Ayah 7:188آپ فرما دیجیے کہ میں اپنے لیے کسی نفع و ضرر کا مالک نہیں ہوں اور نہ غیب جانتا ہوں
اس آیت میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ میں اپنے لیے ذرا بھی کسی نفع یا کسی ضرر کا مالک نہیں ہوں اللہ کی مشیت اور اس کی قضاء و قدر کے موافق ہی مجھے نفع و ضرر پہنچتا ہے۔ مجھے اپنے نفع اور ضرر کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کرا دیا تاکہ لوگ آپ کو اللہ کا بندہ سمجھیں اور یہ بھی یقین کریں کہ آپ کو جو نفع و نقصان پہنچتا ہے وہ صرف اللہ کی مشیت سے پہنچتا ہے نفع اور نقصان کے بارے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں۔
بندوں کو اللہ تعالیٰ نے جو علم و فہم اور تدبیر، محنت اور کوشش کا اختیار دیا ہے جس کے ذریعہ کچھ فائدہ ہوجاتا ہے یا کسی ضرر سے بچ جاتے ہیں اس طرح کا اختیار رسول اللہ ﷺ کو بھی تھا ان تدابیر اور اسباب کے اختیار کرنے اور اعضاء وجوارح کو حرکت دینے سے جو کچھ نفع حاصل ہوجاتا ہے یا بعض مرتبہ کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ سب اللہ کی مشیت کے تابع ہے خود مختار نہیں ہے لفظ (اِلَّا مَا شَآء اللّٰہُ ) کی یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ استثناء متصل ہو۔ قال فی الروح اَیْ الا وَقْتَ مَشِیَّتہٖ سُبْحَانَہٗ بِاَنْ یَّمَکِنَّنِی مِنْ ذٰلِکَ فَاِنَّنِیْْْ حَیْنَءِذٍ اَمْلِکُہ بِمَشِیئتِہٖ ۔
اور اگر استثناء منقطع لیا جائے تو اس کا یہ معنی ہوگا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے بس وہی ہوگا میرا اختیار کچھ بھی نہیں۔ (راجع روح المعانی ص 126 ج 9)
(وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ ) (یعنی آپ یہ بھی فرما دیں کہ اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے نا گوار چیز پیش نہ آتی) نفع یا ضرر پہنچنے سے پہلے ہی اگر علم ہوجائے کہ ان میں سے کوئی امر پیش آنے والا ہے تو پہلے ہی سے ایسی صورتیں اختیار کرلی جائیں کہ نفع زیادہ سے زیادہ ہو اور کثرت منافع کے موانع میں رکاوٹ ڈال دی جائے اور آنے والے ضرر کے دفعیہ کے لیے پوری کوشش کام میں لائی جائے لیکن حال یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں پہنچ جاتی تھی جس کا پہلے سے علم نہ ہوتا تھا جس کے واقعات کتب حدیث میں موجود ہیں۔ (اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (یعنی آپ یہ بھی فرما دیجیے کہ میں تو بس ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں) ۔
انذار وتبشیر کا کام امر شرعی ہے دنیا میں نفع و ضرر پہنچنے سے اس کا تعلق نہیں ہے اور تشریعی اوامرو نواہی اور تبلیغی احکام کا تعلق منصب نبوت سے ہے، جو شخص نبی اور رسول ہو اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے یہ کوئی شرعی یا تکوینی قانون نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثابت کرنے والوں کی تردید
آیات بالا میں واضح طور پر تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کا علم نہیں تھا اور قیامت کا علم بھی نہ تھا کہ کب آئے گی اور سورة انعام میں بھی اس کی تصریح گزر چکی ہے وہاں فرمایا (قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ وَ لَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ) (آپ فرما دیجیے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں) اس میں شک نہیں کہ اللہ جل شانہٗ نے آپ کو علوم غیبیہ عطا فرمائے تھے اور آپ کو ساری مخلوق سے زیادہ علم عطا فرمایا لیکن یہ دعویٰ کرنا کہ رسول اللہ ﷺ تمام غیبوں کو جانتے تھے اور قیامت کب آئے گی اس کا بھی آپ کو علم تھا یہ دعویٰ باطل ہے اور قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔ ملا علی قاری (رح) الموضوعات الکبیر میں حافظ جلال الدین سیوطی سے نقل کرتے ہیں۔
و قد جاھر بالکذب بعض من یدعی فی زماننا العلم و ھو متشبع بما لم یعط ان رسول اللہ ﷺ کان یعلم متیٰ تقوم الساعۃ قیل لہ فقد قال فی حدیث جبرئیل ما المسؤل عنھا باعلم من السائل فحرفہ عن موضعہ و قال معناہ انا و انت تعلمھاو ھذا من اعظم الجھل و اقبح التحریف (الی ان قال) ثم قولہ، فی الحدیث ما المسؤل عنھا باعلم من السائل یعلم کل سائل و مسؤل عن الساعۃ ھذا شانھما و لکن ھؤلاء الغلاۃ عنھم ان علم رسول اللہ منطبق علی علم اللہ سواء بسواء فکل ما یعلمہ اللہ یعلم رسولہ واللہ تعالیٰ یقول : و ممن حولکم من الاعراب منافقون و من اھل المدینۃ مردوا علی النفاق لا نعلمھم نحن نعلمھم و ھذا فی براءۃ و ھی من اواخر ما نزل من القرآن ھذا و المنافقون جیرانہ فی المدینہ انتھی بحذف۔
