7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کو ناپسند فرماتا ہے جو حد سے آگے بڑھنے والے ہیں

دعا کرنے کے آداب اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور حاکمیت بیان فرمانے کے بعد حکم فرمایا کہ اسی کی طرف متوجہ رہو اسی کو پکارو، اسی سے مانگو اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرو۔ ساتھ ہی دعا کا ادب بھی بتادیا اور وہ یہ کہ تضرع یعنی عاجزی کے ساتھ دعا کیا کرو دعا میں اپنی عاجزی اختیار کرو اور دل سے مانو کہ واقعی ہم عاجز ہیں، نیز یہ بھی بتایا کہ چپکے چپکے دعا کرو۔ بعض مواقع میں زور سے دعا کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ لیکن عام حالت میں چپکے چپکے ہی دعا کرنا چاہئے۔ سورۂ مریم میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا) (جبکہ زکریا نے اپنے رب کو پکارا پوشیدہ طریقہ پر) بات یہ ہے کہ خفیہ دعا کرنے میں حضوری قلب کا موقع زیادہ ہوتا ہے۔ اگر زور سے دعا کی جائے تو اونچی آواز کرنے کی طرف بھی دھیان رہتا ہے اور اس میں توجہ بٹ جاتی ہے۔ بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! کیا ہمارا رب قریب ہے اگر ایسا ہے تو ہم اس سے مناجات کریں یعنی خفیہ طریقہ پر مانگیں۔ یا وہ دور ہے جسے ہم زور سے پکاریں اس پر آیت کریمہ (وَ اِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنّیِْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ) (الآیۃ) نازل ہوئی (درمنثور ج 1 ص 194) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انا عند ظن عبدی بی و انا معہ اذا ذکرنی (مشکوٰۃ المصابیح ص 196) میں اپنے بندوں کے گمان کے ساتھ ہوں وہ میرے بارے میں جو گمان کرے اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے۔ اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ تمہارا رب تم سے اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنی تمہاری سواری والی اونٹنی کی گردن تم سے قریب ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 201 از بخاری و مسلم) پس جب اللہ جل شانہٗ بندوں سے اس قدر قریب ہے تو دعا میں چیخنے اور پکارنے کی ضرورت نہیں آہستہ دعا کریں اور دل لگا کر مانگیں۔ پھر ارشاد فرمایا (اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) (بےشک وہ حد سے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں فرماتا) اس میں عمومی طور پر تمام اعمال میں اعتداء اور اسراف اور حد سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت فرما دی۔ یہ اعتداء حد سے بڑھ جانا دعا میں بھی ہوتا ہے۔ حضرات مفسرین نے بطور مثال کے لکھا ہے کہ دعا میں ایک اعتداء یہ ہے کہ (مثلاً ) اپنے لیے یہ سوال کرے کہ مجھے جنت میں حضرت انبیاء (علیہ السلام) کی منازل عطا کی جائیں اگر گناہ کرنے یا قطع رحمی کی دعا کی جائے تو یہ بھی اعتداء کی ایک صورت ہے۔ سنن ابو داؤد ج 1 ص 13 میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا اللھمَّ انی اسئلک القصر الابیض عن یمین الجنۃ (اے اللہ ! میں آپ سے جنت کی دائیں جانب سفید محل کا سوال کرتا ہوں) یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے فرمایا اے بیٹا ! تو اللہ سے جنت کا سوال کر اور دوزخ سے پناہ مانگ (اپنی طرف سے سفید محل تجویز نہ کر) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب اس امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو طہور (وضو، غسل وغیرہ میں) اور دعاء میں اعتداء یعنی زیادتی کریں گے۔ زندگی کے دوسرے شعبوں میں جو حدود شرعیہ سے آگے بڑھ جاتے ہیں اس کی ممانعت بھی آیت کریمہ کے عموم الفاظ میں داخل ہے۔ نیکی تو بہت بڑی چیز ہے لیکن شرعاً اس کی بھی حدود مقرر ہیں کوئی شخص راتوں رات نماز پڑھے اپنی بیوی اور مہمانوں کی خبر نہ لے یا رات دن ذکر و تلاوت میں لگا رہے اور بیوی بچوں کی معاش کے لیے فکر مند نہ ہو اور ان کے لیے اتنی روزی نہ کمائے جس سے واجبات ادا ہوں یہ بھی اعتداء اور زیادتی ہے۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور فساد نہ کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد، اور پکارو اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت اچھے کام کرنے والوں سے قریب ہے

پھر فرمایا (وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا) (اور زمین کی اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ کرو) اس سے زمین کی ظاہری اصلاح اور باطنی اصلاح دونوں مراد ہوسکتی ہے۔ کھیتی اگا دی اور اس میں طرح طرح کے فوائد رکھ دیئے۔ اس کو خراب نہ کرو۔ اللہ کی پیدا فرمودہ چیزوں کو نہ اجاڑ دو ۔ اور ان سے انتفاع کی جو جائز صورتیں ہیں ان میں رخنہ پیدا نہ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ان سے منتفع ہونے دو ۔ اور باطنی اصلاح اگر مراد لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا کتابیں نازل فرمائیں دلائل سے حق کو واضح فرمایا اعمال صالحہ کا حکم دیا۔ اور برے کاموں سے منع فرمایا کثیر تعداد میں انسانوں نے ایمان قبول کیا اب اس سدھار کو خراب نہ کرو، ہدایت کی راہ اختیار کرو، اسی پر خودر ہو اور دوسروں کو اسی پر رہنے دو مذکورہ بالا آیات سے چند آداب معلوم ہوئے۔ اول یہ کہ دعا میں زیادتی نہ کرو۔ دوم یہ کہ خفیہ طریقہ پر دعا کرو۔ اور سوم یہ کہ ڈرتے ہوئے دعا مانگو کہ ممکن ہے قبول نہ ہو۔ چہارم خوب للچاتے اور امید کرتے ہوئے دعا مانگو اور پانچواں ادب (وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا) سے معلوم ہوا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ فسادفی الارض جو تمام معاصی پر صادق آتا ہے اس سے بھی پرہیز کرو۔ کیونکہ فساد فی الارض بھی دعاؤں کی قبولیت کے روکنے کا ذریعہ ہے۔ صحیح مسلم ج 1 ص 326 میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا کہ جس کا سفر لمبا ہو بال بکھرے ہوئے ہوں۔ غبار سے اٹا ہوا ہو وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر یَا رَبِّ یَا رَبِّ کہتا ہے اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہو پینا حرام ہو، اور لباس حرام ہو اور اسے حرام سے غذا دی گئی ہو۔ ان چیزوں کے ہوتے ہوئے اس کی دعا کہاں قبول ہوگی۔ پھر فرمایا (اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ کی رحمت اچھے کام کرنے والوں سے قریب ہے) اس میں مطلقاً اچھے کام کی فضیلت بتادی، جتنے بھی اچھے کام ہیں وہ سب اللہ کی رحمت شامل حال ہونے کا ذریعہ ہیں۔ اسی عموم میں دعا کا احسان بھی ہے۔ دعا کے جو آداب بتائے ہوئے ہیں ان آداب کی رعایت کرتے ہوئے اگر دعا کی جائے تو اللہ کی رحمت نازل ہوگی اور دعا کی قبولیت کا ذریعہ بن جائیں گے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس کو مردہ زمین کے لیے روانہ کرتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ پانی نازل کرتے ہیں۔ پھر ہم اس کے ذریعہ نکالتے ہیں ہر طرح کے پھلوں سے۔ اسی طرح ہم زندہ کریں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

