Ayah 7:204قرآن مجید پڑھنے اور سننے کے احکام و آداب
ان آیات میں قرآن مجید سننے کا حکم فرمایا ہے اور بعض احکام و آداب ارشاد فرمائے ہیں۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے دھیان سے سنو اور خاموش رہو، اول تو قرآن پڑھنے والے کو چاہئے کہ قرآن پڑھنے میں اس کا خیال رکھے کہ جن کانوں میں آواز پہنچ رہی ہے وہ لوگ کام کاج اور نیند میں تو مشغول نہیں ہیں۔ اگر لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہوں یا سو رہے ہوں تو اونچی آواز سے تلاوت نہ کرے کیونکہ کام میں لگے ہوئے لوگ قرآن مجید کی طرف توجہ نہیں کرسکتے۔ پڑھنے والے پر لازم ہے کہ ایسی صورت حال پیدا نہ کرے کہ حاضرین کے کانوں میں قرآن مجید کی آواز آرہی ہو اور کام کاج میں مشغولیت کی وجہ سے قرآن مجید سننے کی طرف توجہ نہ کرسکیں۔ قاری جب یہ دیکھے کہ توجہ سے سننے والے موجود ہیں تو زور کی آواز سے تلاوت کرے، جو لوگ مشغول نہیں ہیں ان پر لازم ہے کہ خاموش رہیں اور دھیان لگا کر سنیں اگرچہ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ قرآن پڑھا جا رہا ہو اور باتیں کر رہے ہیں یہ قرآن مجید کی بےادبی ہے یہ حکم کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش رہو اور دھیان سے سنو نماز اور خارج نماز دونوں کو شامل ہے جو لوگ امام کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوں ان کے لیے تو غافل ہونے کا موقع ہی نہیں ہے۔ کارو بار اور دکان چھوڑ کر آتے ہیں مسجد میں موجود ہیں اور جب تک نماز میں ہیں دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ پھر بھی امام کی قرأت کی طرف متوجہ نہ ہوں تو یہ سخت محرومی کی بات ہے۔
امام کے پیچھے خاموش رہنے کا حکم اور امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب :
حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مقتدی کو امام کے پیچھے سورة فاتحہ یا کوئی سورت پڑھنا ممنوع ہے۔
آیت بالا میں قرآن مجید کی تلاوت کے سننے اور تلاوت کے وقت خاموش رہنے کا جو حکم فرمایا ہے یہ حکم نماز کی مشغولیت کے وقت کو اور خارج نماز کو عام ہے، نیز صحیح مسلم ص 174 ج 1 میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : و اذا قرأ فانصتوا (کہ جب امام پڑھے تو خاموش رہو) امام مسلم نے نہ صرف اس حدیث کی تخریج کی بلکہ بالتصریح یہ بھی فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کے الفاظ بھی عام ہیں جہری اور سری دونوں نمازوں کو شامل ہیں۔
امام کے پیچھے قرأت نہ پڑھنے کے بارے میں حضرات صحابہ ؓ کے ارشادات
حضرت صحابہ کرام ؓ کے آثار و اقوال سے بھی امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ سے حضرت عطاء بن یسار تابعی (رح) نے امام کے ساتھ قرأت پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : لا قرأۃ مع الامام فی شئ (صحیح مسلم ص 410 ج 1) یعنی امام کے ساتھ نماز میں کوئی بھی قرأت نہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا : من صلی رکعۃً لم یقرأ فیھا بام القرآن فلم یصل الا ان یکون وراء الامام 1 یعنی جس شخص نے کوئی رکعت پڑھی جس میں ام القرآن (سورۂ فاتحہ) نہ پڑھی تو اس نے نماز نہیں پڑھی الایہ کہ امام کے پیچھے ہو (اگر امام کے پیچھے ہو تو سورة فاتحہ پڑھے) ۔
امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ لا صلوٰۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب تنہا نماز پڑھنے والے کے لیے ہے (قال احمد و ھذا رجل من اصحاب النبی ﷺ تَاول قول النبی ﷺ لا صلوٰۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب ان ھذا اذا کان وحدہ) ۔
