ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The portion between my house and my pulpit is a garden of the gardens of paradise." It is also reported through the same sanad that the Prophet ﷺ said, “A salah offered in this, my mosque is better than a thousand salah offered in any other of the mosques, except Masjid al-Haram.
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3916
اور اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری اور مسجدوں کے ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام کے ١ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے ، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے ، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے ، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مرسکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone can die in Madinah, let him die there for, I will intercede for one who dies there.” [Ahmed 5438, Ibn e Majah 311]
صحيح، ابن ماجة (3112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے ، اگر کامیابی ہوگئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے ، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے ، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو ، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے ، آپ نے فرمایا ہے : آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا ( اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے ) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٣١١٢) (تحفة الأشراف : ٧٥٥٣) (صحیح)
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا : تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لکاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا ١ ؎۔
It is reported about Sayyidina Ibn Umar (RA) that one of his freed woman came to him. She said, “Times are very hard upon me and I intend to go away to Iraq.” He said, “Why do you not go to Syria? It is the land of gathering. Besides, O foolish one! Why do you not show patience? I have heard Allah’s Messenger say that if anyone exercises patience over the hardships of Madinah and over hunger then, on the day of resurrection, he will be his-witness or intercessor.” [Muslim 1377, Ahmed 6449]
صحيح تخريج فقه السيرة (184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The last city of the cites of Islam to be destroyed will be Madinah.”
ضعيف، الضعيفة (1300) // ضعيف الجامع الصغير (4) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ (رض) پر تعجب کا اظہار کیا ہے (یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤١٦٦) (ضعیف) (سند میں جنادہ کو بہت سے أئمہ نے ضعیف قرار دیا ہے)
جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آگیا تو وہ اعرابی نبی اکرم ﷺ پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کردیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کردیتا ہے پاک کو ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that a villager swore allegiance to Allah’s Messenger ﷺ over Islam. But, he was overtaken by fever in Madinah. So, he came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “Return me (that is, cancel) my pledge.” But, Allah’s Messenger ﷺ refused. So, the villager went away only to come back and say again, Return me my pledge,” but he refused. The villager went out and came back later and said “Return me my pledge,” but the Prophet ﷺ refused (to do that). He went away and Allah’s Messenger ﷺ said, “Madinah is like bellows that drives away its impurity and purifies the good in it.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی لوہار کی بھٹی جس طرح لوہے کے میل اور اس کے زنگ کو دور کردیتی ہے اسی طرح مدینہ اپنے یہاں سے برے لوگوں کو نکال پھینکتا ہے۔ اور مدینہ کی یہ خصوصیت کیا صرف عہد نبوی تک کے لیے تھی ( جیسا کہ قاضی عیاض کہتے ہیں ) یا عہد نبوی کے بعد بھی باقی ہے ؟ ( جیسا کہ نووی وغیرہ کہتے ہیں ) نووی نے حدیث دجال سے استدلال کیا ہے کہ اس وقت بھی مدینہ ایسا کرے گا ، کہ برے لوگوں کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرے گا ، اب اپنی یہ بات کہ بہت سے صحابہ و خیار تابعین بھی مدینہ سے باہر چلے گئے ، تو کیا وہ لوگ بھی برے تھے ؟ ہرگز نہیں ، اس حدیث کا مطلب ہے : جو مدینہ کو برا جان کر وہاں سے نکل جائے وہ اس حدیث کا مصداق ہے ، اور رہے صحابہ کرام تو وہ مدینہ کی سکونت کو افضل جانتے تھے ، مگر دین اور علم دین کی اشاعت کے مقصد عظیم کی خاطر باہر گئے تھے ، (رض) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٣) ، والأحکام ٤٥ (٧٢٠٩) ، و ٤٧ (٧٢١١) ، و ٥٠ (٧٢١٦) ، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٢) ، صحیح مسلم/الحج ٨٨ (١٣٨٣) (تحفة الأشراف : ٣٠٧١) ، موطا امام مالک/الجامع ٢ (٤) ، و مسند احمد (٣/٢٩٢) (صحیح)
ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ١ ؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah used to say, “If I were to see a deer grazing in Madinah, I would not frighten it off. Allah’s Messenger said that the portion between the two rocks is sacred land.” [Bukhari 1869, Muslim 1372, Ahmed 7222]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ دونوں پتھریلی زمینیں ( حرہ ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا : یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس (مدینہ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that on seeing Uhud, Allah’s Messenger ﷺ said, “This Mountain loves us and we love it. O Allah, surely, Ibrahim declared Makkah to be sacred and I declare sacred that which lies between the two rocks (Madinah).” [Ahmed 12612, Muslim 1365]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3922
جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے ۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Indeed, Allah revealed to me that in whichever of these three places I take up residence, that will be the place of my hijrah (migration): Madinah, Bahrayn or Qinnasrin (a place in Syria).”
