9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو ناگوار ہو۔

حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ رات اور دن ختم ہونے سے پہلے ایسا ضرور ہوگا کہ لات اور عزیٰ کی پرستش کی جائے گی (یہ زمانہ جاہلیت میں دو بت تھے) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں تو یہ سمجھتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) نازل فرمائی تو یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ (یعنی دین حق تمام دینوں پر غالب ہوگا) آپ نے فرمایا، کہ جب تک اللہ چاہے گا ایسا ہوگا (جو آیت شریفہ میں مذکور ہے) پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیج دے گا۔ جس کی وجہ سے ہر اس شخص کو موت آجائے گی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ اس کے بعد صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے دل میں کوئی خیر نہ ہوگی لہٰذا وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (رواہ مسلم ص 394 ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دنیا میں دو بارہ تشریف آوری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ و یبطل الملل حتی یھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا غیر الاسلام یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام ملتوں کو باطل کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کو ختم فرما دیں گے۔ (مسند احمد ص 437 ج 2) تیسری صورت اسلام کے غالب ہونے کی یہ ہے کہ مسلمان اقتدار کے اعتبار سے دوسری اقوام پر غالب ہوجاتا ہے اور یہ ہوچکا ہے کہ جب مسلمان جہاد کرتے تھے اللہ کے دین کو لے کر آگے بڑھتے تھے اور اللہ کی رضا پیش نظر تھی اس وقت بڑی بڑی حکومتیں پاش پاش ہوگئیں۔ قیصر و کسریٰ کے ملکوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ ان میں سے جو قیدی پکڑے گئے وہ غلام باندی بنائے گئے اور مشرکین اور اہل کتاب میں بہت سے لوگوں نے جزیہ دینا منظور کرلیا اور مسلمانوں کے ماتحت رہے۔ صدیوں یورپ اور ایشیا، افریقہ کے ممالک پر مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ (اور اس وقت یہی تین براعظم دنیا میں معروف تھے) اور اب بھی مسلمانوں کی حکومتیں زمین کے بہت بڑے حصے پر قائم ہیں۔ اگر اب بھی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کھڑے ہوجائیں اور آپس میں اتفاق و اتحاد کرلیں کافروں سے بغض رکھیں۔ کافروں کی حکومتوں کو اپنا سہارا نہ بنائیں تو اب بھی وہی شان واپس آسکتی ہے جو پہلے تھی۔ اقتدار والے غلبہ کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوچکا ہے اور آئندہ پھر اس کا وقوع ہوگا انشاء اللہ حضرت مقداد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمین پر مٹی سے بنا ہوا کوئی گھر یا بالوں سے تیار کیا ہوا کوئی خیمہ ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرما دے۔ عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلت والے کی ذلت کے ساتھ۔ حدیث کی روایت کرنے کے بعد حضرت مقداد ؓ نے فرمایا کہ بس تو پھر سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 16 از مسند احمد) جن کو اللہ تعالیٰ عزت دے گا۔ انہیں کلمہء اسلام کا قبول کرنے والا بنا دے گا اور جن کو اللہ ذلیل کرے گا وہ مقتول ہوگا یا مجبور ہو کر جزیہ کرے گا۔
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بلاشبہ بہت سے علماء اور راہب ایسے ہیں جو لوگوں کے مال باطل طریقہ پر کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے،

یہود و نصاریٰ دین حق سے روکتے ہیں اس آیت میں اول تو اہل کتاب کے علماء اور مشائخ یعنی درویشی اختیار کرنے والے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ یہ لوگ باطل طریقہ پر لوگوں کا مال کھاتے ہیں۔ ان میں بعض لوگ پرہیز بھی کرتے ہوں گے اس لیے لفظ کثیرا کا اضافہ فرما دیا۔ ان کا باطل طریقہ پر مال کھانا اس طرح سے تھا کہ توریت شریف میں تحریف کرتے تھے اور اپنے پاس سے احکام بنا دیتے تھے اور اس پر اپنے عوام سے پیسے لے کر کھا جاتے تھے۔ اہل ایمان کو خطاب فرما کر اہل کتاب کے علماء اور مشائخ کی حرام خوری کا تذکرہ فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے اندر بھی اس طرح کے علماء اور مشائخ ہوسکتے ہیں۔ ان سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ جھوٹے پیر جو گدیاں سنبھالے بیٹھے ہیں ان کا یہی حال ہے۔ نہ صاحب شریعت، نہ صاحب طریقت اندر سے خالی ہیں۔ تصوف سے عاری ہیں طالب دنیا ہیں فکر آخرت نہیں خوف و خشیت نہیں تقویٰ نہیں۔ لوگوں سے مال وصول کرنے کے لیے طرح طرح کے ڈھنگ بنا رہے ہیں۔ حضرت امام غزالی (رح) نے لکھا ہے، جو کچھ کسی شخص کو اس کے دیندار اور صالح ہونے کے خیال سے دیا جائے اس کا لینا اس شخص کے لیے حلال نہیں ہے جو اندر سے فاسق ہو، اگر دینے والے کو اس کا اندرونی حال معلوم ہوتا تو ہرگز نہ دیتا۔ اہل کتاب کے علماء اور مشائخ کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچان لیا کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں جن کے تشریف لانے کا انتظار تھا لیکن ان لوگوں نے آپ کی صفات کو بدل دیا اور اپنے ماننے والوں کو یہ باور کرایا کہ وہ نبی نہیں ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے۔ یہود و نصاریٰ کے علماء اور مشائخ کا جو طریقہ اسلام کے عہد اول میں تھا ابھی تک وہی ہے یہودیت اور نصرانیت کے ذمہ دار یہ جانتے ہوئے کہ اسلام دین حق ہے نہ خود قبول کرتے ہیں اور نہ اپنے ماننے والوں کو قبول کرنے دیتے ہیں۔ انہوں نے بہت ساری جماعتیں اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ مختلف طریقوں سے یہ لوگ مسلمان نو جوانوں کو اپنے دین میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مال کا لالچ بھی دیتے ہیں۔ عورتیں بھی پیش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مسلمان نوجوان ان کے قابو میں نہیں آتے جب اسلام دل میں رچ جاتا ہے تو پھر کوئی طاقت اسے قلوب کی گہرائی سے نہیں نکال سکتی۔ جتنے اموال کفر اور شرک کو پھیلانے کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں اور اسلام کو پھیلنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کا نتیجہ صفر کے درجہ میں ہی رہتا ہے۔ اسلام کے عہد اول سے جو دشمنان اسلام کی کوششیں رہی ہیں اور اب تک ہو رہی ہیں ان کو دیکھا جائے تو اسلام کی دعوت مکہ مکرمہ کے ایک گھر سے بھی آگے نہ بڑھتی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو آگے بڑھایا اور کروڑوں افراد اس وقت سے آج تک اسلام میں داخل ہوچکے ہیں اور برابر داخل ہو رہے ہیں۔ دشمنوں کی کوششیں فیل ہیں۔ اسلام برابر آگے بڑھ رہا ہے۔ پھیل رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور ایشیاء کے بہت سے ممالک کے غیر مسلم اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اسلام قبول کر رہے ہیں اور اب یہ سیلاب انشاء اللہ رکنے والا نہیں ہے دلیل و حجت سے اسلام ہمیشہ غالب ہے اور اپنے پھیلاؤ کے اعتبار سے بھی اب پورے عالم میں گھر گھر میں داخل ہو رہا ہے۔ دشمنان اسلام ہمیشہ سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اہل اسلام کے ساتھ ہے اور یہ بھی سمجھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہماری کوششیں اسلام کے خلاف کامیاب نہیں ہیں پھر بھی اپنی ناسمجھی سے اسلام کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا پھر بھی مخالفت سے باز نہیں آتے۔ یورپ امریکہ میں لاکھوں مسلمان رہتے ہیں۔ دشمنان اسلام ان کی اذانیں سنتے ہیں۔ نمازیں دیکھتے ہیں۔ اسلام پھیل رہا ہے۔ چرچ بک رہے ہیں۔ ان کی جگہ مسجدیں بن رہی ہیں پھر بھی ہوش کی آنکھیں نہیں کھولتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اسلام کی مخالفت سے اسلام کو کچھ نقصان نہ ہوگا۔ جو لوگ کفر اور شرک والے ادیان کے ذمہ دار ہیں وہ اپنے عوام کو اسلام پر آنے نہیں دیتے۔ اور ان کو کفر ہی پر مطمئن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی محنتوں کے باوجود ان کے عوام کے دل اپنے دین سے مطمئن نہیں ہیں۔ سرکاری کاغذات میں پیدائشی طور پر ان کا جو دین لکھ دیا گیا تھا وہ دل سے اس سے منحرف ہیں گو زبان سے اظہار نہیں کرتے۔ یہ اسلام کی حقانیت اور دیگر ادیان کے عوام کا اپنے دینوں سے قلوب کے اعتبار سے منحرف ہونا انشاء اللہ تعالیٰ رنگ لائے گا۔ اور وہ دن دور نہیں کہ دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا۔ جو لوگ ادیان باطلہ کے داعی اور قائد ہیں وہ اپنی جانوں اور اپنی عوام کی جانوں پر رحم کھائیں اور اسلام قبول کریں اور اپنے عوام کو بھی اس کی دعوت دیں اگر یہ لوگ اسلام کی طرف آگے نہ بڑھے تو انہیں میں سے آگے بڑھنے والے، آگے بڑھ جائیں گے اور اسلام قبول کر کے ان پر لعنت کریں گے جو اسلام سے روکتے رہے۔ لہٰذا دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی سے اپنے کو اور اپنے عوام کو بچائیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے آنے سے پہلے ہی اسلام قبول کرلیں۔ ہم بالکل علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ پر اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے وعید ذکر فرمائی جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے یَکْنِزُوْنَ کو ما قبل پر معطوف نہیں فرمایا بلکہ اسم موصول لا کر مستقل جملہ کے ذریعہ چاندی سونا جمع کرنے والوں کے لیے وعید بیان فرمائی الفاظ کے عموم میں یہود و نصاریٰ کے علماء اور مشائخ بھی داخل ہیں جو مال جمع کرنے کی وجہ سے توریت شریف کے احکام میں تحریف کرتے تھے اور اس امت کے وہ افراد بھی مراد ہیں جو سونا چاندی جمع کریں اور اس میں سے شریعت کے مقرر کردہ فرائض و واجبات میں خرچ نہ کریں۔ ارشاد فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْم) (اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے) بشارت خوش کرنے والی چیز کی ہوتی ہے لیکن عذاب کی خبر کو بشارت سے تعبیر فرمایا اس میں یہ نکتہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے کو اپنے لیے اچھا سمجھتے تھے۔ ان کے گمان کے بر خلاف ارشاد فرمایا کہ تمہیں اس کی وجہ سے عذاب ہوگا۔ عذاب کو اچھا سمجھتے ہو تو خوش ہوجاؤ۔
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس روز ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر ان کی پیشانیوں اور کروٹوں اور پشتوں کو داغ دیا جائے گا۔ یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنی جانوں کے لیے جمع کیا تھا سو اب اسے تم چکھ لو جسے تم جمع کرتے تھے۔

(یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ ) (جس روز ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر ان کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور اس کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنی جانوں کے لیے جمع کیا تھا۔ سو اب تم چکھ لو جسے جمع کرتے تھے) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاندی سونے کا مالک تھا جس میں سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔ (یعنی زکوٰۃ نہیں دیتا تھا) تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی، پھر ان تختیوں کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کے ذریعہ اس کے پہلو اور اس کی پیشانی اور اس کی کمر کو داغ دیا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو ان کو (پھر سے گرم کر کے) واپس لوٹا دیا جائے گا۔ یہ اس دن میں ہوتا رہے گا جو پچاس ہزار سال کا ہوگا پھر نتیجہ میں وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف دیکھ لے گا۔ (اس کے بعد) ان لوگوں کی وعید کا تذکرہ فرمایا جو مویشیوں کی زکوٰۃ نہیں دیتے۔ (رواہ مسلم ص 318 ج 1) اول تو آگ کی تختیاں پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے پھر ان سے پہلوؤں، پیشانیوں اور پشتوں کو داغ دیا جائے اور جب ٹھنڈی ہوجائیں تو دو بارہ گرم کرلی جائیں اور پچاس ہزار سال تک یہی عذاب کا سلسلہ جاری رہے اور پھر بھی دونوں احتمال ہیں کہ جنت میں جائے یا دوزخ میں۔ اس کا ہر وہ شخص تصور کرے جو مال جمع کرتا ہے اور زکوٰۃ نہیں دیتا۔ پیشانیوں اور پہلوؤں اور پشتوں کو داغ دینے میں علماء نے یہ حکمت بتائی ہے کہ جب ایسے لوگوں کے پاس کوئی سائل (مال زکوٰۃ کا طلب گار) سامنے سے آتا ہے تو اسے دیکھ کر پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں پھر اس سے نظر بچانے کے لیے دائیں طرف یا بائیں طرف مڑتے ہیں اور سوال کرنے والا اس طرح سے بھی پیچھا نہ چھوڑے تو پھر اس کی طرف پشت کرلیتے ہیں اس لیے پیشانی اور پہلو اور پشت کو عذاب کے لیے مخصوص کیا گیا۔ (واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب) فائدہ : سونا اور چاندی کو چونکہ بین الاقومی طور پر اصل ثمن ہونے کی حیثیت حاصل ہے اور اسلام میں انہیں اثمان قرار دیا ہے اس لیے جس قسم کا بھی مال ہو اس کو سونا چاندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب سے دنیا میں نوٹ آئے ہیں تو چونکہ ان کے ذریعہ چاندی سونا خریدا جاسکتا ہے۔ اس لیے وہ چاندی سونے ہی کے حکم میں ہیں اور مال تجارت بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے۔ سونا چاندی ہو یا مال تجارت یا نقد کیش ان سب پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ جتنی بھی زکوٰۃ قاعدہ شرعیہ کے مطابق فرض ہو وہ حساب سے ادا کی جاتی رہے تو باقی مال کو کنز نہیں کہا جائے گا جس پر حدیث بالا میں وعید آئی ہے۔ اسی لیے بعض احادیث میں فرمایا ہے : مابلغ أن تودی زکوتہ فزکی فلیس بکنز۔ یعنی جو مال اس مقدار کو پہنچ جائے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے اور اس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔ (رواہ ابو داؤد، ص 218 ج 1) زکوٰۃ ایک عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین پر فرض فرمائی ہے۔ اور قرآن مجید میں دسیوں جگہ زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ ذکر فرمایا ہے : (وَ وَ یْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (سو خرابی ہے مشرکین کے لیے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ زکوٰۃ نہ دینا مشرکوں اور ان لوگوں کا کام ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ زکوٰۃ کے علاوہ قواعد شرعیہ کے مطابق دوسرے اخراجات بھی واجب ہیں قربانی کرنا، صدقہ فطر ادا کرنا عند الضرورۃ ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں پر قواعد کے مطابق خرچ کرنا۔ یہ سب حقوق ہیں جو مال سے متعلق ہیں اور حقوق واجبہ کے علاوہ جو کوئی شخص جتنا بھی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دے گا اس کا ثواب پائے گا جس کو نفلی صدقات کہا جاتا ہے لیکن فرائض اور واجبات میں خرچ کرنے کا خاص دھیان رکھے تاکہ آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔ فائدہ : آیت کریمہ میں اولاً سونا چاندی دونوں کے جمع کرنے کا تذکرہ فرمایا پھر (وَ لَا یُنْفِقُوْنَھَا) فرمایا پھر تثنیہ کی ضمیر کے بجائے واحد کی ضمیر لائی گئی جو فضہ (چاندی) کی طرف راجع ہے۔ بعض علماء نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ سونا چاندی ایک ہی چیز ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو اور علیحدہ علیحدہ ان میں سے ایک بھی نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو سونے کی قیمت بھی چاندی کے حساب میں لگا دی جائے گی مطلب یہ ہے کہ دونوں کے مجموعہ کی قیمت اگر نصاب چاندی کے برابر ہوجائے تو زکوٰۃ فرض ہوجائے گی۔ چاندی سونے کا کیا نصاب ہے ؟ اس کی تفصیل کے لیے دو رکوع کے بعد آیت (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ ) کی تفسیر دیکھئے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائے مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہ دین مستقیم ہے سو ان مہینوں میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ اور تمام مشرکین سے قتال کرو جیسا کہ وہ تم سب سے قتال کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

مہینوں کی حلت و حرمت میں ہیرا پھیری اور تقدیم و تاخیر کرنا کفر میں ترقی کرنا ہے اوپر دو آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا تھا اسی دن سے اس نے مہینوں کی تعداد بارہ عدد مقرر فرمائی ہے۔ ان میں سے چار مہینوں کو حرام قرار دے دیا جن میں قتال کرنے کی ممانعت فرما دی (یہ چار مہینے ذی القعدہ ذی الحجہ محرم اور رجب تھے) جمہور علماء کا فرمانا ہے کہ ان کی حرمت منسوخ ہے اور اب ان مہینوں میں بھی قتال کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی آیت (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ) کی تفسیر میں بیان کر آئے۔ (دیکھو انوار البیان جلد اول) پھر فرمایا کہ یہ دین مستقیم ہے یعنی سال کے مہینوں کا بارہ عدد ہونا اور چار مہینوں کا بالتخصیص أشھر الحرام ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقررہ چیز ہے اور یہ دین صحیح ہے۔ جاہلیت کے لوگ کبھی سال کے مہینوں کا عدد بڑھا دیتے تھے اور کبھی اشھر الحرام کی تخصیص کو چھوڑ دیتے تھے اور اپنی طرف سے بعض مہینوں کو حلال اور بعض کو حرام قراد دیتے تھے۔ (فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ ) سو تم ان سب مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ یعنی گناہ نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کو مت چھوڑو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا اپنے اوپر ظلم کرنا ہے معالم التنزیل (ص 286 ج 2) میں محمد بن اسحاق سے اس کا مطلب یوں نقل کیا ہے کہ حلال مہینوں کو حرام اور حرام مہینوں کو حلال نہ بناؤ۔ لا تجعلوا حلالھا حراماً و حرامھا حلالاً کفعل أھل الشرک و ھو النسء۔ (حلال مہینوں کو حرام اور حرام کو حلال نہ بناؤ جیسا کہ اہل شرک کرتے تھے یعنی نسئ کا عمل) ۔ پھر فرمایا (وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ) کہ تمام کافروں سے جنگ کرو جیسا کہ وہ تم سب سے جنگ کرتے ہیں (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ) اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینوں کی حرمت کو آگے بڑھا دینا کفر میں ترقی کرنا ہے جس سے کافر لوگ گمراہ کیے جاتے ہیں کہ وہ اس مہینے کو کسی سال حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال حرام قرار دے دیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی گنتی پوری کرلیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دے دیا ہے۔ پھر اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینے کو حلال کرلیتے ہیں، ان کے برے اعمال ان کے لیے مزین کردیئے گئے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

