Ayahs 9:23–24اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے باپ، بھائی، بیوی، کنبہ، قبیلہ، مکان، دکان، آل اولاد کی کوئی حقیقت نہیں
گزشتہ آیات میں جہاد اور ہجرت کی فضیلت بیان فرمائی۔ جب ہجرت کا حکم ہوا تھا اس وقت ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن ہجرت کرنے میں پس و پیش کرتے تھے اور ہجرت کی ہمت کرنے سے عاجز بنے ہوئے تھے۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ معالم التنزیل (ص 276 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا ( اور یہ وہ وقت تھا جبکہ مدینہ منورہ ہی دارالاسلام تھا اور مدینہ منورہ کو ہجرت کرنا فرض تھا) تو بعض لوگوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا اہل و عیال نے ان کو ہجرت کرنے سے روکا اور انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں ضائع نہ کریں ان کی یہ بات سن کر ان پر ترس آگیا اور ہجرت کا ارادہ چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہ آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا) (الآیۃ) نازل فرمائی۔
اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہارے باپ اور بھائی اگر کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں انہیں کفر محبوب ہے تو انہیں دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ محبت اور دوستی کے لائق نہیں ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ بھی ایمان قبول کرلیتے اور تمہارے ساتھ ہجرت کرتے اب وہ کافر ہیں اور تم مومن ہو، تمہارا دین تو قبول کرتے نہیں اور یوں کہتے ہیں کہ تم ہجرت کر کے جاؤ گے تو ہم ضائع ہوجائیں گے، جو لوگ اللہ کے فرمانبر دار نہیں بنتے حق کو قبول نہیں کرتے وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے دوستی کی جائے۔ وہ تو ایمان قبول کرنے کو تیار نہیں اور تم ان پر اتنے مہربان ہو رہے ہو کہ ان کی وجہ سے ہجرت (جو فرض ہے اور ایمان کا جزو ہے) نہیں کرتے وہ تو ایمان پر نہیں آتے اور تم ان کے لیے اپنا ایمان ضائع کر رہے ہو ! یہ تو تمہاری اپنی جانوں پر ظلم ہوا۔ اس آخری بات کو یوں بیان فرمایا (وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی رکھیں تو وہ لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں) یعنی ان سے دوستی رکھنا جبکہ ان کو کفر محبوب ہے ظلم کی بات ہے اور یہ اپنی جانوں پر ظلم ہے۔ جب ایمان لے آئے اللہ کے ہوگئے تو اللہ کے حکموں کے سامنے کوئی تعلق اور کوئی رشتہ داری لائق توجہ نہیں جو اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے روکے، مومن کا اپنا وہی ہے جو اللہ کا فرمانبر دار ہو جو اللہ کا نہیں ہے وہ ہمارا بھی نہیں ہے۔
بزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کو آشنا باشد
جب آیت بالا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا) نازل ہوئی تو بعض وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ہجرت نہیں کی تھی کہنے لگے کہ اگر ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہمارے مال ضائع ہوجائیں گے اور تجارتیں ختم ہوجائیں گی اور گھر ویران ہوجائیں گے اور رشتہ داریاں کٹ جائیں گی اس پر دوسری آیت (قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ ) (الآیۃ) نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ص 277 ج 2) جس میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ اعلان کروا دیا کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بیویاں اور کنبہ اور تمہارے مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور وہ تجارت جس میں تم مشغول ہو اور ہجرت کرنے کی وجہ سے اس کے نا کام ہونے کا تمہیں ڈر ہے اور رہنے کے گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ چیزیں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ محبوب ہیں۔ تو تم اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ یہ دنیاوی چیزیں تمہیں ہجرت سے روک رہی ہیں یہ تمہارے لیے عذاب کا باعث ہیں یہ جو عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت میں تو بہرحال ترک ہجرت کرنے پر عذاب ہے ہی۔ اگر اس حالت میں مرگئے کہ ہجرت نہ کی جبکہ اس کے بغیر ایمان مقبول نہیں۔ قال صاحب الروح أی بعقوبتہ سبحانہ لکم عاجلا او اجلا علی ما روی عن الحسن (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی اپنے اوپر اللہ کے غضب سے ڈرو جلدی آئے یا دیر سے۔ حضرت حسن سے جو مروی ہے اس کے مطابق یہی مطلب ہے) (ص 71 ج 1)
سورۂ نساء (آیت 58) میں ہجرت پر قدرت ہوتے ہوئے ہجرت نہ کرنے والوں کے لیے (فَاُولٰءِکَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآءَ تْ مَصِیْرًا) فرمایا ہے اللہ کی وعید پر نظر نہ رکھنا اور رشتہ داریوں اور تجارتوں اور گھروں کا دھیان رکھنا اور ان کی محبت میں جہاد اور ہجرت کو چھوڑ دینا یہ ایمان سے بھی دور ہے اور عقل سے بھی۔
آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ) اور جو لوگ فاسق ہیں اللہ کی فرمانبر داری نہیں کرتے کافروں سے دوستی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نہیں دے گا کہ وہ اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے نفع اور ضرر کو سمجھیں۔ دنیا کو اللہ کی رضا کے مقابلہ میں جو ترجیح دی اس کی سزا میں ان کا یہ حال ہوا۔
فائدہ : ایمان قبول کرنے کے بعد ایمان کے تقاضے انسان کو شرعی احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ شرعی احکام میں بہت سی ایسی چیزیں آجاتی ہیں جو نفس پر گراں ہوتی ہیں ان میں سے ہجرت بھی ہے جہاد بھی ہے حرام مال کا چھوڑنا بھی ہے۔ شریعت کے مطابق اپنوں سے قطع تعلق کرنا بھی ہے اور بہت سے امور ہیں جو نفس کو نا گوار ہیں۔ جو لوگ یہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ومالک ہے اور اس کا حق سب سے زیادہ ہے اور مال بھی اس نے دیا ہے اور رشتہ داریاں بھی اسی نے پیدا فرمائی ہیں انہیں اسلامی احکام پر عمل کرنے میں کچھ بھی دشواری نہیں ہوتی وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے اندر تین چیزیں ہوں گی ان کی وجہ سے وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا۔
پہلا : وہ شخص جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔
دوسرا : وہ شخص جو کسی بندہ سے صرف اللہ ہی کے لیے محبت کرے۔
تیسرا : وہ شخص جسے اللہ نے کفر سے بچا دیا وہ واپس کفر میں جانے کو ایسا ہی برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ (رواہ البخاری ص 7 ج 1)
نیز حضرت انس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (رواہ البخاری ص 7 ج 1)
ایمان کی مٹھاس سے یہ مراد ہے کہ طاعات اور عبادات میں لذت محسوس ہونے لگے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کرنا آسان ہوجائے۔
