ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ١ ؎۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو ، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کردیا ہے ، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرائیل (علیہ السلام) کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے ، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے ، واللہ اعلم۔ ٢ ؎ : یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم ٥ اور باب رقم : ٣٥ میں آئی ہے ، اس میں جبرائیل کی بجائے صرف فرشتہ کا لفظ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا : اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے (جیسے جبرائیل کو) ١ ؎۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3881
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا : ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں ۔
صحيح وقد مضی (2846)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3882
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ (رض) سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ١ ؎۔
عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، میں نے پوچھا : مردوں میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان کے باپ ١ ؎۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پیچھے فاطمہ (رض) کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی (رض) اللہ کے رسول ﷺ کو زیادہ محبوب تھے ، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے ، اور یہ حدیث صحیح ہے ، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے ، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، انہوں نے پوچھا : مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ان کے والد ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے ١ ؎۔
صحيح، ابن ماجة (3281)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ٣- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ان عورتوں میں سے مریم ، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں ، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٠) ، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٩) ، و ٣٠ (٥٤٢٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٤ (٣٢٨١) (تحفة الأشراف : ٩٧٠) ، و مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٦٤) (صحیح)
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر (رض) کے پاس عائشہ (رض) کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا : ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ ﷺ کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے ؟
امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3888
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٣٦٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن زیاد اسدی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ (رض) دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ١ ؎۔
صحيح وانظر الحديث (4149)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : دیگر ازواج مطہرات کے دنیا میں دوسرے شوہر بھی تھے ، جبکہ عائشہ (رض) کا آپ کے سوا کوئی شوہر نہ تھا ، اور آخرت میں عائشہ (رض) کے آپ کی بیوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر ازواج مطہرات آخرت میں آپ کی بیویاں نہیں ہوں گی ، عائشہ (رض) بھی ہوں گی ، وہ بھی ہوں گی۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، عرض کیا گیا مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ان کے والد ۔
صحيح وانظر الحديث (4155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠١) (تحفة الأشراف : ٧٧٤) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا ؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔
صحيح، ابن ماجة (1997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3875
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ (رض) پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کرچکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔
صحيح انظر ما قبله (3875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) مریم بنت عمران تھیں ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں ١ ؎۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس (رض) سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہوگیا، تو وہ سجدہ میں گرگئے، ان سے پوچھا گیا : کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو ، تو نبی اکرم ﷺ کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہوسکتی ہے ؟ ١ ؎۔
Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was told after a salah of fajr that a certain wife of the Prophet ﷺ had died. He went down into prostration. Someone asked him, “Do you make prostration at this time?” He said, “Has not Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When you see a sign, go down into prostration.’ So, which sign is greater than the departure of the wives of the Prophet ﷺ ?" [Abu Dawud 1197]
حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشکاة (1491)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے ، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں ، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ، اور یہ بات خوفناک ہے۔
ام المؤمنین صفیہ بنت حی (رض) بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ (رض) کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہوسکتی ہو، میرے شوہر محمد ﷺ ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ (رض) نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔
Sayyidah Safiyah bint Huyyay narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to me and I had heard the comment of Hafsah and Ayshah. I mentioned that to him and he said to me, “Why did you not say, ‘How can you be better than me while my husband is Muhammad and father is Harun and uncle Musa?” That which she had heard was their saying, “We are more honourable than her in the sight of Allah’s Messenger ﷺ . We are his wives and daughters of his uncle.’
ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد علی الحبشي (35 - 38)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ٣- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٩٠٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
انس (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ (رض) کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ (رض) نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ تو انہوں نے کہا : حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ١ ؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا : حفصہ ! اللہ سے ڈر ۔
Sayyidina Anas reported that Sayyidah Safiyah (RA) had learnt that Sayyidah Hafsah commented (about her), ‘Daughter of a Jew.’ So, she wept, The Prophet ﷺ went to her and found her weeping. He asked her, ‘Why do you weep?” She said, “Hafsah says to me that lam the daughter of a Jew.” The Prophet ﷺ said, “And you are the daughter of a Prophet ﷺ and your uncle was a Prophet ﷺ and you are in marriage with a Prophet. So, of what does she boast over you?” Then he said, “Fear Allah, O Hafsah!” [Ahmed 12395]
١ ؎ : یعنی صفیہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے ، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے ، ویسے حفصہ بھی ایک ( نبی اسماعیل (علیہ السلام) ) کی اولاد میں سے تھیں ، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق ( چچا ) بھی نبی تھے ، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں ، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں ، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پاجائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ١ ؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔
Sayyidah Umm Salamah reported that Allah’s Messenger ﷺ called Sayyidah Fatimah (RA) in the year of the conquest and confided something to her. She wept. Then he conversed with her and she laughed. When Allah’s Messenger (RA) died, she asked her about her weeping and her laughing, she said, “Allah’s Messenger informed me that he would die, so I wept. Then, he told me that I was the chief of the women of paradise, with the exception of Maryam, daughter of Imran, so I laughed.”
١ ؎ : بعض روایات میں آیا ہے ( الفتح : مناقب خدیجہ ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار : مریم ، پھر فاطمہ پھر خدیجہ ، پھر آسیہ ہیں ، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل : خدیجہ ، فاطمہ ، مریم اور آسیہ ہیں ، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مرجائے تو اسے خیر باد کہہ دو ، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو ١ ؎۔
Savyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger said, “The best of you is the best among you to his family and I am the best among you to my family. And when one of you dies, do not speak ill of him.”
یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں ، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا التمام ( تحفة الأشراف : ١٦٩١٩) ، وأخرج الجملة الأخیرة ” إذا مات … “ کل من : صحیح البخاری/الجنائز ٩٧ (٤٨٩٩) ، وسنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٨) ، و مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح)