7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 7:121–127

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ کا اور ہارون کا رب ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تم اس سے پہلے اس پر ایمان لے آئے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ایک بڑا مکر ہے جو تم سب نے مل کر اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ شہر والوں کو نکال دو سو عنقریب تم جان لو گے،

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

ضرور بالضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں کہا کہ بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں،

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو جو ہم سے انتقام لے رہا ہے اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس پہنچ گئیں۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر ڈال دے اور ہمیں اس حال میں موت دے کہ ہم اسلام پر ہوں۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رہے گا تاکہ وہ زمین میں فساد کریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں۔ اس نے کہا کہ ابھی ہم ایسا کریں گے کہ ان کے بیٹوں کو مار ڈالیں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر پوری طرح غلبہ حاصل ہے

قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے اور ان کی جماعت زور پکڑ جائے گی جب سر سے پانی اونچا ہوجائے گا، بغاوت کو دبانا دشوار ہوجائے گا لہٰذا ابھی سے کچھ کرنا چاہئے۔ فرعون کی سمجھ میں اور تو کچھ نہ آیا اس نے وہی قتل کی سزا تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ہم سر دست یہ کریں گے کہ ان کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کردیں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیں گے تاکہ ہماری خدمت میں لگی رہیں اور ان کے زندہ رہنے سے کچھ بغاوت کا کوئی ڈر نہیں۔ بعض اسرائیلی روایات میں ہے کہ جب جادو گر مسلمان ہوگئے تو انہیں دیکھ کر قوم قبط سے بھی چھ لاکھ آدمی مسلمان ہوگئے تھے جو فرعون کی قوم تھی۔ اس سے فرعون کو اور اس کے درباریوں کو فرعون کی حکومت کے بالکل ختم ہوجانے کا پورا اندازہ ہوچکا تھا۔ اس لیے آپس میں مذکورہ بالا سوال جواب ہوا۔ اخیر میں فرعون کی یہ جو بات ذکر فرمائی۔ (وَ اِنَّا فَوْقَھُمْ قٰھِرُوْنَ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کی کچھ بات آگے بڑھی ہے لیکن ابھی ہم کو طاقت اور قوت کی برتری حاصل ہے ہم نے جو ان کے بیٹوں کے قتل کا فیصلہ کیا ہے واقعی ہم اس پر عمل کرسکتے ہیں۔ فرعون کے درباریوں نے جو یہ کہا (وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِھَتَکَ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے اگرچہ (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) کا دعویٰ کیا تھا اور لوگوں سے اس نے یہ کہا تھا کہ (مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ) (کمافی سورة القصص) لیکن خود اس نے اپنے لیے معبود تجویز کر رکھے تھے جن کی عبادت کرتا تھا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس کا یہ اعتقاد تھا کہ ستارے عالم سفلی کے مربی ہیں اور وہ خود نوع انسان کا رب ہے۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لیے بت تجویز کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ان بتوں کی عبادت کرو ممکن ہے کہ یہ اس کی اپنی مورتیاں ہوں۔ روح المعانی میں ہے کہ اس نے ستاروں کی ان مورتیوں کو الھتکَ سے تعبیر کیا کیونکہ یہ اس کے تجویز کردہ معبود تھے۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بلاشبہ یہ اللہ کی زمین ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنائے اور عاقبت متقیوں کے لیے ہی ہوتی ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت فرمانا اور صبر و دعاء کی تلقین کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر جا کر بس گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مصریوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے اور پرائے کا معاملہ شروع کردیا، بنی اسرائیل غیر ملکی تھے ان کو فرعون کی قوم نے خوب دبا کر رکھا، ان کو خوب ستاتے تھے بیگاریں لیتے تھے اور طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔ ان کے مجبور و مقہور ہونے کا یہ عالم تھے کہ مصری لوگ ان کے بچوں کو قتل کردیتے تھے اور یہ اف نہیں کرسکتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو قوم فرعون کی دشمنی اور زیادہ بڑھ گئی خصوصاً جب فرعون کے بلائے ہوئے جادوگروں سے مقابلہ ہوا اور جادو گر مسلمان ہوگئے تو فرعونیوں کی طرف سے ظلم و ستم کا مظاہرہ اور بڑھ چڑھ کر ہونے لگا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہم تو مصیبت ہی مصیبت میں ہیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے بھی دکھ ہی دکھ میں مبتلا تھے اور آپ اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی تکلیف ہی تکلیف ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ صبر کرو اور اللہ سے مدد مانگو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کے مظالم سے کوئی چھٹکارا دینے والا نہیں صبر کے ساتھ دعائیں بھی کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگتے رہو۔ یہ نہ سوچو کہ فرعون کی اتنی بڑی حکومت ہے اور اس کا مضبوط تسلط ہے ہم اس کے چنگل سے کہاں چھوٹ سکتے ہیں، بظاہر تم تو عاجز ہو لیکن اللہ تعالیٰ کو سب کچھ قدرت ہے۔ وہ زمین کا مالک ہے۔ اسے اختیار وقدرت ہے وہ جس سے چاہے اپنی زمین کو چھین لے اور جسے چاہے اس پر تسلط عطا فرما دے۔ دنیا میں حق و باطل کی جنگ رہتی ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اچھا انجام انہیں کا ہوتا ہے۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو تقویٰ اختیار کرو تاکہ حسن عاقبت کے انعام سے نوازے جاؤ۔ تم اپنے رب سے دعا مانگتے رہو۔ اسی سے لو لگاؤ، عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک فرما دے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا فرما دے گا۔ لیکن خلافت ملنے کے بعد تم دوسرے امتحان میں پڑجاؤ گے۔ اب تو صبر کا امتحان ہے۔ اس وقت شکر کا امتحان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ زمین پر تسلط ہوجانے کے بعد تم کیا طریقہ اختیار کرتے ہو اور کیسے اعمال میں لگتے ہو۔ اس خلافت ارضی کو شکر کا ذریعہ بناتے ہو یا گناہوں میں پڑ کرنا شکری میں مبتلا ہوتے ہو۔ طاعت اور فرمانبر داری کی ترغیب دینے کے لیے اور گناہوں سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو پیشگی آگاہ فرما دیا کہ دیکھو تمہیں ابھی اقتدار نہیں ملا جب اقتدار ملے گا تو زمین میں فساد نہ کرنا اور اللہ کے نیک بندے بن کر رہنا۔ سورة یونس میں ہے (وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَ اَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بر قرار رکھو اور تم سب اپنے گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو اور نماز قائم رکھو اور اہل ایمان کو بشارت دو ) چونکہ بنی اسرائیل بہت زیادہ مقہور تھے۔ کھلے طور پر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اس لیے حکم فرمایا کہ گھروں ہی میں نماز پڑھتے رہو۔ اس کے بعد سورة یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا مذکور ہے جو فرعون اور فرعونیوں کے حق میں بددعاء تھی اور ان کی دعا قبول ہونے کا تذکرہ ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان کو سبق مل گیا کہ اگر کسی جگہ کافروں کے ماحول میں ہوں اور مغلوبیت کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں اور دشمن کے سامنے عبادت کرنے میں مشکلات ہوں تو اپنے گھروں میں عبادت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں۔
Ayahs 7:129–130

