بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ تَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: اے بنی تمیم! خوش ہو جاؤ، وہ لوگ کہنے لگے: آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو (کچھ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا: تمہیں لوگ بشارت قبول کرلو ، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے قبول کرلیا۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that a deputation of Banu Tamim came to Allah’s Messenger who said, “Glad tidings, O Banu Tamim!” They said, “Since you give us glad tidings, do grant us something, too!” The narrator reported that the face of Allah’s Messenger ﷺ changed colour. Also, a deputation of the people of Yemen came (to him) and he said, “Accept the glad tidings that Banu Tamim did not accept.” They said, “Indeed, we accept (it).” [Ahmed 19897, Bukhari 3191] --------------------------------------------------------------------------------