9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں ایسا شخص بھی ہے جو کہتا ہے کہ آپ مجھے اجازت دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے خبر دار وہ فتنے میں پڑچکے ہیں اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرنے والا ہے۔

اس کے بعد ایک منافق کے بیان کردہ عذر کا تذکرہ کیا اور فرمایا (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اءْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ ) اور ان میں سے ایک شخص ایسا بھی ہے جو یوں کہتا ہے کہ مجھے جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے معالم التنزیل (ص 299 ج 2) میں لکھا ہے کہ جد بن قیس ایک منافق تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے غزوۂ تبوک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کیا تجھے رومیوں سے جنگ کرنے میں رغبت ہے ؟ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میرا حال یہ ہے کہ عورتوں سے مجھے عشق ہے اور عورتوں کو دیکھ کر قابو میں نہیں رہتا رومیوں کی گورے رنگ کی لڑکیاں دیکھ کر مجھ سے صبر نہ ہوگا آپ مجھے یہیں رہنے کی اجازت دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے۔ میں مال سے امداد کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس نے یہ بہانہ تلاش کیا تھا اور منافقت کے سوا اس کی کوئی معذوری نہ تھی۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا اور اس کو اجازت دے دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا) (خبر دار وہ فتنہ میں پڑچکے ہیں) اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لانا اور منافقت اختیار کرنا یہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔ (وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ بالْکٰفِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ جہنم کافروں کو اپنے گھیرے میں لینے والا ہے) یہ ان کے اس فتنہ کی سزا ہے جس میں وہ پڑچکے ہیں۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر آپ کو اچھی حالت پیش آجائے تو انہیں بری لگتی ہے، اور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچ جائے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا کام سنبھال لیا تھا اور پشت پھیر کر خوش ہوتے ہوئے چل دیتے ہیں۔

منافقین کی بد باطنی کا مزید تذکرہ ان آیات میں منافقین کی مزید بدباطنی کا اظہار فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ ایمان کے مدعی ہیں کہنے کو آپ کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اندر سے ان کا یہ حال ہے کہ اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پہنچ جائے مثلاً دشمن کے مقابلہ میں کامیابی ہوجائے مال غنیمت مل جائے تو انہیں یہ بات بری لگتی ہے وہ اس سے نا خوش ہوتے ہیں کہ آپ کو دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو یا کسی بھی طرح کی کوئی خیر مل جائے۔ اور اگر آپ کو کبھی کوئی تکلیف پہنچ گئی تو اپنی سمجھداری کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم کیسے اچھے رہے، ہم نے پہلے ہی احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا ان کے ساتھ لگتے تو ہم بھی مصیبت میں پڑتے، یہ باتیں کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس ہوتے ہیں اور خوش ہوتے ہوئے پشت پھیر کر چل دیتے ہیں، مومن کی شان تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہر حال میں رہے، خوشحالی میں بھی آپ کا ساتھی ہو اور مصیبت میں بھی۔ روح المعانی (ص 114 ج 10) میں بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ منافقین غزوۂ تبوک کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہ گئے وہ لوگوں سے کہتے رہے کہ بس جی محمد ﷺ اور ان کے ساتھی تو بڑی مصیبت میں پڑگئے۔ بڑی مشقت کا سفر اختیار کیا۔ اب یہ ہلاک ہو کر رہیں گے۔ پھر جب انہیں یہ خبر ملی کہ دشمن مرعوب ہوگیا اور آپ صحیح سالم اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ واپس تشریف لا رہے ہیں تو انہیں یہ برا لگا۔ اس پر آیت شریفہ (اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْ ) نازل ہوئی۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اس کے علاوہ ہمیں تکلیف نہ پہنچے گی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

اس کے بعد فرمایا (قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا) یعنی آپ ان سے فرما دیجیے کہ ہمیں وہی حالت پیش آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر فرما دی ہے۔ خوشحالی خوبی اور بہتری ہو یا کسی قسم کا کوئی حادثہ ہوجائے یا دکھ تکلیف سے دو چار ہوجائیں یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے مقرر اور مقدر ہے۔ (ھُوَ مَوْلٰنَا) اللہ وہ ہمارا مددگار ہے ہمارا ولی ہے ہم اس کی قضاء اور قدر پر راضی ہیں۔ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ اور ہماری ہر حالت میں اس نے خیر رکھی ہے۔ فتح و ظفر ہوجائے۔ مال غنیمت مل جائے تو یہ بھی خیر ہے اگر تکلیف پہنچ جائے تو اجر وثواب کے اعتبار سے وہ بھی خیر ہے اور ہم میں سے جو لوگ جام شہادت نوش کرتے ہیں یہ بھی خیر ہے۔ (وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) اور مومنین ہمیشہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں اپنے سارے امور اللہ ہی کے سپرد کریں اور اسی سے خیر و خوبی اور خوشحالی کی امید رکھیں۔ مومنین کا بھروسہ صرف اللہ پر ہے۔ وہ اسباب بھی اختیار کرلیتے ہیں لیکن بھروسہ اسباب پر اور ہتھیاروں پر اور اپنی قوت اور طاقت پر نہیں کرتے۔ اسباب کو اختیار کرنا تقدیر اور تو کل کے خلاف نہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے تو کل بھی سکھایا اور اسباب بھی اختیار فرمائے اور اسباب اختیار کرنے کا حکم بھی دیا آپ نے جو فرمایا اور جو کر کے دکھایا اہل ایمان اسی کو اختیار کرتے ہیں نہ ترک اسباب کریں اور نہ اسباب پر بھروسہ رکھیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں بأن یفوضوا الامر الیہ سبحانہ و لا ینافی ذلک التشبث بالاسباب العادیۃ اذا لم یعتمد علیھا (اس طرح کہ معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کردیں اور معروف اسباب اختیار کرنا اس کے منافی نہیں ہے جب کہ اسباب پر بھروسہ نہ ہو) (ص 115 ج 10)
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تم ہمارے بارے میں یہی انتظار کرتے ہو کہ ہمیں دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی مل جائے اور ہم تمہارے بارے میں یہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ تم پر اپنے پاس سے کوئی عذاب بھیج دے یا ہمارے ہاتھوں سے عذاب دے دے، سو تم انتظار کرو۔ بلاشبہ ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہیں۔

پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ) (الآیۃ) کہ اے منافقو ! دنیا میں دو ہی حالتیں ہیں جو انسانوں کو پیش آتی رہتی ہیں ایک اچھی صورت حال دوسری تکلیف دہ حالت، تم ہمارے بارے میں انہیں دونوں حالتوں کے منتظر رہتے ہو کہ دیکھو آگے ان کو بہتر حالت پیش آتی ہے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے تو دونوں ہی حالتیں فائدہ کی ہیں۔ فتح و ظفر نصیب ہوجائے مال غنیمت مل جائے اور کسی بھی طرح کی بہتری سے اللہ تعالیٰ ہمیں نواز دے تو یہ بھی ہمارے لیے بہتر ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف دہ صورت پیش آجائے تو ہمارے لیے وہ بھی خیر ہے۔ ہمارے افراد مقتول ہوتے ہیں تو شہادت کا درجہ پاتے ہیں اور ہمیں ہر حال میں ہر مصیبت پر اجر ملتا ہے۔ ہمارے لیے ہر صورت حال بہتر ہے اور ہم ہر حال میں نفع میں ہیں۔ اور یہ بھی سمجھ لو کہ جیسے تم ہمارے بارے میں حالات کے ساز گار یا نا ساز گار ہونے کے منتظر رہتے ہو ہم بھی تمہارے بارے میں منتظر ہیں لیکن ہمارے اور تمہارے انتظار میں فرق ہے۔ تم تو ہمارے بارے میں دو بہتر صورتوں میں سے کسی ایک بہتری کے منتظر رہتے ہو (جیسا کہ اوپر مذکور ہوا) لیکن ہم تمہارے بارے میں اسی کے منتظر ہیں کہ ہمیں استعمال کیے بغیر اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے یا ہمارے ہاتھوں تم کو عذاب دے۔ اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور سمجھ لو کہ انجام کے طور پر تمہاری ہی بربادی ہوگی۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے ہرگز تم سے قبول نہ کیا جائے گا، بلاشبہ تم نافرمان لوگ ہو۔