دوسری آیت میں جاہلیت والوں کے ایک طریقہء کار کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ حرام مہینے کو موخر کردینا کفر میں زیادتی ہے، مشرکین عرب مشرک تو تھے ہی اپنے اس طریقہ کار سے بھی مزید کفر میں ترقی کر گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تحریم کو بدل کر أشھر الحرام کو حلال کرلیتے تھے۔ آگے بڑھنے سے پہلے النَّسِیْءُ یعنی حرام مہینوں کو موخر کرنے کا مطلب سمجھ لینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے چار مہینوں کو حرام قرار دیا تھا یعنی ان میں قتل و قتال کی اجازت نہ تھی۔ قریش مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بھی تھے اور کعبہ شریف کے متولی بھی تھے جو ان کے جد امجد حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا، ان لوگوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں سے جو باتیں باقی رہ گئی تھیں، ان میں حج کرنا بھی تھا اور چار مہینوں کو محترم بھی سمجھتے تھے اور ان میں قتل و قتال کو حرام مانتے تھے۔ لیکن ان میں اور عرب کے دیگر قبائل میں جاہلیت کی وجہ سے شرو فساد اور قتل و قتال ایک پیشہ بن کر رہ گیا تھا اور ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ کر کے لوٹ مار کے ذریعہ مال حاصل کر کے اپنی معیشت بناتا تھا۔ کبھی لڑائی ٹھن جاتی تھی اور لوٹ مار اور جنگ کی ضرورت ان چار مہینوں میں سے کسی مہینے میں محسوس کرتے تھے تو یوں کرلیتے تھے کہ کسی مہینے کو موخر کردیتے تھے۔ مثلاً ماہ محرم میں انہیں جنگ کرنا ہوتا تو یوں کہتے تھے کہ یہ ماہ محرم نہیں ہے بلکہ ماہ صفر ہے۔ محرم اس سے آئندہ مہینہ ہوگا۔ اس طرح سے محرم کو صفر قرار دے کر جنگ کرلیتے تھے اور ماہ صفر کو شہر حرام قراد دے دیتے تھے، اللہ کی طرف سے جو مہینہ حرمت والا تھا اس کو اپنی طرف سے حلال اور جو مہینہ حلال تھا اسے حرام قرار دے دیتے تھے۔ اس طرح اللہ کی تحلیل و تحریم کو بدل دیتے تھے اور اپنے نفسوں کو یوں سمجھا لیتے تھے کہ ہم نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی کیونکہ جو قتال کیا ہے وہ شہر حرام میں نہیں کیا (حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ مہینہ حرمت والا تھا) ان لوگوں کے آگے پیچھے کردینے سے نہ حقیقت میں کوئی مہینہ بدلا اور نہ تحلیل و تحریم کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا حکم بدلا۔ اوپرماہ محرم و ماہ صفر کے آگے پیچھے کرنے کی ایک مثال پیش کی گئی ہے۔ اس طرح سے وہ سال کے بارہ مہینوں کو اپنی اپنی جگہ سے ہٹا چکے تھے۔ اور یہ جانتے ہوئے کہ حج کا مہینہ ماہ ذوالحجہ ہی ہے آگے بڑھاتے بڑھاتے یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ حج بھی ذوالحجہ کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ہونے لگا۔ 10 ھ میں جب رسول اللہ ﷺ نے حج کیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ تو وہ ٹھیک نو ذی الحجہ کو واقع ہوا تھا۔ آپ نے یوم النحر یعنی دسویں ذوالحجہ کو جو خطبہ دیا اس میں فرمایا اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْءَتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضَکہ بلاشبہ زمانہ گھوم کر اپنی اسی جگہ پر آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ یعنی مشرکین کے آگے بڑھانے اور پیچھے ہٹانے کی تغییر اور تبدیل جو تھی اس کا کوئی دخل اور اثر مہینوں کی ترتیب میں نہیں رہا۔ اگر یہ لوگ تغییر اور تبدیل نہ کرتے تب بھی یہ مہینہ اپنی اصل کے اعتبار سے ذی الحجہ ہی ہوتا لہٰذا بارہ مہینے اب اپنی جگہ پر آگئے ہیں۔ مشرکین عرب کی اس النَّسِیْءُ والی رسم جاہلی کے بارے میں فرمایا (یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) کہ اس کے ذریعہ کفار گمراہ کیے جاتے ہیں (یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّّمُوْنَہٗ ) کسی مہینے کو ایک سال حلال قرار دیتے تھے اور ایک سال حرام قرار دے دیتے تھے۔ (لِّیُوَاطِءُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ) تاکہ وہ ان مہینوں کی گنتی پوری کرلیں جو اللہ نے حرام قرار دیئے تھے یعنی سال میں گنتی کے اعتبار سے چار مہینوں کی حرمت اپنے خیال میں اس طرح بر قرار رکھتے تھے کہ کوئی سے چار مہینے اپنی اغراض کے مطابق حرام مان لیتے تھے۔ چاہے وہ وہی مہینے ہوں جو اللہ کی طرف سے حلال ہیں اسی طرح اللہ کے حرام قرار دیئے ہوئے مہینوں کو حلال قرار دے دیتے تھے۔ (فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ) اور صرف یہ دیکھتے تھے کہ گنتی کے اعتبار سے آٹھ مہینے ہم نے حلال قرار دیئے حالانکہ ان حلال قرار دیئے ہوئے مہینوں میں وہ مہینے بھی آجاتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام قرار دیئے گئے تھے۔ کبھی تو مہینوں کو آگے پیچھے کر کے تحریم اور تحلیل کی رسم کا طریقہ اختیار کرلیتے تھے اور کبھی یوں کہتے تھے کہ اس سال محرم کا مہینہ حرام نہیں ہے اس کی جگہ صفر کا مہینہ حرام ہوگا پھر اپنی اغراض نفسانیہ کے لیے ضرورت محسوس کرتے تو صفر کا مہینہ آنے پر کہہ دیتے تھے کہ یہ مہینہ حرام نہیں ہے۔ آئندہ مہینہ یعنی ربیع الاول حرام ہوگا۔ شیطان نے انہیں اس قسم کا سبق پڑھایا تھا اور ان کے اعمال کو اچھا کر کے پیش کردیا تھا۔ اسی کو فرمایا (زُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِھِمْ ) کہ ان کے لیے ان کے برے اعمال مزین کردیئے گئے جنہیں وہ اچھا سمجھتے ہیں۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا (کیونکہ وہ ہدایت پر آنا نہیں چاہتے) ۔ فائدہ : احکام شرعیہ میں قمری مہینوں کا اعتبار ہے جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت کریمہ (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ ) کی تفسیر میں ہم نے لکھ دیا ہے۔ عبادات، حج، زکوٰۃ، عدت کا اعتبار چاند کے مہینوں سے ہے۔ اسی لیے چاند کے مہینوں کا محفوظ رکھنا اور ان کی ابتداء انتہاء جاننا فرض کفایہ ہے۔ بعض قوموں میں ہر تیسرا سال تیرہ مہینے کا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی وضع کردہ ترتیب کے خلاف ہے۔ دنیاوی معاملات کے لیے بطور یاد داشت اگر قمری مہینوں کے علاوہ دوسرے مہینوں کو استعمال کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پسندیدہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہجری مہینوں کے سوا جو دوسرے مہینے رائج ہیں انہیں دشمنان دین نے اختیار کر رکھا ہے۔ وہ ہمارے ہجری مہینوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تو ہمیں ان کی طرف مائل ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہو تو زمین پر بوجھل بن جاتے ہو، کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا والی زندگی پر راضی ہوگئے۔ سو دنیا والی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑی سی ہے،

