ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوالرداد لیثی بیمار ہوگئے، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ان کی عیادت کو گئے، ابوالرداء نے کہا: میرے علم کے مطابق ابو محمد (عبدالرحمٰن بن عوف) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے «رحم» (یعنی رشتے ناتے) کو پیدا کیا ہے، اور اس کا نام اپنے نام سے (مشتق کر کے) رکھا ہے، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دوں گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The joiner of ties of relationship is not one who reciprocrates a kind gesture but he is one who when ties of relationship are broken with him (by the other), he keeps them joined.” [Bukhari 5991]
صحيح غاية المرام (404)، صحيح أبي داود (1489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابو سعید خدری، ابن ابی اوفی، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٢ - زہری سے مروی سفیان کی حدیث صحیح ہے، معمر نے زہری سے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن رداد الليثي عن عبدالرحمٰن بن عوف و معمر» کی سند سے روایت کی ہے، معمر نے (سند بیان کرتے ہوئے) ایسا ہی کہا ہے، محمد (بخاری) کہتے ہیں: معمر کی حدیث میں خطا ہے، (دونوں سندوں میں فرق واضح ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے رداد آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ رداد کو بعض لوگوں نے ابوالرداد کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ١ ؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے ۔
Sayyidina Jubayr ibn Mut’ini reported that Allah’s Messenger said, “The qaati (one who cuts off) will not enter paradise.” Ibn Umar (RA) ﷺ said that Sufyan xplained that qaati means “One who severs ties of relationship.” [Bukhari 5984]
صحيح غاية المرام (407)، صحيح أبي داود (1488)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1909
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صلہ رحمی کی جائے تو صلہ رحمی کرے اور قطع رحمی کیا جائے تو قطع رحمی کرے، یہ کوئی صلہ رحمی نہیں۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان نے کہا: «قاطع» سے مراد «قاطع رحم» (یعنی رشتہ ناتا توڑنے والا) ہے۔
Sayyidah Khawlah bint Hakim (RA) narrated One day, Allah’s Messenger ﷺ came out carrying one of the sons of his daughter, saying, “Surely you....the lot of you children..., turn (parents) into misers, cowards and ignorants. And you are from the fragrance of Allah.”
ضعيف، الضعيفة (3214) // ضعيف الجامع الصغير (2041) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: تخریج کتاب الزہد لوکیع بن الجراح ب تحقیق، عبدالرحمن الفریوائی، حدیث نمبر ١٧٨، والضعیفة ٣٢١٤، والصحیحة ٤٧٦٤ )
خولہ بنت حکیم ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گود میں اپنی بیٹی (فاطمہ) کے دو لڑکوں (حسن، حسین) میں سے کسی کو لیے ہوئے باہر نکلے اور آپ (اس لڑکے کی طرف متوجہ ہو کر) فرما رہے تھے: تم لوگ بخیل بنا دیتے ہو، تم لوگ بزدل بنا دیتے ہو، اور تم لوگ جاہل بنا دیتے ہو، یقیناً تم لوگ اللہ کے عطا کئے ہوئے پھولوں میں سے ہو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah(RA) narrated Aqra’ ibn Habis (RA) saw the Prophet ﷺ kiss Hasan Ibn Abu Umar said, “Hasan or Husayn.” And he commented, “I have ten children (or Sons), but I do not kiss any one of them.” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, he who does not dispense mercy is not shown mercy.” [Bukhari 5997]
صحيح تخريج مشكلة الفقر (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کا سماع خولہ سے ثابت ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور اشعث بن قیس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, As for one of you who has three daughters or three sisters and attends to them well, he will get nothing short of admittance to paradise.” [Bukhari 1418]
ضعيف بهذا اللفظ الصحيحة تحت الحديث (294) // ضعيف الجامع الصغير (5808) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩١٢ (تحفة الأشراف: ١٠٨٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: حدیث رقم: ١٩١٢، وصحیح الترغیب ١٩٧٣ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہوگا ۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone has three daughters or three sisters, or two daughters or two sisters and he looks after them well, fearing Allah in this regard then for him is paradise.’
ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے، ٢ - اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے (سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان) ایک اور راوی (ایوب بن بشیر) کا اضافہ کیا ہے، ٣ - اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٠ (٥١٤٧) (تحفة الأشراف: ٤٠٤١)، و یأتي برقم ١٩١٦ (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب ١٩٧٣، و الادب المفرد باب من أعلی جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی ٤٠٩، والسراج المنیر ٢/١٠٤٩ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated Allah’s Messenger said, “If anyone is tried in a little way regarding daughters and he exhibits patience with them then they will serve as an obstacle to Hell for him.” [Muslim 2631]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٠ (١٤١٨)، والأدب ١٨ (٥٩٩٥)، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٦ (٢٦٢٩)، کلاہما مع ذکر القصة المشھورة في رقم ١٩١٥، و مسند احمد (٦/٣٣، ٨٨، ١٦٦، ٢٤٣)، ویأتي عند المؤلف برقم ١٩١٥ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے (کھانے کے لیے) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چناچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ (واقعہ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated: A woman came to me with her two daughters. She asked me for something but I did not have anything except a piece of date which I gave her for herself. She divided that between her two daughters and she did not eat all all, then she stood up and went away. The Prophet ﷺ came later and I in formed him and he said, “One who is tried a little bit concerning these daughters will find them a protection from the Fire.” [Bukhari 5995]
١ ؎: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ ؓ نے اسے تین کھجوریں دی تھیں، دو کھجوریں اس نے ان دونوں بچیوں کو دے دیں اور ایک کھجور خود کھانا چاہتی تھی، لیکن بچیوں کی خواہش پر آدھا آدھا کر کے اسے بھی ان کو دے دیا، جس پر عائشہ ؓ کو بڑا تعجب ہوا، ان دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ایک کھجور دی، پھر بعد میں جب دو کھجوریں اور مل گئیں تو انہیں بھی اس کے حوالہ کردیا، یا یہ کہا جائے کہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔
Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم ١٩١٣ (تحفة الأشراف: ١٦٣٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے ، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger - said, “As for him who sustains two girls, I and he will enter paradise like these two” and, he gestured with two fingers. (The index and next fingers).
صحيح، الصحيحة (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1914
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن عبید نے محمد بن عبدالعزیز کے واسطہ سے اسی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہے اور سند بیان کرتے ہوئے کہا ہے: «عن أبي بکر بن عبيد اللہ بن أنس» حالانکہ صحیح یوں ہے «عن عبيد اللہ بن أبي بکر بن أنس»۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٣) (صحیح) (مسلم کی سند میں ” عن عبيد اللہ بن أبي بکر بن أنس، عن أنس بن مالک “ ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ (شرک) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone invites a Muslim orphan to his food and drink then Allah will admit him to paradise there being not even a semblance of doubt about it unless he commits a sin that is unforgivable.”
ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 230)، الضعيفة (5345) // ضعيف الجامع الصغير (5745) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے، کنیت ابوعلی رحبی ہے، سلیمان تیمی کہتے ہیں: یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٢ - اس باب میں مرہ فہری، ابوہریرہ، ابوامامہ اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٠٢٧) (ضعیف) (سند میں ” حنش “ یعنی حسین بن قیس “ متروک الحدیث ہے )
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے ١ ؎ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
Sayyidina Sahl ibn Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I and the guardian of an orphan will be in paradise like this.” and he gestured with his two fingers, the index finger and the middle finger. [Ahmed 22883]
صحيح، الصحيحة (800)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ ہے یتیموں کے سرپرستوں کے درجات کی بلندی کی طرف یعنی یتیموں کی کفالت کرنے والے جنت میں اونچے درجات پر فائز ہوں گے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم ﷺ سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik narrated: An old man came to meet the Prophet ﷺ The people were slow to give him passage. So, the Prophet ﷺ said, “He is not one of us who is not compassionate to our young (children) and respectful to our old.” [Bukhari 354]
صحيح، الصحيحة (2196)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٣٨) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” زربی “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحہ رقم: ٢١٩٦ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے ۔
Abu Bakr (RA) Muhammad ibn Aban reported from Muhammad ibn Fubayl, from Muhammad ibn Ishaq, from Amir ibn Shu’ayb, from his father and from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “He is not one of us who does not show mercy to our young and (does not) know the nobility of our old people.” [Bukhari 355]
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف (بھلی باتوں) کا حکم نہ دے اور منکر (بری باتوں) سے منع نہ کرے ۔
Abu Bakr (RA) Muhammad ibn Absan reported from Yazid ibn Harun, from Shank, from Layth, from Ikrimah from Ibn Abbas (RA) that Allah’s Messenger said, “He is not one of us who does not show mercy to our young and respect our old and enjoin piety and forbid evil.” [Ahmed 2329]
