7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنی آرائش لے لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے مت بڑھو، بیشک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

بےحیائی کی مذمت، اور طواف و نماز کے وقت ستر عورت کا خصوصی حکم مشرکین عرب طرح طرح کے شرکیہ عقائد و افعال اور بےشرمی کے اعمال میں مبتلا تھے ان کی یہ بےشرمی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ کعبہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ مرد بھی ننگے اور عورتیں بھی ننگی۔ البتہ عورتیں یہ کرتی تھیں کہ اپنی شرم کی جگہ پر چھوٹا سا چیتھڑا لپیٹ لیتی تھیں اور طواف کرتے یوں کہتی ہوئی جاتی تھیں۔ الیوم یبدو بعضہ او کلہ وما بدا منہ لا احلہ۔ ان کی اس حرکت سے منع کرنے کے لیے آیت کریمہ (خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) اور اس کے بعد والی آیت (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ ) نازل ہوئی۔ (رواہ مسلم عن ابن عباس) علامہ ابوبکر جصاص (رح) نے احکام القرآن ص 21 ج 3 میں لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے اس خیال خام میں مبتلا تھے کہ جن کپڑوں میں گناہ کیے ہیں ان میں طواف کرنا صحیح نہیں اور بعض حضرات نے بتایا کہ یہ لوگ تفاؤلاً ایسے کرتے تھے کہ جیسے ہم کپڑوں سے ننگے ہوگئے اسی طرح سے ہمارے اوپر کوئی گناہ بھی باقی نہیں رہا۔ (شیطان اپنے لوگوں کو کیسی پٹی پڑھاتا ہے) اسباب النزول للواحدی ص 222 میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے کہ اہل عرب نے اپنے دین میں یہ بات نکال رکھی تھی کہ منیٰ سے واپس ہو کر جب طواف کرتے تھے تو دونوں کپڑے اتار کر رکھ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے آیت شریفہ (یَابَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) سے (لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) تک نازل فرمائی۔ لفظ (خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) کا عموم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طواف کے لیے مسجد میں جائیں (جو صرف مسجد حرام میں ہوتا ہے) یا نماز کے لیے جائیں (خواہ کسی بھی مسجد میں پڑھیں) تو لباس پہن کر جائیں۔ ستر عورت جس کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں اس کا اہتمام کرنا تو فرض ہی ہے (خواہ گھر میں نماز پڑھے) لیکن ستر عورت سے زیادہ جو لباس زینت کے لیے پہنا جاتا ہے اس کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔ لباس زینت کا حکم : میلے کچیلے بد بو دار کپڑے پہن کر نماز پڑھنے لگے تو یہ نماز کی شان کے خلاف ہے اس لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ جو کپڑے پہن کر بازار میں اور احباب و اصحاب میں جانے سے دل منقبض ہوتا ہو اور نفس اپنی بےآبروئی محسوس کرتا ہو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ ستر عورت بھی ہو اور نظافت بھی ہو مرغوب لباس ہو (جو خلاف شروع نہ ہو) ایسے لباس میں نماز پڑھیں۔ لفظ زِیْنَتَکُمْ میں ان سب امور کی طرف اشارہ ہے۔ فضول خرچی کی ممانعت : پھر فرمایا (وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ) (اور کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں فرماتا) حد سے آگے بڑھنے میں فضول خرچی، خلاف شرع لباس پہننا، حرام چیزیں کھانا اور استعمال کرنا سب داخل ہے چونکہ مشرکین طواف کرتے وقت ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور اس وقت کپڑے پہننے کو گناہ سمجھتے تھے نیز انہوں نے اور بھی بہت سی چیزیں اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں جن کی کچھ تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے اس لیے ان کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرمائی (جس میں لباس بھی شامل ہے) اور اس کے علاوہ کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں پیدا فرمائیں ان کو کس نے حرام قرار دیا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو حلال قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کو تحلیل و تحریم کا اختیار ہے تم نے اپنی طرف سے تحریم کر کے اللہ کے قانون میں جو دخل دیا ہے یہ گمراہی کا کام ہے۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! اللہ نے اپنے بندوں کے لیے جو زینت نکالی ہے اور جو کھانے پینے کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں انہیں کس نے حرام قرار دیا، آپ فرما دیجیے کہ یہ چیزیں دنیاوی زندگی میں اہل ایمان کے لیے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے خالص ہوں گی۔ ہم اسی طرح ان لوگوں کے لیے آیات بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے ہیں : پھر فرمایا (قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) آپ فرما دیجیے کہ یہ طیبات اور پاکیزہ چیزیں جو اللہ پاک نے پیدا فرمائی ہیں دنیاوی زندگی میں اصالۃً مومنین کے لیے ہیں گو کافر بھی ان کو استعمال کرلیتے ہیں اور قیامت کے دن خالص مومنین کے لیے ہوں گی۔ آخرت میں کافروں کے لیے ان کا ذرا سا حصہ بھی نہیں ہے دنیا میں بھی نعمتوں کے استعمال کے اہل ایمان والے ہی ہیں ان کے طفیل میں کافر بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ قال صاحب الروح ایھی لھم بالاصالۃ کر امتھم علی اللہ تعالیٰ و الکفرۃ و ان شارکوھم فیھا فبالتبع فلا اشکال فی الاختصاص المستفاد من اللام و انتصاب (خالصۃ) علی الحال من الضمیر المستتر فی الجارو المجرور و العامل فیہ متعلقہ و قرأ نافع بالرفع علی انہ خبر بعد خبر اوھم الخبر وللذیْن متعلق بہ قدم لتاکید الخلوص والاختصاص۔ اور بعض حضرات نے آیت کا یہ معنی بتلایا ہے کہ دنیا میں جو نعمتیں ہیں اہل ایمان ان سے منتفع ہوتے ہیں لیکن ان میں کدورتیں ملی ہوئی ہیں دکھ، تکلیف اور رنج و غم بھی ساتھ لگا ہوا ہے آخرت میں ان کو نعمتیں ملیں گی وہ خالص نعمتیں ہوں گی ان میں کسی قسم کی کدورت نہ ہوگی۔ قال صاحب معالم التنزیل ج 2 ص 157 فیہ حذف تقدیرہھی للّذین اٰمنوا و للمشرکین فی الحیوۃ الدنیا فان اھل الشرک یشارکون المومنین فی طیّبٰت الدنیا و ھی فی الاٰخرۃ خالصۃ للمؤمنین لاحظ للمشرکین فیھا وقیلھی خالصۃ یوم القیامۃ من التنغیض و الغم للمؤمنین فانھا لھم فی الدنیا مع التنغیض والغم۔ در حقیقت کافر اس لائق نہیں ہے کہ کوئی بھی نعمت اسے دی جائے اور کسی بھی نعمت سے منتفع ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا بےحیثیت ہے اس لیے کافروں کو بھی دیدیتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی حیثیت رکھتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ کمافی المشکوٰۃ ص 441)
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے فحش کاموں کو جو ظاہر ہوں اور جو چھپے ہوں اور گناہ کو اور ظلم کو جو ناحق ہوتا ہے حرام قرار دیا ہے اور اس بات کو حرام قرار دیا کہ اللہ کے ساتھ شرک کریں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی اور یہ بھی حرام قراردیا کہ تم اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جنہیں تم نہیں جانتے