فائدہ : محبت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک محبت طبعی جس میں اختیار نہیں ہوتا اور دوسری محبت اختیاری یہ محبت عقلی ہوتی ہے اوپر جس محبت کا تذکرہ ہوا اس سے محبت اختیاری مراد ہے چونکہ غیر اختیاری امور کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف نہیں بنایا (اور طبعی محبت اختیاری نہیں ہے) اس لیے اوامر شرعیہ میں محبت عقلی اور اختیاری ہی مراد ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں طبعی طور پر آل اولاد اور رشتہ داروں کی اور مال کی محبت ہو تو اس پر مواخذہ نہیں ہے بشرطیکہ یہ طبعی محبت عقلی اور اختیاری محبت پر غالب نہ آجائے۔ یعنی طبعی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی پر آمادہ نہ کر دے۔ ایمانی تقاضوں کا پورا کرنا بعض مرتبہ آل اولاد، مال اور دکانداری کی محبت کی وجہ سے دشوار ہوجاتا ہے اور غیر اللہ کی محبت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر لگ جاتے ہیں۔ بچوں کو خوش کرنے کے لیے تصویریں خرید دیں۔ گھر میں ٹیوی لے آئے انہیں غیر شرعی لباس پہنا دیا ان کی رواجی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے رشوت لے لی۔ ان کے لیے زیادہ مال فراہم کرنے کی نیت سے سود لے لیا۔ حرام محکموں میں ملازمت کرلی یا کسی طرح کے گناہوں میں ملوث ہوگئے۔ دوستوں کو خوش کرنے کے لیے داڑھی مونڈ لی، نصرانی لباس پہن لیا حرام کمائی والے کی دعوت کھالی یہ ہوتا رہتا ہے۔ اور ایسے مواقع میں عقلی ایمانی محبت اور طبعی محبت میں مقابلہ کی صورت بن جاتی ہے۔ عموماً لوگ طبعی محبت سے مغلوب ہوجاتے ہیں اور ایمانی تقاضوں کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
(اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ ) کے عموم میں اس طرح کی سب باتیں آجاتی ہیں۔ بہت سے نیک بندوں کو ایمانیات کی محنتیں کرتے ہوئے اور جنت کا یقین رکھتے ہوئے اعمال صالحہ انجام دیتے ہوئے یہ مقام حاصل ہوجاتا ہے کہ طبعی محبت بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ مقام بہت مبارک ہے اور برتر وبالا ہے۔ زہے نصیب جسے حاصل ہوجائے۔
Ayah 9:25غزوۂ حنین میں مسلمانوں کو کثرت پر گھمنڈ ہونا اور اس کی وجہ سے اولاً شکست کھا کر بھاگنا پھر اللہ تعالیٰ کا مدد فرمانا
ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا کہ اللہ نے بہت سے مواقع میں تمہاری مدد فرمائی۔ پھر خصوصیت کے ساتھ غزوۂ حنین میں مدد فرمانے کا واقعہ یاد دلایا۔ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ مکہ فتح ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ بنی ہوازن کی طرف تشریف لے گئے۔ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ بہت بڑی جماعت تھی، بعض صحابہ کے منہ سے نکل گیا کہ آج ہم کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مسلمانوں کو اول شکست ہوئی اور بہت زیادہ پریشانی ہوئی اور چند افراد کے علاوہ سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی۔
غزوۂ حنین کا مفصل واقعہ :
اس واقعہ کی تفصیل اس طرح سے ہے کہ جب قبیلہ ہوازن کو یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا ہے تو مالک بن عوف نصری نے جو ان کا سردار تھا بنی ہوازن کو جمع کیا ان کے ساتھ بنو ثقیف بنو نصر بنو جشم بنو سعد بن بکر اور کچھ بنی ہلال میں سے جمع ہوگئے ان لوگوں کا ارادہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے قتال کریں، ان کے ارادوں کی خبر ملنے پر جب آپ نے ان کی طرف تشریف لے جانے کا ارادہ کیا تو مالک بن عوف نے اپنی جمعیت اور اپنے اموال اور عورتوں اور بچوں کو مقام حنین میں جمع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد أسلمی ؓ کو ان کی خبر لینے کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ تم ان کے اندر جا کر رہو اور صحیح حال معلوم کر کے ان کی خبر لے آؤ۔ حضرت عبداللہ بن أبی حدرد ؓ تشریف لے گئے اور ان میں داخل ہو کر ان کی خبریں لیں اور حالات معلوم کیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو صورت حال سے باخبر کیا اور بتایا کہ ان لوگوں کی نیت جنگ کرنے کی ہے۔ آپ نے مکہ معظمہ سے جب ان کے مقابلہ کے لیے سفر شروع فرمایا تھا تو آپ کے ساتھ دس ہزار افراد تو وہ تھے جو فتح مکہ کے لیے مدینہ منورہ سے ہمراہ آئے تھے اور دو ہزار آدمی مزید اہل مکہ میں سے ساتھ ہوگئے تھے۔ حضرت سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے اسی اثناء میں نماز ظہر کا وقت آگیا اس وقت ایک گھوڑ سوار آدمی آیا اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے آگے چلا گیا تھا میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھ گیا تو میں نے دیکھا کہ بنی ہوازن سب کے سب اپنی عورتوں اور اپنے اموال اور اپنے بکریوں کو لے کر حنین میں جمع ہوگئے ہیں آپ نے مسکرا کر فرمایا انشاء اللہ کل کو یہ سب مسلمانوں کے لیے مال غنیمت ہوں گے۔ آنے والی رات میں حضرت أنس ابن أبی مرثد چوکیداری کرتے رہے اور ادھر ادھر مختلف گھاٹیوں پر گھوڑے پر سوار ہو کر پھرتے رہے تاکہ دشمن کی خبر رکھیں۔
جب صبح ہوئی تو مسلمانوں کے لشکر اور بنی ہوازن کی جمعیت کا مقابلہ شروع ہوا۔ یہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ بعض مسلمانوں کی زبان سے یہ بات نکل گئی تھی کہ اس وقت ہماری تعداد بہت ہے افراد کی کمی کی وجہ سے آج شکست نہیں کھائیں گے۔ بنی ہوازن کے لوگ تیر اندازی میں بہت ماہر تھے۔ انہوں نے تیر اندازی شروع کی تو مسلمان پشت پھیر کر بھاگ لیے۔ دشمن کے مقابلہ میں صرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ چند افراد رہ گئے تھے جن میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ آپ برابر پکارتے رہے۔ اَیُّھَا النَّاسُ ھَلُمُّوٓا اِلَیَّ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ (اے لوگو ! میری طرف آجاؤ۔ میں رسول اللہ ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں) اس موقعہ پر رسول اللہ ﷺ سفید خچر پر سوار تھے اور بطور رجزیہ پڑھ رہے تھے۔
اَنَاَ النَّبِیُ لَا کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
(میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں)
