حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا : ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا ، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں : جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔
Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman reported that the chief and his deputy (of a tribe) came to the Prophet ﷺ and requested him, “Send with us your trustworthy man.” He said, “I will send with you a trustworthy man who is really trustworthy.” So everyone hoped for that position and he sent Abu Ubaydah. (Whenever Abu Ishaq narrated this hadith from Silah, he would confirm, “I have heard it sixty years hence.”) [Tirmidhi 3779]
صحيح وانظر الصحيحة (1964)
صحيح وانظر الصحيحة (1964)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3796
بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں : مجھے مسلم بن قتیبہ اور ابوداؤد نے خبر دی اور ان دونوں نے شعبہ کے واسطہ سے ابواسحاق سے روایت کی، وہ کہتے ہیں : حذیفہ نے کہا : صلہ بن زفر کا دل سونے کی طرح روشن اور چمکدار ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3796
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث ابن عمر اور انس (رض) کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، آپ نے فرمایا : ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣٢) (ضعیف) (سند میں حسن بن سلم بن صالح الجعلی مجہول، اور ابوربیعہ الإیادی لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے سارے طرق ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم ٢٣٢٨)
علی (رض) کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : انہیں اجازت دے دو ، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Ammar ibn Yasir (RA) sought permission to meet the Prophet ﷺ and he said, ‘Let him come. Welcome 0, pure one with pure habits!” [Ahmed 1033, Ibn e Majah 146]
صحيح، ابن ماجة (146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3798
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٦) (تحفة الأشراف : ١٠٣٠٠) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ammar was not given choice between two courses, but he chose the better one.” [Ahmed 24874, Ibn e Majah 148}
صحيح، ابن ماجة (148)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3799
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ بات عمار (رض) کے فطرتاً حق پسند ہونے ، اور اللہ کی طرف سے ان کے لیے حسن توفیق پر دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٨) (تحفة الأشراف : ١٧٣٩٦) (صحیح)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمار ! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayra (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Good news to you, O Ammar. A rebel section will kill you.” [Ahmed 24874, Ibn e Majah 148]
١- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ (رض) احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں اس بات کی گواہی اللہ کے رسول ﷺ کی زبان سے ہے کہ قتل ہونے کے وقت عمار حق والی جماعت کے ساتھ ہوں گے اور ان کے قاتل اس بابت حق پر نہیں ہوں گے ، اور اس حق و ناحق سے مراد اعتقادی ( توحید و شرک کا ) حق و ناحق نہیں مراد ہے بلکہ اس وقت سیاسی طور پر حق و ناحق پر ہونے کی گواہی ہے ، عمار اس وقت علی (رض) کے ساتھ جو اس وقت خلیقہ برحق تھے ، اور فریق مخالف معاویہ (رض) تھے جو علی (رض) سے خلافت کے سیاسی مسئلہ پر جنگ کر رہے تھے ، اس میں عمار (رض) کی شہادت ہوئی تھی ، یہ جنگ صفین کا واقعہ ہے اس واقعہ میں معاویہ (رض) جو علی (رض) سے برسرپیکار ہوگئے تھے ، یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی جو معاف ہے ، ( (رض) اجمعین ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وھو جماعة من الصحابة غیرہ ( تحفة الأشراف : ١٤٠٨١) (صحیح)
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر (رض) سے زیادہ سچا ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amar (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Neither has the heaven given shade to, nor the earth carried anyone more truthful than, Abu Dharr (RA) [Ibn e Majah 156, Ahmed 6641]
صحيح، ابن ماجة (156)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3801
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے ابوذر (رض) کی سچائی سے متعلق مبالغہ اور تاکید مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٦) (تحفة الأشراف : ٨٩٥٧) ، و مسند احمد (٢/١٦٣، ١٧٥) (صحیح)
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو ، یہ سن کر عمر بن خطاب (رض) رشک کے انداز میں بولے : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بات انہیں بتادیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، بتادو ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated: Allah’s Messenger said about me, “Neither has the heaven given shade to, nor the earth carried anyone more truthful and more honourable to his promise than Abu Dharr. He resembles Eesa ibn Maryam.” Umar ibn Khattab asked-as though in envy, “Shall we tell him, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Yes, inform him.”
