7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 7:82–83

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور ان کی قوم کا جواب اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ بیشک یہ ایسے لوگ ہیں جو پاکباز بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

سو ہم نے نجات دی لوط کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ رہ جانے والوں میں سے تھی

اسی کو فرمایا (فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) (سو ہم نے نجات دی لوط کو اور اس کے گھر کے لوگوں کو سوائے اس کی بیوی کے۔ یہ باقی رہ جانے والوں سے تھی) یعنی جو اہل ایمان بستیوں سے نکال دیئے گئے تھے تاکہ عذاب میں مبتلا نہ ہوں ان کے علاوہ جو لوگ تھے وہ انہی میں رہ گئی۔ سورۂ ہود میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا (فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ) (سو تم رات کے ایک حصہ میں نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی بھی مڑکر نہ دیکھے سوائے تمہاری بیوی کے، بیشک اسے عذاب پہنچنے والا ہے جو ان لوگوں کو پہنچے گا۔ ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے کیا صبح قریب نہیں ہے۔ ) مفسرین لکھتے ہیں یا تو ان کی بیوی ان کے گھر والوں کے ساتھ نکلی ہی نہ تھی یا ساتھ نکلی لیکن پیچھے مڑ کر دیکھ کر اپنی قوم کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرنے لگی۔ ایک پتھر آیا اور اسے وہیں قتل کردیا۔ سورة ہود اور سورة حجر میں (حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ) فرمایا اور سورة ذاریات میں (حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ) فرمایا۔ دونوں جگہ کی تصریح سے معلوم ہوا کہ جو پتھر ان لوگوں پر برسائے گئے وہ یہ عام پتھر یعنی پہاڑوں کے ٹکڑوں میں سے نہ تھے بلکہ ایسے پتھر تھے جو مٹی سے پکا کر بنائے گئے ہوں جس کا ترجمہ کنکر سے کیا گیا اور مُسَوَّمَۃً بھی فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ ہر پتھر پر نشان لگا ہوا تھا کہ یہ فلاں شخص پر ہی گرے گا۔ اور سورة ہود میں جو مَنْضُوْدٍ ہے اس کے معنی ہیں کہ لگا تار پتھر برسائے گئے مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کا تختہ الٹ دیا۔ اس خطہ کو اوپر اٹھا کرلے گئے اور وہاں سے الٹا کر کے زمین کی طرف پھینک دیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ چار بستیاں تھیں جن کے نام مورخین و مفسرین نے سدوم، امورا، عاموراء اور صبویر بتائے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بستی سدوم تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اسی میں رہتے تھے۔ یہ بستیاں نہراردن کے قریب تھیں۔ ان بستیوں کا تختہ الٹ دیا گیا اور ان کی جگہ بحرمیت جاری کردیا گیا جو آج بھی موجود ہے پانی کہیں دوسری جگہ سے نہیں آتا ہے صرف ان بستیوں کی حدود میں رہتا ہے۔ یہ پانی بد بو دار ہے جس سے کسی قسم کا انتفاع انسانوں کو یا جانوروں کو یا کھیتیوں کو نہیں ہوتا۔ سورۂ صافات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ہے۔ (وَاِِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) (اور تم ان پر صبح کے وقت اور رات کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل عرب تجارت کے لیے شام جایا کرتے تھے راستے میں یہ بستیاں پڑتی تھیں جن کا تختہ الٹ دیا گیا تھا کبھی صبح کے وقت اور کبھی رات کے وقت وہاں سے گزر ہوتا تھا ان لوگوں کو یاد دلایا کہ دیکھو کافروں، بد کاروں کا کیا انجام ہوا۔ تم وہاں سے گزرتے ہو اور نظروں سے دیکھتے ہو پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے۔ فائدہ : قرآن مجید کی تصریح سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جس فحش کام یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کا عمل کرنے میں لگی ہوئی تھی یہ عمل اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یہ عمل عقلاً و شرعاً و فطرۃً نہایت ہی شنیع اور قبیح ہے اور کبائر میں سے ہے۔ اس کی سزا کیا ہے ؟ اس کے بارے میں حضرات صاحبین امام ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا کہ یہ بھی ایک طرح کا زنا ہے اس کی سزا بھی وہی ہے جو زنا کی سزا ہے۔ یعنی بعض صورتوں میں سو کوڑے مارنا اور بعض صورتوں میں سنگسار کردینا (یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردینا) ان دونوں سزاؤں کی تفصیلات کتب فقہ کی کتاب الحدود میں لکھی ہیں حضرت امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ اور ان کا ایک قول یہ ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردیا جائے اور ایک قول یہ ہے کہ دونوں کو سنگسار کردیا جائے۔ حضرت امام مالک (رح) کا بھی یہی ایک قول ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اس کی کوئی ایسی سزا مقرر نہیں کہ ہمیشہ اسی کو اختیار کیا جائے بلکہ امیر المومنین اس کو مناسب جانے تو دونوں کو قتل کر دے۔ اور مناسب جانے تو سخت سزا دے کر جیل میں ڈال دے۔ یہاں تک کہ ان دونوں کی موت ہوجائے یا توبہ کریں اور اگر اس عمل کو دو بارہ کریں تو قتل کردیا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ خلافت میں ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کو خط لکھا کہ یہاں ایک ایسا آدمی ہے جس سے لوگ اسی طرح شہوت پوری کرتے ہیں جس طرح عورت سے شہوت پوری کی جاتی ہے۔ اس بارے میں حکم شرعی بتایا جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرات صحابہ کو جمع فرمایا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ یہ ایسا گناہ ہے جسے صرف ایک ہی امت نے کیا ہے ان کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے معاملہ کیا وہ آپ سب کو معلوم ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس کو آگ میں جلا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ اس فعل بد کی کیا سزا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آبادی میں جو سب سے اونچی عمارت ہو وہاں سے اوندھے منہ کر کے پھینک دیا جائے پھر پیچھے سے پتھر مارے جائیں۔ یہ تفصیل فتح القدیر اور بحر الرائق میں لکھی ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح ص 313 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فاعل اور مفعول کو جلا دیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے ان دونوں پر دیوار گروا کر ہلاک کردیا تھا۔
Ayahs 7:84–85