خروج فی سبیل اللہ کے لیے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا ! معالم التنزیل (ص 292 ج 2) میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا) (الآیۃ) غزوہ تبوک میں شرکت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے نازل ہوئی جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف کے حصار کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ نے حکم دیا کہ اب رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے چلو (خبر ملی تھی کہ رومی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے شام کی سرحد پر جمع ہوگئے ہیں) صوبہ شام اس وقت رومیوں کے زیر نگین تھا اور وہاں ہرقل کی حکومت تھی جو رومیوں کا بادشاہ تھا۔ آپ نے ارادہ فرمایا کہ ان سے وہیں چل کر مقابلہ کرلیا جائے اور دفاع کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ جب جہاد کے لیے جانا ہوتا تھا تو توریہ سے کام لیتے تھے (یعنی نام لے کر واضح طور پر نہیں بتاتے تھے کہ فلاں مقام پر جانا اور فلاں قوم سے جنگ کرنا ہے) یہ موقعہ ایسا تھا کہ پھل پک رہے تھے کھیتیاں تیار تھیں ان کے کاٹنے کا زمانہ تھا اور تنگدستی بھی چل رہی تھی۔ گرمی سخت تھی اور سفر دور کا تھا اور درمیان میں خوفناک میدان تھے اور دشمن بھی تعداد میں زیادہ تھا۔ آپ نے واضح طور پر مسلمانوں کو بتادیا کہ تبوک جانا ہے تاکہ دشمن سے مقابل ہونے کے لیے تیاری کرلیں۔ اس موقعہ پر آپ کا جہاد کے لیے حکم فرمانا بھاری پڑگیا اور مسلمانوں میں سستی اپنا اثر کرنے لگی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین پر بوجھل بن گئے، کیا آخرت کے بدلہ میں دنیا والی زندگی پر راضی ہوگئے حالانکہ دنیا والی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑی سی ہے۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ اور تمہارے علاوہ دوسری قوم کو تمہارے بدلہ پیدا فرما دے گا اور تم اس کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے ہو، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مزید فرمایا (اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (الآیۃ) اگر تم اللہ کی راہ میں نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو پیدا فرما دے گا اور تم اللہ کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ آخر میں فرمایا (وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہر چیز پر قادر ہے) وہ عذاب دے سکتا ہے اور تمہارے بدلہ دوسری قوم بھی پیدا فرما سکتا ہے (جو تم سے زیادہ فرمانبر دار ہو) اور دشمنوں کو تمہارے سفر اور تمہارے جنگ کیے بغیر بھی ہلاک کرسکتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھ لیں کہ اگر ہم جہاد میں نہ گئے تو اللہ کو یا اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جو جائے گا اپنا ثواب پائے گا آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا۔ (یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے دنیا میں بارش کو روک لینا مراد ہے۔ (معالم التنزیل) حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول مقام کے اعتبار سے مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ کھیتوں اور باغوں کی پیداوار جمع کرنے کا موقعہ آگیا تھا اسے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتادیا گیا کہ اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلے تو بارش روک دی جائے گی۔ اگر اس سال غلے اور پھل حاصل کر بھی لیے تو آئندہ آنے والے برسوں میں بارش رک جانے کی وجہ سے ان چیزوں سے محروم ہونگے۔ جن لوگوں نے سستی دکھائی ان کی تعداد زیادہ نہ تھی کیونکہ اس سورت میں دوسری جگہ ان کے بارے میں (مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ) فرمایا ہے، سستی کے بعد یہ حضرات غزوہ میں شریک ہوگئے تھے گو سستی چند افراد سے ظاہر ہوئی لیکن خطاب تمام مومنین سے فرمایا تاکہ ہمیشہ رہتی دنیا تک تمام مسلمانوں کو سبق مل جائے اور اللہ کی راہ میں خوشی خوشی نکل کھڑے ہوں اور حقیر دنیا کے لیے آخرت کی ابدی نعمتوں سے محروم نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمانے پر مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت تبوک جانے کے لیے نکل کھڑی ہوئی جس میں تیس ہزار مسلمان تھے اور اس سے پہلے کبھی بھی مسلمانوں کی تعداد اس قدر کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئی تھی اور ہو ابھی صرف آنا جانا اور چند روز قیام کرنا، کیونکہ ان حضرات کے تبوک پہنچنے سے دشمنوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ اور مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ کرسکے۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم اس کے رسول کی مدد نہ کرو تو اللہ نے ان کی مدد کی ہے جب کہ ان کافروں نے نکال دیا تھا۔ جب کہ وہ دو آدمیوں میں سے ایک تھے۔ جب کہ وہ دونوں غار میں تھے۔ جب کہ وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ غم نہ کرو بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے آپ پر اپنا سکینہ نازل فرمایا اور ایسے لشکروں کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کردی جو کفر اختیار کیے ہوئے تھے اور اللہ کی بات اونچی ہی ہے اور اللہ عزت والا ہے حکمت والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں تھے : اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں سے یوں بھی خطاب فرمایا کہ اگر تم رسول کریم ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو اس سے اللہ کو اور اللہ کے رسول کو اور اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب انہیں مکہ کے کافروں نے مکہ معظمہ سے نکال دیا اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں پہنچ گئے۔ اوّل تو دشمنوں کے درمیان سے صحیح سالم نکال دینا پھر غار ثور تک عافیت اور سلامتی کے ساتھ پہنچا دینا پھر جب دشمن غار کے منہ پر پہنچ گئے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمانا اور جو لوگ تلاش میں نکلے تھے ان کو ناکام واپس کردینا اور پھر غار ثور سے نکال کر پیچھا کرنے والے دشمنوں سے محفوظ فرما کر عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچا دینا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا۔ یہ سفر ہجرت کے واقعات ہیں پورے سفر میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ نے سفر کا ارادہ کیا تو حضرت علی ؓ کو اپنی جگہ پر لٹا دیا اور آپ حضرت ابوبکر ؓ کو ہمراہ لے کر روانہ ہوگئے جب صبح ہوئی تو لوگوں نے حضرت علی ؓ کو آپ کی جگہ پایا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھی کہاں ہیں اس پر انہوں نے لا عملی ظاہر کی، وہ لوگ آپ کو تلاش کرنے کے لیے چل دیئے۔ اور غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان میں سے اگر کوئی شخص اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا) (غمگین نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے) آپ نے تین دن غار ثور میں قیام فرمایا۔ حضرت ابوبکر ؓ کے غلام عامر بن فہیرہ ؓ روزانہ رات کو دودھ لے جا کر پیش کردیتے تھے۔ دونوں حضرات اس کو پی لیتے تھے۔ تین دن گزارنے کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے اور دسویں دن قبا پہنچ گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ مکڑی نے غار کے دروازہ پر جالا بن دیا تھا۔ اسے دیکھ کر ان لوگوں نے سمجھا کہ اگر یہ حضرات اندر گئے ہوتے تو یہ جالا ٹوٹا ہوا ہوتا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 543) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر اطمینان نازل فرمایا اور آپ کے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمائی۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دی کہ غمگین نہ ہو بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ غار ثور کے ذکر کے ساتھ (وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا) بھی فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول کی ایسے لشکروں کے ذریعہ سے مدد فرمائی جنہیں تم نے نہیں دیکھا۔ ان لشکروں سے کیا مراد ہے صاحب معالم التنزیل نے اس بارے میں تین قول لکھے ہیں۔ اوّل یہ کہ اس سے فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لیے بھیجے گئے تھے کہ کافروں کی آنکھوں کو پھیر دیں۔ اور ان کی نظریں آپ پر نہ پڑیں۔ دوم یہ کہ فرشتوں نے کفار کے دلوں پر رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے واپس ہوگئے۔ سوم یہ کہ خاص اسی موقعہ پر فرشتے نازل ہونا مراد نہیں ہے بلکہ بدر میں مدد کے لیے جو فرشتے آئے تھے وہ مراد ہیں۔ گویا (وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا) جملہ مستانفہ ہے جس میں بدر کے موقعہ پر جو مدد ہوئی تھی وہ یاد دلائی، پھر فرمایا (وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی) (اور اللہ نے کافروں کے کلمہ کو نیچا کردیا) اس سے کلمہ شرک مراد ہے جو قیامت تک کے لیے نیچا ہوگیا۔ شرک والے اہل ایمان کے مقابلہ میں کبھی سر اٹھا کر بات نہیں کرسکتے، (وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا) (اور اللہ کا کلمہ ہی بلند ہے) حضرت ابن عباس نے فرمایا کلمۃ اللہ سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مراد ہے۔ یہ ہمیشہ سے بلند ہے اور بلند رہے گا۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ کافروں کے کلمہ سے ان کا وہ مشورہ مراد ہے جس میں انہوں نے طے کرلیا تھا کہ صبح ہونے پر آپ کو شہید کردیا جائے گا اور کلمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت مراد ہے۔ (معالم التنزیل ص 296 ج 2) آیت کے ختم پر فرمایا (وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اسی کا ارادہ غالب ہے وہ حکیم بھی ہے اس کی طرف سے کبھی ایسے حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ایمان مشکلات میں پھنس جاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان مشکلات سے نجات دے دیتا ہے۔ اور اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ اہل ایمان کا ایمان مضبوط ترہو جائے اور پھر مشکلات و مصائب سے نہیں گھبراتے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے اہل ایمان کو بڑی بڑی مشکلات سے نجات دی ہے۔ فائدہ : اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ سفر ہجرت میں اور غار ثور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے خادم خاص حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی تھے۔ اِذْ یَقُوْلُ صَاحِبِہٖ جو فرمایا اس سے حضرت ابوبکر ہی مراد ہیں۔ چونکہ قرآن مجید میں ان کے صاحب ہونے کی تصریح ہے اس لیے حضرات علماء نے فرمایا ہے کہ ان کی صحابیت کا منکر کافر ہوگا۔ روافض (قبحھم اللہ) جنہیں حضرت ابوبکر ؓ سے بغض ہے وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ غارثور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ ہی تھے اور (لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا) کا خطاب انہیں کو تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ساتھ لیا، یار غار بنایا۔ انہوں نے پورے سفر میں خدمت کی تکلیفیں اٹھائیں، سواری کا انتظام کیا اپنے غلام کو روزانہ دودھ بھیجنے پر مامور کیا، ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر روزانہ رات کو حاضر ہوتے تھے اور مشرکین کے مشوروں سے مطلع کرتے تھے۔ یہ ساری محنت اور قربانی روافض کے نزدیک کوئی چیز نہیں (دشمن کو تو ہنر بھی عیب نظر آتا ہے) ان کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیق ؓ العیاذ باللہ کافر تھے۔ ان کی بات سے رسول اللہ ﷺ پر حرف آتا ہے کہ آپ نے ایک کافر کو ساتھ لیا اور اپنا رفیق سفر اور راز دار بنایا اور حضرت علی ؓ کو ساتھ نہ لیا جبکہ وہ مخلص مسلمان تھے۔ ان بغض رکھنے والوں کو اور کوئی بات نہ ملی تو یہ نکتہ نکالا کہ حضرت ابوبکر ؓ غار ثور پر کافروں کے پہنچنے سے گھبرا گئے۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ یہ امور طبعیہ میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے جب ان کے سامنے جادو گروں نے لاٹھیاں ڈالیں اور وہ سانپ بن گئیں تو ان کے جی میں خوف کا احساس ہوا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس سے پہلے ان کی لاٹھی کو سانپ بنا کر پھر سانپ کی لاٹھی بنا کر دکھا دیا تھا اور جب فرعون کو تبلیغ کرنے کے لیے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ روانہ ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا (لَا تَخَافَآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَ اَرٰی) اس سب کے باوجود جب جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی صورت میں نظر آئیں تو طبعی طور پر خوف محسوس کرنے لگے۔ یہ خوف طبعی تھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بھی غار ثور کے منہ پر دشمنوں کے پہنچنے سے طبعی طور پر فکر لا حق ہوگیا تو اس میں کون سے اشکال و اعتراض کی بات ہے ؟ روافض یوں بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انزال سکینہ کا ذکر فرماتے ہوئے (فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ ) فرمایا علیھما نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر سکینہ نازل نہیں ہوئی۔ یہ بھی ان لوگوں کی ضلالت اور جہالت کی بات ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر بلا واسطہ سکینہ نازل فرمائی اور حضرت ابوبکر ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے واسطہ سے تسلی دی آپ نے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فرمایا مَعَنَا میں جو ضمیر جمع متکلم کی ہے (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے) روافض اس کو نہیں دیکھتے اور عَلَیْہِ کی ضمیر کو دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عَلَیْہِ کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہو۔ اور دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکر ؓ کی طرف ضمیر راجع ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے اس کو اختیار فرمایا ہے۔ یہ بھی درست ہے بلکہ اقرب ہے کیونکہ قریب ترین مرجع صاحبہ ہے اور یہ احتمال اس لیے بھی اقرب ہے کہ حضرت صدیق اکبر ہی کو فکر لا حق ہوئی تھی جسے فکر لاحق ہو انزال سکینہ اسی پر ہونا چاہئے۔ یہ بالکل قرین قیاس ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو بہت ہی مطمئن تھے اور آپ کو پہلے ہی سے سکینہ حاصل تھا۔ ورنہ گھبراہٹ کا الزام رسول اللہ ﷺ پر آجاتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا فکر مند ہونا بزدلی کی وجہ سے اور اپنی جان کی وجہ سے نہیں تھا انہیں رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کی حفاظت کا خیال ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا ان اقتل فانا رجل واحد و ان قتلت ھلکت الامۃ (اگر میں مقتول ہوگیا تو میں ایک آدمی ہوں اور اگر آپ کی ذات مبارک پر حملہ کردیا تو پوری امت ہلاک ہوجائے گی) ۔ درمنثور (ص 241 ج 2) میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ غار ثور میں پہنچنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے خیال سے کبھی آگے چلتے تھے اور کبھی پیچھے اور کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں، اور مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی تکلیف پہنچے تو مجھے پہنچ جائے آپ محفوظ اور صحیح سالم رہیں۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ اس خیال سے کہ دشمنوں کو نشان ہائے قدم کا پتہ نہ چل جائے آنحضرت ﷺ کو اپنے اوپر اٹھا کر انگلیوں کے بل چلے یہاں تک کہ ان کی انگلیاں چھل گئیں۔ پھر جب غار ثور میں پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ باہر تشریف رکھیں، میں پہلے اندر داخل ہوتا ہوں اگر کوئی تکلیف دہ صورت حال پیش آئے تو مجھ ہی پر گزر جائے آپ محفوظ رہیں گے اس کے بعد پہلے خود اندر گئے غار کو صاف کیا اس میں جو سوراخ تھے اپنا کپڑا پھاڑ پھاڑ کر انہیں بند کرتے رہے ایک سوراخ رہ گیا جس کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ملا لہٰذا انہوں نے اس پر ایڑھی لگا دی اور آنحضرت سرور عالم ﷺ کو اندر بلا لیا۔ آپ تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر ؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو سوراخ کے اندر سے سانپ نے ڈس لیا۔ لیکن انہوں نے اس ڈر سے کہ کہیں آپ کی آنکھ نہ کھل جائے سوراخ کے منہ سے نہ تو پاؤں ہٹایا اور نہ ذرا سی حرکت کی۔ تکلیف کی وجہ سے ان کے آنسو بہنے لگے جو رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور پر گرگئے۔ آنسو گرنے سے آپ کی آنکھ کھل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ابوبکر کیا بات ہے ؟ عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے تو کسی نے ڈس لیا ہے۔ آپ نے اپنا لعاب مبارک ڈال دیا جس کی وجہ سے ان کی تکلیف جاتی رہی۔ (درمنثور ص 241 ج 2 و مشکوٰۃ المصابیح ص 556) اس جاں نثاری اور فدا کاری کو دیکھو اور روافض کی اس جاہلانہ بات کو دیکھو کہ حضرت ابوبکر ؓ مسلمان ہی نہیں تھے۔ (العیاذ باللہ) روافض یہ بھی کہتے ہیں کہ لِصَاحِبِہٖ سے ساتھی ہونا مراد ہے صحابی ہونا نہیں۔ یہ بھی ان کی جہالت کی بات ہے۔ صحابی اسی کو تو کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو بحالت ایمان دیکھ لے اور ایمان پر اس کی موت ہوجائے۔ سورة الفتح میں شرکاء حدیبیہ کی تعریف کرتے ہوئے جو فرمایا ہے۔ (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ ) اس میں حضرت ابوبکر ؓ کے مومن ہونے کی بھی شہادت ہے اور سکینہ نازل ہونے کی بھی، بیعت حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوبکر ؓ نے بھی بیعت کی تھی اگر انزال سکینہ ایمان کے لیے شرط ہے تو حدیبیہ کے تمام حاضرین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمانے کی خبر دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا۔ لیکن روافض نہ اللہ سے راضی ہیں نہ اللہ کے رسول سے، حضرت ابوبکر ؓ کے کفر کے قائل ہیں اور انہیں یہ فکر نہیں کہ ہمیں خود مسلمان ہونا چاہئے۔ قرآن کا منکر اپنے ایمان کی فکر تو کرے۔ جسے شقاوت گھیر لے اور جس پر گمراہی مسلط ہوجائے اسے کہاں سے ہدایت نصیب ہوگی۔ (فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (پس بیشک ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں لیکن دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں) حضرت عمر ؓ کا ارشاد سنیے۔ ان کے سامنے کسی نے کہہ دیا کہ آپ ابوبکر ؓ سے افضل ہیں تو وہ اس پر رونے لگے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ابوبکر ؓ کی ایک رات اور ایک دن عمر ؓ کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ رات تو یہی غار ثور والی جس کا ذکر اوپر ہوا اور دن وہ جب کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی تو عرب کے بعض قبائل مرتد ہوگئے ان میں سے بعض نے کہا ہم نماز پڑھیں گے زکوٰۃ نہ دیں گے اور بعض نے کہا نہ نماز پڑھیں گے نہ زکوٰۃ دیں گے۔ حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کا اعلان فرما دیا۔ میں خیر خواہ بن کر ان کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ لوگوں کو مانوس رکھئے اور نرمی اختیار فرمایئے انہوں نے جواب میں فرمایا کہ تم جاہلیت کے زمانہ میں بڑے بہادر تھے اسلام میں بزدل بن گئے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔ وحی آنا ختم ہوگیا۔ اللہ کی قسم اگر ایک رسی بھی رسول اللہ ﷺ کو زکوٰۃ کی مد میں دیتے تھے اور اسے روک لیں گے۔ تب بھی ان سے جنگ کروں گا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ پھر ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ اللہ کی قسم ان کی رائے صحیح تھی ان کا یہ دن بھی ایسا ہے کہ میرے سارے اعمال اس کے برابر نہیں ہوسکتے۔ (درمنثور ص 242 ج 3) روافض نے یہ طریقہ نکالا ہے کہ جب ان سے کوئی مسلمان حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ایمان کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں ہم تو انہیں مسلم مانتے ہیں یہ بھی تقیۃً کہتے ہیں اور تقیہ میں بھی تقیہ کرتے ہیں کیونکہ مسلم کہہ دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ظاہری اعتبار سے انہوں نے اسلام کے اعمال قبول کرلیے تھے۔ یہ لوگ انہیں مومن کہنے کے لیے تیار نہیں۔ مومن کا لفظ اپنے لیے ہی الاٹ کر رکھا ہے۔ روافض اپنی اہواء نفسانیہ کے پابند ہیں جو یہود کے سکھانے سے ان میں رچ بس گئی ہیں۔ اعاذ اللہ تعالیٰ الامۃ من خرافاتھم۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکل کھڑے ہو ہلکے ہونے کی حالت میں اور بھاری ہونے کی حالت میں، اور اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

