Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 184 of 199

3737Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام عطیہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی (رض) بھی تھے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے : «اللهم لا تمتني حتی تريني عليا» اے اللہ ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے ۔

Sayyidah Umm Atiyah reported that the Prophet ﷺ sent an army and Ali was among them. She said, “I heard Allah’s Messenger say with his hands raised in prayer, ‘O Allah do not cause me to die before I see Ali.’”

ضعيف، المشکاة (6090)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨١٤٢) (ضعیف) (سند میں ام شراحیل مجہول راوی ہیں)
3738Sunan At-Tirmidhiصحیح

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

زبیر بن عوام (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی ١ ؎۔

Sayyidina Zubayr reported that during the Battle of Uhud, Allah’s Messenger ﷺ had two coats of mail on him. He began to climb over a rock, but could not. So, he made Talhah sit down and climbed over his back on to the rock. He (the narrator) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “It is now the right of Tathah.” (meaning paradise). [Ahmed 1417]

حسن مضی برقم (1759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3738
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ (رض) جنت کے حقدار قرار دئیے گئے ، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٩٢ (صحیح)
3739Sunan At-Tirmidhiصحیح

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو (دنیا ہی میں) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He to whom it pleases to see a martyr walk on the surface of the earth should look at Talliah ibn Ubaydullah.” [Ibn e Majah 125]

صحيح، ابن ماجة (125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ معجزات رسول میں سے ایک معجزہ تھا ، چناچہ طلحہ (رض) اس معجزہ نبوی کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٥) (تحفة الأشراف : ٣١٠٣) (صحیح)
3741Sunan At-Tirmidhiضعیف

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: My ears heard from the mouth of Allah’s Messenger ﷺ he said, “Tathah and Zubayr are my two neighbours in paradise.”

ضعيف، المشکاة (6114) ، الضعيفة (2311) // ضعيف الجامع الصغير (3627) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3741
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٤٣) (ضعیف) (سند میں ابو عبد الرحمن نضر بن منصور اور عقبہ بن علقمة یشکری دونوں ضعیف راوی ہیں)
3740Sunan At-Tirmidhiصحیح

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کرچکے ہیں ١ ؎۔

Musa ibn Talhah narrated: I went to Mu’awiyah who said, “Shall I not give you glad tidings? I had heard Allah’s Messenger ﷺ say: Talhah is one who has fulfilled his vow.”

حسن وهو مکرر الحديث (3432)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3740
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ (رض) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اللہ تعالیٰ کے قول «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» (الأحزاب : 23 ) کی طرف اشارہ ہے ، یعنی : مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان ( صبر و ثبات ) کو سچ کر دکھایا ، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی ، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٠٢ (حسن)
3742Sunan At-Tirmidhiصحیح

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ هُمْ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ؟ ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثَ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ.

طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ سے «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چناچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیرلیا، اس نے پھر پوچھا : آپ نے پھر منہ پھیرلیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اعرابی بولا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔

Sayyidina Talhah reported that some of the sahabah instructed an ignorant villager to ask him (the Prophet ﷺ ) about (completed his vow), “Who is the one?’ They did not dare to ask directly because they respected him and held him in awe. The villager asked him, but he evaded him. He asked him again, but he evaded him. Again he asked him but he evaded him. Then I came in the gate of the mosque wearing green garments. When the Prophet ﷺ saw me, he asked, “Where is the one who asked about (the one who fulfilled his vow) ?“ The villager answered, “I, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “He is the one who fulfilled his vow.”

حسن صحيح وهو مکرر الحديث (3433)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3742
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ٢- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ٣- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب کتاب الفوائد میں رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٢٠٢ (حسن صحیح)
3743Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت زبیر بن عوام (رض) نے مناقب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زبیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Zubayr (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ put together for me his parents on the day of (the battle of) Qurayzah when he said, “May my father and mother be ransomed to you.” [Ahmed 1408 Bukhari 3720, Muslim 2416 Ibn e Majah 123]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3743
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور یہ زبیر سے اللہ کے رسول ﷺ کی نہایت قربت کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٣ (٣٧٢٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٣) (تحفة الأشراف : ٣٦٢٢) (صحیح)
3744Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ١ ؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, there is a disciple for every Prophet. And my disciple is Zubayr ibn Awwam.” [Ahmed 6801]

حسن صحيح، ابن ماجة (122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3744
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ ﷺ کے مددگار تھے ، مگر زبیر (رض) میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی ، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٩٦) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر (رض) سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو : ابن ماجہ ١٢٢)
3745Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ١ ؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا : کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا ؟ تو زبیر (رض) بولے : میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر (رض) نے ہر بار کہا : میں۔

