Ayah 9:92پھر فرمایا (وَّ لَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ) (اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دے دیں ان کے جواب میں آپ نے فرما دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کرا دوں) ۔ البدایہ و النہایۃ (ص 5 ج 5) میں لکھا ہے کہ سات افراد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواری طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک سالم بن عمیر، دوسرے علبہ بن زید، تیسرے ابو لیلی عبدالرحمن بن کعب چوتھے عمرو بن الحمام، پانچویں عبداللہ بن معلق چھٹے حرمی بن عبداللہ اور ساتویں عرباض بن ساریہ ؓ تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے دل سے پوری طرف تیار ہیں آپ کے ساتھ سفر میں جانا چاہتے ہیں لیکن سواری نہ ہونے سے مجبور ہیں آپ ہمیں سواری عنایت فرما دیں (قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ) آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی سامان نہیں تاکہ تمہارے لیے سواری کا نتظام کر دوں۔
(تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ ) (وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے اس وجہ سے آنسو بہ رہے تھے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے نہیں پاتے) اول تو یہ حضرات معذور تھے واقعی معذوری ہی جہاد میں شرکت نہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ اور واقعی عذر کو بھی عذر نہ سمجھا۔ اور انہیں یہ گوارا نہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے جائیں اور خود پیچھے رہ جائیں۔ وہ خدمت عالی میں حاضر ہوئے کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔ جب آپ نے فرما دیا کہ میرے پاس کوئی انتظام نہیں ہے تو اس پر بھی بس نہ کیا اور اپنے دلوں میں یوں نہ کہا کہ اب تو ہم نے اپنی آخری کوشش کرلی اب جہاد میں نہ گئے تو کیا حرج ہے ؟ وہ اپنی معذوری والی مجبوری پر رنجیدہ ہو رہے تھے۔ اور رنج بھی معمولی نہیں۔ ان کے چہروں پر آنسوؤں کی لڑی تھی اور وہ اس رنج میں گھلے جا رہے تھے کہ ہائے ہمارے پاس انتظام نہیں ہے انتظام ہوتا تو ہم ضرور ساتھ جاتے۔ اس موقعہ پر جہاں وہ لوگ موجود تھے جو جھوٹے عذر بنا بنا کر پیچھے ہٹ رہے تھے، ان میں وہ حضرات بھی تھے جو عذر ہوتے ہوئے بھی جہاد کی شرکت کے لیے تڑپ رہے تھے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ نے امت کے لیے کیسی کیسی قابل اقتداء روایات چھوڑی ہیں۔
اس کے بعد آپ نے بعض حضرات کے لیے سواری کا انتظام فرما دیا۔ اور بعض حضرات کے لیے انتظام کی صورت یہ ہوئی کہ ابو لیلیٰ عبدالرحمن بن کعب اور عبداللہ بن مفغل ؓ کی راستہ میں یامین بن عمیر نضری ؓ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ دونوں روتے ہوئے جا رہے تھے۔ یامین نے دریافت کیا تم کیوں رو رہے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور عرض کیا کہ ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں تاکہ آپ کے ساتھ سفر میں جائیں۔ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔ آنحضرت ﷺ کے پاس بھی سواری نہیں تھی جو عنایت فرما دیتے ہمارا رونا اسی وجہ سے ہے کہ شرکت جہاد سے رہے جا رہے ہیں۔ اس پر یامین نے اپنی ایک اونٹنی پیش کردی اور اپنے پاس سے بطور توشہ کھجوریں بھی دے دیں اور علبہ بن زید کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اور روتے رہے اور یوں دعا کی کہ اے اللہ آپ نے جہاد کا حکم فرمایا اور اس میں شریک ہونے کی ترغیب دی پھر مجھے مال نہیں دیا جس سے میں جہاد کی شرکت کے لیے قوت حاصل کرلیتا اور نہ آپ نے اپنے رسول کو (اس وقت) مال عطا فرمایا تاکہ میرے لیے سواری کا انتظام فرما دیتے۔ اب میں جہاد سے محرومی کے بدلہ میں یہ کرتا ہوں کہ جس کسی مسلمان سے مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہے یا کسی کا مجھ پر کوئی مالی حق ہے میں اسے معاف کرتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سوال فرمایا کہ اس رات کس نے صدقہ دیا۔ کسی نے بھی جواب نہ دیا، آپ نے فرمایا آج رات جس نے صدقہ دیا ہو وہ کھڑا ہوجائے اس پر علبہ بن زید کھڑے ہوئے اور اپنا حال بنایا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم خوشخبری قبول کرو، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تمہارے لیے مقبول زکوٰۃ کا ثواب لکھا گیا۔
غزوۂ تبوک کی تیاری کے لیے حضرت ابو موسیٰ اشعری کے قبیلے کے چند افراد نے بھی حضرت ابو موسیٰ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں درخواست پیش کی تھی کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام کیا جائے اس وقت آپ نے ان کے لیے چھ اونٹوں کا انتظام فرما دیا۔ (ایضا ص 6 ج 5)
Ayah 9:93اس کے بعد فرمایا (اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ وَ ھُمْ اَغْنِیَآءُ ) الزام انہیں لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے آپ سے اجازت لیتے ہیں (رَضُوْا بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ ) یہ لوگ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اپنی مالی استطاعت کی وجہ سے غزوہ میں جاسکتے ہیں اور ان کو ضعف اور مرض بھی نہیں ہے پھر بھی نہیں جاتے اپنے آپ کو عورتوں کے زمرہ میں شمار کرلیا نہ وہ گئیں اور نہ یہ لوگ جانے پر راضی ہوئے۔ (وَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی لہٰذا وہ نہیں جانتے کہ دنیاوی تکلیف اٹھا کر آخرت کے بہت بڑے ثواب اور بلند درجات کا مستحق ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayahs 9:94–96تبوک سے واپسی پر عذر پیش کرنے والوں کو جواب
جن لوگوں نے تبوک سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ جل شانہٗ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کی واپسی پر یہ لوگ عذر پیش کریں گے۔ آپ ان سے فرما دیں کہ ہم تمہاری بات سچی نہیں مانیں گے تمہارے حالات کی اللہ نے ہمیں پہلے سے خبر دے دی ہے۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کار گزاری دیکھ لے گا۔ اور تمہاری پول کھلتی رہے گی۔ یہ ذلت تو دنیا میں ہوگی پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور شہادت سب کا جاننے والا ہے جو چیزیں ظاہر ہیں وہ انہیں بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق سے پوشیدہ ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے جب قیامت کے دن حاضری ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر فرما دے گا۔ تم جو برے عمل کرتے تھے وہ سب تمہارے سامنے آجائیں گے۔ مسلمانوں سے مزید خطاب فرمایا کہ جب تم سفر سے واپس ہو کر ان کے پاس پہنچو گے تو وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو اور در گزر کرنے کا معاملہ کرو۔ اعراض تو تم کرلینا لیکن رضا مندی کے طور پر نہیں بلکہ ناراضگی والا اعراض کرنا کیونکہ یہ لوگ ناپاک ہیں (ان کے عقائد اور اعمال گندے ہیں) اور انجام کار ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور یہ دوزخ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔
مزید فرمایا کہ یہ لوگ تمہارے سامنے تمہیں راضی کرنے کے لیے قسمیں کھائیں گے۔ (تم ان سے راضی مت ہونا بالفرض) اگر تم ان سے راضی ہوگئے تو (اس رضا مندی سے) انہیں کچھ نفع نہ دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فاسقوں سے راضی نہیں ہوتا۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ اسی آدمی تھے جو اپنے نفاق کی وجہ سے تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے ساتھ نہ اٹھیں بیٹھیں اور نہ ان سے بات کریں۔ (یہ حکم (اَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ) پر عمل کرنے کے لیے تھا) ۔
Ayahs 9:97–99دیہاتیوں میں سخت نفاق والے بھی ہیں اور مخلصین بھی
ان آیات میں اعراب یعنی دیہات کے رہنے والوں کا حال بتایا ہے۔ اوّل تو یہ بتایا کہ دیہاتی کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں۔ اور علم کے ماحول سے دور ہونے کی وجہ سے ان کا یہی حال ہونا چاہئے کہ اللہ کے احکام کا انہیں علم نہ ہو جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائے۔ ایمان و یقین اور علم و عمل کے ماحول میں رہیں تو کفر سے بھی بچیں اور نفاق سے بھی، اور اللہ کے احکام کو بھی جانیں، لیکن مرکز علم و عمل سے دوری کی وجہ سے ان میں کفر بھی شدید ہے اور نفاق اور جہالت میں بھی آگے آگے ہیں۔ قال صاحب الروح (ص 4 ج 11) أشد کفراً و نفاقاً من اھل الحضر الکفار و المنافقین لتوحشھم و قساوۃ قلوبھم وعدم مخالطتھم اھل الحکمۃ و حرمانھم استماع الکتاب والسنۃ و ھم أشبہ شئ بالبھائم 1 ھ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں دیہاتوں کے کفار و منافقین اپنے کفر اور نفاق میں سخت اس لیے ہیں کہ ان کی طبیعت نا مانوس ہے اور ان کے دل سخت ہیں اور اہل علم سے میل نہ ہونے کی وجہ سے اور کتاب و سنت کے سننے سے محروم ہونے کی وجہ سے اور وہ چوپایوں کے بہت زیادہ مشابہ ہیں)
دیہاتیوں میں عموماً سخت مزاجی ہوتی ہے۔ سنن ابو داؤد (باب فی اتباع الصید) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من سکن البادیۃ جفا و من اتبع الصید غفل و من اتی السلطان افتتن۔ (جو شخص دیہات میں رہا وہ سخت مزاج ہوا اور جو شخص شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہوا اور جو شخص صاحب اقتدار کے پاس آتا جاتا رہا وہ فتنے میں پڑگیا) در حقیقت دیہات کا مزاج ہی ایسا ہے کہ طبیعت میں سختی آجاتی ہے اور علم سے دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے علم سے بھی محروم رہتے ہیں اس کے بعد دیہاتیوں کی دو قسمیں بتائیں ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو جہاد وغیرہ میں کچھ خرچ کردیتے ہیں تو اسے ایک قسم کا جرمانہ اور تاوان سمجھتے ہیں کیونکہ ثواب کے امید وار نہیں اس لیے یہ خرچ ان کے نفسوں پر شاق گزرتا ہے جیسے خواہ مخواہ کا تاوان بھگت رہے ہوں اور اس بخل کی صفت کے ساتھ ان کی عداوت کا یہ عالم ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے گردشوں کے منتظر رہتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی گردش پڑجائے جس سے ختم ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (عَلَیْھِمْ دَآءِرَۃُ السَّوْءِ ) (انہی لوگوں پر بری گردش پڑنے والی ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا مسلمانوں کی ترقی ہوتی چلی گئی۔ ممالک فتح ہوئے منافق اور کافر ذلیل ہوئے۔ اپنی امیدوں میں نا کام ہوئے اور ان کی آرزوئیں جو مسلمانوں کے خلاف تھیں دل ہی دل میں رہ گئیں وَ اللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ ان کے کفر و نفاق کی باتیں سننے والا ہے اور ان کے احوال کو اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو جاننے والا ہے) ان کے احوال و اعمال کے مطابق سزا دے دے گا۔ دیہاتیوں کی دوسری قسم کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (الآیۃ) اور دیہاتیوں میں بعض ایسے لوگ ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کی نزدیکی کا اور رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کا ذریعہ بنا لیتے ہیں ان کا مقصد اجر وثواب حاصل کرنا اور اللہ کو راضی کرنا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے دعائیں لینا ہے۔ لہٰذا جو مال خرچ کرتے ہیں اور جو مال خرچ کیا ہے بطور تاوان بد دلی کے ساتھ نہیں بلکہ پوری بشاشت کے ساتھ اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کے اموال جو خرچ ہوتے ہیں واقعی وہ اللہ کی نزدیگی کا سبب ہیں اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔
Ayah 9:100سبقت لے جانے والے مہاجرین اور انصار اور ان کا اتباع کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہے
اس آیت میں حضرات مہاجرین اور انصار میں جو سابقین اولین تھے ان کی تعریف فرمائی۔ اور جنہوں نے احسان اور اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کیا ان کی بھی تعریف فرمائی، اور یہ اعلان فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ سے راضی ہوئے۔ ان کی اخروی نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا کہ ان کے لیے ایسے باغ تیار فرمائے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ بڑی کامیابی ہے۔
جن حضرات نے اسلام کی طرف سبقت کی مہاجرین میں سے ہوں یا انصار میں سے اور جن حضرات نے ان کا اتباع کیا اور یہ اتباع اخلاص کے ساتھ تھا ان سب کی فضیلت اور منقبت آیت بالا سے ظاہر ہو رہی ہے۔ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کیا ان میں وہ صحابہ بھی ہیں جو ان کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ لوگ بھی ہیں جو صحابیت کے عظیم مرتبہ سے مشرف نہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سابقین اولین مہاجرین و انصار کی راہ پر چلے۔ جنہیں تابعین کہا جاتا ہے۔ اس آیت سے واضح طور پر مہاجرین اور انصار کے بارے میں اللہ جل شانہٗ کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ یہ حضرات جنتی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، سابقین اولین میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی ہیں۔
روافض کی گمراہی :