غزوۂ تبوک میں مومنین مخلصین کی شرکت اور منافقین کی بےایمانی اور بد حالی کا مظاہرہ جب تبوک چلنے کے لیے حکم ہوا تو مسلمان بھاری تعداد میں آپ کے ہمراہ چلنے کے لیے تیار ہوگئے، اور جن کو کچھ تردد ہوا تھا بعد میں وہ بھی ساتھ ہو لیے۔ کچھ لوگ مریض تھے وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے اور کچھ لوگ منافق تھے جن کے دو فریق تھے۔ ایک فریق تو وہ تھا جس نے جھوٹے عذر پیش کر کے آپ سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کے ساتھ نہ جائیں۔ اور اس وقت ان کا نفاق بالکل کھل کر سامنے آگیا اور منافقین کا دوسرا فریق وہ تھا جو جاسوسی کے لیے اور شرارت کرنے کے لیے ساتھ ہو لیا تھا۔ ان کی باتوں کا تذکرہ اسی سورت میں آ رہا ہے (انشاء اللہ تعالیٰ ) (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا) میں اول تو مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ ہلکے ہو یا بھاری ہو اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہو، اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو۔ (خِفَافًا وَّ ثِقَالًا) کا ترجمہ تو یہی ہے جو اوپر مذکور ہوا (یعنی ہلکے اور پھلکے) لیکن اس کا مصداق بتاتے ہوئے مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ صحیح اور مریض ہونا مراد ہے اور بعض حضرات نے مالدار اور تنگدست ہونا مراد لیا ہے اور بعض حضرات نے بوڑھا اور نو عمر ہونا اور بعض حضرات نے موٹاپا اور دبلاپن مراد لیا ہے، چونکہ الفاظ میں ان سب باتوں کی گنجائش ہے اس لیے سبھی کو مراد لیا جاسکتا ہے لیکن ثِقَالاً سے مریض مراد لینا محل نظر ہے کیونکہ مریض عذر شرعی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے خروج کا حکم کیسے ہوا ؟
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر قریب ہی میں سامان ملنے والا ہوتا اور سفر معمولی ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو مسافت دور دراز نظر آتی۔ اور وہ عنقریب اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکلتے، وہ اپنی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔

