Ayah 9:111اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے جنت کے عوض ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے
معالم التنزیل (ص 329 ج 2) اور ابن کثیر (ص 391 ج 2) میں محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ جب حضرات انصار لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے لگے (جو ستر افراد تھے) تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں مشروط فرما لیں آپ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے اس بات کو مشروط کرتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو گے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہیں بناؤ گے اور اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری اسی طرح حفاظت کرو گے جیسی اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ان شرطوں کو پورا کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ تمہیں جنت ملے گی۔ کہنے لگے کہ یہ تو نفع کا سودا ہے ہم اس معاملہ کو فسخ نہیں کریں گے اس پر آیت شریفہ (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی) آخر تک نازل ہوئی۔ اس آیت میں بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے کہ جان اور مال سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے پھر بھی اس نے نام خریداری رکھ دیا۔ اگر وہ جان و مال خرچ کرنے کا حکم دیتا اور اس کی راہ میں مقتول ہوجانے پر کچھ بھی عطا نہ فرماتا تو اسے اس کا حق تھا۔ لیکن اس نے اپنی راہ میں جان و مال خرچ کرنے پر جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرما لیا اور ذرا سی قربانی پر بہت بڑی جنت دینے کا وعدہ فرما دیا۔ یہ اعلان سچا ہے اور وعدہ پکا ہے۔ توریت، انجیل اور قرآن میں یہ وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اس کا وعدہ سچا بھی ہے اور اسے ہر طرح کی قدرت بھی حاصل ہے۔ دنیا والے بعض مرتبہ وعدہ کرلیتے ہیں اور وعدہ سچا بھی ہوتا ہے لیکن قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وعدہ پورا کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ وعدہ کے پورا کرنے سے عاجز نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جو معاملہ ہوا بندے اس پر خوشی منائیں۔
اللہ تعالیٰ نے جو کچھ عطاء فرمایا تھا یعنی جان اور مال وہ اس کو اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں اپنا ذاتی کچھ نہیں سمجھتے جو کچھ خرچ کریں گے اس کے عوض انہیں جنت ملے گی۔ جنت کے سامنے اس معمولی سی قربانی کی کوئی حیثیت نہیں۔ دیا تھوڑا سا اور ملا بےحساب وہ بھی دائمی ابدالآباد کے لیے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا ثامنھم اللہ عزوجل فاغلی لھم کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لین دین کا معاملہ کیا اور بہت زیادہ قیمتی چیز عطا فرمائی، حضرت حسن نے فرمایا کہ اسعوا الی بیعۃٍ ربیحۃٍ یعنی نفع والی بیع کی طرف دوڑو جس کا معاملہ اللہ نے ہر مومن سے کیا ہے۔
آیت کریمہ میں (فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ ) فرمایا کہ مومنین اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں پھر کافروں کو قتل کرتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ دونوں حالتیں مومن کے لیے خیر ہیں اور بعض مجاہدین کو دونوں ہی باتیں نصیب ہوجاتی ہیں اولاً کافروں کو قتل کرتے ہیں پھر خود مقتول ہوجاتے ہیں۔ سورة نساء میں فرمایا (وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا) (اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے پھر وہ مقتول ہوجائے یا غالب ہوجائے تو ہم اسے عنقریب اجرعظیم عطا کریں گے) مومن کا قاتل ہونے میں بھی فائدہ ہے اور مقتول ہونے میں بھی۔ اگر مال غنیمت مل گیا تو وہ بھی خیر اس سے ثواب باطل نہیں ہوتا۔ جبکہ وہ مقصود نہ ہو۔ مقصود صرف اللہ کی رضا ہو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گھر سے نکلا اور اس کا یہ نکلنا (کسی دنیاوی مقصد کے لیے نہیں ہے) صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے نکلا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اس کو ثواب اور غنیمت کے مال کے ساتھ اس کے گھر واپس لوٹا دے گا جہاں سے وہ گیا تھا۔ (رواہ مالک فی المؤطا اول کتاب الجہاد)
مطلب یہ ہے کہ اگر شہید ہوگیا تو اس شہادت کی وجہ سے مستحق جنت ہوگیا اور اگر زندہ واپس آگیا تب بھی نقصان میں نہیں۔ آخرت کا ثواب تو کہیں گیا ہی نہیں۔ اور بعض مرتبہ اس ثواب کے ساتھ مال غنیمت بھی مل جاتا ہے۔ و ھو فی صحیح البخاری (ص 391 ج 1) تو کل اللہ للمجاھد فی سبیلہ یتوفاہ أن یدخلہ الجنہ أو یرجعہ سالماً مع اجر و غنیمۃ۔ (صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ضمانت دی ہے کہ یا تو اسے شہادت دے کر جنت میں داخل کرے گا یا وہ صحیح سالم واپس لوٹے گا تو اجر اور مال غنیمت کے ساتھ ہیں)
فائدہ : جہاد کی فضیلت بتاتے ہوئے جو (وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰیۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ) فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے لیے بھی جہاد مشروع تھا۔ یہ جو مشہور ہے کہ شریعت عیسویہ میں جہاد نہیں تھا یہ ان لوگوں کی تحریف ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور اس نسبت میں جھوٹے ہیں۔ صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں۔ و فیہ دلیل علی أن أھل الملل کلھم امروا بالجھاد علی ثواب الجنۃ۔