بارش اور اس کے ذریعہ پیداوار اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت یعنی بارش اور اس کے فوائد کا تذکرہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو اس کی رحمت یعنی بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں۔ جن میں پانی بھرا ہوا ہوتا ہے جو زمین بےآب وگیاہ ہوتی ہے اور سبزی کے اعتبار سے مردہ ہوچکی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو ایسی زمین کی طرف بھیج دیتا ہے وہاں بارش برستی ہے جس سے پانی جمع ہوجاتا ہے سبزہ نکل آتا ہے، کھیتوں اور باغوں میں جان پڑجاتی ہے جس سے پھل میوے غلے پیدا ہوتے ہیں پھر ان سے انسان اور جانور غذا پاتے ہیں اور منتفع ہوتے ہیں۔ بارش بنجر زمین پر بھی ہوتی ہے اور پہاڑوں پر بھی برستی ہے لیکن ایسی زمین کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ فرمایا جس میں پانی برسنے کے بعد کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اور سبزیوں تر کاریوں کی پیداوار ہوتی ہے کیونکہ یہ انسان اور اس کے پالتو جانوروں کی معاش کا سبب ہے اور مومن، کافر سب ہی اس سے منتفع ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے سب کو اپنا انعام یاد دلایا۔ زمین سے پھلوں کے نکالنے کا انعام ذکر فرمانے کے بعد (کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی) فرمایا، کہ ہم اسی طرح مردوں کو نکالیں گے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس سے درخت اور پھل پھول نکالے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے زمین سے نکالیں گے۔ سورۂ حٰمٓ سجدہ میں فرمایا (وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اے مخاطب ! تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ دبی ہوئی ہے پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور بڑھنے لگتی ہے بلاشبہ جس نے اس کو زندہ فرمایا وہ مردوں کو زندہ کر دے گا بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے) قیامت کے دن جب پہلا صور پھونکا جائے گا اور لوگ بےہوش ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ بارش بھیج دے گا وہ شبنم کی طرح ہوگی اس سے لوگوں کے جسم آگ جائیں گے پھر دو بارہ پھونکا جائے گا تو وہ سب کھڑے ہوئے دیکھتے ہوں گے۔ (مشکوٰۃ شریف ص 481 از مسلم) آیت کے ختم پر (لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) فرمایا جس میں نصیحت اور عبرت حاصل کرنے کی طرف متوجہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ہوائیں بھیجتا ہے جو بارش آنے کی خوش خبری دیتی ہیں پھر یہ ہوائیں پانی سے بھرے ہوئے بھاری بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہاں بارش برستی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہو تو پانی سے بھرے ہوئے بادل گزرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور ضرورت کی جگہ ایک قطرہ بھی نہ برسے جب پانی برس جاتا ہے تو وہاں زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ سبزیاں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ پھل اور میوے پیدا ہوجاتے ہیں انسان پر لازم ہے کہ اس سب کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے اور اس ذات پاک کی طرف متوجہ ہو جس کے حکم سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی منکرین بعث کو بھی سمجھنے کی دعوت دی کہ وہ زمین سے مردوں کے نکلنے کو مستبعد سمجھتے ہیں وہ نظروں کے سامنے دیکھ لیں کہ زمین بارہا مردہ ہوتی رہتی ہے اور زندہ ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کا سبزہ نہیں نکلتا مگر ناقص ہم اس طرح ان لوگوں کے لیے طرح طرح سے آیات بیان کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتے ہیں