منافقین کا مال مقبول نہیں، جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم سے ہیں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ آیت (قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا) جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جس نے کہا تھا کہ میں رومیوں کی عورتیں دیکھ کر بےصبر ہوجاؤں گا۔ اس لیے مجھے ساتھ نہ لے جائیے لیکن مال کے ذریعہ آپ کی مدد کر دوں گا۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ قبول نہ ہونے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مال لے کر آؤ گے تو اللہ کے رسول ﷺ قبول نہ فرمائیں گے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثواب نہ دے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ دونوں ہی معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ (اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ) بیشک تم نافرمان لوگ ہو۔ آیت کا سبب نزول خواہ جدبن قیس ہی کا واقعہ ہو لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں جو تمام منافقین کو شامل ہیں۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے صدقات قبول کیے جانے سے کوئی چیز اس کے سوا مانع نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر سستی کے ساتھ اور خرچ نہیں کرتے مگر نا گواری کے ساتھ،

اس کے بعد منافقین کے کفر اور نماز میں سستی اور خرچ کرنے میں بد دلی کا تذکرہ فرمایا (وَ مَامَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقٰتُھُمْ اِلَّآ اَنَّھُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَ بِرَسُوْلِہٖ ) (ان کے صدقات کو قبول ہونے سے منع کرنے والی کوئی چیز اس کے علاوہ نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا) اور کفر کے ساتھ کوئی عمل مقبول نہیں۔ اور گو وہ اسلام کے مدعی ہیں اور کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا کفر ان کے ڈھنگ سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ نماز جو ایمان کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے اور جو ایمان کی سب سے بڑی اور سب سے پہلی علامت ہے اس کے لیے آتے ہیں تو سستی کے ساتھ ہارے جی آتے ہیں۔ گویا کہ ان پر بہت بڑی مصیبت آگئی۔ چونکہ دل سے نماز پڑھتے نہیں۔ دکھانے کے لیے پڑھتے ہیں اس لیے بد دلی کا اثر اس طرح بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نمازوں میں دیر سے آتے ہیں اور اس طرح سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رکوع سجدہ ٹھیک طرح ادا نہیں کرتے، جلدی جلدی نمٹانے کی دھن میں رہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے جو بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس میں زردی آجاتی ہے۔ اور شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے۔ یعنی جلدی جلدی سجدہ کرلیتا ہے اس میں بس اللہ کو ذرا یاد کرتا ہے۔ (رواہ مسلم) (ملاحظہ فرمائیے انوار البیان ج 2) یہ تو ان کی نماز کا حال ہے اور جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقعہ آتا ہے تو مسلمانوں کو دکھانے کے لئے بددلی کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔ جب ایمان نہیں تو آخرت کا یقین بھی نہیں لہٰذا مال خرچ کرنے پر ثواب کی امید بھی نہیں۔ جب ثواب کی امید نہیں تو خوش دلی سے خرچ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، لا محالہ بد دلی سے خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں، اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں دنیا والی زندگی میں ان چیزوں کے ذریعہ عذاب دے اور یہ کہ ان کی جانیں اس حال میں نکل جائیں کہ کفر کی حالت میں ہوں۔

اس کے بعد فرمایا (فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَ لَآ اَوْلَادُھُمْ ) (الآیہ) (کہ ان کے مال او اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں) کیونکہ یہ چیزیں مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں ہیں۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں مردود ہوتے تو ان کے اموال اور اولاد میں کثرت کیوں ہوتی۔ یہ کثرت بطور استدراج ہے جو ان کے لیے باعث عذاب ہے۔ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں ان چیزوں کے ذریعہ انہیں عذاب دے) پہلا عذاب تو یہ ہے کہ مال جمع کرنے میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں، مصیبت جھیلتے ہیں اور اس میں اللہ کی رضا کا ذرا دھیان نہیں کرتے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جو تکلیف اٹھائی جائے وہ ہلکی اور آسان ہوجاتی ہے۔ نیز یہ مال ان کے لیے اس لیے بھی دنیا میں عذاب بنے ہوئے ہیں کہ اسلام کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے شرما کر تھوڑی زکوٰۃ بھی دے دیتے ہیں اور جہاد میں بھی خرچ کرتے ہیں جس سے ان کا دل دکھتا ہے۔ یہ دل کا دکھنا بھی عذاب ہے۔ ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے خرچ کرتے تو یہ خرچ کرنا خوشی کا باعث بن جاتا۔ اور اولاد کے ذریعہ دنیا میں عذاب دیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ اولاد کی پرورش اور پر داخت میں بہت تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اور اس تکلیف پر کسی ثواب کی امید نہیں پھر بعض مرتبہ ان کے بیٹے جہاد میں مقتول ہوجاتے ہیں اور اس قتل پر بھی رنجیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے شہادت کے ثواب کا یقین نہیں رکھتے۔ پھر فرمایا (وَ تَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) اور اللہ چاہتا ہے کہ ان کی جانیں اس حال میں نکل جائیں کہ وہ کافر ہوں۔ (تاکہ آخرت کے عذاب میں بھی گرفتار ہوں) اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ رہتے ہیں اس کی کتاب سنتے ہیں معجزات دیکھتے ہیں، پھر بھی ایمان نہیں لاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان لانے کا ارادہ نہیں فرمایا۔ اب کفر پر ہی مریں گے۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

وہ لوگ قسم کھاتے ہیں کہ بلاشبہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو ڈرتے ہیں،

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر انہیں کوئی پناہ کی جگہ یا کوئی غار مل جائے یا گھس بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ حاصل ہوجائے تو پیٹھ پھیر کر جلدی سے اسی کی طرف دوڑے چلے جائیں۔