ترجمہ : ہمارے زمانہ میں بعض ایسے لوگ جو عالم نہیں ہیں علم کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے ہیں انہوں نے برملا یہ جھوٹی بات کہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قیامت کا وقت معلوم تھا ان سے کہا گیا کہ حدیث میں تو یوں ہے۔ ” ما المسؤل عنھا باعلم من السائل “۔ تو اس شخص نے اس کا معنی پلٹ دیا اور یہ مطلب بتادیا کہ میں اور تو دونوں قیامت کے وقت کو جانتے ہیں۔ یہ بہت بڑا جہل ہے اور بد ترین تحریف ہے حدیث ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ہر سائل اور ہر مسؤل کو شامل ہے قیامت کے بارے میں جو بھی کوئی سائل ہوگا یا جس سے سوال کیا جائے سب کے بارے میں یہی بات ہے کہ وہ قیامت کے آنے کا وقت نہیں جانتے لیکن یہ غلو کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا علم پوری طرح اللہ تعالیٰ کے علم پر منطبق ہے ان کے نزدیک ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا رسول بھی جانتا ہے ان لوگوں کی اس بات کی تردید سورة برأت کی آیت سے واضح طور پر ہو رہی ہے اور سورة برأت ان سورتوں میں سے ہے جو آخر میں نازل ہوئیں وہ آیت یہ ہے۔ (وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ) یعنی تمہارے گردا گرد دیہاتیوں میں سے منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں سے وہ لوگ ہیں جو نفاق میں خوب زیادہ آگے بڑھے ہوئے ہیں آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں حالانکہ وہ آپ کے پڑوسی تھے۔ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے۔ آیت کی اس واضح تصریح کے بعد پھر بھی یوں کہنا کہ رسول کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر ہے سراسر قرآن مجید کا انکار ہے۔ اسی لیے ملا علی قاری (رح) مذکورہ بالا عبارت کے بعد لکھتے ہیں : و من اعتقد تسویۃ علم اللہ و رسولہ یکفر اجماعاً کما لا یخفی یعنی جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا علم برابر ہے تو بالا جماع اسے کافر کہا جائے گا۔
آج کل ایک ایسی جماعت ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر ہے صرف عطائی اور غیر عطائی کا فرق ہے یہ ان لوگوں کی گمراہی ہے۔ ملاعلی قاری (رح) الموضوعات الکبیر میں بعض ایسی آیات و احادیث درج کرنے کے بعد جن سے رسول اللہ ﷺ کے علم کلی کی نفی ہوتی ہے تحریر فرماتے ہیں :
و لا ریب ان الحامل لھؤلاء علی ھذا الغلو اعتقادھم انہ یکفر عنھم سیئاتھم و یدخلھم الجنۃ و کلما غلو کانوا اقرب الیہ و اخص بہٖ فھم اعصی الناس لامرہ و اشلھم مخالفۃ السنتہ وھولاء فیھم شبہ ظاھر من النصاری غلو علی المسیح اعظم الغلو و خالفوا شرعہ و دینہ اعظم المخالفۃ و المقصود ان ھولاء یصدقون بالاحادیث المکذوبۃ الصریحۃ و یحرفون الاحادیث الصریحۃ واللہ ولی دینہ فیقیم من یقوم لہ بحق النصیحۃ۔
ترجمہ : اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کے اعتقاد میں جو غلو ہے اس کی وجہ سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ غلو ان کے گناہ کو معاف کرا دے گا اور انہیں جنت میں داخل کرا دے گا اور جتنا بھی زیادہ غلو کریں گے آنحضرت ﷺ سے قریب تر ہونگے اور آپ کے مخصوصین میں شمار ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب لوگوں سے بڑھ کر آپ کی نافرمانی کرنے والے ہیں اور آپ کی سنت کی مخالفت میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہیں اور ان لوگوں میں نصاریٰ سے مشابہت ہے جنہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں بہت زیادہ غلو کیا اور ان کے دین اور شریعت کے بارے میں بہت زیادہ مخالفت کی یہ لوگ صریح جھوٹی بنائی ہوئی حدیثوں کی تصدیق کرتے ہیں اور صحیح احادیث میں تحریف کرتے ہیں۔ اللہ اپنے دین کا ولی ہے وہ ایسے شخص کو مقرر فرماتا ہے جو خیر خواہی کے لیے قائم ہو۔ ا ھ
بعض جاہل یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ آیات و احادیث سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہر چیز کا علم نہیں دیا گیا ہے لیکن وفات سے تھوڑی دیر پہلے ہر چیز کا علم دے دیا گیا تھا۔ ان لوگوں کا یہ دعویٰ نہ صرف یہ کہ بےدلیل ہے بلکہ احادیث شریفہ کی تصریحات کے خلاف ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں پانی پلانے کے لیے پہلے سے حوض پر پہنچا ہوا ہوں گا جو میرے پاس سے گزرے گا پی لے گا اور جو پی لے گا کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ ضرور ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان آڑ لگا دی جائے گی میں کہوں گا کہ یہ میرے لوگ ہیں جواب میں کہا جائے گا کہ بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالی تھیں اس پر میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں جنہوں نے میرے بعد ادل بدل کردیا (اس ادل بدل کرنے میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر قرار دے دیا) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 488 از بخاری و مسلم)
نیز شفاعت کے بیان میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں سجدہ میں پڑجاؤں گا اور اپنے رب کی وہ وہ ثناء وتحمید بیان کروں گا جو اللہ مجھے سکھا دے گا جنہیں میں اس وقت نہیں جانتا (ایضاً )
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو اس دنیا میں آپ کے علم میں نہیں لائی گئیں وہ وہاں آخرت میں ظاہر ہوں گی، اہل بدعت پر تعجب ہے کہ وہ عقیدت کے غلو میں آیات و احادیث کو نہیں جانتے اور دعویٰ ان کا یہ ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت ہے بلکہ اپنے بارے میں یوں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے علاوہ کوئی مسلمان ہی نہیں۔ ھداھم اللہ تعالیٰ الیٰ الصراط المستقیم صراط الذین انعم علیھم من النبیین و الصدیقین و الشھداء و الصالحین۔
Ayah 7:189بیوی قلبی سکون کے لیے ہے