پھر فرمایا (وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا) (اور اچھی زمین کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو خراب زمین ہے اس میں سے نہیں نکلتا مگر ناقص) نَکِدْ اس چیز کو کہتے ہیں جو بےفائدہ بھی ہو اور مقدار میں بھی کم ہو۔ بارش تو جگہ جگہ ہوتی ہے اچھی زمین پر بھی برستی ہے اور بنجر شور زمین پر بھی اس کا فیضان ہوتا ہے لیکن اچھی زمین بارش کی وجہ سے باغ و بہار بن جاتی ہے اور خراب زمین میں جو کوئی چیز پیدا ہوجاتی ہے بےفائدہ ہوتی ہے اور تھوڑی بھی ہوتی ہے (بےفائدہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ غذا کے کام نہیں آتی) بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی ہے۔ مومن کا دل طیب ہے پاکیزہ ہے اس کے سامنے جو اللہ کی ہدایتیں آتی ہیں اور جو قرآن کی آیات سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر کر جاتی ہے اور ان سے منتفع ہوتا ہے اور اس کے دل میں خوبیوں اور خوشیوں کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔ اور کافر کے پاس جب ہدایت پہنچتی ہے اور قرآن کی آیات سنتا ہے تو قبول نہیں کرتا اس کا دل خبیث ہے۔ ہدایت سے منتفع نہیں ہوتا ذرا بہت ہدایت کا خیال آتا ہے تو اس کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ (کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ ) (یعنی ہم طرح طرح سے آیات بیان کرتے ہیں یہ ان لوگوں کے لیے دلائل ہیں جو شکر گزار ہیں اور قدر شناس ہیں) بیان تو سب کے لیے ہوتا ہے لیکن نفع وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں اپنے خالق کی نعمتوں کی قدر دانی ہے۔ ان کے قلوب پاکیزہ ہیں خیر کو قبول کرتے ہیں۔ اور ظاہری و باطنی نعمتوں کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں۔ قال صاحب الروح ج 8 ص 148 لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ نعم اللہ تعالیٰ و منھا تصریف الاٰیات و شکر ذالک بالتفکر فیھا و الاعتباربھا، وخص الشاکرین لانھم المنتفعون بذٰلک، و قال الطیبی ذکر لقوم یشکرون بعد لعلکمْ تذکرون من باب الترقی لان من تذکر الآء اللہ تعالیٰ عرف حق النعمۃ فشکر۔ 1 ھ۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو نماز میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کا خوف کرتا ہوں۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا سر کش ہو کر ہلاک ہونا امت حاضرہ کی یاد دلانی اور عبرت دلانے کے لیے قرآن مجید میں جگہ جگہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے اور ان کی امتوں کے واقعات ذکر فرمائے ہیں کہیں ایک ہی نبی کا تذکرہ فرمایا اور کہیں متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا۔ کہیں تذکرے مختصر ہیں کہیں مفصل ہیں۔ یہاں سورة اعراف میں حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی تبلیغ و تذکیر اور ان کی امتوں کے انکار و تکذیب پھر اس پر ان کی سزا و تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے دشمن فرعون کا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ فرمایا۔ سورۂ ہود میں بھی اسی ترتیب سے ان حضرات کے واقعات ذکر فرمائے ہیں پھر اسی ترتیب سے سورة شعراء میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے چونکہ عبرت دلانا مقصود ہے اس لیے یہ تکرار نہایت ہی مفید ہے منکرین کی یہ نادانی ہے کہ ان واقعات سے عبرت لینے کے بجائے یوں سوال کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں تکرار کیوں ہے جسے شفقت ہوتی ہے بار بار تنبیہ و تذکیر کرتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ارحم الراحمین ہے اس نے اپنے غافل بندوں کی بار بار تذکیر فرمائی تو اس پر اعتراض کرنا جہالت و حماقت نہیں ہے تو کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تذکیر و تبلیغ کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کر کے فرمایا کہ اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ صرف اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا واقعی اور حقیقی معبود کوئی نہیں۔ ان لوگوں نے بت بنا رکھے تھے جن میں سے بعض کے نام سورة نوح میں مذکور ہیں۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں توحید کی دعوت دی تو آپس میں کہنے لگے۔ (لاَ تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلاَ تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلاَ سُوَاعًا وَلاَ یَغُوْثَا وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا) (کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو اور مت چھوڑ ووَدْ کو اور سواع کو اور یغوث کو اور یعوق اور نسر کو) حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے (جیسا کہ سورة عنکبوت کے دوسرے رکوع میں بیان فرمایا ہے) اور ان لوگوں کی تفہیم و تذکیر میں کوئی کسر اٹھا کر نہ رکھی۔ وہ لوگ بہت بری طرح پیش آتے تھے طرح طرح کے طنز کرتے تھے اور ان کے سردار اور چودھری ان باتوں میں پیش پیش تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو اور جو تمہارے ساتھ لگے ہیں وہ تو ہماری نظر میں گھٹیا قسم کے لوگ ہیں۔ (سورۂ ہود) کبھی آپس میں یوں کہتے تھے کہ یہ ہمارے جیسا آدمی ہے یہ تم پر سرداری کرنا چاہتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے مقابلہ میں بڑا بن کر رہے۔ (جیسا کہ سورة مومنون میں ہے (یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ) نیز حضرت نوح (علیہ السلام) دعوت دیتے تھے تو یہ لوگ کپڑے اوڑھ لیتے تھے اور کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے۔ (جیسے کہ سورة نوح میں مذکور ہے) اور نہ صرف یہ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے دور بھاگتے تھے بلکہ الٹا انہیں گمراہ بتاتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں گمراہ نہیں ہوں میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور مجھے ان باتوں کا پتہ ہے جن کا تمہیں پتہ نہیں تمہیں اس بات سے تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک نصیحت آگئی اور اس کا واسطہ تم میں کا ایک شخص بن گیا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ جس شخص کے واسطہ سے تمہارے پاس یہ نصیحت آئی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پروردگار کے عذاب سے ڈرائے جو تکذیب کرنے والوں اور نافرمانوں کے لیے مقرر ہے۔ تم ڈرو اور کفر سے بچو اس میں تمہاری بھلائی ہے رب العالمین جل مجدہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ان لوگوں نے جو عذاب آنے کی بات سنی تو اس کے ماننے کی بجائے یوں ہی دھمکی سمجھی اور کہنے لگے کہ (فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) (جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو وہ عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو) ان کی تکذیب ضد اور عناد کے باعث پانی کا زبردست طوفان آیا، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی جو اہل ایمان تھے اور تعداد میں تھوڑے تھے اور کشتی میں سوار ہوگئے تھے وہ نجات پا گئے اور سب کافر غرق کردیئے گئے۔ ان لوگوں نے ہدایت کو نہ مانا۔ نصیحت پر کان نہ دھرا۔ گمراہی کو ہی اختیار کیا۔ اندھے بنے رہے۔ عقل و فہم کو بالائے طاق رکھ کر ضد اور عناد پر تلے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی کا مفصل قصہ انشاء اللہ العزیز سورة ہود (ع 4) میں آئے گا۔ فائدہ : تفسیر درمنثور ج 1 ص 212 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس قرنیں تھیں (ہر قرن سو سال کی ہوتی ہے) اور یہ قرون سابقہ سب ملت اسلام پر تھیں بعد میں اختلاف ہوا۔ اور کفر و شرک کی راہیں لوگوں نے اختیار کرلیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت پہلی امت ہے جس نے کفر اختیار کیا اور بت پرستی شروع کی۔
Ayahs 7:60–65