اللہ تعالیٰ نے فحش کاموں اور ظاہری و باطنی گناہوں کو حرام قرار دیا ہے اوپر ارشاد فرمایا کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا پھر فرمایا کہ میرے رب نے انصاف کا حکم فرمایا ہے اس نے فواحش سے بچنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یہاں بطور تاکید پھر اس مضمون کا اعادہ فرمایا جس میں قدرے تفصیل بھی آرہی ہے ارشاد فرمایا ہے۔ (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ ) آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تمام فحش باتیں اور فحش کام حرام ہیں خواہ ظاہری طور پر ہوں خواہ پوشیدہ طور پر۔ ننگے ہو کر طواف کرنا، لوگوں کے سامنے ستر کھول کر آجانا۔ عورتوں کو بےپردہ پھرانا، علانیہ طور پر فحش کام کرنا سب اسی ماظَھَرَ میں داخل ہے اور وَ مَا بَطَنَ (خفیہ طور) میں وہ سب فحش کام اور فحش کلام داخل ہیں جو در پردہ پوشیدہ طور پر کیے جاتے ہیں۔ زنا اور اس کے دواعی جو چھپ کر ہوتے ہیں ان سب کے حرام ہونے کی تصریح ان لفظوں میں ہوگئی۔ (میاں بیوی والے تعلقات چونکہ حلال ہیں اس لیے فحش ممنوع میں داخل نہیں ہیں) پھر فرمایا والْاِثْمَ اور اللہ نے گناہ کو بھی حرام قرار دیا اس میں ہر گناہ کی ممانعت آگئی۔ (وَ الْبَغْیَ بْغَیْرِ الْحَقِّ ) اور اللہ نے ظلم و زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا جو ناحق ہی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ اَنْ تُشْرِکُوْا باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا) اور اللہ نے یہ بھی حرام قرار دیا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرو۔ جو لوگ شرک کرتے تھے وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کو حجت بناتے تھے اور بعض جہالت کے مارے یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں یہ ہمیں اللہ کے نزدیک پہنچا دینگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں فرمایا (مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا) کہ یہ تمہارا شرک کرنا وہ چیز ہے جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی تمہارے پاس کوئی دلیل اور حجت اور سند نہیں۔ نیز فرمایا (وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) اور اللہ نے یہ بھی حرام کیا کہ تم اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے۔ چونکہ اپنے برے کاموں کے بارے میں یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا اس لیے تنبیہ فرمائی کہ تم اپنی جہالت سے جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہو یہ بھی اللہ نے حرام قرار دیا۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ سو جب ان کی اجل آگئی تو اس سے ذرا بھی پیچھے نہ ہٹیں گے اور مقدم بھی نہ ہوں گے،

ہر امت کے لیے ایک اجل مقرر ہے : پھر فرمایا (وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ) (کہ ہر امت کے لیے ایک اجل مقرر ہے) سب ایک مدت مقررہ تک کھاتے پیتے رہیں گے اور جس امت پر عذاب آتا ہے اس کا بھی وقت مقرر ہے۔ قال فی معالم التنزیل ج 2 ص 185 مدۃ اکل و شرب و قال ابن عباس وعطاء و الحسن یعنی وقتا لنزول العذاب بھم فاذا جاء اجلھم و انقطع اکلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون ای لا یتقدمون۔ جب ان کی اجل آپہنچے گی تو ذرا بھی دیر موخر نہ ہونگے اور مقدم ہونے کا تو موقع رہا ہی نہیں صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی جب لوگوں نے عذاب کا سوال کیا یعنی یوں کہا کہ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اللہ ہم پر عذاب کیوں نہیں بھیجتا اور ہلاک کیوں نہیں کردیتا۔
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیات بیان کریں سو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اصلاح کی سو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

بنی آدم کو خطاب کہ رسولوں کا اتباع کرنا : اس کے بعد پھر بھی آدم سے خطاب فرمایا اور مومنین اور کافرین کے انجام سے باخبر فرمایا، ارشاد ہے۔ (یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) اے آدم کی اولاد ! اگر تمہارے سامنے میرے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیات بیان کریں یعنی میرے فرائض اور احکام بتائیں (کما فسرہ ابن عباس) تو جن لوگوں کے پاس میرے رسول آئے اور انہوں نے ان کی بات مانی اور شرک اور کفر سے بچے اور اپنے اعمال کو درست کیا تو (آخرت) میں ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ بھی نہ ہوں گے۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہ لوگ دوزخ والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

کافروں، متکبروں کے لیے عذاب : (وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَکْبَرُوْا عَنْھَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے اعراض کیا اور ان کے قبول کرنے میں اپنی ہتک سمجھی اور اپنے کو بڑا سمجھا تو یہ لوگ دوزخ والے ہیں اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ (وَ اسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا) جو فرمایا اس میں ان کافروں کی شرارت نفس کا بیان ہے جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرنے اور اس کے احکام ماننے میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں اور نہ ماننے میں اپنی بڑائی سمجھتے ہیں۔ سورۂ الصافات میں فرمایا (اِنَّھُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (بلاشبہ ان کا یہ حال تھا کہ جب ان کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی دعوت دی جاتی تھی تو تکبر کرتے تھے) اور سورة قیامہ میں فرمایا (فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰی وَلٰکِنْ کَذَّبَ و تَوَلّٰی ثُمَّ ذَھَبَ الآی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی) سو نہ اس نے تصدیق کی نہ نماز پڑھی لیکن جھٹلایا اور منہ پھیر کر چل دیا پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا گیا۔ بڑا بننے والوں کا تکبر نے ناس کھویا اور ان کے متبعین کو بھی لے ڈوبا۔
Ayahs 7:37–38

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

سو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا لکھا ہوا حصہ مل جائے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرستادہ ان کی جان قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے جواب میں کہیں گے کہ وہ سب ہم سے غائب ہوگئے اور اس وقت یہ لوگ اپنے بارے میں اقرار کرلیں گے کہ ہم کافر تھے۔

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ دوزخ میں ان جماعتوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ جو جنات میں سے اور انسانوں میں سے تم سے پہلے ہو گزریں۔ جب ایک جماعت داخل ہوگی تو اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب دوزخ میں جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا لہٰذا انہیں خوب زیادہ بڑھتا چڑھتا دوزخ کا عذاب دیجیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ سب ہی کا دو گنا ہے لیکن تم جانتے نہیں ہو،

