Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 191 of 199

3880Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو ، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کردیا ہے ، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرائیل (علیہ السلام) کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے ، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے ، واللہ اعلم۔ ٢ ؎ : یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم ٥ اور باب رقم : ٣٥ میں آئی ہے ، اس میں جبرائیل کی بجائے صرف فرشتہ کا لفظ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٢٥٨) (صحیح)
3881Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا : اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے (جیسے جبرائیل کو) ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٧) ، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨) ، والأدب ١١١ (٦٢٠١) ، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٩) ، و ١٩ (٦٢٥٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٧) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٤٠٥، ٣٤٦) (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٦) ، و مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤) (صحیح)
3882Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا : ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں ۔

صحيح وقد مضی (2846)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، وحدیث رقم ٢٦٩٣ (صحیح)
3883Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ (رض) سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ١ ؎۔

صحيح، المشکاة (6185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ عائشہ (رض) کی وسعت علمی کی دلیل ہے ، اور اس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح)
3884Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

صحيح، المشکاة (6186)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3884
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٦٦٨/الف) (صحیح)
3885Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، میں نے پوچھا : مردوں میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان کے باپ ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پیچھے فاطمہ (رض) کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی (رض) اللہ کے رسول ﷺ کو زیادہ محبوب تھے ، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے ، اور یہ حدیث صحیح ہے ، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے ، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٢) ، والمغازي ٦٣ (٤٣٥٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٤) (تحفة الأشراف : ١٠٧٣٨) (صحیح)
3886Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ.

عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، انہوں نے پوچھا : مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ان کے والد ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ١٠٧٤٥) (صحیح)
3887Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.

انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے ١ ؎۔

صحيح، ابن ماجة (3281)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ٣- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ان عورتوں میں سے مریم ، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں ، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٠) ، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٩) ، و ٣٠ (٥٤٢٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٤ (٣٢٨١) (تحفة الأشراف : ٩٧٠) ، و مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٦٤) (صحیح)
3888Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَقَالَ: أَغْرِبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر (رض) کے پاس عائشہ (رض) کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا : ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ ﷺ کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے ؟ امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3888
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٣٦٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
3889Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ: هِيَ زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَعْنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.

عبداللہ بن زیاد اسدی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ (رض) دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ١ ؎۔

صحيح وانظر الحديث (4149)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : دیگر ازواج مطہرات کے دنیا میں دوسرے شوہر بھی تھے ، جبکہ عائشہ (رض) کا آپ کے سوا کوئی شوہر نہ تھا ، اور آخرت میں عائشہ (رض) کے آپ کی بیوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر ازواج مطہرات آخرت میں آپ کی بیویاں نہیں ہوں گی ، عائشہ (رض) بھی ہوں گی ، وہ بھی ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ١٨ (٧١٠٠، ٧١٠١) (تحفة الأشراف : ١٠٣٥٦) (صحیح)
3890Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، عرض کیا گیا مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ان کے والد ۔

صحيح وانظر الحديث (4155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠١) (تحفة الأشراف : ٧٧٤) (صحیح)
3875Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت خدیجہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا ؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔

صحيح، ابن ماجة (1997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3875
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٠١٧ (صحیح)
3876Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت خدیجہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا حَسَدْتُ أَحَدًا مَا حَسَدْتُ خَدِيجَةَ، وَمَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَعْدَ مَا مَاتَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، مِنْ قَصَبٍ قَالَ: إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ (رض) پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کرچکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔

صحيح انظر ما قبله (3875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٧١٤٢) (صحیح)
3877Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت خدیجہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) مریم بنت عمران تھیں ۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٥ (٣٤٣٢) ، وفضائل الأنصار ٢٠ (٣٨١٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣٠) (تحفة الأشراف : ١٠١٦١) (صحیح)
3878Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت خدیجہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ: مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں ١ ؎۔

صحيح، المشکاة (6181)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی یہ چاروں عورتیں ساری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں اور پیروی و اقتداء کے لائق ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٤٦) (صحیح)
3891Sunan At-Tirmidhiصحیح

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ: مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا ، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس (رض) سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہوگیا، تو وہ سجدہ میں گرگئے، ان سے پوچھا گیا : کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو ، تو نبی اکرم ﷺ کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہوسکتی ہے ؟ ١ ؎۔

Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was told after a salah of fajr that a certain wife of the Prophet ﷺ had died. He went down into prostration. Someone asked him, “Do you make prostration at this time?” He said, “Has not Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When you see a sign, go down into prostration.’ So, which sign is greater than the departure of the wives of the Prophet ﷺ ?" [Abu Dawud 1197]

حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشکاة (1491)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے ، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں ، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ، اور یہ بات خوفناک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٦٩ (١١٩٧) (تحفة الأشراف : ٦٠٣٧) (حسن)
3892Sunan At-Tirmidhiضعیف

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ، وَعَائِشَةَ كَلَامٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَلَا قُلْتِ: فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ، وَأَبِي هَارُونُ، وَعَمِّي مُوسَى ، وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا: نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالُوا: نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَنَاتُ عَمِّهِ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيِّ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ.

ام المؤمنین صفیہ بنت حی (رض) بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ (رض) کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہوسکتی ہو، میرے شوہر محمد ﷺ ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ (رض) نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔

Sayyidah Safiyah bint Huyyay narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to me and I had heard the comment of Hafsah and Ayshah. I mentioned that to him and he said to me, “Why did you not say, ‘How can you be better than me while my husband is Muhammad and father is Harun and uncle Musa?” That which she had heard was their saying, “We are more honourable than her in the sight of Allah’s Messenger ﷺ . We are his wives and daughters of his uncle.’

ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد علی الحبشي (35 - 38)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ٣- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٩٠٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
3894Sunan At-Tirmidhiصحیح

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ ؟ ، فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ، وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ، فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ (رض) کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ (رض) نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ تو انہوں نے کہا : حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ١ ؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا : حفصہ ! اللہ سے ڈر ۔

Sayyidina Anas reported that Sayyidah Safiyah (RA) had learnt that Sayyidah Hafsah commented (about her), ‘Daughter of a Jew.’ So, she wept, The Prophet ﷺ went to her and found her weeping. He asked her, ‘Why do you weep?” She said, “Hafsah says to me that lam the daughter of a Jew.” The Prophet ﷺ said, “And you are the daughter of a Prophet ﷺ and your uncle was a Prophet ﷺ and you are in marriage with a Prophet. So, of what does she boast over you?” Then he said, “Fear Allah, O Hafsah!” [Ahmed 12395]

صحيح، المشکاة (6183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی صفیہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے ، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے ، ویسے حفصہ بھی ایک ( نبی اسماعیل (علیہ السلام) ) کی اولاد میں سے تھیں ، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق ( چچا ) بھی نبی تھے ، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں ، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں ، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)
3893Sunan At-Tirmidhiصحیح

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَعَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا، فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پاجائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ١ ؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔

Sayyidah Umm Salamah reported that Allah’s Messenger ﷺ called Sayyidah Fatimah (RA) in the year of the conquest and confided something to her. She wept. Then he conversed with her and she laughed. When Allah’s Messenger (RA) died, she asked her about her weeping and her laughing, she said, “Allah’s Messenger informed me that he would die, so I wept. Then, he told me that I was the chief of the women of paradise, with the exception of Maryam, daughter of Imran, so I laughed.”

صحيح، المشکاة (6184) ، الصحيحة (2 / 439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بعض روایات میں آیا ہے ( الفتح : مناقب خدیجہ ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار : مریم ، پھر فاطمہ پھر خدیجہ ، پھر آسیہ ہیں ، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل : خدیجہ ، فاطمہ ، مریم اور آسیہ ہیں ، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٨٧٣ (صحیح)
3895Sunan At-Tirmidhiصحیح

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مرجائے تو اسے خیر باد کہہ دو ، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو ١ ؎۔

Savyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger said, “The best of you is the best among you to his family and I am the best among you to my family. And when one of you dies, do not speak ill of him.”

صحيح، الصحيحة (285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں ، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا التمام ( تحفة الأشراف : ١٦٩١٩) ، وأخرج الجملة الأخیرة ” إذا مات … “ کل من : صحیح البخاری/الجنائز ٩٧ (٤٨٩٩) ، وسنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٨) ، و مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح)