Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 185 of 199

3757Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابو اعور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، قِيلَ: وَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ، فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ، قِيلَ: وَمَنْ هُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قِيلَ: فَمَنِ الْعَاشِرُ ؟ قَالَ: أَنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا : یہ کیسے ہے ؟ (ذرا اس کی وضاحت کیجئے) تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا : ٹھہرا رہ اے حرا ! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ١ ؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں ، عرض کیا گیا : وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے ؟ (انہوں نے کہا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں (رض) ، پوچھا گیا : دسویں شخص کون ہیں ؟ تو سعید نے کہا : وہ میں ہوں۔

Sayyidina Sa’eed ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl said, “I testify about nine people that they will enter paradise and if I were to testify for the tenth, I would not be sinning.” He was asked, “How is that?” He said, “We were with Allah’s Messenger on Hira when he said, ‘Be steady Hira, for, there are not on top of you but a Prophet, a Siddiq and a Shahid.” He was asked, “Who were they?” He said, “They were Allah’s Messenger ﷺ , Abu Bakr (RA) Umar, Uthman, Ali, Talhah, Zubayr, Sad and Abdur Rahman ibn Awf.” He was asked, “And who was the tenth?” He said, “I.” [Ahmed 1630, Abu Dawud 4048, Ibn e Majah 134]

صحيح وتقدم قريبا (4014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہاں شہید کا لفظ ایک شہید کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ جنس شہید کے معنی میں ہے ، اس لیے کہ آپ نے کئی شہیدوں کے نام گنائے ہیں ، اسی طرح صدیق بھی جنس صدیق کے معنی میں ہے ، کیونکہ سعد بن ابی وقاص شہید نہیں ہوئے تھے ، وہ صدیق کے جنس سے ہیں ، گرچہ یہ لقب ابوبکر (رض) کے لیے مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٤٨) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٣٤) (تحفة الأشراف : ٤٤٥٨) ، وانظر ماتقدم برقم ٣٧٤٧ (صحیح)
3758Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت ابوعبیدہ بن عامر بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا أَغْضَبَكَ ؟ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا : تم غصہ کیوں ہو ؟ وہ بولے : اللہ کے رسول ! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ، پھر آپ نے فرمایا : اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ١ ؎ ہوتا ہے ۔

Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman (RA) reported that the chief and his deputy (of a tribe) came to the Prophet ﷺ and requested, “Send with us your trustworthy man.” He said, “I will send with you a trustworthy man who really is trustworthy,” So people hoped for that position and he sent Abu Ubaydah. (Whenever Abu Ishaq narrated this hadith from Silah, he would confirm, “I have heard it sixty years ago.” [Bukhari 4381) Muslim 242, Ibn e Majah 135] --------------------------------------------------------------------------------Huzayfah ‘ said, “The heart of Silah ibn Zufar is of gold.” (He meant that he was a great man).

ضعيف إلا قوله : عم الرجل ... فصحيح، المشکاة (6147) ، الصحيحة (806)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حدیث میں «صنو» کا لفظ آیا ہے ، «صنو» کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں ، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا «صنو» کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم عندہ برقم ٣٦٠٧ (تحفة الأشراف : ١١٢٨٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آگیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا ” عم الرجل صنو أبيه “ ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے ٣٧٦٠، ٣٧٦١)
3758Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا أَغْضَبَكَ ؟ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا : تم غصہ کیوں ہو ؟ وہ بولے : اللہ کے رسول ! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ، پھر آپ نے فرمایا : اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ١ ؎ ہوتا ہے ۔

Sayyidina Abdul Muttalib ibn Rabi’ah ibn Harith ibn Abdul Muttalib reported that Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ in a rage, while he was there. He asked, ‘What has made you angry?” He said, “O Messenger of Allah, what is between us and the Quraysh? When they meet amongst themselves, they meet with happy faces, but, when they meet us, they meet without that.” This angered Allah’s Messenger ﷺ so much that his face turned red and he said, “By Him in Whose Hand is my soul, faith will not enter the heart of a man till he loves you for the sake of Allah and His Messenger.” Then he said, “O people! If anyone hurts my uncle then he hurts me, for, indeed, the uncle of a man is the brother of and equal to his father.” [Ahmed 1772]

ضعيف إلا قوله : عم الرجل ... فصحيح، المشکاة (6147) ، الصحيحة (806 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حدیث میں «صنو» کا لفظ آیا ہے ، «صنو» کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں ، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا «صنو» کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم عندہ برقم ٣٦٠٧ (تحفة الأشراف : ١١٢٨٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آگیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا ” عم الرجل صنو أبيه “ ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے ٣٧٦٠، ٣٧٦١ )
3759Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔

ضعيف، المشکاة (6148) ، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3759
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٥٥٤٤) (ضعیف) (سند میں عبدا لأعلی بن عامر ضعیف راوی ہیں، الضعیفة ٢٣١٥)
3761Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ، أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Abbas is the uncle of Allah’s Messenger. And, indeed, a man’s uncle is the brother of and equal to his father.”