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں ۔
عبداللہ بن سلام (رض) کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان (رض) کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان (رض) کے پاس آئے، عثمان (رض) نے ان سے کہا : تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا : تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چناچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا : لوگو ! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چناچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل علی مثله فآمن واستکبرتم إن اللہ لا يهدي القوم الظالمين» ١ ؎ «قل کفی بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الکتاب» ٢ ؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ ﷺ اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی ! اگر تم نے اسے قتل کردیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آسکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے : اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔
Abdul Malik ibn Umar reported on the authority of the nephew of Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) that when people resolved to kill Sayyidina Uthman Abdullah ibn Salaam went to him. He asked, What is with you?” He said, “I have come to help you.” He said, “Go to the people and put them away from me, for, you are better for me outside than you are inside.” So, he went out to the people and said, “O people, my name during the Jahiliyah was so-and-so, hut Allah’s Messenger named me Abdullah and verses of Allah’s Book were revealed about me. And, this vere was revealed about me: And a witness from among the children of lsra’il has already testified to its similarity (with earlier scripture) and has believed, while you are arrogant. Surely Allah guides not the evildoing people. (41 : 10) And, also: Say, Allah suffices as awitness between me and you, and whoso ever has with him knowledge of the book. (13 : 43) Allah’s sword is sheatled from you and the angels are your neighbours in this your city where Allah’s Messenger ﷺ had come. Allah! Fear Allah for this man whom you wish to kill. By Allah, if you kill him, your neighbouring angels will move away from you and Allah’s sword will be unsheathed against you never to be sheathed till the Day of Resurrection.” They said, “Kill the jew and kill Uthman.” [Tirmidhi 3267]
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد اللہ بن سلام عن جده عبد اللہ بن سلام» کہا ہے۔
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل (رض) کے مرنے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہمیں کچھ وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا : مجھے بٹھاؤ، پھر بولے : علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا، انہوں نے اسے تین بار کہا، پھر بولے : علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو : عویمر ابو الدرداء کے پاس، سلمان فارسی کے پاس، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس، (جو یہودی تھے پھر اسلام لائے) کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں ١ ؎۔
Yazid ibn Umayrah reported that when death approached Mu’adh ibn Jahal he was requested, “O Abu Abdur Rahman, give us advice and instructioon.” He said, “Make me sit.” Then, he said, “Knowledge and faith are in their place. He who seeks them will find them.” He said that three times, and then, “And seek knowledge from four people frm Abu Darda, from Salman Farisi, from Abdullah ibn Mas’ud and from Abdullah ibn Salaam who had been a Jew and then embraced Islam. I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He is the tenth of the ten in paradise.” [Ahmed 2265]
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد (وصیت) کو مضبوطی سے تھامے رہو ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, After me, follow those of my sahabah Abu Bakr (RA) and Umar, and follow the path of Ammar and stick to the advice of Ibn Masud.’
صحيح، ابن ماجة (97) ، وانظر الحديث (4069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ٣- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث کے اول و آخر ٹکڑے میں خلافت صدیقی و فاروقی کی طرف اشارہ ہے ، ابوبکر و عمر (رض) کی اقتداء سے مراد نبی اکرم ﷺ کے بعد بالترتیب ان دونوں کی خلافت ہے ، اور ابن مسعود (رض) کی وصیت سے مراد بھی یہی ہے کہ انہوں نے ابوبکر (رض) کی خلافت کی تائید کی تھی ، یہی مراد ہے ، ان کی وصیت مضبوطی سے تھامنے سے۔
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس (ان کے گھر میں) آتے جاتے دیکھتے تھے ١ ؎۔
Abu Aswad ibn Yazid reported that he heard Abu Musa say, When I and my brother came from Yaman, we heard only of Abdullah ibn Masud that he was a man of the household of the Prophet ﷺ from what we saw of his going with his mother to the Prophet ﷺ . [Bukhari 3763, Muslim 2460]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے نبی ﷺ سے ازحد قربت اور برابر ساتھ رہنے کی دلیل ہے جو ان کے فضل و شرف کی بات ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ابن مسعود کی ہر روایت اور فتوی ضرور ہی تمام صحابہ کی روایتوں اور فتاوی پر مقدم ہوگا ، کیونکہ امہات المؤمنین تک کی بعض روایات یا تو منسوخ ہیں یا انہیں گھر سے باہر کے بعض احوال کا علم نہیں ہوسکا تھا ، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ (رض) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا : آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب ابن مسعود (رض) ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود (رض) ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔
Abdur Rahman ibn Yazid reported that they went to Hudhayfah (RA)and requested him to narrate to them about one who was most close of all people to Allah’s Messenger in style of living and habits that they might learn from him and listen to him.’ He said, “The closest of men to Allah’s Messenger ﷺ in way of life and habits is Ibn Mas’ud so much so that he would visit his house more regularly than us and knew his confidential affairs more than other sahabah. Indeed, Ibn Umm Abd (Abdullah ibn Mas’ud) was the closest to Allah than the others.’ [Ahmed 23468, Bukhari 3762]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی لوگ جو بیان کریں گے وہ بالکل حقیقت کے مطابق ہوگا ، اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ ابن مسعود (رض) اللہ کے رسول ﷺ کے طور طریقے سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ، اور ان سے ازحد قریب تھے ، یہ صحابہ کی زبان سے ابن مسعود کی فضیلت کا اعتراف ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were Ito appoint one of them as a commander (of an army) without consulting others then I would surely appoint the son of Umm Abd.” (He is Abdullah ibn Mas’ud). [Ahmed 566]
ضعيف، ابن ماجة (137) // ضعيف سنن ابن ماجة (24) ، المشکاة (6222) ، ضعيف الجامع الصغير (4844) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3808
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المدقمة ١١ (١٣٧) (تحفة الأشراف : ١٠٠٤٥) (ضعیف) (سند میں ” حارث اعور “ ضعیف اور ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا ۔
Sufyan ibn Waki’ narrated on the authority of his father, from Sufyan Thawri, from Abu Ishaq, from Harith, from Sayyidina Ali (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were I to appoint anyone a commander without consulting anyone then I would surely appoint the son of Umm Abd.”
