ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیئے تو برتن میں سانس نہ چھوڑے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Qatadah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you drinks something, he must not breathe in the vessel.” [Bukhari 153, Muslim 267]
صحيح، صحيح أبي داود (23)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث بظاہر انس ؓ کی اس حدیث کے معارض ہے «أن النبي صلی اللہ عليه وسلم کان يتنفس في الإناء ثلاثا» یعنی نبی اکرم ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے، ابوقتادہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی برتن سے پانی پیتے وقت برتن کو منہ سے ہٹائے بغیر برتن میں سانس لیتا ہے تو یہ مکروہ ہے، اور انس ؓ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے، اور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے جدا رکھتے تھے، اس توجیہ سے دونوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہ جاتا۔
ابو سعید خدری ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) said that the Prophet ﷺ disallowed them to drink from the mouth of a water skin. [Bukhari 5625, Muslim 2023]
صحيح، ابن ماجة (3418)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: ( ١ ) مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتا ہے، ( ٢ ) اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو، ( ٣ ) مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا، اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جاسکتا ہے کہ جس میں اچھو آنے کا خطرہ ہوتا ہے جو نقصان دہ ہوسکتا ہے، ( ٤ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے، ( ٥ ) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے، ( ٦ ) عذر کی صورت میں جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٣ (٥٦٢٤)، صحیح مسلم/الأشربة (٢٠٢٣)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٥ (٣٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٩ (٣٤١٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٨)، و مسند احمد (٣/٦، ٦٧، ٦٩، ٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔
Sayyidina Abdullah ibn Unays (RA) said, “I saw the Prophet ﷺ stand by a water-skin suspended above. He inclined it down and drank from it (from its mouth).” [Abu Dawud 3721]
منكر، ضعيف أبي داود // 797 / 3721 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے (جو آگے آرہی ہے) ، ٢ - اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ١٥ (٣٧٢١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (منکر) (سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے )
کبشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا ١ ؎۔
Sayyidnh Kabshah (RA) reported that Allah’s Messenger visited her and drank water standing from the mouth of a suspended water-skin. She said, “I stood up and went to it and cut off the portion (where the Prophet ﷺ had drunk).” [Ibn e Majah 3423]
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں ابوبکر ؓ، آپ نے دودھ پیا، پھر (بچا ہوا دودھ) اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ مستحق ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that milk to which water was added was offered to Allah’s Messenger ﷺ to whose right hand sat a villager and to the left sat Abu Bakr (RA) .He drank and gave it to the villager, “The (one to the) right, so to the right (is more deserving).” [Bukhari 5612, Muslim 2129]
صحيح، ابن ماجة (3425)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس، سہل بن سعد، ابن عمر اور عبداللہ بن بسر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ١٤ (٥٦١٣)، و ١٨ (٥٧١٩) والشرب ١ (٢٣٥٢)، والہبة ٤ (٢٥٧١)، صحیح مسلم/الأشربة ١٧ (٢٠٢٩)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٩ (٣٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٢ (٣٤٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ٩ (١٧)، و مسند احمد (٣/١١٠، ١١٣، ١٩٧)، سنن الدارمی/الأشربة ١٨ (٢١٦٢) (صحیح )
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: میٹھا اور ٹھنڈا مشروب ۔
Zuhri reported from the Prophet ﷺ that he was asked, “Which drink is the purest?’ He said, “That which is sweet and cool.” [Ahmed 24155]
صحيح انظر ما قبله (1895)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم ﷺ مرسلاً روایت کی ہے، ٢ - یہ ابن عیینہ (رح) کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٣٩٤ و ١٩٤١٤) (صحیح الإسناد مرسل) (زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرم ﷺ سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علماء نے دیا ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح )
معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا، درجہ بدرجہ ١ ؎۔
Bahz ibn Hakim reported on the authority of his father and his grandfather that he asked, “O Messenger of Allah! ﷺ who is most deserving (of kind treatment)?” He said, “Your mother.” He asked, ‘Who next?” He said, “Your mother.” He asked, “And after her?” He (again) said, “Your mother.” He asked, “And next?” He said, “Your father. Then, the nearest, followed by the nearest.” [Bukhari 5971, Muslim 2548]
حسن، المشکاة (4929)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے، محدثین کے نزدیک وہ ثقہ ہیں، ان سے معمر، ثوری، حماد بن سلمہ اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، عائشہ اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ماں کو تین مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے: ایک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب نو ماہ تک بچہ کو پیٹ میں رکھ کر مشقت و تکلیف برداشت کرتی ہے، دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب بچہ جننے کا وقت آتا ہے، وضع حمل کے وقت کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ماں ہی کو معلوم ہے، تیسرا مرحلہ دودھ پلانے کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماں کو قرابت داروں میں نیکی اور صلہ رحمی کے لیے سب سے افضل اور سب سے مستحق قرار دیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٢٩ (٥١٣٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، و مسند احمد (٥/٣، ٥) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، پھر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے، حالانکہ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud narrated: I asked Allah’s Messenger “O Messenger of Allah, which deed is most excellent?” He said, “Salah at its appointed time. I asked, “Then what, “O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Kindness to parents.” I asked, “What next, no Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Jihad in Allah’s path.” Then, Allah’s Messenger ﷺ observed silence with me. And, if I had asked more, he woi.ld have answered more. [Bukhari 527, Muslim 85]
