زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے اور کہا: اس کو اپنی زبان میں بیان کیجئے اور ہماری زبان میں اس کی تشریح کیجئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے «حنتمة» سے منع فرمایا ہے اور وہ مٹکا ہے، آپ نے «دباء» سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کی تو نبی ہے۔ آپ نے «نقير» سے منع فرمایا اور وہ کھجور کی جڑ ہے جس کو اندر سے گہرا کر کے یا خراد کر برتن بنا لیتے ہیں، آپ نے «مزفت» سے منع فرمایا اور وہ روغن قیر ملا ہوا (لاکھی) برتن ہے، اور آپ نے حکم دیا کہ نبیذ مشکوں میں بنائی جائے ١ ؎۔
Amr ibn Murrah reported having heard Zadhan say I asked lbn Umar (RA) about the vessels disallowed by Allah’s Messenger ﷺ asked him to name them in “your language” and explain them in “our language.” So, he said, “Allah’s Messenger disallowed hantamah which is a green jar, dubba which is hollow pumpkins used as containers, naqir which is hollow stumps (of dates) or peeled and cleaned, and muzzafat which is vessels smeared with pitch. He gave command that nabidh should be made in water-skins.” [Muslim 1997]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، عبدالرحمٰن بن یعمر، سمرہ، انس، عائشہ، عمران بن حصین، عائذ بن عمرو، حکم غفاری اور میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کے الفاظ «حنتم»، «دباء»، «نقیر» اور «مزفت» یہ مختلف قسم کے برتنوں کے نام ہیں، ان میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی، شراب کی حرمت کے وقت ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیا گیا، پھر بعد میں بریدہ اسلمی کی اگلی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» یعنی میں نے تمہیں مختلف برتنوں کے استعمال سے منع کردیا تھا، لیکن اب انہیں اپنے پینے کے لیے استعمال کرسکتے ہو سے ان برتنوں کی ممانعت منسوخ ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧/٥٧)، سنن النسائی/الأشربة ٣٧ (٥٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٦)، و مسند احمد (٢/٥٦) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (اس سے پہلے باب کی حدیث میں مذکور) برتنوں سے منع کیا تھا، درحقیقت برتن کسی چیز کو نہ تو حلال کرتے ہیں نہ حرام (بلکہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Sayyidina Buraydah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I had disallowed you to make nabidh in certain vessels. Indeed, vessels do not make anything lawful or unlawful, but every intoxicant is forbidden.” [Muslim 977]
صحيح التعليق علی ابن ماجةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1869
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ان) برتنوں (کے استعمال) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی، اور کہا: ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تب میں منع نہیں کرتا ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed (certain) vessels (to prepare nabidh in them). The Ansars complained to him, saying, “We do not have (other) vessels.” He said, “In that case, you may.” [Bukhari 5592]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کردیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah said, ‘We used to prepare nabiz for Allah’s Messenge ﷺ in a waterskin. We would tie shut its higher opening; it also had a small lower opening. If we soaked it in the morning, he drank it in the evening and if we soaked it in the evening he drank it in the morning.” [Muslim 2005]
صحيح، ابن ماجة (3398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - عائشہ ؓ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا تھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیدا ہوجائے۔
عمر ؓ کہتے ہیں کہ شراب گیہوں سے بنائی جاتی ہے، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
Ahmad ibn Mani reported it from Abdullah ibn Idris, from Abu Hayyan Taymou, from Shabi who from Ibn Umar (RA) from Umar ibn Khattab (RA) that wine is prepared from wheat. [Bukhari 4619, Muslim 3032, Abu Dawud 3669]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ گیہوں سے شراب بنائی جاتی ہے، یہ ابراہیم بن مہاجر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٢ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: ابراہیم بن مہاجر حدیث بیان کرنے میں قوی نہیں ہیں، ٣ - یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی نعمان بن بشیر سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سابقہ حدیث نمبر ( ١٨٧٢ ) سے زیادہ صحیح ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «گدر» (ادھ پکی) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger forbade them to make nabidh from unripe dates and fresh dates. [Bukhari 5601, Muslim 1986]
صحيح، ابن ماجة (3395)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ «خلیط» ہونے (دونوں کے مل جانے) سے اس میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے، باوجود یہ کہ اس کا رنگ نہیں بدلتا ہے، اس لیے پینے والا یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ابھی یہ نشہ آور نہیں ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «گدر» (ادھ پکی) کھجور اور پختہ کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا: اور آپ نے مٹکوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
Sayyidina Aba Sa’eed reported that the Prophet ﷺ forbade preparing nabizdh from unripe dates and fresh dates, and from dates and grapes and from making nabidh in waterskin. [Muslim 1987]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، انس، ابوقتادہ، ابن عباس، ام سلمہ اور «معبد بن کعب عن أمہ» ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کرچکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ١ ؎، بیشک رسول اللہ ﷺ نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے ۔
Hakam reported having heard Ibn Abu Layla say that Huzayfah (RA) asked for water. Someone brought it in a silver vessel. He threw it away, saying, “I had forbidden him but he refused to cease. Indeed, Allah’s Messenger disallowed us to drink from vessels of gold and silver, to don silk and brocade, saying that these are for them (the infidels) in this world and for you (Muslims), in the next.” [Bukhari 5426, Muslim 2067]
صحيح، ابن ماجة (3414)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ام سلمہ، براء، اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیا تھا، لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦)، والأشربة ٢٧ (٥٦٣٢)، و ٢٨ (٥٦٣٣)، واللباس ٢٥ (٥٨٣١)، و ٢٧ (٥٨٣٧)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٧ (٣٧٢٣)، سنن النسائی/الزینة ٣٣ (٥٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٧ (٣٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٣)، و مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٠، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا، پوچھا گیا: کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے؟ کہا: یہ اور برا ہے ۔
Sayyidina Anas reported that the Prophet ﷺ disallowed that a man should drink (anything) while he is standing. Someone asked, “And eating?” He said, “That is worse than that.” [Muslim 2024]
صحيح، ابن ماجة (3424)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٤ (٢٠٢٤)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٣ (٣٧١٧)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠)، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٨٢، ٢٧٧) سنن الدارمی/الأشربة ٢٤ (٢١٧٣) (صحیح )
جارود بن معلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Jarud ibn Ala reported that the Prophet ﷺ is ﷺ forbade drinking anything while standing.