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک بڑی بارش برسا دی۔ سو دیکھ ! کیسا انجام ہے مجرمین کا

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آگئی ہے۔ سو ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو ، اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو،

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا ہلاک ہونا جو امتیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت قبول نہ کرنے اور ضد وعناد پر کمر باندھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ان میں سیدنا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت بھی تھی۔ ان لوگوں میں کفر وعناد تو تھا ہی کیل اور وزن میں کمی کرنا بھی ان میں رواج پذیر تھا بیچتے تھے تو کیل میں یعنی ناپ کردینے میں اور وزن میں کمی کردیتے تھے۔ اور راستوں میں بیٹھ جاتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے بھی تھے یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے اور ایمان لانے سے منع کرتے تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے رب سے تمہارے پاس دلیل آچکی ہے لہٰذا تم ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ کرو اس کے بعد کہ اس کی اصلاح کردی گئی ہے۔ اور راستوں میں مت بیٹھو جہاں تم لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہو اور جو اللہ پر ایمان لے آئے اسے اللہ کی راہ سے روکتے ہو۔ یہ لوگ راستوں پر بیٹھ جاتے تھے اور جو لوگ بستی میں آنے والے ہوتے ان کو ڈراتے اور دھمکاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو شعیب کی بات مانو گے تو ہم تمہیں مار ڈالیں گے اور ساتھ ہی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بتائے ہوئے دین میں کجی تلاش کرتے تھے اور سوچ سوچ کر اعتراض نکالتے تھے۔ جس کو (وَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) سے تعبیر فرمایا۔ ” کجی تلاش کرنے “ کا مطلب سورة اعراف کے پانچویں رکوع میں بیان ہوچکا ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کی نعمت یاد دلائی اور فرمایا۔ (وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ کُنْتُمْ قَلِیْلًا فَکَثَّرَکُمْ ) (اور یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے اس کے بعد اللہ نے تمہیں کثرت دیدی) نیز فرمایا (وَ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ) (اور دیکھ لو فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا) ۔ چونکہ اس سے پہلے دیگر امتیں ہلاک ہوچکی تھیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں توجہ دلائی کہ گزشتہ ہلاک شدہ امتوں سے عبرت لے لو۔ سورة ہود میں ہے (وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِیْٓ اَنْ یُّصِیْبَکُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ ھُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ ) (اے میری قوم ! مجھ سے ضد کرنا تمہارے لیے اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی مصیبتیں آپڑیں۔ جیسے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑی تھیں۔ اور قوم لوط تم سے دور نہیں ہے) یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بےہودہ اور بےت کے جواب دیتے رہے جن کا تذکرہ آئندہ آیات میں ہے انہوں نے یوں بھی کہا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ الایہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ جس کا ذکر ابھی ایک آیت کے بعد آ رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ان لوگوں کو جب یہ بتایا گیا کہ کفر پر جمے رہو گے تو اللہ کی طرف سے عذاب آجائے گا۔ اس پر انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ ایک جماعت ایمان لے آئی اور ہم لوگ ایمان نہیں لے آئے جو ایمان نہیں لائے ان پر تو کوئی عذاب نہیں آیا۔ اور وہ سب عیش و آرام میں ہیں۔ لہٰذا یہ عذاب کی باتیں بےاصل معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عذاب کا فوراً اور جلدی آنا ضروری نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے جب چاہتا ہے عذاب بھیجتا ہے تم ذرا ٹھہرو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ (وَ ھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِیْنَ ) وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے چناچہ کافروں پر عذاب آیا اور ان کو زلزلہ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا۔ جیسا کہ اس رکوع کے آخر میں آ رہا ہے اور اہل ایمان کو بچا دیا گیا جیسا کہ سورة ہود میں مذکور ہے۔
Ayahs 7:86–88

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور مت بیٹھ جاؤ ہر راستہ میں کہ تم دھمکیاں دیتے ہو۔ اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے ہو جو اس پر ایمان لائے۔ اور اس میں کجی تلاش کرتے ہو۔ اور یاد کرو جبکہ تم تھوڑے سے تھے سو اللہ نے تم کو زیادہ کردیا، اور دیکھ لو فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت اس حکم پر ایمان لائی جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک جماعت ایمان نہ لائی تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ سب حاکموں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

ان کی قوم کے سردار جو تکبر کرنے والے تھے کہنے لگے کہ اے شعیب ! ضرور ضرور ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ انہوں نے جواب دیا کیا (ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں گے) اگرچہ دل سے برا جانتے ہوں ؟