چونکہ اس آیت کا حکم ہوا ہے کہ ہر حالت میں فی سبیل اللہ نکل کھڑے ہوں اور جہاد ہمیشہ بطور فرض عین فرض نہیں ہوتا اور دوسری آیت میں (وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ) فرمایا ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے اس آیت کے عموم کو منسوخ مانا ہے۔ اگر آیت کو غزوۂ تبوک ہی سے متعلق مانا جائے اور امراض والوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ جیسا کہ آیت شریفہ (لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی) میں مذکور ہے تو منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ معذور نہیں ہیں وہ کھڑے ہوں۔ مالدار بھی نکلے اور تندرست بھی نکلے، بوڑھا بھی اور جوان بھی، موٹا بھی دبلا بھی۔ اس کے بعد ان منافقین کا حال بیان فرمایا جنہوں نے مجاہدین کے ساتھ جانا منظور نہیں کیا تھا۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ طالب دنیا ہیں اگر ان کو یہ معلوم ہوتا کہ جلدی ہی سے کوئی دنیاوی سامان مل جائے گا یا سفر ہی ایسا ہوتا کہ اسے مشقت کے بغیر برداشت کرلیتے تو آپ کے ساتھ ہو لیتے۔ اس ساتھ لگنے میں ان کے اسلام کے ظاہری دعویٰ کا بھرم رہ جاتا اور جن دنیاوی منافع کے لیے انہوں نے ظاہراسلام قبول کیا ہے ان منافع کی امید بدستور قائم رہتی لیکن سفر کے بارے میں جو انہوں نے غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ تو سفر بہت لمبا ہے اور سخت تکلیف دہ ہے۔ لہٰذنا ان کا نفاق کھل کر سامنے آگیا، اور انہوں نے ہمراہ نہ جانے ہی کو اپنے لیے پسند کیا اور ساتھ نہ گئے۔ منافقین تھوڑی بہت تکلیف تو جھیل جاتے تھے لیکن جب زیادہ تکلیف کا موقعہ آتا تھا تو ان کا نفاق کھل جاتا تھا۔ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ تبوک سے واپس تشریف لے آئے تو ان لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم میں جانے کی قوت اور طاقت نہ تھی اگر ہم میں سکت ہوتی اور ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ضرور آپ کے ساتھ چلتے اس کے بارے میں پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی۔ (وَ سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ ) منافقین کے عذر پیش کرنے کا تذکرہ چند رکوع کے بعد آ رہا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر (یُھْلِکُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ) (یہ لوگ اپنے نفسوں کو ہلاک کر رہے ہیں) کیونکہ نفاق کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نہ جانے کو اختیار کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو دوزخ میں داخل کرنے کا ڈھنگ بنا چکے ہیں۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم میں سکت ہوتی یا ہمارے بس میں ہوتا تو ساتھ چلے چلتے یہ سب جھوٹ ہے کیونکہ قوت اور طاقت ہوتے ہوئے ساتھ نہ گئے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا آپ نے ان کو کیوں اجازت دی جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور جب تک آپ جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے۔

