7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو انہوں نے ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان تختیوں میں جو لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

توریت شریف ہدایت اور رحمت تھی : پھر فرمایا (وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ) (جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوگیا تو انہوں نے توریت شریف کی تختیوں کو لے لیا) جنہیں غصہ میں ڈال دیا تھا۔ کیوں کہ مقصود تو انہیں پر عمل کرانا تھا درمیان میں مشرکین کی حالت دیکھ کر جو غصہ آگیا تھا اس کی وجہ سے تختیوں کو ڈال دیا تھا پھر ان کو اٹھا لیا تاکہ تعلیم و تبلیغ کا کام شروع کیا جائے۔ (وَ فِیْ نُسْخَتِھَا ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ ) (اور اس توریت میں جو لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت تھی اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں) ۔ اور ڈرنے والے وہی ہیں جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ و ذلک مثل قولہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ) (الآیۃ) ۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وقت معین کے لیے چن لیے پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا تو موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب اگر آپ چاہتے تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک فرما دیتے۔ کیا آپ ہمارے چند بیوقوفوں کی حرکت کے سبب ہمیں ہلاک فرماتے ہیں۔ یہ محض آپ کی طرف سے آزمائش ہے، آپ اس کے ذریعہ جس کو چاہیں گمراہی میں ڈالیں اور جس کو چاہیں ہدایت پر رکھیں۔ تو ہی ہمارا ولی ہے۔ لہٰذا ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما اور بخش دینے والوں میں تو سب سے بہتر ہے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ستر افراد کو اپنے ہمراہ لے جانا اور وہاں ان لوگوں کی موت کا واقع ہوجانا بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ بےتکی باتیں کیا کرتے تھے اور شبہات نکالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ توریت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ جو عمل کرنے کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ تم ان پر عمل کرو، تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہ ہم کیسے یقین کریں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے فرما دے کہ یہ میری کتاب ہے اور میرے احکام ہیں تو ہم مان لیں گے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی منتخب فرمائے تاکہ ان کو ہمراہ لے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام سنوائیں۔ جب یہ لوگ حاضر ہوئے اور کلام الٰہی کو سنا تو کہنے لگے ہمیں کیا معلوم کون بول رہا ہے ہم تو جب یقین کریں گے جبکہ بالکل اپنے سامنے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں۔ یہ ان کی گستاخی کی بات تھی۔ ان لوگوں کو زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہیں دھرے رہ گئے۔ جب ان لوگوں کا یہ حال ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی بیہودگی کا اور بد گمانی کا خیال آیا کہ یہ لوگ پہلے ہی سے بد گمان ہیں اب تو اور زیادہ بری بد گمانی کریں گے اور یوں کہیں گے کہ ہمارے آدمیوں کو لے جا کر وہیں ہلاک کردیا۔ لہٰذا بار گاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے میرے رب اگر آپ چاہتے تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک فرما دیتے جب آپ نے ایسا نہیں کیا (اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اس وقت ہلاک کرنا آپ کو منظور نہیں کیونکہ اس میں میری بد نامی ہے) تو آپ ان کو دو بارہ زندگی عطا فرمائیں تاکہ وہ بنی اسرائیل میں مطعون اور بد نام نہ ہوجاؤں۔ (اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَآءُ مِنَّا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں معروض پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کیا آپ چند بیوقوفوں کی حرکت سے جو ہم ہی میں سے ہیں ہمیں ہلاک فرما دیں گے۔ یعنی امید ہے کہ آپ ایسا نہ کریں گے۔ مزید عرض کیا (اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ ) کہ یہ جو واقعہ پیش آیا کہ ان لوگوں کو رجفہ یعنی زلزلہ نے اور صاعقہ یعنی بجلی کی کڑک نے (کمافی سورة البقرہ) پکڑ لیا۔ یہ آپ کی طرف سے ایک امتحان ہی ہے۔ (تُضِلُّ بِھَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ) آپ اس کے ذریعہ گمراہی میں ڈالیں جسے چاہیں اور جس کو چاہیں ہدایت پر قائم رکھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر وہ لوگ صحیح سالم اٹھ کھڑے ہوئے جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا (ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ شانہٗ سے مزید مغفرت اور رحمت طلب کرتے ہوئے عرض کیا (اَنْتَ وَ لِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا) (اے رب آپ ہمارے ولی ہیں لہٰذا ہماری مغفرت فرما دیجیے) وَارْحَمْنَا اور ہم پر رحم فرمائیے (وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ) اور آپ معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور لکھ دیجیے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عذاب میں اسے پہنچاتا ہوں جیسے چاہوں اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔ سو میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں۔

(وَ اکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ ) (اور ہمارے لیے اس دنیا میں نیک حالت پر ہونا لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی) ۔ (اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَ ) (بلاشبہ ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں) ۔ (قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ ) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ میرا عذاب ہے جسے چاہوں پہنچا دوں۔ (وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔ (فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ) سو عنقریب میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ کی رحمت اگرچہ ہر چیز کو شامل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب پر رحمت فرما سکتے ہیں اور رحمت فرماتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی رحمت جو آخرت کی نجات ہے اور عذاب دائمی سے بچا دینا ہے وہ ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی کفر و شرک اور ہر قسم کے گناہ سے بچتے ہیں (اس میں قلب اور جوارح کے سب اعمال داخل ہیں) اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (اس میں احکام متعلقہ اموال داخل ہوگئے) ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ادائے زکوٰۃ کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ بنی اسرائیل پر زکوٰۃ کی ادائیگی بہت شاق تھی یہ لوگ حب دنیا میں بہت زیادہ آگے بڑھے ہوئے تھے اس لیے مال خرچ کرنا ان کے نفسوں کے لیے بہت دشوار تھا۔ آخر میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ) اس میں یہ بتادیا کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل معتبر نہیں اور رحمت دائمہ اہل ایمان ہی کے لیے مخصوص ہے اور اس میں ان بنی اسرائیل پر تعریض بھی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور جانتے پہچانتے ہوئے آخر الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہوئے۔ اس لیے متصلاً ہی (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ) فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہودی جو اپنے کو مومن سمجھتے ہیں اور نبی امی ﷺ کا اتباع نہیں کرتے وہ اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہیں اور رحمت دائمہ کے مستحق نہیں جو آخرت میں مومنین کو نصیب ہوگی۔ فائدہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا کلام سنوانے کے لیے ساتھ لے گئے یہ کتنی مرتبہ ہوا ؟ علمائے تفسیر نے اس کے بارے میں تین مرتبہ جانا لکھا ہے۔ (اول) یہ کہ جب توریت شریف لینے کے لیے طور پر جا رہے تھے اس وقت ایک جماعت کو ہمراہ لے گئے تھے اور اس کا ثبوت سورة طہٰ کی آیت (وَ مَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی) سے ہوتا ہے۔ (دوسرے) جب بنی اسرائیل نے ان کے پیچھے بچھڑے کی عبادت کرلی تو اس وقت بار گاہ الٰہی میں معذرت پیش کرنے اور قبولیت توبہ کی درخواست کرنے کے لیے ایک جماعت کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ (تیسرے) جب ان پر توریت شریف پیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے مانیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ؟ اللہ ہم سے خود فرمائیں کہ یہ میری کتاب ہے تو ہم تسلیم کرلیں گے۔ لہٰذا ان کو تسلیم کرانے کے لیے اپنی قوم کے منتخب افراد کو ساتھ لے گئے۔ صاحب روح المعانی ص 72 ج 9 نے اس میں لمبی بحث کی ہے اس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہٗ نے سورة بقرہ کی آیت (فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) اور سورة اعراف کی یہ آیت (فَلَمَّآ اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ ) کا محل ایک ہی قرار دیا ہے۔ یعنی دونوں جگہ اسی ایک واقعہ کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ ہم اس کتاب کو اللہ کی کتاب اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک ہم اللہ کو نہ دیکھ لیں۔ ہم نے بھی انہیں کی اقتداء میں تفسیر لکھ دی ہے والعلم عنداللہ الکریم۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے : آیت بالا میں اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کا ذکر ہے اس کی رحمت سب کو شامل ہے۔ دنیا میں جو مخلوق ایک دوسرے پر رحم کھاتی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی عطا فرمودہ رحمت کا اثر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں۔ اس میں سے ایک رحمت دنیا میں اتاری ہے جو جن و انس اور چوپایوں میں اور زہریلے جانوروں میں تقسیم فرما دی۔ اسی کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے پر مہربان ہوتے ہیں اور اللہ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن کے لیے مؤخر فرما دیا ہے۔ اس دن وہ اپنی ان رحمتوں کے ذریعہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (رواہ البخاری و مسلم کمافی المشکوٰۃ ص 207) اللہ کی رحمت بڑی ہے دنیا میں ہر نیک و بد کو شامل ہے یہ اللہ ہی کی رحمت ہے کہ مومن اور کافر نیک اور بد بلکہ خدائے تعالیٰ کے منکر اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہیں آرام کی زندگی گزارتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور پہنتے ہیں اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے رحم کرے اور جس کو چاہے عذاب دے، یہ اس کی مشیت سے متعلق ہے۔ وہ کسی پر رحم کرنے یا کسی کو عذاب دینے پر مجبور نہیں ہے یعنی اس کی رحمت ماں باپ کی مامتا کی طرح نہیں ہے کہ وہ طبعی طور پر اولاد پر رحم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ صاحب روح المعانی (ص 76 ج 9) لکھتے ہیں ای شانھا اِنَّھا واسعۃ کل شی ما من مسلم و لا کافر و لا مطیع و لا عاص الا و ھو منقلب فی الدنیا بنعمتی ...... و المشیۃ معتبرۃ فی جانب الرحمۃ ایضا و عدم التصرح بھا قیل تعظیما لامر الرحمۃ و قیل للاشعار بغایۃ الظھور۔ 1 ھ (یعنی رحمت الٰہی کی شان یہ ہے کہ وہ ہر ایک کو شامل ہے خواہ کوئی مسلمان ہو یا کافر، فرمانبر دار ہو یا نافرمان البتہ دنیا میں رحمت کی شکل میں ہے اور رحمت کرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کا اعتبار ہے اور یہاں پر اس بات کی تصریح نہ کرنا رحمت الٰہی کی عظمت کے اظہار کے لیے ہے، بعض نے کہا رحمت الٰہی کے بےانتہا ظہور کی وجہ سے صراحت نہیں کی) ۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

جو لوگ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے پاس توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیں اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور خبیث چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتے ہیں، اور وہ طوق ہٹاتے ہیں جو ان پر تھے۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور ان کی تکریم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور کا اتباع کیا جو ان کے ساتھ اتارا گیا یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

بنی اُمّی ﷺ کا ذکر یہود و نصاریٰ توریت و انجیل میں پاتے ہیں یہ آیت سابقہ کے آخری جملہ (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ) سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دائمی رحمت کے مستحق متقی اور اہل ایمان ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں جو اہل ایمان تھے اور اب جو اہل ایمان ہیں ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ رحمت دائمہ لکھ دے گا، اب اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو نبی امی آخر الانبیاء ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں جو لوگ ان کی رسالت اور نبوت کے منکر ہیں وہ کیسا ہی ایمان کا دعویٰ کریں اللہ کے نزدیک ان کا ایمان معتبر نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور نبی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ آپ امی ہیں۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول بھی ہیں اور اللہ کے نبی بھی ہیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے مستقل کتاب اور شریعت لے کر آیا ہو۔ اور نبی کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبر پر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ مستقل کتاب یا شریعت نہ ہو۔ جس نبی کے ساتھ مستقل کتاب اور مستقل شریعت نہ تھی وہ اپنے سے سابق رسول کی کتاب اور شریعت کی تبلیغ کرتا تھا۔ یہ فرق اگر تسلیم کرلیا جائے تو بعض انبیاء کے تذکرہ میں جو رسول اور نبی ایک ساتھ فرمایا ہے اور مشہور ہے کہ وہ مستقل کتاب اور مستقل شریعت والے نہیں تھے (جیسا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تو اس میں رسول کا اطلاق لغوی معنی کے اعتبار سے ہوگا۔ الامی اور الرسول اور النبی سے آیت بالا میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ آپ کو الامی سے ملقب فرمایا۔ عرب کے محاورہ میں امی اسے کہتے ہیں جس نے کسی مخلوق سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو اور آپ ﷺ نے بھی کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وقدرت سے آپ کو وہ علوم عطا فرمائے جو کسی کو نہیں دیئے۔ مخلوق میں آپ سے بڑھ کر کوئی بھی صاحب علم نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علوم دیئے تھے ان ہی میں سے وہ سب خبریں ہیں جو آپ نے عالم کی ابتدائے آفرینش سے لے کر جنت میں سب سے آخر تک داخل ہونے والے شخص کے داخلہ تک بتادیں اور اہل دوزخ کے احوال بتا دئیے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے احوال اور واقعات بیان کیے جن میں سے کسی ایک کی بھی یہودی تکذیب نہ کرسکے ایسے امی پر کروڑوں اہل علم قربان۔ اس کو فرمایا ہے : یتیمے کہ نا کردہ قرآن درست کتنجانۂ چند ملت بشست اس سب تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ امی ہونا آپ کی ذات گرامی کے لیے عیب کی بات نہیں بلکہ سراپا مدح اور خیر و خوبی کی چیز ہے۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰیۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ) (بنی امی ﷺ کو وہ لوگ اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور خاص کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا آپ کی بعثت کی بشارت دینا یہود و نصاریٰ میں معروف و مشہور تھا۔ سورة صف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (یَابَنِیْ اِِسْرَآءِیلَ اِِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ ) (اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں میرے سامنے جو توریت ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے) احمد، محمد دونوں رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی ہیں۔ توریت شریف میں آپ ﷺ کی صفات : حضرت عطا بن یسار تابعی نے بیان فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملاقات کی تو میں نے کہا کہ توریت میں جو رسول اللہ ﷺ کی صفت بیان کی گئی ہے وہ مجھے بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جو آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض صفات توریت شریف میں بھی ہیں۔ یعنی یہ کہ اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور امیین (یعنی عرب) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا تو میرا بندہ ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا جو درشت خو اور سخت مزاج نہیں ہے اور بازاروں میں شور مچانے والا نہیں اور جو برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا۔ لیکن معاف کرتا ہے اور بخش دیتا ہے اور اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جب تک کہ اس کے ذریعے کجی والی ملت کو سیدھا نہ کر دے۔ اس طرح سے کہ وہ لوگ لا الٰہ الا اللہ کہیں گے اور اس کے ذریعے ان کی اندھی آنکھوں کو کھول دے گا اور بہرے کانوں کو اور غلاف چڑھے ہوئے قلوب کو کھول دے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا یہ بیان صحیح بخاری سے مشکوٰۃ المصابیح ص 512 میں نقل کیا ہے کہ سنن دارمی ص 41 ج 1 میں بھی یہ مضمون ہے۔ اس میں یوں ہے کہ حضرت عطاء بن یسار نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے مذکورہ بالا مضمون کی روایت کی۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کی حق شناسی : حضرت عبداللہ بن سلام پہلے یہودی تھے اور ان کے علماء میں سے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہوسکتا اور آپ کی نبوت کی وہ علامات دیکھ کر جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں آپ کو پہچان لیا اور اسلام قبول کرلیا۔ ان کے علاوہ عموماً یہودیوں نے آپ کو پہچان کر اور آپ کی نبوت کو حق جان کر ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی اور چند افراد کے علاوہ وہ لوگ مسلمان نہ ہوئے۔ ان کی جہالت و ضلالت نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کا ساتھ نہ دیا۔ یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کے ذریعہ کجی والی ملت کو سیدھا فرمائے گا۔ اس سے ملت ابراہیمی مراد ہے جسے مشرکین عرب نے بگاڑ دیا تھا۔ یہودیوں نے آپ کی تشریف آوری سے کئی سو سال پہلے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائیں گے اور ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر مشرکین سے جنگ کریں گے۔ لیکن جب آپ تشریف لے آئے اور آپ کو پہچان بھی لیا کہ واقعی یہ وہی نبی ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے تو اس کے باو جود منکر ہوگئے۔ اسی کو فرمایا (فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) نصاریٰ بھی انجیل شریف میں آنحضرت ﷺ کی علامات پڑھتے چلے آ رہے ہیں انہوں نے آپ کو پہچان لیا۔ لیکن عام طور سے وہ بھی منکر ہوگئے۔ نصاریٰ نجران کے ساتھ جو مکالمہ ہوا اور آپ نے جو انہیں مباہلہ کی دعوت دی اور وہ مباہلہ سے منحرف ہوئے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ لوگ یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ایمان نہ لائے۔ قیصر روم کا اقرار : ہر قل (قیصر روم) نے بھی یہ مان لیا کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا ذکر صحیح بخاری ( ص 4 ج 1) باب بدء الوحی میں موجود ہے۔ جانتے پہچانتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار یہود و نصاریٰ دونوں قوموں نے کیا۔ دور حاضر کے نصاریٰ کی ڈھٹائی دیکھو کہ موجودہ بائبل میں (جو پہلے سے بھی منحرف ہے) بھی انہوں نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیشین گوئی پا لی تو اس کی تحریف پر اتر آئے۔ توریت شریف کی پیشین گوئی اور اس میں بائبل شائع کرنے والوں کی تحریف کتاب استثناء باب 33 میں اس طرح پیشین گوئی موجود ہے۔ خداوند سینا 1 ؂ سے آیا اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، وہ کوہ فاران سے جلوہ گر 1 ؂ خدا وند تعالیٰ کے سینا سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف عطا فرمائی اور کوہ شعیر سے طلوع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل عطا فرمائی (شعیر شام میں ایک پہاڑ کا نام ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عبادت کیا کرتے تھے) اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ (فاران مکہ معظمہ کے پہاڑ کا نام ہے) ہوا اور دس ہزار قد سیوں کے ساتھ آیا اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ وہ اپنے لوگوں سے بڑی محبت رکھتا ہے اور اس کے سارے مقدس تیرے ہاتھ میں ہیں اور وہ تیری باتوں کو مانیں گے۔ چونکہ اس پیشین گوئی میں لفظ فاران موجود ہے جو مکہ مکرمہ کے پہاڑ کا نام ہے اور دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاران پر جلوہ گرہونے کا تذکرہ ہے اور یہ دس ہزار وہ صحابہ ؓ تھے جو حضرت خاتم النّبیین ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے فتح مکہ کے موقع پر گئے تھے۔ لہٰذا تحریف کے مجرمین کو یہ دونوں باتیں بھاری پڑیں۔ اس لیے انہوں نے سابقہ تحریفات میں اضافہ کردیا (جب تحریف پر ہی دین اور دیانت کی بنیاد رکھ لی تو اب آگے تحریف کرنے میں خوف خدا لاحق نہ ہوا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے) اول تو فاران کا مصداق بدلنے کی کوشش کی اور یہ کہہ دیا کہ یہ بیت المقدس کا نام ہے۔ حالانکہ قدیم و جدید جغرافیہ نویسوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ بیت المقدس کا نام فاران ہے۔ خود توریت سامری کے عربی ترجمہ میں لفظ فاران کے سامنے بریکٹ میں لفظ الحجاز موجود ہے (یہ ترجمہ آر کوئی ٹسن نے 1851 ء میں شائع کیا تھا) دوسری تحریف ان مجرموں نے یہ کی کہ دس ہزار کی جگہ کسی ترجمہ میں ہزاروں لکھ دیا اور کسی میں لاکھوں لکھ دیا اور بعض ترجموں میں پورا جملہ ہی ختم کردیا۔ بائبل کا انگریزی ترجمہ جو کنگ جیمس ورجن نے 1958 ء میں شائع کیا تھا اس میں بھی دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آنے کا ذکر ہے۔ لیکن بعد میں تحریف کے دلیروں نے اس کو بدل کر رکھ دیا۔ تفصیلات کے لیے اظہار الحق عربی اور اس کے تراجم اور سیرت النبی ﷺ از سید سلیمان ندوی (رح) کا مطالعہ کیا جائے۔ یہود و نصاریٰ کا عجیب طرز فکر ہے وہ سمجھتے ہیں کہ تحریف کر کے جو لفظ اور معنی ہم اپنی طرف سے مقرر کردیں گے۔ وہی روز قیامت تک ہمارے لیے حجت بن جائے گا اور نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرنے کے لیے جو تدبیریں سوچی جائیں گی وہ بار گاہ خداوندی میں کام دے دیں گی اور دوزخ سے بچا دیں گی۔ یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ مسئلہ مسلمانوں کو جواب دینے کا نہیں ہے آخرت میں نجات پانے کا ہے۔ یہود نے یقین کرلیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ توریت شریف میں آپ کا تذکرہ پڑھتے تھے۔ آپس میں اس کا ذکر بھی کرتے تھے۔ اور جب ان میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے سامنے اقراری ہوجاتا تو اسے برا کہتے اور یوں کہتے تھے (اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ) (کیا تم اس سے وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھول دیں تاکہ یہ لوگ تمہارے رب کے پاس تم پر حجت قائم کرلیں) ۔ ایک یہودی کا اپنے لڑکے کو اسلام قبول کرنے کا مشورہ دینا : صحیح بخاری ص 181 ج 1 میں ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوگیا تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا (جو وہیں موجود تھا اس کا مقصد مشورہ لینا تھا) اس کے باپ نے کہا کہ ابو القاسم ﷺ کی بات مان لو، لہٰذا اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ یوں فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ الحمد للہ الذی انقذہ من النار (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اسے آتش دوزخ سے بچا لیا) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 137) جو یہودی عہد نبوت میں مسلمان ہوگئے تھے اور صحابیت کے شرف سے مشرف ہوئے وہ تو توریت شریف سے آنحضرت ﷺ کی علامات اور صفات بیان کیا ہی کرتے تھے ان کے بعد علماء یہود میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے جن کو تابعیت کا شرف نصیب ہوا وہ بھی توریت سے آنحضرت سرور عالم ﷺ کی علامات اور صفات بیان کیا کرتے تھے۔ کعب احبار کا بیان : کعب احبار پہلے یہودی تھے۔ پھر حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانہ میں اسلام قبول کیا وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم توریت میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں میرے برگزیدہ بندے ہیں نہ درشت خو ہیں نہ سخت مزاج ہیں وہ بازاروں میں شور مچانے والے نہیں ہیں۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے لیکن معاف کرتے ہیں اور بخش دیتے ہیں ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی اور ان کی ہجرت کی جگہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے اور ان کا ملک شام میں ہوگا (ملک شام اولین وہ سر زمین ہوگی جہاں ان کے اصحاب کی حکومت ہوگی) اور ان کی امت کے لوگ خوب زیادہ حمد بیان کرنے والے ہوں گے یہ لوگ اللہ کی حمد بیان کریں گے خوشحالی میں بھی اور سختی میں بھی۔ وہ ہر منزل میں اللہ کی تعریف کریں گے اور ہر بلندی پر اللہ کی بڑائی بیان کریں گے۔ یہ لوگ آفتاب کی نگرانی کریں گے۔ جب نماز کا وقت ہوجائے گا نماز ادا کریں گے آدھی پنڈلیوں پر تہبند باندھیں گے وہ وضو میں اپنے اطراف یعنی ہاتھ پاؤں دھوئیں گے۔ ان کا موذن فضاء آسمانی میں اذان دے گا اور ان کی ایک صف قتال میں اور ایک صف نماز میں ہوگی۔ دونوں صفیں (اخلاص اور عزیمت میں) برابر ہوں گی۔ رات کو ان (کے ذکر) کی آواز ایسی ہوگی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ صاحب مشکوٰۃ نے یہ روایت بحوالہ مصابیح السنہ نقل کی ہے، پھر لکھا ہے کہ دارمی نے بھی تھوڑی سی تغییر کے ساتھ روایت کی ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح میں یہ روایت ص 170 پر اور سنن دارمی میں (ص 15 ج 1) پر موجود ہے اس کے بعد صاحب مصابیح نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے نقل کیا ہے کہ توریت میں محمد ﷺ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی صفت بیان کی ہے۔ (اس میں یہ بھی ہے) کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آپ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کا یہ بیان سنن ترمذی میں بھی ہے۔ بعض یہود کا اقرار کہ آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں لیکن قتل کے ڈر سے اسلام نہیں لاتے : آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہود حاضر ہوتے رہتے تھے اور بہت سی باتیں پوچھا کرتے تھے (جن کے بارے میں جانتے تھے کہ یہ نبی کے سوا کوئی نہیں بتاسکتا) اس میں اپنے سوالوں کا صحیح جواب پاتے اور بار باران کے یقین میں پختگی آتی جاتی تھی اور آپ ﷺ کا ہر جواب ان کو چیلنج کرتا تھا لیکن حق جانتے ہوئے مانتے نہیں تھے اور قبول نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ دو یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آیات بینات کے بارے میں سوال کیا آپ نے جواب دے دیا تو انہوں نے آپ کے ہاتھ پاؤں چومے اور کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں میرا اتباع کرنے سے کیا چیز روکتی ہے ؟ کہنے لگے کہ ہمیں خوف ہے کہ اگر آپ کا اتباع کرلیں تو ہمیں یہودی قتل کردیں گے (مشکوٰۃ المصابیح ص 17) (یہ جان اور مال کا خوف انہیں اسلام قبول کرنے سے باز رکھتا تھا) جن یہودیوں نے آپ کو آزمایا اور آپ کی نشانیوں کو دیکھا اور دنیوی مفاد کو ٹھوکر ماری انہوں نے اسلام قبول کرلیا لیکن یہ معدو دے چند ہی تھے۔ ایک یہودی کا آپ ﷺ کو آزمانا پھر مسلمان ہونا : حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم کے چند دینار آنحضرت ﷺ پر قرض تھے وہ تقاضے کے لیے آیا آپ نے فرمایا کہ اے یہودی میرے پاس اس وقت انتظام نہیں ہے جو تیرا قرض ادا کروں، اس پر اس یہودی نے کہا کہ اے محمد میں آپ سے جدا نہ ہوں گا جب تک آپ میرا قرضہ ادا نہ کریں آپ ﷺ نے فرمایا تو میں بھی تیرے ساتھ بیٹھا رہوں گا۔ آپ ﷺ اس کے ساتھ بیٹھے رہے اور اسی دوران آپ ﷺ نے ظہر سے لے کر سب نمازیں ادا کرلیں۔ آپ کے صحابہ ؓ اسے دھمکی دیتے تھے اور ڈراتے تھے آپ نے اس کو محسوس فرما لیا اور استفہام انکاری کے طریقہ پر فرمایا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک یہودی نے آپ ﷺ کو روک رکھا ہے (جو ہم سے نہیں دیکھا جاتا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی معاھد (ذمی یا مستامن) پر ظلم کروں۔ دوسرے دن جب دن چڑھ گیا تو اس یہودی نے کہا (اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ) اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں اپنا آدھا مال اللہ کی راہ میں دیتا ہوں اور میں نے جو کچھ کیا اسی لیے کیا کہ میں آپ ﷺ کو ان اوصاف کے موافق دیکھ لوں جو توریت میں بیان کیے گئے ہیں۔ توریت میں ہے کہ محمد بن عبداللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی اور ان کی ہجرت کی جگہ طیبہ ہے اور ان کا ملک شام میں ہوگا۔ وہ درشت خو اور سخت مزاج نہیں ہوں گے اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہوں گے وہ فحش کلامی اختیار نہ کریں گے اور برے الفاظ سے بھی بچیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ بیشک آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ میرا مال ہے آپ ﷺ اس میں جس طرح چاہیں حکم فرمائیں۔ (رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ کمافی المشکوٰۃ ص 520) حضرت سلمان فارسی ؓ کے اسلام قبول کرنے کا عجیب واقعہ : حضرت سلمان فارسی ؓ بھی جانچ پڑتال کے بعد مسلمان ہوئے یہ فارس کے رہنے والے تھے ان کا گھرانہ مشرک تھا ان کا باپ انہیں کھیت کیا ری دیکھنے کے لیے بھیجا کرتا تھا۔ مشغلہ کاشت کاری اور زمینداری تھا۔ اس کا نام بود خشان بن مور سلان تھا اور اپنے گاؤں کا چودھری تھا۔ حضرت سلمان ؓ اس کو سب سے زیادہ پیارے تھے حتیٰ کہ ان کو لڑکیوں کی طرح گھر میں رکھتا تھا اور قدم باہر نہ نکالنے دیتا تھا۔ حضرت سلمان ؓ کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام مابہ رکھا اور ہوش سنبھالنے پر ان کو بھی آتش پرستی میں لگا دیا۔ یہاں تک کہ حضرت سلمان ؓ آتش کدہ کی خدمت میں اس انہماک سے لگے کہ ہر وقت روشن رکھتے تھے اور آتش کدہ کے پجاری اور مندر کے نگراں بن گئے تھے۔ حضرت سلمان ؓ اپنے مسلمان ہونے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے تھے کہ ایک روز میرا باپ مکان بنوانے میں مشغول ہوگیا اور فرصت نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کاشت کی خیر خبر لینے کے لیے بھیج دیا اور ساتھ ہی جلد آنے کی بھی وصیت کردی اور یہ بھی کہا کہ اگر تو نے واپس ہونے میں دیر کی تو تیری جدائی کی فکر میرے لیے ساری فکروں سے بڑھ جائے گی۔ والد کے کہنے پر میں گھر سے نکلا، راستہ میں عیسائیوں کے گرجا پر میرا گزر ہوا اور اس کو دیکھنے کے لیے اندر چلا گیا۔ وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے ان کی نماز پسند آگئی اور دل میں کہا کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے میں نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے دین کا مرکز کہاں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ملک شام میں ہے، میں شام تک وہیں رہا اور سورج چھپنے پر گھر واپس آیا تو باپ نے سوال کیا، اب تک کہاں تھا ؟ میں نے باپ کو اپنا پورا حال سنا دیا اور یہ بتادیا کہ مجھے نصاریٰ کا دین پسند ہے اور ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ باپ نے کہا بیٹا ! یہ تم نے غلط سمجھا، ان کا دین ٹھیک نہیں ہے۔ سچا دین وہی ہے جو تیرا اور تیرے باپ دادوں کا دین ہے۔ میں نے کہا خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ بلاشبہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ جب باپ نے میری گفتگو سنی تو اسے کھٹکا ہوا اور اس ڈر سے کہ کہیں میں ان سے نہ جا ملوں مجھے گھر میں بند کردیا اور پاؤں میں بیڑی ڈال دی۔ میں نے اس قید و بند کی حالت میں عیسائیوں کو خبر بھیج دی کہ جب شام سے سودا گر آئیں تو مجھے خبر کردینا میں ان کے ساتھ تمہارے دین کے مرکز میں پہنچ جاؤں گا، چناچہ کچھ دن کے بعد کچھ شامی تاجر آگئے انہوں نے مجھے خبر کردی، جب وہ تاجر واپس جانے لگے تو میں نے بیڑیاں کاٹ ڈالیں اور ان کے ساتھ ہوگیا۔ جب میں ان کے ساتھ شام پہنچ گیا تو وہاں کے لوگوں سے کہا کہ بتاؤ تمہارے یہاں عیسائیوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ گرجا میں جاؤ وہاں کا جو پاپائے اعظم ہے وہی سب سے افضل ہے۔ میں گرجا میں جا پہنچا اور اس سے کہا کہ میں تمہارے دین کو پسند کرچکا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تمہاری خدمت میں رہوں، اور تعلیم حاصل کروں۔ اس نے کہا بہتر ہے رہنے لگو۔ میں اس کے ساتھ رہنے لگا اور رہتے رہتے اس کے کچے چٹھے سے خوب واقف ہوگیا۔ یوں تو بڑا بزرگ بنا ہوا تھا مگر تھا بڑا خراب آدمی لوگوں کو صدقہ خیرات کا حکم دیتا اور جب اس کے کہنے سے لوگ صدقات و خیرات لے کر آتے تو ان سب کو اپنے پاس جمع کرلیتا اور مسکینوں کو کچھ بھی نہ دیتا، جب وہ مرگیا تو اس کے معتقد دفن کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ (اسے دفن نہ کرو) یہ تو بڑا خراب آدمی تھا تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا تھا اور جب تم اس کے پاس صدقات و خیرات کی رقم جمع کردیتے تھے تو نہ کسی فقیر کو دیتا تھا نہ کسی مسکین کو، بلکہ اپنے ہی خزانہ میں بھر دیتا تھا۔ لوگوں نے کہا تمہیں کیا پتہ ؟ میں نے کہا آؤ تمہیں اس کا خزانہ بتادوں ! یہ سن کر وہ میرے ساتھ ہو لیے، میں نے ان کو اس کا خزانہ دکھایا تو انہوں نے سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے رکھے ہوئے دیکھے۔ مٹکے دیکھ کر ان کو میری بات کا یقین آگیا تو بڑے برہم ہوئے اور ان کے دلوں میں اس پادری کی ذرا بھی وقعت نہ رہی اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم ہم اسے ہرگز دفن نہ کریں گے۔ چناچہ ان لوگوں نے اس کی نعش کو سولی پر چڑھا کر پتھر مارتے مارتے چورا بنا دیا۔ اس کے بعد وہ لوگ اس کی جگہ دوسرے شخص کو لائے جسے انہوں نے گرجا کا پادری بنا دیا یہ دوسرا شخص اس پہلے شخص سے بہت افضل تھا اور دنیا سے بہت بےرغبت تھا مجھے اس سے محبت ہوگئی اور ایک عرصہ تک اس کے ساتھ گرجا میں رہا۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے کہا کہ اب آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اور کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے علم میں تو اب کوئی شخص اصل دین مسیحی پر نہیں ہے سوائے فلاں صاحب کے جو شہر موصل میں رہتے ہیں تم ان ہی کے پاس چلے جاؤ، چناچہ میں موصل پہنچا اور اس شخص کو تلاش کیا جس کا نام اور پتہ مجھے بتایا گیا تھا، جب اس سے ملاقات ہوگئی تو میں نے اس کو اپنا قصہ سنایا اور ساتھ رکھ لینے کی درخواست کی اس نے درخواست منظور کرلی اور میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ یہ بھی اچھا آدمی تھا۔ جب اس کی موت آپہنچی تو میں نے کہا کہ آپ کا میرے متعلق کیا ارشاد ہے ؟ بتائیے اب کس کے پاس جاؤں ؟ اس نے کہا کہ شہر نصیبین میں فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، میں نے نصیبین کا سفر کیا اور اس شخص کو ڈھونڈ لیا جس کے پاس بھیجا گیا تھا اس کو میں نے اپنا قصہ سنایا اور ساتھ رکھ لینے کی درخواست کی، اس نے مجھے ساتھ رکھ لیا۔ یہ بھی اچھا آدمی تھا مگر دنیا والی زندگی ہمیشہ کے لیے کسی کو بھی نہیں ملی۔ وہ شخص بھی مرنے لگا تو میں نے کہا اب میرے لیے کیا ارشاد ہے ؟ بتایئے اب کہاں جاؤں ؟ اس نے جواب دیا کہ اب تم عموریا میں فلاں شخص کے پاس جاؤ، چناچہ میں اس کے پاس پہنچا اور ساتھ رہنے کی درخواست کی، اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا، یہ بھی اچھا شخص تھا۔ عموریا کے دوران قیام میں نے کمانے کا دھندہ کرلیا اور میرے پاس گائے بکریاں جمع ہوگئیں۔ جب اس عموریا والے پادری کو موت نے آگھیرا تو میں نے اس سے کہا کہ بتائیے میں اب کہاں جاؤں ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ اے بیٹا ! اللہ کی قسم اب تو میرے علم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ہمارے دین پر پوری طرح پابند ہو، اب تمہیں کس کے پاس بھیجوں ؟ بس اب تو تم آخر الزماں ﷺ کا انتظار کرو، ان کے تشریف لانے کا زمانہ قریب ہے۔ وہ دین ابراہیم (علیہ السلام) لے کر آئیں گے۔ عرب سے ظاہر ہوں گے وہ ایسے شہر کو ہجرت کریں گے جس کے دونوں طرف کنکریلی زمین ہوگی اور جہاں کھجوروں کے باغ ہوں گے۔ ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہدیہ کھائیں گے اور صدقہ نہ کھائیں گے اور یہ نشانی بھی کہ ان کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی، اب اگر تم سے ہو سکے تو عرب چلے جاؤ، یہ کہہ کر یہ پادری بھی دنیا سے سدھارا۔ میں عرب پہنچنے کی تدبیر سوچنے میں لگا رہا۔ حتیٰ کہ قبیلہ بنی کلب کے کچھ لوگ عموریا پہنچ گئے جو عرب سے تجارت کے لیے آئے تھے، ان سے میں نے کہا کیا تم ایسا کرسکتے ہو کہ مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو اور اس احسان کے بدلہ میں میری یہ بکریاں اور گائیں لے لو، اس بات کو انہوں نے منظور کیا اور مجھے ساتھ لے کر عرب چل دیئے۔ میں نے اپنی بکریاں اور گائیں ان کو دے دیں، وہ مجھے وادی القریٰ لے گئے (جو عرب ہی کا علاقہ ہے) مگر انہوں نے میرے ساتھ غداری کی اور مجھے اپنا غلام ظاہر کر کے فروخت کردیا، جس شخص کے ہاتھ مجھے بیچا تھا اس نے مجھے مدینہ کے ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا جو قبیلہ بنی قریظہ میں سے تھا، وہ مجھے مدینہ لے گیا، مدینہ کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ بس یہی وہ شہر ہے جہاں میری مراد حاصل ہوگی۔ کیونکہ یہاں کھجوروں کے باغ بھی ہیں اور شہر کے دونوں طرف کنکریلی زمین بھی ہے۔ میں مدینہ میں اپنے آقا کے کام میں لگا رہا اور اسی اثناء میں سید عالم ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے۔ ایک روز میں ایک درخت پر اپنے آقا کے باغ میں کام کر رہا تھا کہ اس کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا کہ خدا بنی قبیلہ کو غارت کرے (بنی قیلہ سے انصار مراد ہیں) ابھی ابھی میں ان کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ ایک شخص کے اردگرد جمع ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور اپنے کو نبی بتاتا ہے۔ یہ سنتے ہی مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی اور بیہوشی کا سا عالم ہوگیا۔ حتیٰ کہ میں درخت سے گرنے کے قریب ہوگیا۔ بڑی عجلت کے ساتھ میں درخت سے اتر کر اپنے آقا کے پاس جا کر کھڑا ہوا اور اس سے پوچھا کیا معاملہ ہے اس نے میرے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور کہنے لگا چل تو اپنا کام کر تجھے ان باتوں سے کیا غرض ؟ چناچہ میں واپس ہوا اور اپنے کام میں لگ گیا۔ میرے دل میں بےچینی اور بےقراری تھی جس نے مجھے مجبور کردیا کہ صبح جو بات سنی تھی اس کی حقیقت معلوم کروں اور جس شخص کو میرے آقا کے چچا زاد بھائی نے مدعی نبوت بتایا ہے اس کو چل کر دیکھوں اور اس کی نبوت کو ان نشانیوں کے ذریعہ جانچوں جو عموریا والے پادری نے بتائی تھیں چناچہ جب شام ہوگئی اور مجھے کام سے فرصت ملی تو میں ایک خوان میں تازہ کھجوریں لے کر سیدعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ قبا میں تشریف رکھتے تھے۔ میں نے عرض کیا یہ صدقہ ہے جو آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے لیے لایا ہوں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا میرے سامنے سے اٹھا لو کیونکہ ہم (یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) صدقہ نہیں کھاتے۔ یہ فرما کر آپ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا (جن کے لیے صدقہ حلال تھا) کہ تم کھالو۔ چناچہ صحابہ ؓ نے کھالیا اور آپ ہاتھ روکے ہوئے بیٹھے رہے۔ یہ ماجرا دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ ایک نشانی تو میں نے دیکھ لی، اس کے بعد میں چلا گیا اور پھر موقعہ پا کر کچھ کھجوریں جمع کر کے لایا اس وقت آپ قبا سے روانہ ہو کر مدینہ شہر میں تشریف لے جا چکے تھے، میں نے عرض کیا یہ ہدیہ ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، یہ سن کر آپ نے اس میں سے کھالیا، میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ دوسری نشانی ہے۔ اب میں نے خاتم النبوۃ کے دیکھنے کا ارادہ کیا تو تیسری بار پھر حاضر خدمت ہوا اس وقت آپ بقیع میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کے ساتھ صحابہ بھی تھے، میں نے آپ کو سلام کیا اور خاتم النبوۃ دیکھنے کے لیے گھوم کر آپ کے پیچھے پہنچ گیا۔ جب آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا ہوا دیکھا تو میرا مقصد سمجھ لیا اور خود بخود اپنی مبارک چادراٹھا کر مجھے خاتم النبوۃ دکھلا دی میں اس پر جھک گیا اور اسے چومنا شروع کردیا اور (چونکہ تینوں نشانیاں دیکھ کر آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا اور اپنی مراد پا لی تو فرط خوشی میں) رونے لگا۔ آپ نے فرمایا سامنے آؤ، میں سامنے آیا اور اپنا پورا قصہ سنایا تو آپ کو ایسا عجیب معلوم ہوا کہ صحابہ ؓ کو بھی سنوایا۔ اس کے بعد میں غلامی کے مشغلوں میں پھنسا رہا۔ حتیٰ کہ جنگ بدر میں بھی شریک نہ ہوسکا۔ (اس دوران میں بارگاہ رسالت میں آتا جاتا رہا) ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے آقا سے کتابت کرلو (یعنی اس سے اپنی جان کو خرید لو) چناچہ میں نے اس کی کوشش شروع کردی اور اپنے آقا سے یہ معاملہ کرلیا کہ جب میں کھجور کے 300 درخت لگا دوں اور ان کی پرورش کر دوں حتیٰ کہ ان میں کھجوریں آجائیں جو کھانے کے قابل ہوجائیں اور اس کے ساتھ چالیس اوقیہ نقد سونا بھی ادا کر دوں تو میں آزاد ہوجاؤں گا۔ (ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا تھا) معاملہ کر کے سیدعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو۔ چناچہ صحابہ نے 300 پودے چندہ کر کے میرے لیے جمع کردیئے جب پورے جمع ہوگئے تو سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے درخت ہم لگا دیں گے تم ایک پودا بھی مت لگانا۔ لہٰذا میں نے 300 کیا ریاں بنا دیں اور آپ میرے ساتھ اس یہودی کے باغ میں تشریف لے گئے اور ان کیا ریوں میں وہ پودے لگا دیئے۔ ہم آپ کو پودے دیتے جاتے تھے اور آپ اپنے دست مبارک سے کیا ریوں میں رکھ رکھ کر مٹی بھرتے جاتے تھے۔ آپ نے جتنے بھی درخت لگائے تھے (جو کہ 299 تھے) ان میں سے ایک بھی خراب نہ ہوا اور مزید براں آپ کا یہ معجزہ دیکھنے میں آیا کہ اسی سال سب درخت پھل لے آئے، مگر ایک درخت نہ پھلا جسے حضرت عمر ؓ نے لگا دیا تھا۔ آپ نے اسے اکھاڑ کر دو بارہ اپنے دست مبارک سے لگا دیا۔ آپ کا دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ وہ درخت بھی اسی سال پھل لے آیا۔ (اس آیت کی بقیہ تفسیر انوارالبیان کتاب سے ملاحضہ فرمائیں)