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا اہل ایمان کو کفر میں واپس آنے کی دعوت دینا اور تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہونا جو قوم کے سردار ہوتے ہیں وہ متکبر بھی ہوتے ہیں متکبر سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمہارے دین میں کیسے آسکتے ہیں جبکہ ہم اسے برا جانتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دی یعنی اگر ہم پھر تمہارا دین اختیار کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارا یہ اعتقاد غلط ہے کہ شعیب اللہ کے نبی ہیں اور جو دین اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں یہ حق ہیں۔ اس طرح سے تو ہم اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والے ہوجائیں گے۔ کفر کا عقیدہ رکھنا اور کفر کو دین حق سمجھنا یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت دھرنا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ یہ دین اللہ تعالیٰ کو پسند ہے العیاذ باللہ۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دے دی اور ہم نے سوچ سمجھ کر قبول کرلیا تو اس کو چھوڑ دینا اور زیادہ تہمت کی چیز ہوگی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لیے یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ تمہارے دین میں واپس ہوجائیں، ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو تو اور بات ہے (اس میں یہ بتایا کہ ہدایت پانا، اور گمراہ ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور قضا و قدر سے ہوتا ہے اور ایمان پر جمنا ہمارا کوئی کمال نہیں، جو استقامت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کی ہوئی ہے) ۔ ہمارا رب علم کے اعتبار سے ہر چیز کو محیط ہے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے (اللہ تعالیٰ سے ہمیں امید ہے کہ وہ تمہارے مکر و فریب سے ہمیں بچا دے گا اور ہمیں اپنے محبوب دین پر استقامت سے رکھے گا) بستی والوں کو یہ جواب دے کر وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دیجیے اور آپ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ قوم کے سرداروں نے اپنے عوام سے یہ بھی کہا کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم ضرور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے (اس میں انہوں نے اپنے ان عوام کو بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اتباع سے روکا جنہیں نے ایمان قبول نہیں کیا تھا اور اہل ایمان پر بھی تعریض کی کہ تم نقصان میں پڑچکے ہو) (فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) (سو ان لوگوں کو زلزلہ نے پکڑ لیا۔ سو وہ اپنے گھروں میں صبح کے وقت اوندھے منہ پڑے ہوئے رہ گئے) اس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے جیسے قوم ثمود کو زلزلہ کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے رہ گئے اور وہیں کے وہیں ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا بھی حال ہوا۔ سورة ہود میں ہے۔ (اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ) (خبر دار مدین کے لیے رحمت سے دوری ہے، جیسا کہ قوم رحمت سے دور ہوئی) ۔ پھر فرمایا (الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا) (جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا وہ اپنے گھروں میں رہے ہی نہ تھے) (اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ ) (جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارہ میں پڑنے والے ہوئے) کہ اپنی جانوں کو تباہی میں ڈالا، نہ دنیا کے رہے نہ آخرت ملی۔ اہل ایمان کو وہ خسارہ میں بتا رہے تھے اور حقیقت میں خود خسارہ میں پڑگئے۔ فوائد فائدہ نمبر 1: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک صاحب زادہ کا نام مدین تھا۔ ان ہی کے نام پر اس بستی کا نام مشہور ہوگیا جس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قیام تھا۔ سورة اعراف، سورة ھود اور سورة عنکبوت میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کو اصحاب مدین بتایا ہے جن کی طرف وہ مبعوث ہوئے اور سورة شعراء میں ارشاد فرمایا کہ وہ اصحاب الایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں بھی یہ فرمایا کہ ان کو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا۔ دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ دونوں ہی قوموں کی طرف آپ مبعوث ہوئے تھے۔ البتہ بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم ہو لیکن قرآن کے سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قومیں علیحدہ علیحدہ تھیں۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اہل مدین کے بارے میں لفظ اخاھم کا اضافہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل مدین ہی کی قوم کے فرد تھے۔ اور اصحاب الایکہ کے بارے میں لفظ اخاھم استعمال نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب الایکہ کی طرف مبعوث تو ہوئے لیکن وہ خود ان میں سے نہ تھے، اور دونوں ہی قوموں میں ناپ تول میں کم کر کے دینے کا رواج تھا۔ اصحاب مدین پر کون سا عذاب آیا ؟ یہاں سورة اعراف میں اہل مدین کے بارے میں بتایا کہ وہ رجفہ یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے اور سورة عنکبوت میں بھی ایسا ہی فرمایا ہے اور سورة ھود میں فرمایا ہے کہ وہ صیحہ یعنی چیخ سے ہلاک ہوئے۔ اس میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ دونوں ہی طرح کا عذاب آیا تھا اور اصحاب الایکہ کے بارے میں سورة شعراء میں فرمایا (فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ) (کہ انہوں نے شعیب کو جھٹلایا لہٰذا ان کو سایہ والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا) ان کی بربادی اس طرح ہوئی کہ ان کی پوری بستی میں سخت گرمی پڑی جس سے سب بلبلا اٹھے پھر قریب ہی میں انہیں گہرا بادل نظر آیا۔ گرمی سے گھبرائے ہوئے تو تھے ہی اب بادل کے سایہ میں جمع ہوگئے۔ جب سب وہاں پہنچ گئے تو بادل سے آگ برسی اور یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ ایکہ جنگل کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ جنگل نما بستیوں میں رہتے تھے اس لیے ان کو اصحاب الایکہ کہا جاتا ہے۔ اصحاب الایکہ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا خطاب فرمانا اور ان کا الٹے الٹے جواب دینا اور ان پر عذاب آنا سورة شعراء (رکوع 10) میں مذکور ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنے کا و بال فائدہ نمبر 2: حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دیتے ہوئے ان سے یہ بھی فرمایا کہ (وَ اَوْفُوا الْکَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ ) کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ھُمْ ) کہ لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال بیچتے وقت گاہک کو مال کم دینا صرف یہی منع نہیں ہے بلکہ کسی بھی طرح سے کسی کا مال رکھ لینا، حق مارنا حلال نہیں۔ جو لوگ ملازمتیں کرتے ہیں ان میں جو لوگ تنخواہ پوری لے لیتے ہیں کام پورا نہیں کرتے یا وقت پورا نہیں دیتے۔ آیت کا عمومی مضمون ان لوگوں کو بھی شامل ہے۔ ناپ تول کی کمی کو سورة مطففین میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْنَ اِِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ وَاِِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ وَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ ) (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے جب یہ لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کردیتے ہیں) ۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ناپ تول کا کام کرنے والوں سے فرمایا کہ ایسے دو کام تمہارے سپرد کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ ص 250) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس قوم میں خیانت کا رواج پا گیا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا اور جن لوگوں میں زنا کی کثرت ہوجائے گی ان میں موت کی کثرت ہوجائے گی، اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے ان کا رزق کاٹ دیا جائے گا۔ اور جو لوگ ناحق فیصلے کریں گے ان میں خوں ریزی پھیل جائے گی اور جو لوگ عہد کی خلاف ورزی کریں گے ان پر دشمن مسلط کردیا جائے گا۔ (رواہ مالک فی المؤطا) ہر گناہ سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ آخرت کی فکر دامن گیر ہو اور وہاں کے مواخذہ اور محاسبہ اور عذاب کا استحضار ہو۔ ناپ تول میں کمی کرنے کا جو گناہ ہے اس کے بارے میں سورة مطففین میں فرمایا (اَلاَ یَظُنُّ اُولٰٓءِکَ اَنَّہُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ ایک بڑے سخت دن میں زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے جس دن تمام آدمی رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے) ناپ تول میں کمی کر کے دینے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے اور بندوں کے حقوق مارنے کا گناہ بھی ہے۔ قیامت کے دن دونوں باتوں کا مواخذہ ہوگا اور بندوں کے جو حقوق مارے ہیں ان کے عوض نیکیاں دینی ہوں گی اور نیکی نہ ہوئی تو اصحاب حقوق کے گناہ اپنے سر لینے ہوں گے جیسا کہ حقوق العباد کی ادائیگی کے بارے میں حدیث میں وارد ہوا ہے۔ عبادت میں کمی اور کوتاہی : جس طرح حقوق العباد میں تطفیف کی جاتی ہے عبادات میں بھی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لیکن اس کا احساس نہیں ہوتا۔ دنیاوی کوئی نقصان ہوجائے تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور عبادات میں کوئی نقصان ہوجائے تو دل پر اثر نہیں ہوتا۔ مؤطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر ؓ ، ایک دن جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں موجود نہ تھے۔ حضرت عمر ؓ نے سوال کیا کہ تمہیں نماز سے کس چیز نے روکا ؟ انہوں نے کوئی عذر بیان کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” طَفَّفْتَ “ کہ تو نے نقصان کا کام کیا۔ اس کے بعد امام مالک (رح) نے فرمایا۔ ” لکل شیء وفاء و تطفیف “۔ یعنی ہر چیز کے لیے پورا کرنا بھی ہے اور کم کرنا بھی۔ (موطا جامع الو قوت) مطلب یہ کہ کسی بھی چیز کو قاعدہ کے مطابق مکمل کرو تو یہ وفاء ہے یعنی پوری ادائیگی ہے اور اگر کمی کردی جائے تو یہ تطفیف ہے یعنی نقصان کی بات ہے۔ نمازوں کو صحیح طریقہ پر نہ پڑھنا رکوع سجدہ میں سے کٹوتی کرنا یہ سب تطفیف ہے۔ قوم کی بربادی کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کا خطاب : (فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَ لٰکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ) (پھر ان لوگوں سے منہ پھیرا اور کہنے لگے کہ اے میری قوم میں تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا چکا اور تمہاری خیر خواہی کرچکا۔ سو اب کافروں میں کیسے افسوس کروں) جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی ہوگئی تو انہوں نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا اور تمہاری خیر خواہی کی۔ لیکن تم نے سب سنی ان سنی کردی۔ برابر کفر پر جمے رہے تو اب میں کافر لوگوں پر کیسے رنج کروں، تم نے خود ہی اپنی بربادی کا سامان کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کی بربادی کے بعد بطور حسرت فرضی خطاب فرمایا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب عذاب آنے کے آثار نمودار ہوئے ہوں اس وقت حضرت شعیب (علیہ السلام) نے زندوں ہی کو خطاب فرمایا ہو اور یہ خطاب فرما کر وہاں سے روانہ ہوگئے ہوں۔ قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنے اہل ایمان کے ساتھ مکہ معظمہ میں قیام فرمایا اور وہیں وفات ہوئی حضرت ابن عباس ؓ سے ابن عساکر نے نقل کیا ہے کہ مسجد حرام میں صرف دو قبریں ہیں۔ ایک قبر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جو حطیم میں ہے اور ایک قبر شعیب (علیہ السلام) کی جو حجر اسود کے مقابل کسی جگہ پر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (روح المعانی ص 8 ج 9)
Ayahs 7:89–94