پھر منافقین کی قسموں کا ذکر فرمایا (وَ یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ ) (اور ان کا یہ طریقہ ہے کہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں) سچے مومن کو اپنے ایمان پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اہل ایمان اس کے حالات اور معاملات اور احوال و اعمال اور برتاؤ کو دیکھ کر ہی اسے مومن سمجھتے ہیں اور منافقین کا رنگ ڈھنگ بتاتا ہے کہ یہ اندر سے مومن نہیں ہیں اس لیے اہل ایمان اس سے بچتے ہیں اور انہیں اپنا نہیں سمجھتے لہٰذا بار بار قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَمَا ھُمْ مِّنْکُمْ ) (اور تم میں سے نہیں ہیں) ۔ (وَ لٰکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ ) (لیکن بات یہ ہے کہ وہ ڈرنے والے لوگ ہیں) وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ایمان کا دعویٰ نہ کریں تو ہمارے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو مشرکین اور یہود کے ساتھ ہوا۔ اب جبکہ مدینہ دارالاسلام بن گیا اور کافر ہو کر جینے کا موقعہ نہ رہا۔ تو جھوٹ موٹ ایمان کا دعویٰ کردیا تاکہ جان مال محفوظ رہے اور جو منافع مسلمانوں سے حاصل ہوتے ہیں وہ حاصل ہوتے رہیں۔ ڈر پوک آدمی کھل کر سامنے نہیں آسکتا۔ اس لیے ان لوگوں نے ایمان کا جھوٹا دعویٰ کردیا اور قسموں کے ذریعہ باور کر انے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں تاکہ مسلمانوں کی زد سے بچے رہیں۔ پھر منافقین کی قلبی بےتعلقی کا تذکرہ فرمایا کہ انہیں کوئی دوسرا ٹھکانہ میسر نہیں، اس لیے تم سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں اور تمہاری جماعت کی طرف منسوب ہوتے ہیں اگر انہیں کوئی ٹھکانہ مل جائے جس میں پناہ لے سکیں یا کوئی غار مل جائے جس میں چھپ سکیں یا داخل ہونے کے لیے دوسری جگہ مل جائے تو تیزی کے ساتھ اس میں چلے جائیں گے اور تمہاری طرف سے نظریں پھیر لیں گے۔ اور پوری طرح طوطا چشمی اختیار کرلیں گے۔ تم سے انہیں بالکل بھی قلبی تعلق نہیں ہے۔ ایمان کا جھوٹا دعویٰ کر کے اور قسمیں کھا کے تمہیں مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں، سو اگر اس میں سے ان کو دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو اس میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہوجاتے ہیں

منافقین کا صدقات کے بارے میں طعن کرنا اور اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم پر راضی نہ ہونا درمنثور (ص 250 ج 3) میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقعہ پر غنیمت کے اموال تقسیم فرمائے تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ یہ تو ایسی تقسیم ہے جس کے ذریعہ اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا (العیاذ باللہ) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا، اور آیت (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ) نازل ہوئی۔ جن لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت رچی ہوئی ہوتی ہے وہ مال ہی سے خوش ہوتے ہیں دین و ایمان اور اعمال صالحہ اور جہادفی سبیل اللہ سے خوش نہیں ہوتے انہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ ہمیں نعمت اسلام مل گئی اور اعمال صالحہ کی دولت نصیب ہوگئی بلکہ حب دنیا کی وجہ سے وہ دنیا ملنے ہی کے منتظر رہتے ہیں، دنیا مل گئی تو خوش، اور نہ ملی تو نا خوش۔ منافقوں کے دلوں میں چونکہ ایمان نہیں تھا اور دنیا کے منافع ہی کے لیے جھوٹے منہ سے اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کردیا تھا اس لیے مال نہ ملنے پر ان کا موڈ خراب ہوجاتا تھا۔ اسی کو فرمایا (فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا) (سو اگر ان کو صدقات میں سے مال دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں) (وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ ) (اور اگر ان کو ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت ناراض ہوجاتے ہیں) طالب دنیا کو بس مال چاہئے جو فانی ہے اور ایمان اور اعمال صالحہ کے مقابلہ میں حقیر چیز ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہلاک ہو دینار کا غلام اور درہم کا غلام اور چادر کا غلام اگر کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائے۔ یہ شخص ہلاک ہو اور اوندھے منہ گرے اور جب اسے کانٹا لگ جائے تو خدا کرے اس کا کانٹا نہ نکلے۔ (رواہ البخاری)
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور ان کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اس پر راضی ہوں جو اللہ نے اور اس کے رسول نے انہیں دیا اور وہ یوں کہیں کہ اللہ ہمیں کافی ہے۔ عنقریب اللہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول بیشک ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔

غور کرو رحمۃ للعالمین ﷺ نے طالب دنیا کو کیسی بد دعا دی منافقوں کا حال بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ) (اور ان کے لیے بہتر تھا کہ جو کچھ اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں دیا اس پر راضی ہوتے اور یوں کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے عنقریب اللہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول دے گا۔ اور یوں بھی کہنا چاہئے تھا کہ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں) بات یہ ہے کہ مومن آدمی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اسی سے امیدیں باندھے رکھتا ہے تھوڑا مال جو اللہ کی طرف سے مل جائے اس پر بھی راضی رہتا ہے۔ اور منافق تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا۔ برکتوں سے واقف نہیں ہوتا اللہ سے لو نہیں لگاتا، ہر وقت مال ہی کی طلب اور حرص میں لگا رہتا ہے۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات صرف فقراء کے لیے اور مساکین کے لیے اور ان کارکنوں کے لیے ہیں جو صدقات پر متعین ہیں اور ان لوگوں کے لیے ہیں جن کی دلجوئی کرنا منظور ہو اور گردنوں کے چھڑانے میں، اور قرض داروں کے قرضہ میں اور اللہ کے راستہ میں، اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ حکم اللہ کی طرف کیا ہوا ہے اور اللہ علیم ہے اور حکیم ہے۔

