Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 94 of 199

1928Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کی مسلمان پر شفقت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرَ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِأَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے ۔

Sayyidina Abu Musa Ash’ary (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A believer is to (another) believer like a building part of which supports the other part.” [Bukhari 6026]

صحيح تخريج المشکاة (104)، إيمان ابن أبى شيبة (90)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨١)، والمظالم ٥ (٢٤٤٦)، والأدب ٢٦ (٦٠٢٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ١٧ (٢٥٨٥)، سنن النسائی/الزکاة ٦٧ (٢٥٦١) (تحفة الأشراف: ٩٠٤٠)، و مسند احمد (٤/٣٩٤) (صحیح )
1929Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کی مسلمان پر شفقت

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے (اطلاع کے ذریعہ) دور کر دے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Each of you is a mirror of his brother. So, if he sees a defect in him, he must remove it from him.”

ضعيف جدا، الضعيفة (1889) // ضعيف الجامع الصغير (1371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1929
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے، ٢ - اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤١٢١) (ضعیف جداً ) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے )
1930Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کی پردہ پوشی

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى أَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس نے دنیا میں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کرے گا، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہوتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a man removes a difficulty out of a Muslim’s worldly difficulties then Allah will remove from him a difficulty of the difficulties on the day of resurrection and if anyone makes it easy for a hard-pressed in this world then Allah will make it easy for him in this world and the next, and if anyone conceals a Muslim’s faults in this world then Allah will conceal his faults in this world and the next. Indeed, Allah continues to help the slave as long as the slave continues to help his brother.” [Bukhari 2442]

صحيح، ابن ماجة (1225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو ابو عوانہ اور کئی لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اس میں «حدثت عن أبي صالح» کے الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور عقبہ بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا کی خاطر دنیاوی مفاد کے بغیر جو کوئی مسلمانوں کی حاجات و ضروریات کا خاص خیال رکھے اور انہیں پوری کرے تو اس کا یہ عمل نہایت فضیلت والا ہے، ایسے شخص کی حاجات خود رب العالمین پوری کرتا ہے، مزید اسے آخرت میں اجر عظیم سے بھی نوازے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٢٥ (صحیح )
1931Sunan At-Tirmidhi

مسلمان سے مصیبت دور کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ، رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت (اس کی غیر موجودگی میں) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone removes blame) from the honour of his brother then Allah will remove from his face the fire on the day of resurrection. [Ahmed 27130]

صحيح غاية المرام (431)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت یزید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث میں «عن عرض أخيه» کے بعد «بالغيب» کا اضافہ ہے، مفہوم یہ ہے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرے اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اس کی بڑی فضیلت ہے، اور اس کا بڑا مقام ہے، اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب العالمین اسے جہنم کی آگ سے قیامت کے دن محفوظ رکھے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٥) (وانظر حم: ٦/٤٤٩، ٤٥٠) (صحیح )
1932Sunan At-Tirmidhi

ترک ملاقات کی ممانعت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے (کسی دوسرے مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Ayyub Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger said, it is not lawful for a Muslim to abandon his brother for over three (days)... meeting one another hut this one turning away and that one turning away. The better of the two is he who takes an initiative in greeting.” [Bukhari 6077]

صحيح، الإرواء (2029)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1932
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ، ہشام بن عامر اور ابوہند داری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے ذاتی نوعیت کے معاملات کی وجہ سے ناراض رہنا درست نہیں، اور اگر اس ناراضگی کا تعلق کسی دینی معاملہ سے ہو تو علماء کا کہنا ہے کہ اس وقت تک قطع تعلق درست ہے جب تک وہ سبب دور نہ ہوجائے جس سے یہ دینی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٦٢ (٦٠٧٧)، والإستئذان ٩ (٦٢٣٧)، صحیح مسلم/البر والصلة ٨ (٢٥٦٠) (تحفة الأشراف: ٣٤٧٩) (صحیح )
1933Sunan At-Tirmidhi

مسلمان بھائی کی غم خواری

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَهْيَمْ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَمَا أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ: نَوَاةً، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ؟ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، سَمِعْتُ إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ؓ (ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے کہا: آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کرلو، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتادیا، اس دن وہ (بازار سے) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا، اس کے (کچھ دنوں) بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ (یہ زردی کیسی) کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: اس کو مہر میں تم نے کیا دیا؟ کہا: ایک (سونے کی) گٹھلی، (یا گٹھلی کے برابر سونا) آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