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم تمہارے دین میں واپس ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اللہ پر جھوٹی تہمت لگانے والے بن جائیں اس کے بعد کہ اللہ نے اس سے ہم کو نجات دلائی، اور ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم تمہارے دین میں واپس آجائیں الاَّ یہ کہ اللہ چاہے جو ہمارا رب ہے۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ اور تو فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے،

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور کہا ان کی قوم کے سرداروں نے جو کفر پر تھے کہ اگر تم شعیب کی راہ پرچلنے لگو گے تو بلاشبہ بڑے نقصان میں پڑجاؤ گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

سو پکڑ لیا ان کو زلزلہ نے سو وہ صبح کے وقت اس حال میں ہوگئے کہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے،

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا کہ وہ ان گھروں میں رہے ہی نہیں تھے، جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی نقصان میں پڑنے والے ہیں،

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

سو پشت پھیری ان کی طرف سے اور کہا کہ اے میری قوم بیشک میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے اور تمہاری خیر خواہی کی سو پھر میں کفر کرنے والی قوم پر کیوں رنج کروں ؟

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ اس کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف کے ساتھ نہ پکڑا ہو تاکہ وہ عاجزی کریں۔

جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے پکڑا۔ یہ گرفت سختی اور دکھ و تکلیف کے ذریعہ تھی بأساء سے سختی اور عام مصائب اور ضراء سے جسم و جان کی تکلیفیں مراد ہیں۔ ان کو یہ گرفت اس لیے تھی کہ یہ لوگ کفر و نافرمانی کی زندگی کو چھوڑ دیں اور اپنے خالق ومالک کے سامنے گڑگڑائیں اور عاجزی کریں اور کفر سے اور نا فرمانیوں سے توبہ کریں۔ لیکن یہ لوگ برابر طغیانی اور سر کشی پر تلے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بد حالی کو اچھے حال سے بدل دیا۔ نعمتوں سے نوازا۔ خوشحالی عطا فرمائی۔ تندرستی دی۔ مال دیا، یہاں تک کہ جان و مال میں کثرت ہوگئی، پہلے تو تنگدستی و بد حالی کے ذریعہ آزمائے گئے تھے اب انہیں نعمتیں دے کر آزمایا گیا۔ پہلے امتحان میں تو فیل ہوئے ہی تھے دوسرے امتحان میں بھی فیل ہوگئے۔ نہ بد حالی میں مبتلا ہو کر راہ راست پر آئے نہ خوشحالی سے عبرت حاصل کی بلکہ الٹا یہ نتیجہ نکالا کہ اجی ! یہ خوشحالی کچھ ایمان اور کفر اور اچھے کاموں اور برے کاموں سے متعلق نہیں ہے۔ یہ دنیا کا الٹ پھیر ہے۔ کبھی خوشحالی کبھی بد حالی، ہمارے باپ دادوں پر بھی یہ دونوں حالتیں گزری ہیں۔ لہٰذا ہم اپنا دین کیوں چھوڑ دیں۔ ہمارے باپ دادے بھی اپنے دین پر جمے رہے ہم بھی مضبوط ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ تنگ دستی اور سختی سے عبرت لی اور نہ خوشحالی اور نعمتوں سے نوازے جانے پر شکر گزار ہوئے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اچانک ان کی گرفت فرما لی۔ نزول عذاب کا پتہ بھی نہ چلا، اور مبتلائے عذاب ہو کر ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 7:95–96