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم کو آپ کے آنے سے پہلے تکلیفیں دی جاتی رہی ہیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی، انہوں نے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دے، پھر وہ دیکھے گا تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے فرعون والوں کو قحط سالی کے ذریعہ اور پھلوں میں کمی کے ذریعہ پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

قوم فرعون کی قحط سالی وغیرہ کے ذریعہ گرفت ہونا اور ان کا الٹی چال چلنا مصر میں فرعونیوں کی حکومت تھی خوب عیش و عشرت اور تنعم میں تھے۔ جب حضرت موسیٰ نے انہیں ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے ایمان قبول نہ کیا اور ساتھ ہی بنی اسرائیل پر مزید ظلم و ستم ڈھانے کا فیصلہ کرلیا، اور اللہ تعالیٰ کی بھر پور نعمتیں ہوتے ہوئے شکر ادا کرنے کے بجائے کفر ہی پر جمے رہے۔ لہٰذا بطور تنبیہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان پر قحط سالی بھیج دی۔ اہل مصر کو دریائے نیل کے پانی پر بھروسہ رہا ہے وہ سمجھتے رہے ہیں کہ ہمارے کھیتوں کی آب پاشی کے لیے یہ میٹھا اور عمدہ پانی خوب زیادہ کافی اور وافی ہے۔ لیکن وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ پیداوار پانی سے نہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے سارے کام کرلیے جائیں، زمین کو سینچ دیا جائے اس میں بیج ڈال دیا جائے اور خوب آبپاشی کردی جائے لیکن ضروری نہیں کہ کھیتی اگ جائے اور اگر اگ جائے تو ضروری نہیں کہ آفتاب سے محفوظ رہے اور دانے پیدا ہونے تک قائم رہے۔ اور پھر اگر محفوظ ہوجائے اور غلہ بھی پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ غلہ ضائع ہونے سے محفوظ ہوجائے اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اس غلہ کو کیڑے مکوڑوں کے ذریعہ ختم فرما دے اور کاشت کرنے والے دیکھتے ہی رہ جائیں۔ سورۂ واقعہ میں فرمایا (اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا فَظَلَلْتُمْ تَتَفَکَّہُوْنَ اِِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ) (بتاؤ تم جو کچھ بوتے ہو کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا بنا دیں۔ پھر تم تعجب کرتے ہوئے رہ جاؤ کہ بلاشبہ ہم پر تاوان پڑگیا، بلکہ ہم محروم رہ گئے) کیا دھرا سب ضائع ہوا جو بیج ڈالا تھا وہ بھی گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ لیست السنۃ بان لا تمطروا و لکن السنۃ ان تمطروا و لاتنبت الارض شیئا۔ (قحط یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو لیکن قحط یہ ہے کہ بارش خوب ہو اور زمین کچھ بھی نہ اگائے) ۔ (رواہ مسلم ص 393 ج 2) اللہ جل شانہٗ نے مصریوں پر قحط بھیج دیا جو کھیتیاں نہ اگنے کی صورت میں ظاہر ہوا اور پھلوں میں بھی کمی فرما دی جسے و نقصٍ من الثمرات سے تعبیر فرمایا۔ ان کی کھیتیوں کی پیداوار بھی گئی اور باغوں میں جو پھل پیدا ہوتے تھے ان میں بھی خوب کمی آگئی۔ ان کو اس میں اس لیے مبتلا فرمایا کہ نصیحت حاصل کرلیں اور عبرت لیں۔ سختی کی بجائے قلب نرم ہونے چاہئیں۔ انہیں کفر سے توبہ کرنا اور ایمان قبول کرنا تھا لیکن وہ الٹی ہی چال چلے اور وہ یہ کہ جب خوشحالی ہوتی تو کہتے تھے کہ ہم تو اسی کے مستحق ہیں۔ ہم اس لائق ہیں کہ ہمارا یہی حال ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام سمجھ کر شکر گزار ہونے کے بجائے اپناہی کمال سمجھتے تھے کہ ہم تو خوشحالی کے اور آرام و راحت کے مستحق ہیں اور اسی کے لائق ہیں۔ اب یہ جو مصیبت آئی ہے یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی نحوست ہے۔ ان کی نحوست کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں پھنس گئے اپنے کفر اور نا شکری کو مصیبتوں کا سبب سمجھنے کے بجائے صالحین اور شاکرین اور ذاکرین کے وجود کو اور ان کی دعوت توحید کو اور ان کے اعمال صالحہ کو مصیبت آنے کا سبب بتاتے تھے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا : (اَلَآ اِنَّمَا طآءِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ ) (خبر دار ان کی نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے) یعنی اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے اسباب اور مسببات کا علم ہے اور جو کچھ مخلوق کو پیش آتا ہے۔ اللہ کی قضاء و قدر سے ہے اور اسی کی طرف سے ہے اسباب کے اعتبار سے یہ نحوست ان کو اس لیے در پیش ہوئی کہ وہ کفر پر جمے ہوئے ہیں (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قوم فرعون کے بعض افراد سمجھتے تو تھے کہ یہ مصیبت کفر کی وجہ سے ہے لیکن اکثریت سے مغلوب تھے۔ نہ حق بات کہہ سکتے تھے اور نہ حق قبول کرتے تھے۔ قوم فرعون کا یہ طریقہ تھا کہ نہ صرف آیات اور معجزات کو دیکھ کر ایمان قبول نہیں کرتے تھے بلکہ جو بھی کوئی معجزہ سامنے آتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ یہ تمہارا دھندہ جادو ہے تمہارے جادو کے ذریعہ ایسی چیزیں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ تم کچھ بھی کرلو ہم تمہاری تصدیق کرنے والے نہیں ہیں۔ اس کے بعد مزید عذابوں کا تذکرہ فرمایا جن کے ذریعہ قوم فرعون کی گرفت ہوئی۔
Ayahs 7:131–133

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب آجاتی ان کے پاس خوشحالی تو کہتے تھے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونی ہی چاہئے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پہنچ جاتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نحوست بتاتے تھے۔ خبر دار ان کی نحوست اللہ کے علم میں ہے لیکن ان میں بہت سے لوگ نہیں جانتے،

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور وہ کہنے لگے کہ جب کبھی بھی کوئی نشانی ہمارے سامنے لائے گا تاکہ تو اس کے ذریعہ ہم پر جادو کرے سو ہم تیری تصدیق کرنے والے نہیں ہیں۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

