Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 188 of 199

3816Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت زید بن حارثہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کرچکے ہو ١ ؎، قسم اللہ کی ! وہ (زید) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی (اسامہ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent an army placing Usamah ibn Zayd as commander over them. The people were cynical about his commandership. So, he said, “If you are cynical about his commandership then indeed you had been cynical about the commandership of his father before. By Allah, he was worthy of being a commander and was also dearer to me than other people. And (now) he is the dearest of people to me after him.” [Ahmed 5894, Bukhari 3730, Muslim 2426]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3816 عبداللہ بن دینار نے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مالک بن انس کی حدیث ہی جیسی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3816
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ کا اشارہ غزوہ موتہ میں زید کو امیر بنانے کے واقعے کی طرف ہے ، اس حدیث سے دونوں باپ بیٹوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٧ (٤٤٦٩) (تحفة الأشراف : ٧٢٣٦) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3817Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت اسامہ بن زید (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمَتَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيَّ وَيَرْفَعُهُمَا، فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدید ہوگئی تو میں («جرف» سے) اتر کر مدینہ آیا اور (میرے ساتھ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہوچکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔

SayyidinaUsamah ibn Zayd (RA) reported that when the sickness of Allah’s Messenger grew serious he and some other men returned to Madinah. He visited Allah’s Messenger ﷺ but he had lost speech and did not speak. However, Allah’s Messenger placed his hands on him and raised them. So, he understood that he was praying for him. [Ahmed 21814]

حسن، المشکاة (6166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3817
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٢) (حسن)
3818Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت اسامہ بن زید (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّيَ مُخَاطَ أُسَامَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ١ ؎ تو میں نے کہا : آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا : عائشہ ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔

Sayyidah Ayshah (RA) the Mother of the faithful narrated that the Prophet ﷺ intended to wipe Usamah’s nose. She said, “Let me do that.’ He said, “O Ayshah, love him, for, I love him.”

حسن، المشکاة (6167)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3818
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اس وقت کی بات ہے جب اسامہ بچے تھے ، آدمی اسی بچے کی ناک پونچھتا ہے جس سے انتہائی محبت رکھتا ہے ، جیسے اپنے بچے بسا اوقات آدمی کسی رشتہ دار یا دوست کے بچے سے محبت تو رکھتا ہے لیکن اس کی محبت میں اس حد تک نہیں جاتا کہ اس کی ناک پونچھے اس لیے آپ ﷺ کا اسامہ کی ناک پونچھنے کے لیے اٹھنا ان سے آپ کی انتہائی محبت کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٨٧٥) (صحیح)
3819Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت اسامہ بن زید (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ، فَقَالَا: يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا ؟ ، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكِنِّي أَدْرِي ، فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلَا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ، قَالَ: أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَا: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ، قَالَ: لِأَنَّ عَلِيًّا قَدْ سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَكَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ.

اسامہ بن زید (رض) کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس (رض) دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا : اسامہ ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے تو معلوم ہے ، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : فاطمہ بنت محمد ، تو وہ دونوں بولے : ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا : میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں ، وہ دونوں بولے : پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : پھر علی بن ابی طالب ہیں ، عباس بولے : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کردیا، آپ نے فرمایا : علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے ۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narrated While I was sitting, Ali and Abbas came seeking permission. They said, “O Usamah, seek permission for us from Allah’s Messenger.” ﷺ I said “O Messenger of Allah, Ali and Abbas ask permission to come in.” He asked, “Do you know what has brought them here?” I said, “No.” He said, “But, I know. Give them permission.” So, they came in and said, “O Messenger of Allah, we have come to ask you which of your family member is dearest to you.” He said, “Fatimah bint Muhammad.” They said, “We have not come to ask that.” He said, “The dearest to me of my household is one on whom Allah has bestowed bounty and I have bestowed bounty, on him, Usamah ibn Zayd.” They asked, Who next?” He said, “Ali ibn Abu Talib.” So, Abbas said, “O Messenger of Allah, you have placed your uncle last of them.” He said, “Indeed, Ali preceeded you with hijrah (migration to Madinah).”

