سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا : «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما ١ ؎۔
Sayyidina Sahl ibn Sa’ad (RA) narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when he was digging the trenches. We excavated the soil. He passed by us and said: O Allah, there is no life except the life of the Hereaftar. So, forgive the ansar and the muhajir. [Bukhari 6414, Ahmed 22878]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صاحب تحفہ الأحوذی نے اس حدیث پر باب مناقب سہل بن سعد کا عنوان لگایا ہے ، اور یہی مناسب ہے ، کہ اس حدیث کا تعلق ابوموسیٰ (رض) سے کسی طرح نہیں ہے ، اور اس میں تمام مہاجرین و انصار صحابہ کی منقبت کا بیان ہے ، جو خاص طور پر خندق کھودنے میں شریک تھے ، (رض) اجمعین۔
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے : «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: O Allah, there is no life but the life of the hereafter. So, give honur to the ansar and the muhajirin. [Ahmed 12950, Bukhari 2834, Muslim 1805]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- انس (رض) سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث اگلی حدیث کے استشہاد میں لائے ہیں ، یہی اس باب سے اس کی مناسبت ہے۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے ، طلحہ (راوی حدیث) نے کہا : تو میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا : میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ (راوی حدیث) نے کہا : اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The fire will not touch him who has seen me, or seen one who has seen me.” Talhah said, “Indeed, I have seen Jabir ibn Abdullah.” And, Musa said, “Indeed, I saw Talhah.” And, Yahya said, and Musa said to me, “Indeed, you have seen me and we have hopes in Allah.”
ضعيف، المشکاة (6004 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6277) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٢٨٨) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ابراہیم انصاری صدوق ہیں، لیکن احادیث کی روایت میں غلطی کرتے ہیں، گرچہ حدیث کی تحسین ترمذی نے کی ہے، اور ضیاء مقدسی نے اسے احادیث مختارہ میں ذکر کیا ہے، اور البانی نے بھی مشکاة کی پہلی تحقیق میں اس کی تحسین کی تھی، لیکن ضعیف الترمذی میں اسے ضعیف قرار دیا، حدیث میں نکارہ بھی ہے کہ اس میں سارے صحابہ اور صحابہ کے تابعین سب کے بارے میں عذاب جہنم کی نفی موجود ہے، جب کہ اس عموم پر کوئی اور دلیل نہیں ہے، اس لیے یہ حدیث منکر بھی قرار پائے گی، نیز ملاحظہ ہو : تراجع الالبانی ٣٥٩)
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ١ ؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ٢ ؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ٣ ؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی ٤ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of people are from my age, then those who will follow them, then those who will follow them. Then, a people will come after them whose oaths will precede their testimonies or their testimonies will precede their oaths.” [Ahmed 4130, Bukhari 2652, Muslim 2533]
صحيح، ابن ماجة (2362)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبی ﷺ کے زمانہ میں تھے ، ان کا عہد ایک قرن ہے ، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے ، آخری صحابی ( واثلہ بن اسقع ) کا اور انس (رض) کا انتقال ١١٠ ھ میں ہوا تھا۔ ٢ ؎ : یعنی تابعین رحمہم اللہ۔ ٣ ؎ : یعنی : اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سنہ ٢٢٠ ھ تک ممتد ہے ( بعض علماء نے ان تین قرون سے : عہد صدیقی ، عہد فاروقی اور عہد عثمانی مراد لیا ہے ، کہ عہد عثمانی کے بعد فتنہ و فساد کا دور دورہ ہوگیا تھا ، واللہ اعلم۔ ٤ ؎ : یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے ، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے ، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طور سے مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “None of those who swore allegiance under the tree will enter Hell.” [Ahmed 4784, Abu Dawud 4653]
صحيح ظلال الجنة (860) ، الصحيحة (2160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے ، یہ ٦ ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی ، اس میں تقریباً تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔ ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام (رض) اجمعین پر بکواس کرتے اور ان پر تہمتیں دھرتے ہیں ، ہماری اس بددعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٨٥٣) (تحفة الأشراف : ٢٩١٨) ، و مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not revile my campanions, for, by Him in Whose hand is my soul, were any of you to spend gold equal to mount Uhud he would not attain to a mudd (2/3 of Kg) of one of them nay half of that. [Ahmed 11079, Bukhari 3673, Muslim 2591, Abu Dawud 46581
صحيح الظلال (988)
صحيح الظلال (988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3861
ہم سے حسن بن خلال نے بیان کیا اور وہ حافظ تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا اور ابومعاویہ نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3861
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف (آدھا) مد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٤ (٢٥٤١) ، سنن ابی داود/ السنة ١١ (٤٦٥٨) (تحفة الأشراف : ٤٠٠١) ، و مسند احمد (٣/١١) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah! Allah! my sahabah do not take them as target (for blame) after me. He who loves them, loves them because of my love and he who despises them, despises them because of despising me. And, he who hurts them, has hurt me; and, he who hurts me, hurts Allah; and, he who hurts Allah, soon He will seize him (in punishment).”
ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٦٢) ، و مسند احمد (٤/٨٧) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد مجہول راوی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم : ٢٩٠١)
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “Surely they will enter paradise who had pledged allegiance under the tree except the owner of the red camel.” *The owner of the red camel is the hypocrite, Jaad bin Qays who instead of giving the pledge was looking for his camel.
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کرلو تو اس نے کہا : میرا اونٹ مجھے مل جائے ، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے ( مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٧٠٢) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
جابر (رض) کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کا ایک غلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that a slave of Sayyidina Hatib (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ complaining about Hatib, saying, “O Messenger of Allah, surely Hatib will go to hell.” He said, “You lie. He will not go to it, for, he participated in (the Battle of) Badr and in the (Peace) Hudaybiyah.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کردیا ہے۔
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا ۔
Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “None of my sahabah will die on any land but will be resurrected there on the Day of Resurrection as a leader and a light for them.”
ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ (رض) کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٨٣) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم ابو طیبہ روایت میں وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے)
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو : اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you see those who revile my sahabah, say to them, ‘Allah’s curse be upon you for your mischief.”
ضعيف جدا، المشکاة (6008 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (513) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر (عمری) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٧١٣) (ضعیف جدا) (سند میں نضر اور سیف دونوں مجہول ہیں)
مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے : ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کردیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کرلیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے ۔
Sayyidina Miswar ibn Makhramah (RA) reported having heard the Prophet ﷺ say from the pulpit, “Banu Hisham ibn Mughirah sought my permission to marry their daughter to Ali ibn Abu Talib. I do not permit that. I do not permit that. I do not permit that, unless Ibn Abu Talib decides to divorce my daughter and marry their daughter. She is part of me. It pains me what pains her and it hurts me what hurts her.” [Ahmed 18948, Bukhari 926, Muslim 2449, Abu Dawud 2071, Ibn e Majah 1998]
صحيح، ابن ماجة (1998)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ (رض) تھیں اور مردوں میں علی (رض) تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں : یعنی اپنے اہل بیت میں۔
Sayyidina Buraydah (RA) reported that the dearest to Allah’s Messenger ﷺ among women was Fatimah and among men was Ali. Ibrahim said that this meant from ‘people of his household.’
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٨١) (منکر) (سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ علی (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی، آپ نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) reported that Sayyidina Ali mentioned the daughter of Abu Jahl. That came to the Prophet’s ﷺ knowledge and he said, “Surely Fatimah is part of me. It hurts me what hurts her and it tires me what tires her.”