Ayah 9:112مومنین کی صفات :
اس کے بعد مومنین کی صفات بتائیں اور یہ نو صفات ہیں۔
(اَلتَّآءِبُوْنَ ) (توبہ کرنے والے) (الْعٰبِدُوْنَ ) (عبادت کرنے والے) (الْحٰمِدُوْنَ ) (حمد بیان کرنے والے) (السَّآءِحُوْنَ ) (روزہ رکھنے والے) (الرّٰکِعُوْنَ ) (رکوع کرنے والے) (السّٰجِدُوْنَ ) (سجدہ کرنے والے) (الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ ) (بھلائیوں کا حکم دینے والے) (وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) (اور برائیوں سے روکنے والے) (وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے) ۔
آخر میں فرمایا (وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور ایمان والوں کو بشارت دے دو ) ۔
اَلتَّآءِبُوْنَ کی ترکیب نحوی بتاتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے یعنی التائبون و من ذکر معھم ھم اھل الجنۃ ایضاً یعنی جس طرح مجاہدین کے لیے جنت کا وعدہ ہے اسی طرح سے دوسرے اہل ایمان کے لیے بھی جنت کا وعدہ ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ جہاد عام احوال میں فرض عین نہیں ہوتا۔ جب فرض عین نہیں ہے تو جو لوگ اس میں مشغول نہ ہوں گے دوسرے دینی کاموں میں لگے ہوئے ہوں گے ان کے لیے بھی اللہ کی رضا ہے اور جنت ہے۔ اس جنت کی خوشخبری دینے کے لیے وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ فرمایا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ کے ذمہ ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنی اسی زمین میں بیٹھا رہے جس میں پیدا ہوا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ سنا دیں۔ آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار فرمایا ہے۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا بڑا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ (صحیح بخاری ص 391 ج 1)
مطلب یہ ہے کہ جنت تو اپنے وطن میں بیٹھ کر اعمال صالحہ کرنے سے بھی ملے گی لیکن مجاہدین کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے سو درجات تیار فرمائے ہیں ان کی بھی طلب رہنی چاہئے اور جہاد میں شریک ہونے کے مواقع نکالنے چاہئیں۔
فائدہ : مومنین کی صفات بتاتے ہوئے جو الَسَّآءِحُوْنَ بھی فرمایا ہے۔ اس کا معنی ایک تو وہی ہے جو اوپر ترجمہ میں بیان کیا گیا یعنی روزہ رکھنے والے۔ یہ معنی حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس سے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے مراد ہیں کیونکہ یہ ساح سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے سیاحت کرنا یعنی سفر کرنا اور حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اس سے طلبۃ العلم مراد ہیں جو دینی علوم حاصل کرنے کے لئے وطن کو چھوڑتے ہیں اور سفر میں جاتے ہیں۔
حدود اللہ کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے :
مومنین کے اوصاف میں (وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ ) بھی فرمایا ہے یہ بہت بڑی صفت ہے اس میں اہل ایمان کی بہت بڑی ذمہ داری بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ عمل کرنے میں اور دوسروں سے عمل کرانے میں اللہ کی مقرر کردہ حدود کی رعایت کریں ان حدود سے تجاوز نہ کریں۔ نہ حلال کو حرام قرار دیں نہ حرام کو حلال بتائیں نہ بدعتیں نکالیں نہ مستحبات کے ساتھ فرائض اور واجبات جیسا معاملہ کریں۔ اور نہ فرائض و واجبات کو چھوڑ کر بیٹھ جائیں۔ اسی کو سورة بقرہ میں فرمایا (تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (یہ اللہ کی حدود ہیں سو تم ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو شخص اللہ کی حدود سے آگے بڑھ جائے تو ایسے لوگ ظلم کرنے والے ہیں) تمام اعمال میں حدود کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔
فائدہ : آیت کریمہ (اَلتَّآءِبُوْنَ الْعَابِدُوْنَ ) (الآیۃ) کے ساتھ سورة بقرہ کی آیت (وَ اِذِابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ ) کی تفسیر کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ (ملاحظہ ہو انوار البیان جلد اول)
Ayah 9:113مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت
صحیح البخاری (ص 181 ج 2) میں لکھا ہے کہ جب (آنحضرت سرور عالم ﷺ کے چچا) ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے وہاں ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ تھے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ اے چچا ! لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہہ لو میں اس کو (تمہاری سفارش کے لیے) اللہ کے حضور میں پیش کر دونگا۔ آپ برابر یہ بات فرماتے رہے لیکن وہ دونوں شخص جو موجود تھے یعنی ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ ابو طالب سے کہتے رہے، کیا تم عبدالمطلب کے دین سے ہٹ رہے ہوں ؟ بالآخر ابو طالب نے یہ کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا۔ (پھر اسی پر ابو طالب کو موت آگئی) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہاری بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے منع نہ کیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (مَا کَان للنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) آخر تک نازل فرمائی۔