اس موقعہ پر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور عرض کیا : اَللّٰھُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ (اے اللہ اپنی مدد نازل فرما) آپ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ لوگوں کو پکارو کہ اے انصار کی جماعت ادھر آؤ اے اصحاب شجرہ (جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کی تھی) ادھر آؤ یہ حضرات آواز سن کر لبیک لبیک کہتے رہے اور رسول اللہ ﷺ نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر مشرکین کی طرف پھینک دی اور فرمایا شاھت الوجوہ۔ 1 اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ کنکریاں دشمنوں کی آنکھوں میں پڑگئیں اور ان میں سے ایسا کوئی بھی باقی نہ رہا جس کی آنکھ میں مٹی نہ پڑی ہو۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بنی ہوازن اور ان کے ساتھ جمع ہونے والے قبائل کو شکست ہوگئی۔ ان میں بہت سے مقتول ہوئے اور بڑی تعداد میں قید کر کے خدمت عالی میں حاضر کیے گئے جن کی مشکیں بندھی ہوئی تھیں۔ ان لوگوں کے اموال اور عورتیں اور آل اولاد سب مسلمانوں کو بطور غنیمت مل گئے۔ (جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان کے اموال انشاء اللہ کل کو مسلمانوں کے لیے مال غنیمت ہوں گے) ۔
1 ان کی صورتیں بگڑ جائیں۔ 12
جن لوگوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول نہیں کیا تھا یوں ہی ساتھ چلے آئے تھے انہوں نے جب اللہ کی مدد دیکھی تو اس موقعہ پر اسلام قبول کرلیا۔
جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو فتح یابی نصیب فرمائی تو آپ نے مال غنیمت کو جس میں اونٹ، بکریاں اور غلام باندیاں سبھی تھے۔ مقام جعرانہ پر لے جانے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ وہاں لے جا کر سب جمع کردیئے جائیں اور حضرت مسعود بن عمرو انصاری کو ان اموال کو لے جانے کا ذمہ دار بنا دیا۔
مقام اوطاس میں مشرکین سے مقابلہ اور ان کی شکست :
اس کے بعد میدان سے بھاگنے والے دشمنوں کی ایک جماعت نے مقام اوطاس پر پڑاؤ ڈالا، اندازہ تھا کہ یہ لوگ جنگ کریں گے رسول اللہ ﷺ نے ان کے مقابلہ کے لیے حضرت ابو عامر ؓ کو بھیجا، ان سے جنگ ہوئی تو ان پر غلبہ پا لیا۔ لیکن حضرت ابو عامر ؓ وہیں شہید ہوگئے ان کے بعد ان کے چچا زاد بھائی حضرت ابو موسیٰ ؓ نے جھنڈا سنبھالا اور قتال کیا اللہ تعالیٰ نے فتح یابی نصیب فرمائی اور انہی کے ہاتھوں وہ شخص مقتول ہوا جس نے حضرت ابو عامر کو شہید کیا تھا۔ جنگ اوطاس کے موقعہ پر بھی مال غنیمت ملا جن میں مشرکین کی بہت سی عورتیں بھی تھیں۔
طائف کا محاصرہ پھر وہاں سے واپسی :
غزوہ حنین سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ طائف کی طرف روانہ ہوئے وہاں مالک بن عوف بنی ہوازن کا سردار اور اس کے ساتھی اور دوسرے لوگ قلعہ بند ہوگئے تھے رسول اللہ ﷺ نے چوبیس دن اور ایک روایت کے مطابق سترہ دن ان کا محاصرہ کیا قلعہ کے اندر رہتے ہوئے وہ لوگ تیر پھینکتے رہے اور باہر نہ آئے۔ مسلمانوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے منجنیق استعمال فرمائی اور اس کے ذریعہ قلعہ کے اندر پتھر پھینکے (یہ اس زمانہ میں پتھر پھینکنے کا ایک آلہ تھا، دور حاضر کی توپ اس کی ترقی یافتہ ایک شکل ہے) واقدی کا بیان ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے اپنے ہاتھ سے منجنیق بنائی تھی اور استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ جب فتح یابی کی کوئی صورت نہ بنی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم کل واپس ہوجائیں گے۔ چناچہ آپ اگلے دن وہاں سے واپس ہوگئے اور چلتے وقت یوں دعا کی۔
(اے اللہ ! ان کو ہدایت دے اور ہمارے لیے تو ہی کافی ہوجا (تاکہ ہمیں ان سے نبٹنا نہ پڑے) اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بنی ثقیف کا وفد (جو طائف کے رہنے والے تھے) آئندہ سال رمضان المبارک میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا اور پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا (یاد رہے کہ طائف والے وہی تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو زخمی کیا تھا۔ پھر بھی آپ انہیں ہدایت کی دعا دے کر تشریف لے آئے) ۔
جعرانہ میں تقسیم غنائم :
آپ طائف سے واپس ہوئے تو مقام جعرانہ میں پہنچے آپ کے ساتھ مسلمانوں کا لشکر عظیم تھا۔ وہاں پہلے سے غنیمت کے اموال بھیج دیئے تھے۔ جن میں بنی ہوازن کے قیدی بھی تھے۔ ان قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی جن میں بچے اور عورتیں بھی تھیں اور بہت بڑی بھاری تعداد میں اونٹ بھی تھے اور بکریاں بھی تھیں۔ آپ نے ان کو اپنے لشکر میں تقسیم فرما دیا۔ پھر ان کی درخواست پر غانمین سے اجازت لے کر ان کے قیدی واپس کردیئے کیونکہ بنی ہوازن نے اسلام قبول کر کے اس کی درخواست کی تھی۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا مالک بن عوف جو بنی ہوازن کا سردار تھا وہ طائف میں قلعہ بند ہوگیا تھا۔ آپ نے اس کو خبر بھیجی کہ اگر اسلام قبول کر کے میرے پاس آجائے تو اس کے کنبہ کے لوگ اور اس کا مال واپس کر دوں گا اور اس کو سو اونٹ بھی دے دوں گا جب مالک بن عوف کو یہ بات پہنچی تو اس نے اسلام قبول کرلیا اور آنحضرت ﷺ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کے اہل و عیال واپس کردیئے اور سو اونٹ بھی عنایت فرما دیئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا پھر مدنیہ منورہ عافیت اور سلامتی کے ساتھ تشریف لے آئے۔ (من البدایۃ و النہایۃ للحافظ ابن کثیر ص 322 تا ص 368 مختصر اً وملتقطا)
Ayah 9:26حنین میں فرشتوں کا نزول :
مسلمانوں کو اول شکست ہوئی۔ اور ایسی شکست ہوئی کہ زمین ان کے لیے تنگ ہوگئی اور سبب اس کا وہی ہوا کہ بعض مسلمانوں نے کہہ دیا کہ آج تو ہم تعداد میں بہت ہیں شکست کا احتمال ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور رسول اللہ ﷺ پر سکینہ نازل فرمایا اور سکون و اطمینان کے ساتھ دو بارہ جنگ کرنے لگے جس سے دشمنوں نے شکست کھائی۔
قرآن مجید میں غزوۂ حنین کا ذکر کرتے ہوئے (وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) بھی فرمایا (اور اللہ نے لشکر اتارے جنہیں تم نے نہیں دیکھا) صاحب معالم التنزیل (ص 281 ج 2) میں فرماتے ہیں یعنی : الملائکۃ قیل لا للقتال و لکن لتجبین الکفار و تشجیع المسلمین لأنہ یروی أن الملائکۃ لم یقاتلوا الایوم بدر (فرشتوں کا نزول بعض نے کہا قتال کے لیے نہیں تھا بلکہ اس لیے تھا کہ وہ کفار کو بزدل بنائیں اور مسلمانوں کو بہادر، کیونکہ مروی ہے کہ فرشتوں نے قتال صرف بدر میں کیا تھا) یعنی لشکروں سے فرشتے مراد ہیں۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ فرشتے جنگ کرنے کے لیے نہیں بلکہ کافروں کو بزدل بنانے کے لیے اور مسلمانوں کو دلیر کرنے کے لیے نازل کیے گئے تھے۔ کیونکہ یہ بات روایت کی جاتی ہے کہ فرشتوں نے بدر کے موقعہ کے علاوہ اور کسی موقعہ پر قتال میں حصہ نہیں لیا۔ صاحب روح المعانی ص 75 ج 10 نے بھی (جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) کی تفسیر فرشتوں سے کی ہے اور لکھا ہے کہ جمہور نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ فرشتوں نے بدر کے علاوہ کسی اور موقعہ پر قتال نہیں کیا وہ مومنین کے قلوب کی تقویت کے لیے اور مشرکین کے قلوب میں رعب ڈالنے کے لیے آئے تھے۔ پھر ایک قول یہ ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قتال بھی کیا تھا لیکن آخیر میں لکھا ہے و لیس لہ سند یعول علیہ یعنی اس کی کوئی سند معتمد نہیں۔