سو ہم نے ان پر طوفان بھیج دیا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، یہ نشانیاں تھیں کھلی ہوئی۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب آنا اور ایمان کے وعدے کر کے پھرجانا فرعون اور قوم فرعون جب برابر بغاوت اور سر کشی پر جمے رہے بلکہ عناد اور طغیانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور ان پر قحط بھیج کر جو تنبیہ کے لیے اور سر کشی کی سزا کے طور پر ایسی چیزیں بھیج دیں جو ان کے لیے و بال بن گئیں۔ اَلطُّوْفَان اور اَلْجَرَاد اور اَلْقُمَّلَ اور الضَّفَادِعَ اور الدَّمَ فرما کر ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا، لفظ الطُّوْفَانَ فُعلان کے وزن پر ہے اور یہ عام طور سے پانی کے سیلاب کے لیے مستعمل ہوتا ہے اگر یہی معنی لیے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ قوم فرعون کی کھیتیوں اور رہنے کی جگہوں میں سیلاب بھیجے جس کی وجہ سے وہ لوگ سخت عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ طوفان سے کیا مراد ہے ؟ صاحب روح المعانی (ص 33 ج 8) لکھتے ہیں کہ لفظ طوفان پانی کے طوفان کے لیے مشہور ہے اور جس طوفان کا یہاں ذکر ہے اس کی تفسیر متعدد روایات میں جو حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہیں پانی کے طوفان ہی سے کی گئی ہے اور حضرت عطا اور مجاہد نے فرمایا کہ اس سے موت مراد ہے، مفسر ابن جریر نے حضرت عائشہ ؓ سے مرفوعاً اس کی روایت کی ہے۔ اگر یہی روایت لی جائے تو معنی یہ ہوگا کہ ان لوگوں میں وباء کے طور پر موت کی کثرت ہوگئی۔ وھب بن منبہ سے منقول ہے کہ اہل یمن کی لغت میں طوفان بمعنی طاعون آتا ہے۔ اور حضرت ابو قلابہ نے فرمایا کہ اس سے چیچک مراد ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ چیچک کا عذاب سب سے پہلے انہی لوگوں پر آیا تھا، یہ دونوں قول بھی کثرت موت ہی کی طرف راجع ہیں جسے حضرت عطا اور مجاہد نے اختیار فرمایا۔ ٹڈی اللہ کا لشکر ہے : و الجراد یہ جرادۃ کی جمع ہے جو عربی زبان میں ٹڈی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ٹڈی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اکثر جنود اللہ تعالیٰ لا اکلہ و لا احرمہ یعنی یہ اللہ کے لشکروں میں تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہے میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ حرام قرار دیتا ہوں، اخرجہ ابو داود فی کتاب الاطعمۃ (باب فی اکل الجراد) و ابن ماجہ فی کتاب الصید (باب صید الحیتان و الجراد) مطلب یہ ہے کہ (اللہ کے لشکروں) میں تعداد کے اعتبار سے زیادہ ٹڈی والا لشکر ہے میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ حرام قرار دیتا ہوں۔ اس کے کھانے سے چونکہ لشکر میں کمی آتی ہے اس لیے خود کھانا پسند نہیں کرتا دوسروں کو منع نہیں کرتا۔ واقعی ٹڈی بہت بڑا لشکر ہے۔ بظاہر زمین پر نظر نہیں آتا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے اس لشکر کو بھیج دیتا ہے تو میلوں تک یہ لشکر کھیتوں کو صاف کردیتا ہے اور کسی فوج اور لشکر کے قابو میں نہیں آتا۔ بھگانے سے بھاگتا نہیں اور ختم کرنے سے ختم ہوتا نہیں، سڑکوں اور گھروں میں پہنچ جائے تو سب کے لیے آفت جان بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس لشکر کے ذریعہ فرعونیوں کی سرکوبی فرمائی اور ان کو بہت بڑی مصیبت میں مبتلا فرمایا۔ قمل کی تفسیر : وَالْقُمَّلَ ، یہ لفظ عام طور سے جوؤں کے معنی میں معروف ہے (کما ذکر المنجد فی القاموس) لیکن صاحب روح المعانی نے مفسرین سے اس کے مصداق میں چند قول لکھے ہیں۔ اول یہ کہ اس سے چھوٹی چھوٹی ٹڈی مراد ہے جس کے ابھی پر نہ آئے ہوں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ چھوٹے چھوٹے کیڑے مراد ہیں جو اونٹ اور دیگر جانوروں کے جسم میں ہوجاتے ہیں۔ یہ کیڑے فرعونیوں کے جسموں میں ہوگئے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے چھوٹی چھوٹی چونٹیاں مراد ہیں، اور حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ اس سے وہ چھوٹے چھوٹے کیڑے مراد ہیں جو گیہوں کے دانوں میں پڑجاتے ہیں۔ (اوپر ترجمہ میں جو گھن کا کیڑا مذکور ہے یہ ترجمہ اس قول کے موافق ہے) ۔ مینڈکوں کا عذاب : (وَ الضَّفَادِعَ ) یہ ضفدع کی جمع ہے۔ عربی میں ضفدع مینڈک کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی سزا کے لیے کثیر تعداد میں مینڈک بھیج دیئے تھے۔ ان کے برتنوں میں اور گھروں کے سامان میں اور گھر کے باہر میدانوں میں مینڈک بھر گئے۔ جو بھی برتن کھولتے اس میں مینڈک پاتے۔ ان کی ہانڈیوں میں بھی مینڈک بھر گئے تھے۔ جب بھی کھانا کھانے لگتے تو مینڈک موجود ہوجاتے۔ آٹا گوندھنے بیٹھتے تو اس میں مینڈک بھر جاتے۔ خون کا عذاب : (وَالدَّمَ ) دم عربی زبان میں خون کو کہا جاتا ہے قوم فرعون پر خون کا عذاب بھی آیا تھا۔ نیل خون سے بھرا ہوا دریا ہوگیا اور ان کے پینے کھانے پکانے کے جو پانی تھے وہ بھی سب خون ہی خون ہوگئے۔ جب کسی برتن سے فرعونی قوم کا آدمی پانی لیتا تو خون نکلتا اور اسی برتن سے اسی وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا کوئی فرد پانی لیتا تو پانی ہی نکلتا۔ (اٰیَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ ) (یہ کھلی کھلی نشانیاں تھیں) جن سے صاف ظاہر تھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہے جادو نہیں ہے۔ حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ یہ نو نشانیاں تھیں جو نو سال میں ظاہر ہوئیں ہر سال میں ایک نشانی ظاہر ہوتی تھی (آیت مذکورہ بالا میں پانچ عذاب مذکور ہیں) بعض روایات میں ہے کہ جادو گروں کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم فرعون کے پاس 20 سال رہے اور برابر اس قسم کی چیزیں پیش آتی رہتی تھیں جو قوم فرعون کے لیے عذاب اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے معجزہ ہوتی تھیں۔ (فَاسْتَکْبَرُوْا وَ کَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ) (یوں ان لوگوں نے تکبر کی راہ اختیار کی اور ایمان قبول نہ کیا) ایمان قبول کرنے میں اپنی خفت محسوس کی اور کفر پر جمے رہے۔ یہ لوگ مجرمین تھے۔ ان کو ایمان قبول کرنا ہی نہ تھا۔
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور ان پر جو عذاب واقع ہوتا تو کہتے تھے کہ اے موسیٰ اپنے رب سے اس بات کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تو نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم ضرور تیری تصدیق کریں گے اور تیرے ساتھ ضرور بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے،