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اے لوگو ! بلاشبہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے لیے بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے، جو ایمان لاتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات پر، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم اور آپ کی بعثت عامہ کا اعلان اس آیت کریمہ میں نبی امی سیدنا رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آپ تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرما دیں کہ بلاشبہ مجھے اللہ نے تم سب کی طرف بھیجا ہے۔ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہے تم سب بھی اللہ کی مخلوق و مملوک ہو۔ اس کے ملک سے اور اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، لہٰذا اس پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کی تصدیق کرو۔ یہ رسول اللہ کا نبی ہے جو امی ہے، یعنی اس نے کسی انسان سے نہیں پڑھا، وہ خود بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے کلمات یعنی اس کے احکام کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا تم اس کا اتباع کرو تاکہ ہدایت پا جاؤ۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا دیگر مواضع میں بھی قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا ہے سورة سبا میں فرمایا : (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خصوصی امتیازات اور فضائل عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی بعثت عام ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ (1) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ایک ماہ کی مسافت تک دشمن مجھ سے ڈرتے ہیں۔ (2) پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی (کہ مسجد کے علاوہ بھی ہر پاک جگہ نماز ہوجاتی ہے۔ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم سے حدث اصغر اور حدث اکبر دور ہوجاتے ہیں) سو میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے۔ (3) میرے لیے غنیمت کے مال حلال کردیئے گئے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے۔ (4) اور مجھے شفاعت عطا کی گئی (یعنی شفاعت کبریٰ جو قیامت کے دن ساری مخلوق کے لیے ہوگی) ۔ (5) اور مجھ سے پہلے نبی خاص کر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عامۃً تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ (رواہ البخاری ص 148 ج 1) آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : و الذی نفس محمد بیدہ لا یسمع بی احد من ھذہ الامۃ یھودی و لا نصرانی ثم یموت و لم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اصحاب النار۔ (رواہ مسلم فی کتاب الایمان) (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس امت میں جس کسی کو بھی میری بعثت کا علم ہوا خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی پھر وہ اس حالت میں مرجائے کہ میں جو دین دے کر بھیجا گیا ہوں اس کو نہ مانا وہ ضرور دوزخ والوں میں سے ہوگا) ۔ چونکہ آپ کی بعثت عامہ ہے اس لیے ہر فرد بشر کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں۔ آپ کا دامن پکڑے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کرسکتا۔ خواہ کتنی ہی عبادت کرتا ہو اس کو (وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔ (اس نبی کا اتباع کرو ان کا اتباع کرو گے تو ہدایت پر رہو گے) جو ہدایت اللہ کے یہاں معتبر ہے وہ خاتم النّبیین رسول الانس و الجان ﷺ کے اتباع میں مرکوز ہے اور منحصر ہے۔ اس سے و حدت ادیان کے نظریہ کی بھی تردید ہوگئی۔ جو لوگ اپنی جہالت سے یوں کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اور کسی بھی طریقہ اور دین کے مطابق اللہ کی عبادت کرلے اس کی نجات ہوجائے گی (العیاذ باللہ) یہ ان لوگوں کی گمراہی کی بات ہے۔ شیطان انسان کو خدا کا منکر رکھنا چاہتا ہے اور اگر کوئی شخص اللہ کو مان لے اور اللہ کے دین پر آنا چاہے تو اسے ایسی باتیں سجھاتا ہے جن کی وجہ سے وہ اس دین پر نہ آسکے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور اپنے خیال میں دھرمی بھی رہے اور مذہبی بھی رہے اور پھر بھی آخرت میں نجات نہ پائے اور جہنم میں جائے، یہ شیطان کی خواہش رہتی ہے۔
Ayahs 7:159–160

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں ایک ایسی جماعت ہے جو حق کی ہدایت دیتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں،

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے الگ الگ جماعتیں بنا دیں، اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی جب ان کی قوم نے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی پتھر میں مارو سو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر قبیلہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ جان لی۔ اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلویٰ اتارا کھاؤ پاکیزہ چیزیں اس رزق میں سے جو ہم نے تمہیں دیا، اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

بنی اسرائیل میں اچھے لوگ بھی تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من وسلویٰ نازل فرمایا اوپر چار آیات کا ترجمہ نقل کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں اچھے لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس زمانے میں توریت اور انجیل پر عمل کیا جب ان کتابوں پر عمل کرنے کا حکم تھا اور منسوخ نہیں کی گئی تھیں۔ پھر جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ کو انہوں نے توریت و انجیل میں بیان فرمودہ علامات سے پہچان لیا تو آپ پر ایمان لے آئے اور عامل بالقرآن ہوگئے۔ پھر دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہے اور اسی کے موافق فیصلے کرتے رہے کج بحثی اور کج روی اختیار نہ کی۔ قرآن مجید میں بعض دیگر مواقع میں بھی ان لوگوں کی تعریف وارد ہوئی ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا ہے۔ (مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ ھُمْ یَسْجُدُوْنَ ) (اہل کتاب میں ایک فرقہ ہے سیدھی راہ پر وہ اللہ کی آیتوں کو رات کے وقت پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں) ۔ سورة قصص میں فرمایا (وَ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ ) (اور جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بلاشبہ یہ حق ہے ہمارے رب کا بھیجا ہوا، ہم اس سے پہلے حکم بردار ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی قوم میں مسلم اور کافر سب ہوں تو اہل ایمان کے ایمان اور اصلاح و نیکی کا معترف ہونا چاہئے اور یکسر کسی قوم کو یوں کہہ دینا کہ سب کافر ہیں فاسق ہیں جبکہ ان میں ایمان والے اور صالحین موجود ہوں۔ اس سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ مومن بندے اعتدال پر قائم رہیں۔ دوسری آیت میں بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد بتائی اور فرمایا کہ ہم نے ان کے بارہ خاندانوں کے علیحدہ علیحدہ قبیلے بنا دیئے تھے۔ اسباط، سبط کی جمع ہے۔ سبط لڑکے کو کہتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ لڑکے تھے۔ ہر ہر لڑکے کی اولاد ایک ایک قبیلہ تھی اس کے بعد ان انعامات کا ذکر فرمایا جو بنی اسرائیل پر میدان تیہ میں ہوئے تھے جب یہ لوگ مصر سے نکلے اور سمندر پار کیا تو انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا لیکن اپنی شرارتوں اور احکام کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے چالیس سال تک میدان تیہ میں ہی گھومتے رہے اس صحرا نور دی اور گردش کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی۔ جب کوئی تکلیف آتی تھی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ اس مصیبت کو رفع کیجیے، اسی میدان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ پانی کی ضرورت ہوئی۔ پیاسے ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمیں پانی چاہئے۔ اللہ جل شانہٗ کا حکم ہوا کہ اے موسیٰ پتھر میں اپنی لاٹھی مارو۔ انہوں نے لاٹھی ماری تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر ہر قبیلہ نے اپنے پینے کی جگہ کو پہچان لیا اور پانی لے لیا ضرورتیں پوری کرلیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ خاص قسم کا پتھر تھا جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تھیلے میں رکھتے تھے۔ جب پانی کی ضرورت ہوتی اس میں لاٹھی مارتے تھے جس میں سے پانی نکلنے لگتا تھا۔ انہی انعامات میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک یہ انعام عطا فرمایا کہ جب بنی اسرائیل نے گرمی سے محفوظ ہونے کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل بھیج دیئے۔ اسی کو فرمایا (وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْھِمُ الْغَمَامَ ) اور تیسرا انعام یہ ہوا کہ ان کے کھانے کے لیے من اور سلویٰ (بٹیروں جیسے جانور) بڑی تعداد میں بھیج دئیے یہ لوگ ان میں سے کھاتے تھے۔ اس کو (وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْھِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی) میں بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سے فرمایا کہ ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے پاکیزہ اور عمدہ چیزیں کھاؤ، انہوں نے حکم عدولی اور نعمتوں کی نا شکری کی۔ حکم تھا کہ آئندہ وقت کے لیے اٹھا کر نہ رکھیں۔ لیکن نہ مانے اور خلاف ورزی کی اور نا شکری یوں کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ایک ہی کھانے پر ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ ہمیں سبزیاں، کھیرے، پیاز، لہسن اور دال چاہئے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا تم اچھی چیز کو چھوڑ کر گھٹیا چیز لینا چاہتے ہو۔ تفصیل کے ساتھ یہ واقعات سورة بقرہ (رکوع چھ اور سات) میں بیان ہوچکے ہیں (انوار البیان ج 1) ان لوگوں نے جو جو حرکتیں کیں ان کی سزا پائی۔ اسی کو فرمایا (وَ مَا ظَلَمُوْنَا) (اور ان لوگوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا) یعنی ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ (وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلَمُوْنَ ) (لیکن وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے) یعنی ان کی حرکتوں سے ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا تھا۔
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا کہ سکونت کرو اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو، اور کہو کہ ہمارے گناہ معاف ہوں۔ اور دروازہ میں جھکے ہوئے داخل ہوجاؤ۔ ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو، ہم عنقریب اچھے کام کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔

ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی نافرمانی : تیسری اور چوتھی آیت میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک بستی میں رہنے کا حکم فرمایا تھا ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس بستی میں خشوع کے ساتھ جھکے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہونا۔ ان ظالموں نے قولاً و عملاً دونوں طرح سے نافرمانی کی اور اس بات کو بدل دیا جس کا حکم فرمایا گیا تھا۔ عملاً تو یہ کیا کہ بجائے جھکے ہوئے داخل ہونے کے بچوں کی طرح گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے جس میں ایک طرح کا استہزاء ہے اور معافی مانگنے کا جو حکم ہوا تھا اس کی خلاف ورزی یوں کی کہ حِطَّۃٌ کی جگہ حَبَّۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس بستی سے بیت المقدس مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اریحا مراد ہے۔ مفسر ابن کثیر نے کہا ہے کہ پہلا قول ہی صحیح ہے کیونکہ یہ لوگ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدس میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں حیران و سرگردان پھرنے کے بعد جب حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانہ میں بیت المقدس جانا نصیب ہوا اس وقت کی بات ہے جب ان لوگوں نے حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ جل شانہٗ نے ان پر عذاب بھیج دیا، جسے (رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ ) سے تعبیر فرمایا۔ سورة بقرہ میں (بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ) فرمایا اور سورة اعراف میں (بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ) فرمایا یعنی یہ عذاب ان کی نا فرمانیوں اور ان کے ظلم کی وجہ سے بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی جو نتیجہ کے اعتبار سے اپنی جانوں پر ظلم ہے کیونکہ اس کی وجہ سے گرفت ہوجاتی ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے ان لوگوں پر جو عذاب بھیجا گیا تھا طاعون تھا۔ مفسر ابن کثیر نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ الطاعون رجزٌ عَذَابٌ عذب بہ من کان قبلکم (یعنی طاعون رجز ہے جو عذاب ہے اس کے ذریعے تم سے پہلی امتوں کو عذاب دیا گیا) ۔ من وسلویٰ اترنے اور پتھر سے چشمے پھوٹنے اور ایک بستی میں جھکے ہوئے داخل ہونے اور معافی مانگنے کا حکم پھر بنی اسرائیل کی قولاً و فعلاً خلاف ورزی پر عذاب نازل ہونا سورة بقرہ (رکوع 6، 7) میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے کچھ زیادہ تفصیل لکھ دی ہے اس کی مراجعت کرلی جائے۔ (انوار البیان جلد اول)