عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہا : ابوہریرہ ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ ﷺ کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said to Sayyidina Abu Hurayrah “O Abu Hurayrah, you were in the company of Allah’s Messenger ﷺ more than us and retained more hadith from him.” [Ahmed 4453]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3836
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا : اے ابو محمد ! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ ﷺ پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا : نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ (کھانے پینے میں) رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھے۔
Maalik ibn Abu Aamir reported that a man came to Talhah ibn Ubaydullah and asked, “O Abu Muhammad, what do you say about this man from Yaman-that is, Abu Hurayrah (RA) does he know more ahadith of Allah’s Messenger than you people? We hear from him what we do not hear from you ,or, does he ascribe to Allah’s Messenger what he has not said?” He said He has, indeed, heard from Allah’s Messenger ﷺ what we did not hear. This, because he was poor, having nothing. He was the guest of Allah’s Messenger ‘. His hand was with the hand of Allah’s Messenger ‘ while we were people with fanilies, homes and riches. We would come to Allah’s Messenger ﷺ at the two ends of the day. Hence, there is no doubt whatever that he has heard from Allah’s Messenger ﷺ what we have not heard. And, you will never find anyone who has good in him ascribe words to Allah’s Messenger ﷺ that he had never said.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٠١٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کس قبیلہ سے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا : میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہوگا جس میں خیر ہوگی ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ asked, “To what tribe do you belong?” He said, “I come from Daws.” He said, “I had thought that there was none among Daws with any good in him.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا : انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کرلے لو، اسے بکھیرو نہیں چناچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ١ ؎ اور وہ (تھیلی) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان (رض) قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر (کہیں) گرگئی۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narated: I brought some dates to the Prophet ﷺ and requested him, ‘O Messenger of Allah, pray to Allah for blessing in these.’ He gathered them and prayed for me in it, and said to me, “Take them and put them in your tifin carrier, this one. Whenever you wish take any (date) from it put your hand into it. Take it out but do not dust it out.’ Indeed, I have carried many baskets full of this date given away in Allah’s path, we ate from it ourselves and fed other people. And it has never been put away from my back till the day when Uthman was killed it dropped (somewhere and was lost). [Ahmed 8636]
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : خیر و برکت کی دعا اللہ کے رسول ﷺ کسی مقبول بارگاہ الٰہی آدمی کے لیے کرسکتے ہیں ؟ ثابت ہوا کہ ابوہریرہ (رض) مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٨٩٣) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة : ٣٩٦٣، تراجع الالبانی ٢٢٧)
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے پوچھا : آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ قسم اللہ کی ! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا : میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔
Abdullah ibn Rafi’ reported that he asked Sayyidina Abu Hurayrah (RA) “How did you get the kunyah Abu Hurayrah? He asked, “Are you afraid of me?” He said, “Yes. By Allah, I fear you.” He said, “I used to graze the sheep of my family, and I had a small cat. I would put it up on a tree at night. When it was day, I would go out, and she with me and I would play with her. Thus, people gave me the kunyah Abu Hurayrah.”
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3840
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: There is not anyone knowing more ahadith from Allah’s Messenger than me except Abdullah ibn Amr.He used to write down while I did not write down. [Tirmidhi 2677, Ahmed 7393, Bukhari 113]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : لکھ لینے کے باوجود عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایات ابوہریرہ (رض) سے زیادہ نہیں ہیں ، یہ صرف ان کا گمان تھا کہ لکھ دینے کی وجہ سے زیادہ ہوں گی ، نیز اس روایت میں یہ بات بھی ہے کہ عہد نبوی میں بھی لوگ احادیث رسول لکھا کرتے تھے ، خود ابوہریرہ (رض) کے پاس بعد میں تحریری شکل میں احادیث کا مجموعہ ہوگیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ابوہریرہ (رض) نے علم حدیث کے سیکھنے سکھانے کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا ، جب سے مدینہ آئے ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن رات رہ کر احادیث کا علم حاصل کیا ، بعد میں ٥٧ ھ سے ٥٨ ھ تک اسی کے نشر و اشاعت میں مدینۃ الرسول اور مسجد رسول میں بیٹھ کر مشغول رہے ، جب کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) نے مدینہ چھوڑ کر طائف کی سکونت اختیار کرلی ، اور شاید اسی وجہ سے آپ کی احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے معاویہ (رض) کے بارے میں فرمایا : اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Abu Umayrah (RA) one of the sahabah of Allah’s Messenger reported that the Prophet ﷺ prayed for Mu’awiyah (RA). O Allah! guide him, make him a guided who guides and guide people through him. [Ahmed 17915]
١ ؎ : اور یہ دعا آپ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں ، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے ، ثابت ہوا کہ معاویہ (رض) خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے ، «رضی اللہ عنہ»۔
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب (رض) نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ (رض) کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا : انہوں نے عمیر کو معزول کردیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا : تم لوگ معاویہ (رض) کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : «اللهم اهد به» اے اللہ ! ان کے ذریعہ ہدایت دے ۔
Abu Idris Khawlani reported that when Umar ibn Khattab (RA) removed Umayr ibn Sad as governor of Hims and appointed Mu’awiyah (instead), the people commented, he has dismissed Umayr and appointed Muawiyah. So, Umayr said, “Do not mention Mu’awiyah except in praise, for, I have heard Allah’s Messenger ﷺ say: O Allah, guide people through him.”