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا بلاشبہ ہم تجھے کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم میرے ساتھ کوئی گمراہی نہیں ہے لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک شخص کے پاس نصیحت کی باتیں آگئیں تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم ڈر جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا۔ سو ہم نے ان سے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دے دی اور ہم نے ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ بلاشبہ وہ لوگ اندھے تھے۔

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے، اور یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنا دیا۔ اور جسمانی طور پر تمہارے ڈیل ڈول میں پھیلاؤ زیادہ کردیا لہٰذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے باپ دادا جس کی عبادت کرتے تھے اس چھوڑ دیں۔ سو ہمارے پاس وہ چیز لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہوچکا۔ کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو ان ناموں کے بارے میں جو نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود تجویز کرلیے ہیں۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی سو تم انتظار کرو بلاشبہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ لوگ ایمان والے نہ تھے حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور قوم کا ہلاک ہونا ان آیات میں قوم عاد اور ان کے پیغمبر حضرت ھود (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے قوم عاد بڑی قوت و طاقت والی تھی۔ یہ لوگ بڑے قد آور تھے ان کا ڈیل ڈول بھی بڑا تھا۔ ان کے بارے میں سورة فجر میں فرمایا (الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبَلاَدِ ) (ان جیسی قوم شہروں میں پیدا نہیں کی گئی) عاد ایک شخص تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں سے تھا۔ اسی کے نام پر اس کی نسل قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ حضرت ھود (علیہ السلام) جو اسی نسل میں سے تھے وہ ان کی طرف مبعوث ہوئے قوم عاد کو اپنی قوت بازو اور طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ جب ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور عذاب سے ڈرایا تو وہ اپنی قوت اور طاقت جتلانے لگے اور کہنے لگے کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ ہم سے طاقت کے اعتبار سے زیادہ سخت کون ہے) ان کو خالق کائنات جل مجدہ کی طاقت پر نظر نہ تھی اسی لیے ایسے بےہودہ الفاظ کہہ گئے ان کے جواب میں فرمایا۔ (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ) (کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس ذات نے انہیں پیدا فرمایا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے) ( سورة حٰمٓ سجدہ ع 3) ان لوگوں کو حضرت ھود (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اللہ نے تمہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اس دنیا میں بسا دیا۔ اور تمہیں بہت سی نعمتوں سے مالا مال فرما دیا اس نے تمہیں چوپائے دیئے بیٹے عطا فرمائے باغات دیئے چشمے دیئے۔ (اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ) تم کفر سے باز آؤ ورنہ تم پر بڑا عذاب آجائے گا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ تم نے جو معبود تجویز کر رکھے ہیں اور ان کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں یہ سب تمہاری اپنی تراشیدہ باتیں ہیں تم ان کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، خود ہی معبود تجویز کرتے ہو۔ خود ہی ان کے نام رکھتے ہو اور خود ہی ان کی طرف تصرفات کی نسبت کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ خالق ومالک اللہ ہے۔ وہی دین اور عقیدہ قابل قبول ہے جو اس کی طرف سے اس کے رسولوں نے بتایا ہو۔ چونکہ ان لوگوں کو حضرت ھود (علیہ السلام) کی باتوں پر اعتماد نہ تھا اور ان کو سچا نہیں سمجھتے تھے اس لیے کہا کہ تم بیوقوف ہو اور یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں ہمارے معبودوں نے تم پر کچھ کردیا ہے اسی لیے بہکی بہکی باتیں کرتے ہو (اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْٓءٍ ) اور کہنے لگے کہ تمہارے وعظ سے ہم پر کوئی اثر ہونے والا نہیں (سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَم ق تَکُنْ مّنَ الْوَاعِظِیْنَ ) جب انہوں نے تکذیب کی اور یوں بھی کہا کہ عذاب لا کر دکھاؤ۔ تو حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کا عذاب اور غصہ نازل ہو ہی چکا۔ یعنی اس کے آنے میں دیر نہیں ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ (جنہوں نے ایمان قبول کیا تھا) سب کو اللہ تعالیٰ نے عذاب سے محفوظ رکھا۔ اور باقی پوری قوم کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیا۔ قوم عاد پر جو عذاب آیا تھا سورة حٰمٓ سجدہ، سورة احقاف، سورة ذاریات، سورة حآقہ اور سورة قمر میں اس کا ذکر ہے۔ سورة حٰمٓ سجدہ میں فرمایا (فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ لِنُذِیْقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) اور سورة قمر میں فرمایا (اِِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ) اور سورة حآقہ میں فرمایا (وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ فَہَلْ تَرٰی لَہُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ ) (اور لیکن عاد سو وہ ہلاک کیے گئے ٹھنڈی تیز ہوا کے ذریعہ، اللہ نے ان پر اس ہوا کو سات دن اور آٹھ رات لگاتار مسخر فرما دیا۔ اے مخاطب ! تو دیکھے قوم کو کہ اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے پڑے ہیں گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں کھجور کے، کیا تو ان میں دیکھتا ہے کہ کوئی باقی رہا) سورۂ ذاریات میں فرمایا (وَفِیْ عَادٍ اِِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِِلَّا جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ ) (اور قوم عاد میں عبرت ہے جبکہ ہم نے بھیجی ان پر ایسی ہوا جو بانجھ تھی یعنی خیر سے بالکل خالی تھی وہ جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا کر رکھی دیتی تھی جیسے چورا ہو) ۔ سورۂ احقاف میں ہے کہ جب ان لوگوں پر عذاب آنا شروع ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی وادیوں کی طرف بادل آ رہا ہے (وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے) اور کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ (برسنے والا بادل کہاں تھا) بلکہ وہ تو عذاب ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے۔ وہ تو ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ اس حال میں ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ بھی نظر نہ آتا تھا ہم اسی طرح مجرمین کو سزا دیتے ہیں۔ (یہ سورة احقاف کی آیات کا ترجمہ ہے 12) عناصر اربعہ آگ، خاک، آب و ہوا سب اللہ کے مامور ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں اور اس کی مخلوق کے لیے نفع یا ضرر کا ذریعہ بن جاتے ہیں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (نُصِرْتُ بالصَّبَا وَ اُھْلِکَتْ عَادٌ بالدُّبُوْرِ ) (کہ صبا کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد بور کے ذریعے ہلاک کی گئی) (رواہ البخاری ص 141 ج 1) صبا وہ ہوا ہے جو مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اور دبور وہ ہوا ہے جو مغرب سے مشرق کو چلتی ہے۔ غزوہ احزاب کے موقعہ پر جب مختلف قبائل اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ پر چڑھ آئے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا بھیجی جس نے دشمن کے خیمے اکھاڑ دیئے اور ان کے چولہے الٹ دیئے اور انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا۔ حدیث بالا میں اسی کا تذکرہ ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان میں کوئی بادل دیکھتے تھے تو آپ کا رنگ بدل جاتا تھا اور آپ کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر آتے جب بارش ہوجاتی تو آپ کی یہ کیفیت جاتی رہتی تھی۔ میں نے اس بات کو پہچان لیا اور اس بارے میں آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو جیسا قوم عاد نے بادل کو دیکھ کر کہا جو ان کی وادیوں کی طرف آ رہا تھا کہ یہ بادل بارش برسانے والا ہے (لیکن بارش برسانے والا نہ تھا) بلکہ ہوا کی صورت میں عذاب تھا جو ان پر نازل ہوا۔ (رواہ مسلم ج 1 ص 294، 295) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہوا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چیز ہے۔ وہ رحمت لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے لہٰذا تم اس کو برا نہ کہو۔ اللہ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 130 از ابی داؤد ابن ماجہ)
Ayahs 7:66–74