موضوع الرد علی الکتاني رقم الحديث (1) // ضعيف الجامع الصغير (1573) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3923
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٢٤١) (موضوع) (سند میں غیلان بن عبد اللہ سخت ضعیف راوی ہے)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No one endures the hardships and rigours of Madinah but I will be an intercessor or a witness for him on the day of resurrection.” [Muslim 1378, Ahmed 9172]
صحيح تخريج فقه السيرة (184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3924
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو ، کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہوگا۔
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو «حزوراء» (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا : قسم اللہ کی ! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Adi ibn Hamra reported that he saw Allah’s Messenger ﷺ standing at Hazwarah. He said, “By Allah, the best of Allah’s land and dearest of it to Allah are you. And, if I had not been driven away from you, I would not have gone.” [Ahmed 8749]
صحيح، ابن ماجة (3108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق : «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق : «أبي سلمة عن عبد اللہ بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث نیز مسجد الحرام مکہ میں نماز کے اجر و ثواب والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے ، کہ مکہ : مدینہ سے افضل ہے ، یہی محققین کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠٣ (٣١٠٨) (تحفة الأشراف : ٦٦٤١) (صحیح)
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا ۔
Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger ﷺ addressed Makkah, saying, “What a nice town you are! How dear to me! Were it not that my people expelled me from you, I would not live anywhere besides you.”
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلمان ! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا : تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے ۔
Sayyidina Salman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to him, ‘O Salman, do not hate me, lest you abandon your religion.” He asked, “O Messenger of Allah, how can I hate you when through you, Allah has guided me.” He said, “If you hate the Arabs then you will hate me.” [Ahmed 23792]
ضعيف، الضعيفة (2020) ، المشکاة (5989) // ضعيف الجامع الصغير (6394) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3927
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٤٨٨) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہے)
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۔
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who betrays the Arabs will not be included in my intercession and will not get my love.” [Ahmed 519]
موضوع، الضعيفة (545) ، المشکاة (5990) // ضعيف الجامع الصغير (5715) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٨١٢) (موضوع) (سند میں حصین بن عمر الاحمسی “ متروک راوی ہے)
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہوجاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے ۔ محمد بن رزین کہتے ہیں : ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔
Muhammad ibn Abu Razin reported on the authority of his mother that she said that whenever an Arab died Umm Harir became very grieved. She was asked, “We observe that you are much grieved when anyone of the Arabs dies.” She said that she had heard her master say that Allah’s Messenger ﷺ said, one of the signs of the approach of the Last Hour is the destruction of the Arabs."
ام شریک (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے ، ام شریک (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہ (تعداد میں) تھوڑے ہوں گے ۔
Sayyidah Umm Sharik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People will flee from the dajjal and go to the mountains.” She asked, “O Messenger of Allah, where will the Arabs be on that day?” He said, “They will be few.” [Muslim 3231, Ahmed 27691]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3930
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے ١ ؎۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Saam was the father of the Arabs, Yaafith of the Romans and Haam of the Ethiopians.”
ضعيف، الضعيفة (3683) // تقدم برقم (635 / 3461) ، ضعيف الجامع الصغير (3214) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور «یافث» ، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ تینوں نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کے نام ہیں۔
ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Ajam (non-Arabs) were mentioned before Allah’s Messenger ﷺ . He said, “Indeed, they or some of them are more trustworthy in my sight than you or some of you.”
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت سورة الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں : اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرلیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when surah al-Jumu’ah was revealed. He recited it. When he came to the words: "And (also for) others of them who have not yet joined them." (62 : 3) A man said to him, “O Messenger of Allah, who are they who have not yet joined us.” He did not say anything to him. Salman Farsi was among us. Allah’s Messenger placed his hand on Salman and said, “By Him in Whose Hand is my soul, were faith to be in Thurayya (Pleiades) some of these men would fetch it.’
صحيح وهو مکرر الحديث (3541)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ (رض) سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : سلمان فارسی (رض) عجمی ( ملک ایران کے ) تھے اور اس آیت میں انہیں لوگوں کی طرف اشارہ ہے ، عجم میں بیشمار محدثین اور عظیم امامان اسلام پیدا ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجمعة ١ (٤٨٩٧) ، ٤٨٩٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٩ (٢٥٢٦) (تحفة الأشراف : ١٢٩١٧) ، و مسند احمد (٢/٢٩٧، ٤٢٠، ٤٦٩) (صحیح)
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے اللہ ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے ١ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) reported that the Prophet ﷺ looked in the direction of Yemen and prayed: O Allah turn their hearts towards us, and bless us in our sa’ and our mudd. [Ahmed 21606]
حسن صحيح، المشکاة (6263 / التحقيق الثانی) ، الإرواء (4 / 176)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مدینہ میں زیادہ تر علم یمن سے آیا کرتا تھا ، اس لیے آپ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی ، اسی مناسبت سے آپ نے مدینہ کی صاع اور مد ( یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے ) میں برکت کی دعا فرمائی۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “The people of Yemen have come to you. They have most mild thoughts and, most soft hearts. Faith comes from Yemen and wisdom is (also) from there.” [Ahmed 10982, Bukhari 3301, Muslim 52]
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بقول بعض آپ ﷺ نے ایمان و حکمت کو جو یمنی فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان و حکمت دونوں مکہ سے نکلے ہیں اور مکہ تہامہ سے ہے اور تہامہ سر زمین یمن میں داخل ہے ، اور بقول بعض یہاں ظاہری معنی ہی مراد لینے میں کوئی حرج نہیں ، یعنی یہاں خاص یمن جو معروف ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اس وقت یمن سے آئے تھے ، نہ کہ ہر زمانہ کے اہل یمن مراد ہیں ، نیز یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ یمن والوں سے بہت آسانی سے ایمان قبول کرلیا ، جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں پر بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی ، اس لیے اہل یمن ( اس وقت کے اہل یمن ) کی تعریف کی ، «واللہ اعلم»