اس کے بعد فرمایا (وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ ) (الاٰیۃ) ۔ اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو کہنے لگے کہ اے موسیٰ اپنے رب سے اس بات کی دعاء کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کیا ہے اور وہ یہ کہ جب آپ دعاء کریں گے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا اور مصیبت دور فرمائے گا۔ (لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرْسَلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) (اگر تو نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم تیری تصدیق کریں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے) ۔ صاحب روح المعانی نے حضرت حسن، قتادہ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اس میں انہی عذابوں کا تذکرہ ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا عذابوں میں سے جو بھی عذاب ان پر آتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم اپنے رب سے دعا کر کے اسے ہٹا دو اگر تم نے ایسا کردیا تو ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دیں گے لیکن جب ایک عذاب ہٹ جاتا اور مطمئن ہوجاتے تو کہتے ہم تو ایمان نہیں لاتے اور ہر عذاب کو جادو بتا دیتے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ الرِّجْزَ سے مستقل عذاب مراد ہے جو طاعون کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ بہر حال قوم فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس شرط پر اسلام لانے کا وعدہ کیا کہ عذاب رفع ہوجائے لیکن رفع ہوجانے کے بعد ایمان نہ لاتے۔ قال تعالیٰ (فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمُ الرِّجْزَ الآی اَجَلٍ ھُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ ) (پھر جب ہم نے عذاب کو اس مدت تک ہٹا دیا جس مدت تک وہ پہنچنے والے تھے تو اچانک وہ عہد کو توڑ رہے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ الی اجلٍ سے ان کے غرق کرنے کا وقت مراد ہے جو اللہ کے علم میں متعین تھا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے موت کا وقت مراد ہے۔ قوم فرعون نے کسی عہد کو پورا نہ کیا اور کفر پر جمے رہے۔
Ayahs 7:135–136

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے عذاب کو ایک مدت تک ہٹا دیتے جس مدت تک ان کو پہنچنا تھا تو وہ اس وقت عہد شکنی کردیتے تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے انتقام لے لیا سو ان کو اس سبب سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا سمندر میں غرق کردیا، اور وہ ان سے غافل تھے۔

(فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ ) (پھر ہم نے ان سے انتقام لیا سو ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا) ۔ (بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا) (اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا) (وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ) (اور وہ لوگ ان سے غافل تھے) یعنی جو نشانیاں ان کے پاس آتی تھیں ان سے غفلت برتتے تھے اور ان کے ساتھ بےپرواہی کا معاملہ کرتے تھے نہ فکر مند ہوتے نہ نصیحت حاصل کرتے۔ بنی اسرائیل کے نجات پانے اور قوم کے غرق ہونے کا تذکرہ ( سورة بقرہ رکوع 6) میں گزر چکا ہے نیز سورة شعراء (رکوع 4) اور سورة قصص (رکوع 1) اور سورة دخان (رکوع 1) میں بھی مذکور ہے اور سورة شعراء میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو زمین کے مشارق اور مغارب کا وارث بنا دیا جو ضعیف شمار کیے جاتے تھے۔ اور آپ کے رب کی نیک بات بنی اسرائیل پر پوری ہوگئی۔ اس سبب سے کہ انہوں نے صبر کیا۔ اور ہم نے برباد کردیا ان کار روائیوں کو جو فرعون اور اس کی قوم کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اور جو کچھ وہ اونچی عمارتیں بنایا کرتے تھے۔

بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہونا : قوم فرعون کی ہلاکت کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا) کہ جن لوگوں کے ساتھ ضعف اور کمزوروں کا معاملہ کیا جاتا تھا (یعنی بنی اسرائیل جنہیں قوم فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور وہ اس حد تک مقہور تھے کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا جاتا تھا) ان کو اس سر زمین کے مشارق اور مغارب کا وارث بنا دیا جن میں ہم نے برکت دی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے شام کی سر زمین مراد ہے۔ فرعون کی گرفت سے نجات پا کر سمندر پار کرنے کے بعد وہ ملک شام آگئے اگرچہ میدان تیہ میں چالیس سال گم گشتہ راہ ہو کر پھرتے رہے۔ لیکن پھر چالیس سال کے بعد انہیں اس سر زمین میں تمکن اور اقتدار حاصل ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی اللہ پاک نے جو وعدہ فرمایا تھا۔ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ وہ پورا فرما دیا۔ وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی (اور تیرے رب کی نیک بات پوری ہوگئی) یعنی جو ان کی نصرت کا وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا جس میں تمکین فی الارض بھی داخل ہے جس کا ذکر سورة قصص کے پہلے رکوع میں ہے (وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَءِمَّۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ) مزید فرمایا (بِمَا صَبَرُوْا) یعنی بنی اسرائیل کو جو سر زمین عطا کی گئی اور نصرت اور تمکین کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پورا ہوا یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے مصیبتوں پر صبر کیا اور تکلیفوں کو جھیلا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص بےصبری کے ساتھ مصیبت کا مقابلہ کرے اللہ تعالیٰ اسے بےصبری ہی کی طرف سپرد فرما دیتا ہے اور جو شخص صبر کے ساتھ مصیبت کا مقابلہ کرے اللہ تعالیٰ اسے چھٹکارہ دینے کا ضامن بن جاتا ہے) یعرشون کی تفسیر : (ودَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُہٗ وَ مَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ) (اور ہم نے برباد کردیا ان کار روائیوں کو جو فرعون اور اس کی قوم کیا کرتے تھے اور جو اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے) (مَا کَانَ یَصْنَعُ ) اور (وَ مَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ) سے عمارات اور محلات و قصور مراد ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ما کان یصنع سے فرعون اور اس کی قوم کے اعمال بد مراد ہوں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو زک دینے کے لیے اختیار کرتے تھے اور (وَ مَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ) سے بلند عمارات مراد ہوں۔ بلند عمارت میں وہ قصر بھی شامل ہے جس کے بنانے کا فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کا پتہ چلاؤنگا۔ (کما ذکر تعالیٰ شانہٗ من قول فرعون) (یَاھَامَانُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ ) (سورۃ غافر) فائدہ : (الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا) سر زمین شام کے لیے فرمایا اس سر زمین کو برکتوں سے نواز نے کا تذکرہ قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی ہے۔ سورة بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں مسجد اقصیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ ) اور سورة الانبیاء میں فرمایا (وَ نَجَّیْنٰہُ وَ لُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ )
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا سو وہ ایک ایسی قوم پر آئے جو اپنے بتوں پر دھرنا دیئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے اے موسیٰ ہمارے لیے معبود تجویز کردیجیے جیسا کہ ان کے معبود ہیں۔ انہوں نے کہا بیشک تم ایسے لوگ ہو جو جہالت کی باتیں کرتے ہو