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا،

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں،

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے، اور یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنا دیا۔ اور جسمانی طور پر تمہارے ڈیل ڈول میں پھیلاؤ زیادہ کردیا لہٰذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے باپ دادا جس کی عبادت کرتے تھے اس چھوڑ دیں۔ سو ہمارے پاس وہ چیز لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے۔

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہوچکا۔ کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو ان ناموں کے بارے میں جو نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود تجویز کرلیے ہیں۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی سو تم انتظار کرو بلاشبہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ لوگ ایمان والے نہ تھے

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ صالح نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل آچکی ہے، یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے نشانی ہے سو تم اسے اللہ کی زمین میں چھوڑے رکھو کھاتی پھرا کرے۔ اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں درد ناک عذاب پکڑ لے گا،

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں عاد کے بعد زمین میں رہنے کا ٹھکانہ دے دیا۔ تم اس زمین کے نرم حصہ میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت کرو،

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور سر کشی اختیار کر کے قوم کا ہلاک ہونا حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ قوم ثمود تھی۔ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام تھے۔ بنو عاد قوم عاد کے نام سے اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسوم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔ جس کو سورة حجر کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے۔ یہ لوگ بھی قوت اور طاقت والے تھے۔ زمین پر بڑے بڑے مکانات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنا لیتے تھے جس کو (تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا) میں بیان فرمایا ہے۔ ان لوگوں کے تراشے ہوئے پہاڑ اور پہاڑوں کے اندر بنائے ہوئے گھر آج تک موجود ہیں۔ جو مدائن صالح کے نام سے معروف و مشہور ہیں اور شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر ہیں۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے (جو انہی کی قوم میں سے تھے) ان کو تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا (یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ) (اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے) قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بےت کے جواب دیئے، سورة قمر میں ہے کہ وہ یوں کہنے لگے۔ (اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُہٗ اِِنَّا اِِذًا لَّفِیْ ضَلاَلٍ وَّسُعُرٍ ءَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ) (کیا ایک ایسے شخص کا ہم اتباع کرلیں جو ہمیں میں سے ہے اگر ہم ایسا کرلیں تو کھلی گمراہی میں اور دیوانگی میں پڑجائیں گے کیا ہم سب کے درمیان سے اس پر نصیحت نازل کی گئی ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے شیخی بگھارتا ہے) سورۂ ہود میں فرمایا کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو توحید کی دعوت دی تو وہ کہنے لگے (قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ) (اے صالح اس سے پہلے تم ہمارے اندر بڑے ہونہار تھے) تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ (اَتَنْھٰنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ ) (کیا تو ہم کو اس سے منع کرتا ہے کہ پرستش کریں جن کی پرستش کرتے رہے ہمارے باپ دادے اور ہم کو اس میں شبہ ہے جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے یہ شبہ تردُّدْ میں ڈالنے والا ہے)
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

ان کی قوم کے جو متکبر سردار تھے انہوں نے ضعیفوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا تم اس بات کا یقین کرتے ہو کہ صالح اس کے رب کی طرف بھیجا ہوا ہے۔ انہوں نے جواب دیا بیشک جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔

حضرت صالح (علیہ السلام) پر جو لوگ ایمان لے آئے تھے وہ زیادہ تر دنیاوی اعتبار سے کمزور تھے۔ (عام طور پر یوں ہی ہوتا رہا ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر اولاً وہی لبیک کہتے ہیں جو دنیاوی اعتبار سے نیچے کے طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں) ان کی قوم میں جو بڑے لوگ تھے یعنی دنیاوی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے غریب مسلمانوں سے کہا کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں انہوں نے جواب میں کہا۔ (اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ) (کہ بلاشبہ ہم تو اس پر ایمان لائے جو وہ لے کر بھیجے گئے) متکبرین نے کہا کہ ہم تو اس کو نہیں مانتے اور جس پر تم ایمان لے آئے ہم اس کے منکر ہیں۔ یہ تکبر اور دنیا کے چودھراہٹ اور بڑائی ہمیشہ بڑا بننے والوں کا ناس کھو دیتی ہے۔ اور حق کو قبول کرنے سے باز رکھتی ہے۔
Ayahs 7:76–77

