ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ ﷺ تجھے پسند کرتے تھے۔
Abu Talut said that when he went to Anas ibn Maalik (RA) he was eating pumpkin, saying the while, “O Tree’ How much I loved you, for Allah’s Messenger ﷺ loved for you.’
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٧١٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) said, ‘I found Allahs Messenger ﷺ picking up pumpkin from the dish. Since then I have not ceased to like pumpkin.” [Bukhari 5379, Muslim 2040 ,Abu Dawud 3782, Ahmed 13282] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں ۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,” Eat olive oil and rub it. It is from a blessed tree . [Ibn e Majah 3319]
صحيح، ابن ماجة (1319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں، ٢ - عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور کبھی کہتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ درخت شام کی سر زمین میں کثرت سے پایا جاتا ہے، اور شام وہ علاقہ ہے جس کے متعلق رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس سر زمین کو ساری دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سر زمین میں ستر سے زیادہ نبی اور رسول پیدا ہوئے انہیں میں ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہیں، چوں کہ یہ درخت ایک بابرکت سر زمین میں اگتا ہے، اس لیے بابرکت ہے، اس لحاظ سے اس کا پھل اور تیل بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٤ (٣٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٢) (صحیح )
ابواسید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ۔
Sayyidina Abu Asid (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Eat olives and rub its oil. This is a blessed tree.” [Ahmed 16054]
صحيح بما قبله (1851)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے عبداللہ بن عیسیٰ کے واسطہ سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ )، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٠)، و مسند احمد (٣/٤٩٧)، (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی عطا من اہل الشام لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اور دھواں برداشت کرے، تو (مالک کو چاہیئے کہ کھاتے وقت) اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لے، اگر وہ انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے کھلا دے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the servant of one of you prepares food for him enduring its heat and smoke, he must take him by his hand and seat him by him (to eat). If he refuses then he must take a morsel and offer it to him.” [Ibn e Majah 3289] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3289 و 3290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1853
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة (٢٨٩ و ٣٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٥)، و مسند احمد (٢/٤٧٣)، (وراجع: صحیح البخاری/العتق ١٨ (٢٥٥٧)، والأطعمة ٥٥ (٥٤٦٠)، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٠٩، ٤٣٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو (یعنی ان سے جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) said, “Make Salaam common, feed food and kill the infidels. You will then inherit paradise.”
ضعيف، الإرواء (3 / 238) // 777 //، الضعيفة (1324) // ضعيف الجامع الصغير (995) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، انس، عبداللہ بن سلام، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہوجائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٤٠٢) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن ” افشوا السلام وأطعموا الطعام “ کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger (RA) said, “Worship Ar-Rahman (The compassionate), feed food, give currency to Salaam... you will enter paradise in peace.” [Bukhari 981]
صحيح، ابن ماجة (3694)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہو گے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہو تو تم جنت میں امن و امان کے ساتھ جاؤ گے، تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١١ (٣٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات کا کھانا کھاؤ گر چہ ایک مٹھی ردی کھجور ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik ‘ reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Bind yourself to have a meal at night even a handful of dates, for, skipping this meal hastens old age
ضعيف، الضعيفة (116) // ضعيف الجامع الصغير (2447) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، عنبسہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور عبدالملک بن علاق مجہول ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١) (ضعیف) (سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے )
عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: بیٹے! قریب ہوجاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Abu Salamah i narrated : Once, I visited Allah’s Messenger ﷺ Food was placed before him. He said, “Son, draw near. Recite Bismillah, eat with your right hand and eat from what is on your side.” [Bukhari 5376, Muslim 2022]
صحيح، ابن ماجة (3267)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ہشام بن عروہ سے «عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة عن عمر ابن أبي سلمة» کی سند سے مروی ہے، اس حدیث کی روایت کرنے میں ہشام بن عروہ کے شاگردوں کا اختلاف ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ( ١ ) کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیئے، اس کا اہم فائدہ جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہوسکتا، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکر یہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطا کی، ( ٢ ) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے، ( ٣ ) چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھا جائے، ( ٤ ) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے، ( ٥ ) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٥)، (وراجع: صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، وصحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ١٣ (٢٠٢٢)، و سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٠ (٣٧٧٧)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٣٢)، وسنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح) (” ادْنُ “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی ٣٥٠ )
عکراش بن ذؤیب ؓ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ ؓ کے گھر لے گئے اور پوچھا: کھانے کے لیے کچھ ہے؟ چناچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے ، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا، اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا، آپ نے فرمایا: عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے ، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا: عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے ۔
