انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین (رض) کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے (جب کہ وہ حسین نہیں ہے) ١ ؎۔ تو میں نے کہا : سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ٢ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I was with Ibn Ziyad when the head of Husayn was brought to him. He tapped his nose with his wand, saying, “I have not seen such beauty. Then why mention him.” I said, “Indeed, he resembles Allah’s Messenger most closely.” [Ahmed 13750, Bukhari 3748]
١ ؎ : یہ جملہ اس نے حسین (رض) کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا ، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔ ٢ ؎ : اس سے پہلے حدیث رقم ٣٧٨٦ کے تحت زہری کی ایک روایت انس (رض) سے گزری ہے ، اس میں ہے کہ حسن بن علی (رض) سے زیادہ اللہ کے رسول ﷺ سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی (رض) سب سے زیادہ مشابہ تھے ، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے ، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے : ( ١) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن (رض) باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس (رض) کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن (رض) کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ ( ٢) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی (رض) کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ ( ٣) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے ( دیکھئیے اگلی روایت ) ۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ حسن (رض) سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین (رض) اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔
Sayyidina Ali (RA) said that Hasan (RA) most resembLed Allah’s Messenger from the chest to the head while Husayn most resembled him from chest down. [Ahmed 774]
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ١ ؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے : آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہوگیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہوگیا، پھر لوگ کہنے لگے : آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ١ ؎۔
Umarah ibn Umayr narrated: When the heads of Ubaydullah ibn Ziyad and his henchmen were placed in the mosque at Rahabah, I also went there. They were exclaiming, “It’s here. It is here!” There it was! A snake came and through the heads went into the nostrils of Ubaydullah ibn Ziyad. It stayed there awhile, came out and disappeared. Again, people exclaimed, “It is here! It is here!” So it did that two or three times.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حسن اور حسین (رض) کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین (رض) کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک ، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ( عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا ) ۔
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا : تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے ؟ میں نے کہا : اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جاسکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا : اب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا : کون ہو ؟ حذیفہ ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا : «ما حاجتک غفر اللہ لک ولأمك» کیا بات ہے ؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو (پھر) آپ نے فرمایا : یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین (رض) اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) narrated: My mother asked me, “When do you go to the Prophet ﷺ . I said that I had not gone to him since so many days. She became angry at me, so I said to her, “Exscuse me now, but I will go to the Prophet ﷺ and pray the maghrib salah with him and request him to seek forgiveness for me and for you.” So, I went to the Prophet ﷺ and prayed the maghrib with him. He was occupied in salah till he prayed the isha. Then he moved out and I followed him. He heard me and asked,”Who is he, Hudhayfah?” I said, “Yes.” He asked, “What do you need? May Allah forgive you and your mother! This, here, is an angel. He has never come down to earth before this night. He has asked permission of his Lord to convey greetings to me and give me good tidings that Fatimah is the chief of women of paradise and that Hasan and Husayn are the chiefs of the youth of paradise.” [Ah23390]
براء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین (رض) کو دیکھا تو فرمایا : «اللهم إني أحبهما فأحبهما» اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما ۔
Sayyidina Bara reported that Allah’s Messenger observed Hasan and Husayn and said, “O Allah, I love them. So, do love them Yourself.” [Ahmed 18527, Bukhari 3749, Muslim 2422]
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی (رض) کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے : «اللهم إني أحبه فأحبه» اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah Messenger ﷺ had carried Hasan ibn Ali on his shoulder. A man commented, “What an excellent conveyance, you are riding. O young boy!” The Prophet ﷺ said, “And an excellent rider, he!”
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی (مذکورہ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین (رض) دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے ، حالانکہ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں ، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسین بن علی (رض) کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا : بیٹے ! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے ۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) narrated. I saw the Prophet ﷺ place Hasan on his shoulder and make this supplication, “O Allah, I love him, so do love him Yourself.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے : ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah narrated: I observed Allah’s Messenger ﷺ during his Hajj on the day of Arafah, delivering a sermon while he was seated on his she-camel Qaswa. I heard him say, “O people, I leave behind with you that to which if you stick, you will not go astray-the Book of Allah and my relatives of my household.”