ان آیات میں اول تو اللہ جل شانہٗ نے اولاد آدم کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا۔ پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ پھر جب انہوں نے تنہائی محسوس کی اور طبعی طور پر انس و الفت کی ضرورت محسوس کرنے لگے تو ان کی بائیں پسلی سے ان کا جوڑا پیدا فرما دیا۔ جس کا نام حواء تھا۔ اس جوڑے کی ضرورت ظاہر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا) تاکہ وہ اپنے جوڑے کے پاس قرار پکڑے۔ تھکا ماندہ اپنے گھر آئے تو اپنے گھر کو آرام کی جگہ پائے۔
سورۂ روم میں فرمایا (وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے پیدا فرمائے تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا فرما دی۔ بلاشبہ اس میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں) ۔
سورة اعراف میں (لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا) فرمایا۔ اور سورة روم میں (لِیَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا) فرمایا۔ معلوم ہوا کہ انسان کی ازدواجی زندگی کا مقصد اصلی یہ ہے کہ ایک دوسرے سے مانوس ہو اور زندگی پر سکون ہو۔ آپس میں محبت اور ہمدردی کے تعلقات ہوں۔ بہت سے مرد عورتوں کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں اور بہت عورتیں مرد کے لیے سوہان روح بن جاتی ہیں۔ یہ ازدواجی مقصد کے خلاف ہے۔ جن میاں بیوی میں تلخی ہو وہاں سکون کہاں اور یہ سکون وہیں ہوسکتا ہے جبکہ خلاف طبع امور میں فریقین تحمل اور برداشت سے کام لیں۔ نکاح کرتے وقت اچھی طرح دیکھ بھال کر نکاح کریں۔ مال اور حسن و جمال ہی کو نہ دیکھیں۔ فریقین کی دین داری اور خوش خلقی کو بھی دیکھیں اور یہ بھی دیکھیں کہ آپس میں جوڑ بیٹھے گا یا نہیں ؟ دونوں محبت و الفت کی راہ پر چل سکیں گے یا نہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور انور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص پیغام لائے جس کے دین اور اخلاق کو پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کردینا اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور (لمبا) چوڑا فساد ہوجائے گا۔ (رواہ الترمذی )
حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت والی ہو جس سے اولاد زیادہ پیدا ہو کیونکہ میں تمہاری کثرت پر دوسری امتوں کے مقابلہ میں فخر کروں گا۔ (رواہ ابو داؤد)
دونوں میاں بیوی محبت کے ساتھ رہیں۔ ایک دوسرے کے حقوق پہچانیں اور ایک دوسرے کی رعایت کریں، ناگواریوں سے درگزر کرتے رہیں۔ یہی اسلم طریقہ ہے اور اس میں سکون ہے۔
میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزاریں ؟
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن بندہ (اپنی) مومن (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی کوئی خصلت نا گوار ہوگی تو دوسری خصلت پسند آجائے گی۔ (رواہ مسلم ص 475 ج 1)
نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ کسی بھی طریقہ پر تیرے لیے سیدھی نہیں ہوسکتی اگر تجھے اس سے نفع حاصل کرنا ہے تو اس صورت میں حاصل کرسکتا ہے کہ اس کا ٹیڑھا پن باقی رہے اور اگر تو اسے سیدھی کرنے لگے گا تو توڑ دے گا، اور اس کا توڑ دینا طلاق دینا ہے۔ (رواہ مسلم ص 475 ج 1)
نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہل ایمان میں سے سب سے زیادہ کامل لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے سب سے بہتر ہیں۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو چار چیزیں دے دی گئیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی۔
(1) شکر گزار دل (2) ذکر کرنے والی زبان (3) تکلیف پر صبر کرنے والا بدن (4) اور ایسی بیوی جو اپنی جان میں اور شوہر کے مال میں خیانت کرنا نہ چاہتی ہو۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عصمت محفوظ رکھے اور اپنے شوہر کی فرمانبر داری کرے (جو شریعت کے خلاف نہ ہو) تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 281)
یہ چند احادیث جو ہم نے ذکر کی ہیں ان میں آپس کی محبت اور حسن معاشرت کے ساتھ زندگی گزارنے کے اصول بتا دیئے ہیں ان پر عمل کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی سکھ سے رہیں گے اور میاں بیوی بننے کا جو کیف اور سرور ہے اس سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اور زندگی بھر محبت کے ساتھ نباہ ہوتا رہے گا۔
میاں بیوی میں جو بھی بد اخلاق ہوتا ہے دوسرے کے لیے مصیبت بن جاتا ہے جو مقصد نکاح کے خلاف ہے۔
جَعَلَالَہٗ شُرَکَآءَ فِیْمَآ اٰتَاھُمَا سے کون مراد ہے ؟:
یہ بیان فرمانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا مشرکین کا حال بیان فرمایا جو اولاد کی وجہ سے شرک کی صورتیں اختیار کرلیتے ہیں، ارشاد فرمایا (فَلَمَّا تَغَشّٰھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ ) جب مرد نے عورت کو ڈھانکا یعنی قربت اور مباشرت کی تو حمل رہ گیا، ابتداءً یہ حمل خفیف اور ہلکا ہوتا ہے جسے پیٹ میں لے کر عورت آسانی سے چلتی پھرتی ہے۔ (فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّھُمَا لَءِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ) (جب حمل کی وجہ سے عورت بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے دعاء کرنے لگے کہ اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے) (فَلَمَّآ اٰتٰھُمَا صَالِحًا جَعَلَالَہٗ شُرَکَآءَ فِیْمَآ اٰتٰھُمَا) (پھر جب ان کے رب نے انہیں صحیح سالم بھلا چنگا بچہ عطا فرما دیا تو اللہ کی اس بخشی ہوئی چیز میں اللہ کے لیے شریک بنانے لگے) (فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (سو اللہ ان کے شرک سے برتر ہے) اس میں کن لوگوں کے شرک کا بیان ہے اس کے بارے میں بعض روایات میں یوں ملتا ہے کہ جیسے شروع آیت میں حضرت آدم اور حضرت حوا ( علیہ السلام) کا ذکر ہے اسی طرح سے (فَلَمَّآ اٰتٰھُمَا) سے لے کر (فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) تک بھی انہیں میاں بیوی کا ذکر ہے اور وہ یہ کہ شیطان کے بتانے سے حضرت حواء نے اپنے ایک بچہ کا نام عبدالحارث رکھ دیا تھا اس سے پہلے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ ابلیس نے کہا کہ اب جو بچہ پیدا ہو اس کا نام عبدالحارث رکھنا۔ اس طرح وہ زندہ رہے گا۔