زکوٰۃ کے مصارف کا بیان صدقات سے یہاں زکوٰۃ مفروضہ مراد ہے اور اس کو جمع اس لیے لایا گیا کہ زکوٰۃ متعدد اموال پر واجب ہوتی ہے۔ چاندی، سونا، مال تجارت، اونٹ، گائے بکریاں، ان سب پر زکوٰۃ فرض ہے۔ بشرطیکہ نصاب پورا ہو۔ آیت شریفہ میں زکوٰۃ کے مستحقین کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں۔ اور لفظ اِنَّمَا سے آیت کو شروع فرمایا ہے جو حصر پر دلالت کرتا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ مستحق زکوٰۃ ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جن کا ذکر اس آیت میں فرمایا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے مال زکوٰۃ میں سے عطا فرمانے کا سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے اموال کے بارے میں نبی یا غیر نبی کسی کا فیصلہ بھی منظور نہیں فرمایا، بلکہ خود ہی فیصلہ فرمایا اور آٹھ مصارف متعین فرما دیئے۔ اگر تو ان آٹھ مصارف میں سے ہے تو میں دے سکتا ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 161) اول تو فقراء کو زکوٰۃ کا مستحق بتایا اور اس کے بعد مساکین کا مستحق ہونا بیان فرمایا۔ فقراء فقیر کی جمع ہے اور مساکن، مسکین کی جمع ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ موجود ہو مگر نصاب زکوٰۃ سے کم ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ مال زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں فقیر اور مسکین دونوں ہی مال زکوٰۃ کے مستحق ہیں البتہ بعض دیگر مسائل میں فرق کا اعتبار کیا گیا ہے مثلاً کسی نے وصیت کی کہ میرا اتنا مال مسکینوں کو دے دیا جائے تو یہ مال مساکین کو ملے گا فقراء کو نہیں ملے گا۔ اور ایک فرق اور بھی ہے اور وہ یہ کہ فقیر کو سوال کرنے کی اجازت نہیں۔ جبکہ اس کے پاس کھانے کو ایک دن کی خوراک موجود ہو اور تن ڈھکنے کو کپڑا بھی ہو اور مسکین کو سوال کرنے کی اجازت ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ مال کی وہ کتنی مقدار ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا جائز نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس کے پاس ایک دن کے صبح و شام کے کھانے کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کچھ موجود ہو اس کو سوال کرنا درست نہیں ہے (رواہ ابو داؤد ص 230 ج 1) اور مسکین بھی ضرورت پوری کرنے کے لیے وقتی طور پر سوال کرلے اس کو عادت نہ بنائے جب مانگنے کی عادت پڑجاتی ہے تو مسکین، مسکین نہیں رہتا۔ وہ بہت سے مالداروں سے بھی مال میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور فقر و مسکنت کی حدود سے نکل کر بھی زکوٰۃ اور دیگر صدقات لیتا رہتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ پیسے والے کے لیے اور قوت والے تندرست آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقات میں مالدارکا اور تندرست کا جو کمائی کرسکتا ہو کوئی حصہ نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 161) جو لوگ زکوٰۃ کے مستحق ہیں ان میں تیسرے نمبر پر (الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا) کا ذکر فرمایا۔ عاملین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں امیر المومنین صدقات اور عشر وصول کرنے پر مقرر کر دے۔ ان لوگوں کو ان کی مشغولیت کی وجہ سے صدقات میں سے اتنا مال دے دے جو ان کی محنت اور عمل کی حیثیت کے مطابق ہو نیز جو لوگ ان کے ماتحت کام کرنے والے ہوں ان کی تنخواہیں بھی ان کی محنت کے انداز سے دے دی جائیں۔ البتہ فقہاء نے یہ فرمایا ہے کہ جو مال وصول ہو اس کے نصف تک عاملین اور ان کے معاونین کی تنخواہیں دی جاسکتی ہیں۔ نصف سے زائد مال نہ دیا جائے۔ مصارف زکوٰۃ بتاتے ہوئے چوتھے نمبر پر (مُؤَلَّفَۃِ الْقُلُوْبِ ) کو ذکر فرمایا ان کے بارے میں ہم انشاء اللہ آئندہ صفحات میں کلام کریں گے۔ مصارف زکوٰۃ بتاتے ہوئے پانچویں نمبر پر (وَ فِی الرِّقَابِ ) فرمایا۔ رقاب، رقبہ کی جمع ہے۔ یہ لفظ مملوک کے لیے بولا جاتا ہے۔ جس کسی شخص کی ملکیت میں کوئی غلام ہو اور وہ اس غلام کو مکاتب بنا دے یعنی یوں کہہ دے کہ تو اتنا مال دیدے تو آزاد ہے۔ اسے مکاتب کہتے ہیں جب کسی آقا نے اپنے غلام کو مکاتب بنا دیا اور اب اسے اپنی آزادی کے لئے مال کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے آقا کو مال دے کر آزاد ہوجائے تو اس مکاتب کو زکوٰۃ کے مال سے دینا جائز ہے۔ چھٹے نمبر پر (اَلْغَارِمِیْنَ ) فرمایا۔ یہ غارم کی جمع ہے اس سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جن کے ذمہ قرض ہو اور ادائیگی کا انتظام نہ ہو۔ اگرچہ خود لوگوں پر ان کے قرضے ہوں لیکن ان کو وصول کرنے سے عاجز ہوں، ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا مال دیاجا سکتا ہے۔ فتاویٰ عالم گیری (ص 188 ج 1) میں میں لکھا ہے کہ قرض دار کو زکوٰۃ دینا تاکہ اس کا قرضہ ادا ہوجائے عام فقراء کو دینے سے اولیٰ ہے، البحرا لرائق میں لکھا ہے کہ جس آدمی پر قرضہ ہو اس کی ملکیت میں اتنا مال نہ ہو جس سے قرضہ ادا کرنے کے بعد بقدر نصاب مال بچ جائے۔ اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے 1 ھ۔ بہت سے لوگوں پر قرضے ہوتے ہیں لیکن مال بھی پاس ہوتا ہے اس مال سے قرضے ادا کردیں تو قرضے ادا ہو کر بھی بقدر نصاب بلکہ اس سے بھی زیادہ مال بچ سکتا ہے ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ لوگوں کو یہ بتا کر کہ ہم مقروض ہیں زکوٰۃ لیتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا مال لینا حلال نہیں ہے اور نہ ان کو دینا جائز ہے۔ مستحقین زکوٰۃ کو بیان فرماتے ہوئے ساتویں نمبر پر (وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) فرمایا۔ فی سبیل اللہ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں امام ابو یوسف نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جو جہاد کرنے کے لیے نکلے تھے۔ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور ان کے پاس خرچ نہیں ہے۔ کھانا پینا بھی ہے اور وطن بھی پہنچنا ہے۔ ان کو زکوٰۃ کا مال دے دیا جائے۔ امام محمد نے فرمایا ہے کہ فی سبیل اللہ سے حجاج مراد ہیں جو قافلہ سے بچھڑ گئے اور ان کے پاس مال نہیں ہے اور انہیں خرچ کرنے کے لیے اور گھر پہنچنے کے لیے پیسہ کی ضرورت ہے۔ اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس سے طالب علم مراد ہیں جو دینی علوم کے حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور صاحب بدائع نے فرمایا ہے اس سے وہ سب لوگ مراد ہیں جو کسی بھی صورت میں اللہ کی اطاعت میں اور نیک کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ بشرطیکہ وہ محتاج ہوں۔ (بحر الرائق ص 260 ج 2) مستحقین زکوٰۃ بتاتے ہوئے آٹھویں نمبر پر (وَابْنِ السَّبِیْلِ ) فرمایا۔ ابن السبیل عربی زبان میں مسافر کو کہتے ہیں جو مسافر ضرورت مند ہے اس کے پاس سفر میں مال موجود نہیں ہے۔ اسے زکوٰۃ کا مال دیا جاسکتا ہے اگرچہ اس کے گھر میں کتنا ہی مال ہو۔ جو لوگ غازیوں کی جماعت سے بچھڑ گئے یا حجاج کے قافلہ سے علیحدہ ہوگئے حاجت مندی کی وجہ سے ان کو بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ ان کے احتیاج کو دیکھا جائے گا۔ ان کے گھروں میں اگرچہ خوب زیادہ مال ہو۔ البتہ یہ لوگ وقتی ضرورت سے زیادہ نہ لیں۔ (مُؤَلَّفَۃِ الْقُلُوْبِ ) وہ لوگ تھے جنہیں نبی اکرم ﷺ تالیف قلب کے لیے اموال زکوٰۃ میں سے عطا فرمایا کرتے تھے، یہ لوگ اپنے قبائل کے سردار اور ذمہ دار تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے سے ان کے قبیلوں کے اسلام قبول کرنے کی امید تھی۔ اور ان میں ایک قسم وہ تھی جنہیں دفع شر کے لیے مال عنایت فرماتے تھے اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے تاکہ وہ دین اسلام پر جمے رہیں اور پختہ ہوجائیں۔ علامہ ابن ہمام نے فتح القدیر میں مؤلفۃ القلوب کی یہ تین قسمیں لکھی ہیں۔ اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ کسی غیر مسلم کو آنحضرت ﷺ نے تالیف قلب کے لیے مال زکوٰۃ سے کچھ نہیں دیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک مؤلفۃ القلوب کی تینوں قسموں کو اب اموال زکوٰۃ میں سے نہ دیا جائے ان کا حصہ ختم ہوگیا۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں۔ و قد سقط منھا المؤلفۃ قلوبھم لأن اللہ تعالیٰ اعز الاسلام و اغنی عنھم کہ مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہوگیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا اور ان کی طرف سے بےنیاز فرما دیا۔ جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا کہ یہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے۔ بعض ائمہ کے نزدیک بعض شرائط سے اب بھی ان کو مال زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے امیر المؤمنین مناسب جانے تو اب بھی ان کو اموال زکوٰۃ میں سے دے سکتا ہے۔ مسئلہ : جو شخص غنی ہو یعنی اس کی ملکیت میں اموال زکوٰۃ میں سے کسی بھی قسم کا کوئی نصاب ہو جس کا وہ مالک ہو یا ضرورت سے زیادہ اتنا سامان اس کی ملکیت میں ہو جو فروخت کر دے تو بقدر نصاب قیمت مل جائے اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ سادات کو زکوٰۃ دینے کا مسئلہ : بنی ہاشم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ اگرچہ وہ فقراء اور مساکین ہوں بنی ہاشم سے حضرت علی، حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت حارث بن عبدالمطلب ؓ کی اولاد اور اولاد الاولاد مراد ہے۔ 1 ؂ اگر بنی ہاشم تنگدست حاجتمند ہوں زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کے علاوہ دیگر اموال سے ان کی مدد کردی جائے بہت سے لوگوں کو سادات کی غریبی دیکھ کر رحم تو آتا ہے لیکن زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے مال سے دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ مال میں زکوٰۃ تو 40؍1 ہی فرض ہے۔ باقی 40؍39 میں سے خرچ کرنا بھی تو ثواب ہے۔ لیکن اس کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ہوتے اور سادات کو اپنے اموال کا میل یعنی زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں اس میں ان کی بےادبی بھی ہے اور اس سے زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی۔ بعض سادات بھی اس مسئلہ کو سن کر دل میں کچھ تکدر لے آتے ہیں۔ اور بنی ہاشم کے لیے مال زکوٰۃ ناجائز ہونے کے قانون شرعی کو اچھا نہیں سمجھتے۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے جد اعظم نبی اکرم ﷺ نے ہمارے اکرام و احترام کے لیے یہ قانون بنایا ہے کہ بنی ہاشم کو اموال کا میل کچیل نہ دیا جائے۔ جد امجد نے تو ان کی توقیع کی اور وہ رنجیدہ ہو رہے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے اموال کا میل نہ ملا۔ دنیا حقیر ہے فانی ہے تھوڑی سی تکلیف اٹھا لیں اپنے شرف کو باقی رکھیں اور میل کچیل سے گریز کریں۔ اور یوں تکلیفیں تو سبھی کو آتی ہیں۔ صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاریں، اپنے نام کے ساتھ سید کا لفظ بڑھانے کو اور اپنے نسب کو اچھالنے کو تو تیار ہیں۔ لیکن اس نسب کی وجہ سے جو شرف دیا گیا ہے اسے اپنانے کو تیار نہیں۔ مسئلہ : اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینے میں دہرا ثواب ہے ایک زکوٰۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ جب انہیں زکوٰۃ دے تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ مال زکوٰۃ ہے بلکہ ہدیہ کہہ کر پیش کر دے اور اپنے دل میں زکوٰۃ کی نیت کرلے اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ بشرطیکہ وہ لوگ زکوٰۃ کے مستحقین ہوں۔ لیکن اتنی بات یاد رہے کہ جن رشتہ داروں سے رشتہ ولادت ہے۔ ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں یعنی والدین کو، دادا دادی کو، نانا نانی کو، اور پڑ دادا اور پڑ دادی کو اور پرنانا پر نانی کو اور اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی، ان کو دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی بھائیوں کو، بہنوں کو چچاؤں کو پھوپھیوں کو ماموؤں خالاؤں کو اور ان کی اولاد کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ مسئلہ : شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوٰۃ دے دے تو اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ مسئلہ : جو شخص اموال زکوٰۃ میں سے کسی نصاب کا مالک ہو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور یہ شخص شریعت کی اصطلاح میں غنی ہے اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جس غنی کو زکوٰۃ کا مال لینا اور دینا جائز نہیں۔ ضروری نہیں کہ اموال زکوٰۃ ہی میں سے کوئی چیز بقدر نصاب اس کی ملکیت میں ہو۔ بلکہ 1 ؂ و لا یدفع الی بنی ہاشم و ھم آل علی و آل عباس و آل جعفر و آل عقیل و آل الحارث بن عبدالمطلب کذا فی الھدایۃ و فی المشکوٰۃ ص 161 عن عبدالمطلب بن ربیعہ قال رسول اللہ ﷺ ان ھذہ الصدقات انماھی اوساخ الناس و انھا لا تحل لمحمد و لا لاٰل محمد رواہ مسلم و فی حاشیۃ المشکوٰۃ اِنَّمَا سماھا اوساخاً لانھا تطھر اموالھم و نفوسھم قال تعالیٰ خذمن اموالھم صدقۃ تطھرھم و تزکیھم بھا فھی کغسالۃ الاوساخ ففی الکلام تشبیۃ بلیغ 12 من المرقاۃ (اور زکوٰۃ بنی ہاشم کو نہ دی جائے اور بنی ہاشم حضرت علی، حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ہے۔ عبدالمطلب بن ربیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ صدقات تو لوگوں کی میل ہے اور یہ (حضرت) محمد ﷺ اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ہیں۔ اور مشکوٰۃ کے حاشیہ میں مرقاۃ سے نقل کیا ہے کہ زکوٰۃ کو میل اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ لوگوں کے مالوں اور ان کے دلوں کو پاک کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان کے مالوں سے زکوٰۃ لو جس سے تو انہیں پاک کر دے اور ان کا تزکیہ کر دے۔ تو زکوٰۃ میل کے دھو ون کی طرح ہوگئی پس اس کلام میں بڑی بلیغ تشبیہ ہے) ۔ اگر کسی کے پاس چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر ضروری حاجات سے فاضل سامان پڑا ہوا ہے۔ اس شخص کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور ایسے شخص پر اگرچہ زکوٰۃ فرض نہیں لیکن صدقہ فطر اور قربانی لازم ہے۔ بعض لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بعض مرتبہ زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی لیکن زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہوتا جس کی مثال اوپر گزری۔ نصاب زکوٰۃ : سونے چاندی پر اور ان کی قیمت پر اور مال تجارت پر اور مویشیوں پر زکوٰۃ فرض ہے۔ جب کسی شخص کی ملکیت میں 595 گرام چاندی ہو یا 85 گرام سونا ہو یا ان دونوں سے کسی ایک کی قیمت ہو تو جب سے مالک ہوا ہے اس وقت سے لے کر چاند کے حساب سے ایک سال گزر جائے تو اس میں سے 40؍1 مستحقین کو دے دینا فرض ہے۔ پھر اگر کچھ مال تجارت ہو اور کچھ سونا چاندی ہو یا کچھ سونا اور ساتھ ہی کچھ چاندی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ فرض ہے بشرطیکہ مجموعے کی قیمت 595 گرام چاندی کو پہنچ جائے۔ اس صورت میں بھی چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا واضح رہے کہ نوٹ بھی چاندی کے حکم میں ہے کسی بھی ملک کے نوٹ اگر کسی کی ملکیت میں ہوں جن کے عوض 595 گرام چاندی خریدی جاسکتی ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے اگر کسی کی ملکیت میں نہ چاندی ہو اور نہ نقد رقم (ایک دو روپیہ بھی ملکیت میں نہ ہو) تو 85 گرام سونا ملکیت میں ہونے سے زکوٰۃ فرض ہوگی۔ احادیث شریفہ میں دو سو درہم چاندی اور بیس مثقال سونے کا نصاب بتایا ہے، علمائے ہند نے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے ملک کے سکہ کے اعتبار سے حساب کیا تھا تو دو سو درہم چاندی کے ساڑھے باون تولہ اور بیس مثقال سونے کے ساڑھے سات تو لے بنتے تھے۔ اب نئے اوزان سے حساب کیا تو چاندی کا نصاب 595 گرام اور سونے کا نصاب 85 گرام ہوا۔ تنبیہ : یہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ساڑھے سات تولہ سونے سے زیادہ سونا ہو تو اس زائد پر زکوٰۃ فرض ہوگی یہ غلط ہے، جب نصاب پورا ہوجائے یا اس سے زیادہ ہوجائے تو پورے مال پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے (چاندی ہو یا سونا ہو یا مال تجارت ہو یا ان کا مجموعہ ہو) زکوٰۃ کے ضروری مسائل مسئلہ : سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰۃ ہے خواہ سکہ کی صورت میں ہو، خواہ ان کی اینٹیں رکھی ہوں۔ خواہ زیور ہو، استعمال میں ہو یا غیر استعمالی ہو، خواہ برتن ہوں۔ بہر صورت ان پر زکوٰۃ فرض ہے۔ مسئلہ : زمین کی پیداوار، باغ کی پیداوار اور مویشیوں میں بھی زکوٰۃ ہے جس کی تفصیلات کتب فقہ میں لکھی ہیں۔ اور پیداوار کی زکوٰۃ کے بارے میں ضروری مسائل سورة بقرہ کی آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ) کی تفسیر میں بیان کردیئے گئے ہیں۔ (انوار البیان ج 1) مسئلہ : زکوٰۃ کی رقم کسی کافر کو نہیں دی جاسکتی۔ مسئلہ : مدرسوں میں اگر زکوٰۃ دی جائے اور اس میں سے مستحقین طلباء کو وظیفہ دے دیا جائے یا ان کو کھانا دے کر مالک بنا دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اباحت کے طور پر کھانا کھلا دیا جائے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ اسی طرح مال زکوٰۃ سے مدارس کے کتب خانوں میں مال زکوٰۃ سے کتابیں جمع کردینا طلباء کے لیے لحاف، بسترے اور چار پائیاں جمع کردینا اور ان کو عاریتاً دے دینا اور جاتے وقت واپس لے لینا اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کیونکہ تملیک نہیں ہوئی۔ ان چیزوں کے لیے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کے علاوہ اصحاب اموال سے مستقل چندہ کرلیا جائے۔ مسئلہ : کسی مریض کے علاج کی فیس یا ایکسرے وغیرہ کی اجرت بالا مال زکوٰۃ سے ادائیگی کردی جائے اور مریض کو قبضہ نہ کرایا جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ کیونکہ تملیک نہیں ہوتی۔ مسئلہ : اگر مال زکوٰۃ سے دوائیں خرید کر ہسپتال میں رکھ دی جائیں اور مستحقین زکوٰۃ کو دے دی جائیں تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ یہ خیال رکھا جائے کہ یہ دوائیں صاحب نصاب کو اور بنی ہاشم کو اور کافر کو نہ دی جائیں۔ مسئلہ : اگر کوئی شخص مقروض ہے اور صاحب نصاب نہیں ہے اور اس کے کہنے سے (کہ مجھ پر جو قرض ہے وہ ادا کر دو ) کوئی شخص اس کی طرف سے قرض خواہ کو مال زکوٰۃ دے دے۔ تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اور اگر قرضدار کے کہے بغیر اس کی طرف سے مال زکوٰۃ سے قرضے کی ادائیگی کے طور پردے دیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں صاحب مال متبرع ہوگیا۔ مسئلہ : اگر دکاندار یا کسی بھی شخص کا کوئی شخص مقروض ہو اور اس کے پاس ادائیگی کے لیے مال نہ ہو تو جس کا قرضہ ہے وہ اپنے قرضہ کو زکوٰۃ میں منہا نہیں کرسکتا۔ ہاں یہ کرسکتا ہے کہ قرضدار کو بلا کر زکوٰۃ کی رقم اس کے ہاتھ میں دیدے۔ پھر اس سے اسی وقت اپنے قرضہ میں وصول کرلے جب اس کی ملکیت میں مال پہنچ گیا تو اب زبردستی بھی وصول کرسکتے ہیں کیونکہ قرض خواہ کو اپنا قرضہ وصول کرنے کا حق ہے۔ مسئلہ : اگر کسی کو ثواب کے طور پر مال دے دیا اور ادائیگی زکوٰۃ کی نیت نہ کی تو اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ مستحق کو دیتے وقت زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کرے اور ایک طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال ادائیگی زکوٰۃ کی نیت سے دوسرے مال سے الگ کر کے کسی بکس وغیرہ میں رکھ لے اور یہ نیت کرے کہ فقراء آتے رہیں گے تو اس میں سے دیتا رہوں گا اس صورت میں فقراء کو دیتے وقت نیت کا استحضار نہ ہوا تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ مال علیحدہ کرتے وقت جو نیت کی تھی وہی کافی ہوگئی۔ مسئلہ : جس شخص کو زکوٰۃ دی جائے کسی عمل کے عوض میں نہ ہو لہٰذا امام مؤذن اور مدرس اور کسی بھی ملازم کی تنخواہ میں زکوٰۃ میں زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ البتہ (الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا) اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ قرآن مجید میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مسئلہ : جنہیں امیر المؤمنین نے زکوٰۃ کے اموال وصول کرنے پر مامور کردیا ان کے علاوہ جتنے بھی مصارف ہیں ان سب میں اس شخص کا غیر صاحب نصاب ہونا ضروری ہے جس کو زکوٰۃ دی جائے۔ فی البحر الرائق (ص 259 ج 2) وانما حلت للغنی (العامل) مع حرمۃ الصدقۃ علیہ لأنہ فرّغ نفسہ لھذا العمل فیحتاج الی الکفایۃ و فیہ ایضاً بعد صفحۃ و لا یخفی أن قید الفقیر لا بدمنہ علی الوجوہ کلھا۔ (بحر الرائق میں ہے مالدار پر زکوٰۃ کے حرام ہونے کے باو جود، مالدار عامل کے لیے زکوٰۃ میں سے لینا جائز ہے اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے فارغ کیا ہے لہٰذا وہ ضرورت کی کفالت کا محتاج ہے اور ایک صفحہ کے بعد لکھا ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مصارف میں فقیر والی قید کا ہونا ضروری ہے) تنبیہ : لفظ ” وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ لغوی ترجمہ کے اعتبار سے تو بہت عام ہے لیکن حضرات ائمہ تفسیر اور فقہاء کرام نے اس کو عام نہیں لیا اسی لیے بعض حضرات نے اس سے وہ مجاہدین مراد لیے ہیں جو اپنے ساتھیوں سے رہ جائیں اور پیسہ پاس نہ ہو اور بعض حضرات نے وہ لوگ مراد لیے ہیں جو سفر حج میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں بعض اہل علم نے یہ اشکال کیا ہے کہ اگر ان کی ملکیت میں مال نہ ہو تو فقراء میں شمار ہونگے اور اگر وطن میں مال ہو اور یہاں موجود نہ ہو تو ابن السبیل میں داخل ہوگئے لہٰذا کل اقسام سات بنتے ہیں (اور ان کو یعنی منقطع الغزاۃ منقطع الحاج کو مختلف قسم بنا کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی) پھر اس کا جواب یوں دیا کہ کہ واقعی یہ لوگ فقیر کی تعریف میں داخل ہیں لیکن علیحدہ ان کو اس لیے بیان فرمایا کہ مطلق فقیر کی بہ نسبت ان کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ مجاہد اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کے لیے نکلا ہوا ہے اور حاجی بیت اللہ کے زائرین میں سے ہے۔ ان کی طرف زیادہ دھیان دینا چاہئے۔ آج کل ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو تفسیر قرآن اور احکام و مسائل کے بارے میں سلف کا دامن چھوڑ کر جو چاہتے ہیں اپنے پاس سے کہہ دیتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ فی سبیل اللہ کے عموم میں مسجدیں، مدرسے شفا خانے مسافر خانے کنوئیں سڑکیں اور پل بنانا اور رفاہی اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں دینا۔ دفتروں کے مصارف میں خرچ کرنا میت کو قبرستان پہنچانے کے لیے ایمبولینس کا انتظام کرنا اور غریب میت کے کفن دفن میں خرچ کرنا یہ سب جائز ہے۔ یہ ان لوگوں کی جہالت کی باتیں ہیں۔ مفسرین اور محدثین اور فقہاء نے جو کچھ قرآن مجید کو سامنے رکھ کر اخذ کیے ہیں ان کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے قول کی کوئی حیثیت نہیں جو عربی زبان کا ایک صیغہ بھی نہیں بتاسکتے اور جو قرآن مجید کی ایک سورت بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے۔ یہ لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں، زکوٰۃ کا مال جہاں چاہو خرچ کرو۔ تملیک فقیر کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات چاروں مذہبوں کے خلاف ہے۔ اگر ہر کام میں زکوٰۃ کا مال خرچ کرنے کی اجازت ہوتی تو قرآن مجید میں آٹھ قسمیں بتانے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جب یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ان سے فرمایا تھا۔ ان اللہ قد فرض علیھم صدقۃ تؤخذ من اغنیا ءھم فترد علی فقراء ھم۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں کو دے دی جائے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ ص 155) اس سے صاف ظاہر ہوا کہ زکوٰۃ اس صورت میں ادا ہوگی جب فقراء کو دے دی جائے۔ جو لوگ تملیک کی شرط کو مولویا نہ اپچ قرار دیتے ہیں ان کے سامنے احادیث نہیں ہیں۔ آراء اور اھواء کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ مسئلہ : چاندی۔ سونا۔ نقدی اور مال تجارت میں جو زکوٰۃ فرض ہے اس کی ادائیگی کا یہ طریقہ ہے کہ ہر سال چاند کے حساب سے جب سال گزر جائے پورے مال سے چالیسواں حصہ دے دے اگر اصل مال نہ دے اور اس کی قیمت دیدے تو اس سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی 40؍1 سے کم نہ ہو۔ سو روپے میں ڈھائی روپے اور ایک ہزار میں 25 روپے اور ایک لاکھ میں ڈھائی ہزار روپے کے موافق حساب لگا لیا جائے۔ مسئلہ : جس شہر میں رہتے ہوئے زکوٰۃ فرض ہوئی ہے وہاں کی زکوٰۃ وہیں کے فقراء پر خرچ کی جائے۔ ہاں اگر دوسری جگہ کے لوگ زیادہ محتاج ہوں یا اعزہ و اقربا ہوں تو ان کے لیے بھیج دینا مناسب ہے ! مسئلہ : بعض لوگ حج کرنے کے لیے چندہ مانگتے پھرتے ہیں اور بعض صاحب حیثیت انہیں زکوٰۃ کی رقم سے دے دیتے ہیں جب ایک دو آدمی کے دے دینے سے سوال کرنے والا صاحب نصاب ہوگیا تو اب اسے زکوٰۃ لینا دینا جائز نہیں۔ لوگ اس بات کا بالکل خیال نہیں کرتے۔ جس کسی پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض نہیں کیا وہ حج کے نام پر سوال کرتا پھرے اولاً تو یہ طریقہ ہی غلط ہے دوسرے جب مانگنے والا صاحب نصاب ہوگیا تو اب اس کو زکوٰۃ لینا جائز نہیں رہا۔ مسئلہ : بہت سے لوگ لڑکیوں کی شادیوں کے لیے زکوٰۃ کی رقم دے دیتے ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی سادی کیوں نہیں کی جاتی ؟ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اختیار کریں اور اسی پر دونوں فریق راضی رہیں۔ اصل نکاح تو ایجاب و قبول کا نام ہے جو دو گواہوں کے سامنے ہو اس میں ذرا سا خرچہ بھی نہیں ہوتا پھر ایجاب و قبول کے بعد جو بیٹی والے کو میسر ہو وہ بطور جہیز لڑکی کے سسرال میں روانہ کر دے اس میں خیر ہی خیر ہے۔ ریا کاری کی گنا ہگاری میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر لڑکی کا باپ صاحب نصاب ہو تو اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے اور اگر لڑکی صاحب نصاب ہو تو اسے بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں پھر اگر صاحب نصاب نہ ہونے اور غیر بنی ہاشم ہونے کی بنیاد پر زکوٰۃ دی جائے تو ایک دو آدمی کے دینے سے بقدر نصاب ملکیت میں مال آجاتا ہے۔ جب تک وہ مال ملکیت میں رہے گا اس وقت تک زکوٰۃ لینا دینا جائز نہیں ہوگا۔ مسئلہ : بعضی قوموں میں رواج ہے کہ اپنی قوم کی زکوتیں وصول کر کے بینک میں جمع کرتے رہتے ہیں اور اس مسئلہ کا بالکل دھیان نہیں رکھتے کہ جب تک یہ مال فقراء اور مساکین کی ملکیت میں نہیں جائے گا اس وقت تک ان سب لوگوں کی زکوٰتیں ادا نہ ہوں گی جنہوں نے یہ رقمیں دی ہیں لہٰذا جلد سے جلد مصارف زکوٰۃ میں ان کو خرچ کردینا لازم ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بینک دیوالیہ ہوگیا یا بنک پر کسی حکومت نے قبضہ کرلیا۔ یا ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تو ان سب صورتوں میں ان سب لوگوں کی زکوتوں کی ادائیگی رہ جاتی ہے۔ جن کے اموال لے کر بینک میں جمع کردیئے گئے تھے۔ مسئلہ : جو لوگ سوال کرنے کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں عموماً صاحب نصاب ہوتے ہیں۔ چھوٹے موٹے دکانداروں سے ان کی ملکیت میں زیادہ پیسہ ہوتا ہے۔ لہٰذا سوال کرنے والوں کو زکوٰۃ دینے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر کسی سائل کو زکوٰۃ دیں تو پہلے یقین کرلیں کہ یہ مستحق زکوٰۃ ہے۔ صحیح بخاری (ص 200 ج 1) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرتا ہے۔ اسے ایک لقمہ یا دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجوریں واپس کرتی ہیں لیکن مسکین وہ ہے جو اتنا مال نہیں پاتا جس سے اس کی ضرورت پوری ہو اور اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ نہیں چلتا تاکہ اس کو صدقہ دے دیا جائے۔ وہ کھڑے ہو کر لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ واقعی حاجتمند کو تلاش کر کے زکوٰۃ کا مال دیا جائے۔ بہت سے لوگ بہت زیادہ حاجت مند ہوتے ہیں آبرو کی وجہ سے سوال نہیں کرتے اور ننگے بھوکے گھروں میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ایسے لوگوں کا خاص خیال کیا جائے یہ واضح رہے کہ زکوٰۃ بھی نماز کی طرح سے فرض ہے۔ جس طرح نماز کے احکام و مسائل کا جاننا اور نماز کو شرعی قواعد کے مطابق پڑھنا طہارت کے لیے پاک پانی کا دیکھنا استنجا ٹھیک کرنا، کپڑوں کا پاک رکھنا، قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔ اور جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں صحیح طریقے پر ان کو یاد کرنا لازم ہے اسی طرح سے زکوٰۃ کے مسائل اور احکام کا جاننا بھی ضروری ہے، زکوٰۃ کا مال جس کو چاہا دے دیا جس مصرف میں چاہا خرچ کردیا جس انجمن میں چاہا جمع کردیا۔ زکوٰۃ ادا ہو یا نہ ہو۔ یہ فرض کی ادائیگی کا طریقہ نہیں۔ مال حلال کماؤ حلال مواقع میں خرچ کرو۔ زکوٰۃ فرض ہوجائے تو ٹھیک حساب سے ادا کرو اور جس کو دو اس کے بارے میں پہلے یقین کرلو کہ یہ مستحق زکوٰۃ ہے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ لوگ ہیں جو نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بس وہ تو کان ہیں آپ فرما دیجیے کہ وہ تمہارے لیے خیر کا کان ہیں۔ وہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور یقین کرتے ہیں مومنین کی بات کا، اور وہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہیں جو تم میں سے مومن ہیں، اور جو لوگ اللہ کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