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے بد حالی کی جگہ خوش حالی بدل دی یہاں تک کہ وہ بڑھتے چلے گئے۔ اور کہنے لگے ہمارے باپ دادوں کو تکلیف اور خوشی پہنچ چکی ہے۔ سو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اس حال میں کہ انہیں خبر نہ تھی۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان کی اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا۔

اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے تو ان کے لیے آسمان و زمین کی برکات کھول دی جاتیں اس کے بعد فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اور اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیز کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے) (وَ لٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (اور لیکن انہوں نے جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی) اس آیت میں ایک عمومی تکوینی قانون بتایا ہے اور وہ یہ کہ جب لوگوں میں ایمان ہوگا أعمال صالحہ ہوں گے کفر و شرک اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہوں گے تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکتیں کھول دی جائیں گی۔ آسمان سے بھی برکتیں نازل ہونگی اور زمین سے بھی نکلیں گی بہت ہی زیادہ خوشحال زندگی گزاریں گے اور اگر ایمان نہ ہوگا اور اعمال صالحہ نہ ہوں گے تو گرفت ہوگی نعمتیں چھن جائیں گی اور عذاب آئیں گے۔ شاید کسی کو یہ وسوسہ آئے گا کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کافر خوشحال رہتے ہیں نعمت و دولت ان کے پاس وافر مقدار میں ہوتی ہے نزول عذاب کے ذریعہ ان کی گرفت نہیں ہوتی، یہ وسوسہ غلط ہے کیونکہ آیت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ سارے عالم کے کافروں اور نافرمانوں پر ایک ہی وقت میں عذاب آئے گا، اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق دنیا کے مختلف علاقوں میں عذاب آتے رہتے ہیں جنہیں جاننے والے جانتے ہیں۔ پھر عذابوں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ زلزلے آنا۔ آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا۔ سیلابوں سے برباد ہونا۔ ٹڈی کا آجانا اور کھیتیاں صاف کردینا۔ نئے نئے امراض پیدا ہونا۔ یہ سب عذاب کی صورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ایک قانون استدراج کا بھی ہے اور وہ یہ کہ کافروں کو ڈھیل دے دی جاتی ہے وہ نعمتوں میں پڑ کر اور زیادہ بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ پھر اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں اور موت کے بعد جو مؤاخذہ اور عذاب ہے وہ اس کے علاوہ ہے جو کافروں کے لیے دائمی ہے۔
Ayahs 7:97–99

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ہمارا عذاب ان کے پاس رات کے وقت اس حال میں آجائے کہ وہ سو رہے ہوں،

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا بستیوں والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آجائے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں۔

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے نڈر ہوگئے۔ سو اللہ کی تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جن کا برباد ہونا ہی طے پا چکا ہو۔

اللہ کے عذاب سے نڈر نہ ہوں : اس کے بعد آنحضرت سرور عالم ﷺ کے زمانے کے کافروں کو تنبیہ فرمائی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے پرانی قوموں پر عذاب بھیجا ان پر بھی عذاب آسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات کے وقت آجائے جب کہ یہ سوتے ہوں یا اس بات سے بےخوف ہیں کہ ہمارا عذاب دن کے شروع حصہ میں آجائے جبکہ یہ لوگ کھیل رہے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے عذاب سے نڈر نہ ہوں۔ پہلی امتوں سے عبرت حاصل کریں اور نبی اکرم ﷺ کی تکذیب سے باز آئیں۔ پھر فرمایا (اَفَاَمِنُوْا مَکْرَ اللّٰہِ ) (کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے نڈر بنے ہوئے ہیں) یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ نڈر نہ بنیں اللہ کا عذاب آنے سے ڈریں اور ایمان قبول کریں (فَلَا یَاْمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (کیونکہ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوجاتے ہیں جن کو تباہ ہی ہونا ہے) عذاب کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ عذاب نہیں آئے گا، جب عذاب آئے گا تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے اور عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ صاحب معالم التنزیل (ص 84 ج 2) فرماتے ہیں۔ و مکر اللہ استدراجہ ایاھم بما أنعم علیھم فی دنیاھم یعنی مکر اللہ (اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نعمتیں عطا فرماتا ہے اور عذاب بھیجنے میں اس کی طرف سے تا خیر ہوتی ہے۔ اس ڈھیل سے لوگ دھوکہ میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اور زیادہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

جو لوگ زمین کے وارث ہوتے ہیں کیا انھیں مذکورہ اقوام کے واقعات نے یہ نہیں بتایا کہ ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیں، ان کے دلوں پر ہم مہر لگائے ہوئے ہیں سو وہ نہیں سنتے۔

زمین کے وارث ہونے والے سابقہ امتوں سے عبرت حاصل کریں ہلاک ہونے والی چند امتوں کے جو واقعات گزشتہ چند رکوع میں بیان کیے گئے ان سے عبرت دلانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جو امتیں ہلاک کی گئیں ان کی جگہ جو لوگ زمین پر آباد ہوئے کیا ان بعد میں آنے والوں کو ان واقعات سے عبرت حاصل نہ ہوئی اور کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیں۔ اور بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ لہٰذا وہ سنتے ہی نہیں۔ کانوں سے سن لیتے ہیں لیکن قبول کرنے کی نیت سے نہیں سنتے۔ لہٰذا سنا بےسنا برابر ہوجاتا ہے اور یہ مہر لگانا ایسا ہی ہے، جیسا کہ سورة نساء میں فرمایا (بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ) (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر لگا دی ہے) اور اسی کو سورة صف میں فرمایا (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ) (سو جب وہ ٹیڑھے رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا) جب انسان کفر کو اختیار کرلیتا ہے اور اسی پر جما رہتا ہے اور دلائل واضحہ کے ہوتے ہوئے حق قبول نہیں کرتا تو اللہ کی طرف سے یہ سزا بھی دی جاتی ہے کہ دل پر مہر لگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے حق قبول کرنے کا موقعہ ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں ان کی بعض خبریں ہم آپ کو سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تو جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانے والے نہ تھے اللہ ایسے ہی مہر لگا دیتا ہے کافروں کے دلوں پر،

(تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِھَا) (یہ بستیاں ہیں جن کے قصے ہم آپ کو سناتے ہیں) (وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بالْبَیِّنٰتِ ) (اور ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح معجزات لے کر آئے) (فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ) (اور وہ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اس پر ایمان لے آتے) ان کے پاس حق آیا تو اس کی تکذیب جو پہلے کردی تھی اسی تکذیب پر جمے رہے لہٰذا ایمان نہ لائے۔ (کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ) (ایسے ہی اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے) اس مہر لگانے کا سبب اوپر بیان ہوا ہے۔ اس مہر کے سبب اپنے کفر پر اڑے رہتے ہیں۔ کافر اقوام کا یہی طریقہ ہے کہ جب پہلی بار منکر ہوگئے تو ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کے باعث حق کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔ اگرچہ دلائل عقلیہ سمعیہ اور آیات تکوینیہ کھل کر سامنے آجائیں۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد کا پورا کرنا نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان ہی پایا۔

پھر فرمایا (وَ مَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ ) (اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد کا پورا کرنا نہ پایا) انسان کا یہ عجیب مزاج ہے کہ جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے اور بہت پکا مشرک بھی اپنے باطل معبودوں کو بھول جاتا ہے اور یہ وعدے کرنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت دور ہوگئی تو ایمان قبول کرلوں گا اور شرک سے پرہیز کروں گا لیکن مصیبت دور کرنے کے بعد وہ اپنے عہد کو بھول جاتا ہے اور پھر شرک اور کفر پر ہی جما رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی۔ پھر فرمایا (وَ اِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ) (اور بیشک ہم نے ان میں سے اکثر کو فاسق پایا) جو اطاعت و فرمانبر داری سے دور ہی رہے۔ لفظ ” اکثر “ سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے ایمان قبول کیا اور اپنے عہد کو پورا کیا۔ عہد کو پورا نہ کرنا اور بار بار توڑ دینا، اس کا کچھ بیان فرعون اور اس کی قوم کی بد عہدیوں کے ذیل میں دو رکوع کے بعد مذکور ہے۔ وَ ھو قولہ تعالیٰ (لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ اِلٰی قولہ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ ) جو لوگ مصیبتوں کو اللہ کی طرف سے سمجھتے ہی نہیں بلکہ یوں کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسا ہی ہوتا رہتا ہے ہمارے باپ دادا بھی تکلیفوں میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کا بیان اس رکوع سے پہلے رکوع میں تھا۔ یہ لوگ اللہ کی طرف سے مصائب کو سمجھتے تو وعدے کرتے، اس رکوع میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مصائب کے وقت وعدے کرتے ہیں پھر مصیبت ٹل جانے کے بعد وعدہ فراموش ہوجاتے ہیں۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد اپنی آیات کے ساتھ موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا سو انہوں نے ان آیات کے ساتھ ظلم والا معاملہ کیا سو تو دیکھ لے فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے پاس تشریف لے جانا اور اس کو معجزے دکھانا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا اور ان کو معجزات دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جن میں اس کی قوم کے سردار بھی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو توحید کی دعوت دی اور فرعون سے یہ بھی فرمایا تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، فرعون نے حضرت موسیٰ سے بےتکی جاہلانہ باتیں کیں اور مختلف قسم کے سوالات کیے اس مکالمہ کا ذکر سورة طہٰ ع 2 اور سورة شعراء ع 2 میں ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے خطاب کیا اور اپنا نبی ہونا ظاہر کیا تو فرمایا (یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اے فرعون بیشک میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں) (حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ ) (میرے لیے یہی شایان شان ہے کہ سچ کے علاوہ کسی چیز کی نسبت اللہ کی طرف نہ کروں) (قَدْ جِءْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) (میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں) ۔ اس دلیل یعنی معجزہ کو سمجھ لو دیکھ لو میری نبوت کا اقرار کرو۔ (فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) (اے فرعون بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے) تاکہ یہ قوم قبط کے مظالم سے چھوٹ جائیں اور اپنے وطن سابق میں جا کر آباد ہوجائیں (قَالَ اِنْ کُنْتَ جِءْتَ بِاٰیَۃٍ فَاْتِ بِھَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) (فرعون نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو اس کو پیش کر دے اگر تو سچا ہے) (فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ) (سو انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی سو وہ اچانک بالکل واضح طور پر اژدھا بن گئی) یہ ایک معجزہ ہوا۔ (وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآء للنّٰظِرِیْنَ ) (اور انہوں نے اپنا ہاتھ نکالا تو یکایک دیکھنے والوں کو سفید نظر آ رہا ہے) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ پہلے گریبان میں ڈالا پھر گریبان سے نکالا تو خوب روشن اور چمکدار ہو کر نکلا۔ روح المعانی (ص 21 ج 9) میں لکھا ہے : ای بیضاء بیاضا نورانیاً...... غلب شعاعہ شعاع الشمس کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو فرعون کو اپنا ہاتھ دکھایا وہ اس وقت اتنا زیادہ روشن ہوگیا تھا کہ اس کی شعاعیں سورج کی شعاعوں پر غالب آگئیں۔ دونوں معجزے دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم کے سردار ایمان نہ لائے اور سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گر بتانے لگے اور جادو گروں کو بلا کر مقابلہ کرایا جس کے نتیجہ میں جادو گر ہار مان گئے اور مسلمان ہوگئے۔ جس کا تذکرہ ابھی آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔
Ayahs 7:104–116

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے کہ اے فرعون بیشک میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں،

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرے لیے یہی شایان شان ہے کہ سچ کے علاوہ اللہ کی طرف کسی بات کو منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل لایا ہوں، سو تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا کہ اگر تو کوئی نشانی لایا ہے تو اسے پیش کر دے اگر تو سچا ہے۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو اچانک وہ بالکل واضح طور پر ایک اژدھا بن گئی،

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا تو یکایک وہ دیکھنے والوں کو سفید نظر آ رہا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