فرشتوں کے اتارنے کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا (وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) کہ اللہ نے کافروں کو عذاب دیا (جو مقتول ہوئے اور قیدی بنے) (وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ ) اور یہ کافروں کی سزا ہے۔ (جو دنیا میں ہے) اور آخرت میں جو سزا ہے وہ دنیاوی سزا کے علاوہ ہے جو کفر پر مرے گا وہاں دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔
Ayah 9:27آخر میں فرمایا۔ (ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشآءُ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) ۔
جو کافر مقتول ہوجائیں وہ تو دنیا کا عذاب یہیں چکھ لیتے ہیں اور آخرت کے دائمی عذاب کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قتل سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کو چاہے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے جو کفر چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ انہیں میں سے مالک بن عوف بھی تھا جو بہت بڑی جمعیت کو لے کر مقابلہ کے لیے حنین میں آیا تھا۔ جب شکست ہوئی تو طائف جا کر قلعہ بند ہوگیا لیکن آنحضرت سرور عالم ﷺ کا پیغام پہنچنے پر واپس آیا اور مسلمان ہوگیا آپ نے اس کو اس کی قوم پر عامل بھی بنا دیا۔ نیز اور بھی بہت سے بنی ہوازن کے لوگ مسلمان ہوئے جو جنگ میں قتل ہونے سے بچ گئے تھے۔ طائف میں جا کر آپ نے محاصرہ فرمایا پھر محاصرہ کے بعد واپس تشریف لے آئے بعد میں وہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔ اسلام کے بڑے بڑے دشمنوں نے اسلام قبول کیا اور مستحق جنت ہوئے۔ زمانہ کفر میں جو کیا تھا اللہ تعالیٰ نے سب معاف فرما دیا۔
مالک بن عوف نے اسلام قبول کر کے جو رسول اللہ ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے چند اشعار کہے اہل علم کی دلچسپی کے لیے نقل کیے جاتے ہیں :
ما ان رأیت و لا سمعت بمثلہ
فی الناس کلھم بمثل محمد
أوفی و أعطی للجزیل اذا اجتدی
و متی تشأ یخبرک عما فی غد
و اذا الکتیبۃ عردت أنیابھا
بالسمھری وضرب کل مھند
فکأنہ لیث علی أشبالہ
وسط الھباۃ خادر فی مرصد
جن کا ترجمہ یہ ہے :
(1) میں نے تمام لوگوں میں محمد ﷺ جیسا نہ دیکھا اور نہ سنا۔
(2) خوب زیادہ مال کثیر کا دینے والا جب کہ وہ سخاوت کرے اور جب تو چاہے تو تجھے اس بات کی خبر دیدے جو کل ہونے والی ہے (وہ جو آپ نے فرما دیا تھا کہ بنی ہوازن کے مال کل انشاء اللہ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت ہوں گے اس کی طرف اشارہ ہے)
(3، 4) اور جب لشکر اپنے دانتوں کو پیسنے لگے نیزوں کے ساتھ، اور ہر تلوار استعمال کرلی جائے، تو گویا وہ شیر ہے اپنے بچوں (کی نگرانی) پر غبار کے درمیان ہر گھات کی جگہ میں۔ ذکرھا الحافظ ابن کثیر فی البدایۃ ص 361 ج 4 و الخادر (بالخاء) الاسدالذی اختفی فی اجمتہ کما فی القاموس (اسے حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ذکر کیا ہے۔ الخادر اس شیر کو کہتے ہیں جو اپنی کچھار میں چھپا ہوا ہو)
Ayah 9:28مشرکین نجس ہیں مسجد حرام کے پاس نہ جائیں
یہ آیت بھی سورة برأت کی شروع کی ان چالیس آیات میں سے ہے جن کا اعلان 9 ھ میں حضرت علی ؓ کے ذریعہ حج کے موقعہ پر کرایا گیا تھا جس میں حضرت ابوبکر امیر الحج تھے۔ جن چیزوں کا اعلان کیا تھا۔ ان میں یہ بھی تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی شخص ننگا ہونے کی حالت میں طواف نہ کرے (جیسا کہ مشرکین کیا کرتے تھے) اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ ” مشرکین پلید ہی ہیں سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں۔ “ اس میں حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حکم دیا ہے کہ آئندہ مشرکین کو حج نہ کرنے دیا جائے، مسجد حرام میں نہ آنے دینے کا یہی مطلب ہے۔ اگر کسی کافر کو مسجد حرام میں یا کسی بھی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے تو حضرت امام صاحب کے نزدیک یہ جائز ہے۔ اور پلید ہونے سے مراد ان کی اندرونی نا پاکی یعنی عقائد شرکیہ اور کفریہ مراد ہیں۔ ہاں اگر ان میں کوئی مرد عورت جنابت والا ہو یا کوئی عورت حیض والی ہو یا جسم پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی ہو تو ان نجاستوں کی وجہ سے داخل نہ ہونے دیا جائے گا اور اس میں مومن اور کافر کا حکم ایک ہی ہے۔ دیگر ائمہ کا مذہب اس میں مختلف ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہ مذہب نقل کیا ہے کہ کسی کافر کو خواہ ذمی ہو یا ویزہ لے کر آیا ہو کسی بھی صورت میں مسجد حرام میں داخل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کافروں کی طرف سے کوئی قاصد آئے تو امام المسلمین مسجد سے باہر نکل کر اس سے گفتگو کرے۔
یہ تو ان حضرات کا مذہب مسجد حرام کے داخلہ کے بارے میں ہے۔ رہا دوسری مساجد کا مسئلہ تو حضرت امام شافعی دوسری مسجدوں میں کافر کے داخلہ کی اجازت دیتے ہیں اور امام مالک سے ایک روایت یہ ہے کہ تمام مسجدوں کا حکم برابر ہے کسی بھی مسجد میں کافر کا داخلہ جائز نہیں۔
حضرت امام ابوحنیفہ نے جو آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ کافروں کو حج اور عمرہ کرنے سے روکا جائے اور بعض حالات میں کافروں کے مسجد حرام میں داخل ہونے کی اجازت ہے اس کی دلیل میں حضرت جابر ؓ کا یہ ارشاد پیش کیا جاتا ہے جسے درمنثور (ص 226 ج 3) میں مصنف عبدالرزاق وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا الا أن یکون عبدا او أحدا من أھل الذمۃ (کہ مشرکین اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں مگر یہ کہ کوئی غلام ہو یا کوئی شخص ذمی ہو) اور یہ معلوم ہے کہ کافر مشرک ہونے میں غلام باندی اور ذمی اور دوسرے مشرکین سب برابر ہیں۔ جب غلام اور ذمی کو اجازت دے دی گئی تو معلوم ہوا کہ ہر کافر کے داخلہ کی اجازت ہے۔ البتہ اس بات کی ممانعت ہے کہ ان کو حج یا عمرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ حدیث بالا درمنثور میں موقوفاً ہی نقل کی ہے لیکن علامہ ابوبکر جصاص نے احکام القرآن (ص 89 ج 3) میں مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح نقل کی ہے پھر لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے دونوں طرح صحیح ہو۔ حضرت جابر نے بعض اوقات ارشاد نبوی کے طور پر نقل کردیا اور کبھی اپنی طرف سے فتویٰ دے دیا۔
