9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 9:64–66

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان باتوں کو بتادے جو ان کے دلوں میں ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ تم مذاق بنالو۔ بلاشبہ اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے ہو،

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں گے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہم تو بس یونہی باتوں میں مشغول تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ آپ فرما دیجیے کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی کرتے تھے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

عذر بیان نہ کرو۔ تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے، اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں گے تو دوسری جماعت کو ہم عذاب دیں گے اس وجہ سے کہ وہ مجرم تھے۔

منافقین کی مزید شرارتوں کا تذکرہ منافقوں کی شرارتیں جاری رہتی تھیں۔ ان میں سے جو لوگ غزوۂ تبوک کے لیے جانے والے مسلمانوں کے ساتھ سفر میں چلے گئے تھے (جن میں اہل نفاق کے لیے جاسوسی کرنے والے بھی تھے) انہوں نے طرح طرح سے تکلیفیں دیں اور برے منصوبے بنائے۔ منافقین کی عادت تھی کہ آپس میں مل کر اسلام اور داعی اسلام ﷺ اور اہل اسلام کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی انہیں یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ قرآن میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ہمارے دلوں کی باتوں کو کھول دے۔ ان کی نیتوں، باتوں اور ارادوں کو سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس سورت کا ایک نام سورة الفاضحہ بھی ہے کیونکہ اس میں منافقوں کے بھیدوں اور حالوں کو خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ منافقین آپس میں چپکے چپکے اسلام کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے اور رسوائی سے ڈرتے بھی رہتے تھے لیکن اپنی بےہودگیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (قُلِ اسْتَھْزِءُ وْا) تم مذاق بنا لو، یہ لوگ ایک 1 ؂ د ن آپس میں یوں کہہ رہے تھے کہ یہ شخص اس بات کی امید رکھتا ہے کہ ملک شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے فتح ہوجائیں گے یہ تو کبھی بھی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی ان باتوں کی رسول اللہ ﷺ کو خبر دے دی۔ آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا ان لوگوں کو روک لو۔ جب آپ ان کے پاس پہنچ گئے تو ان سے فرمایا تم نے ایسا ایسا کہا ہے اس پر انہوں نے اقرار تو کرلیا لیکن بات بناتے ہوئے عذر پیش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تو یوں ہی زبانی باتیں تھی۔ جو آپس میں دل لگی کے طور پر ہو رہی تھیں۔ سفر کی مسافت طے کرنے کے لیے کچھ باتیں ہونی چاہئیں لہٰذا یوں ہی وقت گزاری کے طور پر ہم ایسی باتیں کر رہے تھے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (قُلْ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (آپ فرما دیجیے کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کر رہے تھے) یہ تو عذر گنا بد تر از گناہ ہے۔ دل لگی اور وقت گزارنے کے لیے کیا اور کوئی بات نہ تھی۔ اس کے لیے اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کا مذاق ہی رہ گیا تھا۔ (لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ) تم عذر پیش نہ کرو کیونکہ جو عذر پیش کیا ہے وہ عذر نہیں ہے۔ وقت گزاری کی ضرورت کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا مذاق بنانا جائز نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کا مذاق بنانا تو کفر ہے تم ظاہری طور پر کہتے تھے کہ ہم مومن ہیں۔ اول تو یہ بھی جھوٹ تھا۔ لیکن اب تو اپنے اقرار سے ظاہری طور پر بھی کافر ہوگئے اندر سے تو پہلے ہی کافر تھے، زبانی طور پر جو ایمان کا دعویٰ تھا اس کے بارے میں فرمایا (قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ) پھر فرمایا (اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآءِفَۃٍ مِّنْکُمْ ) اگر ہم تم میں سے بعض کو اسلام قبول کرنے کی سعادت سے مالامال کر کے معاف کردیں گے اور کفریہ باتوں سے در گزر کردیں گے۔ (نُعَذِّبْ طَآءِفَۃً بِاَنَّھُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ) (تو ایک جماعت کو عذاب دیں گے، کیونکہ وہ مجرم تھے) یہ لوگ مجرم ہی رہیں گے اور آخر دم تک اسلام قبول نہ کریں گے۔ منافقین میں سے جن لوگوں نے توبہ کی اور پکے مسلمان ہوئے ان میں محنی بن حمیر کا نام لیا جاتا ہے انہوں نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ لیا تھا اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی کہ شہادت نصیب ہو اور قتل کا پتہ بھی نہ چلے۔ چناچہ غزوۂ یمامہ میں ان کی شہادت ہوگئی، نہ قاتل کا پتہ چلا نہ مقتول کا، اور ان کی کوئی خیر و خبر نہ ملی۔ (درمنثور ص 254 ج 2)
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ بری باتوں کا حکم کرتے ہیں اور اچھی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے، سو اللہ انہیں بھول گیا، بیشک منافقین نافرمان ہی ہیں۔

منافق مرد و عورت نیکیوں سے روکتے ہیں، بخیل ہیں، اللہ تعالیٰ کو بھول گئے ہیں ان آیات میں منافقین کی مزید بد حالی بیان فرمائی ہے اول تو یوں فرمایا کہ منافق مرد اور منافق عورتیں سب آپس میں ایک ہی طرح کے ہیں۔ نفاق کے متقضیٰ پر عمل کرتے ہیں۔ اس میں سے یہ بھی ہے کہ برائی کا حکم دیتے ہیں۔ جس میں سے سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی تکذیب پر لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں۔ اور نیکیوں سے روکتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑی نیکی کلمۂ توحید کی گواہی ہے۔ (وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْ ) اور یہ لوگ اپنے ہاتھوں کو روکتے ہیں اور کنجوس ہیں مٹھی بند رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے کاموں میں مال خرچ نہیں کرتے۔ پھر فرمایا (نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ ) کہ یہ لوگ اللہ کو بھول گئے یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کو بالکل ہی چھوڑ بیٹھے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کی طرف سے بالکل پشت پھیرلی۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو بھولنے والا کیا کرتا ہے، انہیں اپنے لطف اور مہربانی سے محروم فرما دیا۔ (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) (بلاشبہ منافق فاسق ہی ہیں جو سر کشی میں اور نافرمانی میں کمال رکھتے ہیں) ۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں سے اور منافق عورتوں سے اور تمام کافروں سے دوزخ کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ان کے لیے دوزخ کافی ہے اور اللہ نے ان کو ملعون قرار دیدیا اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