صحيح بما قبله (1879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب حسن ہے، ٢ - اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث بطریق: «عن قتادة عن يزيد بن عبد اللہ ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کی گری ہوئی چیز (یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے ، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣١٧٧) (صحیح) (سند میں ابو مسلم جذمی مقبول عند المتابعہ ہیں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث رقم ١٨٧٩ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar said, “In the times of Allah’s Messenger we used to eat while walking about and drink while standing.” [Ibn e Majah 3301]
صحيح، المشکاة (4275)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث «عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے، ٢ - عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس ؓ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتر اور اچھا ہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیا جائے گا۔ یعنی جہاں مجبوری ہو وہاں ایسا کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٥ (٣٣٠١)، (تحفة الأشراف: ٧٨٢١) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) drank zamzam water while he was standing. [Bukhari 163]
صحيح، ابن ماجة (3422 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، سعد، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے بیان جواز کے لیے کیا ہو، اس کا بھی امکان ہے کہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی ہو، یا وہاں خشک جگہ نہ رہی ہو، اس لیے آپ نہ بیٹھے ہوں، یہ عام خیال بالکل غلط ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧)، والأشربة ٦ (٥٦١٧)، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧)، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٩٦٧)، و ٦٦ (٢٩٦٨)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٢)، والمؤلف في الشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٨، ١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٧)، و مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٣٤٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے: (پانی پینے کا یہ طریقہ) زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) said that the Prophet ﷺ used to pause for breath three times while drinking and say, “This is more thirst-quenching and more pleasant.”
صحيح، ابن ماجة (3416)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1884
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے، نبی اکرم ﷺ برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ پینے والی چیز تین سانس میں پی جائے، اور سانس لیتے وقت برتن سے منہ ہٹا کر سانس لی جائے، اس سے معدہ پر یکبارگی بوجھ نہیں پڑتا، اور اس میں حیوانوں سے مشابہت بھی نہیں پائی جاتی، دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے برتن میں سانس لینے سے تھوک اور جراثیم وغیرہ جانے کا جو خطرہ ہے اس سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، جب پیو تو «بسم اللہ» کہو اور جب منہ سے برتن ہٹاؤ تو «الحمدللہ» کہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not drink like a camel in one breath, but drink in two or three sips taking breath, and say Bismillah, when you begin and praise Allah when you have finished.”
ضعيف، المشکاة (4278 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6233) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٩٧١) (ضعیف) (سند میں ابن عطاء بن ابی رباح مبہم راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that when the Prophet ﷺ drank water, he breathed twice in the course of it. [Ibn e Majah 3417]
ضعيف، ابن ماجة (3417) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (743)، ضعيف الجامع الصغير (4424) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: وہ زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب؟ انہوں نے کہا: دونوں (رتبہ میں) بہت ہی قریب ہیں، اور میرے نزدیک رشدین بن کریب زیادہ راجح ہیں، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: محمد بن کریب، رشدین بن کریب سے زیادہ راجح ہیں، ٥ - میرے نزدیک ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کی بات زیادہ صحیح ہے کہ رشدین بن کریب زیادہ راجح اور بڑے ہیں، انہوں نے ابن عباس کو پایا ہے اور انہیں دیکھا ہے، یہ دونوں بھائی ہیں ان دونوں سے منکر احادیث بھی مروی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٨ (٣٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٦٣٤٧) (ضعیف) (سند میں رشدین بن کریب ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے بہا دو، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: تب (سانس لیتے وقت) پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade them to blow in a drink. A man asked, “What, if there is some dirt in the vessel?” He said, “Drop them down.” The man submitted, “I am not satiated in one breath.” He said, “When you breathe, turn your face away from the vessel.” [Ahmed 11654]
حسن، الصحيحة (385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1887