سنن الترمذی ابواب التفسیر (سورۃ القصص) میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دو ، میں قیامت کے دن تمہارے لیے گواہی دوں گا تو اس پر ابو طالب نے کہا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلاتے کہ گھبراہٹ میں اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیا تو میں اسے پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ (بالآخر انہوں نے کلمہ نہ پڑھا اور دین شرک پر ہی ان کی موت ہوگئی) چونکہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے قلب میں ان کے ایمان لانے کا بہت بڑا داعیہ تھا (اس لیے) اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (سورۃ قصص رکوع 6) نازل فرمائی۔ (آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اجازت فرما دی۔ سو تم قبروں کی زیارت کرو وہ موت کو یاد دلاتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 154)
Ayah 9:114حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لیے استغفار کرنا پھر اس سے بیزار ہونا :
مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت بیان فرمانے کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ ) (الآیۃ) (اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنے باپ سے ایک وعدہ کرلیا تھا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو ایمان کی دعوت دی، توحید کی طرف بلایا۔ بت پرستی چھوڑنے کے لیے کہا اس نے نہ مانا۔ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تو اپنی بات سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا (سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا) (سورۃ مریم رکوع 3) (اب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی درخواست کروں گا بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) اس وعدہ کے مطابق انہوں نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا۔ جیسا کہ سورة شعراء میں مذکور ہے۔ (وَاغْفِرْ لِاَبِیْ اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) (اور میرے باپ کو بخش دیجیے، بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا) سورة توبہ کی مذکورہ بالا آیت میں اسی کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ) کہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس کی طرف سے بیزار ہوگئے۔ صاحب روح المعانی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر واضح ہوگیا کہ ان کے باپ کی موت کفر پر ہوچکی ہے۔ لہٰذا انہوں نے بیزاری کا اظہار کردیا اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ اگر (تَبَیَّنَ لَہٗٓ) کا مطلب یہ لیا جائے جو حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے تو سورة شعراء میں جو (کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے باپ کو بخش دیجیے جو گمراہوں میں سے ہے۔ کَان اپنے معروف معنی میں نہ ہوگا۔ اور چونکہ کافروں کی مغفرت نہیں ہوسکتی اس لیے دعائے مغفرت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے اور اس کو بخش دے۔ اس صورت میں یوں کہا جائے گا کہ یہ دعا باپ کی موت سے پہلے کی تھی۔ بعض حضرات نے (فَلَمَّا تَبَیَّنَ ) کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کی دشمنی پر اور اللہ پر ایمان نہ لانے کا موت آنے تک برابرمصر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اس بات کی وحی آگئی تو انہوں نے بیزاری اختیار کرلی (کما ذکرہ فی الروح) اس صورت میں سورة شعراء میں جو (اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) ہے اس کا معنی یہ لیا جائے گا کہ جب میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا ہوں اس وقت میرا باپ گمراہوں میں سے تھا اب مجھے اس کا حال معلوم نہیں۔ ایمان کی توفیق دے کر اسے بخش دیا جائے۔ پھر جب وحی کے ذریعہ یہ معلوم ہوگیا کہ وہ کفر ہی پر مرے گا تو استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ بہر حال اب کسی کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ہے۔ سورة ممتحنہ میں جو (اِِلَّا قَوْلَ اِِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ لاََسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ) فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم اور ان کے ساتھی جو توحید اور اعمال میں ان کے شریک حال تھے ان میں تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہے سوائے اس بات کے جو ابراہیم نے اپنے باپ سے استغفار کرنے کا وعدہ کیا۔ اس بات میں ان کا اسوہ نہیں ہے۔
آخر میں فرمایا (اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ) کہ بلاشبہ ابراہیم بڑے رحم دل تھے بردبار تھے۔ ان کے باپ نے بڑی سخت باتیں کیں انہوں نے حلم سے کام لیا اور شفقت کی وجہ سے استغفار کا وعدہ بھی فرما لیا۔ جب تک استغفار کے نفع کی امید تھی اس کے لیے استغفار کیا پھر جب یہ واضح ہوگیا کہ استغفار کرنا اس لیے فائدہ مند نہیں ہوسکتا تو استغفار کرنا چھوڑ دیا۔