صحيح بما قبله (3842)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3843
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٨٩٢) (صحیح) (سند میں عمرو بن واقد ضعیف ہے، اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : عمرو بن العاص (رض) فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے ، اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمرو بن العاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالاتر تھا اسی لیے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ ( جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے ، لیکن عمرو بن العاص (رض) کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے ، گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : عمرو بن العاص (رض) قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں ۔
Sayyidina Talhah ibn Ubaydullah (RA) reported that he heard Allah’s Mesenger ﷺ , “Indeed, Amr ibn al-Aas is among the righteous men of Quraysh.” [Ahmed 1382]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٠٠١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی ملیکہ اور طلحہ کے درمیان انقطاع ہے)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے : ابوہریرہ ! یہ کون ہے ؟ میں کہتا : فلاں ہے، تو آپ فرماتے : کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا ، پھر آپ فرماتے : یہ کون ہے ؟ تو میں کہتا : فلاں ہے تو آپ فرماتے : کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ١ ؎، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا : کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah narrated: In a journey with Allah’s Messenger ﷺ we halted at a place. People began to go past us. Allah’s Messenger asked, “Who is he, O Abu Hurayrah?” As I named him, he said, “Excellent slave of Allah, this!” Then he asked, “And who is this?” I named him and he said, “Evil slave of Allah, this” So, on, till Khalid ibn Walid passed by and he asked, “Who is he?” I named him, “Khalid ibn Walid.” He said, “Excellent slave of Allah, Khalid ibn Walid, a sword of the swords of Allah!” [Ahmed 8728]
١- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ (رض) سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر صدیق (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جن لوگوں کے بارے میں آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا شاید وہ منافقین ہوں گے ، ورنہ کسی صحابی کے بارے میں آپ ایسا نہیں فرما سکتے تھے ٢ ؎ : خالد بن ولید (رض) کے حق میں آپ کا یہ فرمان عمر (رض) کے دور خلافت میں سچ ثابت ہوا ، اللہ نے خالد بن ولید (رض) کے ذریعہ دین کی ایسی تائید فرمائی کہ ان کے ہاتھوں متعدد فتوحات حاصل ہوئیں ، خالد بن ولید (رض) حقیقت میں اس ملت کی ایسی تلوار تھے جسے اللہ نے کافروں کی برتری کے لیے میان سے باہر نکالی تھی۔ اور خالد بن ولید (رض) کے وہ اکیلے جرنیل ہیں جنہوں نے زندگی بھر کبھی کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ (رض) کے رومال اس سے بہتر ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Bara (RA) reported that a piece of silk cloth’ was presented to Allah’s Messenger .The people were astonished at its softness. Allah’s Messenger ﷺ said, “Are you astonished at this? The head gears of Sa’d ibn Mu’adh in paradise would be more beautiful than this.” [Ahmed 17418]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس (رض) بھی حدیث مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : دیگر لفظوں میں آپ نے دنیا ہی میں سعد بن معاذ کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنا دی (رض) ۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا : اور سعد بن معاذ (رض) کا جنازہ (اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا) : ان کے لیے رحمن کا عرش (بھی خوشی سے) جھوم اٹھا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say when the funeral bier of Sad ibn Muadh was placed before them, “The throne of the Compassionate shook.” [Ahmed 14155, Muslim 2466]
صحيح، ابن ماجةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : ان کے آسمان پر آ جانے کی خوشی میں ، بعض لوگوں نے رحمان کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے مراد لیا ہے کہ وہ سعد بن معاذ (رض) کے آسمان پر آنے کی خوشی میں جھوم اٹھے ، بہرحال یہ ان کے مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ (رض) کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا : کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that when the funeral of Sa’d ibn Mu’adh (RA) was carried, the hypocrites commented, “How light is his funeral bier! That is because of his judgement on the Banu Quraysh.” This was conveyed to the Prophet ﷺ and he said, “Surely the angels are carrying it.” [Ahmed 13454, Muslim 2467]
١ ؎ : نبی اکرم ﷺ جب خندق کی لڑائی سے فارغ ہوگئے اور بنی قریظہ کا رخ کیا تو اس وقت یہ لوگ ایک قلعہ میں محبوس تھے ، لشکر اسلام نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ، پھر یہ لوگ سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ پر راضی ہوئے ، چناچہ سعد نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ ان کے جنگجو جوان قتل کردیئے جائیں ، مال مسلمانوں میں تقسیم ہوں اور عورتیں بچے غلام و لونڈی بنا لیے جائیں ، آپ ﷺ نے سعد کا یہ فیصلہ بہت پسند فرمایا اور اسی پر عمل ہوا ، اسی فیصلہ کی وجہ سے منافقوں نے ان سے جل کر یہ طعن کیا کہ ان کا جنازہ کیسا ہلکا ہے ، ان احمقوں کو یہ خبر نہ تھی کہ اسے ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں ( یہ ان کے اللہ کے ازحد محبوب بندہ ہونے کی دلیل ہے ) ۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ قیس بن سعد (رض) نبی اکرم ﷺ کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر (کی حفاظت) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے۔ راوی حدیث (محمد بن عبداللہ) انصاری کہتے ہیں : یعنی وہ (آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Sayyidina Qays ibn Sad was with the Prophet ﷺ like a courtier with an amir. (The narrator Ansari said that he discharged hiscommands). [Bukhari 7155]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3850
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے اسی جیسی حدیث بیان کی لیکن اس میں انصاری کا قول ذکر نہیں کیا۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٢ (٧١٥٥) (تحفة الأشراف : ٥٠١) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے ١ ؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ visited him, hewas neither riding a mule nor riding a Turk horse. (Rather, he came on foot).