منافقین کو دنیا سے محبت ہے اور ان کے لیے عذاب دوزخ ہے اس کے بعد منافقین اور دیگر عام کفار کے لیے وعید کا تذکرہ فرمایا (وَعَدَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْکُفَّارَ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے جہنم کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ھِیَ حَسْبُھُمْ ) یہ آگ ان کے لیے کافی ہوگی۔ یہ کلمہ بطور توبیخ ہے۔ وہ چونکہ دنیا ہی کو اپنے لیے سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے فرمایا کہ دنیا تو ختم ہوجائے گی اب دوزخ کی آگ ہی ان کے لیے سب کچھ ہوگی (وَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ) اور اللہ نے ان کو ملعون قرار دیا۔ ان پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے (وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ) اور ان کے لیے عذاب ہے جو بر قرار رہے گا یعنی دائمی ہوگا ہمیشہ ہوگا۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

تمہاری حالت انہیں لوگوں کی طرح سے ہے جو تم سے پہلے تھے، وہ لوگ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور مال و اولاد میں تم سے زیادہ تھے۔ سو انہوں نے اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کیا جو تم سے پہلے تھے۔ اور تم بھی ایسے ہی گھستے چلے گئے جیسا کہ وہ لوگ گھسے تھے۔ ان کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت ہوگئے، اور وہ لوگ نقصان میں پڑنے والے ہیں

اس کے بعد فرمایا (کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) (الآیۃ) اس میں منافقوں سے خطاب ہے کہ تم لوگ انہیں لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ لوگ تم سے بڑھ کر قوت اور طاقت والے اور تم سے زیادہ اموال اور اولاد والے تھے۔ وہ لوگ اپنے دنیاوی حصہ سے مستفید ہوئے اور تم بھی دنیاوی حصہ سے مستفید ہوئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگ اپنے حصہ سے مستفید ہوئے وہ لوگ بھی دنیا ہی میں لگے اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھا تم لوگ بھی انہیں کی راہ پر ہو۔ تم لوگ بھی باطل میں اور برائیوں میں اسی طرح گھس گئے جس طرح تم سے پہلے لوگ گھسے تھے۔ ان کا جو انجام ہوا تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔ پھر انجام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) کہ یہ وہ لوگ تھے جن کے اعمال دنیا و آخرت میں بیکار چلے گئے۔ دنیا تھوڑی سی تھی۔ فانی تھی جو ختم ہوگئی اور جو کچھ ملا تھا وہ بطریق استدراج تھا۔ انعام و اکرام کے طور پر نہ تھا۔ اور آخرت میں تو ظاہر ہے کہ کسی کافر کے لیے کوئی نعمت ہے ہی نہیں (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (یہ لوگ پوری طرح خسارے میں ہیں) دنیا بھی گئی اور آخرت کی نعمتوں سے بھی محروم ہوئے تم بھی انہیں کے طریقے پر چل رہے ہو خسارہ میں ہو۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے یعنی قوم نوح، اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور مدین والے لوگ اور الٹی ہوئی بستیاں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے سو اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

اقوام سابقہ کی بربادی سے عبرت لیں : اس کے بعد پرانی قوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِکٰتِ ) کیا ان لوگوں کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آئیں جو ان سے پہلے تھے، کیا نوح (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی کا حال اور عاد وثمود کی ہلاکت کے واقعات اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والوں کی ہلاکت کے قصے انہیں معلوم نہیں ہیں ؟ اور جو بستیاں برے کرتوتوں کی وجہ سے الٹ دی گئی تھی یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی کیا ان کے واقعات معلوم نہیں ہیں ؟ انہیں معلوم ہے کہ ان لوگوں پر عذاب اس لیے آیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو اور واضح دلائل کو جھٹلا دیا۔ پھر بھی کفر سے باز نہیں آتے۔ (اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسُھُمْ یَظْلِمُوْنَ ) (ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے سو اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے) ۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور عورتیں آپس میں بعض بعض کے مددگار ہیں۔ بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ اور نمازیں قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبر داری کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم فرمائے گا۔ بیشک اللہ عزت والا ہے حکمت والا ہے۔

مؤمنین کی خاص صفات، اور ان کے لیے رحمت اور جنت کا وعدہ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں وعیدیں بیان فرمانے اور ان کو پہلی امتوں کے واقعات یاد دلانے کے بعد مومنین کی صفات بیان فرمائیں۔ اولا تو یوں فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں اولیاء ہیں یعنی ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ دینی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں پھر فرمایا (یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) کہ یہ لوگ بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، بر عکس منافقین کے کہ وہ برائیوں کا حکم کرتے ہیں اور بھلائیوں سے روکتے ہیں پھر مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور صرف نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر ہی بس نہیں کرتے بلکہ ہر موقعہ پر اور ہر معاملہ میں اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان سے اپنی مہربانی کا وعدہ فرمایا کہ (اُولٰٓءِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ) (اللہ عنقریب ان پر رحم فرمائے گا) دنیا میں ان پر رحم فرما دیا کہ ان کو ایمان کی توفیق دے دی اور آخرت میں ان پر رحم فرمائے گا اور نعمتوں سے نوازے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بےشک اللہ تعالیٰ عزت والا ہے حکمت والا ہے) وہ غالب ہے ہر چیز پر قادر ہے جس چیز کا ارادہ فرمائے اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور اس کے سب کام اور فیصلے حکمت کے موافق ہیں۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ فرمایا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ایسے عمدہ مکانوں کا وعدہ فرمایا جو ہمیشگی والے باغوں میں ہوں گے اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔

پھر اہل ایمان کی آخرت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (منافقین سے نار جہنم کا وعدہ فرمایا اور اہل ایمان سے باغوں کا وعدہ فرمایا اور دونوں جماعتوڈ کے بارے میں خٰلِدِیْنَ فِیْھَا فرمایا کہ اپنی اپنی جزا اور سزا کے مقام میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے مزید فرمایا (وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) یعنی ان حضرات کے لیے عمدہ مکان ہوں گے جن میں وہ رہیں گے۔ اور یہ ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہوں گے اولاً باغوں کا ذکر فرمایا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ پھر عمدہ مکانوں کا تذکرہ فرمایا جو ان باغوں میں ہوں گے اور عدن کی طرف ان باغوں کی اضافت فرما کر یہ بتادیا کہ یہ باغ واقعی رہنے کی جگہیں ہیں۔ جہاں سے نہ کبھی منتقل ہونا چاہیں گے اور نہ انہیں وہاں سے منتقل کیا جائے گا۔ صاحب روح المعانی ص 136 ج 10 نے لفظ عدن کی تفسیر کرتے ہوئے متعدد اقوال لکھے ہیں۔ اور بعض روایات بھی نقل کی ہیں۔ پھر اخیر میں لکھا ہے۔ و قیل العدن فی الاصل الاستقرار و یقال عدن بالمکان اذا اقام و المراد بہ ھنا الاقامۃ علی وجہ الخلود لانہ الفرد الکامل المناسب لمقام المدح أی فی جنات اقامۃ و خلود، و علی ھذا الجنات کلھا جنات عدن لَا یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً الی آخر ما قالَ ۔ (کہا گیا ہے کہ عدن کا معنی ہے ثبات و استقرار اور عَدَنَ بالمَکَانِ اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ کوئی کہیں اقامت پذیر ہوجائے یہاں دائمی طور پر رہنا مراد ہے کیونکہ یہی مقام تعریف کے مناسب رہائش کا فرد کامل ہے یعنی رہائش کے اور ہمیشہ کے باغات میں۔ اس بنیاد پر تمام جنتیں، جنات عدن ہیں جنتی اس سے نکلنا نہیں چاہیں گے۔ الی آخرہ) سورۂ صف میں اہل ایمان کو خطاب فرماتے ہوئے جو وعدہ فرمایا ہے اس میں بھی (مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) فرمایا ہے اس سے بھی یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ عدن سے کوئی مخصوص جنت یا جنت کا کوئی مخصوص مقام مراد نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر جنتی کا جنت میں مستقل قیام ہوگا۔ جنت کے علاوہ دوسری جگہ جانا نہ ہوگا سورة حجر میں فرمایا (لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّ مَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) (وہاں ان کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے) اور سورة کہف میں فرمایا (لَا یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ) کہ وہ وہاں سے کہیں منتقل ہونا پسند نہ کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت اپنے باغوں اور اپنے مکانوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ جگہ واقعی رہنے کی جگہ ہوگی وہاں سے نہ نکالے جانے کا احتمال ہوگا اور نہ وہاں رہتے رہتے جی بھرے گا۔ پھر فرمایا (وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) (اور اللہ کی رضا مندی تمام نعمتوں سے بڑی ہے) یعنی اہل ایمان جن نعمتوں میں ہوں گے وہ اپنی جگہ بڑی بڑی بےمثال نعمتیں ہوں گی۔ لیکن ان سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا۔ حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائیں گے اے جنت والو ! وہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور تعمیل ارشاد کے لیے موجود ہیں۔ اور ساری خیر آپ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کیا تم راضی ہوگئے۔ وہ عرض کریں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں گے حالانکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا۔ کیا میں تمہیں اس سے افضل چیز عطا نہ کر دوں ؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب اس سے افضل اور کیا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں تم پر اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ (صحیح بخاری) پھر آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) (یہ جو کچھ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کی نعمتوں کا تذکرہ ہوا یہ بڑی کامیابی ہے) اس میں منافقین سے تعریض ہے کہ دنیا جو تھوڑی سی ہے اور حقیر ہے اس کے لیے کفر اختیار کر کے ایسی ایسی نعمتوں سے گریز کر رہے ہیں اور تھوڑی بہت دنیا مل جانے کو جو کامیابی سمجھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ایمان قبول نہیں کرتے یہ ان کی بےوقوفی ہے اور بڑی کامیابی کی طرف سے غفلت ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کیجیے۔ اور ان پر سختی کیجیے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرنے کا حکم عام کافروں سے اور منافقوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں پہنچتی رہتی تھی۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف منصوبے بناتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اولاً صبر اور درگزر کا حکم فرمایا تھا پھر جہاد کی اجازت دے دی جیسا کہ سورة حج میں (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) فرمایا۔ پھر کفار سے جہاد اور قتال کرنے کا حکم فرما دیا جو اس سورت میں مذکور ہے۔ اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ان میں پہلی آیت میں کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لفظ جہاد ہر طرح کی کوششوں کو شامل ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اختیار کی جائیں۔ اس کی ایک صورت قتال کرنا اور جنگ کرنا بھی ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ کافروں سے جہاد بالسیف یعنی قتال کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقین سے ان کے حال کے مطابق جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یعنی ان سے جہاد باللِّسَانْ کا حکم فرمایا ہے کہ انہیں نصیحت کی جاتی رہے اور ان پر حجت قائم کی جائے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ ایسا ہی کرتے تھے منافقین کو قتل نہیں فرمایا کیونکہ یہ ظاہری طور پر اسلام کے دعویدار تھے۔ مزید فرمایا (وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ ) کہ عام کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرنے میں سختی اختیار کیجیے کافروں سے تو جنگ میں سختی کا برتاؤ ہوتا ہی تھا۔ منافقوں کے ساتھ سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ احکام شرعیہ نافذ کرنے میں سختی برتی جائے جب وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو عامۃ المسلمین کی طرح ان لوگوں پر بھی احکام شرعیہ نافذ کیے جائیں اور قوانین اسلامیہ نافذ کرنے میں کوئی رعایت نہ کی جائے۔ اگر کوئی کام ایسا کر بیٹھیں جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہو تو اس کے نافذ کرنے میں مسامحت نہ کی جائے۔ (راجع روح المعانی و معالم التنزیل) پھر فرمایا (وَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمَصِیْرُ ) (ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے) دنیا میں وہ ایمان سے بچ رہے ہیں اور آخرت میں اپنے کفر اور نفاق کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہونگے۔ دوزخ کو معمولی چیز نہ سمجھیں، وہ برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

وہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے اس چیز کا ارادہ کیا جو انہیں نہ ملی اور صرف انہوں نے اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں مالدار کردیا، سو اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر رو گردانی کریں تو اللہ انہیں دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب دے گا۔ اور ان کے لیے روئے زمین میں نہ کوئی یار ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔

منافقوں کی مکاری اور جھوٹی قسمیں : آگے بڑھنے سے پہلے آیت (یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا) کا سبب نزول جان لینا چاہئے۔ سبب نزول کے بارے میں مفسرین نے متعدد روایات لکھی ہیں۔ صاحب معالم التنزیل (ص 311 ج 2) نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص تمہارے پاس آنے والا ہے وہ تمہیں شیطانی آنکھوں سے دیکھے گا جب وہ آجائے تو تم اس سے بات نہ کرنا۔ ذرا سی دیر بھی نہ گزری تھی کہ نیلی آنکھوں والا ایک شخص آگیا اسے رسول اکرم ﷺ نے بلایا اور فرمایا، تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہیں۔ وہ فوراً گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا، اور وہ سب لوگ قسم کھا گئے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ اور دوسرا واقعہ یوں نقل کیا ہے کہ ایک دن تبوک میں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور منافقین کا تذکرہ فرمایا اور ان کو رجس یعنی ناپاک بتایا اور ان کی برائیاں بیان کیں اس پر جلاس بن سوید نامی ایک شخص نے کہا کہ محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں اگر یہ سچ ہو تو ہم گدھوں سے بھی برتر ہیں۔ اس کی اس بات کو عامر بن قیس (صحابی ؓ نے سن لیا تھا۔ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو عامر بن قیس ؓ نے آپ کو جلاس کی بات بتادی۔ جلاس نے کہا کہ یا رسول اللہ اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے۔ اس پر آپ نے حکم فرمایا کہ دونوں منبر کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھائیں۔ جلاس نے نماز عصر کے بعد منبر کے پاس قسم کھالی کہ میں نے نہیں کہا اور مجھ پر عامر نے تہمت باندھی ہے۔ اس کے بعد عامر کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ اس نے ضرور کہا ہے میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو سچا ہے اس کی سچائی کو ظاہر فرمانے کے لیے اپنے نبی ﷺ پر کوئی آیت نازل فرمائیے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے اور جو منافقین حاضر تھے سب نے آمین کہا ابھی مجلس سے متفرق ہونے نہ پائے تھے کہ آیت شریفہ نازل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا) کہ یہ لوگ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا حالانکہ یہ واقعی بات ہے کہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے (دل سے تو پہلے بھی کافر تھے ظاہر میں جو اسلام کا دعویٰ کیا تھا اس دعویٰ کا جھوٹ ہونا علی الاعلان ثابت ہوگیا) اب (وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا) سے متعلقہ سبب نزول معلوم کیجیے اور وہ یہ ہے کہ منافقین میں سے بارہ آدمی تبوک کے راستہ میں ایک گھاٹی پر ٹھہر گئے۔ انہوں نے یہ مشورہ کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزریں گے تو اچانک رات کی اندھیری میں آپ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کردیں گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے آپ کو ان کی نیتوں کا حال بتادیا اور عرض کیا کہ ان لوگوں کے پاس کسی شخص کو بھیج دیں جو ان کا رخ دوسری طرف کو موڑ دے۔ آپ نے حضرت حذیفہ ؓ کو اس کام کے لیے بھیج دیا۔ صاحب معالم التنزیل (ص 312 ج 2) نے بالا جمال یہ واقعہ اسی طرح نقل کیا ہے لیکن صاحب روح المعانی (ص 139 ج 10) نے بیہقی کی دلائل النبوۃ سے قدرے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور وہ یہ کہ حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو میں آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑے ہوئے آگے آگے چل رہا تھا اور عمار پیچھے پیچھے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب ایک گھاٹی آگئی تو وہاں بارہ آدمیوں کو پایا جو سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتادی آپ نے جو زور سے آواز دی تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے پہچانا کہ یہ کون لوگ تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نہیں پہچان سکے۔ کیونکہ یہ لوگ چہروں پر کپڑے باندھے ہوئے تھے۔ البتہ ہم نے ان کی سواریوں کو پہچان لیا۔ آپ نے فرمایا یہ لوگ منافق تھے جو قیامت تک منافق ہی رہیں گے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا کیا ارادہ تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو گھاٹی میں نیچے گرا دیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ان کے قبیلوں کے پاس یہ حکم نہیں بھیجتے کہ ان میں سے ہر ایک کا سر کاٹ کر بھیج دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات گوارا نہیں ہے کہ اہل عرب یوں باتیں کریں کہ محمد ﷺ نے ایک قوم کو ساتھ لے کر قتال کیا یہاں تک کہ جب اللہ نے آپ کو غلبہ دے دیا تو ان لوگوں کو قتل کرنے لگے جو جہادوں میں ساتھ تھے۔ منافقین کی نیتوں اور حرکتوں کو ان الفاظ میں بیان فرمایا (وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا) (انہوں نے اس چیز کا ارادہ کیا جس میں کامیاب نہ ہوئے) منافقین نے احسان کا بدلہ برائی سے دیا : (وَ مَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ ) کہ ان لوگوں نے جو حرکتیں کی ہیں ان کا کوئی سبب نہیں ہے ان کو کسی نے تکلیف نہیں دی اور نہ ان کے خلاف کسی نے منصوبہ بنایا اگر کوئی بات ہے تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے انہیں فضل خداوندی سے مالا مال کردیا پہلے تنگدست تھے فقیر تھے اسلام آیا تو اس کی برکتیں بھی ساتھ آئیں وہ برکتیں ان کو بھی شامل حال ہوگئیں۔ اللہ کے اس فضل و کرم کا انہوں نے یہ بدلہ دیا کہ داعی اسلام ﷺ کے خلاف منصوبہ بنایا۔ الٹی ہی چال چلے۔ احسان کا بدلہ احسان سے دینے اور شکر گزار ہونے کی بجائے برے منصوبے بنانے میں مشغول ہوگئے۔ عام طور سے تو اسلام کی برکات سب کو شامل تھیں لیکن بعض ایسی صورتیں بھی پیش آئیں کہ خاص جلاس نامی شخص کو اس کے ایک غلام کے مقتول ہوجانے پر آنحضرت سرور عالم ﷺ نے بارہ ہزار درہم کی دیت دلا دی تھی۔ یہ معالم التنزیل میں لکھا ہے اور روح المعانی بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت عروہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جلاس کے ذمہ قرضہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے ادا فرما دیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا (فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَکُ خَیْرًا لَّھُمْ ) (پس اگر یہ توبہ کرلیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا) معالم التنزیل میں ہے کہ جب آیت نازل ہوئی تو جلاس وہیں موجود تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر توبہ پیش فرمائی ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ عامر بن قیس نے جو بیان کیا وہ سچ تھا واقعی میں نے یہ بات کہی تھی جو عامر نے میری طرف منسوب کی اور اب میں استغفار کرتا ہوں اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات مان لی اور صحیح معنی میں اس نے توبہ کرلی۔ مزید فرمایا (وَاِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیْمًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) (اور اگر وہ توبہ سے اعراض کریں۔ ایمان خالص پر نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ نہیں دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب دے گا) (وَ مَا لَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ) (یعنی پوری دنیا میں کوئی ان کا حمایتی اور مددگار نہ ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا لے) آخرت میں تو ہر منافق اور ہر کافر کو جہنم کا عذاب ہے ہی منافقوں کو دنیا میں جس عذاب الیم کی وعید سنائی گئی اس سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے فرمایا ہے کہ بار بار رسوائی ہونا۔ اور اہل ایمان کے دلوں میں ان کی وقعت نہ ہونا، سب کی نظروں سے گر جانا اور موت کے وقت عذاب میں مبتلا ہونا مراد ہے۔ چونکہ دنیا میں ان کو قتل نہیں کیا گیا اور ایمان کے ظاہری دعویٰ کی وجہ سے ان کے ساتھ مروت کا معاملہ کیا جاتا رہا اس لیے مفسرین نے عذاب دنیوی کی مذکورہ بالا تفسیر کی ہے۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمایا تو ہم ضرور ضرور خیرات کریں گے اور ضرور ضرور ہم نیک آدمیوں میں شمار ہوجائیں گ

