عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کرچکے ہو ١ ؎، قسم اللہ کی ! وہ (زید) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی (اسامہ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent an army placing Usamah ibn Zayd as commander over them. The people were cynical about his commandership. So, he said, “If you are cynical about his commandership then indeed you had been cynical about the commandership of his father before. By Allah, he was worthy of being a commander and was also dearer to me than other people. And (now) he is the dearest of people to me after him.” [Ahmed 5894, Bukhari 3730, Muslim 2426]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3816
عبداللہ بن دینار نے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مالک بن انس کی حدیث ہی جیسی حدیث روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3816
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ کا اشارہ غزوہ موتہ میں زید کو امیر بنانے کے واقعے کی طرف ہے ، اس حدیث سے دونوں باپ بیٹوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٧ (٤٤٦٩) (تحفة الأشراف : ٧٢٣٦) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدید ہوگئی تو میں («جرف» سے) اتر کر مدینہ آیا اور (میرے ساتھ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہوچکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔
SayyidinaUsamah ibn Zayd (RA) reported that when the sickness of Allah’s Messenger grew serious he and some other men returned to Madinah. He visited Allah’s Messenger ﷺ but he had lost speech and did not speak. However, Allah’s Messenger placed his hands on him and raised them. So, he understood that he was praying for him. [Ahmed 21814]
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ١ ؎ تو میں نے کہا : آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا : عائشہ ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔
Sayyidah Ayshah (RA) the Mother of the faithful narrated that the Prophet ﷺ intended to wipe Usamah’s nose. She said, “Let me do that.’ He said, “O Ayshah, love him, for, I love him.”
١ ؎ : یہ اس وقت کی بات ہے جب اسامہ بچے تھے ، آدمی اسی بچے کی ناک پونچھتا ہے جس سے انتہائی محبت رکھتا ہے ، جیسے اپنے بچے بسا اوقات آدمی کسی رشتہ دار یا دوست کے بچے سے محبت تو رکھتا ہے لیکن اس کی محبت میں اس حد تک نہیں جاتا کہ اس کی ناک پونچھے اس لیے آپ ﷺ کا اسامہ کی ناک پونچھنے کے لیے اٹھنا ان سے آپ کی انتہائی محبت کی دلیل ہے۔
اسامہ بن زید (رض) کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس (رض) دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا : اسامہ ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے تو معلوم ہے ، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : فاطمہ بنت محمد ، تو وہ دونوں بولے : ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا : میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں ، وہ دونوں بولے : پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : پھر علی بن ابی طالب ہیں ، عباس بولے : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کردیا، آپ نے فرمایا : علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے ۔
Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narrated While I was sitting, Ali and Abbas came seeking permission. They said, “O Usamah, seek permission for us from Allah’s Messenger.” ﷺ I said “O Messenger of Allah, Ali and Abbas ask permission to come in.” He asked, “Do you know what has brought them here?” I said, “No.” He said, “But, I know. Give them permission.” So, they came in and said, “O Messenger of Allah, we have come to ask you which of your family member is dearest to you.” He said, “Fatimah bint Muhammad.” They said, “We have not come to ask that.” He said, “The dearest to me of my household is one on whom Allah has bestowed bounty and I have bestowed bounty, on him, Usamah ibn Zayd.” They asked, Who next?” He said, “Ali ibn Abu Talib.” So, Abbas said, “O Messenger of Allah, you have placed your uncle last of them.” He said, “Indeed, Ali preceeded you with hijrah (migration to Madinah).”