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : اہل بیت کا عقیدہ اور منہج جو صحیح سند سے ثابت ہو وہ ہدایت کا ضامن ہی ہے ، کیونکہ یہ نفوس قدسیہ بزبان رسالت مآب ہدایت ہیں ، اس سے شیعوں کا اپنی شیعیت پر استدلال بالکل درست نہیں کیونکہ صحیح روایات سے اہل بیت سے منقول عقیدہ و منہج موجودہ شیعیت کے بالکل مخالف ہے اہل بیت کیا ، کیا شیعہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ پر قائم ہونے کے دعویدار نہیں ؟ مگر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی تشریح اور تفہیم شیعوں کے طریقے سے آئی ہے کیا وہ صد فی صد ان دونوں کے صحیح مفاہیم کے خلاف نہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ صحیح سند سے سلف کے فہم کے مطابق منقول عقیدہ و منہج ہی ہدایت کا ضامن ہے۔ اور وہ اہل السنہ و الجماعہ اہل حدیث کے پاس ہے۔
نبی اکرم ﷺ کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد اللہ ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اے اہل بیت النبوۃ ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (کفر و شرک) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے (الاحزاب : ٣٣) ، نبی اکرم ﷺ پر ام سلمہ (رض) کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین (رض) کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی (رض) آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپالیا، پھر فرمایا : «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے ، ام سلمہ نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ نے فرمایا : تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے ۔
Sayyidina Umar ibn Abu Salamah (RA) stepson of the Prophet ﷺ -- reported about this verse: Allah only desires to take away from you all abomination, O people of the household, and to purify you with a thuorough purifying. It was revealed to the Prophet ﷺ in the house of Sayyidah Umm Salamah (RA). So, the Prophet ﷺ called Sayyidah Fatimah (RA) Hasan and Husayn and covered them with a sheet of cloth, while Ali was behind him. So, he put the sheet of cloth over them and said, “O Allah, they are the people of my house. Remove from them abomination and purify them a complete purifying.” Sayyidah Umm Salamah (RA) said, “And I am with them, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “You are in your place and you are on the goad.” [Tirmidhi 3216, Muslim 2424]
صحيح مضی برقم (3425)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
٢ ؎ : اس آیت کے سیاق و سباق اور سبب نزول سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اہل البیت سے نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات مراد ہیں یا اس حدیث سے ازواج مطہرات کے علاوہ علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین (رض) کے بھی اہل بیت میں ہونے کی بات ثابت ہوتی ہے ، اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے : ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو ١ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I am leaving behind with you that to which if you hold fast, you will not go astray after my death. One of them is mightier than the other the Book of Allah, a rope hanging down from the heaven to earth. And (the other), is my family-people of my household. Both of them will not separate till they come to me at the pond. So, watch out how you represent me in them.”
١ ؎ : یعنی ان دونوں سے ثابت عقیدہ و منہج پر عمل کرنے میں تم کیا کرتے ہو ، ان کے مطابق عمل کرتے ہو یا مخالف پہلے یہ بات گزری کہ اہل بیت سے صحیح سند سے ثابت عقیدہ و منہج ہدایت کا ضامن ہے ، اور اس شیعیت کا کوئی تعلق نہیں۔
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ ، ہم نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود (رض) ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every Prophet ﷺ is given seven eminent men who are his friends, but I am given fourteen.” They asked him, “Who are they?” He said, “I and my two sons and Ja’far, Hamzah, Abu Bakr, Umar, Mus’ab ibn Umayr, Bilal (RA) , Salman, Ammar, Miqdad, Hudhayfah and Abdullah ibn Masud.
ضعيف، المشکاة (6246 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1912) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث علی (رض) سے موقوفاً بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٨٠) (ضعیف) (سند میں مسیب بن نجبہ لین الحدیث اور کثیر النواء ضعیف اور ابو ادریس المرہبی شیعی ہیں، اور حدیث میں تشیع واضح ہے)
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Love Allah, for, He gives you sustenance from His bounties. And love me, because of Allah’s love, and love the people of my house, because of my love.