مفسر ابن کثیر ؓ نے اول تو اس قصہ کو مرفوعاً نقل کیا ہے پھر ابن جریر کے حوالہ سے اس کو حدیث موقوف بتایا ہے اور موقوف ہونے کے بعض شواہد پیش کیے ہیں پھر لکھا ہے کہ یہ روایت موقوف ہے صحابی کا قول ہے ممکن ہے کہ صحابی (سمرہ بن جندب) نے بعض اہل کتاب سے یہ بات حاصل کی ہو جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے جیسے کعب احبار اور وہب بن منبہ (رح) اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی کچھ اس طرح منقول ہے کہ حضرت آدم و حواء ( علیہ السلام) نے اپنے بچہ کا نام عبدالحارث رکھ دیا تھا مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ سب اہل کتاب کے آثار سے لیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی بات درست ہے کیونکہ آیت میں تثنیہ کا صیغہ ہے جس میں میاں بیوی دونوں کا ذکر ہے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے شرک خفی یا جلی کا صدور نہیں ہوسکتا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت کا مطلب کیا ہے اور اس میں کن لوگوں کا حال بیان کیا ہے ؟ اس کے بارے میں حضرت حسن (بصری) سے منقول ہے کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد عطا فرمائی تو ان کو یہودی اور نصرانی بنا دیا مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں : و ھو من احسن التفاسیر و اولیٰ ما حملت علیہ الآیۃ (کہ یہ سب سے اچھی تفسیر ہے اور آیت کو اس پر محمول کرنا اولیٰ ہے)
تفسیر درمنثور ص 154 ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ بات نقل کی ہے کہ شرک کرنے والی بات حضرت آدم (علیہ السلام) سے متعلق نہیں ہے ان کے لفاظ یہ ہیں : عن ابن عباس قال ما اشرک آدم ان اولھا شکر و آخرھا مثل ضربہ لمن م بعدہ۔ یعنی حضرت آدم نے شرک نہیں کیا ان کے بارے میں آیت کا اول حصہ ہے جس میں شکر کا بیان ہے اور بعد کے حصہ میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو ان کے بعد آئے (اور شرک اختیار کیا) ۔
Ayah 7:190اولاد کو شرک کا ذریعہ بنانے کی تردید :
مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں میں اولاد کی پرورش اور ان کے زندہ رہنے کی امید اور ان کی موت کے ڈر سے ماں باپ افعال شرکیہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں شرک کی ابتداء بچے کے پیدا ہونے کی امید ہی سے شروع ہوجاتی ہے اس کے صحیح سالم پیدا ہونے کے لیے نذریں ماننے لگتے ہیں۔ یہ نذریں غیر اللہ کے لیے بھی ہوتی ہیں، پھر جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو شرکیہ نام رکھتے اور شرکیہ کام کرتے ہیں۔
بعض علاقوں میں اسے چھاج میں رکھ کر گھسیٹتے ہیں اور اس کا نام گھسیٹا رکھ دیتے ہیں یا کسی پیر فقیر کے نام پر کان چھید کر بندا ڈال دیتے ہیں اور لڑکے کا نام بندو رکھ دیتے ہیں اور بعض لوگ قصداً بچوں کے ایسے نام رکھتے ہیں جو برے معنی پر دلالت کرتے ہیں جیسے کوڑا کڑوا بھینگا۔
ان لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ برا نام رکھیں گے تو لڑکا جیتا رہے گا اور یہ شرکیہ افعال شیطان کے سمجھانے سے اور ہندوؤں کے پاس پڑوس اور ماحول میں رہنے کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں، مشرکین عرب شرکیہ نام رکھا کرتے تھے۔ عبداللات، عبدالعزیٰ ، عبدمناف، عبدشمس ان جیسے نام ان لوگوں میں رائج تھے۔ نصاریٰ میں اب تک عبدالمسیح رکھنے کا رواج ہے۔ یہ سب شرک ہے۔ مسلمانوں کے نام ایسے ہونے چاہئیں جن سے عبدیت کا مظاہرہ ہو اور نام سے یہ ٹپکتا ہو کہ یہ اللہ کا بندہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : تسموا باسماء الانبیاء واحب الاسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن و اصدقھا حارث و ھمام و اقبحھا حرب و مرۃ۔ (رواہ ابو داؤد)
یعنی نبیوں کے ناموں پر اپنے نام رکھو اور ناموں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عبداللہ و عبدالرحمن ہے اور سب سے زیادہ سچا نام حارث (کسب کرنے والا) اور ھمام (ارادہ کرنے والا) ہے اور سب سے برا نام حرب (جنگ) اور مرہ (کڑوا) ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ سے پہلے لفظ عبد لگا کر اپنے بچوں کے نام رکھیں اور برے ناموں سے پرہیز کریں۔ حضرت مسروق تابعی (رح) نے فرمایا کہ حضرت عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ میں نے کہا کہ میں مسروق بن الاجدع ہوں حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اجدع شیطان کا نام ہے۔ (رواہ ابو داؤد) اور اس کا معنی بھی خراب ہے کیونکہ جس کے نام کان کٹے ہوں عربی میں اس کو اجدع کہا جاتا ہے۔