ضعيف، المشکاة (6168) // ضعيف الجامع الصغير (168) باختصار //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3819
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ : عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٣) (ضعیف) (سند میں عمر بن ابی سلمہ روایت حدیث میں غلطیاں کر جاتے تھے)
3820Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ١ ؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔

Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ never deprived me (of his grants) since I embraced Islam and never saw me without laughing.” [Ahmed 19194, Bukhari 3035]

صحيح، ابن ماجة (159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3820
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی ، منع نہیں کیا ، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں ، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے ، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٦٢ (٣٠٣٥) ، وفضائل الأنصار ٢١ (٣٨٢٢) ، والأدب ٦٨ (٦٠٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٩) (تحفة الأشراف : ٣٢٢٤) (صحیح)
3821Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے (اندر جانے سے) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔

Sayyidina Jarir narrated: Allah’s Messenger ﷺ never kept me apart since I embraced Islam and he never saw me without smiling.

صحيح، وهو بهذا اللفظ أرجح انظر ما قبله (3820)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3821
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3822Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرَّتَيْنِ، وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي جَهْضَمٍ سَمَاعًا مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ، رَوَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو جَهْضَمٍ اسْمُهُ: مُوسَى بْنُ سَالِمٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔

Sayyidin Ibn Abbas (RA) reported that he saw Jibril twice, and the Prophet ﷺ prayed for him twice.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ٢- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ٣- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٠٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
3823Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَنِي اللَّهُ الْحِكْمَةَ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 74 مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ، وَقَدْ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ twice prayed for me that Allah grant me wisdom.

صحيح، الروض النضير (395)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3823
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک مرتبہ اپنے سینہ سے چمٹا کر آپ ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا کی کہ رب العالمین انہیں علم و حکمت عطا فرما اور دوسری مرتبہ جب وہ آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھ رہے تھے تو یہ دعا کی کہ اللہ تو انہیں دین کی سمجھ عطا فرما۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مایأتي (صحیح)
3824Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «اللهم علمه الحکمة» اے اللہ ! اسے حکمت سکھا دے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger embraced me and prayed, “O Allah grant him wisdom.” [Ahmed 33798, Bukhari 75, Muslim 2477, Ibn e Majah 166]

صحيح، الروض النضير (395)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3824
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حکمت سے مراد سنت ہے قرآن کی تفسیر کی تعلیم کی دعا بھی آپ نے ابن عباس (رض) کے لیے کی تھی ، یہاں سنت کی تعلیم کی دعا کا تذکرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٤ (٣٧٥٦) ، والاعتصام ١ (٧٢٧٠) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٦٦) (تحفة الأشراف : ٦٠٤٩) (صحیح)
3825Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا فِي يَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَوْضِعٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ، أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب (ام المؤمنین) حفصہ (رض) سے بیان کیا پھر حفصہ (رض) نے اسے نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا : تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے یا فرمایا : عبداللہ مرد صالح ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I saw in a dream as though I had a piece of silk in my hand. I did not point with it to any place in paradise, but it flew there with me. So, I related it to Hafsah and she recounted it to the Prophet ﷺ ‘ who said, “Your brother is a righteous man.” or (he said), “Abdullah is a righteous man.” [Bukhari 1121, Muslim 2478, Ahmed 4494]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3825
Notes · وضاحت
١ ؎ : کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول ﷺ دیں ، اس کے شرف کا کیا پوچھنا !۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢١ (١١٥٦) ، والتعبیر ٢٥ (٦٩٩١) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣١ (٢٤٧٨) (تحفة الأشراف : ٧٥١٤) (صحیح)
3826Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ، فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ ، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ (رض) سے فرمایا : عائشہ ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا ، تو آپ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ saw the (light of a) lantern in the house of Zubayr and said, “O Ayshah, I do not see Asma but that a child is born to her. Do not name him till I give him a name.” Then he named him Abdullah and chewed a date and rubbed the moistened date on the child’s palate.