Sayyidina Jabir reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is for every Prophet ﷺ a disciple and my disciple is Zubayr.” Abu Nu’aym added to that: The day of al-Ahzab.” The Prophet ﷺ asked, “Who will bring us news of the enemy?” Zubayr volunteered, “I” He asked thrice and each time Zubayr said, “I”. [Ahmed 14382 Bukhari 2747, Muslim 2415, Ibn e Majah 122]

صحيح انظر ما قبله (3744)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3745
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا ، تینوں مرتبہ زبیر (رض) کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا ، اسی موقع پر آپ نے زبیر (رض) کے حق میں یہ فرمایا تھا : «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم ﷺ کی سگی پھوپھی صفیہ (رض) کے بیٹے تھے ، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر (رض) کے ساتھ ہوئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٠ (٢٨٤٦) ، و ٤١ (٢٨٤٧) ، ١٣٥ (٢٩٩٧) ، وفضائل الصحابة ١٣ (٣٧١٩) ، والمغازي ٢٩ (٤١١٣) ، والآحاد ٢ (٧٢٦١) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٢) (تحفة الأشراف : ٣٠٢٠) (صحیح)
3746Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلَّا وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر (رض) نے اپنے بیٹے عبداللہ (رضی اللہ عنہما) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا : میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ١ ؎۔

Hisham ibn Urwah (RA) reported that during the Battle of Jamal, Zubayr instructed his son Abdullah and also said, “There is not any of my limb but has been wounded (in battles I fought) for Allah’s Messenger ﷺ so much so that my private parts were injured.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ وصیت انہوں نے اس لیے کی کہ جو قربانیاں ہم نے غلبہ دین حق کے لیے دی تھیں اور اسلام ان قربانیوں کے عوض دنیا پر غالب آگیا ہے ، آج اسی قوت ، طاقت ، صلاحیت اور قربانی کو ہم آپس میں ضائع کر رہے ہیں چناچہ زبیر (رض) جنگ جمل سے دست بردار ہو کر واپس مکہ ( یا مدینہ طیبہ ) کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ کو راستے میں کسی نے شہید کردیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٦٢٧) (صحیح الإسناد)
3747Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ . أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید (سعید بن زید) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ١ ؎ (رضی اللہ علیہم اجمعین) ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf narrated: Allah’s Messenger said, “ Abu Bakr (RA) is in paradise. Umar is in paradise. Uthman is in paradise. Ali is in paradise. Talhah is in paradise. Zubayr is in paradise. Abdur Rahman ibn Awf is in paradise. Sad ibn Abu Waqqas is in paradise. Sa’eed ibn Zayd is in paradise and Abu Ubaydah ibn Jarrah is in paradise.” [Ahmed 1675]

صحيح، المشکاة (6110 و 6111) ، تخرج الطحاوية (728)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3747
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق : «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی آئی ہے، (اور اسی طرح آئی ہے) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہی وہ حدیث ہے جس میں دس جنتیوں کا نام ایک مجلس میں اکٹھے آیا ہے ، اور اسی بنا پر ان دسوں کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ، ورنہ جنت کی خوشخبری آپ ﷺ نے ان دس کے علاوہ بھی دیگر صحابہ کو دی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٩٧١٨) (صحیح)
3748Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَهُ فِي نَفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: فَعَدَّ هَؤُلَاءِ التِّسْعَةَ وَسَكَتَ عَنِ الْعَاشِرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ مَنِ الْعَاشِرُ ؟ قَالَ: نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ أَبُو الْأَعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو الْأَعْوَرِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: هُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید (رض) نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص (جنتی ہیں) وہ کہتے ہیں : تو انہوں نے ان نو ( ٩) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا : اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے (اس لیے میں بتارہا ہوں) ابوالاعور جنتی ہیں۔

Sa’eed ibn Zayd narrated to some people that Allah’s Messenger ﷺ said, “Ten people will go to paradise. Abu Bakr (RA) is in paradise. Umar is in paradise. Ali and Uthman and Zubayr and Talhah and Abdur Rahman and Abu Ubaydah and Sa’d ibn Abu Waqqas.” He counted these nine but said nothing about the tenth. The people said, “We adjure you by Allah, O Abu A’war, who is the tenth?” He said, “You have adjured me by Allah (so listen, Abu A’war is in paradise.)” [Ahmed 1629]

صحيح، ابن ماجة (133)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٤٤٥٤) (صحیح)
3749Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ ، قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ: فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ يُقَالُ: بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرماتے تھے : تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہوگا ؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کرسکیں گے۔ پھر عائشہ (رض) نے (ابوسلمہ سے) کہا : اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said (to his wives), “I am concerned about your welfare after I am dead. None will care for you except the persevering.” She said to Abu Salamah, “May Allah give your father drink from salsabil in paradise.” She refered to Abdur Rahman ibn Awf (RA) who had given gift to the wives of the Prophet ﷺ a property that was sold for forty thousand.