مراسیل ابو داؤد میں ہے کہ بنی ثقیف کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے ان کے لیے مسجد کے آخری حصہ میں ایک قبہ لگوا دیا تاکہ وہ مسلمانوں کی نمازیں اور ان کا رکوع سجدہ دیکھیں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ آپ انہیں مسجد میں ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ زمین ناپاک نہیں ہوتی ابن آدم ناپاک ہوتا ہے۔ امام طحاوی نے اس واقعہ کو شرع معانی الآثار کے سب سے پہلے باب میں نقل کیا ہے۔ اس کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ فقال رسول اللہ ﷺ انہ لیس علی الارض من انجاس الناس شئ انما انجاس الناس علی أنفسھم (لوگوں کی نجاستوں میں سے زمین پر کچھ بھی نہیں ان کی نجاستیں ان کی اپنی جانوں پر ہیں) ۔
ثمامہ بن اثال کا واقعہ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ کافر کو مسجد میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ ثمامہ ایک شخص تھے جنہیں حضرات صحابہ ؓ گرفتار کر کے لے آئے تھے اور ان کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ (صحیح بخاری ص 66 ج 1)
(فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ) (الآیۃ) (مشرکین مسجد حرام کے قریب نہ جائیں) اس کی تصریح فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَ ) (اگر تم فقر سے ڈرتے ہو تو عنقریب اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اگر چاہے) ۔
اس کا سبب نزول بتاتے ہوئے درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ مشرکین جب حج کے لیے آتے تھے تو اپنے ساتھ غلہ (گیہوں، جو وغیرہ) بھی لے آتے تھے اور ان کو فروخت کرتے تھے۔ جب حج کے لیے ان کا آنا روک دیا گیا تو مسلمانوں نے کہا کہ اب ہمیں کفار کی چیزیں کہاں سے ملیں گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان سے وعدہ فرمایا کہ اللہ اگر چاہے تو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد سے بھی یہ بات منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ مسلمان کافروں سے اور ان اموال تجارت سے بےنیاز ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کے دوسرے دروازے کھول دیئے اور انہیں جو معاشی مشکلات کا اندیشہ تھا انہیں دور فرما دیا۔
Ayah 9:29اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم
سابقہ آیات میں مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم تھا۔ اس آیت میں اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم ہے۔ اسلام کا قانون ہے کہ کافروں سے جب جہاد کیا جائے تو اول ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو آگے کوئی جنگ نہیں۔ اب وہ اپنے ہوگئے ان سے جنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اب تو انہیں دین سکھائیں گے۔ اسلام کے احکام بتائیں گے اور نئے پرانے مسلمان سب اتحاد و اتفاق کے ساتھ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ کر چلیں گے۔ اگر کافر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم جزیہ دو یعنی ملک ہمارا ہوگا تم اس ملک میں رہو اور تمہاری جانوں کی ہم حفاظت کریں گے۔ اس حفاظت کے بدلہ ہمیں مال دینا ہوگا۔ اگر ملک پر کوئی حملہ آور ہوگا تو تمہیں ساتھ مل کر لڑنا ہوگا۔ اگر وہ اس کو قبول کریں تو بھی آگے لڑائی کا کوئی موقعہ نہیں یہ جو جانوں کی حفاظت کا بدلہ ہوگا اس کو جزیہ کہا جاتا ہے۔ یہ جزیٰ یجزی کا مصدر ہے، جو فعلۃ کے وزن پر ہے جزیہ کفر کی سزا کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہر شخص سے نہیں لیا جاتا اور سب سے برابر بھی نہیں لیا جاتا۔ جس کی کچھ تفصیل انشاء اللہ ابھی لکھی جائے گی۔
اگر کافر جزیہ دینے سے بھی انکاری ہوں تو پھر قتال یعنی جنگ کی صورت اختیار کی جائے گی اس بارے میں فرمایا ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری سے جنگ کرو جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یہاں تک کہ ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کریں۔ اس میں اہل کتاب کی قید احترازی نہیں ہے۔ دوسرے کافروں کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مشرکوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔
آیت میں قتال اور جزیہ کا ذکر ہے۔ دعوت اسلام پیش کرنے کا ذکر نہیں اس لیے کہ جن لوگوں کو پہلے سے دعوت اسلام پہنچ ہوئی ہو انہیں قتال سے پہلے دعوت دینا ضروری نہیں۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ اسلام سے پوری طرح واقف تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو پوری طرح پہچان گئے تھے کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اس سب کے باوجود منکر تھے۔ رسالت کے تو منکر تھے ہی، اللہ کی توحید کو بھی چھوڑ چکے تھے اور آخرت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تھے، اگر کسی درجے میں آخرت کا تصور تھا تو وہ آخرت کو نہ ماننے کے درجے میں تھا کیونکہ جانتے بوجھتے کفر اختیار کرنا اور آخرت میں جو کفر کی سزا ہے یعنی عذاب دائمی، اسے بھگتنے کے لیے تیار رہنا یہ آخرت کو نہ ماننے کے درجہ میں ہے۔ نیز وہ حشر اجساد یعنی مادی اجسام کے دو بارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب کے قائل نہیں تھے۔ جنت اور دوزخ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ کوئی خاص مقام نہیں ہے روح کی خوشی کا نام جنت اور غم کا نام جہنم رکھا ہوا تھا۔ اسی لیے (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) فرمایا۔ قال صاحب الروح و ایمانھم الذی یزعمونہ لیس علی ما ینبغی فھو کلا ایمان (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں ان کا ایمان جسے وہ ایمان خیال کرتے تھے وہ در حقیقت ایمان نہیں وہ تو ایمان کا نہ ہونا ہے) ۔ (ص 78 ج 10)
اہل کتاب کا حال بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا (وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ ) کہ اللہ نے اور اس کے رسول نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان کو حرام نہیں سمجھتے۔ جب دین اسلام کو قبول نہیں کرتے تو حرام و حلال کی تفصیلات کو بھی نہیں مانتے۔ صاحب روح المعانی نے اس کی تفسیر میں بعض علماء کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ان کا جس رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ ہے اس نے جس چیزوں کو حرام قرار دیا خواہشات نفس کے اتباع کی وجہ سے ان کو حرام قرار نہیں دیتے۔ ان کی شریعت کو بھی بد ل دیا اور عمل سے بھی دور ہوگئے مثلاً رشوت اور سود کا لینا دینا ان کے ہاں عام تھا۔ جن کی حرمت ان کی کتابوں میں تھی۔
اہل کتاب کا مزید حال بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ ) کہ وہ دین حق یعنی اسلام کو قبول نہیں کرتے۔ ان کی یہ صفات اور ان کے یہ حالات اس بات کو مقتضی ہیں کہ ان سے جنگ کی جائے۔ اگر اسلام قبول کرلیں تو بہتر ہے ورنہ جزیہ دینے پر آمادہ ہوجائیں اس صورت میں ان سے قتال روک دیا جائے گا اور جنگ نہیں کی جائے گی۔