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی ﷺ کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہوگیا ! «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة : ٤) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٢٤٣) (حسن)
3827Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، قَالَ: فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں : میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول ! یہ انیس ١ ؎ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ٢ ؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ٣ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: As Allah’s Messenger ﷺ was passing by, my mother, Umm Sulaym, heard him. She said, “My parent be ransomed to you, O Messenger of Allah ﷺ (this is) Unays. Allah’s Messenger ﷺ prayed for me three supplications. I have found two of them (answered) in this world and I hope for the third in the Hereafter. [Muslim 2481]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3827
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔ ٢ ؎ : ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا ، انس (رض) کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی ، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم : ٣٨٤٦) ۔ ٣ ؎ : اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہوگی۔ «إن شاء اللہ»
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨١) (تحفة الأشراف : ٥١٥) (صحیح)
3829Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْأُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام سلیم (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا : «اللهم أكثر ماله وولده وبارک له فيما أعطيته» اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے ۔

Sayyidh Umm Sulaym (RA) submitted, “O Messenger of Allah, Anas ibn Maalik (RA) is your servant. Pray to Allah for him.” He said, ‘O Allah, bless (him) in his wealth and his children, and bless for him that which You give him. [Ahmed 27496, Bukhari 1982, Muslim 2480]

صحيح، الصحيحة (2246) ، تخريج المشکلة (12)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3829
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : دیکھئیے پچھلی حدیث کے حواشی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٤٧ (٦٣٧٨، ٦٣٨٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨٠) (صحیح)
3830Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، وَأَبُو نَصْرٍ هُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيُّ رَوَى عَنْ أَنَسٍ أَحَادِيثَ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ایک ساگ (گھاس) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔

Sayyidina Anas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ gave me a kunyah after a vegetable that he saw me plucking. [Ahmed 12288]

ضعيف، المشکاة (4773 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3830
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ٢- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٢٦) (ضعیف) (سند میں خیثمہ ابو نصر العبدی لین الحدیث راوی ہیں)
3831Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَنْ تَأْخُذَ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي، إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ، وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ.

ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک (رض) نے کہا : اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے (براہ راست) رسول اللہ ﷺ سے لیا ہے، اور آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔

Thabit Bunani reported that Sayyidina Anas ibn Maalik said to him, “O Thabit, learn from me for, you will never derive from anyone (knowledge) more authentic than from me. I have derived it from Allah’s Messenger, and he derived it from Jibrilr who derived it from Allah, the Majestic, the Glorious.”

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩١) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
3832Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: وَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ .

اس سند سے بھی انس (رض) سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔

Abu Kurayb reported the like of hadith of Ibrahim ibn Yaqub from Zayd ibn Hubab, from Maymun Abu Abdullah, from Thahit, from Anas ibn Maalik (RA) But, he did not mention: And the Prophet ﷺ derived it from Jibril.

*صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3832
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)
3828Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي يُمَازِحُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم ﷺ مجھے کہتے : اے دو کانوں والے ۔ ابواسامہ کہتے ہیں : یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ١ ؎۔

Sayyidina Anas narrated: Allah’s Messenger ﷺ addressed me, “O possessor of two ears!’ Abu Salamah explained that it was by way of jest. [Abu Dawud 5002, Ahmed 12165]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3828
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١١٩٢ (صحیح)
3833Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت انس بن مالک (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ، سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ، وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ كَانَ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ: خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ أَدْرَكَ أَبُو خَلْدَةَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ.

ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا : کیا انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس (رض) کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔

Abu Khaldah reported that he asked Abul Aaliyah if Anas had heard anything from the Prophet ﷺ . He said ‘He served him ten years and the Prophet ﷺ prayed for him. He had a garden that produced fruit twice each year and there was in it a tree that gave out the fragrance of musk.”

صحيح، الصحيحة (2241)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3833
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک (رض) کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : ٨٣٥) (صحیح)
3835Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابوہریرہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَلَا أَحْفَظُهَا، قَالَ: ابْسُطْ رِدَاءَكَ ، فَبَسَطْتُهُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, I hear from you something but cannot retain it (in my memory).” He said, “Spread your cloak.’ So, I spread it, Then, he narrated many ahadith, and I did not forget anything that he narrated. [Bukhari 118, Muslim 2492]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ابوہریرہ (رض) سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٢ (١١٩) ، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٨) (تحفة الأشراف : ١٣٠١٥) (صحیح)
3834Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابوہریرہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي عِنْدَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ فَجَمَعَهُ عَلَى قَلْبِي، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَهُ حَدِيثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: I went to the Prophet ﷺ and spread my cloak befoure him. He took it and rolled it up on my heart. After that, I never forgot (anything).

حسن الإسناد صحيحهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3834
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مابعدہ ( تحفة الأشراف : ١٤٨٨٥) (حسن الإسناد)