صحيح، الصحيحة (806) ، صحيح أبي داود (1435) ، الإرواء (3 / 348 - 350)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3761
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣ (٩٨٣) ، سنن ابی داود/ الزکاة ٢١ (١٦٢٢) ، سنن النسائی/الزکاة ١٥ (٢٤٦٦) (تحفة الأشراف : ١٣٩٢٢) (وأخرجہ البخاري في الزکاة (٤٩/ح ١٤٦٨) ، بدون قولہ : ” عم الرجل صنو أبیہ “ ) ، و مسند احمد (٢/٣٢٢) (صحیح)
3760Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر (رض) سے عباس (رض) کے سلسلہ میں فرمایا : بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے عمر (رض) نے آپ ﷺ سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Umar (RA) about Abbas (RA), “Surely, the uncle of a man is like his father.” And Umar (RA) had spoken to him about sadaqah.

صحيح بما قبله (3759) ، الإرواء (3 / 348 - 349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3760
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر (رض) کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کردیا ، ان میں سے آپ ﷺ کے چچا عباس (رض) بھی تھے ، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا : «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور ، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١١٢) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے : حدیث نمبر (٣٧٦١) والصحیحة ٨٠٦)
3762Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ ، فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً، وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس (رض) سے فرمایا : دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے ، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی : اے اللہ ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said to Sayyidina Abbas, “When it is Monday come to me with your sons that I may pray for them a supplication by which Allah will benefit you and your sons.” So he went and we went with him. He covered us with a piece of cloth and said, “O Allah, forgive Abbas and his sons-a pardon of the known and the unkown, leaving no sin unforgiven. O Allah, protect him (his honour) among his children.”

حسن، المشکاة (6149 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3762
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٣٦٤) (حسن)
3763Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “I saw Jafar flying in paradise with the angels.”

صحيح، الصحيحة (1226) ، المشکاة (6153)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3763
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر : علی بن مدینی کے والد ہیں، ٢- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٠٣٥) (صحیح)
3764Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا، وَلَا رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْكُورُ: الرَّحْلُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ ﷺ کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: None, after Allah’s Messenger was better than Ja’far in wearing sandals, riding an animal and mounting a camel.

صحيح الإسناد موقوفاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3764
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٤٢٤٦) (صحیح الإسناد)
3765Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْن عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ.

براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا : تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو ، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that the Prophet ﷺ said to jafar, “You resemble me in appearance and habits.’ There is an account in the hadith. [Ahmed 2040, Bukhari 1781]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3765
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Notes · وضاحت
؎ : قصہ یہ ہے کہ «عمرۃ القضاء» کے موقع سے حمزہ (رض) کی بچی کی کفالت کے لیے : جعفر، علی اور زید بن خارجہ (رض) کے درمیان اختلاف ہوا، سب نے اپنا اپنا حق جتایا، لیکن بچی کی خالہ کے جعفر (رض) کی زوجیت میں ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے بچی کو جعفر کے حوالہ کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٠٣) (صحیح)
3766Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ، عَنْسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا، فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ، فَيَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا، فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي، وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ، وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ، وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَأَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چناچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر (رض) مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I would ask the sahabah of the Prophet ﷺ about the verses of the Qur’an. I knew that, but I would ask only that they night feed me something. When I asked Ja’far ibn Abu Talib, he would not answer me till he had taken me to his place. he would say to his wife, “O Asma, feed us.” After she had served us, he would give me an answer. Ja’far loved the poor. he would sit with them. He would converse with them and they with him. Allah’s Messenger ﷺ had given him the kunyah Abul Masakin.° [Ahmed 2040, Bukhari 178]

ضعيف جدا، المشکاة (6152 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3766
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٧ (٤١٢٥) (تحفة الأشراف : ١٢٩٤٢) (ضعیف جداً ) (سند میں ابراہیم بن الفضل ابواسحاق متروک ہے)
3767Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا الْمَسَاكِينِ، فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبَنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چناچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، (جو ہمیں پیش کرتے) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (حاتم بن سیاہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجودگی میں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف، اور یزید بن قسیط یہ یزید بن عبداللہ بن قسیط لیثی ثقہ راوی ہیں)
3768Sunan At-Tirmidhiصحیح

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى: أَبَا الْحَكَمِ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Hasan and Husayn are the chief of the youth of paradise.” [Ahmed 10999]

صحيح، الصحيحة (796) صحيح، الصحيحة (796)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3768 ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جنت میں جوانوں کے سردار اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں ، ( ١) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے ( اور جنتی ہیں ) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے ، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے ، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی ، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں ( ٢) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کردیئے جائیں گے ، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے ( ٣) اس زمانہ کے ( جب یہ دونوں جوان تھے ) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے ، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٣٤) ، و مسند احمد (٣/٣، ٢٢، ٦٤، ٨٠) (صحیح) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ٧٩٦) انظر ماقبلہ (صحیح)
3769Sunan At-Tirmidhiصحیح