پھر فرمایا (حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ ) اس میں لفظ عَنْ یَّدٍ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جس شخص پر جزیہ دینا مقرر کردیا گیا وہ خود آکر ادا کرے کسی دوسرے کے ذریعہ نہ بھیجے کیونکہ جزیہ لینے سے ان کی تحقیر بھی مقصود ہے۔ خود گھر میں بیٹھے رہے اور کسی کو وکیل بنا کر جزیہ بھیج دیا تو اس میں ان کا اعزاز ہے۔ اس لیے وکیل کے واسطہ سے بھیجنا منظور نہ کیا جائے بلکہ ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ خود آکر ادا کریں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ منقاد اور فرمانبر دار اور تابع ہو کر جزیہ ادا کریں۔ بعض اکابر نے اس قول کے مطابق یوں ترجمہ کیا ہے کہ ماتحت ہو کر رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ نقد ہاتھ در ہاتھ جزیہ دینا منظور کریں۔
پھر آخر میں فرمایا (وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ ) کہ اس حالت میں جزیہ دیں کہ وہ ذلیل ہوں۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر ادا کریں اور جو مسلمان لینے والا ہو وہ بیٹھ کر وصول کرے اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ذمی کا گلا پکڑ کر یوں کہا جائے گا کہ اعط الجزیۃ یا ذمی (اے ذمی جزیہ دے) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وصول یابی کرنے والا یوں کہے ادِّ حقّ اللہ تعالیٰ یاعدو اللہ (اے اللہ کے دشمن، اللہ کا حق ادا کر) اور حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ ذمیوں کے ذلیل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں جو احکام دیئے جائیں گے ان پر عمل کریں گے اور مسلمانوں کی ماتحتی میں رہیں گے۔ یہ اقوال صاحب روح المعانی نے (ص 79 ج 10) نقل کیے ہیں، پھر آخیر میں لکھا ہے کہ آج کل مسلمانوں کا ان میں سے کسی قول پر بھی علم نہیں۔ وہ اپنے نائب کے ذریعہ ہی جزیہ بھیج دیتے ہیں۔ ان سے لے لیا جاتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مجبور کیا جائے کہ خود لے کر آئیں۔ پیدل آئیں۔ سوار نہ ہوں اور اس کی خلاف ورزی اسلام کے ضعف کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ 1 ھ صاحب روح المعانی نے اپنے زمانہ کے ملوک اور امراء کی شکایت کی کہ مسلمان امراء نائب سے جزیہ قبول کرلیتے ہیں لیکن آج تو یہ حال ہے کہ مسلمان کسی ملک میں جزیہ لینے کا قانون جاری کرتے ہی نہیں۔ یہ لوگ کافروں سے ڈرتے ہیں جزیہ مقرر نہیں کرتے بلکہ ملک میں رہنے والے کافروں کو مسلمانوں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کا اکرام کرتے ہیں۔ ان کو اسمبلی کا ممبر بھی بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہمت اور حوصلہ دے اور کفر اور کافر کی قباحت اور شناعت اور نجاست اور بغض اور نفرت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے تاکہ اہل کفر کو ذلیل سمجھیں اور ذلیل بنا کر رکھیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ذمی کافروں کو دار الاسلام میں کوئی عبادت خانہ نیا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام کے غلبہ ہونے سے پہلے جو ان کا کوئی عبادت خانہ ہو اور وہ منہدم ہوجائے تو اسے دو بارہ بنا سکتے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے لباس میں اور سواریوں میں اور ٹوپیوں میں اور مسلمانوں کے لباس اور سواریوں وغیرہ میں امتیاز رکھا جائے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ گھوڑوں پر سوار نہیں ہوسکتے اور ہتھیار بند ہو کر نہیں چل پھر سکتے۔ مسلمان ان سب احکام کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں کیونکہ کفر اور کافر سے بغض نہیں ہے (العیاذ باللہ) ۔ مسلمانوں کے ملکوں میں کافروں کی مشنریاں کام کر رہی ہیں۔ جاہل اور غریب مسلمانوں کو اپنے دین میں داخل کر رہی ہیں لیکن مسلمانوں کے اصحاب اقتدار ذرا بھی توجہ نہیں دیتے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں روا داری ہے اور کافر اقوام سے ڈرتے بھی ہیں اور جھینپتے بھی ہیں، ملک مسلمانوں کا ہو اور کفر کی کھلی تبلیغ ہو یہ احکام اسلامیہ کی کتنی بڑی خلاف ورزی ہے ؟ اس کو اصحاب اقتدار نہیں سوچتے۔ فاللہ یھدیھم۔
جزیہ کی مقدار کیا ہے ؟ اس کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ ایک جزیہ تو وہ ہے جو آپس کی رضا مندی اور صلح سے مقرر کرلیا جائے۔ جتنی مقدار پر اتفاق ہوجائے اسی قدر لے لیا جائے اس میں ہر فرد سے وصول کرنے کی ضرورت نہیں ان کے جو ذمہ دار ہوں وہ جس طرح چاہیں آپس میں وصولیابی کر کے امیر المومنین کو پہنچا دیں۔ سالانہ ماہانہ جتنے جتنے وقفہ کے بعد لینا دینا طے ہو اسی کے مطابق عمل کرتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نصاریٰ نجران سے یوں معاملہ فرمایا تھا کہ پوری جماعت سالانہ دو ہزار حلہ ادا کیا کرے حلہ دو چاروں کو کہتے ہیں یعنی ایک تہمد اور ایک چادر اور ہر حلے کی قیمت کا اندازہ بھی طے کردیا گیا تھا کہ ایک اوقیہ (چاندی) کی قیمت کا ہوگا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا اور ایک درہم کا وزن 3 ماشہ ایک رتی اور 5؍1 رتی ہوتا تھا۔
ایک دوسری صورت یہ ہے کہ امیر المومنین ان کے ملک پر قابض ہو کر انہیں ان کی املاک پر باقی رکھے اور ان پر فی کس مخصوص رقم مقرر کر دے۔ حضرت عمر ؓ نے مالدار آدمی پر سالانہ اڑتالیس درہم مقرر کیے تھے جن میں سے ہر ماہ چار درہم ادا کرنا لازم تھا اور جو شخص متوسط درجے کا مالدار ہو اس پر چوبیس درہم مقرر کیے تھے۔ ہر ماہ اس سے دو درہم لیے جاتے تھے اور جو شخص مالدار نہ ہو مزدوری کر کے کھاتا کماتا ہو اس پر بارہ درہم کی ادائیگی لازم کی تھی جس میں سے ہر ماہ ایک درہم وصول کیا جاتا تھا۔
مسئلہ : عورت، بچہ اپاہج اور وہ نادار جو محنت کرکے کمانے کے لائق نہیں اور وہ لوگ جو اپنے عبادت خانوں میں رہتے ہوں لوگوں سے ان کا میل ملاپ نہ ہو ان لوگوں پر کوئی جزیہ نہیں۔
مسئلہ : اہل کتاب بت پرست، آتش پرست ان سب سے جزیہ لیا جائے گا۔ البتہ اہل عرب جو بت پرست ہیں ان پر جزیہ نہیں لگایا جائے گا بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ اسلام قبول کرو ورنہ تمہارے لئے تلوار ہے۔
مسئلہ : مسلمانوں میں سے جو لوگ مرتد ہوجائیں (العیاذ باللہ) ان پر جزیہ نہیں لگایا جائے گا۔ ان سے بھی یہ کہا جائے گا کہ اسلام قبول کرو ورنہ تمہارے لیے تلوار ہے۔
Ayah 9:30یہود و نصاریٰ کی تردید جنہوں نے حضرت عزیر اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بتایا