ضعيف، ابن ماجة (3274) // ضعيف سنن ابن ماجة (706) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں، ٣ - ہم نبی اکرم ﷺ سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١١ (٣٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٦) (ضعیف) (سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو «بسم اللہ» پڑھ لے، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے «بسم اللہ في أوله وآخره»۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When one of you eats (his) food, let him say Bismillah. If he forgets (to say it) in the beginning then he must say. In the name of Allah, the firstof it and the last of it --------------------------------------------------------------------------------
**
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1858
اسی سند سے عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، اچانک ایک اعرابی آیا اور دو لقمہ میں پورا کھانا کھالیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے «بسم اللہ» پڑھ لی ہوتی تو یہ کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١٦ (٣٧٦٧)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٠٣ (٢٨١)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٤)، والمؤلف في الشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٨)، و مسند احمد (٦/١٤٣)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح )
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The devil is very sensitive and quick to catch, so beware of him for yourself. If anyone goes to sleep in the night with grease on his hands and trouble strikes him then he cannot blame (anyone) but himself.” [Bukhari 1220]
موضوع، الضعيفة (5533)، الروض النضير (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (1476) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٤) (موضوع) (سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ١ ؎۔
Muhammad ibn Ishaq reported from Abu Bakr (RA) Baghdadi, from Muhammad ibn Ja’far, from Mansur ibn Abu Aswad, from A’mash, from Abu Salih and he from Abu Hurayrah that Allah’s Messenger .‘ said, ‘If anyone goes to sleep with greasy hands then he must blame himself.” [Ibn e Majah 3297]
صحيح، ابن ماجة (3297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اعمش کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لو، کیونکہ نہ دھونے سے کھانے کی بو ہاتھوں میں باقی رہے گی، جو جن و شیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٢ (٣٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٤)، و مسند احمد (٢/٣٤٤)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported Allah’s Messenge ﷺ said, “Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world and dies as an addict to it will not drink it in the Hereafter.” [Ahmed 4690, Abu Dawud 3679, Bukhari 5575, Nisai 5598, Ibn e Majah 3387, Muslim 2003]
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے نافع سے آئی ہے، جسے نافع، ابن عمر سے، ابن عمر نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣ - مالک بن انس نے اس حدیث کو نافع کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفا روایت کی ہے، اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابن عباس، عبادہ اور ابو مالک اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دنیا میں شراب پینے والا اگر توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے ۔
Sayyidina ‘Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone drinks wine then his salah over forty days are not approved. If he repents then Allah will relent to him. If he reverts (to it), then Allah will not approve his sJah over forty days. If he repents, Allah will relent to him but if he reverts (to it) then Allah will iLot approve his salah over forty days. If he repents then Allah will relent to him. Again, if he reverts the fourth time, Allah will not approve his salah over forty days and if he repents then Allah will not relent to him and He will give him to drink from the river of Khabal.” Someone asked, “O Abu Abdur Rahman! what is the river of Khabal?’ He said, “The pus of the dwellers of the people of fire.” [Nisai 5686]
صحيح، ابن ماجة (3377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابن عباس کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, ‘Every intoxicant is forbidden.” [Bukhari 5585, Muslim 2001]
صحيح، ابن ماجة (3387)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، انس، ابو سعید خدری، ابوموسیٰ اشج عصری، دیلم، میمونہ، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ، وائل بن حجر، قرہ مزنی، عبداللہ بن مغفل، ام سلمہ، بریدہ، ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA)reported that Allah’s Messenger said, ‘If a large quantity of anything intoxicates then a small quantity of it is also forbidden.” [Ahmed 14709]
حسن صحيح، ابن ماجة (3393)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث جابر کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور خوات بن جبیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، اس سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خمر تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے، اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی صرف وہ مقدار حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو اور جس مقدار میں نشہ نہ پیدا ہو وہ حرام نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ٥ (٣٦٨١)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٠ (٣٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٤)، و مسند احمد (٣/٣٤٣) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق (سولہ رطل) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ١ ؎، ان میں (یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔
Sayyidah Ayshah reported that Allah’s Messenger (RA) said, “Every intoxicant is forbidden. If a Faraq of anything intoxicates then a handful of it is forbidden (too).” [Ahmed 24486]
صحيح، الإرواء (2376)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں «فرق» (سولہ رطل) اور مٹھی بھر کا مفہوم بھی کثیر و قلیل ہی ہے، یعنی جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ٥ (٣٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٥)، و مسند احمد (٦/٧٢) (صحیح )
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔
Tawus reported that a man came to Ibn Umar (RA) and asked if Allah’s Messenger had forbidden nabidh in vessels (or jars). He said, “Yes.” Tawus confirmed, “By Allah, I too had heard this from him. [Bukhari 5593]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہوجائے، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور، کشمش، انگور، شہد، گیہوں اور جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