روافض کا جو یہ کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر مسلمان ہی نہیں تھے اور یہ کہ تین چار صحابہ کے علاوہ باقی سب مرتد ہوگئے تھے۔ (العیاذ باللہ) ان کی یہ بات آیت بالا کی تکذیب کر رہی ہے۔ جو شخص کسی آیت کی تکذیب کرے وہ خود کافر ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے راضی نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقین اولین اور ان کے متبعین سے راضی ہونے کا اعلان فرما دیا لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اعلان صحیح نہیں ان کے عقیدہ میں تین چار صحابہ کے علاوہ باقی سب دوزخ میں ہیں اور خاص کر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے معذب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان سے راضی ہونے کا اعلان فرما دیا اور ہمیشہ ہمیشہ ان کے جنت میں رہنے کی خوشخبری دے دی تو اس پر وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بدا گیا تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس وقت معلوم نہیں تھا جب رضا مندی کا اعلان فرمایا کہ یہ لوگ مرتد ہوجائیں گے (العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ) اپنی بات کی پچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جہل کی نسبت کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اعلان کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ملحدوں اور زندیقوں کی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ (مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَ یَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) (جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑا ہے) آیت بالا میں مہاجرین و انصار میں جو سابقین اولین تھے وہ اور ان کا اتباع کرنے والوں کی منقبت بیان فرمائی۔ اور اس کے بعد والے رکوع میں مطلق مہاجرین و انصار کی تعریف فرمائی۔ اور سورة الفتح کی آیت (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ ) میں ان سب حضرات سے راضی ہونے کا اعلان فرمایا جنہوں نے حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت کی تھی جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی تھے۔ پھر سورة الفتح کے ختم پر تمام صحابہ کی تعریف بیان فرمائی۔ اور فرمایا (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ ) (الآیۃ) اور آخر میں ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ ان سب آیات کی تصریحات کے خلاف روافض کہتے ہیں کہ بجز تین چار صحابہ کے کوئی بھی مسلمان نہ رہا۔ انہیں حضرات صحابہ پر کفر چپکانے پر تو اصرار ہے لیکن اپنے مومن ہونے کی طرف ذرا دھیان نہیں۔ اپنی طرف بھی تو دیکھو قرآنی آیات کے منکر ہو کر تم کیسے مومن ہو ؟ کیا حضرات صحابہ کرام ؓ کو کافر کہہ دینے سے آخرت میں نجات ہوجائے گی۔ یوم آخرت میں خودمومن ہو کر پیش ہونے کو کیوں ضروری نہیں سمجھتے۔ (فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ )
حضرات مہاجرین و انصار اور ان کا اتباع کرنے والے جنتی ہیں
فائدہ : (وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ) جو فرمایا ہے اس میں قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا اعلان ہوگیا اور یہ سب کو معلوم ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کا اتباع کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جنہیں اہل السنت والجماعت کہا جاتا ہے۔ بہت سے فرقے اسلام کے دعویدار ہیں لیکن ان میں جو بھی کوئی حضرات صحابہ ؓ کے دین پر نہیں ہیں وہ سب گمراہ ہیں۔ قرآن مجید بھی حضرات صحابہ کرام ؓ کے واسطہ سے ملا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات بھی انہی حضرات کے ذریعہ پہنچے ہیں جو ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہیں۔ جو لوگ حضرات صحابہ کرام ؓ کو مسلمان نہیں مانتے ان کے پاس خود ان کے دعویٰ کے مطابق نہ تو وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور نہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں۔ اور اسی لیے ان کی زندگی میں اسلامی اعمال نہیں ہیں آیت بالا میں اور سورة نساء کی آیت (وَ یَتَّبِعْ غَیْرَِ سَبِیْلِ الْمُوْمِنِیْنَ ) میں حضرات صحابہ اور ان کے متبعین کو اور اہل ایمان کو معیار حق قرار دیا ہے آپ نے یہ فرمایا کہ میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے اور اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا عَلَیکُمْ بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّۃَ الْخُلَفَآء الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ تَمَسَّکُوْا بِھَا وَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بالنَّوَاجِذِ (تمہارے لیے میری سنت اور میری خلفائے راشدین مھدیین کی سنت کو لازم پکڑنا ضروری ہے اس کو تھامے رہو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑو) (مشکوٰۃ المصابیح ص 20) پھر جب تہتر فرقوں کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا تو اس پر حضرات صحابہ نے عرض کیا کہ وہ فرقہ کون سا ہے اس پر آپ نے فرمایا : مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ کہ جس طریقے پر میں اور میرے صحابہ ہیں جو جماعت اس طریقہ پر ہوگی وہ نجات والی ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص 30) اس میں بھی حضرات صحابہ کو معیار حق بتایا، اب ہر مدعی اسلام سوچ لے کہ وہ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام کے راستہ پر ہے یا نہیں، اپنے افکار، عقائد و اعمال کا جائزہ لے۔
Ayah 9:101مدینہ منورہ اور آس پاس کے دیہات میں رہنے والے منافقین کا تذکرہ
اس آیت میں بتایا ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس رہنے والے دیہاتیوں میں منافقین ہیں صاحب معالم التنزیل نے اس سلسلہ میں بنی مزینہ و بنی جھینہ وغیر ہم کے نام لکھے ہیں اور یہ فرمایا کہ اہل مدینہ میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اوس اور خزرج میں منافق تھے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ منافقت پر مصر ہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے ہیں (جو لوگ مدینہ منورہ میں رہتے ہیں وہ صرف مدینہ منورہ ہی میں رہنے کو سب کچھ نہ سمجھیں اپنے ایمان و اعمال کی بھی خبر لیں۔ اب بھی مدینہ منورہ میں خاصی تعداد میں روافض ہیں۔ اور دجال کے تذکرہ میں احادیث شریفہ میں بتایا ہے کہ جب دجال مدینہ منورہ کا رخ کرے گا تو شہر میں داخل نہ ہو سکے گا (احد پہاڑ کے پیچھے) شور زمین میں ٹھہر جائے گا اس وقت مدینہ منورہ میں تین بار زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے ہر منافق مدینہ منورہ سے نکل کر اس کے پاس پہنچ جائے گا بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ محض اقامت مدینہ منورہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ خواہ عقائد و اعمال کیسے ہی ہوں۔ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور شیطان کا دھوکہ ہے پھر فرمایا (لاَ تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ) (آپ انہیں نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں) (سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ) (عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے) (ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ) (پھر وہ بڑے عذاب (یعنی دوزخ) کی طرف لوٹائے جائیں گے) (سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ) سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بار بار عذاب میں مبتلا ہونا مراد ہے اور بعض اکابر نے اس کا ترجمہ دہری سزا کا کیا ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین کے اور بھی اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ منافقین کو ایک دن جمعہ کے روز جب آنحضرت ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا۔ اور فرمایا کہ فلاں تو منافق ہے نکل جا، پہلا عذاب تو یہ رسوائی کا عذاب ہوا اور دوسرے عذاب سے عذاب قبر مراد ہے۔ یہ اقوال علامہ بغوی نے معالم التنزیل (ص 223 ج 2) میں نقل کئے ہیں۔ جن حضرات نے دوسرا عذاب، عذاب آخرت بتایا ہے۔ بظاہر یہ بات صحیح نہیں کیونکہ دوزخ کا عذاب بعد میں مذکور ہے۔ و ھو قولہ تعالیٰ (ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ )
Ayah 9:102مومنین مخلصین کی توبہ کا تذکرہ جو غزوۂ تبوک میں نہیں گئے تھے
جو منافقین غزوۂ تبوک میں شرکت کے لیے جانے سے رہ گئے تھے پھر آنحضرت سرور عالم ﷺ کے واپس تشریف لانے پر جھوٹے عذر پیش کرتے رہے (جن میں اہل مدینہ اور مدینہ منورہ کی آس پاس کی بستیوں کے رہنے والے دیہاتی بھی تھے) ان کا تذکرہ فرمانے کے بعد ان چند مومنین مخلصین کا تذکرہ فرمایا جو اپنے ایمان میں سچے ہوتے ہوئے سستی اور کاہلی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت تو رہ گئے اور ساتھ نہ گئے لیکن بعد میں پچھتائے اور نادم ہوئے کہ ہم عورتوں کے ساتھ سایوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ دھوپ کی گرمی اور سفر کی مشقت اور تکلیف میں ہیں ہمارے لیے پیچھے رہ جانا کسی طرح درست نہ تھا۔ جب ان حضرات کو رسول اللہ ﷺ کے واپس تشریف لانے کی خبر ملی تو انہوں نے اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا اور کہنے لگے کہ ہم اپنی جانوں کو نہیں کھو لیں گے جب تک رسول اللہ ﷺ ہی اپنے دست مبارک سے ہمیں نہ کھو لیں، آپ کا جب ان کی طرف گزر ہوا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں جانے سے رہ گئے تھے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ جب تک آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اس وقت تک وہ بندھے ہی رہیں گے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں بھی انہیں نہیں کھولوں گا جب تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم نہ ہوگا۔ ان لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑا اور مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں نہ نکلے۔ لہٰذا اب مجھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار ہے جیسا حکم ہوگا اس پر عمل کرونگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا) (الآیۃ) نازل فرمائی اور آپ نے ان کو کھول دیا۔ چونکہ یہ حضرات مخلص مومن تھے اور اپنے گناہ کا اقرار بھی کرلیا جو توبہ کا جزو اعظم ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والے عمل سے انہوں نے توبہ بھی کرلی اور پہلے سے بھی نیک عمل کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے بھی ادائے فرائض اور دیگر نیک کاموں میں لگے رہے اس لیے ان کے بارے میں یہ فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا اور نیک عمل کو برے عمل کے ساتھ ملا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمانے کی خوشخبری دی (عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ ) کہ عنقریب اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا (چنانچہ ان کی توبہ قبول ہوگئی) (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے)
Ayah 9:103جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے پاس جو یہ اموال ہیں انہیں نے ہم کو پیچھے ڈالا اور جہاد کی شرکت سے روکا۔ لہٰذا ہم ان کا صدقہ کردیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے اموال میں سے کچھ لینے کا حکم نہیں ہوا اس پر آیت کریمہ (خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا) نازل ہوئی یعنی آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے جس کے ذریعہ آپ ان کو پاک اور صاف کردیں۔ 1
(وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ ) (اور آپ ان کے لیے دعا کیجیے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب کا ذریعہ ہے) (وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے) وہ سب کی باتیں سنتا ہے اور سب کے احوال ظاہرہ باطنہ جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ کن لوگوں نے جھوٹے عذر پیش کیے۔ اور جن مخلصین نے سچے دل سے توبہ کی اور اخلاص کے ساتھ اپنے اموال پیش کیے اللہ تعالیٰ کو ان کا بھی علم ہے، جن حضرات نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا اور اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا تھا یہ کتنے حضرات تھے اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ دس افراد تھے اور سعید بن جبیر اور زید بن اسلم نے فرمایا کہ آٹھ افراد تھے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ یہ سات آدمی تھے۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ بھی ہے کہ پانچ آدمی تھے ان سب میں حضرت ابو لبابہ ؓ کا اسم گرامی خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اگرچہ مشہور یہ ہے کہ ان کا مسجد کے ستون سے اپنے آپ کو باندھ دینا قتل بنی قریظہ کے سلسلہ میں تھا (کہ انہوں نے انہیں پہلے سے اشارہ کر کے بتادیا تھا کہ تمہارے قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے) معالم التنزیل (ص 323۔ 324 ج 2) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آیت کریمہ (وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ ) اگرچہ چند خاص افراد کے بارے میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تمام گناہ گاروں کے لیے عام ہے۔ جو گناہوں میں بھی ملوث رہتے ہیں اور نیک اعمال بھی کرتے ہیں 1 ھ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص گناہوں میں لگا رہتا ہو، وہ یہ نہ سمجھے کہ میں تو گناہ گار ہوں۔ نیک کاموں میں کیا لگوں، اگر گناہ نہیں چھوڑتا تو جہاں تک ممکن ہو نیک کاموں کو بھی نہ چھوڑے۔ یہ نیک کام سیئات کا کفارہ بھی بنتے رہتے رہیں گے اور توبہ کی توفیق ہونے کا بھی ذریعہ بنیں گے۔ گناہوں کے ہوتے ہوئے بھی بشرط اخلاص نیک اعمال نیکیوں ہی میں شمار ہوتے ہیں (الا ما کان حابطا للاعمال)