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم قیامت کے دن اپنے ناموں اور اپنے باپ دادوں کے ناموں سے بلائے جاؤ گے لہٰذا تم اپنے نام اچھے رکھو۔ (رواہ ابو داؤد)
Ayahs 7:191–198معبود ان باطلہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ عبادت گزاروں کی مدد کرسکتے ہیں
اوپر کی آیت میں اولاد کے سلسلہ میں شرک اختیار کرنے کا ذکر تھا ان آیات میں بھی مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے اور شرک اختیار کرنے میں جو انہوں نے حماقت کی ہے اسے بیان فرمایا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا جس نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی عبادت کے لائق ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود اپنے خالق جل مجدہ کی مخلوق ہیں وہ کیسے عبادت کے مستحق ہوگئے ؟ مشرکین کا یہ طریقہ ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہ آڑے وقت میں ہماری مدد کریں گے یہ بھی حماقت کی بات ہے جن کو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ ان شرک کرنے والوں کی کچھ مدد نہیں کرسکتے، ان کی مدد کرنا تو در کنار وہ تو اپنی مدد کرنے سے عاجز ہیں اگر کوئی شخص انہیں توڑ دے پھوڑ دے تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انہوں نے جو مورتیاں بنا رکھی ہیں وہ بےجان صورتیں ہیں نہ اپنے پاؤں سے چل سکتے ہیں نہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ سکتے ہیں نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپنے کانوں سے سن سکتے ہیں ان عاجزوں کو اللہ کا شریک بنانا اور ان سے مدد کی امید کرنا سراپا حماقت اور بےعقلی ہے ان کو پکارو تو بات نہ سنیں اور ہدایت کا راستہ بتاؤ تو اسے اختیار نہ کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ بظاہر اپنی مصنوعی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور حقیقت میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی آنکھیں اصلی نہیں ہیں جن سے وہ دیکھیں، اور کان اصلی نہیں ہیں جن سے وہ سنیں، ان بتوں کو خود ہی تراشتے اور خود ہی اٹھاتے اور رکھتے ہیں اور انہیں پوجتے ہیں۔ یہ حماقت اور شقاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودوں کا عجز ظاہر فرمایا، اور ساتھ ہی اپنے نبی ﷺ سے خطاب فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنے معبودوں کو بلالو اور تم سب مل کر مجھے نقصان پہنچانے کی جو بھی تدبیر کرسکتے ہو کرلو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ، مطلب یہ ہے کہ یہ معبود ان باطلہ اور ان کی پرستش کرنے والے آپ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مشرکین چونکہ اپنے معبودوں کے شر اور ضرر سے ڈراتے تھے۔ کمافی سورة الزمر (وَیُخَوِّفُوْنَکَ بالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ) اس لیے نبی اکرم ﷺ سے ان کو چیلنج دلوا دیا کہ تم اور تمہارے معبود جو کچھ کرسکتے ہوں کرلیں۔ ان لوگوں کا عجز ظاہر فرما کر ساتھ ہی معبود حقیقی کا مددگار ہونا بیان فرمایا کہ اللہ میرا ولی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے اور ان کی حفاظت اور حمایت فرماتا ہے جو اس کا ہوگا دنیا و آخرت میں اس کی حفاظت فرماتا ہے (وَ ھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ )
Ayahs 7:199–200اخلاق عالیہ کی تلقین اور شیطان کے وسوسے آنے پر اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کا حکم
پہلی آیت میں تین باتوں کا حکم دیا اوّل یہ کہ معاف کیا کیجیے، دوسرا یہ کہ بھلائی کا حکم کیجیے اور تیسرا یہ کہ جاہلوں سے اعراض کیجیے۔ اس آیت شریفہ میں مکارم اخلاق بیان فرمائے ہیں۔ صحیح بخاری ص 669 ج 2 میں حضرت عبداللہ بن الزبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں معافی کا رویہ اختیار فرمائیں۔ تفسیر ابن کثیر ص 667 ج 2 میں ہے کہ آیت بالا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل سے سوال فرمایا کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ پر جو شخص ظلم کرے اس کو معاف فرمائیں اور جو شخص آپ کو نہ دے اس کو عطا فرمائیں اور جو شخص آپ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑے رکھیں، حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے فضیلت والے اعمال بتا دیجیے آپ نے فرمایا اے عقبہ ! جو شخص تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑے رہو اور جو شخص نہ دے اس کو دیتے رہو اور جو شخص پر ظلم کرے اس سے اعراض کرتے رہو۔ (الترغیب و التربیب ص 342 ج 3)
معاف کرنے کی ضرورت اور فضیلت :
چونکہ انسان مدنی الطبع ہے یعنی اس کا مزاج میل جول والا ہے اس لیے وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ جب مل جل کر رہے گا تو اپنوں سے اور پرایوں سے، رشتہ داروں سے اور دوسرے لوگوں سے، چھوٹوں سے اور بڑوں سے واسطہ پڑے گا۔ جب مخلوق سے تعلق ہوگا تو ان سے تکلیفیں بھی پہنچیں گی اور مزاج کے خلاف بھی باتیں پیش آئیں گی۔ چھوٹوں سے بھی غلطیاں ہوں گی بڑوں سے بھی کوتاہیاں ہوں گی۔ یہ تکالیف ہیں ان پر صبر کرنا اور درگزر کرنا بہت بڑا عمل ہے اگرچہ بعض حالات میں بدلہ لینا بھی جائز ہے۔ لیکن جتنی تکلیف پہنچی ہو اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے۔ اگر زیادتی کردی تو اب یہ خود ظالم ہوجائے گا۔ سورة شوریٰ میں فرمایا :