موت کے وقت کافروں کی بد حالی اور دوزخ میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔ طرز تو سوال کا ہے لیکن بتانا یہ ہے کہ ایسے لوگ ظلم میں سب ظالموں سے بڑھ کر ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ جو ان کا رزق مقدر ہے اور جو ان کی عمر مقرر ہے وہ تو اس دنیا میں ان کو مل جائے گی۔ ہاں موت کے وقت اور موت کے بعد ان کا برا حال ہوگا اور برا انجام ہوگا۔ موت کے وقت جو فرشتے ان کی جانیں قبض کرنے لگیں گے ان سے سوال کریں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ اس موقع پر مذکورہ سوال کا باعث یہ ہوسکتا ہے کہ اب تم دنیا سے جا رہے ہو موت آرہی ہے اللہ کو چھوڑ کر جن کو پکارا کرتے تھے اس وقت تم انہیں کیوں نہیں پکارتے اگر وہ مدد کرسکتے ہیں تو تمہیں موت سے بچا لیں۔ یہ سوال سرزنش کے لیے ہوگا تاکہ موت کے وقت انہیں اپنے شر اور کفر کی قباحت اور شناعت معلوم ہوجائے۔ وہ بےبسی کے عالم میں جواب دیں گے کہ جن لوگوں کو ہم پکارا کرتے تھے۔ وہ سب غائب ہوگئے اور ساتھ ہی وہ اقرار کریں گے کہ واقعی ہم کافر تھے۔ اس طرح کا سوال قیامت کے دن بھی ہوگا۔ جیسا کہ سورة انعام (رکوع 3) میں گزر چکا ہے برزخ کے عذاب میں مبتلا رہ کر جب قیامت کے دن اٹھیں گے، اور سوال و جواب و حساب و کتاب کے بعد کافروں کے بارے میں دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہوگا تو جماعتیں بن بن کر دوزخ میں جاتے رہیں گے کچھ جماعتیں پہلے داخل ہوں گی اور کچھ بعد میں، جو لوگ بعد میں داخل ہوں گے ان سے اللہ کا فرمان ہوگا کہ تم سے پہلے جنات میں سے اور انسانوں میں سے جو جماعتیں دوزخ میں جا چکی ہیں تم بھی دوزخ کے عذاب میں ان کے ساتھی ہوجاؤ۔ اسی کو فرمایا (قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ ) پھر فرمایا (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا) کہ جب ایک جماعت دوزخ میں جائے گی تو اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ دنیا میں جو آپس میں ایک دوسرے سے تعلق تھا اور باہمی تعاون تھا وہ سب ختم ہوجائے گا۔ اور ہر بعد والی جماعت اپنی جیسی پہلی جماعت پر لعنت کرے گی اور وہاں بغض کی شان پیدا ہوگی۔ اور بعد میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا لہٰذا انہیں بڑھتا چڑھتا دوزخ کا عذاب دیجیے۔ یہ تفسیر اس صورت میں ہے کہ اُخْرٰھُمْ سے اتباع مراد لیے جائیں اور اُوْلٰھُمْ سے ان کے سردار مراد لیے جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی مانا جائے کہ سردار ان قوم دوزخ میں اپنی قوم سے پہلے جائیں گے۔ جیسا کہ معالم التنزیل اور تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے اور بعض حضرات نے اُخْرٰھُمْ سے نیچے درجے کے لوگ اور اُوْلٰھُمْ سے سردار ان قوم مراد لیے ہیں۔ اور اس میں دخول نار کی اولیت اور اخرویت کو ملحوظ نہیں رکھا۔ یہ قول روح المعانی میں لکھا ہے۔ دنیا میں تو اپنے بڑوں کی بات مانتے تھے اور ان کے کہنے پرچلتے تھے اللہ کی طرف سے جو ہدایت پہنچانے والے ہدایت کی طرف بلاتے تھے تو الٹا ان کو برا کہتے تھے اور اپنے بڑوں ہی کی باتوں پر چلتے تھے اور انہیں چپکے رہتے تھے اور جب آخرت میں عذاب دیکھیں گے تو گمراہ کرنے والوں پر لعنت کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ان کو ہمارے عذاب سے بڑھ کر خوب زیادہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ) ہر ایک کے لیے خوب زیادہ عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی تم میں سے ہر ایک کو جس قدر عذاب ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ اسے کہا ہی نہیں جاسکتا۔ پھر یہ عذاب ایک حالت پر نہیں رہے گا۔ بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا۔ (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب بڑھا دیں گے بسبب اس کے کہ وہ فساد کرتے تھے) فسر صاحب الجلالین الضعف بمعنی المضعف قال الشیخ الجمل فی حاشیتہٖ اشاریہ الیٰ ان المراد بالضعف ھنا تضعیف الشی و زیادتہ الیٰ مَا ینتھی لا الضعف بمعنی مثل الشی مرۃ واحدۃ اس میں یہ بات بھی آگئی کہ جب دونوں ہی فریق کا عذاب بہت زیادہ ہے تو دوسروں کا عذاب دیکھ کر کیا تسلی ہوسکتی ہے جب خود بھی سخت عذاب میں مبتلا ہیں۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور جو پہلے لوگ تھے وہ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں۔ سو چکھ لو عذاب اپنے اعمال کے بدلہ میں

پھر فرمایا (وَ قَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰیھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ ) کہ پہلے لوگ بعد والوں سے کہیں گے کہ جب سب کی سزا کا یہ حال ہے تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہ ہوئی نہ عذاب کی تخفیف ہمارے لیے ہے نہ تمہارے لیے۔ (فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) (سو تم اپنے اعمال کے بدلے عذاب چکھ لو) ۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے۔ اور ہم ایسے ہی مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔

مکذبین و متکبرین جنت میں نہ جاسکیں گے ان کا اوڑھنا، بچھونا آگ کا ہوگا پہلی آیت میں مکذبین یعنی آیات کے جھٹلانے والوں اور مستکبرین یعنی آیات الٰہیہ کے ماننے سے تکبر کرنے والوں کے مردود ہونے کی ایک حالت بتائی اور وہ یہ کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ حدیث شریف میں مومن اور کافر کی موت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ملک الموت (علیہ السلام) مومن کی روح کو قبض کرتے ہیں تو وہ ایسی آسانی سے نکل آتی ہے جیسے (پانی کا) بہتا ہوا قطرہ مشکیزہ سے باہر آجاتا ہے جب وہ اس روح کو لے لیتے ہیں تو ان کے پاس جو دوسرے فرشتے جنتی کفن اور جنتی خوشبو لیے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں پل بھر بھی ان کے ہاتھ میں اس کی روح کو نہیں چھوڑتے پھر وہ اسے جنتی کفن اور جنت کی خوشبو میں رکھ کر آسمان کی طرف لے کر چل دیتے ہیں جب اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھنے لگتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت پر ان کا گزر ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کون پاکیزہ روح ہے ؟ وہ اس کا اچھے سے اچھا نام لے کر جواب دیتے ہیں جس سے وہ دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے۔ اسی طرح پہلے آسمان تک پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں۔ چناچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ (اور وہ اس روح کو لے کر اوپر چلے جاتے ہیں) حتیٰ کہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہر آسمان کے مقربین دوسرے آسمان تک رخصت کرتے ہیں۔ (جب ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے کی کتاب علّییّن میں لکھ دو ۔ اور اسے زمین پر واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے ان کو زمین ہی سے پیدا کیا اور اسی میں اس کو لوٹا دوں گا۔ اور اسی سے اس کو دو بارہ نکالوں گا۔ چنانچہ اس کی روح اس کے جسم میں واپس کردی جاتی ہے (اس کے بعد قبر میں جو اس کا اکرام ہوگا اس کا تذکرہ فرمایا) پھر کافر کی موت کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے جانے اور آخرت کا رخ کرنے کو ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے آسمان سے اس کے پاس آتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں۔ اور اس کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے۔ پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی کی طرف چل۔ ملک الموت کا یہ فرمان سن کر روح اس کے جسم میں ادھر ادھر بھاگی پھرتی ہے۔ لہٰذا ملک الموت اس کی روح کو جسم سے زبردستی اس طرح نکالتے ہیں جیسے بھیگا ہوا اون کانٹے دار سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور اس کو زور سے کھینچا جائے) پھر اس کی روح کو ملک الموت (اپنے ہاتھ میں) لے لیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں لیتے ہی دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی ان کے پاس نہیں چھوڑتے۔ اور ان سے فوراً لیکر اس کو ٹاٹوں میں لپیٹ دیتے ہیں (جو ان کے پاس ہوتے ہیں) اور ٹاٹوں میں ایسی بد بو آتی ہے جیسے کبھی کسی بد ترین سڑی ہوئی مردہ نعش سے روئے زمین پر بد بو پھوٹی ہو، وہ فرشتے اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اور فرشتوں کی جس جماعت پر بھی پہنچتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث روح ہے ؟ وہ اس کا برے سے برا وہ نام لے کر کہتے ہیں جس سے وہ دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر قریب والے آسمان تک پہنچتے ہیں اور دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ) (ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ کبھی جنت میں داخل ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہ چلا جائے) ۔ اس حدیث سے (لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ ) کا مطلب واضح ہوگیا کہ کفار کی ارواح کو آسمان کی طرف فرشتے لے جاتے ہیں تو ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے اور ان کو وہیں سے پھینک دیا جاتا ہے۔ (مفصل حدیث مشکوٰۃ المصابیح ص 142 و 143 پر مذکور ہے۔ 12 منہ) حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر میں یہ بھی منقول ہے کہ کافروں کے اعمال اوپر نہیں اٹھائے جاتے اور نہ ان کی دعا اوپر اٹھائی جاتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 213 ج 1) یہ فرمایا (وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ) (اور یہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہ ہوجائے) یہ تعلیق با لمحال کے طور پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ حضرت علامہ بیضاوی لکھتے ہیں۔ ذالک مما لا یکون و کذا ما یتوقف علیہ
Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لیے دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر سے اوڑھنے کا سامان ہوگا اور ہم اسی طرح ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں

(مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) (اور ان کے ڈھانپنے والی چیزیں بھی دوزخ سے ہوں گی) یعنی ان کا اوڑھنا بچھونا سب آگ ہی آگ ہوگا۔ پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ) (اور اس طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں) ظالموں سے کافر مراد ہیں کیونکہ کفرسب سے بڑا ظلم ہے۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم کسی جان کو مکلف نہیں بناتے مگر اس کی طاقت کے موافق، یہ لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری اور جنت میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ان آیات میں اہل ایمان کی جزا کا ذکر فرمایا جو اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جنت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ فرمایا کہ ہم کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیتے جو اس کی قوت و طاقت سے باہرہو جس شخص کو جو حکم دیا گیا وہ اس کو کرسکتا ہے۔ یہ مضمون پہلے بھی (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) کے ذیل میں بیان ہوچکا ہے۔ اہل جنت جن نعمتوں میں ہوں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کا ذکر ہے۔ یہاں ایک خاص نعمت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ دنیا میں ان کے دلوں میں جو تھوڑا بہت کینہ تھا اور جو کچھ کدورت تھی ان کے سینوں سے اسے باہر نکال دیا جائے گا۔ جنت کا ماحول بغض، کینہ کپٹ لڑائی بھڑائی کو برداشت کرنے والا نہیں۔ جنت میں جانے والے سب میل محبت سے آمنے سامنے مسہریوں پر ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ (عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ) (صحیح بخاری ج 1 ص 460) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں جو پہلی جماعت داخل ہوگی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔ پھر جو لوگ ان کے بعد داخل ہوں گے ان کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے کوئی بہت روشن ستارہ ہو۔ ان سب کے دل ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوگا اور نہ آپس میں کچھ بغض ہوگا۔ (یہ جو فرمایا کہ ان کے دل ایک ہی شخص کے دل پر ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب میں ایسی یگانگت ہوگی کہ گویا سب شخص واحد ہیں۔ ان کے درمیان باہمی کسی طرح کی کوئی رنجش نہ پائی جائے گی) ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مومنین دوزخ سے چھوٹ جائیں گے (یعنی پل صراط سے پار ہوجائیں گے) تو ان کو جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا اور آپس میں ایک دوسرے پر دنیا میں جو کوئی ظلم اور زیادتی ہوگئی تھی اس کا بدلہ دلایا جائے گا (تاکہ جنت میں رنجش اور کدورت کے ساتھ داخل نہ ہوں) یہاں تک کہ جب (حقوق کی ادائیگی سے) صاف ستھرے ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ہوجائے گی (یہ بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے یہ لوگ اپنے جنت والے گھر کو اس سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے جو ان کا گھر دنیا میں تھا۔ (رواہ البخاری ص 967)
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کچھ ان کے سینوں میں کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچا دیا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا بلاشبہ ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے۔ اور ان کو آواز دی جائے گی کہ یہ جنت ہے جو تمہیں دی گئی ان اعمال کا بدلہ جو تم کیا کرتے تھے