ضعيف انظر ما قبله (3808)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3809
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو : ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Take the Qur’an from four (men) : Ibn Masud, Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, and Saalim the freedman of Abu Hudhayfah.” [Bukhari 4999, Muslim 2464]
١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ یہ چار صحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرم ﷺ سے اخذ کرنے ، یاد کرنے ، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے ، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا ، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے ، کیونکہ عثمان (رض) نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا ( اس قراءتوں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں ) ۔
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چناچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ (رض) کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ١ ؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا : میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چناچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا : تم کہاں کے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا : کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ٢ ؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں : کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ٣ ؎۔
Khaythamah ibn Abu Sayrah narrated: I came to Madinah and prayed to Allah to get me a righteous companion. He made easy for me the company of Abu Hurayrah (RA). I sat down with him and said to him, “I prayed to Allah that He should make easy for me the company of a righteous men and he brought you and me toghether.” He asked me, “From where are you?” I said, “I am from Kufah. I have come seking good.” He asked, “Is not there among you Sa’d ibn Maalik whose prayers are answered, and Ibn Mas’ud who carried water for the Prophet’s ablution and his shoes, and Hudhayfah who was the Prophet’s confidant, and Ammar whom Allah kept away from the devil in answer to the Prophets I’ prayer, and Salman who is the man of two Books?” Qatadah explained, “The two Books are the Injil and the Qur’an.” [Bukhari 3758]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3811
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کردی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ٹھیک یہی معاملہ علقمہ بن قیس کوفی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا ، وہ شام آئے تو یہی دعا کی ، تو انہیں ابو الدرداء (رض) صحبت میسر ہوئی ، انہوں بھی علقمہ سے بالکل یہی بات کہی جو اس حدیث میں ہے۔ ٢ ؎ : جن کی دعائیں رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔ اور یہ سعد بن ابی وقاص (رض) ہیں۔ ٣ ؎ : انہیں صاحب کتابیں اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے مجوسی تھے ، تلاش حق میں پہلے دین عیسیٰ قبول کئے ، پھر مشرف بہ اسلام ہوئے اور قرآن پر ایمان لائے۔
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش ! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا : اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کردیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو ، اور جو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ١ ؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو ۔
Sayyidma Hudhayfah reported that the sahabah said, “O Messenger of Allah, would that you appoint a Khalifah!” He said, “If I were to make someone your Khalifah and you disobeyed him then you would be punished. But, confirm what Hudhayfah tells you and recite what Abdullah (ibn Mas’ud) recites to you.” Abdullah reported that he said to Ishaq ibn Eesa that people ascribe it to Abu Wail, but he said, “No. It is from Zazan, Insaha Allah.”
١ ؎ : یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے ، مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث ( رقم : ( ٣٨١٨) گزر چکی ہے ، اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا ، مگر حذیفہ (رض) کی احالہ کر کے اشارہ کردیا کہ جو حذیفہ بتائیں ، وہی میری بات ہے ، ابوحذیفہ نے ابوبکر (رض) کے بارے میں بعد میں بتادیا ، ( نیز دیکھئیے حدیث رقم : ٢/٣٨) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٣٢٢) (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، ابوالیقظان شیعی بھی ہے)
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اسامہ بن زید (رض) کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر (رض) کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے باپ سے عرض کیا : آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی ؟ اللہ کی قسم ! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا : اس لیے کہ زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ ﷺ کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔
Zayd ibn Aslam reported that Sayyidina Umar (RA) Usamah from the Baytul-Maal State Treasury three thousand and five hundred and to Abdullah ibn Umar he gave three thousand. So, Abdullah ibn Umar said to his father, “Why did you give preference to Usamah over me? By Allah, he never excelled over me in any battle.” He said, “This is because Zayd was dearer to Allah’s Messenger ﷺ than his father and Usamah was dearer to Allah’s Messenger ﷺ than you. Hence, I preferred the beloved of Allah’s Messenger ﷺ to my beloved.”
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الاحزاب : ٥) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that they used to call Zayd ibn Harithah, Zayd ibn Muhammad till this was revealed: Call them by their fathers; that is more equitable in the sight of Allah. (35 :5) [Ahmed 5480, Bukhari 4782, Muslim 2425]
صحيح وهو مکرر الحديث (3439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3814
زید بن حارثہ (رض) کے بھائی جبلہ بن حارثہ (رض) کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا : وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا ، یہ سن کر زید نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کرسکتا، جبلہ کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔
Jabalah ibn Harith brother of Zayd, narrated: I came to Allah’s Messenger ‘and said’ to him. “O Messenger of Allah, send with me my brother Zayd.” He said, “He is here! If he comes with you, I do not stop him.” But, Zayd interrupted, “O Messenger of Allah, by Allah, I will not prefer anyone over you.” So, I observed that my brother’s opinion was better than mine.