(وَجَزَآءُ سَیّْءَۃٍ سَیّْءَۃٌ مِّثْلُہَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ اِِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓءِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ اِِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ اُولٰٓءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ )
(ترجمہ) اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسی ہی برائی، پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے، واقعی اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور جو شخص اپنے اوپر ظلم ہو چکنے کے بعد برابر کا بدلہ لے لے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں، الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ناحق دنیا میں سرکشی کرتے ہیں۔ ایسوں کے لیے درد ناک عذاب ہے اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے۔ یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
معاف کردینے کی فضیلت بہت ہے (اور اگر کسی موقع پر معاف کرنا حکمت اور مصلحت کے خلاف ہو تو وہ دوسری بات ہے) انسان کے نفس میں جو بدلہ لینے کا جذبہ ہوتا ہے اس کی وجہ سے معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن جس نے نفس پر قابو پا لیا اور معاف کرنے پر آمادہ کرلیا اس کے لیے معاف کرنا آسان ہوجاتا ہے، معاف کرنے میں نفس کو تکلیف ہوتی ہے لیکن اس کا اجر بھی بہت ہے اور مرتبہ بھی بہت بڑا ہے اسی لیے فرمایا ہے۔ (فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ) اور فرمایا (وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ) جو شخص بدلہ لینے پر قادر نہ ہو معاف کردینا اس کے لیے بھی بڑے ثواب کی چیز ہے لیکن جو شخص انتقام لینے کی قدرت ہوتے ہوئے معاف کر دے اس کا مرتبہ بہت زیادہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ بن عمران (رسول بنی اسرائیل) (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب آپ کے بندوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جواب دیا کہ جو شخص قدرت رکھتے ہوئے بخش دے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان ص 319 ج 6)
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کو معافرمانا :
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ مشہور و معروف ہے۔ بھائیوں نے انہیں کنوئیں میں ڈال دیا پھر چند ٹکوں کے عوض انہیں بیچ دیا پھر جب برسوں کے بعد مصر میں ان کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم خطا کار تھے تو انہوں نے جواب میں فرما دیا۔ (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) (یوسف نے فرمایا کہ تم پر آج کوئی الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ سب مہر بانوں سے زیادہ مہربان ہے) ۔
فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کا اہل مکہ سے برتاؤ :
سید الاولین و الآخرین ﷺ کے ساتھ مکہ والوں نے کیا کچھ نہ کیا، کیسی کسی تکلیفیں دیں آپ کو مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پھر جب آپ فتح مکہ کے موقع پر صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لے گئے اور مکہ معظمہ فتح ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ کیا خیال کرتے ہو میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا، اہل مکہ نے کہا : (اَخٌ کَرِیْمٌ وَ ابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ کہ آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے ان کو وہی جواب دیا جو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو جواب دیا تھا اور فرمایا : (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ) در حقیقت اخلاق عالیہ ہی سے اہل حق جیتتے ہیں اور نہی کے ذریعہ اسلام کی دعوت عام ہوئی ہے۔ اخلاق عالیہ میں معاف اور درگزر کرنے کا بڑا دخل ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی جان کے لیے کبھی کسی بارے میں کوئی انتقام نہیں لیا جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے محترم قرار دیا ہے ان کی بےحرمتی ہوتی تھی تو آپ انتقام لے لیتے تھے۔ (رواہ البخاری و مسلم)
حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول ﷺ نہ فحش گو تھے اور نہ بتکلف فحش گوئی اختیار کرتے تھے نہ بازاروں میں شور مچاتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے تھے بلکہ معاف فرماتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے آٹھ سال کی عمر سے لے کر دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ نے مجھے کسی ایسے نقصان کے بارے میں کبھی ملامت نہیں فرمائی جو میرے ہاتھوں ہوگیا ہو، اگر آپ کے گھر والوں میں سے کوئی شخص ملامت کرنے لگتا تو فرماتے تھے اسے چھوڑو کیونکہ جو چیز مقدر ہوچکی وہ ہونی ہی تھی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 519)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں۔ آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ اس نے پھر اپنی بات دہرائی آپ پھر خاموش رہے۔ اس نے تیسری بار پھر سوال کیا آپ نے فرمایا روزانہ ستر بار معاف کرو۔ (رواہ ابو داؤد، کمافی المشکوٰۃ ص 292)
فائدہ : معاف کرنے کی فضیلت اور ضرورت جو اوپر بیان کی گئی اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ بچوں اور خادموں کو شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیا جائے اور ان کی تربیت نہ کی جائے بلکہ تربیت بھی کی جائے اور درگزر بھی کیا جائے۔ اگر کوئی سزا دی جائے تو اپنا غصہ اتارنے اور انتقام کے لیے نہ ہو بلکہ ان کی خیر خواہی مقصود ہو۔ سوچ سمجھ کر بقدر ضرورت سزا دی جائے اور یہ دیکھ لیا جائے کہ یہ سزا مفید ہوگی یا مضر، اگر بچوں پر قابو نہ کیا جائے تو یہ بھی نیکی نہیں ہے۔
حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : و انفق علیٰ عیالک من طولک و لا ترفع عنھم عصاک ادبا و اخفھم فی اللہ (رواہ احمد کمافی المشکوٰۃ ص 18 ج 1) اور اپنے عیال پر اپنا اچھا مال خرچ کرو اور ان سے لاٹھی اٹھا کر مت رکھو جس کی وجہ سے وہ تمہاری گرفت سے مطمئن ہوجائیں اور احکام خداوندی کو فراموش کردیں اور انہیں اللہ کے احکام و قوانین کے بارے میں ڈراتے رہو۔
امر بالمعروف :
آیت بالا میں دوسری نصیحت یوں فرمائی وَاْمُرْ بالْعُرْفِ یعنی بھلائیوں کا حکم دیا کر، بھلائیوں کا حکم دینا بھی مکارم اخلاق اور فضائل اعمال اور محاسن افعال میں سے ہے اور دین اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بہت بڑی فضیلت ہے، جس کے بارے میں ہم تفصیل سے سورة آل عمران کی آیت (وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ ) کے ذیل میں لکھ چکے ہیں۔ (انوار البیان جلد اول)
جاہلوں سے اعراض کرنا :
تیسری نصیحت یوں فرمائی (وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ ) (اور جاہلوں سے اعراض کرو) یہ بھی بہت اہم نصیحت ہے اور اس پر عمل کرنے سے مومن بندہ اپنے نفس کے شر سے اور جاہلوں کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ سوال جواب اہل علم تک محدود رہے تو مناسب رہتا ہے اور جاہلوں سے سوال جواب اور بحث کی جائے تو وقت ضائع ہوتا ہے اور جاہل اپنی جہالت کی وجہ سے صاحب علم کو خاموش کر کے یہ سمجھتا ہے کہ میں جیت گیا۔ صاحب علم کے اخلاق فاضلہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جاہلوں سے نہ الجھے اور ان سے دور رہے اور جاہل کی طرف سے کوئی زیادتی ہو تو اسے برداشت کرے اور درگزر کر دے۔ عالم اگر جاہل کے جاہلانہ افعال و اقوال اور اطوار و عادات کا مقابلہ کرے گا تو علم کا کام چھوڑ بیٹھے گا اور جاہلوں ہی سے بھڑتا رہے گا۔ اگر کوئی جاہل شخص شرعی مسئلہ پوچھے تو اسے بتادے لیکن اس سے بحث نہ کرے نہ اسے بحث کرنے دے۔ جاہل کو منہ لگانے میں اپنی آبرو کا بھی نقصان ہے اور علمی کاموں سے بھی حرمان ہے۔
شیطان کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ لینے کا حکم :
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (اور اگر شیطان کی طرف سے آپ کو کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیجیے بلاشبہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) ۔
درمنثور ص 154 ج 3 میں بحوالہ ابن جریر نقل کیا ہے کہ جب آیت شریفہ (خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ ) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا کہ اے رب غصہ کی حالت میں کیا کیا جائے (غصہ انتقام پر ابھارتا ہے اور معاف کرنے سے روکتا ہے) اس پر اللہ جل شانہٗ نے آیت و اما ینزغنک (آخر تک) نازل فرمائی۔
لفظ نزغ کچو کہ دینے اور ابھارنے اور وسوسہ ڈالنے اور کسی کام پر آمادہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ شیطان انسان کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ غصہ اور انتقام پر ابھارتا رہتا ہے اور ایسے وسوسے دل میں ڈالتا ہے کہ انسان معاف کرنے یا درگزر کرنے پر عمل پیرا نہ ہو سکے۔ شیطان کا شر اور وسوسہ دفع کرنے کا یہ علاج بتایا کہ شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگی جائے اس سے شیطان ذلیل ہوگا اور وسوسہ ڈالنے سے پیچھے ہٹے گا۔
سورۂ مومنون میں فرمایا : (وَقُلْ رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَات الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ) (اور آپ یوں کہئے کہ اے رب میں آپ کی پناہ لیتا ہوں شیطان کے وسوسوں سے اور اے رب اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) ۔
ایمانیات میں وسوسہ آنے پر شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنا :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس شیطان آئے گا سو وہ کہے گا کہ یہ کس نے پیدا کیا، یہ کس نے پیدا کیا۔ یہاں تک کہ یوں کہے گا کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا۔ سو جب وہ اس سوال پر پہنچ جائے تو یوں کہے۔ اَللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ پھر بائیں طرف تین بار تھوک دے اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگے۔ (رواہ ابو داؤد)
غصہ کا علاج :
حضرت سلیمان بن صرد ؓ نے بیان فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ شروع کردی ان میں سے ایک شخص کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو یہ جو کیفیت اپنے اندر محسوس کر رہا ہے (یعنی غصہ) وہ ختم ہوجائے اور وہ کلمہ یہ ہے۔ (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ ) (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے)
صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی بات اس شخص کو کہہ دی تو اس نے کہا کہ بیشک میں دیوانہ ہوں۔ (رواہ البخاری ص 903 ج 2)