آیت بالا کے سبب نزول سے متعلق صاحب معالم التنزیل (ص 312 ج 2) نے اور حافظ ابن کثیر (ص 374 ج 2) نے ایک واقعہ لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ ثعلبہ بن حاطب ایک شخص تھا اس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ سے دعا فرمائیے مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے زیادہ مال سے بہتر ہے جس کی تجھے برداشت نہ ہو۔ اس نے پھر اسی دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ نے اس کے لیے دعا فرما دی اس نے بکریاں پالنا شروع کردیا ان میں بہت زیادہ ترقی ہوئی تو وہ مدینہ منورہ سے باہر کسی وادی میں چلا گیا۔ صرف ظہر اور عصر کی نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر وہ وقت آیا کہ اسے مدینہ منورہ شہر میں حاضر ہونے کی فرصت ہی نہیں رہی۔ جمعہ کی حاضری بھی ختم ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمی مویشیوں کے صدقات وصول فرمانے کے لیے بھیجے۔ جب یہ دونوں ثعلبہ بن حاطب کے پاس پہنچے تو اس نے کہا یہ تو جزیہ ہے یا جزیہ کی بہن ہے۔ اور یوں بھی کہا کہ ذرا غور کرلوں کہ مجھے کیا دینا ہے۔ اور کتنا دینا ہے۔ جب یہ دونوں حضرات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے ان کو دیکھ کر صورت حال بیان کرنے سے پہلے فرما دیا کہ ثعلبہ پر افسوس ہے۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (وَ مِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰہَ لَءِنْ اٰتٰنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (بعض لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اپنے فضل سے ہمیں مال دیدے تو ہم ضرور ضرور صدقہ کریں گے اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجائیں گے) اس موقعہ پر ثعلبہ کے رشتہ دار بھی خدمت میں عالی میں موجود تھے انہوں نے جا کر خبر دی کہ تیرے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے۔ اس پر وہ صدقہ لے کر آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے منع فرما دیا ہے کہ تیرا صدقہ قبول کروں۔ اس پر وہ سر پر مٹی ڈالنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے کہا تھا (کہ تھوڑا مال شکر کے ساتھ زیادہ مال سے بہتر ہے جس کی برداشت نہ ہو) تو نے میری بات پر عمل نہ کیا۔ جب آپ نے اس کا صدقہ قبول فرمانے سے انکار کردیا تو وہ اپنا مال لے کر چلا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی پھر وہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اور ان کے بعد حضرت عمر ؓ کے پاس اور ان کے بعد حضرت عثمان ؓ کے پاس صدقہ لے کر آیا تو ان حضرات میں سے کسی نے قبول نہ کیا۔ اور خلافت عثمانی میں ثعلبہ کی موت ہوگئی۔ مال میں مشغول ہو کر اس نے جماعتوں اور جمعہ کی حاضری چھوڑ دی اور آنحضرت ﷺ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کو صدقہ نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا تھا کہ مال ملے گا تو صدقہ دوں گا اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں گا اس کی خلاف ورزی کی۔
Ayah 9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

سو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرما دیا تو اس میں کنجوسی کرنے لگے اور وہ اعراض کرتے ہوئے رو گردانی کر گئے،

اسی کو فرمایا (فَلَمَّآ اٰتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ ھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے مال عطا فرما دیا تو کنجوسی اختیار کرلی اور اعراض کرتے ہوئے رو گردانی کر گئے)
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

سو اللہ نے اس دن تک جو اللہ کی ملاقات کا دن ہوگا ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

(فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوْہُ وَ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ ) (سو اللہ نے اپنی ملاقات کے دن تک ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے)
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے راز کو اور ان کے خفیہ مشوروں کو جانتا ہے۔ اور یہ کہ اللہ غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

پھر فرمایا (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ سِرَّھُمْ وَ نَجْوٰھُمْ وَ اَنَّ اللّٰہَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ) (کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے راز کو اور خفیہ مشورے کو جانتا ہے اور بیشک اللہ غیبوں کا جاننے والا ہے) اس آخری آیت میں اس شخص کے لیے وعید ہے جو خلاف ورزی کی نیت سے وعدہ کرے یا وعدہ کر کے خلاف ورزی کرے، ہر شخص کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ کو سب کے دلوں کا حال معلوم ہے جو جیسی نیت رکھے گا اور جیسا عمل کرے گا اللہ جل شانہٗ کو اس کا علم ہے اور وہ اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا۔ فائدہ : جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ مال طلب کرنے اور پھر صدقہ نہ دینے کا واقعہ ابن کثیر اور معالم التنزیل نے ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں لکھا ہے۔ ثعلبہ بن حاطب کو حافظ ابن حجر نے شرکاء بدر میں شمار کیا ہے۔ اور ابن الکلبی سے نقل کیا ہے کہ وہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ثعلبہ بن حاطب اور ابن ابی حاطب کے نام سے ایک شخص کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ صدقہ نہ دینے کا جو واقعہ منقول ہے وہ ثعلبہ حاطب مدنی کا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ شرکاء بدر کے لیے مغفرت کی خوشخبری ہے۔ لہٰذا صاحب واقعہ دوسرا کوئی شخص ہوگا (خواہ ثعلبہ نامی ہو یا اور کسی نام کا کوئی شخص) واللہ اعلم۔ واقعہ جس کسی کا بھی ہو بہر حال پیش ضرور آیا ہے کیونکہ نص قطعی سے ثابت ہوا کہ کسی نے مال ملنے پر صدقہ دینے کا وعدہ کیا تھا پھر جب مال مل گیا تو نہیں دیا۔ یہاں حضرت حکیم الامت تھانوی نے اس کا جواب دیا ہے کہ جب وہ مال لے کر آیا اور توبہ کی تو اس کی توبہ کیوں قبول نہیں کی گئی ؟ حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ اس کا زکوٰۃ لانا اور نہ لینے پر واویلا کرنا خلوص سے نہ تھا بلکہ دفع عار اور بد نامی کے لیے تھا کیونکہ اَعْقَبَھُمْ سے اس کا دائماً کافر ہونا معلوم ہوگیا پھر خلوص کا احتمال کب ہے ؟ الی آخر ماقال
Ayahs 9:79–80