ضعيف تخريج فقه السيرة (23) // ضعيف الجامع الصغير (176) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٩١) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن سلیمان نوفلی مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی صورت میں اور یہاں متابعت نہیں ہے، اس لیے لین الحدیث یعنی ضعیف الحدیث ہیں)
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض (میراث) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most merciful member of my ummah to my ummah is Abu Bakr, and the most strict of them concerning Allah’s commands is Umar, and the most sincere of them showing modesty is Uthman ibn Affan, and the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu’adh ibn Jabal, and (the most knowledgeable) about (laws of) inheritance is Zayd ibn Thabit, and the most (knowledgeable) about recital (of Qur’an) is Ubayy ibn Ka’b, and there is for every ummah an amin (trustworthy) and the trustworthy of this ummah is Abu Ubsydah ibn Jarrah.”
صحيح، ابن ماجة (154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ٢- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : امین یوں تو سارے صحابہ تھے ، مگر ابوعبیدہ (رض) اس بات میں ممتاز تھے ، اس لیے ان کو «امین الامۃ» (آج کل کی اصطلاح میں پوری امت کا جنرل سیکریٹری ) کا لقب دیا ، اسی طرح بہت ساری اچھی صفات میں بہت سے صحابہ مشترک ہیں مگر کسی کسی کی خاص خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کو اس صفت میں ممتاز قرار دیا ، جیسے حیاء میں عثمان ، قضاء میں علی ، میراث میں زید بن ثابت اور قراءت میں ابی بن کعب ، وغیرہم (رض) ، ( دیکھئیے اگلی حدیث ) ۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض (میراث) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب (رض) سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين کفروا» ١ ؎ پڑھ کر سناؤں، انہوں نے عرض کیا : کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا : ہاں (یہ سن کر) وہ رو پڑے ٢ ؎۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3792
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : سورة البینۃ : ١۔ ٢ ؎ : یہ بات اللہ کے نزدیک ابی بن کعب کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے ، اور وہ بھی خاص قراءت قرآن میں «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة : ٤) ۔
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں ، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين کفروا من أهل الکتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا ١ ؎ «إن ذات الدين عند اللہ الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» بیشک دین والی ٢ ؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہوجانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے ، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا : ٣ ؎«ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغی إليه ثانيا ولو کان له ثانيا لابتغی إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب اللہ علی من تاب» اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ٤ ؎، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ، ٤- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی یہ حدیث ارشاد فرمائی ، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔ ٢ ؎ : یعنی : شادی کے لیے عورتوں کا انتخاب میں جو «فاظفر بذات الدین» کا حکم نبوی آیا ہے اس «ذات الدین» سے مراد ایسی ہی عورت ہے۔ ٣ ؎ : یعنی : یہ حدیث ارشاد فرمائی ، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔ ٤ ؎ : یعنی : موت کے بعد مٹی میں دفن ہوجانے پر ہی یہ خواہش ختم ہو پائے گی۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں : ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that four men all of them ansars collected the Qur’an in the era of Allah’s Messenger ﷺ (They were) : Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, Zayd ibn Thabit and Abu Zayd (RA).”. The subnarrator said that he asked Anas “Who was Abu Zayd?” He said, “One of my uncles.” [Ahmed 13944, Bukhari 3810, Muslim 2465]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3794
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس میں جہاں ان چاروں کی فضیلت ہے وہیں انصار مدینہ کی بھی منقبت ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح (رضی اللہ عنہم) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “How excellent a man is Abu Bakr! Umar is an excdellent man! Abu Ubaydah ibn Jarrah is an excellent man! Usayd ibn Hudayr is an excellent man! Thabit ibn Qays ibn Shammas is an excellent man! Mu’adh ibn Jabal is an excellent man! Mu’adh ibn Amr ibn Jamuh is an excellent man!” [Ahmed 9431]
صحيح وقد تقدم أوله برقم (4028)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3795
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