سمندر سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا بت پرست بننے کی خواہش کرنا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کو جھڑکنا گزشتہ آیات میں فرعونیوں کے دنیاوی عذابوں اور ان کی ضد وعناد اور بالآخر ان کے غرق ہونے کا تذکرہ تھا، ان آیات میں بنی اسرائیل کی نا شکری اور کج روی کا اور اس مظلومیت کا ذکر ہے جس میں یہ لوگ مصر کے زمانہ میں مبتلا تھے۔ جب یہ لوگ سمندر پار ہوگئے اور فرعون اور اس کے لشکروں کو اپنی نظر سے ڈوبتا ہوا دیکھ لیا تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا لازم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور زیادہ پختگی کے ساتھ جمتے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت میں مشغول رہتے اور توحید کی دعوت جو برسہا برس سے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ کانوں میں پڑ رہی تھی اس کو دل میں جماتے اور پورے رسوخ کے ساتھ موحد بنتے۔ لیکن انہوں نے عجیب رویہ اختیار کیا۔ جب سمندر سے پار ہو کر آگے بڑھے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بتوں کی پرستش میں مشغول ہیں اور وہیں دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود تجویز کر دو جو ہمارے سامنے مجسمہ کی صورت میں ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہو ان کے یہ معبود باطل ہیں ان کا شغل تباہ ہونے والا ہے اور جو عمل کر رہے ہیں وہ باطل ہیں کیونکہ یہ شرک ہے شرک کو تو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا۔ مشرکوں کی کیوں ریس کرتے ہو، تم توحید پر جمے رہو، تمہیں معبود حقیقی کی عبادت کی تلقین کی گئی ہے جو مجسم ہو کر سامنے نہیں آسکتا۔ کیا اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود تجویز کر دوں جس نے تمہیں تمہارے زمانہ کے جہانوں پر فضیلت دی ؟ اب تم ایسی بےوقوفی کی باتیں کرتے ہو کہ اسی رب العالمین جل مجدہ کے ساتھ پتھروں کو شریک بنانے کو تیار ہو۔
Ayahs 7:139–141

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ جس شغل میں ہیں وہ تباہ ہونے والا ہے۔ اور یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ باطل ہے۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کسی کو معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں جہانوں پر فضیلت دی،

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے جو تمہیں بری تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو بکثرت قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش ہے

فرعون سے نجات دینا بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے : (وَ اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب فرما کر ان بد ترین تکلیفوں کی یاد دہانی فرمائی جو فرعونیوں کی طرف سے بنی اسرائیل کو پہنچا کرتی تھیں۔ یہ آیت تھوڑے سے اختلاف الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ (رکوع 7) میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) وہاں اس کی تفصیل اور تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ وہاں یذبحون فرمایا اور یہاں یقتلون فرمایا ہے یہ لفظ کثرت قتل پر دلالت کرتا ہے اسی لیے ترجمہ یوں لکھا ہے کہ تمہارے بیٹوں کو کثرت کے ساتھ قتل کرتے تھے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتوں کے ذریعہ ان کی تکمیل کردی، اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم میرے بعد میری قوم میں میرے خلیفہ بن کر رہنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدین کی راہ کا اتباع نہ کرنا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر تشریف لے جانا اور وہاں چالیس راتیں گزارنا مصر میں بنی اسرائیل بہت ہی زیادہ مقہور اور مجبور تھے وہاں ان کو حکم تھا کہ ایمان لائیں اور گھروں میں نماز پڑھ لیا کریں۔ جب فرعونیوں سے نجات پا گئے تو اب عمل کرنے اور احکام خداوندیہ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے شریعت کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف دینے کے لیے طور پہاڑ پر بلایا اور وہاں تیس دن اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم دیا لیکن تیس راتیں گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مسواک کرلی جس سے وہ خاص قسم کی مہک جاتی رہی جو روزہ دار کے منہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مزید دس راتیں وہیں گزارنے کا حکم دیا۔ جب چالیس راتیں پوری ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں توریت شریف عطا فرما دی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جانے کے لیے روانہ ہونے لگے تو اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میرے پیچھے بنی اسرائیل کی دیکھ بھال کرنا اور ان کی اصلاح کرتے رہنا اور ان میں جو مفسد ہیں ان کا اتباع نہ کرنا یعنی ان کی رائے پر مت چلنا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی نبی تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت سے سر فراز فرمایا تھا۔ وہ خود بھی اپنی پیغمبرانہ ذمہ داری کو پورا کرنے والے تھے لیکن قوم کے مزاج اور طبیعت کی کجروی کو دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مزید تاکید فرمائی۔ جب دریا پار ہوئے تھے تو بنی اسرائیل نے ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایسا معبود بنا دو ۔ اب خطرہ تھا کہ اس طرح کی کوئی اور حرکت نہ کر بیٹھیں اس لیے ان کی نگرانی کے لیے تاکید فرمائی۔ آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ ان میں ایک شخص سامری تھا اس نے زیورات کا ایک بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل نے اسے معبود بنا لیا، جیسا کہ چند آیات کے بعد یہاں سورة اعراف میں آ رہا ہے اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ (انوار البیان ج 1) نیز سورة طہٰ میں بھی مذکور ہے۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں، فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، سو اگر پہاڑ اپنی جگہ بر قرار رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو پہاڑ کو چورا کردیا۔ اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے، پھر جب ان کو ہوش آیا تو کہنے لگے آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اور میں ایمان لانے والوں میں پہلا شخص ہوں۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دیدار الٰہی کے لیے درخواست کرنا اور پہاڑ کا چورا چورا ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے طور پر جانے کا جو وقت مقرر ہوا تھا وہ اس کے مطابق وہاں پہنچے، حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ان راتوں کی ابتداء ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے تھی پھر مزید دس راتیں ماہ ذی الحجہ کے شروع کی بڑھا دی گئیں اور دس ذی الحجہ کو توریت شریف عطا کی گئی۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچے تو اللہ رب العزت جل مجدہ سے ہم کلامی ہوئی اور اس کے بعد ان کو اشتیاق ہوا کہ اپنے رب کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھیں، لہٰذا درخواست پیش کردی کہ اے رب مجھے اپنے دیدار کرا دیجیے، میں آپ کی ذات پر یقین رکھتا ہوں اور ہم کلام بھی ہوا ہوں اب یہ چاہتا ہوں کہ دیدار بھی کرلوں، اللہ تعالیٰ شانہٗ کو اہل جنت دیکھیں گے۔ جن میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوں گے اور ان کی امتیں بھی ہوں گی۔ لیکن دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوسکتا۔ جنت میں جو قوت اور طاقت برداشت دی جائے گی وہ دنیا میں نہیں دی گئی۔ اسی لیے سورة انعام میں فرمایا (لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ) حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن پانچ باتیں بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا۔ (1) بیشک اللہ نہیں سوتا اور اس کے شایان شان نہیں کہ وہ سوئے۔ (2) وہ ترازو کو بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے (یعنی اعمال کا وزن فرماتا ہے۔ جن کا وزن کمال اور نقص اور اخلاص کے اعتبار سے کم و بیش ہوتا ہے) (3) اس کی طرف دن کے اعمال سے پہلے رات کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔ (4) اور رات کے اعمال سے پہلے دن کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔ (5) اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کی ذات گرامی کے انوار اس سب کو جلا دیں جہاں تک مخلوق پر اس کی نظر پہنچتی ہے (یعنی ساری مخلوق جل کر ختم ہوجائے) ۔ (رواہ مسلم ص 99 ج 1) مطلب یہ ہے کہ مخلوق کے چھینے چھپانے کے لیے مادی پردے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا پردہ نہیں، اس کا پردہ عزت و جلال کا پردہ ہے اگر اس کی ذات عالی کی تجلی ہوجائے تو ساری مخلوق جل کر رہ جائے (قال النووی و التقدیر لو ازال المانع من رؤیتہ و ھو الحجاب المسمی نورا او نار و تجلی لخلقہ لاحرق جلال ذاتہ جمیع مخلوقاتہ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 1 ھ) (علامہ نووی (رح) فرماتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے رکاوٹ ہٹ جائے اور وہ پردہ ہے جسے نور یا نار کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے تو اس کی ذات کا جلال تمام مخلوقات کو جلا دے ) ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن تم ایسا کرو کہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر پہاڑ اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو تم مجھے دیکھ سکو گے، انہوں نے پہاڑ کی طرف دیکھا۔ جب پہاڑ پر اللہ جل شانہٗ کی تجلی ہوئی جو اس کی شایان شان تھی تو پہاڑ چورا چورا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گرپڑے۔ جب ہوش آیا (بیہوشی میں کتنا وقت گزرا اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے) تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے واقعی تو اس دنیا میں دیکھے جانے سے منزہ اور برتر وبالا ہے۔ میں نے جو دیدار کی درخواست کی تھی اس سے توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلے اس بات کا یقین کرنے والا ہوں کہ واقعی آپ کا دیدار نہیں ہوسکتا۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میں نے تمہیں لوگوں کے مقابلہ میں پیغمبری اور ہم کلامی کے ساتھ چن لیا (یعنی جو لوگ تمہارے زمانہ میں موجود ہیں ان کے مقابلہ میں تمہیں یہ شرف عطا فرمایا) لہٰذا جو کچھ میں نے تمہیں عطا کیا اس کو لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ۔
Ayahs 7:144–145