حسن، المشکاة (6121 و 6122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3749
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی عبدالرحمٰن بن عوف (رض) پر صادق آتی ہے ، یعنی یہ «الصابرون» میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٧٢٦) (حسن)
3750Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ بْنِ الشَّهِيدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَوْصَى بِحَدِيقَةٍ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، بِيعَتْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ أَلْفٍ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے امہات المؤمنین (رض) کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ (درہم) میں بیچا گیا۔

Sayyidina Abu Salamah reported that Abdur Rahman ibn Awf (RA) left behind in his will a garden for the Prophet’s ﷺ wives, that was sold for four hundred thousand.

حسن الإسناد صحيح بما قبله (3749)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ حدیث حسن ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
3751Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابواسحاق سعد بن ابی وقاص (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ، وَهَذَا أَصَحُّ.

سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما ١ ؎۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) reported that Allah’s Messenger prayed, “O Allah, grant an answer to Sad when he prays to you.”

صحيح، المشکاة (6116)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3751
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما اور یہ زیادہ صحیح ہے (یعنی : مرسل روایت زیادہ صحیح ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ سعد بن ابی وقاص (رض) رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بموجب مستجاب الدعوات ہونے کی دلیل ہے ، اور ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔ آثار و روایات میں سعد (رض) کی بہت ساری دعاؤں کا ذکر ملتا ہے جو ان کی زندگی میں ہی پوری ہوگئیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٩١٣ الف) (صحیح)
3752Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَالِي .

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص (رض) آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: When Sa’d came, the Prophet ﷺ said loudly, “This is my maternal uncle. Let anyone (who has such a one) show me his maernal uncle.

صحيح، المشکاة (6118)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم ﷺ کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٥٢) (صحیح)
3753Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سمعا سعيد بن المسيب، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ.

علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ١ ؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا : تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے ۔

Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger never spoke of his father and his mother together for anyone except for Sa’d. He said to him on the day of Uhud, “Shoot (arrows), may my father and my mother be ransomed to you. Shoot O you strong young man!” [Ahmed 1147, Bukhari 2905, Muslim 2411 Ibn e Majah 129]

منکر - بذکر الغلام الحزور - وقد مضی برقم (2986) // (535 / 2998) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد (رض) سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : زبیر بن عوام (رض) کے مناقب میں گزرا کہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسول ﷺ نے «فدان ابی وامی» ، کہا ، دونوں میں یہ تطبیق دی جاتی ہے کہ علی (رض) کو زبیر کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا ، یا یہ مطلب ہے کہ احد کے دن کسی اور کے لیے آپ ﷺ نے ایسا نہیں کہا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٢٨ (صحیح) (متن میں ” الغلام الحزور “ کا ذکر منکر ہے، سند میں حسن بن الصباح البزار راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں : صدوق یہم یعنی ثقہ ہیں، اور حدیث بیان کرنے میں وہم کا شکار ہوجاتے ہیں، اور الغلام الحزور کی زیادتی اس کی دلیل ہے)
3754Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ١ ؎۔

Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ took the names of his parents together on the day of (the Batle of) Uhud. [Ahmed 1616, Bukhari 3725, Muslim 2412, Ibn e Majah 130]

صحيح وتقدم برقم (2999)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3754
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی یوں فرمایا : میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٣٠ (صحیح)
3755Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا لِسَعْدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ: هَذَا صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا : سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: I have never heard ‘the Prophet ﷺ say that his parents be ransome’d for anyone except for Sa’d. I heard it on the Day of Uhud. He said, “Shoot Sad. May my parents be ransomed to you.” [Tirmidhi 3774]

صحيح وتقدم برقم (2997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٢٨ (صحیح)
3756Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلَاحِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟ ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا : کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا ، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ آنے والے نے کہا : میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ تو سعد (رض) نے کہا : میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ arrived in Madinah one night from a battle but could not sleep. So, he said, “Would that a pious man stand guard for me tonight!” While we were on tht,’we heard a rustle of weapons. He asked, ‘Who is that?” There was a reply, “Sa’d ibn Abu Waqqas.” Allah’s Messenger ﷺ asked, “What is with you?” Sad said, “I felt within myself fear for Allah’s Messenger ﷺ ?-‘ So, I came to guard him.” So, Allah’s Messenger ﷺ prayed for him. Then he went to sleep. [Ahmed 25147, Bukhari 2885, Muslim 2410]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے فرمان «رجل صالح» کے مصداق سعد (رض) قرار پائے ، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کسی کو «رجل صالح» قرار دیں ہیں ، «رضی اللہ عنہ وأرضاہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٧٠ (٢٨٨٥) ، والتمنی ٤ (٧٢٣١) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥ (٢٤١٠) (تحفة الأشراف : ١٦٢٢٥) (صحیح)