صحيح، الصحيحة (1489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے ابوعمرو شیبانی، شعبہ اور کئی لوگوں نے ولید بن عیزار سے روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث ابوعمرو شیبانی کے واسطہ سے ابن مسعود سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سب سے افضل و بہتر عمل ہے، بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا یہ سب سے اچھا کام ہے، اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ سب سے اچھا کام ہے، جب کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز سب سے افضل عمل ہے، اسی لیے اس کی توجیہ میں مختلف اقوال وارد ہیں، سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ افضل اعمال سے پہلے حرف «مِن» محذوف مان لیا جائے، گویا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ سب افضل اعمال میں سے ہیں، دوسری توجیہ یہ ہے کہ اس کا تعلق سائل کے احوال اور وقت کے اختلاف سے ہے، یعنی سائل اور وقت کے تقاضے کا خیال رکھتے ہوئے اس کے مناسب جواب دیا گیا۔ اور اپنی جگہ پر یہ سب اچھے کام ہیں۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے، (میں کیا کروں؟ ) ابوالدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ١ ؎۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» (میری ماں) کہا اور کبھی «إن أبی» (میرا باپ) کہا۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that a man came to him and said, “I have a wife and my mother command’s him to divorce her.’ He said, “I heard Allah’s Messenger say, ‘The father is the central door of the doors of paradise. So, if you like demolish this door or protect it.’” Sufyan sometimes said, ‘My mother’ and at other times, ‘my father.’ [Ahmed 21776]
١ ؎: یعنی ماں باپ کے حقوق کی حفاظت کی جائے اور اس کا خاص خیال رکھا جائے، اگر والد کو جنس مان لیا جائے تو ماں باپ دونوں مراد ہوں گے، یا حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ والد کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے تو والدہ کے مقام کا کیا حال ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ۔
Sayyidina Abdullah (RA) ibn Amr reported that the Prophet ﷺ said, ‘The pleasure of the Lord lies in the pleasure of the father, and the Lord’s wrath in the father’s wrath.” [Ahmed 27581]
صحيح، الصحيحة (515)
صحيح، الصحيحة (515)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1899
اس سند سے عبداللہ بن عمرو ؓ سے (موقوفاً ) اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ شعبہ نے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - شعبہ کے شاگردوں نے اسی طرح «عن شعبة عن يعلی بن عطاء عن أبيه عن عبد اللہ بن عمرو» کی سند سے موقوفا روایت کی ہے، ہم خالد بن حارث کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں، جس نے شعبہ سے اس حدیث کو مرفوعاً روایت کی ہو، ٢ - خالد بن حارث ثقہ ہیں، مامون ہیں، کہتے ہیں: میں نے بصرہ میں خالد بن حارث جیسا اور کوفہ میں عبداللہ بن ادریس جیسا کسی کو نہیں دیکھا، ٣ - اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٨٨٨) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح )
ابوبکرہ نفیع بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، راوی کہتے ہیں: آپ اٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا ، یا جھوٹی بات کہنا رسول اللہ ﷺ باربار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ خاموش ہوجاتے ۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger asked, ‘Shall I not inform you of the great of the gravest of sins?” They said, “Of course, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Joining partner with Allah and disobedience to parents.”He then sat straight though he had been reclining before and said, “False testimony.” or he said, “False speech.” He did not cease to say that till they hoped that he would pause. [Bukhari 2654, Muslim 87]
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1901
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشھادات ١٠ (٢٦٥٤)، والأدب ٦ (٥٩٧٦)، والاستئذان ٣٥ (٦٢٧٣)، والمرتدین ١ (٦٩١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٨ (٨٧)، والمؤلف في الشھادات (٢٣٠١)، وتفسیر النساء (٣٠١٩) (تحفة الأشراف: ١١٦٧٩)، و مسند احمد (٥/٣٦، ٣٨) (صحیح )
٢ - عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Among the grave sins is that a man should revile his parents.” They asked, “O Messenger of Allah, can a man revile his parents?” He said, “Yes. He abuses the father of a man who repays by abusing his father. And he abuses his mother, so he retorts and abuses the mother of this man.” [Bukhari 5973]
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “The most pious of pious deeds is that a man should join ties of relationship with his father’s friends.” [Bukhari 41, Muslim 2552]
٢ - اس سند سے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، لیکن اس میں ابن عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three (kinds of) supplication are answered, no doubt about it: prayer of an oppressed, prayer of a traveller and the prayer of the father against his son.” [Ahmed 7513]
حسن، ابن ماجة (3862)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1905
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (١٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٨٦٢)، ویأتي عند المؤلف في الدعوات ٤٨ (٣٤٤٨) (تحفة الأشراف: ١١٨٧٣)، و مسند احمد (٢/٢٥٨، ٤٧٨، ٥٢٣) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “A son cannot give rights of a father unless he finds him a slave of someone and buys him and sets him free. [Bukhari 10, Muslim 1510]
صحيح، ابن ماجة (3659)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - حجاج صواف نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے، ابو جعفر جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے انہیں ابو جعفر مؤذن کہا جاتا ہے، ہم ان کا نام نہیں جانتے ہیں، ٢ - ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٦ (١٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٦٥٩) (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٥)، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٦٣، ٢٧٦، ٤٤٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے (یعنی باپ کو) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahaman ibn Awf (RA) narrated: I heard Allah’s Messenger ﷺ say that Allah, the Blessed and the Exalted, said, “I am Allah and I am Ar – Rahman (the Compassionate). I created Ar-Rahim ties of relationsip, and carved it out of my name. Thus he who joins it, I join him and he who severs it, I sever him.” [Bukhari 53]
صحيح، الصحيحة (520)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ہم اسے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باپ کے احسان کا بدلہ اس لیے ہے کہ غلامی کی زندگی سے کسی کو آزاد کرانا اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعہ کوئی کسی دوسرے پر احسان کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٤٦ (١٦٩٤) (تحفة الأشراف: ٩٧٢٨)، و مسند احمد (١/١٩١، ١٩٤) (صحیح )