اہل جنت کی نعمتوں کا اجمالی تذکرہ فرمانے کے بعد ان کے تشکر کا تذکرہ فرمایا کہ جنت میں جنتی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰینَا لِھٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰینَا اللّٰہُ ) (سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہم کو ہدایت نہ دیتا) دنیا میں جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ہدایت دی یہ اس کا فعل ہے۔ اگر وہ ہدایت نہ دیتا تو کسی کو بھی ہدایت نہ ملتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیاوی ہدایت کو دخول جنت کا ذریعہ بنا دیا۔ اللہ کے ذمہ کسی کا کچھ واجب نہیں ہے۔ ایمان اور اعمال صالحہ پر جو اس کی دنیاوی و اخروی عطائیں اور بخششیں ہیں یہ سب اس کا فضل ہے۔ اہل جنت اسی فضل کا مذاکرہ کریں گے اور یوں کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں نہ پہنچاتا تو ہم یہاں نہیں پہنچ سکتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہیں گے (لَقَدْ جَآءَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ ) (بلاشبہ ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر ہمارے پاس آئے) ہم نے دنیا میں ان کی تصدیق کی اور اب ان کی باتوں کا سچ ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پھر فرمایا (وَ نُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ندا دی جائے گی کہ یہ جنت تم کو ان اعمال کے بدلہ دی گئی جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اعمال کی قدر دانی فرمائی اور تم کو جنت میں داخل فرمایا۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَ الْمِنَّۃ
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے کہ ہمارے رب نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا وہ ہم نے حق پایا سو کیا تم نے بھی اسے حق پایا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ فرمایا تھا وہ کہیں گے کہ ہاں ! پھر ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان اعلان کرے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر

اہل جنت کا اہل دوزخ کو پکارنا اور دوزخیوں پر لعنت ہونے کا اعلان ہونا اہل جنت دوزخیوں کو آواز دیں گے اور ان کو خطاب کرتے ہوئے یوں پکاریں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے ایمان اور اعمال صالحہ پر جو عنایت اور مہربانی اور بخششوں کا وعدہ فرمایا تھا دنیا میں ہم نے بغیر دیکھے اس سب کی تصدیق کردی تھی۔ آج ہم نے یہاں ان سب وعدوں کے مطابق انعامات پا لیے جو وعدے ہم سے فرمائے گئے تھے ان سب کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب تم کہو کہ کفر پر جو تمہارے رب نے تم کو اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ وعیدوں سے آگاہ فرمایا تھا کیا وہ وعیدیں سچی نکلیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کفر کی سزا سے دنیا ہی میں باخبر فرما دیا تھا ان خبروں کو تم نے صحیح پایا ؟ اس پر وہ لوگ جواب دیں گے ” نَعَمْ “ کہ ہاں ! ہم نے ان سب باتوں کو صحیح پایا۔ واقعی کتابوں اور رسولوں کے واسطہ سے جو اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبریں دی تھیں وہ سب ٹھیک نکلیں۔ جب وہ لوگ اس کا اقرار کرلیں گے کہ ہمیں جو کچھ بتایا گیا تھا وہ سب سچ تھا ہم نے نہ مانا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اس پر ایک پکارنے والا دونوں فریق کے درمیان کھڑے ہو کر یوں پکارے گا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ظالموں پر جو اللہ کی راہ سے یعنی دین حق سے روکتے تھے بلکہ بزعم خود اس میں کجی تلاش کرتے تھے یعنی ایسی باتیں ڈھونڈتے تھے جن کے ذریعہ حق میں عیب نکالیں اور اعتراض کریں۔ یہ لوگ نہ دین حق کو مانتے تھے نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے ان کی ان حرکتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیشہ ملعون ہوگئے ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار پڑگئی اور دوزخ کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوگئے۔
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ لوگ آخرت کے منکر تھے

یہ جو فرمایا کہ (وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) کہ اللہ کے دین میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ ان کی انتہائی ضد اور عناد کی ایک صورت بیان فرمائی۔ مشرکین مکہ ایسا ہی کرتے تھے۔ دین اسلام پر طرح طرح کے اعتراض اٹھاتے تھے۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں سے واسطہ پڑا وہ لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار نہیں کرتے تھے اور ایسی ایسی باتیں نکالتے تھے جو حقیقت میں قابل اعتراض نہ تھیں لیکن انہیں بطور اعتراض عوام کے سامنے لاتے تھے تاکہ وہ اسلام قبول نہ کریں۔ آج تک یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام میں عیب نکالیں حتیٰ کہ وہ مشرک جو گائے کا پیشاب پیتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پوتر اور مسلمانوں کو ناپاک سمجھتے ہیں۔ انہیں مسلمانوں کی پاکیزہ شریعت پاکیزہ زندگی پر اعتراض ہے اور اپنے پیشاب پینے سے ذرا بھی نفرت نہیں۔ جن قوموں میں غسل جنابت نہیں وہ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے اچھا سمجھتی ہیں۔ اور جن قوموں میں زنا کاری عام ہے اور نکاح کرنا عیب ہے انہیں اسلام پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں تعدد ازواج کی اجازت ہے یہ کیسی الٹی سمجھ ہے کہ دوستیاں تو جتنی چاہے رکھ لے لیکن ایک سے زیادہ بیویاں جو اللہ کی شریعت میں حلال ہے اس پر اعتراض ہے۔ یہود و نصاریٰ نے آج کل مستشرقین تیار کر رکھے ہیں یہ لوگ بظاہر اسلامی علوم میں اپنا اشتغال رکھتے ہیں اور نادان مسلمان خوش ہیں کہ کافر ہمارا دین پڑھ رہے ہیں وہ لوگ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ خود کافر ہیں بلکہ اہل اسلام جو ان کے یہاں اسلامیات کی ڈگری لینے جاتے ہیں ان کو اسلامی عقائد میں مذبذب کر کے مرتد بنا دیتے ہیں ان سادہ لوح طلباء کو یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم دین اسلام سے خارج ہوگئے۔ مستشرقین ان کو اسلام اور داعی اسلام صلی اللہ علیہ وعلیٰ الہ و اصحابہ وسلم پر اعتراضات سمجھاتے ہیں ان لوگوں کے پاس چونکہ علم نہیں ہوتا، علماء اسلام کی کتابوں اور صحبتوں سے محروم ہوتے ہیں اس لیے جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں اور خود بھی اسلام کے بارے میں بد عقیدہ ہوجاتے ہیں۔ مستشرقین ایسے ایسے اعتراضات سمجھاتے ہیں جن کے منہ توڑ جوابات دیئے جا چکے ہیں اور علمائے اسلام ان کو مناظروں میں شکست دے کر بارہا ذلیل کرچکے ہیں یہ لوگ اپنے دین کو باطل جانتے ہوئے اسی پر جمع ہوتے ہیں۔ (اِنْ ھُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا)
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دونوں کے درمیان پردہ ہوگا اور اعراف پر بہت سے لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو۔ یہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور امید کر رہے ہوں گے،