Sayyidina Anas (RA) narrated: When Abdul Rahman ibn Awf (RA) came to Madinah, Allah’s Messenger ﷺ established fraternal ties between him and Sa’d ibn Rabi.’ He said to him, “Come, I will apportion to you my wealth, half of it. And, I have two wives, so I will divorce one of them and when she completes her waiting period, you may marry her. But, he said, ‘May Allah bless you in your family and your wealth. Guide me to the market.” So, he led him to the market. That very day, he did not return but he had with him some cheese and clarified butter which was his profit. Later (after some days), Allah’s Messenger saw him and he had a yellow stain on him and asked him about it. He said, “I have married an Ansar woman.” The Prophet ﷺ asked, “How much dower have you given her?” He said, ‘Nawat of gold.” He said, “Give a wedding feast, even a sheep.” [Bukhari 2048]

صحيح، ابن ماجة (1907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے، ٣ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١ (٢٠٤٩)، والکفالة ٢ (٢٢٩٣)، مناقب الأنصار ٣ (٣٧٨١)، و ٥٠ (٣٩٣٧)، والنکاح ٦٨ (٥١٦٧)، والأدب ٦٧ (٦٠٨٢) (تحفة الأشراف: ٥٧١)، و مسند احمد (٣/١٩٠، ٢٠٤، ٢٧١) (صحیح )
1934Sunan At-Tirmidhi

غیبت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے ، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت (چغلی) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that someone asked Allah’s Messenger ﷺ . ‘“What is backbiting?” He said, “It is your remembrance of your brother in a way that he does not like.” He asked, “What, if that fault I mention is found in him?” He said, “If what you say is found in him then that is backbiting. But, if what you say is not found in him then that is reviling him.” [Ahmed 3308, Abu Dawud 4874, Muslim 2589]

صحيح غاية المرام (426)، نقد الکتانی (36)، الصحيحة (2667)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیبت (چغلی) حرام اور کبیرہ گناہ ہے، قرآن کریم میں اسے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس حدیث میں بھی اس کی قباحت بیان ہوئی، اور قباحت کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کرنے والا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے، اور اس کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے، غیبت یہ ہے کہ کسی آدمی کا تذکرہ اس طور پر کیا جائے کہ جو اسے ناپسند ہو، یہ تذکرہ الفاظ میں ہو، یا اشارہ و کنایہ میں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٢٠ (٢٥٨٩)، سنن ابی داود/ الأدب ٤٠ (٤٨٧٤) (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٤)، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٥٨)، سنن الدارمی/الرقاق ٦ (٢٧٥٦) (صحیح )
1935Sunan At-Tirmidhi

حسد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, do not sever ties of relationship, do not criticize one who is absent, do not despise anyone and do not be jealous of someone. But, be slaves of Allah, brothers mutually. It is not lawful for a Muslim to abandon his brother for over three days.” [Ahmed 12074, Bukhari 6026, Muslim 2559, Abu Dawud 4910]

صحيح، الإرواء (7 / 93 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1935
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، زبیر بن عوام، ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بہتری کا خاص خیال رکھا ہے، اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اصلاح معاشرہ اور سماج کی سدھار سے ہے، صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، ہاہمی بغض و عناد اور دشمنی سے باز رہنے کو کہا گیا ہے، حسد جو معاشرہ کے لیے ایسی مہلک بیماری ہے جس سے نیکیاں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں، اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٥٧ (٦٠٦٥)، ٦٢ (٦٠٧٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ٧ (٢٥٥٩)، سنن ابی داود/ الأدب ٥٥ (٤٩١٠) (تحفة الأشراف: ١٤٨٨)، و مسند احمد (٣/١٩٩) (صحیح )
1936Sunan At-Tirmidhi

حسد

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے ١ ؎۔

Saalim reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “Envy is disallowed except in two cases: a man whom Allah has given wealth and he spends of it by night and by day, and a man whom Allah has given the Qur’an and he stands with it (giving its right) by night and by day.’ [Bukhari 7529, Muslim 815]

صحيح، الروض النضير (897)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1936
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حسد کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور مجازی، حقیقی حسد یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے پاس موجود نعمت کے ختم ہوجانے کی تمنا و خواہش کرے، حسد کی یہ قسم بالاتفاق حرام ہے، اس کی حرمت سے متعلق صحیح نصوص وارد ہیں، اسی لیے اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے، حسد کی دوسری قسم رشک ہے، یعنی دوسرے کی نعمت کے خاتمہ کی تمنا کیے بغیر اس نعمت کے مثل نعمت کے حصول کی تمنا کرنا، اس حدیث میں حسد کی یہی دوسری قسم مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٤٥ (٧٥٢٩)، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین ٤٧ (٨١٥)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٢ (٤٢٠٩) (تحفة الأشراف: ٦٨١٥)، و مسند احمد (٢/٩، ٣٦، ٨٨، ١٣٣، ١٥٢) (صحیح )
1937Sunan At-Tirmidhi

