عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو ، عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : (ایک بار) رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کردیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے : قسم اللہ کی ! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا : مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “Let not anyone convey to me anything about one of my sahabah, for, I like to go out to them while I am clean-hearted.” Abdullah narrated: Once some property was brought to Allah’s Messenger ﷺ and he distributed it. I ended up with two men who were sitting and saying, “By Allah, Muhammad has no intention with this division to seek Allah’s pleasure or the home of the hereafter.” I felt very bad about it when I heard them, so I came to Allah’s Messenger ﷺ and informed him of that. His face turned red and he said, “Leave me alone. Indeed, Musa was annoyed more than this, yet he was patient.” [Abu Dawud 4860, Ahmed 3759]
ضعيف الإسناد، لکن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چناچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين کفروا» پڑھ کر سنایا، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہوجانے والی مسلمان عورت ہے، نہ یہودی، نصرانی اور مجوسی عورت، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ١ ؎۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’ Messenger ﷺ said to him, “Allah has commanded me that I should recite the Qur’an to you.” Then he recited to him Surah al-Bayyinah, 98. He also recited: Surely, the religion with Allah is upright Islam not Judaism and not Christianity and not Magian. He, who performs good deeds, does not disbelieve. He then said, “If the son of Aadam has a valley full of wealth, he would crave for a second, and if he had a second, he would crave for a third. Nothing will fill the belly of the son of Aadam but dust. And Allah relents to one who repents.”
حسن، وجملة ابن آدم صحيحة تخريج المشکلة (14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، ٣- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حقیقت میں انسان ایسا حریص ہے کہ وہ دنیا کے مال و متاع سے کسی بھی طرح سیر نہیں ہوتا اسے قبر کی مٹی ہی آسودہ کرسکتی ہے۔ ( دیکھئیے حدیث رقم : ٣٧٩٣ کا اور اس کے حواشی ) یہ حدیث پیچھے معاذ بن جبل ، زید بن ثابت ، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے اکٹھے باب میں بھی آچکی ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث پر ابی بن کعب کا باب قائم کر کے ان کی فضیلت مزید بیان کیا ہے ، اس لیے کہ وہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا ١ ؎۔ اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا ۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there was no hijrah then I would have been one of the ansar.’ (Through the some isnad it is reported from the Prophet ﷺ that he said, “Were the ansar to trek through a valley or a mountain pass, I would be with them.” [Ahmed 21304]
حسن صحيح، الصحيحة (1768)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس فرمان سے انصار کی دل جمعی مقصود ہے ، یعنی انصار کی خوشنودی کے لیے میں یہاں تک جاسکتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ہوجاتا ، مگر نسب کی تبدیل تو ممکن نہیں یہ بات انصار کی اسلام کے لیے فدائیت اور قربانی کا اعتراف ہے ، اگلا فرمان البتہ ممکن ہے کہ اگر انصار کسی وادی میں چلیں تو میں انہی کے ساتھ ہوں گا اگر اس کی نوبت آ پاتی تو مہاجرین و انصار کی آپسی محبت چونکہ اللہ و رسول کے حوالہ سے تھی اس لیے ان کے آپس میں اس طرح کی بات ہونے کی نوبت ہی نہیں آسکی ، (رض) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٣) ، و مسند احمد (٥/١٣٧، ١٣٨) (حسن صحیح)
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا : ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا ١ ؎۔
Adi ibn Thabit reported on the authority of Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) that he heard the Prophet ﷺ say or that the Prophet ﷺ said about the ansar, “No one but a believer loves them and only a hypocrite will hate them. He who loves them Allah will love him and he who hates them Allah will hate him.” They asked him, “Did you hear it from Bara?” Adi said, “This is how he narrated (it).” [Bukhari 3783, Muslim 75, Ibn e Majah 163, Ahmed 18600]
صحيح، ابن ماجة (163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اب اس سے بڑھ کر کسی کی فضیلت اور کیا ہوگی ، «رضی اللہ عن الأنصار وأرضاہم وعن جمیع الصحابۃ رضوان اللہ علیہم اجمعین»۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (فتح مکہ کے وقت) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ١ ؎ اور فرمایا : کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا : قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے ، پھر آپ نے فرمایا : قریش اپنی جاہلیت اور (کفر کی) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، (اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ، لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ assembled some people of the ansar and asked, ‘Tell me is there among you, a stranger not one of you?’. They said, “No, except the son of a brother of ours.” He said, “A nephew belongs to the people.” Then he said, “The Quraysh are newly relieved of jahiliyah and difficulties. I intend to console them and show them affinity. Would it not please you that people return with worldly possessions while you return with Allah’s Messenger ﷺ to your homes?” They said, “Of Course!” So, Allah’s Messenger said i3 “If people trek through a valley or a pass and the ansar trek through another valley or pass then I will take the valley of the ansar or their pass.” [83146, Muslim 1059, Nisai 2606, Ahmed 139151