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

متکبر سرداروں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

سو انہوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کا حکم ماننے سے سر کشی کی، اور کہنے لگے کہ اے صالح ! اگر تم پیغمبروں میں سے ہو تو جس چیز کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ۔

قوم ثمود کے لوگ بھی بڑے ضدی تھے کہنے لگے کہ ہم تو جب جانیں جب تم پہاڑ میں سے اونٹنی نکال کردکھاؤ۔ اگر پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے نبی ہو۔ ان کو ہرچند سمجھایا کہ دیکھو اپنے منہ سے مانگا ہوا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے اگر اونٹنی تمہارے مطالبہ پر پہاڑ سے نکل آئی اور پھر بھی ایمان نہ لائے تو سمجھ لو کہ پھر جلدی ہی عذاب آجائے گا۔ وہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اونٹنی پہاڑ سے نکال کر دکھاؤ۔ اگر اونٹنی پہاڑ سے نکل آئی تو ہم ایمان لے آئیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اسی وقت ایک پہاڑی پھٹ گئی اور اس کے اندر سے اونٹنی نکل آئی۔ یہ ماجرا دیکھ کر جندع بن عمرو (جو ثمود کا سردار تھا) اور اس کے ساتھ تھوڑے سے اور لوگ مسلمان ہوگئے۔ قوم کے جو بڑے لوگ تھے انہوں نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کیا لیکن ان کے بتوں کے جو بچاری تھے انہوں نے ایمان نہ لانے دیا۔ اب تو منہ مانگا معجزہ سامنے آگیا یہ معجزہ کیا تھا ناقَۃُ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی تھی اسے ” ناقۃ اللہ “ فرمایا جیسے کعبۃ اللہ کو ” بیت اللہ “ کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ مالک حقیقی سبھی کا اللہ تعالیٰ ہے اور بعض چیزوں کے مجازی مالک بھی ہیں اور اس اونٹنی کا کوئی مالک مجازی نہ تھا اس لیے ناقۃ اللہ فرمایا۔ اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اس کو ناقۃ اللہ اس لیے فرمایا کہ وہ قوم صالح (علیہ السلام) پر اللہ کی حجت تھی مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اونٹنی جب پہاڑ سے نکلی اس کے ساتھ ہی اس کا بچہ بھی نمودار ہوا تھا جب اونٹنی کو قتل کردیا گیا (جس کا ذکر آگے آتا ہے) تو اس بچہ نے تین بار آواز نکالی پھر ایک اونچے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ چونکہ یہ اونٹنی دیگر اونٹنیوں جیسی نہ تھی اس لیے اس کا کھانا اور پینا بھی دوسری اونٹنیوں سے مختلف تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (فَذَرُوْھَا تَأْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ ) (اسے چھوڑے رکھو تاکہ اللہ کی زمین سے کھاتی پیتی رہے) (وَ لَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (اور اسے برے خیال سے مت چھوؤ ورنہ تمہیں درد ناک عذاب پکڑے گا) نیز انہوں نے ان سے یہ بھی فرمایا (لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ) (اس لیے پانی پینے کا حصہ مقرر ہے اور تمہارے لیے ایک مقررہ دن کا پینا ہے) یہ اونٹنی جنگلوں میں چلتی پھرتی تھی ایک دن چھوڑ کر پانی پیتی تھی جب یہ پانی پینے لگتی تھی تو کنویں میں سر لٹکا کر سارا پانی پی جاتی تھی۔ ان لوگوں کو یہ بات کھلی اور چونکہ اس اونٹنی کی وجہ سے ان کے مویشی خوف زدہ ہو کر دور دور بھاگ جاتے تھے اس وجہ سے ان لوگوں کو اونٹنی کا وجود نا گوار ہوا ان میں دو عورتیں زیادہ مالدار تھیں جن کے بہت مویشی تھے انہوں نے قوم میں سے دو آدمیوں کو اونٹنی کے قتل کردینے پر آمادہ کیا۔ یہ دونوں آدمی جن میں ایک کا نام مصدع اور دوسرے کا نام قدار تھا چھپ کر بیٹھ گئے جب اونٹنی ادھر سے گزری تو مصدع نے اس کی پنڈلی میں تیر مارا پھر قدار نے اس کو ذبح کردیا بستی کے لوگ نکلے اور اس کا گوشت تقسیم کرلیا۔ جب وہ ایسی حرکت کرنے کو نکلے تھے تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو متنبہ کردیا تھا کہ ایسا نہ کرو۔ سورۂ الشمس میں فرمایا (تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍ ) (جب اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بد بخت سو ان سے اللہ کے رسول نے کہا کہ خبر دار اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کے بارے میں اپنی جانوں کو بچا کر رکھو) ان لوگوں نے بات نہ مانی اور بالآخر اونٹنی کو مار ہی ڈالا، جب انہوں نے ایسا کیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (اَشْْقٰھَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰہَا) (کہ تم لوگ اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے جو جھوٹا ہونے والا نہیں) جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تین دن کے بعد عذاب آجائے گا تو ان کا مذاق بنانے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ (یٰصٰلِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (کہ اے صالح وہ عذاب لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو اگر تم پیغمبروں میں سے ہو) وہ لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کے قتل کے درپے بھی ہوئے جس کا ذکر سورة نمل میں فرمایا ہے۔ (قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّنَنَّہٗ وَاَھْلَہٗ ) (الآیۃ) عذاب تو آنا ہی تھا پہلے دن ان کے چہرے پیلے ہوگئے دوسرے دن سرخ ہوگئے تیسرے دن سیاہ ہوگئے۔ اور چوتھے دن ان پر عذاب آگیا۔ (از تفسیر ابن کثیر ص 227 تا ص 229 ج 2۔ البدایہ والنہایہ ص 134 تا ص 137 جلد نمبر 1)
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

