Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 194 of 199

3936Sunan At-Tirmidhiصحیح

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ يَعْنِي: الْيَمَنَ .

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلطنت (حکومت) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Kingdom belongs to the Quraysh, judgement to the Ansar, adhan to Ethiopia and fidelity to the Azd, meaning Yemen.” [Ahmed 8769]

صحيح، الصحيحة (1083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3936
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٤٦١) (صحیح)
3937Sunan At-Tirmidhiضعیف

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنِي عَمِّيعَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ، وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا، يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفٌ وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «ازد» ( اہل یمن) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش ! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں ! ازدیہ ہوتی ۔

Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Azd are Allah’s Azd (Aza or Asad meaning Lion) on earth. People wish to put them down, but Allah refuses every thing except that He should raise them. A time will come to the people when a man will lament: would that my father was an Azd. Would that my father was an Azd!”

ضعيف، الضعيفة (2467) // ضعيف الجامع الصغير (2275) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩١٩) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے)
3938Sunan At-Tirmidhiصحیح

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: If we were not of the Azd, we would not have been of the (perfect) people.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے ، انس (رض) قبیلہ انصار کے تھے ، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں ، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
Takhrij · تخریج
(صحیح) تحفة الأحوذی (٤١٩٦/١٠/٣٠٤) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
3939Sunan At-Tirmidhiضعیف

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ، وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا (میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا) اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیرلیا اور فرمایا : اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when a man came to him-I suppose, from the Qays. He said, “O Messenger of Allah, curse the Himyar.” But he turned away from him. Then he came from the other side, but the Prophet ﷺ again turned away. Again, he came from another side, but he turned away from him and said, ‘May Allah have mercy on the Himyar! May there be peace in their mouths and food in their hands! they are folk of peace and faith.” [Ahmed 7749]

موضوع، الضعيفة (349) // ضعيف الجامع الصغير (3109) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٦٣٣) ، و مسند احمد (٢/٢٧٨) (موضوع) (سند میں مینا بن ابی مینا متروک شیعی راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو : الضعیفة ٣٤٩)
3940Sunan At-Tirmidhiصحیح

قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں ۔

Sayyidina Abu Ayyub Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,. “The Ansar, the Muzaynah, the Juhaynah, the Ashja,’ the Ghifar and the members of Banu Abd ad-Dar are my friends. They have no Lord other than Allah. And Allah and His Messenger are their friends.” [Muslim 2519]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3940
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥١٩) (تحفة الأشراف : ٣٤٩٣) (صحیح)
3941Sunan At-Tirmidhiصحیح

قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسلم کو اللہ صحیح سالم رکھے، غفار کو اللہ بخشے اور عصیہ (قبیلہ) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس میں ، قبیلہ اسلم ، اور غفار کی منقبت ہے ، جبکہ قبیلہ عصیہ کی برائی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٦ (٣٥١٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٦ (٢٥١٨) ، ویأتي برقم ٣٩٤٨ (تحفة الأشراف : ٧١٣٠) ، و مسند احمد (٢/٢٠، ٥٠، ٦٠) (صحیح)
3942Sunan At-Tirmidhiضعیف

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کردیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا :«اللهم اهد ثقيفا» اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that people said, “O Messenger of Allah! ﷺ The arrows of the Thaqif have burned us, so curse them.” He said, “O Allah, guide Thaqif.” [Ahmed 14708]

ضعيف، المشکاة (5986)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٧٧٩) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر محمد بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے)
3943Sunan At-Tirmidhiضعیف

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفًا، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَبَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ died while he detested three tribes: Thaqif. Banu Hanifah and Banu Umayyah.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے ( واللہ اعلم ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٨١٣) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، جب کہ عمران بن حصین (رض) “ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے)
3944Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ .حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَيَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is in Thaqif a liar and one who will cause ruin." [Ahmed 4790]

صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) // صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3944 ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے، ٣- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٢٢٠ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3945Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلَاءِ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ١ ؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں ، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: A villager presented to Allah’s Messenger ﷺ a young she-camel. He reciprocated by giving him six young camels. But, the man was displeased. This came to the Prophet’s ﷺ knowledge. He praised and glorified Allah and said, “So-and-so gave me a gift of a she-camel, so I reciprocated with six young she-camels, yet he became angry. I have resolved, therefore, that I shall not accept a gift except from a Quraysh, an Ansar, a Thaqafi, or a Daws.” [Ahmed 7923]