مضمون بالا سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کسی کافر اور مشرک کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے کسی کافر سے کیسا ہی تعلق ہو خواہ اپنا رشتہ دار ہی ہو اور خواہ کیسا ہی محسن ہو اس کے لیے استغفار کرنا حرام ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرما دیا کہ کافر اور مشرک کی کبھی بھی بخشش نہ ہوگی تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا یوں ہی بےسود ہے۔ ابو طالب رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے بہت بڑے ہمدرد بھی تھے انہوں نے آپ کی بہت مد د کی۔ دشمنوں سے آپ کو محفوظ رکھنے میں ظاہری اسباب کے اعتبار سے ان کا بڑا کردار ہے۔ جب ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگنے کی ممانعت فرما دی گئی تو آگے اور کسی کے لیے اس کی گنجائش کہاں ہوسکتی ہے ؟ اگر کسی کے والدین یا دونوں میں ایک کافر یا مشرک ہو تو مغفرت کی دعا کرنا ممنوع ہے۔
بہت سے فرقے ایسے ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں لیکن اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں وہ مرجاتے ہیں تو یہ جانتے ہوئے کہ اس کا عقیدہ کفر یہ تھا بعض لیڈر اور رؤساء، وزراء ایسے شخص کی نماز جنازہ میں حاضر ہوجاتے ہیں بلکہ نماز پڑھا دیتے ہیں اور اسے روا داری کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں اس میں اول تو قرآنی ممانعت کی واضح خلاف ورزی ہے دوسرے حاضرین کو اور جس فرقہ کا یہ شخص تھا اس فرقہ کو اس دھوکہ میں ڈالتے ہیں کہ کفریہ عقیدہ والے کی بھی مغفرت ہوسکتی ہے (العیاذ باللہ) قرآن کے خلاف کیسی جسارت ہے ؟ بہت سے لیڈر اور صحافی کفریہ عقیدہ والوں کی موت کے بعد ” مرحوم “ لکھ دیتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگئی یا اس پر رحمت ہوجائے یہ روا داری شریعت اسلامیہ کے سراسر خلاف ہے۔
Ayah 9:115کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ گمراہ نہیں کرتا
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی ہے جنہوں نے ممانعت نازل ہونے سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ اہل ایمان کی مذمت اور مواخذہ فرمائے کہ تم نے مشرکین کے لیے استغفار کیوں کیا جبکہ یہ استغفار کرنا ممانعت نازل فرمانے سے پہلے تھا، جن لوگوں نے استغفار کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے اس عمل کو گمراہی قرار نہیں دے گا۔ ہاں جب بات واضح طور پر بیان کردی گئی تو اس کی خلاف ورزی باعث مذمت اور سبب مواخذہ ہوگی (اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے) وہ جانتا ہے کہ کس نے ممانعت نازل ہونے سے پہلے کوئی عمل کیا اور کس نے ممانعت نازل ہونے کے بعد خلاف ورزی کی۔
جن کاموں پر گرفت ہوسکتی ہے وہ کام وہی ہیں جن کی پہلے اللہ جل شانہٗ کی طرف سے واضح طور پر ممانعت کردی جاتی ہے۔ اس کو (حَتّٰی یُبَیّنَ لَھُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ ) میں بیان فرمایا ہے۔ ممانعت کے بعد جب بندے خلاف ورزی کرتے ہیں تو مذمت اور مواخذہ کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
Ayah 9:116پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (الآیۃ) (بےشک اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا) وہ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے۔ اور اس کے علاوہ تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں (ص 396 ج 2) ابن جریر سے نقل کیا ہے کہ آخر میں یہ جو فرمایا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی یار ومدد گار نہیں۔ اس میں اہل ایمان کو ترغیب ہے کہ مشرکین اور رؤساء کفر سے قتال کرو اور اللہ کی مدد کا یقین رکھو اسی پر بھروسہ کرو اور اس کے دشمنوں سے نہ ڈرو۔ اللہ تمہارا مولی اور مددگار ہے۔
Ayah 9:117اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار پر مہربانی فرمائی جب کہ انہوں نے مصیبت کی گھڑی میں نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دیا
تاب یتوب کا اصل معنی رجوع کرنے کا ہے بندہ اللہ کی طرف گناہ کے بعد رجوع کرتا ہے اس لیے اسے تائب اور تواب کہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ مہربانی فرماتا ہے اسی لیے لفظ تواب اللہ تعالیٰ کی صفات میں بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل فرمانا، توبہ کی توفیق دینا۔ توبہ کو قبول فرمانا۔ معاملہ میں آسانی فرما دینا، تاب اللہ علیہ اس سب کو شامل ہے۔ قال صاحب القاموس تاب اللہ علیہ وفقہ للتوبۃ ورجع بہ من التشدید الی التخفیف اَو رجع علیہ بفضلہ و قبولہ و ھو توّاب علی عبادہ۔ (صاحب قاموس کہتے ہیں تاب اللہ عَلَیْہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق دی اور اس سے سختی کو ہٹا کر آسانی کردی یا اپنے فضل و قبولیت کے ساتھ اس پر توجہ فرمائی اور وہ اپنے بندوں کے لیے تواب ہے) ۔
لفظ تاب کا جو ترجمہ اوپر کیا گیا ہے اس میں اس مفہوم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ لہٰذا اب یہ اشکال نہ رہا کہ رسول اللہ ﷺ سے اور ان مہاجرین و انصار سے کون سا گناہ ہوا تھا جنہوں نے غزوہ تبوک میں شرکت کی اور گناہ کی وجہ سے توبہ کی اور وہ توبہ قبول ہوئی، تَابَ کے مفہوم میں فضل فرمانا۔ معاملہ میں آسانی دینا، توبہ کی توفیق فرمانا یہ سب کچھ آتا ہے۔ اس لیے تاب کا ایک عام ترجمہ کردیا گیا ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار ؓ کی جو تعریف فرمائی (کہ ان لوگوں نے سختی کی گھڑی میں نبی اکرم ﷺ کا اتباع کیا) یہ کون سی سختی تھی اور کیا مصیبت تھی اس کے بارے میں تفسیر و حدیث اور سیرت کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ایک بات حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ سے کسی نے پوچھا کہ سختی کی وہ کیا گھڑی تھی جس کا قرآن مجید میں ذکر ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے سخت گرمی کا زمانہ تھا ایک منزل پر اترے تو ہمیں سخت پیاس لگی۔ پیاس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہماری گردنیں ابھی کٹ کر گرپڑیں گی۔ اگر کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے بھی جاتا تھا تو واپس آنے میں پیاس کی شدت کی وجہ سے یہ سمجھ لیتا تھا کہ میری گردن کٹ کر گر جانے والی ہے۔ پیاس کی شدت کی وجہ سے بعض اشخاص نے یہاں تک کیا کہ اونٹ کو ذبح کر کے اس کی اوجھری کو نچوڑ کر پیا اور ترائی حاصل کرنے کے لیے اسے اپنے پیٹ پر رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعا کرنے کا عمل عطا فرمایا ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ آپ نے مبارک ہاتھ اٹھائے اور دعاء کی۔ ابھی آپ نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ بارش ہونی شروع ہوگئی اور خوب بارش ہوئی۔ جس سے حاضرین نے اپنے سارے برتن بھر لیے۔ پھر ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ بارش کہاں تک ہے تو معلوم ہوا کہ وہ لشکر کے حدود سے آگے نہیں بڑھی۔ (ذکرہ الھیثمی فی مجمع الزوائد ص 194 ج 2 و قال رواہ البزار و الطبرانی فی الأوسط و رجال البزار ثقات)
معالم التنزیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک میں جو حضرات شرکت کرنے کے لیے گئے تھے ان کے پاس سواریاں بھی بہت کم تھیں ایک اونٹ پر دس افراد نمبر وار سوار ہوتے تھے اور ان کے پاس توشہ یعنی سفر کا جو سامان تھا وہ ایسی کھجوریں تھیں جن میں چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے جو پرانی کھجوروں میں پڑجاتے ہیں اور کچھ جو تھے جن میں بد بو پیدا ہوگئی تھی جو تھوڑی بہت کھجوریں تھیں وہ بھی ختم ہوگئیں تو کھجور کی گٹھلی کو چوس کر اوپر سے پانی پی لیتے تھے۔ سات سو کلو میٹر کا یک طرفہ سفر، سخت گرمی اور سفر کی تکلیف کا یہ عالم ! انہیں حالات میں حضرات صحابہ ؓ نے غزوۂ تبوک میں شرکت کی۔ تمام مخلصین صحابہ حکم سنتے ہی تیار ہوگئے البتہ بعض لوگوں کو جو تھوڑا سا کچھ تردد ہوا بعد میں وہ بھی ساتھ ہوگئے۔
حضرات صحابہ کرام ؓ کی جانثاری اور فدا کاری کو دیکھئے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ اور روافض کو دیکھئے جو انہیں کافر کہتے ہیں۔ ھداھم اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 9:118تین حضرات کا مفصل واقعہ جو غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے
اس کے بعد ان تین حضرات کی توبہ قبول فرمانے کا خصوصی تذکرہ فرمایا جو مخلص بھی تھے۔ اور غزوہ تبوک میں ساتھ نہ گئے تھے انہوں نے بالکل سچ بولا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالی میں صاف صاف عرض کردیا کہ ہم بغیر عذر کے رہ گئے تھے یہ حضرات کعب بن مالک ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ آیت کریمہ (وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ ) میں اجمالی طور پر ان کا ذکر ہوچکا ہے یہاں دو بارہ ان کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اللہ نے ان تین شخصوں پر بھی اپنی مہربانی سے توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ ان تینوں حضرات کو زمین تنگ معلوم ہونے لگی اور اپنے نفسوں میں بھی تنگی محسوس کرنے لگے یعنی ان کا جینا بہت زیادہ دشوار اور دو بھر ہوگیا۔ اول تو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی اور اوپر مقاطعہ کا حکم کہ کوئی ان سے نہ بولے یہ سب باتیں مل کر بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہوگئے تھے جن کا واقعہ تفصیل سے حضرت کعب بن مالک کی زبانی امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ نے کتاب المغازی (ص 634 ج 2) میں یوں بیان کیا ہے۔
حضرت کعب بن مالک ؓ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ سے فارغ ہو کر واپس تشریف لانے لگے تو مجھے زیادہ فکر لا حق ہوگئی میں سوچتا رہا کہ میں آپ کی نا گواری سے کیسے نکلوں گا اس بارے میں یہ بھی خیال آتا تھا کہ جھوٹے عذر پیش کر دوں گا۔ اور اپنے گھر والوں سے بھی اس بارے میں مشورہ کرتا تھا۔ جب آپ بالکل ہی مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو جھوٹ بولنے کا جو خیال تھا وہ بالکل ختم ہوگیا اور میں نے یہ طے کرلیا کہ سچ ہی بولوں گا اور سچ ہی کے ذریعہ میں آپ کی ناراضگی سے نکل سکتا ہوں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے ہی آئے۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سفر سے تشریف لاتے تھے تو اول مسجد میں جاتے تھے وہاں دو رکعتیں پڑھ کر تشریف فرما ہوجاتے تھے۔ جب آپ اپنے اس عمل سے فارغ ہوگئے تو وہ لوگ آگئے جو غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے پیچھے رہ گئے تھے۔ یہ لوگ حاضر خدمت ہوئے اور اپنے اپنے عذر پیش کرتے رہے اور قسمیں کھاتے رہے۔ یہ لوگ تعداد میں اسی سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ظاہری طور پر ان کے عذر قبول فرماتے رہے۔ ان کو بیعت بھی فرمایا اور ان کے لیے استغفار بھی کیا اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد فرما دیا۔
حضرت کعب نے بیان کیا میں بھی حاضر خدمت ہوا۔ میں نے سلام عرض کیا۔ آپ مسکرائے جیسے کوئی غصہ والا شخص مسکراتا ہو پھر فرمایا آ جا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔
آپ نے فرمایا تمہیں کس چیز نے پیچھے ڈالا (غزوۂ تبوک میں کیوں شریک نہیں ہوئے ؟ ) کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی۔ میں نے عرض کیا واقعتا میں نے سواری خرید لی تھی۔ اللہ کی قسم اگر اصحاب دنیا میں سے کسی کے پاس بیٹھتا تو میں اس کی ناراضگی سے عذر پیش کر کے نکل سکتا تھا میں بات چیت کرنے کا ڈھنگ جانتا ہوں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں اور اس پر قسم کھاتا ہوں کہ اگر آج میں آپ کے سامنے جھوٹی بات پیش کر کے آپ کو راضی کرلوں تو عنقریب ہی اللہ تعالیٰ (صحیح بات بیان فرما کر) آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اور اگر میں سچی بات بیان کروں تو آپ غصہ تو ہوں گے لیکن میں اس میں اللہ سے معافی کی امید رکھتا ہوں، اللہ کی قسم مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جتنا قوی اور غنی میں اس موقعہ پر تھا جبکہ آپ سے پیچھے رہ گیا ایسی قوت والا اور مال والا میں کبھی بھی نہیں ہوا۔ میری بات سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص نے سچ کہا پھر فرمایا کھڑے ہوجاؤ۔ یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں فیصلہ فرمائے۔
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے اٹھا اور قبیلہ بنی سلمہ کے لوگ میرے ساتھ ہو لیے انہوں نے اللہ کی قسم جہاں تک ہمارا علم ہے اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ کیا تم یہ نہ کرسکے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسی طرح عذر پیش کردیتے جیسے دوسرے لوگوں نے اپنے عذر پیش کیے اور پھر رسول اللہ ﷺ کا استغفار فرمانا تمہارے لیے کافی ہوجاتا، اللہ کی قسم ان لوگوں نے مجھے اتنی ملامت کی کہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ واپس جا کر اپنے بیان کو جھٹلا دوں (اور کوئی عذر پیش کر دوں) پھر میں نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ بتاؤ میرا شریک حال اور کوئی شخص بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں دو آدمی ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اپنا بیان دیا ہے جیسا تم نے بیان دیا ہے اور ان کو وہی جواب دیا گیا جو تم کو دیا گیا، میں نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں۔ ان لوگوں نے میرے سامنے ایسے دو شخصوں کا ذکر کیا جو صالحین میں سے تھے۔ میں نے کہا کہ میں ان دونوں کی اقتداء کرتا ہوں۔ جو ان کا حال ہوگا وہی میرا حال ہوجائے گا۔
حضرت کعب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیا۔ لہٰذا لوگ ہم سے بچ کر رہنے لگے اور یکسر بد ل گئے۔ میرا تو یہ حال ہوا کہ زمین بھی مجھے دوسری زمین معلوم ہونے لگی گویا کہ میں اس زمین میں رہتا ہوں جسے جانتا بھی نہیں۔ رات دن برابر گزر رہے تھے میں مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں حاضر ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا لیکن مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں میری حاضری ہوتی تھی، آپ نماز کے بعد تشریف فرما ہوتے تو میں سلام عرض کرتا اور اپنے دل میں یہ خیال کرتا تھا کہ سلام کے جواب کے لیے آپ ہونٹ ہلاتے ہیں یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب نماز پڑھتا تھا اور نظر چرا کر آپ کی طرف دیکھتا تھا۔ جب میں نماز پڑھتا تھا تو آپ میری طرف توجہ فرماتے تھے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ اعراض فرما لیتے تھے۔ یہ تو میرا حال تھا۔ لیکن میرے جو دو ساتھی تھے وہ تو بالکل ہی عاجز ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور برابر روتے رہے۔
اس مقاطعہ کے زمانہ میں ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھا جن سے مجھے بہ نسبت اور لوگوں کے سب سے زیادہ محبت تھی، میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا اے ابو قتادہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں یہ سن کر وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی اور ان کو قسم دلائی وہ پھر خاموش ہوگئے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی اور ان کو قسم دلائی تو انہوں نے اتنا کہہ دیا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمْ (اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والا ہے) یہ بات سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور میں واپس ہوگیا اور دیوار پھاند کر چلا آیا۔
اور دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ میں مدینہ منورہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ شام کے کا شتکاروں میں سے ایک شخص جو غلہ بیچنے کے لیے مدینہ منورہ آیا ہوا تھا لوگوں سے پوچھ رہا تھا کہ کعب بن مالک کون شخص ہے ؟ لوگ میری طرف اشارے کرنے لگے۔ وہ میرے پاس آیا اور غسان کے بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا۔ جس میں لکھا تھا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تمہارے آقا نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کیا ہے اور اللہ نے تمہیں گرا پڑا آدمی نہیں بنایا۔ لہٰذا تم ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہاری دلداری کریں گے۔ یہ خط پڑھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ ایک اور آزمائش سامنے آگئی۔ میں نے اس خط کو لے کر تنور میں جھونک دیا۔