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا، اے موسیٰ بلاشبہ میں نے اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے ساتھ لوگوں کے مقابلہ میں تمہیں چن لیا، سو میں نے تمہیں جو کچھ دیا ہے وہ لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کے لیے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، سو آپ قوت کے ساتھ اسے پکڑیں اور اپنی قوم کو حکم دیں کہ اس کے اچھے اچھے اعمال کو پکڑے رہیں۔ عنقریب تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتیں گزر جانے کے بعد توریت شریف عطا فرمائی جو تختیوں میں لکھی ہوئی تھی اس میں احکام شرعیہ تفصیل سے لکھے ہوئے تھے اور ہر طرح کی نصیحتیں بھی تھیں۔ حلال و حرام کو واضح طریقہ پر بیان فرما دیا تھا۔ اور محاسن و مساوی (اچھے برے کاموں) کو تفصیل سے بتادیا تھا۔ اسی کو فرمایا (وَ کَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) کتاب عطا فرمانے کے ساتھ فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ بھی فرمایا کہ اسے قوت اور مضبوطی کے ساتھ لے لو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِھَا) اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ اس کے احکام کو پکڑے رہیں جو اچھے اچھے کام ہیں۔ قال صاحب الروح (ص 59 ج 9) و معنی احسنھا اشتمالھا علی الاحسن فانہ احسن کالصبر بالاضافۃ الی الانتصار) (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں احکام کے احسن ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ نیکی پر مشتمل ہوں پھر وہ اپنے کرنے والے کے انتصار کی بناء پر احسن بنتے ہیں) ۔ (سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ) (میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا) نافرمانوں کے گھر سے کیا مراد ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے مصر مراد ہے جہاں بنی اسرائیل کو (ایک قول کی بناء پر) فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد جانا نصیب ہوا تھا اور بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس سے جبابرہ عمالقہ کی سر زمین مراد ہے جس کے بارے میں سورة مائدہ میں فرمایا : (یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ ) (الآیہ) ۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل عمالقہ کی سر زمین میں داخل ہوگئے اور وہاں انہیں اقتدار حاصل ہوا۔ یہ علاقہ فلسطین کا تھا جو شام میں ہے۔ صاحب روح المعانی نے دار الفاسقین کی تفسیر میں تیسرا قول بھی لکھا ہے اور وہ یہ کہ اس سے عاد وثمود کے منازل اور ان قوموں کے مساکن مراد ہیں جو ان سے پہلے ہلاک ہوچکے تھے۔ اور چوتھا قول حضرت حسن اور حضرت عطا سے یوں نقل کیا ہے کہ دار الفاسقین سے جہنم مراد ہے۔ اور اگر یہ معنی لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ توریت کے احکام پر عمل کرو۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو گے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب)
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں عنقریب اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ ساری نشانیاں دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا طریقہ بنا لیں۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔

جب توریت شریف تختیوں پر لکھی ہوئی یکجا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مل گئی تو آپ ان تختیوں کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائے۔ قوم کا مزاج عجیب تھا۔ اطاعت اور فرمانبر داری سے دور تھے اس لیے (سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ) کے بعد مزید یوں فرمایا کہ (سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (کہ میں اپنی آیات سے ایسے لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو دنیا میں شرعی احکام پر عمل کرنے سے تکبر کرتے ہیں اور ان کا یہ تکبر ناحق ہے) ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیات سے برگشتہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جائے گی وہ آیات میں تفکر نہ کریں گے اور تکبر و تجبر کی وجہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کریں گے ان کے بر گشتہ ہونے اور برگشتہ رہنے کا سبب ان کا تکبر ہے یہ لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے آیات الٰہیہ سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ و ھٰذا قولہ تعالیٰ (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ) اس کے بعد متکبرین کی مزید بد حالی بیان فرمائی۔ (وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِھَا) (اور اگر ہر نشانی کو دیکھ لیں خواہ انبیاء کے معجزات ہوں یا آیات تکوینیہ ہوں۔ وہ ایمان نہیں لاتے) (وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا) (اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھتے ہیں تو اس راستے کو اختیار نہیں کرتے) (وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا) اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھتے ہیں تو اسے اختیار کرلیتے ہیں اور اسی پر چلتے ہیں) اس میں متکبرین کو نصیحت ہے کہ وہ تکبر پر رہتے ہوئے آیات الٰہیہ سے منتفع نہ ہو سکیں گے اور ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی میں لگے رہیں گے۔ پھر فرمایا (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ) (کہ ان لوگوں کا تکبر کرنا اور آیات پر ایمان لانا اور راہ ہدایت سے اعراض کرنا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان آیات کی طرف سے غافل رہے) لاپرواہی اختیار کی اور ان آیات میں تفکر نہ کیا اور تدبر سے کام نہ لیا۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال اکارت ہوگئے۔ ان کو انہیں اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔

آخر میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ) (جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا۔ یعنی آخرت پر ایمان نہ لائے ان کے اعمال اکارت ہوگئے) ۔ دنیا میں جو کام کیے آخرت میں بالکل کام نہ آئیں گے اگرچہ بظاہر نیک کام تھے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنی دنیا بنانے اور دنیاوی ترقی کرنے کے لیے جو کچھ کیا وہ سب برباد ہوگیا کیونکہ آخرت میں یہ چیزیں بالکل کام نہ آئیں گی۔ (ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (ان کو ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا) کفر پر اڑے رہے اس کا بدلہ دائمی عذاب کی صورت میں مل جائے گا۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا جو ایک ایسا جسم تھا کہ اس میں سے گائے کی آواز آرہی تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا اور نہ انہیں کوئی راستہ بتلاتا ہے۔ انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظلم کرنے والے تھے۔

بنی اسرائیل کا زیوروں سے بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کرنا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غضبناک ہونا بنی اسرائیل مصر میں بت پرستی اور گاؤ پرستی دیکھتے آئے تھے اسی لیے جب سمندر پار کر کے مصر کے علاوہ دوسرے علاقہ میں آئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی اسی طرح کا معبود بنا دیجیے جو مجسم ہو صورت و شکل ہمارے سامنے ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لیے طور پر تشریف لے گئے تو ان کے پیچھے گؤ سالہ پرستی شروع کردی جس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلنے والے تھے اس وقت انہوں نے قبطی قوم سے (جو مصر کے اصلی باشندے تھے) زیور مانگ لیے تھے۔ یہ زیورات ان لوگوں کے پاس تھے۔ ان میں سے ایک آدمی سامری تھا جو سنار کا کام کرتا تھا۔ اس نے ان زیوروں کو جمع کر کے بچھڑے کی شکل بنا لی اور اس کے منہ میں مٹی ڈال دی (یہ مٹی وہ مٹی تھی جو اس نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے نکالی تھی) اللہ تعالیٰ نے اس مٹی میں ایسا اثر ڈالا کہ اس مجسمہ سے گائے کے بچے کی آواز آنے لگی۔ یہ لوگ شرک سے مانوس تو تھے ہی۔ کہنے لگے (ھٰذَا اِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ) (کہ یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے سو وہ بھول گئے جو طور پر معبود سے ہم کلام ہونے کے لیے گئے ہیں) حضرت ہارون (علیہ السلام) جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خلیفہ بنا کر تشریف لے گئے تھے۔ انہوں نے ان کو سمجھایا کہ تم فتنے میں پڑگئے ہو، تمہارا رب رحمن ہے تم میرا اتباع کرو اور میرا حکم مانو۔ اس پر بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم برابر اس بچھڑے کے آگے پیچھے لگے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل سے اور سامری سے سوال و جواب فرمانا سورة طہٰ رکوع 4، 5 میں مذکور ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ جل شانہٗ سے پہلے ہی مطلع فرما دیا تھا کہ تمہاری قوم تمہارے بعد گمراہی میں پڑگئی ہے اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف کی تختیاں لے کر تشریف لائے اور گاؤ سالہ پرستی کا منظر دیکھا تو بہت سخت غضبناک اور رنجیدہ ہوئے اور فرمایا (بِءْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ ) (کہ میرے بعد تم نے میری بری نیابت کی) (اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ) کیا تم نے اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کی۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ پچھتائے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ بلاشبہ وہ گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہمیں بخش نہ دے تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے۔

بنی اسرائیل کا نادم ہونا اور توبہ کرنا : (وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا) (الآیۃ) جن لوگوں نے گؤ سالہ پرستی کرلی تھی انہیں اپنی گمراہی کا احساس ہوا اور توبہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس میں سب سے بڑا دخل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دار وگیر اور سختی کا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو ان کے تشریف لانے سے ہی اپنی گمراہی کا احساس ہوگیا ہو۔ یہ لوگ کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہماری بخشش نہ فرمائے تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ لیکن ان کی توبہ کی قبولیت کے لیے اللہ پاک کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا کہ اپنی جانوں کو قتل کریں۔ جیسا کہ سورة بقرہ (رکوع 6) کی آیت (وَ اِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ باتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ ) کے ذیل میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے (انوار البیان جلد 1) ان کی توبہ کی صورت میں یہ تجویز ہوئی تھی کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی وہ ان کو قتل کریں جنہیں نے یہ حرکت کی تھی چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف اس حال میں واپس ہوئے کہ وہ غصہ میں اور رنج میں تھے تو انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے میرے بعد میری بری نیابت کی۔ کیا اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے تم نے جلدی کرلی ؟ اور موسیٰ نے تختیوں کو ڈال دیا اور بھائی کے سر کو پکڑ لیا جسے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے میرے ماں جائے بلاشبہ قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں، لہٰذا مجھ پر دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور مجھے ظالموں میں شمار نہ کرو۔