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ حدیث رقم : ٣٨٨٠) ٣- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو (اور ایسا بہت ہوا ہے) ۔
زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) سے فرمایا : میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو ۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to Ali, Fatimah, Hasan and Husain, “I will fight against whom you fight and make peace with whom you make peace.” [Ahmed 9704, Ibn e Majah 145]
ضعيف، ابن ماجة (145) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (27) ، المشکاة (6145) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٥) (تحفة الأشراف : ٣٦٦٢) (ضعیف) (سند میں صبیح لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ (رض) کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا :«اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا » اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ، تو ام سلمہ (رض) بولیں : اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : تو (بھی) خیر پر ہے ۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that the Prophet ﷺ put a cloak over Hasan, Husayn, Ali and Fatimah and prayed, “O Allah, they are people of my house and closest to me. Remove from them evil and purify them a perfect purification.” Umm Salamah (RA) submitted, “I too am with them, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Indeed you are on what is good.” [Ahmed 26570]
صحيح بما تقدم رقم (3435)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ٢- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم برقم ٣٢٠٥، و ٣٧٨٧ (تحفة الأشراف : ١٨١٦٥) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٨٧)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ١ ؎ (رض) سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں : جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چناچہ جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر (عام) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم ﷺ پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا : اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔
Sayyidah Ayshah (RA), the mother of the Believers, narrated: I have not seen anyone resembling Allah’s Messenger ﷺ more closely than Fatimah daughter of Allah’s Messenger ﷺ in habits, gait and characteristics, and in her getting up and her sitting down. When she came to the Prophet ﷺ he would stand up for her, kiss her and make her sit in his place. And when he visited her, she stood up from her seat, kissed him and gave him her place to sit down. When he was taken ill, she came to him, fell down on him, and kissed him. Then she raised her head and wept. Again, she fell down on him, and raised her head and laughed. I said (to myself). “I had thought that she was the most intelligent of women, but, after all, she is a woman.” When the Prophet ﷺ died, I said to her, ‘What do you say when you fell down on the Prophet ﷺ and raised your head (afterwards), you wept. Then again, you tell down, raised your head and laughed? What made you do that?” She said, “While he was alive, I had kept this secret. He informed me that he would die from that illness, so I wept. Then he informed me that I would be the quickest of his family to meet him. So at that time, I laughed.” [Bukhari 3623, Abu Dawud 5217, Muslim 2450, Ibn e Majah 1621, Ahmed 26475]
صحيح نقد الکتانی (44 - 45)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3872
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے فاطمہ (رض) کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے ، ١- فاطمہ (رض) آپ سے اخلاق و عادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں ، ٢- فاطمہ (رض) آپ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں ، ٣- آخرت میں آپ سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ (رض) کو حاصل ہوئی۔
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پاجائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ١ ؎۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پچھلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے ، وہ دوسرا واقعہ اور یہ دوسرا واقعہ ہے ، نیز فاطمہ (رض) ہنسنے کے دونوں اسباب میں بھی تضاد نہ سمجھا جائے ، دونوں باتیں خوش ہونے کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وھو عند الجماعة من حدیث فاطمة نفسھا) ( تحفة الأشراف : ١٨١٨٧) (صحیح)
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ (رض) کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : فاطمہ، پھر پوچھا گیا : مردوں میں کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔
Jumay’ ibn Umayr Taymi reported that he went to Sayyidah Ayshah (RA) with his paternal aunt. He asked her, “Which one of the people was dearest to Allah’s Messenger ﷺ . She said, “Fatimah.” She was asked, “And of the men?” she said, “Her husband. And I know he was much given to fast and to stand (in salah).
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ (رض) کے دن (باری کے دن) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ (رض) کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں : ام سلمہ ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ (رض) کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ ﷺ سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں (یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چناچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں : میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو ١ ؎۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٣- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ (رض) سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ٤- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری میں کعب بن مالک (رض) کی توبہ کی قبولیت کی وحی کے بارے میں آیا ہے کہ یہ وحی ام سلمہ (رض) کے گھر میں نازل ہوئی ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اور ام سلمہ (رض) ایک ہی لحاف میں تھے ، لحاف میں وحی نازل ہونے کی خصوصیت صرف عائشہ (رض) کی ہے ، اور یہ بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٧ (٢٥٧٤) ، و ٨ (٢٥٨٠، ٢٥٨١) ، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤١) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٣٩٦) (تحفة الأشراف : ١٦٨٦١) ، و مسند احمد (٦/٢٩٣) (صحیح)