سرداروں نے کہا جو فرعون کی قوم میں سے تھے کہ بلاشبہ یہ ایک جادو گر ہے جو بڑا ماہر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تمہاری سر زمین سے تمہیں نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اس کو اور اس کے بھائی کو ڈھیل دیدے اور شہروں میں جمع کرنے والوں کو بھیج دے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

جو تیرے پاس ہر ماہر جادو گر کو لے آئیں،

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور جادو گر فرعون کے پاس آئے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہوئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا بیشک تم لوگ مقربین میں شامل ہوجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

ان جادوگروں نے کہ اے موسیٰ یا تو آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوجائیں۔

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ تم ہی ڈالو، سو جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور اس پر ہیبت غالب کردی اور بڑا جادو لے کر آئے،

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے کی بجائے یہ کہہ کر ٹال دیتے تھے کہ یہ شخص جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے سمجھا کہ ابھی تو شاہی دربار میں یہ دونوں باتیں سامنے آئی ہیں کہ یکایک ان کا ایک ہاتھ بہت زیادہ روشن اور چمکدار ہوگیا اور ان کی لاٹھی اژدھا بن گئی اگر انہوں نے اسی طرح کا کوئی مظاہرہ عوام کے سامنے کردیا تو لوگ انہیں کے معتقد ہوجائیں گے اور ہماری ساری حکومت جاتی رہے گی اور اس سر زمین میں انہی دونوں بھائیوں (موسیٰ اور ہارون) کا راج ہوجائے گا۔ (فرعون کا دعویٰ تو خدائی کا بھی تھا۔ لیکن دنیاوی حکومت کے ہی باقی رہنے کے لالے پڑگئے خدائی تو بہت دور کی چیز ہے) لہٰذا اس سے پہلے کہ عوام پر ان کا کوئی اثر ہو ان کا علاج کردینا چاہیے۔ لہٰذا آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کیا کیا جائے۔ فرعون کے درباریوں نے کہا کہ جادو کا کاٹ جادو ہوگا۔ یہ بڑا ماہر جادو گر ہے۔ اپنی حدود مملکت سے تمام ماہر جادو گروں کو جمع کر کے مقابلہ کرا دیا جائے۔ جب لوگوں نے یہ رائے دی تو یہ بات فرعون کی سمجھ میں آگئی کہ ہاں یہ بڑا ماہر جادو گر ہے، جیسا کہ سورة شعراء میں ہے۔ (قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ) درباریوں نے کہا کہ ابھی اس شخص کو اور اس کے بھائی کو مہلت دیدی جائے اور جادو گروں کے فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی وہاں موجود تھے اور ان کو بھی نبوت دی گئی تھی اور فرعون کی طرف وہ بھی مبعوث تھے جیسا کہ سورة طہٰ میں ہے (اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی) اس لیے مشورہ میں ان کا نام بھی شامل کرلیا گیا (کہ موسیٰ اور ان کے بھائی کو مہلت دو ) چناچہ اول تو مقابلہ کا وقت مقرر کیا گیا جس کا ذکر سورة طہٰ میں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ان لوگوں نے کہا (فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَ لَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی) (کہ ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں گے نہ تم کرنا، کوئی ہموار میدان مقرر کرلو) (قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی) (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارے لیے میلہ کا دن مقرر ہے اور یہ بات بھی کہ چاشت کے وقت لوگ جمع کیے جائیں) مقابلہ کے لیے دن اور وقت مقرر ہوگیا اور فرعون کے درباریوں نے فرعون سے کہا کہ اپنے اہلکاروں کو شہروں میں بھیج دے جو بڑے بڑے جادو گروں کو لے کر آئیں۔ سورة شعراء میں ہے۔ (فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ وَقِیْلَ للنَّاسِ ھَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِِنْ کَانُوْا ھُمُ الْغَالِبِیْنَ ) (سو جمع کیے گئے جادو گر مقررہ دن میں جو معلوم تھا اور لوگوں سے کہا گیا کہ تم جمع ہو گے تاکہ ہم جادو گروں کا اتباع کریں اگر وہ غالب ہوجائیں) چناچہ شہروں میں اہل کار بھیجے گئے اور فرعون کی قلم رو سے جادو گر جمع کئے گئے اہل دنیا، دنیا ہی کے لیے سوچا کرتے ہیں ان کو اپنی حکومت کی فکر پڑگئی اور حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی محنت کو حکومت چھیننے اور خود اپنی حکومت قائم کرنے پر محمول کیا۔ کما فی سورة یونس (وَ تَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ ) جادو گروں نے بھی (جو اس وقت دنیا کے طالب تھے) اپنی دنیا بنانے کی بات سوچی اور فرعون سے کہا کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں کوئی انعام دیا جائے گا اور کیا ہمارے عمل پر کوئی صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ضرور ملے گا اور صرف انعام ہی نہیں ملے گا بلکہ تم میرے مقربین میں ہوجاؤ گے ! مقابلہ کے لیے جادو گر میدان میں آئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں یا پہلے آپ ڈالیں گے۔ کما فی سورة طہٰ (قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا القوا (پہلے تم ہی ڈالو) چناچہ ان لوگوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں اور فرعون کی عزت کی قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم ضرور غالب ہوں گے (کما فی سورة الشعراء) ان کی لاٹھیاں اور رسیاں لوگوں کی نظروں کے سامنے سانپ بن کر دوڑنے لگیں، یہ رسیاں کثیر تعداد میں تھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈالو انہوں نے لاٹھی ڈالی تو اژدھا بن گئی۔ ان لوگوں نے نظر بندی کی تھی جس کی وجہ سے ان کی لاٹھیاں اور رسیاں سانپ معلوم ہو رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ اژدھا ان سب کو نگلنے لگا اور ساحروں نے جو کھیل بنایا تھا جس کے ذریعہ لوگوں کو خوف زدہ کردیا تھا وہ سب کھیل بنا بنایا ختم ہوگیا۔ اسی کو فرمایا (فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (سو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ وہ لوگ کر رہے تھے، سب باطل ہوگیا) (فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ ) (سو وہ لوگ وہاں پر مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوگئے) ۔
Ayahs 7:117–120

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ، سو وہ اچانک ان کی بنائی ہوئی جھوٹی چیزوں کو نگلنے لگی۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ظاہر ہوگیا اور وہ باطل ہوگیا جو انہوں نے بنایا تھا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