(وَ اَلْقَی الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا بھی مواخذہ فرمایا توحید کے خلاف جو منظر دیکھا تو غیرت دینی کے جوش میں توریت شریف کی تختیاں ایک طرف کو ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیے۔ انہیں یہ گمان ہوا کہ ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی تعلیم میں کوتاہی کی، سورة طہٰ میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی پکڑنے کا بھی ذکر ہے۔ توریت تشریف کی تختیوں کا ڈالنا اور بھائی کے سر کے بالوں کو پکڑنا شدت غضب کی وجہ سے پیش آیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ اے میرے ماں جائے آپ میرے سر اور ڈاڑھی کے بالوں کو نہ پکڑیں۔ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں۔ لہٰذا آپ مجھ پر سختی کر کے دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ظالموں میں شمار نہ کریں۔ (میں ان کے کام میں ان کے ساتھ نہیں ہوں، لہٰذا میرے ساتھ برتاؤ بھی وہ نہ ہونا چاہئے جو ظالموں کے ساتھ کیا جاتا ہے) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احساس ہوا کہ واقعی مجھ سے خطا ہوئی (اگرچہ خطا اجتہادی تھی) لہٰذا بار گاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے میرے رب میری مغفرت فرما دے اور میرے بھائی کی بھی اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے اور آپ ارحم الراحمین ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گاؤ سالہ پرستی دیکھ کر دینی حمیت کے جوش میں اور غضب و تاسف میں تھے اس لیے اپنے بھائی سے دارو گیر کرتے ہوئے ان کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے تھے پھر جب احساس ہوا تو اپنے لیے اور بھائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں دعا کرنے لگے۔ ظلم اور زیادتی کی معافی مانگنا : اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی پر زیادتی ہوجائے تو جہاں اس کی تلافی کا یہ طریقہ ہے کہ اس سے معافی مانگ لی جائے۔ یہ طریقہ بھی ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔ لیکن ہر حال میں اس کو راضی کرنا ضروری ہے، بعض مرتبہ اس سے معافی مانگنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ پہلے ہی دل سے معاف کرچکا ہوتا ہے اور بعض مرتبہ تعلقات کی وجہ سے نا گواری ہوتی ہی نہیں، لیکن جس کی طرف سے زیادتی ہوگئی ہو اسے پھر بھی اپنے لیے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کر دینی چاہئے۔ لیس الخبر کالمعاینۃ : امام احمد نے اپنی مسند میں (ص 271 ج 1) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خبر دیکھنے کی طرح نہیں ہے (دیکھنے سے انسان جتنا متاثر ہوتا ہے خبر سے متاثر نہیں ہوتا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (پہلے ہی) خبر دے دی تھی کہ تمہاری قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا ہے۔ اس وقت تو توریت کی تختیوں کو نہ پھینکا پھر جب اپنی آنکھ سے ان کی حرکت کو دیکھا تو تختیوں کو ڈال دیا جس کی وجہ سے ٹوٹ گئیں۔ القاء الواح پر سوال و جواب : یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا بھی احترام کرنا چاہئے تھا۔ توریت شریف کی تختیوں کو ڈال دینا ایک طرح کی سوء ادبی ہے۔ اس کے جواب میں مفسرین کرام نے دو باتیں لکھی ہیں۔ اول : یہ کہ ان تختیوں کو جلدی میں اس طرح سے رکھ دیا تھا کہ جیسے کوئی شخص کسی چیز کو ڈال دے۔ دوم : یہ کہ دینی حمیت اور شدت غضب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے بےاختیار ہوئے کہ وہ تختیاں ان کے ہاتھ سے گرپڑیں۔ اگرچہ گری تھیں بلا اختیار لیکن بےاحتیاطی کی وجہ سے اس کو القاء اختیاری کا درجہ دے دیا گیا۔ اس لیے القی الالواح سے تعبیر فرمایا۔ فان حسنات الابرار سیئات المقربین۔ (کیونکہ نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے لیے برائیاں ہیں) ۔ (من روح المعانی ص 67 ج 9) ۔
Ayahs 7:151–152

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور آپ ارحم الراحمین ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا انہیں ان کے رب کی طرف سے ضرور غصہ پہنچے گا اور ذلت پہنچے گی دنیا والی زندگی میں، اور اسی طرح ہم افتراء کرنے والوں کو سزا دیا کرتے ہیں

بچھڑے کی پرستش کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور دنیا میں ان لوگوں کی ذلت جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا اور بار گاہ الٰہی سے اپنے اور اپنے بھائی کے لیے مغفرت کا سوال پیش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی کہ انہیں عنقریب ان کے رب کی طرف سے غصہ پہنچے گا اور دنیا والی زندگی میں ذلت پہنچے گی اس غضب اور ذلت سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے کئی قول ہیں۔ حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ غضب سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ حکم ہے جس میں قبولیت توبہ کے لیے ان لوگوں کے قتل کا حکم ہوا اور ذلت سے مراد ہے ان لوگوں کا یہ اقرار کرلینا کہ واقعی ہم نے گمراہی کا کام کیا اور پھر اپنی جانوں کو قتل کے لیے پیش کردینا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ذلت سے وہ حالت اور کیفیت مراد ہے جو ان لوگوں کو اس وقت پیش آئی جبکہ اس بچھڑے کو جلایا گیا اور سمندر میں پھینک دیا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے عبادت کی تھی، اور ایک قول یہ ہے کہ ذلت سے وہ مسکنت مراد ہے جو انہیں اور ان کی اولاد کو دنیا میں پیش آتی رہی اور بحالت سفر برسوں زمین میں گھومتے رہے۔ اور عطیہ عوفی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو یہودی تھے آیت کریمہ میں ان کا ذکر ہے۔ غضب اور ذلت سے بنی نضیر کا جلا وطن کردینا اور بنی قریظہ کا قتل کیا جانا یہودیوں پر جزیہ مقرر کرنا مراد ہے اور یہ بات اس بنیاد پر کہی جاسکتی ہے کہ عہد رسالت میں جو یہودی تھے وہ اپنے آباء و اجداد کے اعمال سے بیزاری ظاہر نہیں کرتے تھے (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ ) (اور ہم اسی طرح افتراء کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں) ۔ اس سے افتراء علی اللہ مراد ہے۔ سامری اور اس کے ساتھیوں نے بچھڑے کے بارے میں جو یہ کہا تھا کہ (ھٰذَآ اِلٰھُکُمْ وَ اِلٰہُ مُوْسٰی) (یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے) یہ بہت بڑا افتراء ہے اس کی سزا سامری کو بھی دی گئی اور ان لوگوں کو بھی دی گئی جو اس کے ساتھی تھے۔ حضرت سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ ہر صاحب بد عت ذلیل ہے۔ یہ فرما کر انہوں نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ (مطلب یہ ہے کہ دین خداوندی میں جو شخص بدعت نکالے گا وہ دیر سویر ذلیل ہوگا۔ دنیا میں اس کا ظہور نہ ہوا تو آخرت میں ضرور ہی ذلیل ہوگا۔ )
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے گناہ کیے پھر ان کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بلاشبہ آپ کا رب اس توبہ کے بعد ضرور بخش دینے والا ہے مہربان ہے۔

اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے : (وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ) (الآیۃ) (اور جن لوگوں نے گناہ کے کام کیے (جن میں گؤ سالہ پرستی بھی ہے) پھر ان گناہوں کے بعد توبہ کرلی اور کفر کو چھوڑ کر ایمان لے آئے تو آپ کا رب اس توبہ کے بعد ان کو معاف فرمانے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے) ۔ واقعی پختہ توبہ کرنے کے بعد ان کی مغفرت ہوگئی۔ کفر و شرک کے بعد اسلام قبول کرنے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ اِنَّ الْاِسْلَامَ یَھْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہٗ (بےشک اسلام لانا پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے) (رواہ مسلم عن عمرو بن العاص ؓ اوپر گو بنی اسرائیل کا ذکر ہو رہا ہے لیکن آیت کے عمومی الفاظ میں ہمیشہ کے لیے توبہ کی قبولیت کا اعلان فرما دیا اور یہ بتادیا کہ اللہ غفور اور رحیم ہے۔