سو ان کو پکڑ لیا زلزلہ نے۔ سو وہ اوندھے منہ ہو کر اپنے گھروں میں پڑے رہ گئے۔

سورة اعراف میں فرمایا (فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) (ان کو پکڑ لیا سخت زلزلہ نے لہٰذا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے) اور سورة ہود میں فرمایا (وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ) (اور پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا چیخ نے، سو وہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے جیسے ان میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ خبر دار ثمود نے اپنے رب کی نا شکری کی، خبر دار دوری ہے ثمود کے لیے) ۔ دونوں آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ قوم ثمود پر دونوں طرح کا عذاب آیا زلزلہ بھی آیا اور چیخ بھی۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ زلزلہ نیچے سے آیا اور چیخ کی آواز انہوں نے اوپر سے سنی اور بعض حضرات نے یوں کہا ہے کہ زلزلہ سے جب زمین پھٹتی ہے تو اس سے آواز آتی ہے اور یہ آواز بھیانک ہوتی ہے جس کی وجہ سے سننے والوں کے دل لرز جاتے ہیں اور ہوش کھو بیٹھے ہیں اس لیے زلزلہ کو صیْحَۃٌ (یعنی چیخ) سے تعبیر کیا۔ سورۂ حٰمٓ سجدہ میں بھی قوم ثمود کی سر کشی اور بربادی کا ذکر ہے۔ قَال اللّٰہُ تَعَالیٰ (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاھُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْہُدَی فَاَخَذَتْہُمْ صَاعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُوْنِ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (اور جو ثمود تھے ہم نے ان کو راستہ بتلایا سو انہوں نے ہدایت کے مقابلہ گمراہی کو پسند کیا پس ان کو عذاب نے پکڑ لیا جو سراپا ذلت تھا) اس آیت میں ثمود کے عذاب کو (صَاعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُوْنِ ) سے تعبیر فرمایا۔ لفظ صاعقہ ایسی سخت آواز کے لیے بولا جاتا ہے جو اوپر سے سنائی دے۔ امام راغب مفردات میں لکھتے ہیں کہ اس سے کبھی آگ پیدا ہوتی ہے۔ کبھی یہ عذاب بن کر آتی ہے اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے اس لیے اس کو تینوں معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 1 ھ چونکہ قوم ثمود کی ہلاکت رجفہ یعنی زلزلہ اور چیخ کے ذریعہ ہوئی تھی اس لیے سورة حٰمٓ سجدہ میں جو لفظ صاعقہ وارد ہوا ہے بعض حضرات نے اسے مطلق عذاب کے معنی میں لیا ہے لیکن اس میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے کہ رجفہ، صیحہ، صاعقہ (اوپر سے سنائی دینے والی سخت آواز) تینوں طرح کا عذاب آیا ہو۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ ج 2 ص 136 میں لکھا ہے کہ قوم ثمود پوری قوم عذاب میں ہلاک ہوگئی۔ البتہ ان میں ایک عورت تھی جس کا نام کلبہ تھا وہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے بہت زیادہ عداوت رکھتی تھی اس نے جب عذاب دیکھا تو وہاں سے تیزی سے دوڑی اور عرب کے ایک قبیلہ کو جا کر خبر دی اور ان لوگوں سے پانی طلب کیا پھر پانی پی کر مرگئی۔ پھر ص 178 پر بحوالہ مصنف عبدالرزق، ابو رغال کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ ابو رغال کی قبر پر گزرے اور فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ! آپ نے فرمایا یہ ابو رغال کی قبر ہے یہ شخص قوم ثمود میں تھا جب ان لوگوں پر عذاب آیا تو یہ شخص حرم مکہ میں تھا حرم میں ہونے کی وجہ سے اس پر عذاب نہ آیا جب حرم سے باہر آیا تو یہ بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو کر مرگیا جو اس کی قوم پر آیا تھا اور اسے یہاں دفن کردیا گیا۔ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی بھی دفن کی گئی۔ حضرات صحابہ ؓ سواریوں سے اترے اور جلدی سے آگے بڑھے قبر کھودی اور اس میں سے سونے کی ٹہنی نکل آئی۔ یہ واقعہ طائف کو جاتے ہوئے پیش آیا تھا۔ یہ قصہ حضرت امام ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں نقل کیا ہے۔ (راجع آخر حدیث من کتاب الخراج) (فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ ) (الآیۃ) (سو صالح (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور وہاں سے منہ موڑ کر چلے گئے اور فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے) یہ خطاب حضرت صالح (علیہ السلام) نے کب فرمایا ؟ بعض مفسرین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قوم پر عذاب آنے کے آثار دیکھ لیے اور محسوس فرما لیا کہ عذاب آنے ہی کو ہے تو حضرت صالح (علیہ السلام) ان کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے اور ان سے یہ آخری خطاب فرمایا جو حسرت بھرے انداز میں ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جب ان کی قوم ہلاک اور برباد کی گئی تو ان سے یہ خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ایسا ہی ہے جیسا بدر میں مقتول ہونے والے کافروں سے حضور اکرم ﷺ نے خطاب فرمایا تھا جن کی نعشیں ایک کنویں میں پڑی ہوئی تھیں، یہ فرما کر حضرت صالح (علیہ السلام) اہل ایمان کو لے کر فلسطین کی طرف چلے گئے اور وہیں قیام پذیر ہوئے، چونکہ قوم ثمود کی بستیوں پر عذاب آچکا تھا اس لیے یہاں رہنا گوارا نہ فرمایا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ جب تبوک تشریف لے جا رہے تھے تو اس وادی سے گزرے اس وقت آپ چہرہ انور پر کپڑا ڈالے ہوئے تھے۔ آپ تیزی سے گزرے اور اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ یہاں سے تم دوڑتے ہوئے گزرو ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہ عذاب پہنچ جائے جو ان لوگوں کو پہنچا تھا۔ نیز آپ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ عذاب کی جگہ پر کوئی نہ جائے اور نہ وہاں کے کنویں کا پانی استعمال کرے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یَا رَسُوْلَ اللہ ! ہم نے تو یہاں کے کنوؤں کے پانی کو استعمال کیا ہے اور اس پانی سے آٹا گوندھا ہے آپ نے فرمایا کہ پانی گرا دو اور جو آٹا گوندھا ہے اسے اونٹوں کو کھلا دو ۔ (صحیح البخاری ص 478 و ص 479 ج 1 و ص 637 جلد نمبر 2)
Ayahs 7:79–81