(علماء نے لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ غصہ میں بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے بےادبی کا کلمہ بول دیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص منافق ہو یا دیہات کا رہنے والا اکھڑ آدمی ہو)
وسوسہ اور غصہ کے دفعیہ کے لیے (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ ) پڑھنا مجرب ہے۔
Ayah 7:201شیطان سے بچنے والوں اور شیطان کے دوستوں کا طریقہ
آیت بالا (وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ) میں فرمایا کہ جب شیطان کا وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگئے، ان دو آیتوں میں شیطان سے بچنے والوں اور شیطان سے دوستی کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ جب شیطان ان کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے اور بہکانے کی کوشش کرے تو فوراً اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ ان کے عموم میں مطلقاً اللہ کا ذکر کرنا بھی شامل ہے اور اللہ کے عقاب وثواب کو ذہن میں لا کر شیطان کے وسوسوں سے بچنا اور ان پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ کا ذکر شیطان کو دور کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے دل پر مضبوطی کے ساتھ جماہوا ہے۔ سو جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنے لگتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 199)
سورة (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) میں جو (مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ) فرمایا ہے اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور (اللہ کا ذکر کرنے پر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
(فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ ) یعنی تقویٰ اختیار کرنے والے جب شیطان کا وسوسہ آنے پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے استعاذہ کرتے ہیں تو اس سے فوراً چونک جاتے ہیں اور آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ شیطان کی شرارت فوراً واضح ہوجاتی ہے اور خطا و صواب کا پتہ چل جاتا ہے۔
متقین کا ذکر فرمانے کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو شیطانوں کے بھائی ہیں یعنی ان کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہے وہ شیطان کے وسوسوں سے نہیں بچتے۔ بلکہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ جب ان کا یہ حال ہے تو شیاطین ان کو گمراہی میں برابر کھینچے لیے جاتے ہیں اور ان کو گمراہ کرنے پر گمراہی میں آگے بڑھانے کے بارے میں کوتاہی نہیں کرتے اور یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ جس نے شیطان کا تھوڑا ساتھ دیا اس کی بات کو مانا تو وہ اس کو برابر گمراہی کے راستہ پر چلاتا رہتا ہے اور اسے دوزخ میں پہنچا کر چھوڑتا ہے۔
Ayahs 7:202–203فرمائشی معجزات طلب کرنے والوں کا جواب
آنحضرت سرور عالم ﷺ دلائل واضحہ کے ساتھ دعوت حق دیتے تھے حق پہچاننے کے لیے سب سے بڑی چیز دلائل عقلیہ ہی ہیں اس کے باو جود اللہ جل شانہٗ کی طرف سے معجزات کا ظہور بھی ہوتا رہتا تھا لیکن معاندین کہتے تھے کہ جو معجزہ ہم چاہیں ایسا معجزہ ظاہر ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ چاہتا تو لوگوں کے فرمائشی معجزے بھی ظاہر فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں کہ لوگوں کے کہنے کے مطابق معجزہ ظاہر فرمائے پھر ان لوگوں کا فرمائشی معجزہ طلب کرنا بھی عناد اور تعنت کے طور پر تھا۔ حق قبول کرنا مقصود نہ تھا اسی لیے معجزات کو جادو بتا دیتے تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ معجزہ ظاہر ہونے میں دیر ہوئی یا ان کا فرمائشی معجزہ ظاہر نہ ہوا تو بطور عناد اعتراض کرنے لگے۔ آیت کریمہ (وَ اِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَھَا) میں معاندین کا شر پسندانہ اعتراض نقل فرمایا ہے کہ آپ نبوت کے دعویدار ہیں۔ آپ نے اپنے پاس سے کوئی معجزہ کیوں ظاہر نہ کردیا یا یہ مطلب تھا کہ اللہ سے کیوں یہ بات نہ منوالی تاکہ وہ ہمارا فرمائشی معجزہ ظاہر کردیتا اس کے جواب میں فرمایا (قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ ) (آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے) مطلب یہ ہے کہ میرا کام تو بس یہ ہے کہ وحی کا اتباع کروں۔ میرے ہاتھ میں معجزوں کا ظاہر کرنا نہیں ہے اور فرمائشی معجزہ ظاہر ہونے پر ایمان قبول کرنے کو موقوف رکھنا حماقت ہے اور ضد وعناد ہے۔ بہت سے معجزات ظاہر ہوچکے ہیں لیکن تم ایمان نہیں لاتے۔
قرآن میں بصیرت کی باتیں ہیں اور رحمت اور ہدایت ہے
جسے حق قبول کرنا ہو اس کے لیے قرآن کریم ہی بہت بڑا معجزہ ہے۔ لفظی معجزہ بھی ہے اور معنوی بھی، جو حقائق اور معارف پر مشتمل ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے طالب حق کو اور کسی معجزہ کی ضرورت نہیں، اسی کو فرمایا (ھٰذَا بَصَآءِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ ) (یہ تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی باتیں ہیں) نیز یہ بھی فرمایا کہ (وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (اور یہ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں) ۔