١ ؎ : یہ غزوہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے ، جس کے اندر آپ نے قریش کے نئے مسلمانوں کو مال غنیمت میں سے بطور تالیف قلب عطا فرمایا تو بعض نوجوان انصاری حضرات کی طرف سے کچھ ناپسندیدہ رنجیدگی کا اظہار کیا گیا تھا ، اسی پر آپ نے انصار کو جمع کر کے یہ ارشاد فرمایا۔
زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک (رض) کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ١ ؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا : میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ٢ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that he wrote to Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) a condolence (letter) on what had afflicted his family and the children of his uncle in the Battel of al-Harrah. He wrote to him, “I give you glad tidings-tidings from Allah. I had heard Allah’s Messenger ﷺ pray: O Allah, forgive the ansar, the children of the ansar, and the children of their children.” [Ahmed 19362, Bukhari 4906, Muslim 2506]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس (رض) سے اور انہوں نے زید بن ارقم (رض) سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حرّہ کا دن اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ٦٣ ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا ، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں ، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی ، ( عفا اللہ عنہ ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ حرّہ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام یوم الحرّۃ پڑگیا۔ ٢ ؎ : یعنی : اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی ﷺ کی دعا کی برکت شامل ہے ، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے ، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Surely, my confidants to whom I return are my family members. And those whom I trust are the ansar; so, forgive the evil among them and accept the pious of them.”
منکر - بذکر أهل البيت -، المشکاة (6240) // ضعيف الجامع الصغير (2175) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں ، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے ، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے ، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بےانتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٩٨) (منکر) (اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے، سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، مگر حدیث رقم ٣٩٠٦ سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے)
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The ansar are my reliable people and confidants. The people will multiply while they will decline. So, accept the pious among them and forgive their evil.” [Ahmed 12802, Bukhari 3801, Muslim 2510]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3907
سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا ١ ؎۔
Sayyidina Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone wishes that the Quraysh should be humiliated then Allah will humiliate him.” [Ahmed 1473]
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں : مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے ، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to him, “A man who believes in Allah and the Last Day cannot despise the ansar.” [Ahmed 2819]
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! قریش کے پہلوں کو تو نے (قتل، قید اور ذلت کا) عذاب چکھایا ہے ١ ؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “O Allah! You caused the first people of the Quraysh to taste punishment, now give the last of them to taste blessings and mercy.” [Ahmed 2170]
حسن صحيح الضعيفة تحت الحديث (398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3908
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» اے اللہ ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed, “O Allah, forgive the ansar and the children of the ansar, and the children of the children of the ansar, and the women of the ansar.” [Ahmed 12595] -
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3909