اصحاب اعراف کا اہل جنت کو سلام پیش کرنا اور اہل دوزخ کی سر زنش کرنا اہل جنت اور اہل دوزخ دو جماعتیں ہوں گی اور ہر جماعت اپنے اپنے مقام اور مستقر پر ہوگی۔ ان دونوں کے درمیان پردہ حائل ہوگا۔ یہ پردہ ایک دیوار کی صورت میں ہوگا۔ جس کو (وَ بَیْنَھُمَا حِجَابٌ) سے تعبیر فرمایا۔ اس پردہ کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کا ذکر اوپر (وَ نَادآی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبِ النَّار) میں ہوا۔ اور عنقریب ہی دوسری آیت میں دوزخیوں کا جنتیوں سے خطاب کرنے کا اور ان سے پانی طلب کرنے کا ذکر آ رہا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان کچھ جھرو کے ہوں گے جس سے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور بات کرسکیں گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ پردہ ایسا ہوگا جو جنت کا اثر اہل دوزخ کی طرف اور دوزخ کا اثر اہل جنت کی طرف نہیں پہنچنے دے گا۔ البتہ آپس میں ایک دوسرے کی آواز پہنچے گی۔ پھر اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہ دیوار درمیان میں حائل ہوتے ہوئے آواز کیسے پہنچے گی تحریر فرماتے ہیں کہ ” امور الاٰخرَۃ لا تُقَاس بامور الدنیا۔ (یعنی آخرت کی چیزیں دنیاوی چیزوں پر قیاس نہیں کی جاتیں) یہ تو صاحب روح المعانی نے درست فرمایا لیکن اب تو دنیا میں بھی لاسلکی نظام نے یہ ثابت کردیا کہ آواز پہنچنے اور باتیں کرنے کے لیے درمیان میں کسی چیز کا حائل ہونا اور ایک دوسرے سے بعید ہونا مانع نہیں۔ ایک شخص ایشیا میں بیٹھے ہوئے بےتکلف امریکہ کے کسی بھی فرد سے بات کرسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اعراف پر بہت سے لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو یعنی اہل جنت و اہل نار کو ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے۔ لفظ اَعْرَاف عرف کی جمع ہے ہر چیز کے بلند حصے کو عرف کہا جاتا ہے۔ آیت بالا میں جس اعراف کا ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان جو دیوار ہوگی جسے حجاب سے تعبیر فرمایا ہے وہ اعراف ہوگی۔ آیت بالا میں اس کی تصریح ہے کہ اعراف میں بہت سے لوگ ہوں گے جو اہل جنت کو پہچانتے ہوں گے اور اہل دوزخ کو بھی۔ اور یہ پہچاننا ہر ایک کی علامتوں سے ہوگا۔ میدان حشر میں بھی اہل جنت اہل دوزخ سے ممتاز ہوں گے۔ اہل جنت کے چہرے سفید روشن ہوں گے اور اہل دوزخ کے چہرے سیاہ ہونگے اور ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور جنت دوزخ کے داخلہ کے بعد ہر فریق کی صورتوں کا ممتاز ہونا تو ظاہر ہی ہے اعراف والے اہل جنت کو اور اہل دوزخ کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے خود تو ابھی جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے البتہ اس کے امید وار ہو رہے ہوں گے کہ انہیں بھی جنت میں داخلہ نصیب ہوجائے۔ اسی طمع اور آرزو کے حال میں وہ جنت والوں سے خطاب کریں گے کہ (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) (تم پر سلام ہو) ان کا یہ کہنا بطور تحیہ یا بطور اخبار کے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تکلیفوں سے بچا دیا اور آئندہ بھی تکلیفوں سے محفوظ رہو گے۔ یہ اصحاب اعراف کون ہوں گے ؟ اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے حضرات سلف سے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ مشہور ترین قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیکیوں کی وجہ سے پل صراط سے گزر کر دوزخ سے تو بچ گئے لیکن ان کی نیکیاں اس قدر نہ تھیں کہ جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جائیں ان کو اعراف پر لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک چھوڑ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی رحمت و فضل سے ان کو جنت میں داخل فرما دیں گے۔ اعراف والے حضرات اہل جنت سے بھی خطاب کریں گے (جس کا ذکر ابھی ہوا) اور اہل دوزخ سے بھی خطاب کریں گے، جب اہل دوزخ پر نظریں پڑیں گی تو ان کی بد حالی دیکھ کر اللہ پاک سے عرض کریں گے کہ اے اللہ ! ہمیں ظالموں سے شمار نہ فرمانا یعنی دوزخ میں داخل نہ فرما۔ نیز یہ حضرات دوزخیوں میں ان لوگوں کو بھی دیکھیں گے جنہیں ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اہل کفر کے سردار تھے جنہیں اپنی جماعت پر گھمنڈ تھا اور تکبر کرتے تھے نہ دین حق قبول کرتے تھے اور نہ اپنے ماننے والوں کو قبول کرنے دیتے تھے۔ اور اہل ایمان کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور نہ صرف یہ کہ ان کو اپنے طور پر حقیر جانتے تھے بلکہ یوں کہتے تھے کہ ان لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل ہو ہی نہیں سکتی۔ اصحاب اعراف ان متکبروں سے کہیں گے کہ تمہاری جماعت نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا جن کے تم چودھری بنے ہوئے تھے، اور جو کچھ تم تکبر کرتے تھے اس نے بھی تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا یہ لوگ (یعنی اہل ایمان) کیا وہی نہیں ہیں ؟ جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت میں شامل نہ فرمائے گا۔ دیکھو ! وہ کیسے کامیاب ہوئے ان کو جنت میں داخلہ دیدیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمائی اور فرمایا۔ (اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) (جنت میں داخل ہوجاؤ) (لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَ لَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ) (نہ تم پر اب کچھ خوف ہے نہ آئندہ تم کبھی رنجیدہ رہو گے) وہ تو اپنے ایمان کی وجہ سے کامیاب ہوگئے اور تمہارا تکبر تمہیں کھا گیا تم کفر پر اڑے رہے لہٰذا تمہیں دوزخ میں داخل ہونا پڑا۔
Ayahs 7:47–50

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نظریں دوزخ والوں کی طرف پھیر دی جائیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم قوم کے ساتھ شامل نہ فرمائیے۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف والے بہت سے آدمیوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہ تمہارے کام نہ آئی تمہاری جماعت اور نہ تمہارا تکبر کرنا۔

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا وہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اللہ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا ان کو یوں حکم ہوگیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں، تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم رنجیدہ ہو گے

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو آوازیں دیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہا دو یا ان نعمتوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں، وہ جواب میں کہیں گے کہ بلاشبہ اللہ نے ان کو کافروں پر حرام کردیا،