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جو ان مومنین پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں جو اپنی خوشی سے صدقات دیتے ہیں اور ان لوگوں پر جن کو اپنی محنت کے علاوہ کچھ میسر نہیں آتا، سو یہ ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ اللہ ان کے تمسخر کا بدلہ دے گا اور ان کے لیے عذاب الیم ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں تب بھی اللہ انہیں نہ بخشے گا۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اللہ نے رسول کے ساتھ کفر کیا۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا

منافقین کا مخلصین کے صدقات پر طعن و تمسخر کرنا منافقین کے دلوں میں چونکہ ایمان نہیں تھا اس لیے اہل ایمان کو طرح طرح سے تکلیف دیتے تھے ان تکلیفوں میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے اعمال اور احوال کو طعن اور طنز اور مسخرہ بازی کا نشانہ بناتے تھے۔ صحیح بخاری (ص 673 ج 2) میں حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم ہوتا تھا تو ہم محنت مزدوری کر کے اپنی کمروں پر بوجھ اٹھا کر کچھ مال حاصل کرتے تھے (جس کو صدقہ میں پیش کردیتے تھے) ۔ اور تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے صدقہ دینے کی ترغیب دی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے چار ہزار درہم پیش کردیئے اور عاصم بن عدی نے سو وسق کھجوریں حاضر کردیں اس پر منافقین نے طنز کیا کہنے لگے اجی کچھ نہیں، یہ تو ریا کاری ہے، ایک صحابی حضرت ابو عقیل ؓ بھی تھے وہ ایک صاع کھجور لے کر آئے اور صدقہ کے مال میں ڈال دیا۔ اس پر منافقین آپس میں ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ اللہ کو اس کے ایک صاع کی کیا ضرورت تھی ؟ (چونکہ یہ صدقہ تھوڑا سا تھا اس لیے ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابو عقیل نے خوب زیادہ محنت کر کے دو صاع کھجوریں حاصل کیں (ایک صاع ساڑھے سیر کا ہوتا ہے) ان میں سے ایک صاع گھر والوں کو دے دیا اور ایک صاع لے کر بار گاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور پوری صورت حال عرض کردی، آپ نے فرمایا اس کو مال صدقہ میں ڈال دو ۔ منافق ان کا تمسخر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اس مسکین کے صدقہ سے اللہ بےنیاز تھا (کیا ذرا سی چیز لے کر آیا) اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تمسخر کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس تمسخر پر سزا دے گا اور ان کے لیے عذاب الیم ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 375 ج 2، ص 376 ج 2) حضرت ابو عقیل جو محنت مشقت کر کے تھوڑی سی کھجوریں کسب کر کے لائے تھے اس کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا (وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَھُمْ ) (جو لوگ اپنی محنت مشقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں پاتے ان پر یہ لوگ طنز کرتے ہیں) اس میں صدقہ کرنے کے لیے محنت کرنے والوں کی تعریف ہے کہ وہ یہ سمجھ کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھتے کہ ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں ہم کیا صدقہ کریں، محنت و مشقت سے کچھ مال حاصل کر کے اللہ کی رضا مندی کے لیے پیش کردیتے ہیں، معلوم ہوا کہ صدقہ کرنے کے لیے مالدار ہونا ضروری نہیں جس کے پاس کچھ بھی نہیں وہ بھی صدقہ کرنے کا راستہ نکال سکتا ہے اور جسے جانی و مالی عبادات کا ذوق ہو وہ بہت کچھ کرسکتا ہے۔ حضرات صحابہ نے بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے خیر کی کیسی کیسی نظیریں چھوڑی ہیں۔ منافقین چونکہ کافر ہیں (اگرچہ بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں) اس لیے ان کے ساتھ آخرت میں کافروں والا ہی معاملہ ہوگا۔ یعنی دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اگر اسلام قبول نہ کریں تو ان کی مغفرت کا کوئی راستہ نہیں اس کو واضح طور پر بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے خطاب فرمایا (اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ ) اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں تو اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہ فرمائے گا۔ کمافی سورة المنافقین (سَوَاءٌ عَلَیْہِمْ اَاسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ) یعنی آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں (یہ ان کے لیے برابر ہے) (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) (یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا) (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ) (اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا)
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ رسول اللہ کے بعد پیچھے ڈالے گئے وہ اپنے بیٹھے رہ جانے پر خوش ہوئے اور انہیں یہ نا گوار ہوا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلو۔ آپ فرما دیجیے کہ دوزخ کی آگ بہت زیادہ گرم ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ یہ لوگ سمجھتے۔

منافقین کا اس پر خوش ہونا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ گئے ان آیات میں بھی منافقین کی مذمت ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ تشریف لے گئے اور یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہ گئے۔ ان کو پیچھے رہ جانے پر کوئی افسوس نہیں تھا بلکہ خوشیاں منا رہے تھے کہ اچھا ہوا ہم نہ گئے۔ انہوں نے آپ کے ہمراہ نہ جانے پر خوشی منائی اور انہیں یہ نا گوار ہوا کہ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اپنے گھروں میں بیٹھے رہ جانے پر افسوس تو کیا ہوتا دوسروں کو بھی جانے سے روک رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ گرمی میں مت نکلو۔ ایسی سخت گرمی میں جانے کا موقعہ نہیں ہے۔ انہوں نے دنیا کی گرمی کا تو خیال کیا۔ دوزخ کی آگ کی گرمی سے بچنے کا ارادہ نہ کیا۔ حالانکہ وہ دنیا والی گرمی سے بہت زیادہ گرم ہے اور اس سے بچنے کا راستہ یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبر داری کی جائے، دنیا کی گرمی تو قابل برداشت ہے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک کے لیے نکلے تھے کوئی پگھل تو نہیں گئے، تکلیف تو ہوئی مگر خیریت کے ساتھ واپس آگئے دوزخ کی آگ کی کس کو سہار ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمہاری یہ آگ (جو دنیا میں ہے) دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا جلانے کو (تو) یہی بہت ہے آپ نے فرمایا (اس کے باو جود) دنیا کی آگ کی بہ نسبت دوزخ کی آگ میں 69 درجہ زیادہ گرمی بڑھا دی گئی ہے۔ ہر درجہ کی گرمی اسی قدر ہے جتنی دنیا کی آگ کی گرمی ہے۔ (بخاری ص 462 ج 1) دنیا کی گرمی سے گھبرا کر فرائض اور واجبات چھوڑنے والے اس پر غور کرلیں۔ ان لوگوں کا خود جانے کا ارادہ نہ تھا اور تکوینی طور پر بھی ان کے بارے میں یہی فیصلہ تھا کہ یہ لوگ نہ جائیں جیسا کہ (وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ ) میں فرمایا ہے اس لیے اَلْمُخَلَّفُوْنَ فرمایا کہ یہ لوگ پیچھے ڈال دیئے گئے۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو یہ لوگ تھوڑا سا ہنس لیں اور زیادہ روئیں ان اعمال کے بدلہ جو وہ کیا کرتے تھے