آپس میں بغض رکھنے کی برائی

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, the devil has despaired of being worshipped by those who offer salah, but he retains hope of setting them against each other.” [Muslim 2812]

صحيح، الصحيحة (1606)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مسلمان مرتد ہو کر بت پرستی کریں گے، اور شیطان کو پوجیں گے، اس مایوسی کے بعد وہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے، ان کے اندر بزدلی پیدا کرنے، جنگ وجدال اور فتنوں میں انہیں مشغول رکھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٦ (٢٨١٢) (تحفة الأشراف: ٢٣٠٢)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٤، ٣٦٦، ٣٨٤) (صحیح )
1938Sunan At-Tirmidhi(1939)

آپس میں صلح کرانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا، وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ، وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ ، وَقَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ خُثَيْمٍ، وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ.

اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف تین جگہ پر جھوٹ جائز اور حلال ہے، ایک یہ کہ آدمی اپنی بیوی سے بات کرے تاکہ اس کو راضی کرلے، دوسرا جنگ میں جھوٹ بولنا اور تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔

Sayyidah Asma bint Yazid reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Falsehood is not lawful except in three cases: a man speaks to his wife to please her, and one lies in war, and one lies to reconcile people.” Mahmud said in his hadith, “Falsehood is not correct except in three cases.

صحيح دون قوله: ليرضيها، الصحيحة (545) صحيح دون قوله: ليرضيها، الصحيحة (545)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1939 داود بن ابی ہند نے یہ حدیث شہر بن حوشب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، لیکن اس میں اسماء ؓ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسماء کی حدیث کو ہم صرف ابن خیثم کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٣ - اس باب میں ابوبکر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٠)، وانظر مسند احمد (٦/٤٥٤، ٤٥٩، ٤٦٠) (صحیح) تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٨٨١٢) (صحیح )
1939Sunan At-Tirmidhi(1938)

آپس میں صلح کرانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام کلثوم بنت عقبہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ (خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے ١ ؎۔

Sayyidah Umm Kuithum bint Uqbah (RA) reported having heard from Allah’s Messenger ﷺ . “One who lies to reconcile people thereby is not a liar. Rather, he is speaker of good, or promoter of good.” [Bukhari 2692, Muslim 2605]

صحيح، الروض النضير (1196)، الصحيحة (545)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کی خاطر اچھی باتوں کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا درست ہے، یہ اس جھوٹ کے دائرہ میں نہیں آتا جس کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، مثلاً زید سے یہ کہنا کہ میں نے عمر کو تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وغیرہ، اسی طرح کی بات عمر کے سامنے رکھنا، ایسا شخص جھوٹا نہیں ہے، بلکہ وہ ان دونوں کا محسن ہے، اور شریعت کی نظر میں اس کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٢ (٢٦٩٢)، صحیح مسلم/البر والصلة ٣٧ (٢٦٠٥)، سنن ابی داود/ الأدب ٥٨ (٤٩٢٠) (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٣)، و مسند احمد (٦/٤٠٤) (صحیح )
1940Sunan At-Tirmidhi

خیانت اور دھوکہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ.

ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sirmah (RA) reported the saying of Allah’s Messenger ﷺ . ‘If anyone causes harm then he will be harmed by Allah. He who behaves in a hostile manner will be dealt with in a hostile way by Allah.” [Abu Dawud 3635]

حسن، الإرواء (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1940
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس نے کسی مسلمان کو مالی و جانی نقصان اور عزت و آبرو میں ناحق تکلیف دی، اللہ تعالیٰ اس پر اسی جیسی تکلیف ڈال دے گا، اسی طرح جس نے کسی مسلمان سے ناحق جھگڑا کیا اللہ اس پر مشقت نازل کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٥)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٧ (٢٣٤٠) (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٦٣)، و مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
1941Sunan At-Tirmidhi

خیانت اور دھوکہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا فَرْقَدُ السَّبَخِيُّ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ الطَّيِّبُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ملعون (یعنی اللہ کی رحمت سے دور) ہے جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچایا یا اس کو دھوکہ دیا ۔

Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “He is cursed who harms a Believer, or deceives him.”