شرح معانی الآثار للامام الطحاوی، (باب القرأۃ خلف الامام) میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ من قرأ خلف الامام فلیس علی الفطرۃ (کہ جو شخص امام کے پیچھے قرأت پڑھے وہ فطرت پر نہیں ہے) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : انصت للقرأۃ فان فی الصلوٰۃ شغلاً فسیکفیک ذلک الامام (قرأت کے لیے خاموش ہوجاؤ کیونکہ نماز میں مشغولیت ہے اور اس بارے میں امام تمہاری طرف سے کافی ہے) نیز حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : لیت الذی یقرأ خلف الامام ملئی فمہ ترابا (کاش اس کے منہ میں مٹی بھر دی جاتی جو امام کے پیچھے پڑھتا ہے) حضرت ابن عباس سے ابو جمرہ نے دریافت کیا میں امام کے پیچھے پڑھوں ؟ تو جواب میں فرمایا کہ نہیں، اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ امام کے پیچھے نہیں پڑھتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ امام کے پیچھے پڑھا جائے تو فرمایا : اذا صلی احدکم خلف الامام فحسبہ قرأۃ الامام۔ (جب تم میں سے کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قرأۃ کافی ہے) یہ سب آثار شرح معانی الآثار میں مروی ہیں۔
امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کا مذہب :
اب دیگر ائمہ کے مذاہب کی طرف رجوع فرمائیے۔ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مذہب بھی یہ ہے کہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھنا واجب نہیں ہے اور حضرت امام شافعی (رح) کا قول قدیم یہ تھا کہ امام کے پیچھے جہری میں قرأت واجب نہیں ہے اور قرأت سری میں واجب ہے اور ان کا قول جدید یہ ہے کہ سری نماز ہو یا جہری مقتدی پر سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب آیت قرآنیہ اور حدیث صحیح اور آثار صحابہ سے موید ہے اور حضرت امام مالک اور امام احمد بن حنبل بھی
1 سنن ترمذی، باب ماجاء فی ترک قراء ۃ الامام اذا جھر بالقراء ۃ
امام کے پیچھے پڑھنے کی فرضیت کے منکر ہیں ان کے نزدیک امام کے پیچھے نہ سورة فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور نہ کوئی دوسری سورت، البتہ بعض احوال میں ان کے نزدیک سورة فاتحہ پڑھنا مستحب ہے۔ (کما ذکر فی کتب مذھبم) قال ابن قدامۃ الحنبلی فی المغنی ص 200 ج 1 و الماموم اذا سمع قرأۃ الامام فلا فقرء بالحمد و لا بغیرھا لقول اللہ تعالیٰ و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون ط و لما روی ابوہریرہ ؓ ان النبی ﷺ قال : ما لی أنازع القرآن قال : فانتھی الناس أن یقروا فیھا جھر فیہ النبی۔ و جملۃ ذلک ان الماموم اذا کان یسمع قراءۃ الامام لم تجب علیہ القرأۃ و لا تستحب عند امامنا و الزھری و الثوری ومالک و ابن عیینۃ و ابن المبارک و اسحاق و احمد قولی الشافعی و نحوہ عن سعید بن المسیب و عروۃ بن الزبیر وأبی سلمۃ بن عبدالرحمن و سعید بن جبیر و جماعۃ من السلف، و القول الآخر للشافعی یقراء فیھا جھر فیہ الامام و نحوہ عن اللیث و الاوزاعی و ابن عون و مکحول و أبی ثور لعموم قولہ (علیہ السلام) ” لا صلوٰۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب “ متفق علیہ و لنا قول اللہ تعالیٰ : و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و أنصتوا لعلکم ترحمون ط و قال احمد فالناس علی أن ھذا فی الصلوٰۃ۔ و عن سعید بن المسیب و الحسن و ابراھیم و محمد بن کعب و الزھری أنھا نزلت فی شأن الصَّلٰوۃ۔ و قال زید بن أسلم و ابو العالیۃ کانوا یقرؤن خلف الامام فنزلت و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و أنصتوا لَعَلَّکُمْ ترحمون وقال احمد فی روایۃ ابی داود اجمع الناس علی ان ھذہ الایۃ فی الصلوۃ ولاتہ عام فیتناول بعمومہ الصلوۃ، و روی ابوہریرہ قال : قال رسول اللہ ﷺ انما : جعل الامام لیؤتم بہٖ فاذاکبر فکبرواٗ واذا قرأ فانصتوا “ رواہ مسلم (الی ان قال) قال أحمد ما سمعنا احدا من اھل الاسلام یقول ان الامام اذا جھر بالقرأۃ لا تجزیء صلوٰۃ من خلفہ اذا لم یقرأ، و قال ھذا النبی ﷺ و أصحابہ و التابعون و ھذا مالک فی اھل الحجاز و ھذا الثوری فی أھل العراق و ھذا الاوزاعی فی أھل الشام و ھذا اللیث فی أھل مصرما قولو الرجل صلی و قرأ امامہٗ و لم یقرأ ھو صلوٰۃ باطلۃ و لانھا قرأۃ لا تجب علی المسبوق فلم تجب علیٰ غیرہٖ کالسورۃ، فأما حدیث عبارۃ الصحیح فھو محمول علی غیر الماموم، و کذالک حدیث ابی ہریرہ قد جاء مصر حابہٖ رواہ الخلال باسنادہٖ عن جابر ان النبی ﷺ قال کل صلوٰۃ لا یقرأ فیھا بأم القرآن فھی خداج الا أن تکون وارء الامام، و قد روی ایضاً موقوفاً عن جابر، و قول ابی ہریرہ اقرأ بھا فی نفسک من کلامہٖ و قد خالفہ جابر و ابن الزبیر وغیرھما، ثم یحتمل انہ اراد اقرأ بھا فی سکتات الامام أو فی حال اسرارہ فانہٗ یروی أن النبی ﷺ قال : اِذا قرأ الامام فانصتوا، و الحدیث الاخر و حدیث عبارۃ الآخر فلم یروہ غیر ابن اسحاق کذلک قالہ الامام أحمد و قد رواہ ابو داود عن مکحولٍ عن نافع بن محمود بن الربیع الانصاری و ھو أدنی حالا من ابن اسحاق فانہ غیر معروف من اھل الحدیث و قیاسھم یبطل بالمسبوق (ثم قال بعد سطور) الا تسحباب ان یقرأ فی سکتات الامام و فی ما لا یجھر فیہ (الی ان قال) فان لم یفعل فصلوٰۃ تامۃ لان من کان لہ امام فقراء ۃ، و جملۃ ذلک ان القراء ۃ غیر واجبۃ علی الماموم فیما جھر بہ الامام فیھا اسربہ نص علیہ احمد فی روایۃ الجماعۃ، و بذالک قال الزھری و الثوری و ابن عیینۃ ومالک و ابن حنفیۃ و اسحاق 1 ھ (علامہ ابن قدامہ حنبلی (رح) نے المغنی میں کہا ہے مقتدی جب امام کی قرأت سن رہا ہو تو نہ فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی اور سورة وغیرہ پڑھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگاؤ اور خاموش رہو اور حضرت ابوہریرہ کی اس روایت کی وجہ سے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے کیا ہے کہ میرے ساتھ قرآن کریم میں جھگڑا کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اس کے بعد لوگ ان نمازوں میں فاتحہ پڑھنے سے رک گئے جن میں حضور ﷺ جہر سے تلاوت فرماتے تھے اور اسی کا خلاصہ یہ ہے کہ مقتدی جب امام کی قرأت سنے تو اس پر قرأت واجب نہیں ہے اور نہ مستحب ہے ہمارے امام کے نزدیک اور زہری، ثوری، مالک، ابن عیینہ، ابن المبارک، اسحاق اور امام شافعی کے ایک قول کے مطابق اسی طرح ہے اور حضرت سعید بن المسیب، عروۃ بن الزبیر، ابو سلمہ، اور سعید بن جبیر اور سلف کی ایک جماعت سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی (رح) کا دوسرا قول یہ ہے کہ جس نماز میں امام جہر کرے اس میں بھی مقتدی پڑھے اور اسی طرح منقول ہے لیث، اوزاعی، ابن عون، مکحول اور ابو ثور سے حضور ﷺ کے ارشاد لا صلوٰۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب (اس آدمی کی نماز نہیں ہے جو فاتحہ نہ پڑھے) کے عام ہونے کی وجہ سے۔ ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) امام احمد فرماتے ہیں عام اہل علم اسی پر ہیں کہ یہ حکم نماز کے بارے میں ہے۔ حضرت سعید بن المسیب، حسن، ابراہیم، محمد بن کعب، زھری سے بھی یہی مروی ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور زید بن اسلم اور ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں لوگ امام کے پیچھے قرأت کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ امام احمد نے کہا ہے کہ امام ابو داؤد کی روایت کے مطابق سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں ہے اور اس لیے بھی کہ یہ آیت عام ہے جو نماز کو بھی شامل ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا امام اسی لیے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب قرأت کرے تو تم خاموش رہو (رواہ مسلم) یہ بھی کہا ہے کہ امام احمد کہتے ہیں ہم نے اہل اسلام میں سے کسی سے یہ نہیں سنا ہے کہ امام جب جہر سے قرأت کرے تو قرأت نہ کرنے والے مقتدی کی نماز نہیں ہوتی اور کہا کہ یہ حضور ﷺ ہیں اور یہ آپ کے صحابہ ؓ ہیں اور تابعین ہیں یہ امام مالک ہیں حجاز میں، اور اہل عراق میں امام ثوری ہیں اور اہل شام میں اوزاعی اور اہل مصر میں لیث ہیں کہ انہوں نے امام کی قرأت کے پیچھے قرأت نہ کرنے والے کسی آدمی کو یہ نہیں کہا کہ تیری نماز باطل ہے اور اس لیے بھی مقتدی پر واجب نہیں کہ مسبوق پر واجب نہیں ہے تو سورة کی طرح دوسروں پر بھی واجب نہیں ہے۔ حضرت عبادۃ ؓ والی حدیث صحیح وہ منفرد کے لیے ہے اور اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں تو اس کی صراحت ہے خلال نے اپنی سند سے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر وہ نماز جس میں فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نا قص ہے مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو اور حضرت جابر ؓ سے موقوفاً بھی مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جو یہ ہے کہ اسے اپنے دل میں پڑھ یہ ان کا اپنا قول ہے کیونکہ حضرت جابر ؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ وغیرہ نے اس کی مخالفت کی ہے، پھر یہ احتمال ہے کہ آپ کا مقصد یہ ہو کہ امام جب سکتہ کرے تو اس میں پڑھ لو یا اس کی خاموشی کے وقت پڑھ لے کیونکہ انہوں نے ہی روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور دوسری حدیث اور حضرت عبادۃ کی دوسری حدیث اسے ابن اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ امام احمد نے بھی یہی کہا ہے اور ابو داؤد عن مکحول عن نافع بن محمود بن الربیع الانصاری والی جو روایت ہے وہ ابن اسحاق سے بھی زیادہ کمزور ہے کیونکہ وہ محدثین میں غیر معروف ہے اور ان کا مسبوق پر قیاس باطل ہے (کچھ سطروں کے بعد ہے) کہ مستحب یہ ہے کہ امام کے سکتوں میں پڑھے اور غیر جہری میں پڑھے ...... اگر ایسا نہ کرے تو بھی نماز تمام ہوجائے گی کیونکہ جس کا امام ہو تو امام کی قرأت اس کے لیے کافی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مقتدی پر قرأت واجب نہیں ہے نہ جہری نمازوں میں نہ سری میں۔ ایک پوری جماعت کی روایت کے مطابق امام احمد نے اسی کی صراحت کی ہے اور یہ قول ہے زہری، ثوری، ابن عیینہ، مالک اور ابوحنیفہ اور اسحاق کا) ۔
حضرت امام شافعی کا قول جدید بعض جماعتوں نے اختیار کرلیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو شخص امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز ہوتی ہی نہیں۔ دیگر مسائل اختلافیہ کی طرح اس مسئلہ میں بھی صحابہ ؓ کے درمیان اختلاف تھا دونوں طرف دلائل ہیں پھر اس میں اتنا غلو ہونا کہ جو حضرات فاتحہ الامام کی فرضیت کے قائل نہ ہوں (جن میں حضرت امام احمد بن حنبل (رح) بھی ہیں جو جماعت مذکورہ کے نزدیک امام الحدیث اور امام السنہ ہیں) ان کو خطا کار بتانا اور جو امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کے بارے میں قسمیں کھا کھا کر یہ کہنا کہ ان کی نماز ہوتی ہی نہیں سراسر تعدی ہے۔ قیامت کے دن جب نمازوں کا اجر وثواب ملے گا تو اس سے پوچھا بھی نہ جائے گا کہ بتاؤ جس نے تمہاری رائے کے مطابق نماز نہ پڑھی اسے جنت میں بھیجا جائے یا نہیں ؟
فائدہ : جب قرآن مجید پڑھا جائے نماز کے اندر ہو یا نماز سے باہر اس کے بارے میں حاضرین کو حکم دیا کہ قرآن کو سنیں اور خاموش رہیں یہ قرآن کا ادب ہے جس طرح سامعین کو حکم ہے کہ قرآن سنیں اور کان دھریں اور خاموش رہیں اس طرح حضرات فقہاء کرام نے قرآن پڑھنے والے کو بھی ہدایت دی ہے کہ جہاں لوگ کام کاج اور کارو بار میں لگے ہوئے ہوں وہاں زور سے قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے یہ جو لوگوں نے طریقہ نکال رکھا ہے کہ ایسے مواقع میں کیسٹ یا ریڈیو کھول دیتے ہیں جہاں لوگ قرآن سننے کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتے یا شبینوں میں لاؤڈ سپیکر لگا کر محلوں میں بازاروں میں قرآن مجید کی آواز پہنچاتے ہیں اس میں قرآن مجید کی بےادبی ہے، جہاں لوگ سو رہے ہوں وہاں بھی زور سے تلاوت نہ کریں۔
آیت کے ختم پر جو (لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قرآن کے آداب بجا لائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اس سے بات کا دوسرا رخ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کی بےحرمتی اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کی گرفت کا سبب ہے۔
Ayah 7:205ذکر اللہ کا حکم اور اس کے آداب
اس سے پہلی آیات میں قرآن مجید کو بصائر اور ہدایت و رحمت بتایا اور قرآن کا ادب سمجھایا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو دھیان سے سنو اور چپ رہو، اب یہاں مطلق ذکر کا حکم فرمایا ہے اور اس کے بعض آداب بتائے ہیں۔ اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اسی کی وجہ سے ساری دنیا آباد ہے۔ صحیح مسلم ص 84 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا نماز بھی اللہ کے ذکر کے لیے ہے کما قال تعالیٰ (وَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ )
سورة عنکبوت میں فرمایا (وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) (اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے) سورة بقرہ میں فرمایا (فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَ لَا تَکْفُرُوْنِ ) (سو تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری نا شکری نہ کرو) ۔
صحیح مسلم ص 126 ج 1 میں ہے کان النَّبِیَّ ﷺ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ اَحْیَانِہٖ (کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے) مومن بندے دل کو بھی اللہ کے ذکر سے معمور رکھیں اور زبان سے بھی اللہ کی یاد میں مشغول رہیں۔ تسبیح تحمید تکبیر تہلیل یہ سب اللہ کا ذکر ہے ان کی فضیلتیں بہت سی احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر زندگی کے مختلف اوقات میں متعلقہ مسنون دعائیں پڑھیں اور ان دعاؤں کا اہتمام کریں تو زندگی کے عام حالات میں اور مختلف اوقات میں اللہ کی یاد ہوتی رہے گی، سوتے جاگتے کھاتے پیتے وقت، گھر سے نکل کر اور گھر میں داخل ہو کر اور کپڑا پہنتے وقت سواری پر سوار ہوتے وقت، سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت، کسی منزل پر اترنے کے بعد، جہاد کرتے وقت، ابتلاء مصائب کے مواقع میں، بازار میں پہنچ کر اور ہر مجلس میں وہ دعائیں پڑھی جائیں جو آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں اور صبح شام کے اوقات کو خاص طور پر ذکر میں مشغول رکھا جائے۔ ان اوقات کی مسنون دعائیں بھی اہتمام سے پڑھی جائیں، علامہ جزری (رح) نے حصن حصین میں مختلف احوال و اوقات کی دعائیں لکھ دی ہیں اور راقم الحروف نے بھی اپنی کتاب فضائل دعاء میں جمع کردی ہیں۔ تلاوت بھی ذکر ہے اور دعاء بھی، تہلیل تحمید تکبیر بھی ذکر ہے اور درود شریف بھی ذکر میں شامل ہے کیونکہ اس میں اللہ سے سوال کیا جاتا ہے کہ اپنے رسول ﷺ پر رحمت بھیجے، استغفار بھی ذکر ہے ان سب چیزوں میں مشغول رہنا چاہئے۔
ذکر خفی کی فضیلت :