مقاطعہ کے سلسلہ میں ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم تینوں کو حکم بھیجا کہ اپنی بیویوں سے علیحدہ رہیں۔ ہلال بن امیہ کی بیوی تو حاضر خدمت ہو کر یہ عذر پیش کر کے اجازت لے آئی کہ وہ بہت زیادہ بوڑھے ہیں ان کا کوئی خادم نہیں ہے آپ نے خدمت کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ وہ میاں بیوی والا جو خاص تعلق ہے اس کو کام میں نہ لایا جائے۔ میرے خاندان والوں نے مجھے بھی مشورہ دیا کہ تم بھی اجازت طلب کرلو کہ تمہاری بیوی تمہاری خدمت کردیا کرے۔ میں نے کہا کہ میں جوان آدمی ہوں میں ایسا نہیں کرسکتا۔
جب اس مقاطعہ پر پچاس راتیں گزر گئیں تو نماز فجر کے بعد جبکہ میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا اور میرا حال وہ ہوچکا تھا جس کا قرآن مجید میں ذکر ہے کہ اپنی جان سے بھی تنگ آگیا اور زمین بھی میرے لیے اپنی کشادگی کے باوجو دتنگ ہوگئی تو میں نے ایک بلند آواز سنی جبل سلع پر چڑھ کر کوئی شخص بلند آواز سے پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک خوش ہوجاؤ یہ آواز سن کر میں سجدہ میں گرپڑا اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ مصیبت دور ہونے کی کوئی صورت سامنے آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کا اعلان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول فرما لی۔ یہ اعلان نماز فجر کے بعد فرمایا تھا۔ اعلان سن کر لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لیے روانہ ہوئے۔ میرے ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے چلے اور ایک صاحب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر میری طرف چلے۔ لیکن قبیلہ بنی اسلم کے ایک صاحب دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر توبہ کی خوشخبری سنا دی۔ اس شخص کی آواز گھوڑ سوار سے پہلے پہنچ گئی۔ جب وہ شخص میرے پاس پہنچا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو اسے میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر دے دیئے۔ اس وقت میرے پاس یہی دو کپڑے تھے (اگرچہ مال بہت تھا) میں نے دونوں کپڑے دے دیئے اور خود دو کپڑے مانگ کر پہن لیے۔
میں رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوا۔ صحابہ کرام مجھ سے فوج درفوج ملاقات کرتے تھے اور توبہ قبول ہونے پر مبارکبادی دیتے تھے میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما ہیں آپ کے چاروں طرف حاضرین موجود ہیں۔ میری طرف طلحہ بن عبید اللہ دوڑے ہوئے آئے یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ میں ان کے اس عمل کو کبھی نہیں بھولوں گا اس کے علاوہ مہاجرین میں سے کوئی بھی میری طرف اٹھ کر نہیں آیا۔ (وجہ اس کی یہ تھی کہ اگر سبھی اٹھتے تو مسجد نبوی جو سکون و اطمینان کے ساتھ جمی ہوئی تھی وہ ٹوٹ جاتی، سب کی طرف سے ایک شخص کا کھڑا ہونا کافی ہوگیا)
میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اس وقت آپ کا چہرۂ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا آپ نے فرمایا کہ تم خوشخبری قبول کرو۔ جب سے تمہاری پیدائش ہوئی ہے تم پر آج سے بہتر کوئی دن نہیں گزرا اس سے اسلام لانے کا دن مستثنیٰ ہے (کمافی حاشیتہ البخاری عن القسطلانی) رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی خوشی کا موقعہ آتا تھا تو آپ کا چہرہ انور ایسا روشن ہوجاتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم آپ کی خوشی کو اسی سے پہچان لیتے تھے۔ جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنی توجہ میں اس بات کو بھی شامل کرلیا کہ میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے خرچ کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا کچھ مال رکھ لو، تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے کہا اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو مجھے خیبر کے مال غنیمت سے ملا تھا۔
پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ نے مجھے سچ ہی کے ذریعہ نجات دی ہے اور میں نے اپنی توبہ میں اس بات کو بھی شامل کرلیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا سچ ہی بولوں گا کہنے کو تو میں نے کہہ دیا لیکن میرے علم میں مسلمانوں میں کوئی ایسا نہیں جو سچ بولنے کے بارے میں مجھ سے زیادہ مبتلا کیا گیا ہو۔ میں آج تک اس پر قائم ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سچ بولنے کا عہد کیا اس وقت سے لے کر آج تک کبھی میں نے جان کر جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ باقی زندگی بھی میری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے توبہ قبول فرمانے کی بشارت دیتے ہوئے آیت شریفہ (لَقَدْ تَّاب اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُھٰجِرِیْنَ ) سے لے کر (وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ) تک آیات نازل فرمائیں۔ حضرت کعب نے یہ بھی فرمایا کہ نعمت اسلام کے بعد اس سے بڑی کوئی نعمت مجھے حاصل نہیں ہوئی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سچ بات کہہ دی تھی۔ اگر میں جھوٹ کہہ دیتا تو میں بھی ہلاک ہوجاتا جیسے دوسرے لوگ جھوٹے عذر پیش کر کے ہلاک ہوگئے۔
فوائد ضروریہ : حضرت کعب بن مالک ؓ اور ان کے دونوں ساتھیوں کے واقعہ سے بہت سے فوائد مستنبط ہوتے ہیں۔
(1) مومن بندوں پر لازم ہے کہ ہمیشہ سچ بولیں، سچی بات کہیں، سچ ہی میں نجات ہے۔ اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ منافقین نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر جھوٹے عذر پیش کر کے دنیا میں جانیں چھڑا لیں لیکن آخرت کا عذاب اپنے سر لے لیا اور مخلصین مومنین نے سچ بولا اور سچی توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی توبہ قبول فرمانے کا اعلان فرما دیا۔ اگر کوئی شخص اپنے اکابر سے اور متعلقین سے جھوٹ بولے چند دن ممکن ہے کہ اس کا جھوٹ چل جائے لیکن پھر اس کی پول کھل ہی جاتی ہے۔ اور ذلت کا منہ دیکھتا پڑتا ہے۔