Ayah 9:104پھر فرمایا (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ ) (الآیۃ) اس کا شان نزول بتاتے ہوئے (درمنثور ص 275 ج 2) میں لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی جنہوں نے اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا تھا تو وہ پھر بےتکلف مسلمانوں کے ساتھ رہنے سہنے لگے اس پر منافقین نے کہا کہ کل تک تو یہ لوگ اسی حال میں تھے جس میں ہم ہیں نہ ان سے کوئی بات کرتا تھا اور نہ ان کے پاس کوئی شخص بیٹھتا تھا آج کیا ہوا (کہ سب مسلمان ان سے خوش ہیں اور ہم سے بدستور ناراض ہیں) اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ) نازل فرمائی (کیا انہیں معلوم نہیں کہ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات قبول فرماتا ہے اور بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے رحم کرنے والا ہے) اس میں منافقوں
1 یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب توبہ سے گناہ معاف ہوگیا تو صدقہ کے آلہء تطہیر و تزکیہ ہونے کا کیا معنی ؟ حکیم الامت قدس سرہٗ نے بیان القرآن میں اس کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے لیکن گاہے اس کی ظلمت و کدورت کا اثر باقی رہ جاتا ہے اور گو اس پر مواخذہ نہیں لیکن اس سے آئندہ اور گناہوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے پس صدقہ سے خصوصاً بوجہ حدیث الصدقۃ تطفی غضب الرب اور دیگر اعمال صالحہ سے عموماً یہ ظلمت اور کدورت مندفع ہوجاتی ہے۔
کو جواب دے دیا کہ تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ کل تک یہ لوگ ہماری طرح سے تھے آج ان کی شان ہی اور ہے اور ہم سے مختلف ہیں اس میں تعجب اور اعتراض کی کوئی بات نہیں ہے یہ پہلے سے مومن تھے اور اپنی بےعذر والی غیر حاضری پر نادم بھی ہوئے اور توبہ بھی کی اور صدقہ بھی دیا، اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے طالب ہوئے اور تم وہی اپنے نفاق پر جمے ہوئے ہو تمہارے دلوں میں ایمان نہیں اپنے کیے پر ندامت نہیں تو ان کے جیسے کس طرح ہوسکتے ہو۔
Ayah 9:105پھر فرمایا (وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ عمل کیے جاؤ، اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول بھی اور مومنین بھی دیکھ لیں گے) حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا ہے کہ یہ وعید کے طور پر فرمایا ہے دنیا میں جو بھی کوئی شخص کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ شانہٗ کو تو بہر حال اس کا علم ہی ہے وہ ازل سے سب کچھ جانتا ہے۔ اور جب کوئی عمل کسی سے صادر ہو اس کے وقوع کو بھی جان لیتا ہے۔ نیز لوگوں کے اعمال مخلوق سے بھی پوشیدہ نہیں رہتے۔ جب جیسا کوئی عمل کرے گا اگر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ہوگا تو آپ بھی اسے جان لیں گے اور مومنین کے سامنے جس کا جو عمل سامنے آئے گا وہ بھی اس سے واقف ہوجائیں گے اگر کوئی شخص برا عمل کرے تو بعض مرتبہ دنیا میں بھی اس کی ذلت اور خواری سامنے آجاتی ہے۔ اور اس عمل پر دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیئے جاتے ہیں۔ (وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (اور عنقریب ایسی ذات پاک کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ظاہر اور پوشیدہ تمام اعمال و اقوال اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ بتادے گا کہ تم لوگ کیا کرتے تھے) اس میں یہ بتادیا کہ دنیا کے بعد آخرت کی پیشی بھی ہے وہاں محاسبہ اور مواخذہ ہے۔ منافق اپنے نفاق سے باز آجائیں اور مومنین جن سے گناہ سرزد ہوئے ہیں وہ بھی آئندہ احتیاط رکھیں اور گناہوں سے پرہیز کریں۔
Ayah 9:106پھر فرمایا (وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور جو لوگ ایسے ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی ہے وہ انہیں عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے) اس آیت میں ان تین صحابیوں کا ذکر ہے جو بلا عذر تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے۔ انہیں اس پر ندامت بھی تھی اور سچائی کے ساتھ انہوں نے عرض کردیا تھا کہ ہم واقعی بلا عذر رہ گئے۔ لیکن ان لوگوں کی طرح سے توبہ کے لیے پیش بھی نہ ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔ یہ تین آدمی کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے بول چال کرنے اور ان کے ساتھ ملنے جلنے سے صحابہ کو منع فرما دیا تھا۔ جب ان کو یہ تکلیف بھاری پڑی اور زمین ان پر تنگ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اس کا تفصیلی واقعہ آئندہ رکوع کی آیت (وَ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا) کی تفسیر میں بیان کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 9:107منافقوں کی ایک بہت بڑی مکاری اور مسجد ضرار کی بناء
حافظ ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر (ص 387 ج 2) میں ان آیات کا شان نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے قبیلہ بنو خزرج میں سے ایک شخص (جسے ابو عامر کہا جاتا تھا) زمانہ جاہلیت میں نصرانی بن گیا تھا۔ وہ راہب تھا اور عبادت گزار تھا۔ اس نے اہل کتاب سے علم بھی حاصل کرلیا تھا۔ قبیلہ بنی خزرج میں اس کی بڑی اہمیت تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اور اسلام کا کلمہ بلند ہوگیا۔ تو اس ملعون کو بہت ہی نا گوار ہوا (جیسا کہ منافقین نے دشمنی کا مظاہرہ کیا) یہ مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ معظمہ پہنچ گیا۔