سو وہ اس جگہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوگئے۔

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادو گر سجدہ میں ڈال دیئے گئے،

اب آگے یہ ہوا کہ جادو گروں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے جس سے مقابلہ کیا یہ جادو گر نہیں ہے، یہ واقعی اللہ کا رسول ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ جب حق واضح ہوگیا تو ان سے نہ رہا گیا اور فوراً سجدہ میں گرگئے اور یہ اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ چونکہ ایمانیات کا تفصیلی علم نہ تھا اس لیے انہوں نے اجمالی ایمان کا اعلان کردیا۔ قرآن مجید میں لفظ سجدوا یا خروا سجدوا کے بجائے (وَ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ ) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ ان کے دل میں حق نے اس قدر گھر کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ تو حضرت موسیٰ کا مقابلہ کر کے فرعون سے انعام لینے کے متمنی تھے اور ہوا یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غلامی کے گن گانے لگے۔ (قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ) (فرعون نے کہا تم میری اجازت سے پہلے ایمان لے آئے) بادشاہوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ عوام کے قلوب پر بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں اور پختہ وفا داری اسی کو سمجھتے ہیں کہ عوام اسی دین پر رہیں جو شاہان مملکت ان کے لیے تجویز کریں۔ اسی بنیاد پر فرعون نے یہ کہا کہ میری اجازت کے بغیر تم کیسے مسلمان ہوگئے۔ جب فرعون نے دیکھا کہ عوام کو اپنی خدائی اور حکومت کا وفا دار رکھنے اور موسیٰ سے دور رکھنے کے لیے جو جادو گروں سے مقابلہ کا مظاہرہ کرایا تھا اس کا نتیجہ بر عکس نکلا۔ اور جادو گر ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تو اب تو لینے کے دینے پڑگئے اور عوام کو اپنی طرف کرنے کے لیے اس نے جادو گروں کو خطاب کیا کہ تم میری اجازت سے پہلے اس شخص پر ایمان لے آئے (اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ ) (بلاشبہ یہ ایک مکر ہے جو تم سب نے مل کر اس شہر میں کیا ہے) اور میری سمجھ میں آگیا کہ یہی شخص ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا۔ استاد اور شاگردوں کی ملی بھگت ہے (لِتُخْرِجُوْا مِنْھَآ اَھْلَھَا) (تاکہ تم اس شہر سے اس کے رہنے والوں کو نکال دو ) (فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (سو تم سب عنقریب جان لو گے) پھر ان کی سزا کا اعلان کرتے ہوئے فرعون نے کہا (لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (میں ضرور ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ ڈالوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا) ظالموں کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جب دلیل سے عاجز ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ماروں گا اور قتل کر ڈالوں گا۔ (قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ) (جادو گروں نے جواب دیا کہ بلاشبہ ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے) مطلب یہ تھا کہ ہمیں تیری دھمکی کی کوئی پرواہ نہیں۔ قتل کر یا کچھ کر اب تو ہم اپنے رب کے ہوگئے اگر تو قتل کر دے گا تو ہمارا کچھ نقصان نہ ہوگا۔ ہمارا رب ہمیں ایمان لانے پر جو انعامات عطا فرمائے گا ان کے مقابلہ میں یہ دنیا کی ذرا سی زندگی اور تیری رضا مندی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جب دلوں میں ایمان جگہ کرلیتا ہے تو دنیا کی ہر مصیبت، ہیچ ہوجاتی ہے اور ظالموں سے مقابلہ کرنا اور دلیری کے ساتھ جواب دینا آسان ہوجاتا ہے۔ سورة طہٰ میں جادو گروں کا ایک اور جواب بھی ذکر فرمایا ہے۔ (قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَ نَا مِنَ الْبَیّْنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ اِنَّمَا تَفْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا اِنَّآاٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَآ اَکْرَھْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ وَ اللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی) (وہ کہنے لگے کہ ہم ان دلائل کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس پہنچ گئے اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا فرمایا تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے سو تو فیصلہ کر دے جو بھی تجھے فیصلہ کرنا ہے۔ تو اسی دنیا والی زندگی ہی میں فیصلہ کرے گا، بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے اور جو کچھ تو نے جادو کروانے کے بارے میں ہم پر زبردستی کی وہ بھی ہمیں معاف فرما دے اور اللہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے) ۔ جادو گروں نے فرعون سے مزید کہا (وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَ تْنَا) کہ یہ جو تو ہم سے ناراض ہو رہا ہے اور ہم سے انتقام لینے کا اعلان کر رہا ہے اس کا سبب کچھ نہیں ہے نہ ہم نے چوری کی نہ ڈاکہ ڈالا نہ کسی کو قتل کیا بس یہی بات تو ہے کہ جب ہمارے پاس ہمارے رب کی دلیلیں آگئیں تو ہم ایمان لے آئے۔ یہ بات نہ کوئی عیب کی ہے نہ جرم کی ہے۔ نہ اس پر ہم سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس کے بعد فرعون کی طرف سے اعراض کر کے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا میں عرض کیا (رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ) (کہ اے ہمارے رب ہم پر صبر ڈال دے) اگر یہ واقعی اپنے قول کے مطابق عمل کرنے لگے تو ہمیں صبر عطا فرما دیجیے اور اتنا زیادہ صبر دیجیے جیسا کہ کوئی چیز انڈیل دی جاتی ہے اور ہمیں اس حال میں وفات دیجیے کہ ہم مسلمان ہوں۔ خدا نخواستہ ایسا نہ ہو کہ فرعون کی طرف سے قتل کے فیصلہ پر عمل ہونے لگے تو ہم اپنے ایمان والے فیصلہ میں ڈھیلے پڑجائیں (والعیاذ باللہ من ذالک) ۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس وغیرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ فرعون نے جو قتل وغیرہ کی دھمکی دی تھی یہ اس نے کردیا اور بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس پر قادر نہیں ہوسکا۔ تفسیر درمنثور (ص 107 ج 3) میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ذکرلنا انھم اول النھار سحرۃً و آخرہ شھداء (کہ جادو گر دن کے اول حصہ میں جادو گر تھے اور آخر حصہ میں شہید تھے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ان کو شہید کردیا تھا۔