ضعيف، المشکاة (4970)، التعليق الرغيب (3 / 173) // ضعيف الجامع الصغير (4938) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے، ٣ - عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے، ٥ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٢٠٧)، و مسند احمد (١/٢٥٧) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبي سلیم اور شریک القاضي دونوں ضعیف ہیں، مگر پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے پچھلی دونوں حدیثیں )
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں پر مہربانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی نہیں کرے گا ۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone does not show mercy to people then Allah will not show mercy to him.” [Bukhari 7376]
صحيح تخريج مشكلة الفقر (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابو سعید خدری، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعثمان جنہوں نے ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ان کا نام نہیں معلوم ہے، کہا جاتا ہے، وہ اس موسیٰ بن ابوعثمان کے والد ہیں جن سے ابوالزناد نے روایت کی ہے، ابوالزناد نے «عن موسیٰ بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق (نکلا) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “To those who dispense mercy, the Compasionate. Ar.Rahman is merciful. Show mercy to those who are on earth, He who is in the heaven will be merciful to you i. (Rahim) is a branch of (Ar-Rahman). Thus, Allah joins ties with him who keeps it united and severs ties with one who severs it.” [Bukhari 57]
صحيح، الصحيحة (922)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1924
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: دین سراپا خیر خواہی ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said three times, “Religion is nasihah. “The sahabah (RA) asked, “O Messenger of Allah, for whom?” He said, “For Allah, for His Book, for the leaders of Muslims and their common men.” [Bukhari 57]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور اس کی ذات پر صحیح طور پر ایمان رکھنا یہ اللہ کے ساتھ خیر خواہی ہے، جس کا فائدہ انسان کو خود اپنی ذات کو پہنچتا ہے، ورنہ اللہ عزوجل کی خیر خواہی کون کرسکتا ہے، اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ نصیحت اور خیر خواہی کا حق اللہ کے لیے ہے جو وہ اپنی مخلوق سے کرتا ہے، اور اس کی کتاب (قرآن) کے ساتھ خیر خواہی اس کے احکام پر عمل کرنا ہے، اس میں غور و فکر اور تدبر کرنا اس کی تعلیمات کو پھیلانا اس میں تحریف سے بچنا، اس کی تصدیق کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کا التزام کرنا ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا پابند ہونا، اس کی رسالت کی تصدیق کرنا اور اس کی فرماں برداری کرنا یہ رسول کی خیر خواہی ہے، مسلمان حکمراں اور ائمہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ حق اور غیر معصیت میں ان کی اعانت و اطاعت کی جائے، سیدھے راستے سے انحراف کرنے کی صورت میں ان کے خلاف خروج و بغاوت سے گریز کرتے ہوئے انہیں معروف کا حکم دیا جائے، سوائے اس کے کہ ان سے صریحاً کفر کا اظہار ہو تو ایسی صورت میں ترک اعانت ضروری ہے، عام مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ دنیا و آخرت سے متعلق جو بھی خیر اور بھلائی کے کام ہیں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے، اور شر و فساد کے کاموں میں ان کی صحیح رہنمائی کی جائے، اور برائی سے روکا جائے۔
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah(RA) reported that he pledged allegiance to the Prophet ﷺ to establish salah, pay zakah and to give nasihah to all Muslims. [Muslim 55]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مالی اور بدنی عبادتوں میں نماز اور زکاۃ سب سے اصل ہیں، نیز «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کی شہادت و اعتراف کے بعد ارکان اسلام میں یہ دونوں (زکاۃ و صلاۃ) سب سے اہم ہیں اسی لیے ان کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر خواہی عام وخاص سب کے لیے ہے، طبرانی میں ہے کہ جریر ؓ نے اپنے غلام کو تین سو درہم کا ایک گھوڑا خریدنے کا حکم دیا، غلام گھوڑے کے ساتھ گھوڑے کے مالک کو بھی لے آیا، جریر ؓ نے کہا کہ تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا ہے، کیا اسے چار سو میں بیچو گے؟ وہ راضی ہوگیا، پھر آپ نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ قیمت کا ہے کیا پانچ سو درہم میں فروخت کرو گے، چناچہ وہ راضی ہوگیا، پھر اسی طرح اس کی قیمت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے آٹھ سو درہم میں خریدا، اس سلسلہ میں ان سے عرض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس سے جھوٹ نہ بولے، اور اس کو بےیار و مددگار نہ چھوڑے، ہر مسلمان کی عزت، دولت اور خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے، تقویٰ یہاں (دل میں) ہے، ایک شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر و کمتر سمجھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A Muslim is the brother of a Muslim. So, he must not betray him, tell him lies or adandon him. Everything of a Muslim that is unlawful to another Muslim includes his honour, his property and his blood. Taqwa is here (in the heart). It is enough to know a man is evil when he belittles his brother, Muslim.’ [Ahmed 8109]
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مسلمانوں کی عزت آبرو اور جان و مال کی حفاظت کرنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ بتائی گئی ہے کہ تقویٰ کا معاملہ انسان کا اندرونی معاملہ ہے، اس کا تعلق دل سے ہے، اس کا حال اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا، اس لیے دوسرے مسلمان کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے بارے میں قطعا یہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ میں زہد و تقویٰ کے اونچے مقام پر فائز ہوں، کیونکہ اس کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