پھر فرمایا (فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا وَّلْیَبْکُوْا کَثِیْرًا) کہ یہ دنیا میں تھوڑا سا ہنس لیں اور آخرت میں زیادہ روئیں گے۔ یہاں تھوڑی سی خوشی ہے جس میں ہنسی بھی ہے اور دوسروں کا مذاق بنانا بھی ہے جس کو خوشی طبعی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آخرت میں کافروں کی جو بد حالی ہوگی اس پر جو روئیں گے اس رونے کا تصور کریں تو یہاں کی ذرا سی خوشی کو بھول جائیں۔ وہاں تو ان کا رونا ہی رونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا نام ہے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ دوزخی اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسوؤں میں اگر کشتیاں چلائی جائیں تو جاری ہوجائیں (اور ان کے آنسو عام آنسو نہ ہوں گے بلکہ) وہ آنسوؤں کی جگہ خون سے روئیں گے۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک (ص 605 ج 4) و قال ھذا حدیث صحیح الاسناد و أقرۃ الذھبی) (حاکم نے اسے مستدرک میں روایت کیا ہے اور کہا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے اور علامہ ذہبی نے بھی اسے یہی مقام دیا ہے) جو لوگ دنیا میں اللہ کے خوف سے روتے ہیں ان کا یہ رونا رحمت اور نعمت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں (دوزخ کی) آگ نہ چھوئے گی ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئی اور ایک وہ آنکھ جس نے فی سبیل اللہ (جہاد میں) چوکیداری کرتے ہوئے رات گزاری۔ (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب) حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس چیز میں نجات ہے آپ نے فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھ تاکہ تجھے نقصان نہ پہنچا دے اور تیرے گھر میں تیری گنجائش رہے۔ (یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکل کیونکہ باہر فتنے ہیں اور گناہوں کے کام ہیں اور اپنے گناہوں پر روتا رہ) (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب) جو لوگ آخرت کے فکر مند نہیں ہیں وہ یہاں نہیں روتے انہیں وہاں رونا ہوگا۔ (جَزَآءً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (ان کاموں کے بدلے جو یہ کیا کرتے تھے) یعنی ان کا یہ بہت زیادہ رونا کفر و نفاق اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوگا۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

سو اگر اللہ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف واپس لے جائے پھر وہ آپ سے نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ فرما دیجیے کہ تم ہرگز کبھی میرے ساتھ نہ نکلو گے۔ اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے جنگ نہ کرو گے۔ بیشک تم پہلی مرتبہ بیٹھنے پر راضی ہوگئے۔ سو تم پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

پھر فرمایا (فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآءِفَۃٍ مِّنْھُمْ ) (الآیۃ) یعنی اگر اللہ آپ کو غزوۂ تبوک کے سفر سے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائیں جو آپ کے واپس پہنچنے تک مدینہ میں موجود ہوں اور پھر آپ کو کسی دوسرے موقعہ پر جہاد کے لیے جانا ہو اور یہ لوگ ہمراہ چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ان سے فرما دیں کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ جہاد میں نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ کسی دشمن سے لڑو گے۔ یعنی میں تمہیں ہرگز ساتھ نہ لے جاؤں گا۔ چونکہ تم نے پہلے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا لہٰذا اب بھی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو پیچھے رہ جانے کے لائق ہیں (یعنی بوڑھے بچے اور عورتیں) تم انہیں میں رہو۔ وہ معذوری کی وجہ سے نہیں جاتے تو بغیر معذوری ہی کے ان کے ساتھ رہ جاؤ میں تمہیں ساتھ نہیں لیتا قال صاحب الروح ھو اخبار بمعنی النھی للمبالغۃ۔ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہ خبر دینا ہے نہی کے معنی میں مبالغہ کی وجہ سے) بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم جو ساتھ چلنے کی اجازت لے رہے ہو یہ اجازت لینا جھوٹا ہے اور دنیا سازی کے طور پر ہے۔ جب جانے کا وقت ہوگا تو ہمراہ نہ چلو گے بلکہ بیٹھے ہی رہ جاؤ گے جیسا کہ تم پہلے بھی رہ گئے تھے۔ لہٰذا تم پیچھے رہ جانے والوں ہی میں اب بھی اپنے کو شمار کرلو جھوٹی اجازت لے کر اہل ایمان کو کیوں دھوکہ دے رہے ہو۔ فھو خبر بعمنی الخبر و ھو المتبادر من لفظ التنزیل العزیز۔ (پس وہ خبر ہے اور خبر ہی کے معنی میں ہے اور قرآن کریم کے الفاظ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے۔ )
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور ان میں سے جو کوئی شخص مرجائے تو آپ اس پر کبھی نماز نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوں، بیشک ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ اس حال میں مرگئے کہ نافرمان تھے۔

منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھئے اور ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے نہ ہوجائیے صحیح بخاری (ص 673، ص 674 ج 2) میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) مرگیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ خدمت عالی میں حاضر ہوا (جو خالص مسلمان تھا) اور اس نے کہا کہ میرے باپ کی موت ہوگئی ہے آپ اپنا کرتہ عنایت فرما دیں جو اسے بطور کفن پہنا دیا جائے آپ نے اپنا کرتہ عنایت فرما دیا پھر عرض کیا کہ آپ نماز بھی پڑھائیں آپ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا کہ آپ اس کی نماز پڑھاتے ہیں حالانکہ وہ منافق ہے۔ آپ نے پھر بھی اس کی نماز پڑھا دی اس پر آیت بالا (وَ لَا تُصَلِّ عَلآی اَحَدٍمِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا) (آخر تک) نازل ہوئی۔ فتح الباری (ص 336 ج 8) میں ہے کہ آپ نے اس کے بعد کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی، باقی رہی یہ بات کہ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے میں کیا مصلحت تھی ؟ اس کے بارے میں فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس کے بیٹے عبداللہ کی خوشی کے لیے اور قبیلہ خزرج کی تالیف قلب کے لیے ایسا فرمایا۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرا کرتہ اسے کیا فائدہ دے گا۔ میں نے تو یہ عمل اس لیے کیا ہے کہ اس کی قوم کے ہزار آدمی مسلمان ہوجائیں 1 ھ روح المعانی (ص 154 ج 10) میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس عمل سے قبیلہ خزرج کے ایک ہزار سے زیادہ افراد مسلمان ہوجائیں گے، پھر لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امید پوری کی اور ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ عبداللہ بن ابی کو جو آپ نے اپنا کرتہ عطا فرمایا تھا اس کی وجہ تفسیر و حدیث کی کتابوں میں یہ لکھی ہے کہ آپ کے چچا عباس کو جب بدر کے قیدیوں میں لایا گیا تھا تو اس وقت ان کے بدن پر کپڑا نہ تھا۔ قد آور بھاری ہونے کی وجہ سے کسی کا کپڑا ان کے جسم پر نہیں آتا تھا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتہ پہنا دیا تھا۔ لہٰذا آپ نے اس کی مکافات کے لیے اپنا کرتہ کفن میں شامل کرنے کے لیے عنایت فرما دیا۔ (روح المعانی ص 154 ج 10)
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور آپ کو ان کے اموال اور اولاد تعجب میں نہ ڈالیں اللہ یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کے ذریعہ دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حالت میں نکل جائیں کہ وہ کافر ہوں۔