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح نے ان سے منہ موڑا۔ اور فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا۔ اور تمہاری خیر خواہی کی۔ لیکن تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو جسے تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے بھی نہیں کیا،

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس آتے ہو بلکہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو،

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو احکام پہنچانا اور قوم کا اپنے افعال سے باز نہ آنا اور انجام کے طور پر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بد کر داری کا اور تھوڑا سا اس سوال و جواب کا ذکر ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوا نیز جو ان پر عذاب آیا اس کا بھی ذکر ہے مفصل قصہ سورة ہود اور سورة حجر اور سورة شعراء اور سورة عنکبوت میں مذکورہ ہے اور تھوڑا تھوڑا دیگر مواقع میں بھی ہے۔ یہ لوگ ایمان بھی نہ لائے اور جن برے کاموں میں مبتلا تھے ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے روکا تو الٹے الٹے جواب دیتے رہے۔ یہاں سورة اعراف میں ان کی ایک بد کرداری کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وہ یہ کہ مرد، مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ بےحیائی کا ایسا کام ہے جسے تم سے پہلے جہانوں میں کسی نے بھی نہیں کیا۔ اس بد کرداری اور بد فعلی کی تم نے بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خالق ومالک کی شریعت کے خلاف ہے اور فطرت انسانی کے بھی۔ ان کی دوسری بد کر داری یہ تھی کہ راہزنی کرتے تھے جسے سورة عنکبوت میں (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا (اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُوْنَ ) (کیا تم سارے جہانوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو اور وہ جو اللہ نے تمہارے لیے پیدا کیا یعنی تمہاری بیویاں ان کو چھوڑتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو) سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا برے کام سے روکا لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور بےہودہ جواب دینے لگے۔ کہنے لگے کہ اجی ! ان لوگوں کو بستی سے نکال لو۔ یہ لوگ پاکباز بنتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ خود پاکباز بنتے ہیں اور ہمیں گندا بتاتے ہیں۔ گندوں میں پاکوں کا کیا کام ؟ یہ بات انہوں نے ازراہ تمسخر کہی تھی۔ سورة شعراء میں ہے (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یَالُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ) (ان لوگوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے لوط ! اگر تو باز نہ آیا تو ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہیں نکال دیا جاتا ہے) (قَالَ اِِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ) (حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا میں تمہارے اعمال سے بغض رکھنے والا ہوں) وہ لوگ اپنی بےہودگی اور بےحیائی پر اڑے رہے اور کمال بےہودگی اور ڈھٹائی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اللہ کا عذاب لے آ جیسا کہ سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا اءْتِنَا بِعَذَاب اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) آخر ان پر عذاب آگیا اور انہیں منہ مانگی مراد مل گئی۔ سورة انعام میں فرمایا (وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا) اور سورة شعرا اور سورة نمل میں بھی ایسا ہی فرمایا یعنی ہم نے ان پر بڑی بارش برسادی اور سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰٓی اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ) (کہ ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس سبب سے کہ وہ بد کاری کرتے تھے) یہ کیا عذاب تھا اور کیسی بارش تھی اس کے بارے میں سورة ہود میں فرمایا ہے۔ (فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ ) (سو جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والا حصہ کردیا اور ہم نے اس زمین پر کنکر کے پتھروں کی بارش برسا دی جو لگا تار گر رہے تھے جو آپ کے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے) سورة حجر میں بھی یہ مضمون ہے وہاں فرمایا ہے۔ (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ) (سو پکڑ لیا ان کو چیخ نے سورج نکلتے نکلتے سو کردیا ہم نے اس کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا حصہ اور برسا دیئے ہم نے ان پر کنکر کے پتھر) ان سب آیات کو ملانے سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر تینوں طرح کا عذاب آیا چیخ نے بھی پکڑا، ان کی سر زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا، اور ان پر پتھر بھی برسا دیئے گئے ان بستیوں کو سورة برأت (ع 9) میں الْمُؤْتَفِکٰت سے تعبیر کیا ہے یعنی الٹی ہوئی بستیاں سورة ہود اور سورة ذاریات اور سورة عنکبوت میں ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے آئے تو پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے ان کی مہمانی کا انتظام کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ حضرات کیوں بھیجے گئے۔ سورة ذاریات میں ہے۔ (قَالُوْا اِِنَّا اُرْسِلْنَا اِِلٰی قَوْمٍ مُجْرِمِیْنَ لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَبَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) (انہوں نے جواب میں کہا کہ بلاشبہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جن پر نشان لگے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے، سو نکال دیا ہم نے جو ان میں ایمان والے تھے پس ہم نے اس میں ایک گھر کے سوا کوئی گھر مسلمانوں کا نہیں پایا) حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت محنت کی، حق کی طرف بلایا اور ایمان لانے کی دعوت دی لیکن قوم میں سے کوئی شخص بھی مسلمان نہ ہوا اور اپنی بیہودہ حرکتوں میں لگے رہے البتہ ان کے گھر کے لوگ مسلمان ہوگئے لیکن ان کی بیوی مسلمان نہ ہوئی تھی۔ مسلمان ہونے والی ان کی لڑکیاں تھیں اسی کو فرمایا کہ ایک گھر کے سوا کسی کو مسلمان نہ پایا۔ ان کی بیوی بھی چونکہ مسلمان نہ ہوئی تھی اسی لیے وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل کرلی گئی۔