاب میں مبتلا ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب اس کے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو پروانے اس آگ میں آکر گرنے لگے وہ شخص ان کو روکتا ہے کہ آگ میں گریں لیکن وہ اس پر غالب آجاتے ہیں اور زبردستی گرتے ہیں، یہی میرا حال ہے کہ میں تمہیں دوزخ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں کو پکڑتا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے ہو یعنی جو لوگ گناہ نہیں چھوڑتے وہ اپنے اعمال کو دوزخ میں ڈالنے کا سبب بناتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جو گناہوں پر وعیدیں بتائی ہیں اور عذاب کی خبریں دی ہیں ان پر دھیان نہیں دیتے۔ (رواہ البخاری و مسلم)
Ayah 9:129پھر فرمایا کہ اگر لوگ رو گردانی کریں حق کو قبول نہ کریں۔ محبت، شفقت اور رافت و رحمت والے رسول کی تصدیق نہ کریں تو آپ ان کی طرف سے ایذاء پہنچنے کے بارے میں متفکر نہ ہوں آپ یوں اعلان کردیں (حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (کہ اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ) (میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے) توکل علی اللہ نبیوں کا اور ان کے امتیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اس سے مشکل ترین کام آسان ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابو درداء ؓ نے فرمایا کہ جو شخص صبح شام سات مرتبہ (حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ) کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام فکر مندیوں کی کفایت فرمائے گا۔ (تفسیر ابن کثیر ص 405 ج 5)
تم تفسیر سورة التوبۃ والحمدللہ اولاً و آخراً و ظاھراً و باطناً