صحيح، المشکاة (3022 / التحقيق الثانی) ، الصحيحة (1684)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ (رض) سے آئی ہے، ٢- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي ( تحفة الأشراف : ١٢٩٥٤) ، وانظر مسند احمد ( ٢/٢٩٢) (صحیح)
3946Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي، ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ، فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَيَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ أَيُّوبَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی ! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: A man of Banu Fazarah presented to the Prophet ﷺ a she-camel from the camels that had come to his possession at Ghabah. So, the Prophet ﷺ reciprocated to him some of it, but he became angry. Then I heard Allah’s Messenger ﷺ say (about this) from the pulpit, “Of the men of the Arabs, someone presents a gift, so I return the gesture to the extent I can. But he becomes angry and displays anger to me. By Allah, after this moment, I will not accept gift from the men of Arab except from the Qurayshi, Ansari, Thaqafi or Dawsi.” [Abu Dawud 3537]

صحيح انظر ما قبله (3945)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3946
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٨٢ (٣٥٣٧) ، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ١٤٣٢٠) (صحیح) (سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں، لیکن صاحب اوہام ہیں، اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اور سابقہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحہ رقم ١٦٨٤)
3947Sunan At-Tirmidhiضعیف

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍيُحَدِّثُ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِوُنَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ ، فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، قَالَ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَيُقَالُ: الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ.

ابوعامر اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، عامر (رض) کہتے ہیں : پھر میں نے اسے معاویہ (رض) سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اس طرح رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں ، تو میں نے عرض کیا : میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، معاویہ (رض) نے کہا : تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔

Aamir ibn Abu Aamir Ash’ari reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “How excellent, a tribe the Asad and the Ashari are! They do not flee from the battle and they do not cheat in the booty. They are mine and I am theirs.” The narrator said that he narrated it to Mu’awiyah (RA) but he said that it was not in that manner. (It was): Allah’s Messenger ﷺ said, “They are mine and for me.” Again the narrator objected; This is not how my father narrated to me, but he narrated: I heard Allah’s Messenger ﷺ say, “They are mine and I am theirs.” Mu’awiyah (RA) submitted, “Then you know better the hadith of your father.” [Ahmed 17166]

ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٠٦٦) وانظر مسند احمد (٤/١٢٩) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن ملاذ مجہول راوی ہے)
3948Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Aslam-may Allah give them peace! and And, Ghifar-may Allah forgive them! [Ahmed 4702]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ (رض) سے ہی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٩٤١ (تحفة الأشراف : ٧١٩٤) (صحیح)
3949Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخش دے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔

Abdullah ibn Dinar reported a hadith like that of Shu’bah with the addition, “And Usayyah disobeyed Allah and His Messenger.” Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Aslam-may Allah give them peace! And, Ghifar-may Allah forgive them! And, Usayyah disobeyed Allah and His Messenger

صحيح انظر ما قبله (3948)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3949
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٧١٦٨) (صحیح)
3950Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَغِفَارٌ، وَأَسْلَمُ، وَمُزَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، أَوْ قَالَ: جُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ، وَطَيِّئٍ، وَغَطَفَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ یا آپ نے فرمایا : جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the Ghifar, Aslam, Muzaynah and those of Juhaynah” or, he said, “Juhaynah and those who belong to Muzaynah are better in Allah’s sight on the Day of Reserrection than Asad, Watiy and Ghatafan.” [Ahmed 9820, Muslim 2521, Bukhari 3523]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3950
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥٢٠/١٩١) (تحفة الأشراف : ١٣٨٨١) (صحیح)
3951Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ تَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : اے بنی تمیم ! خوش ہو جاؤ، وہ لوگ کہنے لگے : آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو (کچھ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا : تمہیں لوگ بشارت قبول کرلو ، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا : ہم نے قبول کرلیا۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that a deputation of Banu Tamim came to Allah’s Messenger who said, “Glad tidings, O Banu Tamim!” They said, “Since you give us glad tidings, do grant us something, too!” The narrator reported that the face of Allah’s Messenger ﷺ changed colour. Also, a deputation of the people of Yemen came (to him) and he said, “Accept the glad tidings that Banu Tamim did not accept.” They said, “Indeed, we accept (it).” [Ahmed 19897, Bukhari 3191]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3951
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٠) ، والمغازي ٦٧ (٤٣٦٥) ، و ٧٤ (٤٣٨٦) ، والتوحید ٢٢ (٧٤١٨) (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٩) (صحیح)
3952Sunan At-Tirmidhiصحیح

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَمُزَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے، تو لوگ کہنے لگے : نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا : وہ ان (قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ) سے بہتر ہیں ۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٦ (٣٥١٥، و ٣٥١٦) ، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٣٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥٢٢) (تحفة الأشراف : ١١٦٨) (صحیح)
3953Sunan At-Tirmidhiصحیح

شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ ابْنَةِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْهَا، يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا : یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی ، (یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے) ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Allah’s Messenger prayed, “O Allah, bless us in our Syria. O Allah, bless us in our Yemen.” They (the sahabah) said, “And in our Najd.” He then prayed, “O Allah, bless us in our Syria, and bless us in our Yemen.” They said, “And in our Najd.” He said, “There will e earthquakes and dissensions and with it”-or, he said, “in it will arise the horn of the devil.” [Ahmed 5994, Bukhari 1037]

صحيح تخريج فضائل الشام (8) ، الصحيحة (2246)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3953
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث بطریق : «سالم بن عبد اللہ بن عمر عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : محقق شارحین حدیث نے قطعی دلائل اور تاریخی حقائق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس حدیث میں مذکور نجد سے مراد عراق ہے ، تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ دینی فتنے زیادہ تر عراق سے اٹھے ، لغت میں نجد اونچی زمین ( سطح مرتفع ) کو کہا جاتا ہے ، سعودیہ میں واقع نجد کو بھی اسی وجہ سے نجد کہا جاتا ہے ، اس اعتبار سے عراق پر بھی نجد کا لفظ صادق آتا ہے ، اور حسی و معنوی دینی فتنوں کے عراق سے ظہور نے یہ ثابت کردیا کہ آپ ﷺ کی مراد یہی عراق اور مضافات کا علاقہ تھا ، بدعتی فرقوں نے اس حدیث کا مصداق شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تحریک کو قرار دیا ہے ، «شتان مابین الیزیدین» سلف صالحین کے عقیدہ اور فہم شریعت کے مطابق چلائی گئی تحریک چاہے مذمومہ نجد ہی سے کیوں نہ ہو اس حدیث کا مصداق کیسے ہوسکتی ہے ؟ اگر نجدی تحریک مراد ہوگی تو اصل اسلام ہی مراد ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستسقاء ٢٧ (١٠٣٧) ، والفتن ١٦ (٧٠٩٤) (تحفة الأشراف : ٧٧٤٥) (صحیح)
3954Sunan At-Tirmidhiصحیح

شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طُوبَى لِلشَّأْمِ ، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.

زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا : مبارکبادی ہو شام کے لیے ، ہم نے عرض کیا : کس چیز کی اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں ۔

Sayyidina Zayd ibn Thabit reported: We were with Allah’s Messenger ﷺ making transcripts of the Qur’an on parchments. He said, “Blessed is Syria.” We asked, “Why is that so, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Because the angels of the Compassionate One have spread their wings over it.” [Ahmed 21663]

صحيح الفضائل أيضا رقم (1) ، المشکاة (6624) ، الصحيحة (502)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3954
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٧٢٨) ، وانظر : مسند احمد (٥/١٨٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ٥٠٣)
3955Sunan At-Tirmidhiصحیح

شام اور یمن کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : باز آ جائیں وہ قومیں جو اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کر رہی ہیں جو مرگئے ہیں، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنے آگے اپنی ناک سے نجاست دھکیلتا رہتا ہے، اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت کو ختم کردیا ہے، اب تو لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People must cease to boast about their forefathers who have died. Indeed, they are not but the fuel of Hell. If not, then they will surely be worse than the beetle that makes balls of dung with its nose. Allah has removed from you the arrogance of Jahiliyah and its boasting on forefathers. A man is but a pious believer, or a miserable sinner. Mankind is children of Aadam and Aadam was created from dust.”

حسن، التعليق الرغيب (4 / 21 و 33 - 34) ، غاية المرام (312)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3955
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے مراد وہ آباء و اجداد ہیں جن کی وفات کفر کی حالت میں ہوچکی تھی ، وہ کیسے بھی عال نسب ہوں ، ان پر مسلمانوں کو فخر کرنا درست نہیں کیونکہ ان کی وفات کفر پر ہوئی ہے۔ ٢ ؎ : قبائل کے فضائل کے اخیر میں شاید اس حدیث کے لانے سے مولف کا مقصد یہ ہو کہ مذکورہ قبائل کے جو بھی فضائل ہوں اصل کامیابی اور فضیلت کی بات اپنا ایمان وعمل ہے ، قبیلہ خاندان کی برتری اور ان پر فخر کچھ کام نہیں آئے گا ، یہ فخر بالآخر ذلت کا سبب بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٠٧٤) (حسن)