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں ١ ؎، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو اور فرمایا : انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I inform you of the best houses of the ansar or the best of the ansar?” They said, “Certainly, O Messenger of Allah.’ He said, “Banu Najjar, and those who follow them Banu Abdul Ashhal, and those who follow them Banu al-Harith ibn Khazraj, and those who follow them Banu Sa’idah.” Then he gestured with his hand, closing his fist and spreading open his fingers as though he threw something with his hand and said, “There is good in all the houses of the ansar.” [Ahmed 12025, Bukhari 3879, Muslim 2511]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اسلام کے لیے سبقت کے حساب سے ان قبائل کے فضائل کی ترتیب رکھی گئی ہے ، جو جس قبیلہ نے جس ترتیب سے اول اسلام کی طرف سبقت کی آپ نے اس کو اسی درجہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔ ٢ ؎ : یعنی : ایمان میں دیگر عربی قبائل کی بنسبت سبقت کے سبب انصار کے سارے خاندانوں کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔
ابواسید ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ١ ؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ، تو سعد نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ٢ ؎ تو ان سے کہا گیا : آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Abu Usayd Saidi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the tribes of the ansar are the tribe of Banu Najjar, then the tribe Banu Abdul Ashhal, then Banu Harith ibn Khazraj, then Banu Sa’idah, and there is good in every tribe of ansar. Sad narrated, “I never saw Allah’s Messenger ﷺ but he preferred over us. So, someone said, “He preferred you, indeed, over many.” [Ahmed 16049, Bukhari 3789, Muslim 2511]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ٣- اسی جیسی روایت ابوہریرہ (رض) سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٤- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : قبائل و خاندان۔ ٢ ؎ : آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی ﷺ نے چوتھے درجہ پر کیا۔ ٣ ؎ : یعنی : بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے ، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی ، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے ، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم»۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger said, “The best of houses of the ansar are the Banu Najjar.”
صحيح بما قبله (3911)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بنی نجار ہی میں نبی اکرم ﷺ کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا ، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا ، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی ، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٣٥٣) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
جابر عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the ansar are the Banu Abdul Ashhal.”
صحيح بما قبله (3912)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے ، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہوگا ، یعنی : «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ١ ؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص (رض) کا محلہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «اللهم إن إبراهيم کان عبدک وخليلک ودعا لأهل مكة بالبرکة وأنا عبدک ورسولک أدعوک لأهل المدينة أن تبارک لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما بارکت لأهل مكة مع البرکة بركتين» مجھے وضو کا پانی دو ، چناچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے اللہ ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں (یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ٢ ؎ ) ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: we went forth with Allah’s Messenger ﷺ till we were at Harrah Suqya, The locality of Sa’d ibn Abu Waqqas. Allah’s Messenger ﷺ said, “Fetch me water for ablultion.” He performed ablution and stood up and faced the qiblah. Then he prayed: "O Allah! Surely, Ibrahim was Your slave and Your friend. He prayed (to You) for the people of Makkah to be blessed. And, I am Your slave and Your Messenger. I pray to You for the people of Madinah that You bless them in their mudd and their Sa’ like You blessed for the people of Makkah, with a blessing twice over." [Ahmed 9361]
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : «حرّۃ السقیا» مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے دو دن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : مکہ میں گرچہ اللہ کا گھر ہے ، مگر مکہ والوں نے اللہ کے سب سے محبوب بندے کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تو مدینہ نے محبوب الٰہی کو پناہ دی جو آپ کی آخری پناہ ہوگئی ، نیز یہیں کے باشندوں نے اسلام کو پناہ دی ، اس کے لیے قربانیاں پیش کیں ، جان و مال کا نذرانہ پیش کردیا ، سارے عالم میں یہیں سے اسلام کا پھیلاؤ ہوا ، اس لیے مدینہ کے لیے دوگنی برکت کی دعا فرمائی ، اس دعا کا اثر ہر زائر مکہ کے لیے واضح طور پر دیکھی سنی حقیقت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (١/١١٥) (صحیح)
علی اور ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (مسجد نبوی) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib and Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That which is between my house and my pulpit is a garden of the gardens of paradise.” [Ahmed 7227, 8894]
حسن صحيح ظلال الجنة (731) ، الروض النضير (1115)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3915
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : روضۃ الجنۃ ، مسجد نبوی میں ہے ، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے ، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