وہاں اس نے مشرکین کو رسول اللہ سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا جس کی وجہ سے لوگ دیگر قبائل کے ساتھ مدینہ منورہ پر چڑھائی کرنے کے لیے آگئے اور اس کے نتیجے میں احد کا معرکہ پیش آیا کہتے ہیں کہ اسی لعین نے وہاں چند گڑھے کھود دیے تھے جس میں سے ایک میں رسول اللہ ﷺ گرپڑے تھے جو آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کا سبب بنا۔ (جس کا ذکر سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکا ہے) (انوار البیان ج 1) جب احد میں مومنین، اور کافرین کا مقابلہ شروع ہوا تو ابو عامر اپنی قوم (یعنی انصار) کی طرف بڑھا اور ان کو اپنی مدد کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ ان حضرات نے اسے بہت برا کہا اور اس سے کہا کہ تو اللہ کا دشمن ہے اور اس کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ اور اس کا ساتھ نہیں دیا۔ تفسیر ابن کثیر اور معالم التنزیل (ص 362 ج 2) میں لکھا ہے کہ ابو عامر (جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ ؓ کا باپ تھا) زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور اس نے رہبانیت اختیار کرلی تھی۔ ٹاٹ کے کپڑے پہنا کرتا تھا۔ جب نبی اکرم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس نے دریافت کیا کہ آپ کون سا دین لے کر آئے ہیں آپ نے فرمایا میں ملت حنیفیہ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت لے کر آیا ہوں۔ ابو عامر نے کہا ہم دونوں میں سے جو بھی جھوٹا ہو اللہ اسے ایسی جگہ موت دے جہاں وہ تنہا ہو، پر دیسی ہو، دور پھینکا ہوا ہو، اس پر آپ نے آمین فرمایا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ شخص اپنی بد دعا کے مطابق شام میں جا کر مرگیا۔ جہاں کوئی اس کی خبر لینے والا نہ تھا۔ معالم التنزیل میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ابو عامر نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ جو لوگ بھی آپ سے جنگ کریں گے میں ان کے ساتھ مل کر آپ سے لڑوں گا۔ اس کے بعد وہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ مل کر برابر آپ کے مقابلہ میں آتا رہا۔ اور غزوۂ حنین تک اس نے اس پر عمل کیا۔ جب حنین میں بنی ہوازن کو شکست ہوگئی تو یہ ناامید ہوگیا اور شام کی طرف بھاگ نکلا، وہاں سے اس نے منافقین کو پیغام بھیجا کہ جہاں تک ممکن ہو قوت اور ہتھیار جمع کرلو اور میرے لیے ایک مسجد بنا لو، میں قیصر کے پاس جا رہا ہوں جو روم کا بادشاہ ہے میں رومیوں کے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مدینہ سے نکال دوں گا۔ اس کا یہ پیغام آنے پر مسجد قباء کے قریب ہی مسجد ضرار بنائی گئی تھی۔
چونکہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا غلبہ ہوچکا تھا جس کی وجہ سے منافقین نے ظاہر میں اسلام قبول کرلیا تھا اور کھل کر اسلام کے خلاف کوئی مشورہ نہیں کیا جاسکتا تھا اور نہ کوئی مرکز بنایا جاسکتا تھا اس لیے ان لوگوں نے اسلام ہی کے نام سے اپنا مرکز بنایا۔ یعنی مسجد کے عنوان سے ایک جگہ بنا لی جو مسجد قبا کے قریب تھی۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے مسجد بنائی ہے آپ اس میں نماز ادا فرما لیں اور مقصد ان کا یہ تھا کہ جب آپ اس میں نماز پڑھ لیں گے تو مسلمانوں کو اس کے مسجد ہونے کا یقین ہوجائے گا اور اس طرح کا کوئی شک و شبہ نہ کرسکیں گے کہ یہ مسجد کے علاوہ کوئی دوسری چیز ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ مسجد ہم نے ضعیف اور بیمار لوگوں کے لیے بنائی ہے تاکہ سردی اور بارش کی راتوں میں یہ لوگ قریب ہی نماز پڑھ سکیں، دور جانا نہ پڑے۔ آپ نے فرمایا اس وقت تو ہم سفر میں جا رہے ہیں جب واپس آئیں گے تو انشاء اللہ تمہاری فرمائش پوری کردی جائے گی۔ آپ تبوک کے سفر میں تشریف لے گئے جب وہاں سے واپس ہوئے تو مدینہ منورہ پہنچنے میں ابھی ایک دن یا اس سے کم مسافت باقی تھی کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے خبر دے دی کہ یہ مسجد، مسجد ضرار ہے جس کا مقصد اسلام کو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور کفر پرجما رہنا اور مومنین کی جماعت میں تفریق پیدا کرنا ہے کہ جو لوگ مسجد قباء میں نماز پڑھتے ہیں ان کی جماعت کے کچھ لوگ اس مسجد ضرار میں آنے لگیں۔ اور انہیں اپنے ڈھنگ پر ڈالا جاسکے۔
آنحضرت سرور عالم ﷺ ابھی مدینہ منورہ پہنچے بھی نہ تھے کہ راستہ ہی سے آپ نے بعض صحابہ کو بھیج دیا جنہوں نے مسجد ضرار کو آگ لگا دی اور اسے گرا دیا جن حضرات نے یہ کام کیا وہ مالک بن دخشم اور معن بن عدی تھے۔ بعض حضرات نے معن کے بھائی عامر بن عدی کا بھی نام لیا ہے۔ معالم التنزیل میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد ضرار کو جلانے کا حکم دے کر یہ بھی حکم دیا تھا کہ اس کو کوڑا ڈالنے کی جگہ بنا لیا جائے جس میں مردہ جانور اور بد بودار چیزیں ڈالی جایا کریں۔ حافظ ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسجد ضرار کے بنانے والے بارہ آدمی تھے اور ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہیں جب ان لوگوں کا راز کھل گیا تو اپنی عادت کے مطابق وہی جھوٹی قسمیں کھانے لگے اور انہوں نے کہا (اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی) (کہ ہم نے تو صرف خیر ہی کا ارادہ کیا تھا) اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی، اور فرمایا (وَ اللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں) اسلام اور مسلمان اور مسجد قباء کو ضرر دینا اور کفر پر جمے رہنا اور اہل ایمان میں تفریق ڈالنا اور اس شخص کے لیے سامان فراہم کرنا جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی یہ ان کے مقاصد ہیں جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اس سے ابو عامر مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا۔ (لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا) (آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں) خطاب تو آپ کو ہے لیکن مسلمان آپ کے تابع تھے اس لیے سب مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔ پھر فرمایا (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ) (البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر ڈالی گئی وہ اس کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں) اس سے مسجد قباء مراد ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے سفر ہجرت میں بنایا تھا۔ سفر ہجرت کے بعد جب آپ نے چند دن قباء میں قیام فرمایا انہی دنوں میں یہ مسجد تعمیر فرمائی اسلام کی تاریخ میں یہ سب سے پہلی مسجد ہے آپ سوار ہو کر اور کبھی پیدل اس مسجد میں شہر مدینہ سے تشریف لایا کرتے تھے۔ (رواہ البخاری و مسلم)
(اس وقت قباء شہر سے دور تھا راستہ میں جنگل پڑتا تھا آج کل مسلسل قباء تک اور اس کے بعد تک آبادی ہوگئی ہے) آپ نے جب یہ مسجد بنائی تھی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کا کعبہ متعین کر کے بتایا تھا۔ اس مسجد کی یہ بھی فضیلت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس میں نماز پڑھنا عمرہ کرنے کے برابر ہے۔ (رواہ الترمذی ص 74 ج 1)
Ayah 9:108پھر فرمایا : (فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ ) (اس میں ایسے آدمی ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ خوب پاکی حاصل کریں اور اللہ بہت پاکی حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) حضرت ابو ایوب، حضرت جابر، حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آیت شریفہ (فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے انصار کی جماعت بیشک اللہ نے پاکی اختیار کرنے کے بارے میں تمہاری تعریف فرمائی اور یہ تو بتاؤ تمہاری کیا پاکیزگی ہے انہوں نے عرض کیا ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت ہوجائے تو غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہی بات ہے لہٰذا تم اس کے پابند رہو۔ (رواہ ابن ماجہ المشکوٰۃ ص 44 رواہ ابو داؤد ایضا باب الاستنجاء بالماء)
حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت مسند بزار میں بھی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ہم پہلے پتھروں سے استنجاء کرتے ہیں پھر پانی سے دھوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص صرف پتھروں سے بڑا یا چھوٹا استنجا کرے اور نجاست پھیلی ہوئی نہ ہو (یعنی جتنی مقدار صحت صلوٰۃ کے لیے معاف ہے اس سے زیادہ نہ ہو) تو صرف پتھروں کے استنجاء پر اکتفا کرلینا درست ہے۔ عام طور سے اہل عرب پتھروں ہی پر اکتفا کرتے تھے۔ قباء کے نمازیوں نے پتھروں سے استنجا کرنے کے بعد پانی استعمال کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس کے پابند رہو۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کے لیے یہ قانون ہوگیا کہ پتھر یا ڈھیلے استعمال کرنے کے بعد پانی سے بھی دھویا کریں۔ اہل قیام کی پاکیزگی کی تعریف فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا (وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ ) کہ اللہ خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اس میں یہ بتادیا کہ جو شخص بھی نا پاکیوں سے بچنے اور ان سے دور رہے اور نا پاکی کی لگ جائے تو اس کے دھونے کا اہتمام کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا جب ظاہری نا پاکی سے بچنے پر اللہ تعالیٰ کی محبوبیت حاصل ہوتی ہے تو گناہوں سے بچنا تو اور زیادہ محبوبیت کا ذریعہ بنے گا کیونکہ باطنی نا پاکی زیادہ گندی ہے اس پر غور کرلیا جائے۔ اس بات کے پیش نظر حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ پانی سے طہارت حاصل کرنا تو بلاشبہ اچھی بات ہے لیکن آیت میں گناہوں سے پاک ہونے والوں کو اللہ کا محبوب بتایا ہے۔ درحقیقت الفاظ کا عموم ہر طرح کی تطہیر کو شامل ہے، اور گناہوں سے پاک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے اور ظاہری نا پاکیوں سے پاک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
Ayah 9:109پھر فرمایا (اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی) (الآیۃ) کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر رکھی ہو جو گرنے ہی کو ہو رہی ہو۔ پھر وہ عمارت اس بنانے والے کو دوزخ کی آگ میں لے کر گرپڑے۔ جس جگہ پانی بہتا ہو وہاں پانی زمین کو کاٹتا رہتا ہے اور جس کنارے سے کاٹتا ہے اس میں اندر کی جگہ کھوکھلی رہ جائی ہے۔ اور اوپر سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جگہ کی طرح یہ جگہ بھی مضبوط ہوگی لیکن چونکہ وہ اندر سے خالی ہوچکی ہوتی ہے اس لیے وہ تھوڑی دیر میں گر جاتی ہے اسی کو (عَلٰی شَفَاجُرُفٍ ھَارٍ ) فرمایا یعنی جن لوگوں نے اغراض باطلہ کفریہ کے لیے مسجد کے نام سے عمارت بنائی اس کے لیے بقا نہیں ہے جیسا کہ پانی کی کاٹی ہوئی زمین اندر سے خالی ہونے کی وجہ سے جلدی گر جاتی ہے اور صرف یہی نہیں کہ ان کی یہ عمارت گرنے والی ہے وہ خود بھی گرے گی اور اس کے بنانے والے بھی گریں گے اور ان لوگوں کا گرنا دوزخ میں ہوگا۔ کیونکہ اعمال کفریہ دوزخ میں لے جانے والے ہیں۔ (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا انہوں نے مسجد کے نام سے عمارت بنائی اور اس میں اپنی اغراض کفریہ داخل کردیں۔ مسجد شعائر دین میں سے ہے انہوں نے اسے کفر کا مرکز بنایا ہدایت قبول کرنے کی بجائے گمراہی سے چپکے رہے۔
Ayah 9:110پھر فرمایا (لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) کہ انہوں نے جو یہ عمارت بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی کیونکہ جس غرض سے مسجد بنائی تھی پوری نہ ہوئی پھر وہ منہدم کردی گئی، اور جلا دی گئی اور بنانے والوں کی رسوائی بھی ہوئی۔ یہ ان کے دلوں کا کانٹا ہے جو ہمیشہ چبھتا رہے گا۔ (اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ ) مگر یہ کہ ان کے دلوں میں ٹکڑے ہوجائیں یعنی وہ مرجائیں گے تو یہ دلوں کی کھٹک ختم ہوگی، نہ خود رہیں گے نہ کھٹک رہے گی۔ (البتہ آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ اپنی جگہ مستقل ہے) (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) اور اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔
فائدہ : جو مسجد تقویٰ کی بنیاد پر بنائی گئی اس سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مسجد مراد ہے۔ لیکن بعض روایات میں ہے کہ اس سے مسجد نبوی مراد ہے۔ صحیح مسلم (ص 447 ج 1) میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دونوں مسجدوں میں سے وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ آپ نے کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں لیں اور ان کو زمین پر مار دیا اور فرمایا کہ مسجد نبوی یہ میری مسجد ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰیسے مسجد نبوی مراد ہے۔ محققین نے فرمایا ہے اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں دونوں مسجدیں (مسجد قباء اور مسجد نبوی) آنحضرت ﷺ کی بنائی ہوئی ہیں۔ اور دونوں کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ اس سے میری مسجد مراد ہے۔ اس میں اس کی نفی نہیں ہے کہ مسجد قباء کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔
فائدہ : اگر کوئی شخص دور حاضر میں تفریق بین المسلمین یار یاو نمود کے لیے اور ضد کی وجہ سے کوئی مسجد بنا دے تو چونکہ اس کی نیت خیر نہیں اس لیے اس مسجد بنانے کا ثواب نہ ملے گا۔ بلکہ وہ اپنی بری نیت کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ لیکن چونکہ یقینی طور پر دلوں کا حال بندوں کو معلوم نہیں اس لیے اس کو گرانا اور جلانا جائز نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق مسجد بنانے والے سے معاملہ فرمائے گا۔ اور اس مسجد کے آداب و احکام وہی ہوں گے جو دیگر مساجد کے ہیں۔ اگر کوئی شخص ریا و نمود اور ضد وعناد کے لیے مسجد بنائے تو بہتر ہے کہ اس میں نماز نہ پڑھی جائے تاکہ اسے رسوائی کی سزا مل جائے لیکن اگر کسی نے اس میں نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی۔
فائدہ : شیطان بہت چالاک ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو متعدد طریقوں سے استعمال کرتا ہے۔ دین اور اہل دین کے خلاف کسی کو کھڑا کرنا ہو تو دین سے متعلقہ چیزوں ہی کو سامنے لاتا ہے اور اسی کو ذریعہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور اسلام کے نقصان پہنچانے کی تدبیر کرتا ہے۔ منافقین نے جو کفر اور نفاق اور اسلام کے خلاف محاذ آرائی اور جنگی تیاری کے لیے مرکز بنایا اس کا نام انہوں نے مسجد تجویز کردیا اور سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس میں نماز پڑھنے کی درخواست کی تاکہ اس کے مسجد ہونے میں عامۃ المسلمین کو شبہ نہ رہے۔ اور جیسے خوشی کے ساتھ مسجد قباء میں نماز پڑھتے ہیں اسی طرح ان کی اس مسجد ضرار میں نماز پڑھتے رہیں۔ مقصد یہ تھا کہ اس تدبیر سے ہماری دشمنی پوشیدہ رہے گی اور ہماری نیتوں پر پردہ پڑا رہے گا اور اپنے مقصد بد میں چپکے چپکے آگے بڑھتے رہیں گے۔ یہود و نصاریٰ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسی تدبیریں کرتے رہتے ہیں اور بہت سے نام نہاد مسلمانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔ اس کی سب سے پہلی کڑی شیعیت کی بنیاد ہے۔ جب یہود کو اسلام کی ترقی بہت زیادہ کھلنے لگی تو انہوں نے پیش رفت کو روکنے کے لیے اور حضرات صحابہ کرام ؓ سے اور خاص کر حضرات شیخین حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ سے کاٹنے کے لیے ایک شوشہ چھوڑا۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کو ان کے والد ماجد کی میراث نہیں دی گئی ﷺ چونکہ اس میں حضرت سیدہ فاطمہ کی ہمدردی سامنے رکھی گئی اس لیے بہت سے سیدھے سادھے لوگ ان کے جال میں پھنس گئے اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے مخالف ہوگئے کہ انہوں نے میراث نہیں دی۔ جیسے مسجد ضرار والوں نے اپنے مرکز فساد کو مسجد کے نام سے موسوم کیا جو اسلامی شعائر میں سے ہے اسی طرح یہود نے اس موقع پر حضرت سیدنا فاطمہ ؓ کی مظلومیت کو سامنے رکھ کر شیعیت کا آغاز کیا۔ ہر مسلمان کو آنحضرت سید عالم ﷺ کی آل اولاد سے قلبی تعلق ہے اس لیے اہل بیت کی ہمدردی اور غم خواری کا دم بھرنا سیدھے سادھے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے کار گر ہوگیا۔
اس کے بعد شیعیت کے علم برداروں نے یہ نکتہ نکالا کہ حضرت مرتضیٰ علی ؓ خلافت کے مستحق تھے انہیں خلافت نہیں دی گئی حضرت علی ؓ سے تمام مومنین کو محبت ہے اس لیے ان کی ذات کو سامنے رکھ کر یہودیوں نے اپنا کام اور آگے بڑھایا۔ پھر استاد یعنی یہودی خواہ الگ ہوگئے ہوں لیکن جن لوگوں کو گمراہ کردیا تھا ان کے اتنے زیادہ فرقے بنے کہ ان کا شمار بھی دشوار ہے۔ حتیٰ کہ ایک فرقہ حضرت علی کی الوہتو کا بھی قائل ہوگیا اور پھر طرح طرح کے فتنے اٹھے اور ہر جماعت کے قائد نے اپنے پیش نظر کوئی دینی بات ہی رکھی اور اپنے اوپر ایسا لیبل لگایا جس کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں (نام دین کا ہو اور کام کفر کا) دور حاضر میں ایسی بہت سی جماعتیں ہیں جن میں سے ایک جماعت نے اپنا نام اہل قرآن رکھا ہے۔ یہ لوگ اپنے خیال میں قرآن کو اکابر اہل علم سے زیادہ جانتے ہیں۔ حالانکہ عربی کے صیغے بھی نہیں بتاسکتے اور کسی آیت کی ترکیب نحوی سے بھی واقف نہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے سامنے خدمت قرآن کا لیبل لگا کر سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے احادیث شریفہ کی حجیت کے بھی منکر ہیں اور نمازوں کی فرضیت کے بھی اور ضروریات دین کو نہیں مانتے۔ ہیں کافر لیکن قرآن دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور سادہ مسلمانوں کو (جن کا علماء سے ربط نہیں ہے) قرآن کے نام پر اپنی گمراہی کے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی محبت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ آپ کی محبت ہر مومن کے دل میں ہے اس لیے حُبِّ نبی کا نام سن کر بہت سے لوگ ان کے ہمنوا ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کی جھوٹی محبت کا یہ عالم ہے کہ قرآن کو بھی جھٹلا دیتے ہیں اور رسول ﷺ کے ارشادات کو بھی نہیں مانتے۔ حب نبی ﷺ کا عنوان ان لوگوں کا ظاہری لیبل ہے جس سے عامۃ الناس کو متاثر کرتے ہیں اور اپنے ایجاد کردہ عقائد اور اعمال پر جمنے کے لیے قرآن و حدیث کی تصریحات کو جھٹلا دیتے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک یہ بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بشر نہیں تھے۔ حالانکہ قرآن کریم میں آپ کو بشر فرمایا ہے آپ نے خود فرمایا کہ میں بشر ہوں لیکن یہ لوگ آیات اور احادیث کو نہیں مانتے اور عجیب بات یہ ہے کہ محبت کے دعویدار بھی ہیں۔ یہ عجیب محبت ہے کہ جس سے محبت ہے اس کے ارشادات سے انحراف ہے اسی طرح کی بہت سی باتیں مستشرقین نے ریسرچ کے نام پر پھیلا رکھی ہیں اور ان کے لیے نام نہاد مسلمانوں کو استعمال کرتے ہیں نام تحقیق کا اور کام اسلامیات سے منحرف ہونے کا اور دوسروں کا منحرف کرنے کا۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ من جمیع أھل الفتن۔
انگریزوں کو اپنے اقتدار میں یہ خوف لا حق ہوا کہ کہیں مسلمان جہاد کے لیے کھڑے نہ ہوجائیں اس لیے انہیں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اسلام ہی کی راہ سے جہاد کو منسوخ کرائیں۔ جہاد اسلام کا بہت بڑا عمل ہے۔ اپنے وفا دار نام نہاد علماء سے منسوخ کراتے تو کون مانتا اس لیے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا پھر اس سے جہاد منسوخ ہونے کا اعلان کرا دیا وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح مسلمان جہاد کو منسوخ مان لیں گے۔ انہیں یہ پتہ نہ تھا کہ مسلمان انگریزوں کے بنائے ہوئے نبی کو کافر قرار دیدیں گے۔ اور اس کی جھوٹی نبوت کو ماننے سے انکار کردیں گے۔ بہر حال انہوں نے اپنا یہ حربہ استعمال کیا یعنی ایک شخص سے نبوت کا اعلان کرا کے جہاد منسوخ کرانے کی سعی لا حاصل کی۔ بہت سے لوگ قبروں کے مجاور بنے ہوئے ہیں شرک اور بدعات میں مبتلا ہیں، عوام کو قبروں پر بلاتے ہیں، چڑھاوے چڑھواتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کے اس طریقہ کار کو غیر شرعی بتاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ اولیاء اللہ کو نہیں مانتے، ان لوگوں کے اولیاء اللہ کے ناموں کو جعل سازی اور کسب دنیا کا ذریعہ بنارکھا ہے اور اس طرح کے بہت سے نعرے ہیں جو دشمنان دین، دین کے نام پر لگاتے رہتے ہیں۔ اعاذنا اللہ منھم۔