منافقین جھوٹے عذر پیش کر کے غزوۂ تبوک میں شرکت سے رہ گئے منافقین نے تبوک نہ جانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر پیش کر کے شریک نہ ہونے کی اجازت لیتے رہے آپ نے اجازت دے دی۔ اس اجازت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا۔ لیکن عتاب میں میں بھی ایک لطف ہے، اول یوں فرمایا (عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ ) (یعنی اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا) اس کے بعد عتاب فرمایا، اور یوں فرمایا کہ آپ نے لوگوں کو اجازت کیوں دی، یہ موقعہ سچوں اور جھوٹوں کے جاننے کا تھا آپ اجازت دینے میں جلدی نہ فرماتے تو معلوم ہوجاتا کہ سچا عذر پیش کرنے والے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں۔ حضرت عمرو بن میمون نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو کام ایسے کیے جن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ تھا۔ اول یہ کہ آپ نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر منافقین کے اعذار سن کر شرکت نہ کرنے کی اجازت دے دی اور دوسرے یہ کہ آپ نے بدر کے قیدیوں کے بدلہ فدیہ لینے والی رائے کو اختیار فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں پر عتاب نازل فرمایا (معالم التنزیل ص 297 ج 2) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔ آپ اجازت دینے میں توقف فرماتے تو اچھا تھا۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

آپ سے وہ لوگ اجازت نہیں مانگتے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۔ اور اللہ متقیوں کو جانتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اولاً اہل ایمان کا حال بیان فرمایا ہے (لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ ) (جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اس بات کی اجازت نہیں لیتے کہ اپنے جانوں اور مالوں کو جہاد میں لگائیں) کیونکہ وہ تو حکم سنتے ہی تیار ہوجاتے ہیں۔ (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بالْمُتَّقِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے اور پھر منافقین کا ذکر فرمایا)
Ayahs 9:45–46

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے وہی لوگ اجازت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں حیران ہیں۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے ضرور تیاری کرتے لیکن اللہ نے ان کے جانے کو پسند فرمایا سو ان کو روک دیا اور کہا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

(اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ ) (جہاد میں نہ جانے کی وہی لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دلوں میں شک ہے) (فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ ) (سو وہ اپنے شک میں حیران ہو رہے ہیں) کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ساتھ چلے جائیں تو اچھا ہے تاکہ منافقت کا بھرم نہ کھلے اور کبھی سوچتے ہیں کہ سفر میں اور دھوپ کی مصیبت بہت بڑی ہے اس لیے نہ جائیں تو اچھا رہے گا۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لی تھی کہ ہم جہاد میں نہ جائیں اور ان کو کوئی عذر نہ تھا۔ بعض روایات کے مطابق یہ 39 آدمی تھے۔ پھر فرمایا کہ منافقین تمہارے ساتھ نہیں گئے۔ ان کے جانے کا ارادہ ہی نہ تھا۔ اگر جانے کا ارادہ ہوتا تو کچھ سامان کرتے۔ سامان کا بھی انتظام نہیں کیا اور آپ سے اجازت لے کر اپنے لیے ایک بہانہ بھی بنا لیا کہ ہمیں اجازت مل گئی۔ اجازت نہ دی جاتی تب بھی ان کو جانا ہی نہ تھا۔ اگر واقعی جانے کا ارادہ ہوتا تو جانے کے لیے تیاری کرتے پھر کچھ عذر پیش آجاتا اور اجازت لیتے تو اجازت لینے کا کچھ معنی بھی ہوتا، بات یہ ہے کہ ان کا جانے کا اپنا ارادہ ہی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ فیصلہ ہوا کہ یہ لوگ نہ جائیں، تکوینی طور پر اللہ نے ان کو روک دیا اور ان کو تمہارے ساتھ جانے کی توفیق نہیں دی اور تکوینی طور پر انہیں بیٹھنے والوں یعنی اپاہج اور واقعی معذورین کے ساتھ رہ جانے کا جو فیصلہ ہوا تھا اسی کی وجہ سے بیٹھے رہ گئے اور جانے سے رک گئے۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکل جاتے تو زیادہ فساد کرنے کے سوا کچھ کام نہ کرتے اور تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی فکر میں تیزی کے ساتھ دوڑے پھرتے، اور تمہارے اندر وہ لوگ ہیں جو ان کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔

پھر فرمایا کہ اے مسلمانو ! ان کے نہ جانے سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ فائدہ ہی ہوا۔ کیونکہ اگر یہ تمہارے ساتھ نکل جاتے تو تمہارے بارے میں شر اور فساد کو بڑھانے ہی کا کام کرتے۔ اور تمہارے درمیان فتنہ پر دازی کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے۔ مثلاً لگائی بجھائی کرتے تمہارے دلوں کو مرعوب کرنے کی دوڑ دھوپ میں لگتے۔ مزید فرمایا (وَ فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ ) (اور تمہارے اندر ایسے لوگ ہیں جو ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں) گو ساتھ چل کر آگئے ہیں لیکن ان کی نیت جہاد فی سبیل اللہ کی نہیں ہے۔ تمہارے اندر گھل مل کر تمہاری خبریں لینا اور ان لوگوں کو پہنچانا جو تمہارے ساتھ نہیں آئے، یہ ان کا مشغلہ ہے۔ (وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بالظّٰلِمِیْنَ ) (اور اللہ کو ظالموں کا پوری طرح علم ہے) وہ ان کے ظلم کا بدلہ دے گا۔ اس کے بعد منافقین کی جماعت کی پرانی شرارتوں کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

وہ پہلے سے فتنہ پردازی کی فکر میں لگے رہے ہیں اور آپ کے لیے کار روائیوں کا الٹ پھیر کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوا حالانکہ ان کو نا گوار ہو رہا تھا۔

(لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ ) کہ (اس غزوہ سے پہلے بھی وہ فتنہ کی راہ تلاش کرچکے ہیں) یہ لوگ غزوۂ احد کے موقع پر بھی راستہ سے واپس چلے گئے تھے۔ (وَ قَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ ) اور آپ کو تکلیف دینے کی کار روائیوں میں الٹ پھیر اور طرح طرح کی مکاریوں اور ایذاء پہنچانے کی تدبیر کرتے رہے ہیں۔ (حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَ ھُمْ کٰرِھُوْنَ ) (یہاں تک کہ سچا وعدہ آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوا اگرچہ انہیں نا گوار ہو رہا تھا) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان کی تدبیریں اور شرارتیں پہلے سے جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے محفوظ فرمایا۔ آئندہ کے لیے بھی ان کی مفسدانہ کار روائیوں کا خیال نہ لانا اور اب جو یہ لوگ تبوک کے لیے آپ کے ہمراہ روانہ نہ ہوئے اس سے بھی رنجیدہ نہ ہوں۔ اللہ کی راہ میں جہاد نہ کرنا اور اسلام اور داعی اسلام کی دشمنی پر کمر بستہ رہنا یہ ان کی پرانی عادت ہے۔