(2) امیر المومنین اگر مناسب جانے تو بعض افراد کے بارے میں مقاطعہ کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ عامۃ المسلمین کو حکم دے سکتا ہے کہ فلاں فلاں شخص سے سلام کلام بند رکھیں۔ جب وہ صحیح راہ پر آجائے تو مقاطعہ ختم کردیا جائے۔
(3) بعض مرتبہ ابتلاء پر ابتلا ہوجاتا ہے۔ حضرت کعب بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی میں اور مقاطعہ کی مصیبت میں مبتلا تو تھے ہی اوپر سے شاہ غسان کا یہ خط ملا کہ تم ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تمہاری قدر دانی کریں گے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان پر استقامت بخشی اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی ہی کو سامنے رکھا اور بادشاہ کے خط کو تنور میں جھونک دیا۔ اگر وہ اس وقت اپنے عزائم میں کچے پڑجاتے اور شاہ غسان کی طرف چلے جاتے تو اس وقت کی ظاہری مصیبت بظاہر دور ہوجاتی لیکن ایمان کی دولت سے محروم ہو کر آخرت برباد ہوجاتی۔ اس قسم کے ابتلاء ات اور امتحانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا کرے اور استقامت پر رہے۔
(4) حضرت کعب ؓ مقاطعہ کے باو جود مسجد میں حاضر ہوتے رہے نمازیں پڑھتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سلام بھی پیش کرتے رہے۔ یہ نہیں سوچا کہ چلو آپ روٹھے ہم چھوٹے، جیسا کہ ان لوگوں کا طریقہ ہوتا ہے جن کا تعلق اصلی نہیں ہوتا۔
(5) جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم آجائے تو اس کے مقابلہ میں کسی عزیز قریب کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ حضرت قتادہ جو حضرت کعب بن مالک کے چچا زاد بھائی اور انہیں سب سے زیادہ محبوب تھے جب انہیں سلام کیا تو جواب نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے سلام کلام کی ممانعت تھی۔
(6) جب آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں تینوں حضرات کی توبہ قبول فرمانے کا ذکر تھا تو حضرات صحابہ نے کعب بن مالک اور ان کے دونوں ساتھیوں کو جلدی سے بشارت دینے کی کوشش کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینی معاملات میں کسی کو کوئی کامیابی حاصل ہوجائے جس کا اسے علم نہ ہو تو اسے بشارت دینی چاہئے اور اس میں جلدی کرنی چاہئے۔
(7) پھر جب حضرت کعب ؓ توبہ کا اعلان سننے کے بعد اپنے گھر سے نکلے تو حضرات صحابہ ؓ نے جوق در جوق ان سے ملاقاتیں کیں اور برابر انہیں مبارکبادیاں رہے یہ مبارک بادی توبہ قبول ہونے پر تھی، معلوم ہوا کہ دینی امور میں اگر کسی کو کامیابی حاصل ہوجائے تو اسے مبارک بادی دینا چاہئے۔
(8) جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حضرت کعب پہنچے تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر ان سے مصافحہ کیا اور مبارک بادی دی اس سے معلوم ہوا کہ زبانی مبارک بادی کے ساتھ عملی طور پر مبارکباد دینا بھی مستحب ہے۔
(9) آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عہد کرنا اور جو کچھ گناہ کیا ہو اس پر سچے دل سے نادم ہونے سے توبہ قبول ہوجاتی ہے (اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تلافی کرنا بھی لازم ہوتا ہے) لیکن توبہ کو اقرب الی القبول بنانے کے لیے مزید کوئی عمل کرنا مستحب ہے۔ اور توبہ قبول ہونے کے بعد بطور شکر کچھ مال خیرات کرنا بھی مستحب ہے۔ صلاۃ التوبہ جو مشروع ہے اس میں یہی بات ہے کہ توبہ کی قبولیت جلد ہوجائے اور قبول کرانے کے لیے ندامت کے ساتھ کوئی اور عمل بھی شامل ہوجائے۔ حضرت کعب نے توبہ قبول ہوجانے کے بعد جو یہ عرض کیا کہ میں نے اللہ کی رضا کے لیے بطور صدقہ اپناپورا مال خرچ کرنے کی نیت کی ہے۔ یہ نیت اگر پہلے سے تھی تو صلوٰۃ التوبہ کی طرح ایک عمل ہے اور اگر بعد میں نیت کی تھی تو بطور ادائے شکر تھی۔
(10) حضرت کعب نے عرض کیا کہ میری توبہ کا یہ بھی جزو ہے کہ میں اپنا پورا مال بطور صدقہ خرچ کر دوں، اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب خرچ نہ کرو کچھ مال روک لو۔ اس پر انہوں نے کہا کہ تو میں اپنا خیبر والا حصہ روک لیتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پورا مال صدقہ کر کے پریشانی میں نہ پڑجائے۔ البتہ اگر کسی نے پورا مال صدقہ کرنے کی نذر مان لی (جو زبان سے ہوتی ہے) تو اس کو پورا مال صدقہ کرنا واجب ہے لیکن اس سے بھی یوں کہا جائے گا کہ اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے بقدر ضرورت کچھ روک لے اور آئندہ جب مال تیری ملکیت میں آجائے تو جو مال روک لیا تھا اسی جنس کا مال صدقہ کردینا تاکہ نذر پر پوری طرح عمل ہوجائے۔ حضرت کعب کے واقعہ میں چونکہ نذر نہیں تھی محض نیت تھی، اس لیے جتنا مال روک لیا تھا۔ اس کے برابر میں صدقہ کرنے کا ذکر حدیث میں نہیں ہے۔
(11) جو شخص جس قدر کسی گناہ سے بچنے کا اہتمام کرنے کا عہد کرلیتا ہے اسے عموماً ایسے مواقع پیش آتے رہتے ہیں جن میں اس گناہ کے کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ ایک بڑا امتحان ہوتا ہے۔ حضرت کعب نے چونکہ ہمیشہ سچ بولنے کا عہد کرلیا تھا اس لیے اس بارے میں ان کا بار بار امتحان ہوتا رہتا تھا۔