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ، فَقَالَ: هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین (رض) تھے، آپ ﷺ کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے ۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narraterd: I went to the Prophet ﷺ one night in connection with a need. The Prophet ﷺ came out wrapped in something. I do not know what it wag. When I had finished what I had to, I asked, ‘What is this you are wrapped into?” He uncovered it and they were Hasan and Husayn (RA) on his back. He said, “They are my children-children of my daughter. O Allah, I love them, so do love them, and love whoso loves them,”

حسن، المشکاة (6156 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3769
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٦) (حسن)
3770Sunan At-Tirmidhiصحیح

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ،وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ ١ ؎ تو ابن عمر (رض) نے کہا : اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے ! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : حسن اور حسین (رض) یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں ۔

Abdur Rahman ibn Abu Nu’m reported that a man of Iraq asked Ibn Umar (RA) about blood of a mosquito that stains a garment. Ibn Umar (RA) said, “Look at him. He asks about blood of a mosquito while they have killed the son° of Allah’s Messenger ﷺ had heard Allah’s Messenger ﷺ say. Surely, Hasan and Husayn are my two flowers in this world.” [Ahmed 5572, Bukhari 3753]

صحيح، المشکاة (6155) ، الصحيحة (564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ٣- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا ، ہوسکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کردی ہو ، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٨ (٥٩٩٤) (تحفة الأشراف : ٧٣٠٠) (صحیح)
3771Sunan At-Tirmidhiضعیف

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَوَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ.

سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے ۔

Sayyidah Salmaa reported that she went to Sayyidah Umm Salamah (RA) and found her weeping. She asked her what made her weep. She said, “I saw Allah’s Messenger (RA) in my dream. There was dust on his head and beard. I asked him, ‘What is wrong with you, O Messenger of Allah? ﷺ ’ He said, ‘I have just witnessed Husayn’s murder.”

ضعيف، المشکاة (6157)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٢٧٩) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں)
3772Sunan At-Tirmidhiضعیف

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ ، فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.

انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) ، آپ فاطمہ (رض) سے فرماتے : میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked, ‘Which one of the people of your house is dearest to you?” He said, “Hasan and Husayn.” He would say to Sayyidah Fatimah (RA), “Call for me my two sons.’ Then, he would sniff them and hug them.

ضعيف، المشکاة (6158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٠٦) (ضعیف) (سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں)
3773Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.

ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ascended the pulpit and said, “This my son is Sayyid (leader). Allah will reconcile two (great) sects at his hands.” [Ahmed 20470, Bukhari 2704, Abu Dawud 4662, Nisai 1406]

صحيح، الروض النضير (923) ، الإرواء (1597)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں (رض) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا ، چناچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ، ایک گروہ معاویہ (رض) کے ساتھ اور دوسرا حسن (رض) کے ساتھ تھا ، تو حسن (رض) نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤) ، والمناقب ٢٥ (٣٦٢٩) ، وفضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦) ، والفتن ٢٠ (٧١٠٩) ، سنن ابی داود/ السنة ١٣ (٤٦٦٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٧ (١٤١١) (تحفة الأشراف : ١١٦٥٨) ، و مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١) (صحیح)
3774Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین (رض) دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالکم وأولادکم فتنة» ١ ؎ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کرسکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Buiydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was delivering a sermon to them when Hasan and Husayn came stumbling (towards him). They were wearing shirts of red colour. So, Allah’s Messenger got down from the pulpit carried them (in his arms) and made them sit in front of him. Then he said, “Allah has spoken the truth: Your riches and your children are only a trial. (64: 15) I saw these two children stumbling as they walked and could not be patient till I interrupted my sermon and carried them (here).” [Ahmed 23056, Abu Dawud 1109, Nisai 1409, Ibn e Majah 3600]

صحيح، ابن ماجة (3600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : التغابن : ١٥۔ ٢ ؎ : جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے کمال شفقت کی دلیل ہے ، وہیں حسن اور حسین (رض) کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤) ، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠) (تحفة الأشراف : ١٩٥٨) ، و مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح)
3775Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ.

یعلیٰ بن مرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ١ ؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Ya’la ibn Murrah reported that Allah’s Messenger said, “Husayn is of me and l am his. Allah loves those who love Husayn. Husayn is a grandson among grandsons.” [Ahmed 17572, Ibn e Majah 144]

حسن، ابن ماجة (144)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بقول قاضی عیاض : اللہ کے رسول ﷺ من جانب اللہ مطلع کردیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کردیا کہ حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے ، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں ۔ ٢ ؎ : یعنی : حسین (رض) کی بہت ہی زیادہ اولاد ہوگی ، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے ، سو ایسا ہی ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٤) (تحفة الأشراف : ١١٨٥٠) ، و مسند احمد (٤/١٧٢) (حسن) (تراجع الالبانی ٣٧٥) الصحیحہ ١٢٢٧)