منافقین نبی اکرم ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اور مؤمنین کو راضی کرنے کے لیے قسمیں کھاتے ہیں منافقین چونکہ دل سے مؤمن نہیں تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ کے حق میں نازیبا کلمات بھی کہتے رہتے تھے۔ سامنے آتے تو قسمیں کھا کر کہتے کہ ہم مسلمان ہیں۔ آیت بالا ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پیچھے بد گوئی کرتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ یہ تو تکلیف دینے والی باتیں ہیں رسول اللہ ﷺ کو پہنچ جائیں گی تو ان کو تکلیف ہوگی تو اس پر ان میں سے بعض لوگوں نے یوں جواب دیا کہ کوئی بات نہیں ہے ان کو راضی کرنا اور سمجھانا آسان ہے وہ تو بس ” کان “ ہیں۔ یعنی جو کہو سن لیتے ہیں اور باور کرلیتے ہیں اگر کوئی ہماری بات پہنچے گی تو ہم دوسری بات کہہ دیں گے۔ اور وہ اس کو سن کر یقین کرلیں گے۔ روح المعانی میں محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ ایک منافق نبتل بن حارت تھا۔ جو بد صورت بھی تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی باتیں سن کر منافقین کے پاس لے جاتا تھا۔ اس کا مقصد خیر نہیں تھا بلکہ چغل خوری مقصود تھی اور منافقین کو یہ بتانا تھا کہ دیکھو تمہارے بارے میں ایسے ایسے مشورے ہو رہے ہیں جب اس سے کہا گیا کہ ایسا نہ کر تیرے طرز عمل سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوگی تو اس پر اس نے کہا کہ ان کو سمجھانا آسان ہے وہ تو ہر بات سن لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں ان کی شخصیت تو بس کان ہی کان ہے۔ یعنی وہ نہ تکذیب کرتے ہیں نہ غور و فکر کرتے ہیں۔ اول تو آپ کی مجلس کی باتیں بطور چغل خوری کے نقل کرنا اور پھر اوپر سے آپ کے بارے میں یہ کہنا کہ العیاذ باللہ وہ کچھ غور و فکر نہیں کرتے ہر بات سن لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں اور ہر الزام دینا کہ انہیں اونچ نیچ کی کچھ خبر نہیں اس میں کئی طرح سے تکلیف دینا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا (قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّکُمْ ) وہ خیر کی بات سنتے ہیں اور جس چیز کے سننے میں اور قبول کرنے میں خیر ہے وہ اس پر کان دھرتے ہیں تم نے یہ جو سمجھا ہے کہ ہم جو بھی بات کہیں گے آپ اس پر یقین لے آئیں گے اور ہماری شرارت کا احساس نہ ہوگا۔ یہ تمہاری سفاہت اور حماقت ہے۔ مزید فرمایا (یُؤْمِنُ باللّٰہِ ) کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔ (وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) اور ایمان والوں کی بات کا یقین کرتے ہیں، جو مخلص مؤمن ہیں وہ ان کو جانتے ہیں اور ان کی باتوں کو سنتے اور مانتے ہیں ( اور منافقین کے طور طریق سے بیخبر نہیں ہیں) ارے منافقو ! تم جو یہ سمجھتے ہو کہ ہماری ہر بات سن لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں اور آپ کو حقیقت حال کا پتہ نہیں چلتا یہ تمہارا جھوٹا خیال ہے۔ پھر فرمایا (وَ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ) کہ آپ کی ذات گرامی تم میں سے ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو ایمان لائیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ) سے منافقین مراد ہیں۔ مومنین مخلصین مراد نہیں اور مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ ظاہر کردیا کہ ہم مومن ہیں ان کی بات سن لیتے ہیں ان کی تصدیق کی وجہ سے نہیں بلکہ بطور شفقت سن لیتے ہیں پھر ان کے بھید نہیں کھولتے اور پردہ دری نہیں کرتے (لہٰذا منافقوں کو اس دھوکہ میں نہیں رہنا چاہئے کہ چونکہ آپ سب کچھ سن لیتے ہیں اس لیے ہم جو چاہیں گے کہہ دیں گے ہماری شرارت کا پتہ نہ چلے گا) پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌاَلِیْمٌ) (جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے) اس میں عذاب دنیوی یا عذاب اخروی کی قید نہیں ہے دونوں جہاں میں عذاب ہونے کی وعید ہے۔ دنیا میں بھی یہ لوگ عذاب میں مبتلا ہوئے دربار نبوی ﷺ سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے اور آخرت کا جو عذاب ہے وہ تو ہر کافر کے لیے مقرر ہی ہے۔
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کرلیں اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ انہیں راضی کریں اگر یہ لوگ مومن ہیں