دوزخیوں کا اہل جنت سے پانی طلب کرنا اور دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا اہل جنت اور اہل اعراف جو دوزخیوں سے خطاب کریں گے۔ گزشتہ آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس آیت میں اہل دوزخ کے خطاب کا ذکر ہے وہ اہل جنت سے اپنے عذاب کی تخفیف کے لیے سوال کریں گے اور ان سے اپنے لیے کچھ مانگیں گے، وہ کہیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہا دو ۔ یا دوسری چیزیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف بھی بھیج دو ۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور جنت کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردی ہیں۔ ہم تمہارا سوال کیسے پورا کرسکتے ہیں۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب بنایا اور انہیں دنیا والی زندگی نے دھوکہ دیا، سو آج ہم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے جیسا کہ وہ آج کے دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے،

کافروں نے اپنے دین کو (جو اللہ نے ان کے لیے بھیجا تھا) لہو و لعب کھیل تماشا بنا دیا تھا اس کو قبول نہیں کرتے تھے اور الٹا اس کا مذاق بناتے تھے۔ دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈالا اسی کے لیے عمل کرتے رہے اور سب کچھ اسی کو سمجھتے رہے آخرت کے لیے فکر مند نہ ہوئے اور جس دین کے ذریعے آخرت میں نجات ہوتی اسے قبول کرنے سے دور رہے۔ (فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا) (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے) یعنی ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں گے جو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کی طرف رحمت کے ساتھ بالکل توجہ نہ کی جائے اور جنہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے چونکہ انہوں نے آج کے دن یعنی یوم قیامت کو بھلا دیا تھا اور ہماری آیات کا انکار کرتے تھے اس لیے ان پر بالکل رحم نہ کیا جائے گا اور ان کی کوئی درخواست قبول نہ کی جائے گی اور ان کو دوزخ ہی میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے انہیں ایسی کتاب دی ہے جسے علم کے مطابق کھول کر بیان کردیا جو ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

(وَ لَقَدْ جِءْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (اور ہم نے انہیں کتاب پہنچا دی ہے یعنی قرآن مجید جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے خوب واضح طور پر بیان کردیا۔ (سب ہی کے لیے ہے۔ لیکن) ہدایت و رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو اس کو سن کر ایمان لے آتے ہیں)
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

یہ لوگ بس اس انتظار میں ہیں کہ اس کا انجام ان کے سامنے آجائے۔ جس دن اس کا انجام سامنے آئے گا تو وہ لوگ کہیں گے جو اس کو پہلے بھول گئے تھے کہ ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر آئے، سو کیا ہمارے لیے سفارش کرنے والے ہیں جو ہمارے لیے سفارش کریں یا ہم واپس لوٹا دیئے جائیں سو ہم اس عمل کے علاوہ عمل کریں جو کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے اپنی جانوں کو تباہی میں ڈالا اور جو کچھ افتراء پر دازی کیا کرتے تھے وہ سب بیکار چلی گئی

(ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَہٗ ) (الآیۃ) قرآن مجید میں مومن بندوں کا ثواب بتایا ہے ان کو بشارتیں دی ہیں اور اہل کفر کو عذاب سے ڈرایا ہے اور یوم قیامت میں جو ان کو عذاب ہوگا اس کی وعیدیں سنائی ہیں۔ مومنین کے حق میں قرآن مجید کے بتائے ہوئے اعمال خیر کا نتیجہ ہوگا کہ وہ قیامت کے دن نجات پائیں گے اور جنت میں جائیں گے اور کافروں کو جو قرآن مجید نے وعیدیں سنائی ہیں وہ ان وعیدوں کے مطابق اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ اسی عاقبت اور انجام کو لفظ تاویل سے تعبیر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اور دعوت حق کو قبول نہیں کرتے ان کی حالت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو بس یہی انتظار ہے کہ قرآن نے کافروں کے بارے میں جو وعیدیں بتائی ہیں یعنی عذاب کی خبریں دی ہیں ان کے مطابق ان پر عذاب آجائے۔ جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو وہ لوگ جو قرآن کی دعوت کو بھولے ہوئے تھے اور ایمان سے منحرف تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر ہمارے پاس حق لے کر آئے تھے دنیا میں ہم نے حق قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے یہاں عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اب عذاب سے نکلنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ہماری کوئی سفارش کر دے جس کی سفارش قبول ہوجائے اور ہم عذاب سے بچ جائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ ہم دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں اور اب وہاں جا کر ان کاموں کے علاوہ دوسرے کام کریں جو گزشتہ زندگی میں کیا کرتے تھے۔ یعنی کفر اور شرک کے عقائد اور اعمال سے پرہیز کریں۔ اور ایمان و ایمانیات میں مشغول ہوں۔ (قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ) (انہوں نے اپنی جانوں کو تباہ کر ڈالا) (وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) اور جو جھوٹی باتیں جھوٹے وعدے لیے پھرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرتے تھے اور ان شرکاء کو بار گاہ خداوندی میں شُفَعَاء یعنی سفارشی سمجھتے تھے یہ سب غائب ہوجائے گا اور اس کا باطل ہونا ظاہر ہوگیا۔ سورۂ فاطر میں ہے کہ جب دوزخ میں یہ درخواست کریں گے کہ اے رب ! ہمیں دوزخ سے نکال دیجیے اب ہم ان اعمال کے علاوہ دوسرے اعمال کریں گے جو اس سے پہلے کیا کرتے تھے۔ تو اس کے جواب میں ارشاد ہوگا۔ (اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ النَّذِیْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ) (کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا وہ نصیحت حاصل کرلیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے لہٰذا تم چکھ لو، سو ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں) چونکہ موت کے بعد برزخ سے اور میدان حشر سے دنیا میں واپس آنے کا قانون نہیں ہے اس لیے واپس نہیں ہوسکتے اور کافروں کو ابدلآباد تک عذاب چکھنا ہی ہوگا۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ پھر عرش پر استواء فرمایا، ڈھانپ دیتا ہے رات سے دن کو، رات اسے طلب کرلیتی ہے جلدی سے، اور پیدا فرمایا چاند کو سورج کو اور ستاروں کو اس حال میں کہ اس کے حکم سے وہ مسخر ہیں خبر دار ! پیدا فرمانا اور حکم دینا اللہ ہی کے لیے خاص ہے برکت والا ہے وہ اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے

آسمان و زمین کی پیدائش، شمس و قمر اور ستاروں کی تسخیر کا تذکرہ یہاں سے پھر توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جو بندوں کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات ہیں ان کی تخلیق اور تسخیر کا تذکرہ فرمایا۔ یہ چیزیں توحید کی نشانیاں ہیں اول تو یہ فرمایا کہ تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ اللہ جل شانہٗ آن واحد میں ساری کائنات کو پیدا فرمانے پر قادر ہے پھر آسمان و زمین کو چھ دن میں کیوں پیدا فرمایا ؟ ہمیں اس کی حکمت معلوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ اپنی مخلوق کو تعلیم دینے کے لیے دفعتہ پیدا فرمانے کی بجائے چھ دن میں فرمایا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ جب قادر مطلق نے چھ دن میں آسمان و زمین پیدا فرمائے حالانکہ وہ آن واحد میں دفعتہ پیدا فرما سکتا ہے تو مخلوق کے اپنے کام میں ضرور تدریج اور ترتیب کی ضرورت ہوگی۔ قال صاحب الروح و قال غیر واحد ان فی خلقھا مدرجًا قدرتہٖ سبحانہ علیٰ ابداعھا دفعۃ دلیل علی الاختیار و اعتبار لنظار (ج 8 ص 133) و فیہ ایضًا ان التعجیل فی الخلق ابلغ فی القدرۃ و التثبت ابلغ فی الحکمۃ فاراد اللہ تعالیٰ اظھار حکمتہ فی خلق الاشیاء بالتثبت کما اظھر قدرتہ فی خلق الاشیاء بکُن (ج 8 ص 134) و فی معالم التنزیل ج 2 ص 164 قال سعید بن جبیر کان اللہ عزوجل قادرًا علی خلق السموٰت والارض فی لمحۃ و لحظۃ فخلقھن فی ستۃ ایام تعلیما لخلقہ التثبت وَ التأنی فی الامور و قد جاء فی الحدیث : التأنی من الرحمن و العجلۃ من الشیطان۔ سورۂ فرقان (ع 5) اور سورة حم سجدہ (ع 1) اور سورة ق (ع 3) میں سَمٰوٰتِ اور ارض کے ساتھ (وَ مَا بَیْنَھُمَا) بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا فرما دیا اس کی تفصیل سورة حمٓ سجدہ (ع 2) میں بیان فرمائی ہے اور وہاں انشاء اللہ تعالیٰ اس بارے میں تفصیل سے لکھا جائے گا۔ یہاں یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دن تو سورج کی حرکت سے وجود میں آتا ہے اس وقت نہ آسمان تھے نہ زمین تھی نہ سورج تھا تو چھ دن کا وجود کیسے ہوا ؟ اس کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ ستہ ایام سے مقدار ستہ ایام مراد ہیں یعنی چھ دن کی مقدار میں تخلیق فرمائی۔ (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) پھر عرش پر استواء فرمایا۔ استواء قائم ہونے کو اور عرش تخت شاہی کو کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جو اپنے بارے میں (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا اور (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) فرمایا اس کو سمجھنے کے لیے بعض لوگوں نے مختلف تاویلیں کی ہیں۔ اس کے بارے میں حضرات سلف صالحین صحابہ وتابعین ؓ سے جو بات منقول ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہٗ کی ذات وصفات کو پوری طرح سمجھنے اور احاطہ کرنے سے عاجز ہے لہٰذا جو کچھ فرمایا ہے اس پر ایمان لائیں اور سمجھنے کے لیے کھوج کرید میں نہ پڑیں۔ یہی مسلک بےغبار اور صاف و صحیح ہے۔ حضرت امام مالک (رح) سے کسی نے اسْتَواء علی العرش کا معنی پوچھا تو ان کو پسینہ آگیا اور تھوڑی دیر سر جھکانے کے بعد فرمایا کہ استواء کا مطلب تو معلوم ہے اور اس کی کیفیت سمجھ سے باہر ہے اور ایمان اس پر لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر سائل سے فرمایا کہ میرے خیال میں تو گمراہ شخص ہے اس کے بعد اسے اپنی مجلس سے نکلوا دیا۔ (معالم التنزیل ج 2 ص 165) اس بارے میں سوال کرنے کو بدعت اس لیے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کے سامنے بھی آیات متشابہات تھیں لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں کیفیت اور حقیقت سمجھنے کے لیے کوئی سوال نہیں کیا۔ اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان امور کو واضح نہیں فرمایا۔ جس طرح وہ حضرات آیات متشابہات پر اجمالاً ایمان لے آئے اسی طرح بعد والوں کے لیے بھی اسی میں خیر ہے کہ بغیر سمجھے ہوئے ایمان لے آئیں۔ سورۂ آل عمران کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے کہ جن کے دلوں میں زَیْغ یعنی کجی ہے وہ فتنہ تلاش کرنے کے لیے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں۔ اور ان کا مطلب معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ (فَاَ مَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِیْلہٖ ) (الآیۃ) پھر فرمایا (یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ ) (اللہ تعالیٰ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر) یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے۔ اس کو سورة زمر میں یوں فرمایا (یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ ) (وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے) اور یہ سب کے سامنے ہے اللہ کے سوا کسی کو قدرت نہیں کہ رات اور دن کے نظام کو بدل دے نیز فرمایا (یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا) (یعنی رات جلدی جلدی چل کر دن کو طلب کرلیتی ہے) دن آناً فاناً گزرتا ہوا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ رات آجاتی ہے اور دن غائب ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَوَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ ) (یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند اور تمام ستاروں کو پیدا فرمایا اس حالت پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں اور اس کی مشیت و ارادہ کے مطابق چل رہے ہیں۔ ہزاروں سال گزر گئے جو ان کی رفتاریں مقرر فرما دیں اور جو کام ان کے ذمہ لگائے ہیں ان میں لگے ہوئے ہیں صرف خداوند قدوس کے حکم سے چلتے ہیں کسی آلہ یا انجن کے بغیر محض امرالٰہی ہی کی وجہ سے رواں اور دواں ہیں) آسمان و زمین و شمس و قمر اور ستاروں کی تخلیق بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ) (خبر دار اللہ ہی کے لیے پیدا فرمانا اور حکم دینا ہے) قال صاحب الروح ج 8 ص 138 و فسر بعضھم الامرھنا با لارادۃ و فسر اخرون الامر بما ھو مقابل النھی و الخلق بالمخلوق ای لہ تعالیٰ المخلوقون لانہ خلقھم و لہ ان یامرھم بما اداد۔ 1 ھ۔ خالق ہونا اور حاکم ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے اس کے علاوہ کوئی نہ ادنی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ تکوینی اور تشریعی طور پر اس کے علاوہ کسی کو حکم دینے کا اختیار ہے۔ آخر میں فرمایا (تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) (بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے) صاحب معالم التنزیل ج 2 ص 165 نے اولاً تو تبارک کا معنی تعالیٰ اللہ و تعظم لکھا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ برتر ہے با عظمت ہے) اور ایک قول یوں بھی لکھا کہ تَبَارَکَ بمعنی تَقَدس ہے۔ پھر محققین کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ معنی ھذہ الصفۃ ثبت و دَام بمالم یزل و لا یزال (یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی ذات اور صفات کے ساتھ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا) تمام اقوال کو سامنے رکھ کر لفظ تَبَارَکَ کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ برتر ہے باعظمت ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ اپنی صفات عالیہ سے ہمیشہ سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ اس کی ذات وصفات کو کبھی بھی زوال نہیں۔