اس کے بعد فرمایا (وَ لَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَ اَوْلَا دُھُمْ ) (الآیۃ) یہ آیت تھوڑے سے لفظی اختلافات کے ساتھ چند صفحات پہلے گزر چکی ہے۔ وہاں اس کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
Ayahs 9:86–87

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان میں سے مقدور والے لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجیے ہم بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہوجائیں۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے کہ گھروں میں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو وہ نہیں سمجھتے۔

وسعت ہوتے ہوئے منافقین کا اجازت طلب کرنا کہ غزوہ میں نہ جائیں منافقین کا حال بتاتے ہوئے فرمایا کہ جب قرآن کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں اللہ پر ایمان لانے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا حکم ہوتا ہے تو اس میں سے پیسے والے اور مالی وسعت والے اجازت لینے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجیے گھروں میں بیٹھے رہ جانے والوں میں ہمیں بھی شمار فرما لیجیے۔ اس میں ان کی بےغیرتی کی طرف اشارہ ہے۔ بہادر مردوں میں شمار ہونے کو تیار نہیں۔ ضعیفوں اور عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھ رہنے کو تیار ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی (جنہیں اپنے نفع و نقصان کی بھی سمجھ نہیں)
Ayahs 9:88–89

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن رسول اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے خوبیاں ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار فرمائے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بشارت منافقین کا حال بد بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کو خوشخبری دی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان کے لیے خیرات یعنی خوبیاں ہیں یعنی وہ دنیوی اور اخروی منافع ہیں جو محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے نصرت ہے اور مال غنیمت ہے اور آخرت میں جنت ہے اور اس کی نعمتیں ہیں۔ بعض مفسرین نے الخیرات سے جنت کی حوریں مراد لی ہیں۔ کیونکہ سورة رحمن میں یہ کلمہ جنت کی حوروں کے لیے آیا ہے۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ (فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ) پھر فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (اور یہی لوگ کامیاب ہیں) دنیا میں بھی خوب رہے اور آخرت میں بھی ابدی نعمتوں سے مالا مال ہوئے، اس میں منافقین پر تعریض ہے جو یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جو غزوۂ تبوک میں ساتھ نہ گئے اور گرمی سے بچ گئے اس میں کامیابی ہے۔ درحقیقت یہ ان کی بےوقوفی ہے۔ کیونکہ کامیابی جہاد فی سبیل اللہ میں ہے جہاد چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جانے میں نہیں ہے۔ پھر ان حضرات کی اخروی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا (اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار فرمائے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) (یہ بڑی کامیابی ہے)
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ بہانہ کرنے والے آئے تاکہ ان کو اجازت دے دی جائے، اور جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا وہ بیٹھے رہ گئے، جو لوگ ان میں سے کفر ہی پر رہیں گے انہیں درد ناک عذاب پہنچے گا۔

جن حضرات کے پاس سواری نہ تھی وہ غزوہ تبوک کی شرکت سے محرومی پر رو رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے جب غزوہ تبوک میں شرکت کرنے کے لیے اپنے ہمراہ چلنے کی دعوت دی تو یہ دعوت اہل مدینہ کو اور آس پاس کے دیہات کے رہنے والے جو لوگ تھے ان سب کو عام تھی بہت سے منافقین ایسے تھے جنہوں نے عذر پیش نہ کیا اور دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے گھروں ہی میں رہ گئے اور بہت سے دیہات کے رہنے والے عذر پیش کرنے کے لیے آئے وہ عذر پیش کر کے پیچھے رہ گئے۔ پہلی آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (سَیُصِیْبُ الَّذِیْنََ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (ان میں سے جو لوگ کفر ہی پر رہیں گے ان کو درد ناک عذاب ہوگا) منافقین کے بارے میں جو (الَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دعوائے ایمان میں اللہ سے اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، دیہات کے جو لوگ عذر کرنے کے لیے آئے تھے ان کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ قبیلہ بنی اسد اور قبیلہ بنی غطفان کے لوگ تھے اور بعض حضرات نے قبیلہ بنی غفار کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس کے بعد ان مخلصین مسلمانوں کا ذکر فرمایا جن کو واقعی عذر تھا اور ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو معذور ہوتے ہوئے بھی خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمیں بھی سواری دے دیجیے ہم بھی ساتھ چلیں گے۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ضعیفوں اور مریضوں اور ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو خرچ کرنے کے لیے نہیں پاتے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے خلوص دل سے حاضر ہوں، محسنین پر کوئی الزام نہیں ہے اور اللہ غفور ہے رحیم ہے،

ارشاد ربانی ہے (لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ) کہ وہ لوگ جو ضعیف ہیں اور جو لوگ مریض ہیں اور جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے ان پر غزوہ میں شریک نہ ہونے کا کوئی گناہ نہیں (اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) جب کہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے سچے دل سے اور خلوص کے ساتھ حاضر ہوں، ان کا ایمان بھی سچا، اقرار بھی سچا، شرکت جہاد کے جذبات بھی سچے ہیں، مجبوری سے رہ گئے، ان کے دلوں میں پوری سچائی کے ساتھ یہ بات ہے کہ اگر ہمیں استطاعت ہوتی تو غزوہ میں ضرور شریک ہوتے۔ انہوں نے عذر بنایا نہیں تھا۔ واقعی معذور تھے۔ مزید فرمایا (مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ ) کہ جو لوگ نیکو کار ہیں ان پر کوئی الزام نہیں اور کوئی گرفت بھی نہیں (وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) اور اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے۔ مخلصین اور محسنین کی کوتاہی کو معاف فرما دے گا۔