پھر منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ فرمایا (یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ) (وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں) منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ طرح طرح کی باتیں کرتے اور اپنی باتوں سے منحرف ہوجاتے تھے۔ پھر چونکہ زیادہ تر واسطہ عامۃ المسلمین سے پڑتا تھا اس لیے انہیں راضی رکھنے کے لیے بار بار قسمیں کھا کر ان سے اپنا تعلق ظاہر کرتے تھے تاکہ یہ لوگ انہیں اپنے سے جدا نہ سمجھیں۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) (اور اللہ اور اللہ کا رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو راضی کیا جائے)
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

، کیا ان لوگوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ جو شخص اللہ کی اور ان کے رسول کی مخالفت کرے اس کے لیے دوزخ کا عذاب ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔

ظاہری طور پر بندوں کو راضی کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ اگر واقعی مومن ہوتے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو راضی کرتے ان کی نافرمانی سے بچتے۔ ایسا کرنے سے اہل ایمان بھی راضی ہوجاتے۔ لیکن چونکہ دنیا کے طالب ہیں اس لیے مسلمانوں سے ظاہری میل ملاپ اور رکھ رکھاؤ کے لیے قسمیں کھا جاتے ہیں اور اندر جو کفر اور نفاق بھرا ہوا ہے اسے نہیں چھوڑتے پھر بطور زجر اور توبیخ کے فرمایا (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) (الآیۃ) (کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ عذاب بڑی رسوائی ہے) یہ لوگ دنیاوی رسوائی سے بچتے ہیں اور انہیں آخرت کی رسوائی سے بچنے کا دھیان نہیں ہے۔