پہلی آیت میں اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ ان سے یہاں تک قتال کرو کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ اس کے بعد یہود و نصاریٰ کا عقیدہ شرکیہ بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ جیسے دوسرے مشرک اپنے شرک میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح یہود و نصاریٰ بھی مشرک ہیں۔ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں انہوں نے توحید کی دعوت دی تھی اور اسی دعوت کو لے کر اللہ پاک کی طرح مبعوث ہوئے تھے بعد میں ان کے ماننے والوں نے (جو ماننے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں) توحید کو چھوڑ دیا اور عقائد شرکیہ اختیار کرلیے اور زبانوں سے بھی شرکیہ باتیں کرنے لگے۔ یہودیوں نے تو یوں کہا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے یوں کہا کہ مسیح یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کا قول ذکر کرنے کے بعد فرمایا (ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ ) کہ یہ ان کی باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہیں یہ اپنی باتوں میں جھوٹے ہیں۔ ان کی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور ان کی باتوں کی کوئی دلیل اور کوئی سند نہیں۔
پھر فرمایا (یُضَاھِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ) (ان سے پہلے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کی باتیں ان کی باتوں کے مشابہ ہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ (الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ) (جنہوں نے ان سے پہلے کفر اختیار کیا) سے مشرکین مراد ہیں۔ جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتایا اور اس عقیدہ کے جو لوگ ہیں یعنی یہود و نصاریٰ وہ اپنے اسلاف کی بات پر جمے ہوئے ہیں۔ (روح المعانی ص 83 ج 1)
پھر فرمایا (قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ ) اس کا لفظی معنی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرے۔ اور حضرت ابن عباس نے اس کے مجازی معنی لیے ہیں اور فرمایا ہے کہ اس سے لعنت کرنا مراد ہے۔ (اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ) (وہ کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں) ان کو توحید کی دعوت دی گئی ہے اسے چھوڑ کر شرک اختیار کیے ہوئے ہیں اور حق کو چھوڑ کر باطل میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 9:31تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے :
پھر فرمایا (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار (یعنی علماء یہود) کو اور راہبوں (یعنی نصاریٰ کے درویشوں) کو اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو (بھی) رب بنا لیا۔ نصاریٰ کے راہب تارک دنیا ہو کر اپنے ان گھروں میں رہتے تھے جو جنگلوں میں بنا لیتے تھے اس لیے رہبان کا ترجمہ درویش کیا گیا۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ جو پہلے نصرانی تھے (بعد میں مسلمان ہوئے) انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس وقت میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا، اے عدی اپنی گردن سے اس بت کو نکال کر پھینک دو میں نے اس کو پھینک دیا واپس آیا تو آپ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) پڑھ رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے عالموں اور درویشوں کی عبادت تو نہیں کرتے پھر یہ کیوں فرمایا کہ احبار اور رھبان کو رب بنا لیا۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بات نہیں کہ یہ لوگ جو چیز تمہارے لیے حرام کردیں تم اسے حرام کرلیتے ہو اور جو چیز حلال کردیں تم اسے حلال کرلیتے ہو میں نے کہا کہ ہاں یہ بات تو ہے آپ نے فرمایا یہ ان کی عبادت ہے۔ (معالم التنزیل ص 285 ج 2)
اور سنن ترمذی وغیرہ میں اس طرح ہے کہ عدی بن حاتم نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سورة برأت کی آیت (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جن چیزوں کو وہ حلال کہتے تھے انہیں حلال سمجھتے تھے اور جن چیزوں کو وہ حرام کردیتے تھے ان کو حرام مان لیتے تھے۔ (درمنثور ص 230 ج 3)
تحلیل و تحریم میں غیر اللہ کی فرمانبر داری شرک ہے :
دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق ومالک ہے جن چیزوں سے نفع حاصل کرتے ہیں وہ بھی اسی نے پیدا کیں اور جو لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں ان کو بھی اسی نے پیدا فرمایا، اسے اختیار ہے کہ جس چیز کو جس کے لیے حلال قرار دے اور جس کے لیے حرام قرار دے اس نے سابقہ امتوں کے لیے بعض چیزیں حرام قرار دیں اور اس امت کے لیے حلال کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے پاس سے تحلیل و تحریم کے قانون بنائے۔ جو شخص اپنے طور پر کچھ چیزوں کو حلال اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دے چاہے اپنے لیے خواہ دوسروں پر (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا قُلْ ا آللّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ یہ تو بتاؤ جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل فرمایا سو اس میں سے تم نے حرام اور حلال تجویز کرلیا۔ کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر تہمت باندھتے ہو) ۔
جب تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے جو خالق اور مالک ہے تو اس کے سوا جو کوئی شخص تحلیل و تحریم کے قانون بنائے اور اپنے پاس سے حلال و حرام قرار دے اس کی بات ماننا اور فرمانبر داری کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک بنانا ہوا جیسے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنا اس کی عبادت ہے اسی طرح ان امور میں غیر اللہ کی فرمانبر داری کرنا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہیں یہ ان کی عبادت ہے چاہے ان کو سجدہ نہ کریں چونکہ ان جاری کیے ہوئے احکام کے ساتھ فرمانبر داری کا وہی معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ ہونا چاہئے اس لیے ان کے اتباع اور اطاعت کو عبادت قرار دیا۔
پھر فرمایا : (وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا) (اور انہیں یہی حکم ہوا تھا کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کریں) یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوں (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (کوئی معبود نہیں اس کے سوا) وہی معبود حقیقی ہے اس کی عبادت کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا شرک ہے۔ (سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے) ۔
فائدہ : حضرت عدی بن حاتم ؓ کو جو حضور اقدس ﷺ نے جواب دیا کہ وہ لوگ اپنے علماء کو اور درویشوں کو اس طرح اپنا رب بنا لیتے تھے کہ ان کی تحلیل و تحریم پر عمل کرتے تھے اس میں عبادت بالمعنی المعروف کی نفی نہیں ہے۔ عام طور پر جو ان کا طریقہ تھا اسے بیان فرما دیا، ان میں وہ لوگ بھی تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی باقاعدہ عبادت کرتے تھے۔ اور ان کو (ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ) یعنی تیسرا معبود مانتے تھے بلکہ صلیب کو بھی پوجتے تھے۔ آیت بالا میں جو (وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) فرمایا ہے (اور اس لفظ کو جو احبار اور رہبان پر معطوف کر کے علیحدہ سے ذکر فرمایا ہے) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو باقاعدہ معبود مانتے تھے وہ تو اللہ کے پیغمبر تھے اپنی طرف سے تحلیل و تحریم کرنے والے نہ تھے ان کا بعض چیزوں کو حلال اور بعض چیزوں کو حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔
فائدہ : اوپر جو سورة نحل کی آیت نقل کی گئی ہے اس کا مضمون دوسری آیات میں بھی ہے جن میں صاف صاف بتایا ہے کہ تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اسلام کے دعویداروں میں بعض فرقے ایسے ہیں جو تحلیل و تحریم میں اور احکام کو منسوخ کرنے اور بدلنے میں اور عبادت کے طریقے تجویز کرنے میں اپنے امام اور مجتہد کو با اختیار سمجھتے ہیں اور اپنے امام کو قرآن و حدیث کا پابند نہیں سمجھتے۔ ان کا امام اور مجتہد جو کچھ کہتا ہے اسی کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن کی تصریحات اور تعلیمات ان کے نزدیک بےحیثیت ہیں۔ ایسے فرقوں کے کفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ تصریحات قرآنیہ کو کوئی وزن نہیں دیتے ان کے نزدیک امام کو سب کچھ اختیار ہے جن لوگوں نے ان کا مذہب ایجاد کیا ہے انہوں نے اپنے ہاتھ میں تحلیل و تحریم کے اختیارات رکھنے کے لیے اپنے عوام کو یہ عقیدہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ امام ہی سب کچھ ہے۔ روافض کا امام جب چاہے نماز جمعہ جاری کر دے اور جب چاہے منسوخ کردے۔ اور اسی طرح دیگر امور میں بھی ان کے یہاں یہی صورت حال ہے۔ ایک بہائیہ فرقہ ہے۔ ان کے ہاں بھی دین اسلام سے ہٹ کر فرائض اور محرمات کی تفصیلات ہیں۔ اور بعض معاصی کی تعزیرات انہوں نے خود سے مقرر کی ہیں جو ان کے بعض رسالوں کو دیکھ کر مطالعہ میں آئیں، منکرین حدیث میں ایک شخص چکڑا لوی تھا اس نے نماز کی ترتیب اور ترکیب اور طریقہء عبادت اپنے پاس سے تجویز کیا تھا۔ یہ سب ان لوگوں کی گمراہی ہے جو سراپا کفر ہے۔
فائدہ : اب دور حاضر میں جبکہ آزاد منش لوگ اسلامی احکام پر چلنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اور دشمنان اسلام سے متاثر ہیں، کہتے ہیں کہ حضرات علماء کرام جمع ہو کر میٹنگ کریں، اور اسلامی احکام کے بارے میں غور و فکر کریں اور فلاں فلاں احکام کو بدل دیں یا ہلکا کردیں اور فلاں فلاں حرام چیزوں کو حلال قرار دے دیں۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور حماقت کی بات ہے۔ اگر علماء ایسا کرنے بیٹھیں گے تو کافر ہوجائیں گے اور اگر کسی حرام چیز کو حلال قرار دے دیں گے تو ان کے حلال کردینے سے حلال نہ ہوگی۔ اباحی (یعنی حرام چیزوں کو مباح قرار دینے والے) قسم کے لوگ جو نام نہاد عالم کہلاتے ہیں انہوں نے سود، بیمہ اور تصویروں کو اور بعض دیگر محرمات کو حلال کہہ دیا ہے ان کے کہنے اور لکھنے سے وہ چیزیں حلال نہیں ہوگئیں۔ خوب سمجھ لیا جائے۔
Ayah 9:32پھونکوں سے اللہ تعالیٰ کا نور بجھایا نہ جائے گا
ان دونوں آیات میں دشمنان اسلام کے عزائم باطلہ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دینا چاہتے ہیں، یعنی اسلام پر اعتراض کر کے مہمل باتیں کر کے لوگوں کو اسلام سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ ان کی باتوں سے اسلام کا نوربجھنے والا نہیں اور ان کی شرارتوں سے اسلام کو ٹھیس لگنے والی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کا نور پورا ہو کر رہے گا۔ اگرچہ کافروں کو نا گوار ہو اور برا لگے۔
اور دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو نا گوار ہو۔ پہلی آیت کے ختم پر (وَ لَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ) فرمایا اور دوسری آیت کے ختم پر (وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) فرمایا۔ جو لوگ شرک کی وجہ سے مشرک ہیں اور جو لوگ مشرک نہیں کسی دوسری وجہ سے کافر ہیں مثلاً خدائے تعالیٰ کے وجود کو نہیں مانتے یا اس کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں یا اس کی کتابوں اور اس کے نبیوں کو جھٹلاتے ہیں ان دونوں قسم کے دشمنوں کی نا گواری کا تذکرہ فرما دیا کہ کافر اور مشرک یہ جو چاہتے ہیں کہ اللہ کا دین نہ پھیلے اور اس کا غلبہ نہ ہو ان کے ارادوں سے کچھ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضرور غالب فرمائے گا۔ یہ جلتے رہیں۔ حسد کرتے رہیں۔ ان کی نیتوں اور ارادوں پر خاک پڑے گی اور دین اسلام بلند اور غالب ہو کر رہے گا۔
غالب ہونے کی تین صورتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ دلیل اور حجت کے ساتھ غلبہ ہو اور یہ غلبہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کوئی بھی شخص خواہ دین آسمانی کا مدعی ہو، خواہ بت پرست ہو۔ خواہ آتش پرست ہو خواہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر ہو، خواہ ملحد اور زندیق ہو وہ اپنے دعویٰ اور اپنے دین کو لے کر دلیل کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے نہیں آسکتا اور اپنے دعویٰ کو صحیح ثابت نہیں کرسکتا۔ اسلام کے دلائل سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین، زنادقہ اور ملحدین سب پر حجت قائم ہے۔ اس اعتبار سے دین اسلام ہمیشہ سے غالب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے کامل بھی فرما دیا اور قرآن مجید میں اعلان فرما دیا۔ (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ ) (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی) اسلام دین کامل ہے انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ دیگر تمام ادیان کے ماننے والے صرف چند تصورات اور خود تراشیدہ معتقدات کو لیے بیٹھے ہیں۔ عبادات، معاملات، مناکحات، معیشت اور معاشرت، سیاست اور حکومت، اخلاق اور آداب کا کوئی مذہبی نظام ان کے پاس نہیں ہے۔ خود سے قوانین بنا لیتے ہیں اور پھر انہیں توڑ دیتے ہیں (بلکہ یوں کہتے ہی نہیں کہ یہ قانون اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے) خود ساختہ قانون کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کریں۔ اسلام نے انسانوں کو ہر شعبہء زندگی کے احکام دیئے ہیں اور اخلاق عالیہ کی تعلیم دی ہے جن کی تصریحات اور تفصیلات قرآن مجید میں اور احادیث شریفہ میں موجود ہیں۔
دوسری صورت اسلام کے غالب ہونے کی یہ ہے کہ دنیا میں بسنے والے کفر و شرک چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو اور ان کا راج ہو۔ ایسا قیامت سے پہلے ضرور ہوگا۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی ( علیہ السلام) کے زمانے میں اسلام خوب اچھی طرح پھیل جائے گا اور زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کی تصریح آتی ہے۔