ضعيف، الضعيفة (1903) // ضعيف الجامع الصغير (5275) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1941
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٦١٩) (ضعیف) (سند میں فرقد سبخی ضعیف راوی ہیں )
1942Sunan At-Tirmidhi(1943)

پڑوسی کے حقوق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ذُبِحَتْ لَهُ شَاةٌ فِي أَهْلِهِ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ ؟ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا.

مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنادیں گے ١ ؎۔

Mujahid narrated: A sheep was slaughtered for Abdullah ibn Amr (RA) in his house. When he came, he asked, “Have you given some to our Jew neighbour? Have you given some to our Jew neighbour? I had heard Allah’s Messenger say, ‘Jibril did not cease to instruct me about the neighbour till I thought that he would make him an heir.” [Abu Dawud 5152]

صحيح، الإرواء (891)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث مجاہد سے عائشہ اور ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، انس، مقداد بن اسود، عقبہ بن عامر، ابوشریح اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک پڑوسی وہ ہے جو غیر مسلم ہے یعنی کافر و مشرک اور یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ، اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے، دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے، اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے، ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے، ایسے پڑوسی کو اسلام، رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں، ایسے ہی مسافر بھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٢ (٥١٥٢) (تحفة الأشراف: ٨٩١٩) (صحیح )
1943Sunan At-Tirmidhi(1942)

پڑوسی کے حقوق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Jibril did not cease to instruct me concerning the neighbour so that I thought he would make him an heir.” [Bukhari 6014, Muslim 2624]

صحيح المصدر نفسهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢٨ (٦٠١٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٢ (٢٦٢٤)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٢ (٥١٥١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤ (٢٦٧٣) (تحفة الأشراف: ١٧٩٤٧)، و مسند احمد (٦/٩١، ١٢٥) (صحیح )
1944Sunan At-Tirmidhi

پڑوسی کے حقوق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The best of companions in the sight of Allah is he who is the best for his companions, and the best of neighbours in Allah’s sight is the best of them for his neighbour.” [Ahmed 6577]

صحيح، الصحيحة (1030)، المشکاة (4987)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٨٦٥)، وانظر مسند احمد (٢/١٦٨) (صحیح )
1945Sunan At-Tirmidhi

خادم سے اچھا سلوک کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ فِتْيَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيُلْبِسْهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے زیر دست کردیا ہے، لہٰذا جس کے تحت میں اس کا بھائی (خادم) ہو، وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے، اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اسے کسی ایسے کام کا مکلف نہ بنائے جو اسے عاجز کر دے، اور اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بناتا ہے، جو اسے عاجز کر دے تو اس کی مدد کرے ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “(They are) your brothers whom Allah has caused to grow young under your hands. Hence, he, under whose hand is his brother, must feed him from his own food and clothe him from his own clothing, and not burden him with what he cannot do. If he burdens him with what he cannot do then he must lend him a hand.” [Bukhari 2545, Muslim 16611

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ام سلمہ، ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٢ (٣٠)، والتعق ١٥ (٢٥٤٥)، والأدب ٤٤ (٦٠٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٠ (١٦٦١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٠ (٣٦٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٨٠)، و مسند احمد (٥/١٥٨، ١٧٣) (صحیح )
1946Sunan At-Tirmidhi

خادم سے اچھا سلوک کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جو خادموں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ۔

Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He will not enter Paradise who has a bad character.” [Ibn Majah 3631, Ahmed 31]

ضعيف، ابن ماجة (3691) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (806) بزيادات کثيرة، ضعيف الجامع (6340) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1946
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ایوب سختیانی اور کئی لوگوں نے راوی فرقد سبخی کے بارے میں ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١٠ (٣٦٩١) (تحفة الأشراف: ٦٦١٨) (ضعیف) (سند میں فرقد سبخی ضعیف راوی ہیں )
1947Sunan At-Tirmidhi

خادموں کو مارنے اور گالی دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيُّ التَّوْبَةِ: مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، يُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ١ ؎ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Abu Qasim, the Prophet ﷺ bestowed with the characteristic to repent, said, “If anyone accuses his slave, whether male or female, of adultery and they are innocent then Allah will inflict on him the prescribed punishment on the Day of Resurrection unless it is as he had said.” [Bukhari 6858]

صحيح، الروض النضير (1146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سوید بن مقرن اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، اسی لحاظ سے آپ کو «نبي التوبة» کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٤٥ (٦٨٥٨)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٩ (١٦٦٠)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٥) (تحفة الأشراف: ١٣٦٢٤)، و مسند احمد (٢/٤٣١) (صحیح )