ضعيف، المشکاة (6168) // ضعيف الجامع الصغير (168) باختصار //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3819
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ : عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٣) (ضعیف) (سند میں عمر بن ابی سلمہ روایت حدیث میں غلطیاں کر جاتے تھے)
جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ١ ؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ never deprived me (of his grants) since I embraced Islam and never saw me without laughing.” [Ahmed 19194, Bukhari 3035]
صحيح، ابن ماجة (159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3820
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی ، منع نہیں کیا ، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں ، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے ، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔
Sayyidin Ibn Abbas (RA) reported that he saw Jibril twice, and the Prophet ﷺ prayed for him twice.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ٢- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ٣- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٠٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک مرتبہ اپنے سینہ سے چمٹا کر آپ ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا کی کہ رب العالمین انہیں علم و حکمت عطا فرما اور دوسری مرتبہ جب وہ آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھ رہے تھے تو یہ دعا کی کہ اللہ تو انہیں دین کی سمجھ عطا فرما۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مایأتي (صحیح)
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «اللهم علمه الحکمة» اے اللہ ! اسے حکمت سکھا دے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger embraced me and prayed, “O Allah grant him wisdom.” [Ahmed 33798, Bukhari 75, Muslim 2477, Ibn e Majah 166]
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب (ام المؤمنین) حفصہ (رض) سے بیان کیا پھر حفصہ (رض) نے اسے نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا : تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے یا فرمایا : عبداللہ مرد صالح ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I saw in a dream as though I had a piece of silk in my hand. I did not point with it to any place in paradise, but it flew there with me. So, I related it to Hafsah and she recounted it to the Prophet ﷺ ‘ who said, “Your brother is a righteous man.” or (he said), “Abdullah is a righteous man.” [Bukhari 1121, Muslim 2478, Ahmed 4494]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3825
Notes · وضاحت
١ ؎ : کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول ﷺ دیں ، اس کے شرف کا کیا پوچھنا !۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ (رض) سے فرمایا : عائشہ ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا ، تو آپ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ saw the (light of a) lantern in the house of Zubayr and said, “O Ayshah, I do not see Asma but that a child is born to her. Do not name him till I give him a name.” Then he named him Abdullah and chewed a date and rubbed the moistened date on the child’s palate.
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی ﷺ کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہوگیا ! «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة : ٤) ۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں : میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول ! یہ انیس ١ ؎ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ٢ ؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ٣ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: As Allah’s Messenger ﷺ was passing by, my mother, Umm Sulaym, heard him. She said, “My parent be ransomed to you, O Messenger of Allah ﷺ (this is) Unays. Allah’s Messenger ﷺ prayed for me three supplications. I have found two of them (answered) in this world and I hope for the third in the Hereafter. [Muslim 2481]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3827
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔ ٢ ؎ : ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا ، انس (رض) کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی ، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم : ٣٨٤٦) ۔ ٣ ؎ : اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہوگی۔ «إن شاء اللہ»
ام سلیم (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا : «اللهم أكثر ماله وولده وبارک له فيما أعطيته» اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے ۔
Sayyidh Umm Sulaym (RA) submitted, “O Messenger of Allah, Anas ibn Maalik (RA) is your servant. Pray to Allah for him.” He said, ‘O Allah, bless (him) in his wealth and his children, and bless for him that which You give him. [Ahmed 27496, Bukhari 1982, Muslim 2480]
١- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ٢- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٢٦) (ضعیف) (سند میں خیثمہ ابو نصر العبدی لین الحدیث راوی ہیں)
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک (رض) نے کہا : اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے (براہ راست) رسول اللہ ﷺ سے لیا ہے، اور آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔
Thabit Bunani reported that Sayyidina Anas ibn Maalik said to him, “O Thabit, learn from me for, you will never derive from anyone (knowledge) more authentic than from me. I have derived it from Allah’s Messenger, and he derived it from Jibrilr who derived it from Allah, the Majestic, the Glorious.”
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩١) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
اس سند سے بھی انس (رض) سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔
Abu Kurayb reported the like of hadith of Ibrahim ibn Yaqub from Zayd ibn Hubab, from Maymun Abu Abdullah, from Thahit, from Anas ibn Maalik (RA) But, he did not mention: And the Prophet ﷺ derived it from Jibril.
انس (رض) کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم ﷺ مجھے کہتے : اے دو کانوں والے ۔ ابواسامہ کہتے ہیں : یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ١ ؎۔
Sayyidina Anas narrated: Allah’s Messenger ﷺ addressed me, “O possessor of two ears!’ Abu Salamah explained that it was by way of jest. [Abu Dawud 5002, Ahmed 12165]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3828
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا : کیا انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس (رض) کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔
Abu Khaldah reported that he asked Abul Aaliyah if Anas had heard anything from the Prophet ﷺ . He said ‘He served him ten years and the Prophet ﷺ prayed for him. He had a garden that produced fruit twice each year and there was in it a tree that gave out the fragrance of musk.”
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک (رض) کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, I hear from you something but cannot retain it (in my memory).” He said, “Spread your cloak.’ So, I spread it, Then, he narrated many ahadith, and I did not forget anything that he narrated. [Bukhari 118, Muslim 2492]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ابوہریرہ (رض) سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔
Sayyidina Abu Hurayrah narrated: I went to the Prophet ﷺ and spread my cloak befoure him. He took it and rolled it up on my heart. After that, I never forgot (anything).
حسن الإسناد صحيحهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3834