صحيح مختصر الشمائل (291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری اور دیگر کتب سنن میں ہے کہ آپ میری عیادت کو آئے … بہرحال اس میں جابر (رض) سے آپ ﷺ کے غایت درجہ محبت کرنے کی دلیل ہے ، کہ سواری نہ ہونے پر پیدل چل کر ان کی عیادت کو گئے ، (رض) ۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «ليلة البعير» (اونٹ کی رات) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔
Sayyidina Jabir (RA) narrated: Allah’s Messenger sought forgiveness for me on the night of the camel twenty-five times. [Bukhari 2718, Muslim 715, Ahmed 15017, Nisai 4655]
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، جابر (رض) کہتے ہیں : جس رات میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام (رض) احد کے دن شہید کردیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے، ٣- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي) ( تحفة الأشراف : ٢٦٩١) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
خباب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی ١ ؎، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہوگیا ٢ ؎ چناچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں کھایا ٣ ؎ اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں، اور مصعب بن عمیر (رض) نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو ٤ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Khabbab (RA) narrated: We made hijrah (migrated to Madinah) with the Prophet ﷺ seeking Allah’s countenance. So, our reward was with Allah. There were those of us who died before receiving reward (in the world) and there were others who survived to reap the fruit thereof. Mus’ab ibn Umayr (RA), “ died leaving behind nothing but a garment such that if his head was covered with it, his feet became bare and if it was stretched over his feet, his head was exposed. So, Allah’s Messenger said, “Cover his head and put izkhir on his feet.” (Izkhir is lemon grass). [Ahmed 21134, Bukhari 1276, Muslim 940, Abu Dawud 3155, Nisai 1899]
صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)
صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3853 ہم سے ہناد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، اور ابن ادریس نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل شفیق بن سلمہ سے اور ابو وائل نے خباب بن ارت (رض) سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3853
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی آپ کے حکم سے ہجرت کی ، ورنہ ہجرت میں آپ کے ساتھ صرف ابوبکر (رض) تھے ، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آپ کے آگے پیچھے ہجرت کی اور بالآخر سب مدینہ پہنچے۔ ٢ ؎ : یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر ، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کرسکتا ہے ، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے ، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔ ٣ ؎ : یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا ، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔ ٤ ؎ : چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ١ ؎، انہیں میں سے براء بن مالک ہیں ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘How many there are with dishevelled hair and dusty bodies, worried and wearing a pair of ragged garments to whom people pay no attention, yet, if they were to adjure by Allah, He would confirm them to be true! One of them is Bara ibn Maalik
١ ؎ : یہ ان کے اللہ تعالیٰ کے نہایت محبوب ہونے کی دلیل ہے ، اور یہ محبوبیت یونہی حاصل ہوجاتی ، بلکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور احکامات کی صدق دل اور فدائیت کے ساتھ بجا آوری کرتے ہیں ، اس لیے ان کو یہ مقام حاصل ہوجاتا ہے ، اور ان میں براء بن مالک بھی تھے ، (رض) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٧٥، و ١١٠١) ، و مسند احمد (٣/١٤٥) (صحیح)
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa narrated: The Prophet ﷺ said, “O Abu Musa! Indeed, you are given a sweet voice from the sweet voice of the descendants of Dawood.” [Bukhari 5048, Muslim 793]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں بریدہ، ابوہریرہ اور انس (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک بار اللہ کے نبی ﷺ اور عائشہ (رض) ابوموسیٰ اشعری (رض) کے گھر کے پاس سے گزرے ابوموسیٰ نہایت خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ، صبح کو اسی واقعہ پر آپ نے ان کی بابت یہ فرمایا ، «مزمار» (بانسری ) گرچہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ اچھی آواز نکالی جاتی ہے ، مگر یہاں صرف اچھی آواز مراد ہے ، داود (علیہ السلام) اپنی کتاب زبور کی تلاوت اس خوش الحانی سے فرماتے کہ اڑتی ہوئی چڑیاں فضا میں رک کر آپ کی تلاوت سننے لگتی تھیں۔