اللہ کا ذکر آہستہ آہستہ کرنا افضل ہے جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ خیر الذکر الخفی (رواہ احمد فی مسندہ ص 172 ج 1 عن سعد بن مالک مرفوعاً ) (کہ بہتر ذکر وہ ہے جو پوشیدہ ہو) اور صرف دل دل میں بلا حرکت زبان اللہ کی ذات وصفات کا دھیان کرنا جس کو تفکر و مراقبہ کہا جاتا ہے یہ بھی ذکر خفی ہے۔ ذکر پوشیدہ ہو اور تضرع اور زاری کے ساتھ ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ہو اس کا بہت بڑا مرتبہ ہے اور زور سے ذکر کرنا بھی درست ہے لیکن ایسانہ چیخے کہ جان کو تھکا ڈالے، بلند آواز بھی ہو تو ہلکی آواز ہو اسی کو فرمایا (وَ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ ) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے لوگوں نے زور زور سے اللہ اکبر کہنا شروع کیا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ تم ایسے معبود کو نہیں پکار رہے ہو جو بہرا ہو اور غائب ہو، تم تو ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سمیع ہے اور بصیر ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ قسم اس ذات کی جسے تم پکار رہے ہو وہ تم سے اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنی قریب تمہاری اونٹنی کی گردن ہے، یہ بیان فرما کر حضرت ابو موسیٰ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے تھا اور دل میں لَا حَوْلَ وَ لَا قُوّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس (یہ ابو موسیٰ ؓ کا نام ہے) کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتادوں ؟ پھر فرمایا کہ وہ خزانہ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 401 از بخاری و مسلم)
ذکر جہر کرنے میں یہ بھی دھیان رہے کہ نمازیوں کو تشویش نہ ہو اور سونے والوں کی نیند خراب نہ ہو۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ ہر نیک کام اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہئے جو بھی کوئی کام دکھاوے کے لیے یا مخلوق کو معتقد بنانے کے لیے یا اپنی بزرگی جمانے کے لیے ہو گو بظاہر نیک ہی ہو وہ حقیقت میں نیک نہیں ہوتا اور نہ صرف یہ کہ اس کا ثواب نہیں ملتا بلکہ و بال اور عذاب کا سبب بن جاتا ہے۔
اور اگر کوئی شخص (احکام و آداب کی رعایت کرتے ہوئے) زور سے ذکر کرے لیکن مقصود اللہ کی رضا ہو تو اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی شخص ذکر خفی کرے اور پھر ترکیب سے لوگوں کو ظاہر کر دے تاکہ لوگ اس کے معتقد ہوں تو ایسا ذکر خفی بھی مقبول نہیں ہوگا اور یہ عمل باعث مواخذہ ہوگا، ریا کاری کا تعلق اندر کے جذبہ سے ہے لوگوں کے سامنے عمل کرنے کا نام ریا نہیں ہے بلکہ لوگوں میں عقیدت جمانے کے جذبہ کا نام ریا ہے۔ آیت شریفہ میں اول تو یہ فرمایا کہ اپنے رب کی عاجزی کے ساتھ اپنے دل میں اور ڈرتے ہوئے یاد کرو پھر یہ فرمایا کہ ایسی آواز سے یاد کرو جو زور کی آواز کی بہ نسبت کم آواز ہو۔
صبح شام اللہ کا ذکر کرنا :
پھر فرمایا (بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ ) کہ صبح شام اپنے رب کو یاد کرو، صاحب روح المعانی (ص 100 ج 9) لکھتے ہیں کہ صبح شام کا خصوصی ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ فراغت کے اوقات ہیں۔ ان اوقات میں دل کی توجہ ذکر کی طرف زیادہ ہوتی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان اوقات میں فرشتوں کا آنا جانا ہوتا ہے ایک جماعت آتی ہے دوسری جاتی ہے۔ اس لیے ان اوقات کو خاص طور سے ذکر فرمایا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے دوام ذکر مراد ہے کہ ہر وقت ذکر کرو۔
غافلوں میں سے نہ ہوجاؤ :
پھر فرمایا (وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ ) (غفلت والوں میں سے نہ ہوجانا) یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگے رہنا اور اس کی یاد سے غافل نہ ہونا۔
Ayah 7:206فرشتوں کی تسبیح اور عبادت :
اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے ملاء اعلیٰ کے فرشتوں کی تسبیح اور عبادت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ بلاشبہ جو تیرے رب کے مقرب بندے ہیں وہ اپنے رب کی عبادت سے استکبار نہیں کرتے یعنی اپنی ذات کو بڑا نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے اللہ کی عبادت سے رو گردانی کریں، وہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ جانتے اور مانتے ہیں اور بندگی کے آداب بجا لاتے ہیں اور اپنی مملوکیت اور عاجزی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کو سورة نساء میں یوں بیان فرمایا (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الْمَلآءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَ مَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُھُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا) (مسیح نے اور مقرب فرشتوں نے ہرگز اس سے استنکاف نہیں کیا کہ اللہ کے بندے بنیں اور جو شخص اس کی عبادت سے استنکاف کرے گا تو وہ انہیں عنقریب دوزخ میں جمع فرما دے گا) (استنکاف کا معنی یہ ہے کہ اپنے کو بڑا سمجھے اور کسی کام کو اپنی شان کے خلاف جانے) ۔
سجدۂ تلاوت کا بیان :
اس آیت پر سورة اعراف ختم ہو رہی ہے اور یہ پہلی جگہ ہے جہاں قرآن مجید میں سجدۂ تلاوت آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرات ملائکہ ( علیہ السلام) کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے اندر بڑائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے اپنے رب کی عبادت سے منہ موڑیں بلکہ وہ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے سجدۂ تلاوت مشروع فرمایا تاکہ وہ بھی ملاء اعلیٰ کے رہنے والوں کی موافقت میں سجدہ ریز ہوجائیں، یہ سجدۂ تلاوت شیطان کے لیے بہت بڑی مار ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب ابن آدم آیت سجدہ پڑھتا ہے پھر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا وہاں سے ہٹ جاتا ہے کہتا ہے کہ ہائے میری بربادی ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا تو اس نے سجدہ کرلیا لہٰذا اس کے لیے جنت ہے، اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا اور میں نے انکار کیا لہٰذا میرے لیے دوزخ ہے۔ (رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ ص 84 ج 1)
مسئلہ : سجدۂ تلاوت کرنے لگے تو اس میں تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھانا نہیں ہے بلکہ اللہ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں چلا جائے اور ایک سجدہ کرے تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھائے اس میں تشہد اور سلام نہیں ہے۔
مسئلہ : جیسے آیت سجدہ پڑھنے والے پر سجدہ واجب ہوتا ہے ایسے ہی سننے والے پر بھی واجب ہوتا ہے اگرچہ اس نے ارادہ کر کے نہ سنا ہو، البتہ تلاوت کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ آیت سجدہ حاضرین کے سامنے زور سے نہ پڑھے، ہاں اگر حاضرین سننے ہی کے لیے بیٹھے ہیں تو سجدۂ تلاوت زور سے پڑھ دے۔
سجدۂ تلاوت کی دعاء
سجدۂ تلاوت میں اگر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم تین مرتبہ کہے تو یہ بھی درست ہے اور اگر دعاء ماثور پڑھ لے تو زیادہ بہتر ہے۔ دعاء ماثور یہ ہے۔
سَجَدَ وَجْھِیْ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَ شَقَّ سَمْعَہٗ وَ بََصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ وَ قُوَّتِہٖ (رواہ ابو داؤد والترمذی و النسائی کمافی المشکوٰۃ ص 94)
(میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس میں سے کان اور آنکھ نکال دیئے اپنی قدرت سے) ۔
تم تفسیر سورة الاعراف بحمد اللہ تعالیٰ و حولہ و قوتہ و توفیقہ و تیسیرہ و لہ الحمد اولا و آخرا